سونے کی سنتیں اور تہجد

سونے کی سنتیں اور تہجد

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
قال اللہ تعالٰی: فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ عَسٰٓى اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo
(بنی إسرائیل : 79)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

کامیاب انسان:
اس دنیا کی زندگی میں ہمارا مقصد اللہ ربّ العزّت کو راضی کرنا ہے اور حضور پاک کی اتباع کرنا ہے۔ کل جب قیامت کے دن انسان سنت پر عمل کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچے گا تو وہ قیامت والے دن نبی کریم کی شفاعت بھی حاصل کرے گا، اور پھر وہ آپ کے ہاتھوں سے جامِ کوثر بھی نوش کرے گا، اور آپ کے جھنڈے کے نیچے بھی جمع ہوگا، اور صحابہ کرام، شہداء اور صالحین کی معیت میں جنت میں بھی داخل ہوگا۔ ایسا صرف اسی کے ساتھ ہوگا جو آقا کی ایک ایک سنت کو شوق اور لگن کے ساتھ اپنی زندگی میں لائے گا۔ آج ہماری زندگی میں پریشانیاں کیوں ہیں؟ کیوںکہ ہماری زندگی سنتوں سے خالی ہے۔
’’گلدستہ سنت‘‘ کے بیانات کا سلسلہ چل رہا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ ہماری زندگی میں اللہ کے نبیﷺ کا طریقہ زندہ ہو جائے۔ آج کے اس بیان میں رات میں سونے اور تہجد پڑھنے، اور دن میں قیلولہ کرنے کے بارے میں بات ہوگی۔ نبی کریم کا دن بھی عبادت تھا اور رات بھی عبادت تھی۔ دن میں اللہ کو یاد کرتے، کبھی دعائوں کے ذریعے، کبھی دین کی محنت کے ذریعے۔ اور رات کو آرام بھی فرماتے، اور تہجد اور دیگر عبادات کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔
نبیﷺ کے گھر والوں کی خدمت:
نبی کریم جب رات کو سونے کے لیے بستر پر آتے تو اماں جان حضرت عائشہ آپ کے لیے وضو کا پانی اور مسواک آپ کے سرہانے یا کسی قریبی جگہ رکھ دیا کرتی تھیں تاکہ جس وقت نبی کریم تہجد کے لیے اٹھیں تو وضو کے لیے پانی تلاش کرنے میں دِقت نہ ہو اور مسواک بھی سامنے موجود ہو۔ یعنی آپﷺ اٹھیں، ضروریات سے فارغ ہوں، مسواک کریں اور نماز کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
(مسند احمد: رقم 24901، شرح مواہب : 68/5)
یہ نیک بیوی کی پہچان ہے کہ جس چیز کی تہجد میں خاوند کو ضرورت ہے وہ اس کا اہتمام رات سے کر کے رکھتی ہے۔ چناںچہ جب نبی کریم رات میں تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو قضائے حاجت سے فارغ ہوکر مسواک کرتے، وضو فرماتے اور مصلے پر تشریف لے جاتے۔ امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ہم ازواج مطہرات یعنی تمام بیویاں آپ کے لیے رات ہی سے ساری تیاری کر دیتی تھیں۔ یعنی مسواک اور طہارت کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے تو ان کو سونے سے پہلے رکھ دیا کرتی تھیں۔ سبحان اللہ! کیا پیاری بات کہی ہے امی عائشہ نے۔
آپﷺ کا تہجد کے لیے بیدار ہونا:
آج بھی دنیا کے محبوب ایک دوسرے کو میسجز کر کے جگاتے ہیں۔ اسی طرح نبی کریمکو اللہ تعالیٰ خود جگاتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کو جگاتے تو آپ بیدار ہو جاتے، مسواک فرماتے، وضو فرماتے اور اس کے بعد تہجد کی نماز پڑھتے۔ کبھی چار رکعات تو کبھی آٹھ رکعات۔ اور پھر آخر میں تین رکعات وتر ادا فرماتے تھے۔ وتر نبی کریم اخیر رات میں پڑھا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تہجد چار رکعات بھی پڑھ سکتے ہیں اور آٹھ رکعات بھی پڑھ سکتے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ رات میں عشاء کے بعد جو نفل نماز ہے اس میں انسان تہجد کی نیت کر لے تو وہ تہجد ہوگی۔ اب وہ دو پڑھے، چھ پڑھے، یا آٹھ پڑھے، وہ فقہی اعتبار سے تہجد ہی شمار ہوگی۔
تین برتنوں کا انتظام:
سونے سے قبل ایک اور چیز بھی سنت ہے۔ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم کے لیے تین ڈھکے ہوئے برتنوں کا انتظام کیا کرتی تھی:
(۱) إِنَاءٌ لِطَھُوْرِہٖ
ایک برتن وضو کے لیے۔ یعنی ایک برتن میں پانی ہوتا تو وہ اس کو ڈھک دیتی تھیں۔
(۲) وَإِنَاءٌ لِسِوَاکِہٖ
دوسرا برتن مسواک کے لیے۔ یعنی مسواک رکھنے کے لیے الگ سے برتن ہوتا اور اس کو ڈھک دیا جاتا تھا۔
(۳) وَإِنَاءٌ لِشَرَابِہٖ. (سنن ابن ماجہ: رقم 3411)
تیسرا برتن پینے کے پانی کا ہوتا۔ جیسے آج کل کے زمانے میں یہ بوتلیں ہو گئیں، جگ ہو گیا، کولر ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ رات کو پینے کا پانی اپنے قریب رکھ کر سونا بھی سنت عمل ہے۔
میاں بیوی کی محبت:
یہ خاوند اور بیوی کی محبت کی باتیں ہیں کہ خاوند کو رات کو تکلیف نہ ہو۔ رات کو خاوند کو پیاس لگے تو وہ کسی وقت بھی اُٹھ کر پانی پی لے۔ اور اس میں صرف پانی اور مسواک کی بات نہیں ہے، اس میں وہ تمام چیزیں ہیں جو تہجد میں یا صبح اُٹھنے کے بعد شوہر کو ضرورت ہو۔ رات کو ہی بیوی اگر سارے انتظام کر دے تو وہ حسنِ انتظام کہلائے گا۔ شوہر نے صبح اٹھ کر کام پر جانا ہے، عبادت میں لگنا ہے تو اس وقت اس کا وقت ضائع نہ ہو کہ چابی کہاں پڑی ہے؟ پانی کہاں ہے؟ یہ کہاں ہے؟ وہ کہاں ہے؟ جیسے ہمارے گھروں میں صبح ایمرجنسی لگی ہوتی ہے، اس لیے رات کو ہی کام سمیٹ لیے جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ خاوند کو رات کو پیاس لگے تو پانی موجود نہ ہو۔ میں نے اپنی نئی والدہ کو دیکھا الحمدللہ! وہ تھرموس میں گرمیوں میں بھی سارا سال پانی رکھتی ہیں کہ دیر تک ٹھنڈا رہے۔ فریج کمرے میں نہیں ہے، دور ہے تو وہ تھرموس میں رکھ لیتی ہیں۔ بھئی یہ خدمت محبت ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
آج کل کی جلد بازی:
امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم جب صبح بیدار ہوتے، قضائے حاجت فرماتے، پھر مسواک فرماتے۔ اور آج ہم صبح اُٹھتے ہیں تو سب سے پہلے موبائل فون دیکھتے ہیں کہ کسی کا میسج تو نہیں آیا ہوا۔ علمائے کرام نے فرمایا کہ نماز، وضو اور اپنے کاموں میں لگنے سے پہلے ہمیں چاہیے کہ قضائے حاجت سے فارغ ہو جائیں تاکہ اطمینان، سکون اور تسلی کے ساتھ ضروریات ادا کر سکیں۔ بعض لوگ اُٹھتے ہیں اور جلدبازی کے اندر اِدھر اُدھر کے کام کرتے ہیں، واش روم نہیں جاتے کہ دیر ہو رہی ہے۔ جتنی دیر نہیں جاتے اتنی دیر پریشانی میں رہتے ہیں۔ سنتِ مبارکہ یہ ہے کہ جب انسان اٹھے تو قضائے حاجت سے فارغ ہو، پھر باقی کاموں میں مشغول ہو۔
عشاء کے بعد ناپسندیدہ عمل:
نبی کریم کی سنت یہ ہے کہ عشاء کے بعد آپ فوراً سو جاتے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سونے، اور عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد جاگنے اور باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(صحیح بخاری: رقم 586، صحيح ةمسلم: رقم 647)
یعنی عشاء کی نماز کے فوراً بعد جلد از جلد انسان سو جائے۔ ہاں! اگر دین کی ضرورت کا کوئی کام ہو تو الگ بات ہے۔ ورنہ غیر ضروری بیٹھنا، فیس بک پہ، واٹس اَپ پہ، اس کو نبی کریم کے دین میں پسند نہیں کیا گیا۔ جس دین کا کلمہ ہم پڑھتے ہیں، جس نبی کا کلمہ ہم پڑھتے ہیں انہوں نے بھی اس کو پسند نہیں فرمایا باقاعدہ منع فرمایا ہے۔
نبی کریمﷺ کے بیدار ہونے کا وقت:
امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ حضور پاک رات کو اس وقت بیدار ہوتے جب مرغا بانگ یعنی اذان دیا کرتا ہے۔ (صحیح البخاري: باب من نام عند السّحر)
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ مرغا آدھی رات سے کچھ پہلے یا آدھی رات کے کچھ بعد اذان دیتا ہے۔ حافظ ابنِ حجر اور علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں کہ مرغا آدھی رات گزرنے کے بعد اذان دیتا ہے۔ علامہ ابنِ بطال نے کہا کہ آدھی رات نہیں بلکہ ایک تہائی رات گزرنے کے بعد اذان دیتا ہے۔ علامہ ابنِ قیم نے لکھا ہے کہ آپ آدھی رات یا اس سے کچھ پہلے اُٹھ جاتے۔ یعنی اتنے وقت میں آرام مکمل کر لیتے پھر اُٹھ کر اللہ کی عبادت میں لگ جایا کرتے تھے۔
رات میں کتنی دیر سونا مسنون ہے؟
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ آپ آدھی رات آرام فرماتے، پھر اُٹھ جاتے اور کچھ عبادت کرتے، تہجد پڑھتے، تلاوت کرتے، دعائیں مانگتے، اور اس کے بعد فجر سے کچھ پہلے دوبارہ آرام فرماتے، پھر جیسے ہی فجر کی اذان ہوتی تو آپ فوراً بیدار ہو جاتے تھے۔ اس لیے مسنون اور احسن ترتیب یہ ہے کہ انسان عشاء کے فوراً بعد سو جائے اور آدھی رات یا تہائی رات کے وقت اٹھے۔ جتنا آسانی سے ہو عبادت کرے، تہجد پڑھے، وتر پڑھے، دعائیں مانگے اور کچھ معمولات کرے اور پھر سو جائے اور پھر فجر کے لیے دوبارہ اُٹھے۔ نبی کریم کی تہجد بین النومین ہوتی تھی یعنی دو نیندوں کے درمیان۔ اور آج ہمارا یہ حال ہے کہ اوّل تو فجر ہی ہوتی نہیں، اور اگر کوئی پڑھتا بھی ہے تو اس کی فجر کی نماز بین النومین ہوتی ہے۔ لیکن بہرحال یہ بھی غنیمت ہے کہ فجر پڑھ لیتے ہیں، کیوںکہ جس نے فجر کی نماز قضا کر دی اس کی زندگی سے برکت ختم ہو گئی۔ ہم یہ بات مانتے بھی ہیں، جانتے بھی ہیں، بس عمل میں لانا مشکل ہے۔ اس لیے رات کو جب انسان جلدی سوئے گا تو تہجد میں اٹھنا اس کے لیے آسان ہوگا۔
حضرت اَسود کہتے ہیں کہ میں نے ایک دن امی عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ نبی کریم کی رات کی عبادت کا کیا معمول تھا؟ امی عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ آپ شروع رات میں سو جاتے، اور اخیر رات میں نبی کریم بیدار ہو جاتے، پھر تہجد کی نماز ادا کرتے، پھر جب عبادت سے فارغ ہو جاتے تو بستر پر تشریف لاتے (اور آرام فرماتے) پھر جیسے ہی اذان سنتے تو بڑی تیزی سے اٹھتے، اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو فرما کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
(صحیح بخاری: رقم 1095)
یعنی آخری شب میں عبادت میں مشغول ہو جاتے۔ انسان کی ضروریات اپنی جگہ، مگر جس نے پیدا کیا ہے اس سے تعلق کا کیا حال ہے؟ آج کس کے پاس اس کا جواب ہوگا۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ضرورت کو ہی سب کچھ بنا لیتے ہیں، آقا کے ہاں ایسی ترتیب نہیں تھی۔ آقاﷺ بندوں کے حقوق بھی ادا فرماتے، اور رات کی تنہائی میں اپنے اللہ کے سامنے قیام فرماتے تھے۔
حضرت اُمّ سلمہ سے کسی نے رسول اللہﷺ کی رات کی نماز اور قراءت کے بارے میں پوچھا تو اماں جان فرمایا کہ آپﷺ تہجد پڑھتے پھر سو جاتے اور اسی قدر آرام فرماتے جس قدر نماز پڑھتے تھے۔ پھر نماز پڑھتے بقدر اس وقت کے جس میں آرام فرمایا، پھر آرام فرماتے بقدر اس وقت کے جس میں نماز پڑھی، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔ (مسند ابن مبارک: رقم 57)
یعنی اگر آٹھ گھنٹے کی رات ہے تو چار گھنٹے عبادت اور چار گھنٹے آرام فرماتے۔ اور اگر دس گھنٹے کی رات ہے تو پانچ گھنٹے عبادت اور پانچ گھنٹے آرام فرماتے۔ نبی کریم کی عام عادتِ شریفہ یہی تھی کہ عشاء کے فوراً بعد سوجاتے اور آرام فرماتے، پھر آخر شب میں تہجد ادا فرماتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کی نماز مسجد میں ادا فرما کر گھر تشریف لاتے اور نماز میں مشغول ہو جاتے اور پھر عبادت کر کے آرام فرماتے۔ چناںچہ حضرت عبداللہ بن عباس کی مشہور روایت (جس میں حضرت ابن عباس اپنی خالہ اُم المؤمنین حضرت میمونہ کے ہاں رات گزارتے ہیں، اور نبی کریمﷺ کے رات کے اعمال کو غور سے دیکھتے ہیں) میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔
تہجد کا اہتمام کیجیے
یہ بات یاد رہے کہ نبی کریم شب بیداری کو اور تہجد کو کبھی ترک نہ فرماتے۔ اگر تکلیف، بیماری یا تھکن ہوتی تو آپ بیٹھ کر تہجد ادا فرمالیتے لیکن کبھی ناغہ نہ کرتے۔ ویسے تو تہجد نفل نماز ہے، لیکن سالکینِ طریقت یعنی جو بیعت ہو جاتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم قرار دیں۔ کیوںکہ تہجد کا وقت وہ وقت ہے جس میں ولایت تقسیم ہو رہی ہوتی ہے۔ جتنے بھی دنیا کے اندر اولیاء گزرے ہیں، کوئی ایسا نہیں جس نے تہجد کی نماز پر مداومت اختیار نہ کی ہو۔ حضرت جنید بغدادی بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ کسی نے ان کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا گزری؟ فرمایا کہ وہ تمام اَسرار ورموز کشف اور معرفت کی جو باتیں تھیں سب پیچھے رہ گئیں، تہجد ہی کام آئی۔ یعنی تہجد کام آنے والی چیز ہے۔ قیامت کے دن اندھیروں میں کام آئے گی۔ یہاں ہم اس کی عادت بنائیں۔ نبی کریم اور صحابہ کرام بغیر تہجد کے رات نہیں گزارتے تھے۔
کوئی یہ کہتا ہے کہ میں تہجد نہیں پڑھتا۔ اسے ہم سمجھاتے ہیں کہ یہ وقت تو اللہ تعالیٰ کے دینے کا وقت ہے۔ اللہ اپنے مقرّب بندوں کو اس وقت میں عطا فرماتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی ہٹ دھرمی دکھائے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ چاہتے ہوں کہ میں اس کی شکل اس وقت نہیں دیکھنا چاہتا جس وقت میں اپنے پیاروں کو نوازتا ہوں۔ یعنی یہ وقت اللہ پاک کے دینے کا وقت ہوتا ہے۔ اللہ کو منانے اللہ کے پیارے کھڑے ہوتے ہیں۔ خدانخواستہ کوئی فیس بک پہ بیٹھا ہے، انٹرنیٹ پہ بیٹھا ہے اور رات گزرتی جا رہی ہے، اور پھر یہ سو جاتا ہے مگر اسے کوئی احساس نہیں ہوتا تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل ہی نہ دیکھنا چاہتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔ کتنے ایسے نوجوان جو کہتے ہیں کہ آج ہم نے ساری رات جاگنا ہے۔ ساری رات جاگنے والے جب تہجد کا آخری وقت آتا ہے تو سو جاتے ہیں کہ اللہ کے پیاروں کے اٹھنے کا وقت قریب آجاتا ہے تو اللہ ان غدّاروں کو سلا دیتے ہیں۔
ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کروں
حضرت جی حضرت شیخ حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم صحیح مسلم کی ایک حدیث سناتے ہیں۔ حضرت جی دامت برکاتہم سے کئی دفعہ سنی کہ جب ایک تہائی رات یا دو تہائی رات گزر جاتی ہے یعنی تہجد کے وقت، تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں (جیسا کہ اس کی شان ہے) اور یہ فرماتے ہیںکہ ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کو عطا کیا جائے؟ ہے کوئی دعا مانگنے والا جس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا جس کی مغفرت کر دی جائے؟ (یہ آواز لگتی رہتی ہے) یہاں تک کہ فجر کا وقت ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم: باب الترغیب في الدعاء والذکر في آخر اللیل)
فرشتوں کی تین جماعتیں:
خطباتِ فقیر کی پانچویں جلد میں ہے کہ جس وقت اس پیار کا، محبت کا وقت آتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کی تین جماعتیں بنتی ہیں:
(۱) تھپکیاں دے کر سلانے والی جماعت:
اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو بھیجتے ہیں کہ یہ میرے پیاروں کے اُٹھنے کا وقت ہے، میرے پیارے مجھ سے میری رضا مانگنے لگے ہیں۔ تم جائو، یہ سارے لوگ جو نامحرموں کے ساتھ موبائل پر کرو بات ساری رات، اور اِدھر اُدھر فضول باتوں میں لگے ہوئے ہیں ان کو جا کر سلا دو۔ ان موبائل فونز پر، انٹرنیٹ پر، حرام کام کرنے والوں کو سلا دو۔ میں ان کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔ فرشتے آتے ہیں اور ان کو سلا دیتے ہیں۔
(۲) پَر مار کر جگانے والے فرشتے:
دوسری جماعت کو بھیجا جاتا ہے کہ جائو، فلاں فلاں میرے پیارے بندے ہیں، اُن کو پَر مار کر جگا دو۔ دنیا میں بھی تو محبوب کو میسجز بھیجے جاتے ہیں۔ گویا کہ ان مقرّبین کو اللہ ربّ العزّت کی طرف سے میسج آتا ہے۔ فرشتے آتے ہیں اور ان کو پَر مار کر جگا دیتے ہیں۔ پھر لوگ اٹھتے ہیں، وضو کرتے ہیں، پھر اللہ کو منانے میں لگ جاتے ہیں۔
(۳) مقرّبین کی کروٹ بدلنے والے فرشتے:
تیسری جماعت فرشتوں کی جس کو اللہ ربّ العزّت بھیجتے ہیں۔ اُن سے فرماتے ہیں کہ جائو، جو لوگ میرے مقرّبین میں سے ہیں اُن کی جا کر کروٹ بدل دو، وہ چاہیں گے تو اُٹھ کر نماز پڑھیں گے، تلاوت کریں گے، اور مجھ سے مانگیں گے۔ اور چاہیں گے تو لیٹے رہیں گے۔ میں جس طرح اُن کی عبادت سے راضی ہوں، اسی طرح اُن کے سو جانے پر بھی راضی ہوں۔
مقرّبین کون لوگ ہیں؟
یہ لوگ کون ہیں؟ یہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول بندے ہوتے ہیں اور یہ د ن رات اللہ کے دین کا کام کیا کرتے ہیں۔ ان کا دن بھی عبادت ہوتا ہے اور ان کی راتیں بھی عبادت ہوتی ہیں۔ ان کا سونا بھی عبادت ہے۔ یہ سوتے کیوں ہیں کہ آرام کر لیں، صحت کو، اپنی طبیعت کو ٹھیک کر لیں تاکہ پھر سے اللہ کے دین کا کام شروع کریں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے آپ نے گھر میں ترکھان کو بلایا اور ترکھان نے کام کرتے ہوئے کہا کہ میری آری خراب ہو گئی ہے، مجھے ایک گھنٹہ لگے گا اس کو صحیح کروالوں؟ اب چاہے دوگھنٹے لگیں، آپ کہیں گے کہ کروا لو۔ پھر رات کو وہ ترکھان اپنی مزدوری لینے آیا تو آپ دو گھنٹے اس کے کاٹتے نہیں ہیں کہ دو گھنٹے تو آری ٹھیک کرواتا رہا، اوزار ٹھیک کرواتا رہا۔ اَوزار کا ٹھیک ہونا اس کے کام کا حصہ ہے۔ اسی طرح جو لوگ دن رات اللہ کے دین کا کام کرتے ہیں نیند ان کےلیے، ان کی زندگی کو ٹھیک رکھنے کا کام کرتی ہے۔ اس لیے ان کا سونا بھی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو عبادت میں لکھ رہے ہوتے ہیں۔
دل کی بات:
جو ساتھی بیعت ہوتے ہیں، میری خواہش یہی ہے کہ وہ رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھیں۔ 5 نمازیں تو پڑھنی ہی پڑھنی ہیں اس میں تو کوئی کمپرومائز نہیں۔ ساتھ میں تہجد بھی پڑھیں۔ اور تہجد پڑھنا آسان ہے، مشکل نہیں۔ انسان رات کو اُٹھ کر نماز پڑھے، لیکن اگر خطرہ ہو کہ سوگئے تو پھر اُٹھنا نہیں ہوگا تو پھر تہجد پڑھ کر سوجائے تاکہ تہجد گزاروں میں شامل ہو جائے۔ جس شخص نے عشاء کی نماز فرض، سنت، وتر وغیرہ ادا کرلیے وہ تہجد کی نماز ادا کرلے۔ سونا شرائط میں سے نہیں ہے۔ ہاں! نبی کریم کے دورِ مبارک میں طریقہ یہ تھا کہ حضراتِ صحابہ کرام عشاء کے فوراً بعد سو جایا کرتے اور رات کو اُٹھ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ اور یقیناً مسنون یا مستحب بھی یہی ہے۔
اور بعض تو ساری رات اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے رہتے۔ امام ابوحنیفہ نے 40 سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔ آج ہماری کمزوری کا کیا عالَم ہے، اپنا محاسبہ خود کر سکتے ہیں۔ لیکن کم از کم اتنا تو کریں کہ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد دو رکعت تہجد کی نیت سے پڑھ لیں۔ رات کو آنکھ کھل گئی اور مزید کی توفیق مل گئی تو وہ بونس رہا۔ اس کی مثال یوں سمجھیے جیسے ایک بینک ہے۔ بینک کے منیجر نے اپنے اکائونٹ کلرک کو کہا کہ دیکھو بھئی! سارے اکائونٹ ہولڈرز کی لسٹ لے آئو۔ جب وہ لسٹ لے کر آتا ہے تو اس میں ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جن کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے ہوتے ہیں۔ اور اسی لسٹ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے اکائونٹ میں 5، 10 یا 20 ہزار یا اس سے بھی کم روپے ہوتے ہیں۔ لیکن جب اکائونٹ ہولڈرز کی لسٹ منگوائی گئی تو ملین ائر، بلین ائر بھی اس میں شامل تھے اور یہ سینکڑوں والے بھی شامل تھے۔
اگر ہم نے عشاء کی نماز کے بعد تہجد کی پابندی شروع کر دی۔ 2 رکعت، 4رکعت، 6 یا 8رکعات پڑھنی شروع کر دیں تو قیامت کے دن جب آواز لگے گی کہ تہجد پڑھنے والے کہاں ہیں؟ تو چلو ہم پیچھے کسی لائن میں ضرور کھڑے ہوں گے۔ اور یہ مشکل نہیں ہے، آسان ہے۔ ہاں! جو اگلا درجہ چاہتے ہیں، ترقی چاہتے ہیں وہ پھر آہستہ آہستہ کوشش کریں کہ کبھی مہینے میں ایک دفعہ یا ہفتے میں ایک دفعہ رات کو اُٹھ کر پڑھ لیں۔ جب یہ کوشش ہم شروع کر دیں گے تو آہستہ آہستہ ہمیں وہ موقع مل جائے گا کہ ہماری زندگی تہجد سے آباد ہو جائے گی۔ کوشش کرنے اور مانگنے سے سب کچھ مل جاتا ہے۔
وتر کی نماز کب پڑھی جائے:
نبی کریمa کی عادتِ مبارکہ اکثر تو یہی تھی کہ آپ رات کو اٹھ کر پڑھتے تھے۔ لیکن کبھی شروع رات میں یعنی نمازِ عشاء کے بعد، کبھی درمیانی رات میں اور کبھی اخیر رات میں بھی پڑھا کرتے تھے۔سعید بن مسیب سے دونوں بڑے صحابہ یعنی حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر فاروق کی وتر کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا کہ حضرت ابوبکرصدیق تو بستر پر آنے سے پہلے وتر کی نماز ادا فرماتے، اور حضرت عمرفاروق رات کو دیر سے اُٹھ کر تہجد کے وقت میں پڑھتے تھے۔ گویا کہ حضرت صدیق اکبر احتیاط پر عمل کرتے تھے، اور حضرت فاروقِ اعظم عزیمت پر عمل کرتے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیق نے عشاء کے ساتھ پڑھ لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُٹھ نہ سکوں، اور کہیں موت ہی آجائے اور وتر باقی رہ جائیں۔ انہوں نے اپنی طبیعت کی وجہ سے احتیاط پر عمل کیا۔ حضرت عمرفاروق نے اپنی طبیعت کی وجہ سے عزیمت پر عمل کیا کہ میں رات کو اُٹھوں گا اور وتر پڑھوں گا۔
ہمارے لیے دونوں راستے کھلے ہیں۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ رات کو اٹھ کر آپ تہجد پڑھ لیں گے، غالب گمان ہے اور اس کے حالات بھی ہیں کہ آپ سو جلدی گئے۔ جو رات کو سوئے دو بجے اور سوچے کہ بھئی میں چار بجے اٹھ کر پڑھ لوں گا تو یہ بیوقوفی کی بات ہو گی الاما شاء اللہ۔ عام حالات کی بات کررہا ہوں۔ اگر انسان وقت پر سورہا ہے تو پھر تو اٹھنا آسان ہے۔ آپ وتر اخیر رات میں پڑھ سکتے ہیں افضل ہے، لیکن قضا نہ ہو جائے اس کا خیال رکھنا چاہیے۔بہرحال بات یہ چل رہی ہے کہ ہم اگر تہجد کی پابندی شروع کریں گے تو اِن شاء اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تہجد گزاروں میں ہمارا نام ہوگا۔ یہ چھوٹی بات نہیں ہے۔ یہ اللہ ربّ العزّت کا بہت بڑا اِنعام ہے۔ ہم ہمت اور کوشش کریں اللہ تعالیٰ آسانی والا معاملہ فرماد یں گے۔ نیند بھی کرنی ہے، آرام بھی کرنا ہے لیکن تہجد بھی پڑھنی ہے۔
نبی کریمﷺ کی شفاعت:
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ نبی کریم کے لیے تہجد کی نماز فرض تھی، لیکن عام مسلمانوں کے لیے فرض نہیں کیوںکہ یہ نفل ہے لیکن اس کا فائدہ بڑا پیارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں قرآن مجید میں اپنے نبیﷺ سے تہجد کی نماز ادا کرنے کے لیے فرمایا، وہیں آگے یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود تک پہنچائے گا۔ علماء فرماتے ہیں کہ نبی کریم کو تہجد کی پابندی سے مقامِ محمود ملے گا یعنی وہ منصب جس کے تحت آپ کو شفاعت کا حق دیا جائے گا۔ اور جو تہجد کی پابندی کریں گے ان کو نبی کریمa کی شفاعت مل جائے گی۔ تہجد کی نماز سے نبی کریم کی شفاعت کا مل جانا اور بھی آسان ہو جائے گا۔ ہم اس کی کوشش کریں۔
اوقات کو تقسیم کریں:
ایک صحابی کے دل میں آیا کہ میں نے آج کے بعد کبھی سونا ہی نہیں، ہمیشہ راتوں کو جاگنا ہے۔ تہجد پڑھنی ہے، ساری ساری رات عبادت کرنی ہے۔ نبی کریم کو پتا چلا تو آپ نے انہیں سمجھایا اور فرمایا کہ دیکھو! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں، تم سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہوں، آرام بھی کرتا ہوں، بیوی کا حق بھی ادا کرتا ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں۔ جو میری سنت سے اعراض کرے، اس کا مجھ سے تعلق نہیں۔
(صحیح بخاری: رقم 4776)
رات کو آرام بھی کرنا ہے، بیوی کا حق بھی ادا کرنا ہے، اور تہجد کی نماز بھی پڑھنی ہے۔ اپنے اوقات کو تقسیم کرنا ہے۔
گھر والوں کو وقت دیں:
سوشل لائف گزارنی ہے تو بیوی بچوں کے ساتھ گزاریں، نامحرموں کے ساتھ نہیں۔ کتنے ایسے مرد ہیں جن کے شب و روز کہاں گزرتے ہیں؟ کن کے پاس گزرتے ہیں؟ خواہشاتِ نفس میں نامحرموں کے پاس بیٹھے ہیں، دن گزار رہے ہیں، راتیں گزار رہے ہیں۔ کیا جواب دیں گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو؟ اس لیے بیوی بچوں کو وقت دیں۔ قیامت کے دن یہ پوچھ ہوگی کہ بیوی کے ساتھ کیسے رہے؟ مال کہاں سے کمایا تھا اور کہاں خرچ کیا تھا؟ کن پر مال لٹایا ہے؟ نبی کریم کی سنتوں کو ہم سمجھیں اور عمل میں لائیں۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
نبی کریمﷺ کس پر سوتے تھے؟
نبی کریم رات کو کس پر سوتے تھے؟ یعنی آپﷺ کے آرام کے لیے کیا چیز میسر تھی؟ نبیﷺ کے اُمتی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے نبی کی سنت کو جانیں۔
نبی کریم مختلف انداز سے آرام فرمایا کرتے تھے۔ یعنی کوئی خاص چیز مخصوص نہیں تھی۔ کبھی تو نبی کریم کھجور کے درخت کی چھال سے بنی ہوئی چارپائی پر آرام فرماتے، اور چارپائی پر اکثر بلابستر کے آرام فرماتے۔ کبھی چارپائی کے اوپر بستر کمبل یا چادر کی شکل میں ہوتا تو اس پر آرام فرماتے (نرم ستر کو نبی کریم نے پسند نہیں فرمایا)۔ کبھی چمڑے کے ٹکڑے پر آرام فرماتے، کبھی چٹائی پر جو بسااوقات کھجور کی چھال کی بنی ہوتی۔ اور کبھی سیاہ چادر پر۔ اور کبھی نہ بستر ہوتا، نہ چٹائی ہوتی فقط زمین یا ریت پر آرام فرما لیتے۔ نبی کریمﷺ کی سادگی اور تواضع یہ ہوتی۔ تاہم زیادہ تر نبی کریم چارپائی پر آرام فرماتے۔ اور اکثر اوقات اس چارپائی پر بستر بھی نہ ہوتا جس سے جسمِ اطہر پر چٹائی کی بنائی کے نشانات نمایاں ہو جاتے۔ گدے دار نرم بستر نبی کریم کو بالکل گوارا نہ تھا اور کبھی آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا تھا۔ کبھی تکیہ ملا تو تکیے پر آرام فرما لیا، نہیں تو ہاتھ کا ہی تکیہ بنا لیا۔
یعنی جو چیز مل جاتی اسی پر گزارا کر لیتے۔ آج کے مرد اگر ایسے ہو جائیں تو گھر والوں کو کتنی سہولت ہو۔ عورتیں اگر ایسی ہوجائیں تو مردوں کو کتنی سہولت ہو۔ جو چیزیں انسان کو اللہ تعالیٰ نے دی ہیں، انسان انہیں استعمال کرے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔
چارپائی کیسی تھی؟
امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ آپ کے پاس ایک چارپائی تھی جس کے پائے ساگوان کی لکڑی کے تھے اور آپ اسی پر آرام فرماتے تھے۔
(فتح الکریم الخالق : حرف الجیم)
اسی طرح نبی کریم کے لیے اعتکاف کی حالت میں مسجدِ نبوی میں چارپائی لگائی جاتی تھی۔ ریاض الجنۃ میں جو ستونِ توبہ ہے، اس کے سامنے ایک ستون ہے اسطوانہ سریر اس پر لکھا ہوا ہے۔ سریر کہتے ہیں چارپائی کو۔ نبی کریم کی چارپائی اعتکاف کے وقت وہاں لگا کرتی تھی، اسی وجہ سے اس ستون کو اسطوانہ سریر کہتے ہیں۔
حضرت انس جو خادمِ رسول ہیں فرماتے ہیں کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ایسی چارپائی پر تھے جو کھجور کے پتوں اور شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔ اور آپﷺ کے سر مبارک کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ آپﷺ کے جسم مبارک اور چارپائی کے درمیان کوئی اور کپڑا نہیں تھا۔ پھر حضرت عمر تشریف لائے اور نبی کریمﷺ کے چمکتے بدن مبارک پر چارپائی کی رسیوں کے نشانات دیکھے تو اُن کی آنکھوںمیں آنسو بھر آئے۔ آگے لمبی حدیث ہے۔ (الادب المفرد للبخاری: رقم 1145)
تکیہ کو اُون سے بھی بھر سکتے تھے کہ وہ ذرا نرم ہوتا ہے، مگر آپ نے کھجور کی چھال سے بھروایا تھا۔
امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ قریشِ مکہ کے لوگوں کو زمین کی بہ نسبت چارپائی پہ سونا بڑا پسند تھا۔ جب نبی کریم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور ابوایوب انصاری کے گھر پہنچے تو وہاں آپ نے قیام فرمایا۔ آپﷺ نے حضرت ابوایوب انصاری سے پوچھا کہ اے ابو ایوب! کیا تمہارے پاس کوئی چارپائی نہیں ہے؟ حضرت ابو ایوب کہنے لگے: اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی چارپائی نہیں۔ نبی کریم خاموش ہو گئے۔ خیر ایک صحابی حضرت اَسعد بن زُرَارَہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی کہ میرے نبی کو اس چیز کی ضرورت ہے تو انہوں نے چارپائی بنواکر بھیج دی جس کے پائے ساگوان کے تھے۔ نبی کریم اپنی زندگی کے آخری وقت تک اسی چارپائی کو استعمال فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ کی نمازِ جنازہ بھی اس طرح ادا کی گئی کہ اللہ کے نبیﷺ کا بدن مبارک اس چارپائی پر تھا۔ حضورa کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد صحابہ کرام تبرکاً اپنے جنازے اس چارپائی پر رکھ کر لے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروقِ اعظم کو بھی اسی چارپائی پر ہی مقبرہ تک یعنی روضہ مبارک تک لےجایا گیا۔
(انساب الاشراف من المکتبۃ الشاملۃ)
یہ وہ نبی ہیں کہ اگر حکم دیتے تو سونے اور چاندی کے پہاڑ ساتھ میں چل سکتے تھے۔ لیکن مشقت کو اختیار کر کے اُمت کو تعلیم دی کہ یہ دنیا اور اس کا عیش حقیقی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں کھجور کی چھال سے بنی چٹائی ملتی ہے۔ اور پلاسٹک کی بھی ملتی ہے۔ جو مستقل پلنگ پر سونے والے ہیں، کبھی اتباعِ سنت کی نیت سے چٹائی پر بھی سوئیں اِن شاء اللہ اجر ملے گا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم کے پاس حاضر ہوا آپکھجور کی چٹائی پر بغیر کسی چادر بچھائے لیٹے ہوئے تھے اور چٹائی کا اثر یا نشان آپ کے جسم مبارک سے ظاہر ہورہا تھا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو میں آپ کے جسم مبارکپر ہاتھ پھیرنے لگا اور نشانات مٹانے لگا۔ میں نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ سونے سے قبل مجھے حکم دیتے تو میں آپ کے لیے بستر بچھا دیتا، چٹائی کے اوپر کوئی کمبل یا کوئی چیز رکھ دیتا تاکہ نشانات نہ پڑتے اور آپ کو یہ تکلیف نہ ہوتی۔ نبی کریم نے فرمایا کہ اےعبداللہ! مجھے دنیا سے کیا مطلب؟ میری مثال تو صرف اس چلنے والے مسافر کی سی ہے جو کسی درخت کے سائے میں تھوڑی دیر آرام کے لیے رک جائے اور آرام کرکے آگے چل دے۔
(سنن ترمذی: ابواب الزھد، باب)
یعنی دنیا کی زندگی تو ایسی ہے کہ ہم آئے تھوڑی دیر کا وقت یہاں گزارنا ہے پھر اگلی زندگی کے لیے چلے جانا ہے۔ پھر اتنی تھوڑی سی دیر آرام کے لیے ہمیں محل بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ اتنی آرام پسندی کی کیا ضرورت ہے جو ہمیں دین سے دور کر دے۔
ایک مرتبہ ہماری ایک ماں حضرت حفصہ بنت عمر نے نبی کریم کے بستر کو راحت کے لیے چوہرا کردیا۔ دوتیہ کو چار کردیا کہ آقا کو اچھی طرح آرام ملے، تو نبی کریم نے اس کو پسند نہیں فرمایا۔ اگلی صبح ہی پوچھا:
ما فرشتم لي الليلة؟
ترجمہ: ’’رات کو تم نے میرے لیے کیا بچھایا تھا؟‘‘
اماں جان نے عرض کیا:
ھو فراشك
ترجمہ: ’’آپ ہی کا بستر ہے، بس ذرا اسے چوہرا کر دیا تھا تاکہ آرام ملے‘‘۔
پیارے نبیﷺ نے فرمایا:
ردوه لحالته الأولى. (الشمائل المحمدیۃ للترمذي: رقم 316)
ترجمہ: ’’اسے پھر ویسے ہی کردو جیسے تھا‘‘۔
یہ نبی کریمa کی کمالِ تواضع تھی کہ نبی کریمa نے سادہ زندگی کو پسند کیا۔ باوجود وسعت اور فراوانی کے سادگی کو اختیار کیے رکھا۔ آج امت بلکہ امت کے اہم افراد بھی اس سنت کو چھوڑے چلے جارہے ہیں۔ عیش اور عیش کی زندگی میں گزرتے چلے جارہے ہیں۔ بہرحال اچھے بستر پر سونے کی گنجائش ہے، اجازت ہے لیکن ایسا سونا کہ انسان بس سوہی جائے اور سونے میں نمازوں کو کھو دے تو ایسا سونا چاہے چٹائی پہ ہو، بستر پہ ہو یہ جائز نہیں ہوگا۔ کیونکہ نماز قضا کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اللہ پاک ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین۔
مسجد میں سونا:
اگلی بات مسجد میں لیٹنے اور سونے سے متعلق ہے۔
حضرت عبداللہ بن زید انصاری فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم کو مسجد میں چِت (یعنی سیدھے) لیٹے ہوئے دیکھا۔ آپ اپنے ایک پائوں مبارک کو دوسرے پائوں مبارک پر رکھے ہوئے تھے۔ (سنن ترمذی: رقم 2765)
حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ نے آپ کو مسجد میں بار بار کروٹ بدلتے ہوئے دیکھا (غالباً بھوک کی شدت میں ایسا فرما رہے ہوں گے۔ آگے حدیث میں اس جانب اشارہ ہے) اور حضرت ابو طلحہ سمجھ گئے کہ اللہ کے نبیﷺ بھوک کی حالت میں ہیں۔ (صحیح مسلم: رقم 2040)
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں غیرشادی شدہ نوجوان تھا، اور میں مسجدِ نبوی میں سویا کرتا تھا۔ (صحیح بخاری: رقم 429)
اس سے نوجوانوں کو کیا سبق ملتا ہے کہ کرکٹ اور بُرے دوستوں کو چھوڑ دیں، مسجد میں، نیک لوگوں میں، نیک ماحول میں اپنے وقت کو گزاریں۔ آج 6گھنٹے کرکٹ دیکھنا آسان، ساری رات جاگنا آسان، لیکن دو رکعت فجر کی نماز پڑھنا مشکل ہے۔ اگر یہ نوجوان اپنی جوانی کو پاکدامن رکھنا چاہتے ہیں تو یہ بُرے دوستوں کو چھوڑ دیں، ورنہ قیامت کے دن ذلت اور رسوائی ان کا مقدر بن کر رہے گی۔ گناہ یہاں تو چھپ جائے گا، کسی کو پتا نہیں چلے گا، مگر وہ جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے اس سے کچھ چھپا نہیں سکتے۔ حضرت ابن عمر نوجوانی میں مسجد میں وقت گزارا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی سمجھ عطا فرمائے۔
مذکورہ بالا روایت میں آگے ہے کہ نبی کریم نے اُم المؤمنین حضرت حفصہ جو کہ حضرت عبداللہ بن عمر کی بہن تھیں، سے فرمایا کہ عبداللہ تو بڑا نیک آدمی ہے کاش! یہ رات کو نمازیں زیادہ پڑھا کرے۔ حضرت سالم فرماتے ہیں کہ آپ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر کثرت سے رات کے وقت عبادت کرتے اور بہت کم سوتے تھے۔
مسجد میں ضرورت کے تحت رہا جاسکتا ہے۔ کوئی مسافر ہے، یا تبلیغی جماعت والے ساتھی ہیں، معتکف ہیں تو ان حضرات کے لیے سونا ٹھیک ہے۔ یاایسے نوجوان جو کثرت سے عبادت کرنے والے ہوں، گھنٹوں مسجد میں رہیں، عبادت بھی کریں تو پھر ٹھیک ہے، سو بھی جائیں تو اس کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
حضرت ابوذرغِفَاری مسافر تھے، ان کا اپنا مکان کوئی نہیں تھا۔ یہ نبی کریم کی خدمت کیا کرتے تھے۔ جب خدمت سے فارغ ہو جاتے تو مسجد میں چلے آتے اور مسجد میں لیٹ جاتے اور آرام کرتے گویا کہ مسجد ہی ان کا گھر تھا۔ اسی وجہ سے انہیں قطّان مسجد نبوی کہا جاتا ہے یعنی مسجد نبوی کے کھونٹے۔ (الحلیۃ لأبي نعیم: ذکر أھل الصفّۃ)
اصحابِ صُفَّہ نبی کریم کی خدمت میں رہا کرتے تھے، مدینہ میں ان کے گھر نہیں تھے۔ نبی کریم انہیں مسجد میں سونے کی اجازت دیا کرتے تھے۔ لیکن اس کے علاوہ عام حالات میں مسجد میں سونے سے منع کیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ مسجد کو قبرستان مت بناؤ۔ دوسری روایت میں ہے کہ جو شخص مسجد میں نماز کے ارادے سے سوتا ہو تو اس میں حرج نہیں ہے۔
(کنز العمال: 23114/8)
مثلاً دوپہر کو کام کرتے نیند آگئی چلو ایک گھنٹہ مسجد میں جاکر سوآئیں۔ یارات کو گھر میں گرمی لگ رہی ہے، لائٹ گئی ہوئی ہے تو چلو مسجد میں کھلا صحن ہوگا وہاں جاکر لیٹ آئیں۔ اس طرح سے جانا مناسب نہیں ہے۔ مسجد کی حرمت کے خلاف ہے، اس سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ معتکف ہے، مسافر ہے، کوئی مسجد کے اندر معاملہ ہے، کوئی عبادت کرنی ہے، دین سیکھنا ہے، سکھانا ہے تو چند مخصوص وجوہات ہیں۔ عام حالات کے اندر صرف اس لیے جانا کہ ذرا تھوڑی دیر کمر ٹکا لوں، آرام کرلوں تو یہ چیز مناسب نہیں، مسجد کے آداب کے خلاف ہے۔
سفر میں سونا:
سفر میں نبی کریم کے آرام کرنے کا طریقہ بھی صحابہ کرام سے منقول ہے۔ حضرت ابوقتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ سفر کی حالت میں رات کو سوتے تو اپنی عادت کے مطابق دائیں کروٹ پہ سویا کرتے، اور صبح کے قریب کسی مقام پر قیام فرماتے تو دائیاں بازو کھڑا کر کے ہتھیلی پر سر مبارک رکھتے تھے۔ (صحیح مسلم: رقم 683)
مفہوم یہ ہے کہ جب سفر میں رات آجائے اور مسافر تھکا ہو اسے آرام چاہیے تو ریلیکس ہو کر اپنی روٹین سے سو جائے۔ اور اگر رات میں سفر کرتے کرتے فجر کا وقت قریب آجائے اور آدمی کو تھکاوٹ محسوس ہوتی ہو تو پھر اس طرح مطمئن ہو کر نہ سوئے کہ فجر کی نماز قضا ہو جائے، بلکہ اس طرح سے لیٹے کہ نماز کا وقت ہوتے ہی اُٹھ سکے۔ فجر کے قریب وقت میں نبی کریمa مکمل آرام نہیں فرماتے تھے۔ آپﷺ لیٹتے اور کہنی کو زمین پر لگا کر اپنا سرمبارک کو ہتھیلی پر ٹکا لیتے۔ جیسے ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ ذرا کمر سیدھی کر لیں۔ یعنی تھکن وغیرہ دور ہو جائے اور نیند زیادہ نہ آئے۔ ایسا اہتمام کر لے کہ فجر کی نماز قضا نہ ہو۔ وہ ایمان والا ہی کیا ہوا کہ جس کی فجر کی نماز قضا ہو جائے۔ جو ایمان ہمیں فجر کے لیے نہیں اُٹھا سکتا وہ ہمیں جنت میں کیسے لے کر جائے گا؟ سوچنے کی بات ہے۔ ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ فجر کے لیے اٹھنا مصیبت ہو گیا۔ اگر فجر کے لیے بھی ہم نہیں اُٹھ سکتے تو ہماری زندگی کا کیا حاصل۔ ہمیں اس کے لیے محنت اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
سونے والے کو کب جگانا چاہیے:
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ آپ جب سوتے تو ہم لوگ آپ کو جگاتے نہیں تھے یہاں تک کہ آپ خود ہی اُٹھتے تھے، اس لیے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ نیند میں آپﷺ کو کیا بات پیش آ رہی ہے (نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ حضرات صحابہ کرام اس بات کو خوب سمجھنے والے تھے۔ اللہ اکبر)
(صحیح بخاری: رقم 344)
یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ بلاضرورتِ شدیدہ یعنی کوئی بہت زیادہ ضرورت نہ ہو تو سونے والے کو نہ اُٹھایا جائے۔ اس بارے میں خاص طور سے گھروں میں خیال رکھا جائے۔ موقع، مناسبت، وقت کو دیکھا جائے۔ بیوی، والدہ، بہن بھی انسان ہیں۔ بات بات پر انہیں سے کام کروانا، چِلّانا، زور دکھانا، یہ ہمارے نبیﷺ کے اخلاق نہیں ہیں۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔
نبی کریمﷺ کا اپنے گھر والوں کا خیال رکھنا:
نبی کریمa جب گھر میں ہوتے اور کوئی زوجہ مطہّرہ یاامی عائشہ صدیقہ سورہی ہوتیں اور نبی کریم کو کوئی کام ہوتا یاباہر جانا ہوتا تو بغیر جوتے پہنے جاتے، آواز پیدا نہ فرماتے کہ بیوی کو تکلیف نہ ہو۔
یعنی بیوی کے آرام کا نبی کریم اتنا خیال رکھا کرتے تھے۔ آج تو بیوی بیمار ہوتی ہے تب بھی کہتے ہیں کہ پانی بھی تُو میرے لیے لے کر آ۔ فلاں کام بھی تُونے میرے لیے کرنا ہے۔ بھلا بتائیے کہ اگر وہی کام میں خود کرلوں تو میرے لیے تو گناہ نہیں ہے۔ کوئی حرج کی بات تو نہیں ہے۔ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنا سنتِ رسول ہے۔
نبی کریم جب رات کو گھر میں تشریف لاتے تو بہت ہلکی اور آہستہ آواز سے سلام کرتے تاکہ اگر کوئی سورہا ہو تو اس کی نیند خراب نہ ہو، اور اگر کوئی جاگ رہا ہے تو وہ سن کر جواب دے سکے۔ لیکن اگر نماز قضا ہو رہی ہو یا درس و تدریس کا وقت ہو تو جگانا چاہیے۔ ایسا بھی نہیں کہ جیسا ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ بچہ سو رہا ہے تو کوئی بات نہیں سونے دو۔ سوتے ہوئے کو جگانا اس وقت ممنوع ہے جب نماز قضا ہونے کا خطرہ نہ ہو، پڑھائی کا مسئلہ نہ ہو۔ جب نماز کا مسئلہ آجائے یا پڑھائی کا وقت ہو تو اس وقت اُٹھانا چاہیے۔
اگلی بات قیلولہ کرنے سے متعلق ہے۔ قیلولہ کرنا سنت ہے۔ نبی کریمﷺ قیلولہ کیا کرتے تھے۔
قیلولہ کرنا:
قیلولہ کہتے ہیں: دوپہر کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر لیٹ جانا اور آرام کرنا۔ چاہے نیند آئے، چاہے نیند نہ آئے۔ آجائے تو سبحان اللہ! اور نہ آئے تو الحمدللہ! اس سے تہجد کے لیے آسانی ہوتی ہے، اور صحت کے لیے بھی بہترین ہے، اور اس سے انسان تازہ دم ہو جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہے۔ نبی کریم زندگی بھر اس پر عمل کرتے رہے، اور صحابہ کرام بھی اس پر عمل کرتے رہے۔
محمد بن سیرین حضرت اُمّ سُلَیم سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم میرے گھر میں قیلولہ فرماتے تھے یعنی آرام کرتے تھے۔ میں آپﷺ کے لیے بطور بستر چادر بچھاتی تو آپﷺ پر قیلولہ فرماتے۔ گرمی میں آپﷺ کا پسینہ بہنے لگتا تو میں اسے جمع کرتی ۔ (اس کی خوشبو مشک سے بھی زیادہ ہوتی تھی) ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے اُمّ سُلَیم سے وہ خوشبو مانگی تو انہوں نے مجھے دے دی۔ ابن سیرین کے شاگرد ایوب فرماتے ہیں کہ ابن سیرین کی وفات کے وقت وہ خوشبو انہیں (اُن کے جسم پر) لگا دی گئی۔ (سیر أعلام النبلاء: أمّ سلیم الغمیصاء)
عام حالات میں تو قیلولہ اسی طرح ہوتا ہے۔ اور جمعہ کے دن چوںکہ مسنون یہ ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے انسان جلد ازجلد مسجد پہنچے۔ تو جمعہ والے دن قیلولہ کا طریقہ یہ ہے کہ انسان جمعہ پڑھ کر واپس آئے، دوپہر کا کھانا کھائے اور اس کے بعد قیلولہ کرے۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آپ ارشاد فرماتے تھے کہ دن کے سونے سے رات کی عبادت پر قوت حاصل کرو۔ (معجم طبرانی کبیر: رقم 11460)
یعنی اگر انسان دن میں آدھا گھنٹہ، 15 منٹ، 20منٹ لیٹ جائے، سو جائے تو رات کو تہجد پڑھنا اس کے لیے آسان ہو جائے گا۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا: تم قیلولہ کرو، اس لیے کہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔ (سلسلہ صحیحہ للالبانی: رقم 2647)
حضرت عبداللہ بن عمرفرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت فاروق اعظم نصف النہار یعنی دوپہر کے وقت آرام کرتے تھے چاہے گرمی ہو یا سردی۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ قیلولہ کرو، اس لیے کہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔ (الآداب الشرعیۃ: فصل في استحباب القیلولۃ)
حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت میں انہیں اطلاع ملی کہ فلاںگورنر قیلولہ نہیں کرتے۔ حضرت عمر نے انہیں یہ خط لکھا:
أما بعد، فقل ، فإن الشيطان لا يقيل. (قیام اللیل لابن نصر: 40)
ترجمہ: ’’دیکھو! قیلولہ کرو، اس لیے کہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا‘‘۔
علمائے کرام نے لکھا ہے کہ دوپہر کو قیلولہ کرنے سے عقل کے اندر اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے اکابرین، مشائخ حضرات سنت کے عاشق تھے، اس لیے ان کا قیلولہ کرنے کا معمول تھا۔ حضرت امام ربانی مجدد اَلفِ ثانی فرماتے ہیں کہ دوپہر کے وقت سنت قیلولہ کی نیت سے تھوڑی دیر سوجانا ہزاروں سال کی اپنی مرضی کی شب بیداری سے بہتر ہے۔ وہ عبادت جو من مرضی کے دن، من مرضی کی راتوں میں ہو، اور صحابہ کرام سے، شریعت سے اس کی کوئی تاکید ثابت نہ ہو۔ ایسی ہزاروں راتیں ایک طرف، اور تھوڑی دیر دوپہر کو سوجانا یہ سنت ایک طرف اُن تمام من مرضی دنوں اور راتوں کی عبادت سے افضل ہے۔
یاد رکھیے کہ سنت کا مقابل کوئی نہیں۔ اس کی قیمت عنداللہ جو ہے، وہ کسی غیر سنت کی قطعاً نہیں ہوسکتی۔ ایک طرف جاگنا ہے اور ایک طرف نیند ہے، لیکن اس نیند کو آقا کے ساتھ ایک نسبت ہے۔ یہ نسبت اس کو درجہ عطا کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

Leave a Reply