41

سونے کی سنتیں پارٹ1

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا۰۰۶۲
(الفرقان:62)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

سکون کا تعلق کس سے ہے؟
اس کائنات کا، دن رات کا نظام اللہ ربّ العزّت نے بنایا ہے۔ دن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے اور کام کاج کے لیے بنایا۔ اور رات کو آرام کے لیے اور مناجات یعنی اپنے سے مانگنے کے لیے بنایا۔ جب اللہ چاہتے ہیں تو اصحابِ کہف کو سینکڑوں سال سلا دیتے ہیں، اور جب اللہ نہیں چاہتے تو سارا دن محنت کرنے والوں کو بھی رات میں نیند نہیں آتی۔ لوگ نیند کی گولیاں لیتے ہیں، مگر نیند نہیں آتی۔ اور نیند نہ آنے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ نیند کا تعلق دل کے سکون اور چین کے ساتھ ہے۔ انسان پیسے سے اچھا بستر تو خرید سکتا ہے، لیکن میٹھی نیند نہیں خرید سکتا۔ اس عاجز کو تجربہ ہوا، مشاہدہ ہوا کہ بہت سے غریب لوگ جو اللہ کی مان کر چلتے ہیں وہ رات کو زمین پر بھی میٹھی نیند سو جاتے ہیں۔ اور کتنے ایسے نوجوان ہیں جو Facebook، whatsappاور دیگر چیزوں کے غلط استعمال کی وجہ سے راتوں کو نیند سے محروم ہیں۔ کتنے ہی ایسے امیر لوگ ہیں جو اپنی من مانیاں کر کے بھی رات کو نیند کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ کسی طرح نیند آجائے۔
مجھے ایک صاحب کا فون آیا کہ حضرت! آٹھ دن ہوگئے ہیں مجھے نیند نہیں آئی۔ کچھ کہتے ہیں کہ تین تین دن نیند سے محروم ہیں۔ دوائیاں بھی کھاتے ہیں، نیند نہیں آتی۔ یہ نیند اللہ ربّ العزّت کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ نیند کن کو اچھی آتی ہے، جن کی زندگی اللہ ربّ العزّت کے احکامات اور نبی کے مبارک طریقوں پر ہوتی ہے۔ مال، پیسے سے نیند کا تعلق نہیں ہے۔ اس کا تعلق قلبی سکون سے ہے۔
تھوڑی نیند میں برکت
وہ لوگ جو من مرضی کا کھاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں جاتے ہیں، جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ اب ان کو اچھی نیند تو آجانی چاہیے، کیوںکہ انہوں نے ساری خواہشات تو پوری کرلی ہیں۔ لیکن Mostly ایسے ہی لوگوں کو نیند کی کمی کی شکایات ہوتی ہیں۔ اور جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیتے ہیں، پھر نیند ان کے لیے راحت بن جاتی ہے۔ ہم نے اپنے شیخ حضرت حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم کو دیکھا کہ وہ تھوڑی دیر بھی سو جاتے تو ایسا لگتا تھا گویا وہ ساری رات سوئے ہیں۔ مطلب یہ کہ ڈیڑھ، دوگھنٹے کی نیند میں اللہ پوری رات کا آرام اُن کو عطا کر دیتے ہیں۔ اور بعض نوجوان ایسے ہیں کہ بارہ بارہ گھنٹے سوکر بھی نیند پوری نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان
بہرحال ’’سونا‘‘ روز مرّہ زندگی کا ایک عمل ہے، ایک حصہ ہے۔ اس بارے میں نبی کی کیا سنتیں ہیں؟ کیا طریقہ ہے؟ ہمیں کیسے آرام کرنا چاہیے؟ دھیان سے سنیے! اور عمل کے ارادے سے سنیے کہ اللہ پاک ہمارے دن کو نبی کی سنت کے مطابق بنا دے، اور رات کو بھی نبی کے طریقوں کے مطابق بنادے۔ دن میں ہم کسبِ معاش بھی کریں اور عبادت بھی کریں،اور رات میں آرام بھی کریں، ربّ تعالیٰ سے مناجات بھی کریں۔ رات کے وقت اللہ ربّ العزّت کی طرف سے آواز لگتی ہے:
ھَلْ مِنْ سَائِلٍ یُعْطٰی؟ (صحیح مسلم: 758)
’’ہے کوئی مانگنے والا کہ جسے عطا کیا جائے؟‘‘
ہاں! بڑے کی طرف سے بڑا اعلان ہے، مگر اس وقت ہم گھوڑے بیچ کر سو رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت ہمیں نیند آرہی ہوتی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلانات ہو رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس وقت ہمیں مانگنے کے لیے اٹھنا چاہیے، اپنی نیند کو اس وقت Manage کرنا چاہیے۔ پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہماری طرف کیسے متوجہ ہوتی ہیں۔
سوتے وقت وضو کے فضائل
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو استنجاء کرتے اور مکمل وضو فرماتے جیسے نماز کے لیے کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری: رقم ۳۲۳)
حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی جب رات کو بستر پر آتے تو مسواک کرتے اور کنگھی کرتے۔ یعنی مسواک اور کنگھی کا استعمال سونے سے پہلے کرتے تھے۔
اس کے متعلق نبی نے حکم بھی دیا ہے۔ چناںچہ بخاری شریف میں ہے کہ نبی نے حضرت براء بن عازب سے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو نماز کی طرح وضو کرو، پھر دائیں کروٹ پر لیٹو۔ (صحیح بخاری: باب اذا بات طاھراً)
نبی کی عادتِ طیبہ باوضو آرام فرمانے کی تھی، اور آپ نے اس کے متعلق حکم بھی دیا ہے۔ ایسے ہی اگر کسی نے عشاء کی نماز پڑھی اور باوضو ہے تو وہی وضو کافی ہے، پھر الگ سے وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر عشاء کی نماز پڑھ لی اور پھر وضو ٹوٹ گیا تو بہتر یہ ہے کہ سونے سے قبل وضو کر لیا جائے۔
حضرت براء کی اسی روایت میں آگے ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص وضو کی حالت میں رات گزارے اور اس دعا کو پڑھ لے جو انہیں سکھائی گئی (دعاؤں کی کتاب میں اس دعا کا تذکرہ ہے: اللھم أسلمت وجھي الیک۔۔۔)، پھر اُسی رات میں انتقال کرجائے تو فرمایا کہ اس کی موت فطرت پر ہوئی ہے یعنی فطرتِ اسلام پر۔ (حوالہ بالا)
کتنا چھوٹا سا عمل ہے کہ وضو کرنا اور باوضو سوجانا اور فضیلت کتنی بڑی ہے۔ اگر انسان باوضو سوئے تو فرشتوں کی دعائیں بھی ملا کرتی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسi فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص طہارت کی حالت میں رات گزارتا ہے تو اس کے ساتھ ایک فرشتہ بھی رات گزارتا ہے، جب یہ شخص کروٹ لیتا ہے تو فرشتہ پکارتا ہے: اے اللہ! اس بندے کی مغفرت فرما کہ اس نے رات باوضو گزاری ہے۔ (الترغیب والترھیب: ۱؍۴۰۸)
ایک حدیث میں نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ وضو کے ساتھ سونے والا روزے دار، شب بیدار کی طرح ہے۔ (مسند دیلمی: ۲؍۲۶۵)
یعنی باوضو سونے والے کو اللہ تعالیٰ ساری رات عبادت کا ثواب اپنی رحمت سے عطا فرما دیتے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ بستر ہی مسجد بن جاتا ہے۔ یعنی جب وہ باوضو سوتا ہے تو اس کا بستر ہی عبادت گاہ بن جاتی ہے۔
اس کے علاوہ نبی نے فرمایا کہ باوضو سونے والا، ذکر اور نماز کی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور وہ اُٹھ جائے۔
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن عباسi نے فرمایا کہ دیکھو! بغیر وضو کے مت سویا کرو۔ اور آگے فرمایا کہ روحوں کا اُٹھنا اسی حالت میں ہوگا جس حالت میں اسے قبض کیا جائے گا۔ (غذاء الالباب للسفارینی: مطلب في فوائد من آداب النوم، منقولاً من الحلیۃ لأبي نعیم)
بعض علمائے کرام نے لکھا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ باوضو رات گزارلے تاکہ اگر موت آجائے تو بہترین حالت پر آئے۔
بیہقی میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرi فرماتے ہیں کہ روحیں نیند کی حالت میں عالمِ بالا پہنچتی ہیں۔ جو روحیں باوضو ہوتی ہیں وہ اللہ کے عرش کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں۔
سبحان اللہ! باوضو سونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ فتح الباری میں لکھا ہے کہ باوضو سونے سے انسان کے ساتھ شیاطین نہیں کھیلتے، یعنی تنگ نہیں کرتے۔ اور باوضو سونے والے کے اکثر خواب سچے ہوتے ہیں۔ اور باوضو سونے سے انسان پر شیطان کے حملے نہیں ہوتے، وہ حفاظت میں رہتا ہے۔ خصوصاً جو لوگ نیند میں ڈر جاتے ہیں، اُن کے لیے باوضو سونا ایک بڑی نعمت اور مجرّب عمل ہے۔
سونے سے پہلے مسواک کرنا
حضرت محرِز سے مروی ہے کہ نبی اس وقت تک آرام نہ فرماتے جب تک مسواک نہ کرلیتے۔ (التلخیص الحبیر: باب السّواک، منقولاً من معرفۃ الصحابۃ)
یعنی نبی رات کو سونے سے پہلے مسواک کا اہتمام فرماتے تھے۔ سونے سے پہلے مسواک دانتوں کے لیے اور صحت کے لیے انتہائی مفید عمل ہے۔ اسی وجہ سے علماء اور اطبّاء نے لکھا ہے اور ڈاکٹرز بھی یہی کہتے ہیں کہ انسان رات کو دانت صاف کرکے سوئے۔ صبح اگردانت صاف نہ بھی کیے تو اتنا نقصان نہیں، مگر رات کو دانت صاف ضرور کرنے چاہییں۔ اس کی Reason یہ بتاتے ہیں کہ انسان جب غذا رات کو کھاتا ہے تو سونے کے بعد اس نے تین چار گھنٹے کم حرکات کرنی ہوتی ہیں۔ اس کی Body Stay حالت میں ہوتی ہے۔ اب یہ سوئے گا اور منہ صاف نہ کیا ہوگا تو دانتوں کے ذرّات میں بیکٹیریاز کو کام کرنے کا پورا پورا موقع ملے گا اور وہ اس کے مسوڑھوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ اور اگر دانت صاف کرلیے تو ہر طرح کے نقصانات سے بچ جائے گا۔
آج ڈاکٹرز یہ کہتے ہیں صبح بھی اور رات بھی دانت صاف کرو۔ صبح رہ جائے تو اتنا نقصان نہیں، اس لیے کہ دن میں انسان کا منہ چلتا رہتا ہے، بات چیت میں، کھانے پینے میں، مختلف کاموں میں، لیکن رات کو دانت صاف نہ کرنے کا بہت نقصان ہے، کیوںکہ رات کو کئی گھنٹے منہ بند رہتا ہے اور بیکٹیریاز کو، جراثیموں کو پورا کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اللہ اکبر! صحت کے اعتبار سے بھی نبی کا طریقہ بہترین طریقہ ہے۔
اگر کوئی برش کرتا ہے تو اس کو صفائی کا ثواب مل جائے گا، لیکن مسواک کے ساتھ اس کو سنت کا ثواب بھی ملے گا۔ یعنی مسواک کے ساتھ Double ثواب ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اُصولِ صحت کا خیال رکھنا بھی ہماری شریعت میں مسنون ہے۔ دانتوں کی صفائی سے دانت بھی مضبوط اور معدہ بھی قوت پکڑتا ہے۔ اس لیے ہمیں سونے سے قبل مسواک ضرور کرنی چاہیے۔
سو کر اٹھنے کے بعد مسواک کرنا
حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ نبی رات میں کسی بھی وقت بیدار ہوتے تو مسواک فرماتے تھے۔ اور امی عائشہ فرماتی ہیں کہ رات میں جب نبی یا دن میں جب بھی جاگتے (قیلولہ کرنے کے بعد) تو وضو سے قبل مسواک فرمایا کرتے تھے۔ پہلی روایت بخاری اور مسلم شریف دونوں میں، جبکہ دوسری روایت مسلم شریف کی ہے۔
مسواک سے نبی کو اتنی محبت تھی کہ اللہ اکبر کبیرا۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ حضورﷺ جب رات کو سوتے تو مسواک آپ کے سرہانے ہوا کرتی تھی۔ یعنی نبی مسواک کو اپنے تکیہ کے پاس رکھا کرتے تھے۔ جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے۔ (مسند احمد: رقم ۵۸۱۴)
آج کے دور میں اس بات کو سمجھنا بڑا آسان ہے۔ جیسے آج کل کے نوجوان ہیں کہ جب وہ سوتے ہیں تو موبائل سرہانے پر اور صبح بھی سب سے پہلے موبائل پکڑتے ہیں۔ رات کو 3 بجے آنکھ کھلی تو سب سے پہلے Whatsapp، Onکرتے ہیں۔ 2 بجے آنکھ کھلے تو دیکھتے ہیں کہ کسی کا میسیج تو نہیں آیا ہوا۔ جس طرح ہمیں اپنے موبائل سے محبت ہے اس سے کہیں زیادہ نبی مسواک سے محبت کرتے تھے۔ یہ صرف سمجھانے کے لیے مثال دی ہے۔
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ جنابِ رسول اللہﷺ یوں فرماتے تھے:
اَلسِّوَاکُ مَطْھَرَۃٌ لِلْفَمِ مَرْضَاۃٌ لِلرَبِّ. (صحيح البخاري تعلیقًا: ۲؍۲۷۴)
ترجمہ: ’’ مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے‘‘۔
رات کو سونے سے قبل چند باتیں اور بھی سنت ہیں۔
سونے سے قبل چند ضروری کام
بخاری شریف میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: جب تم سونے کا ارادہ کرو تو چراغ بجھا دیا کرو، اور دروازے کو بند کر دیا کرو، اور مشکیزے کا منہ باندھ دیا کرو، اور کھانے پینے (کے برتن) ڈھک دیا کرو۔ (صحیح بخاری: رقم ۶۲۹۶)
اس حدیث کے راوی ہَمَّام کہتے ہیں کہ اگر ڈھکنے کے لیے کوئی چیز نہ ملے تو (بسم اللہ کہہ کر) کوئی لکڑی ہی چوڑائی میں رکھ دو۔
حضرت جابر کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی نے فرمایا کہ جب رات ہونے لگے تو اپنے بچوں کو باہر جانے سے روک دو، اس لیے کہ اس وقت شیطان پھیلتے ہیں۔ اور جب رات کا ایک پہر ہوجائے (عشاء کے بعد، جانا چاہیں ضرورت سے) تو جانے دو۔ اور دروازوں کو بند کردو اور اس پر اللہ کا نام لو، کیوں کہ شیطان (ایسے) بند دروازوں کو نہیں کھول سکتا۔ اور پانی کے مشکیزوں کو باندھ دو اور اس پر اللہ کا نام لو۔ اور اپنے برتنوں کو ڈھانک دو اور اس پر اللہ کا نام لو، اگرچہ ڈھکنے کے لیے چوڑائی میں ہی کوئی چیز رکھ دو(اس طرح کہ اس برتن کا منہ چھپ جائے)۔ اور اپنے چراغوں کو بجھا دو۔ (مشکوٰۃ: رقم۲۳۱)
بخاری شریف کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ چراغوں کو بجھا دیا کرو (اکثر یا بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ) چوہا بتی کو کھینچ لے جاتا ہے اور گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔
پہلے وقتوں میں لائٹیں تو تھی نہیں اس لیے تیل سے چراغ جلایا جاتا تھا۔ پھر چوہے کی حرکت سے بعض اوقات وہ گر جاتا تھا، جس سے آگ لگ کر پورے گھر کو جلا ڈالتی تھی۔ اسی طرح سونے سے قبل انسان کھانے پینے کے برتن کھلے نہ چھوڑے۔ اس عمل کی برکت سے یہ چیزیں شیطانی تصرّفات اور اثرات، حشرات الارض یعنی کیڑے مکوڑوں وغیرہ سے بھی بچ جاتی ہیں۔ بلی، چوہا وغیرہ کے برتنوں کو جھوٹا کرنے سے بھی بچت ہوجاتی ہے۔ ان تمام امور میں ثواب سنت کا بھی ملے گا اور صحت کی بھی حفاظت رہے گی۔ اور گھر کے دروازے بند رکھنے سے شیاطین اور جنات کے علاوہ شریر انسانوں سے بھی حفاظت رہتی ہے، یعنی چوری ڈاکے سے بھی اور لوگوں کے غلط آنکھ لڑانے سے بھی۔
حدیثِ وحشی بن حرب
حضرت وحشی بن حرب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کے وقت رسول اللہﷺ کسی ضرورت سے گھر سے باہر تشریف لے گئے اور دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔ جب آپﷺ واپس تشریف لائے تو دیکھتے ہیں کہ ابلیس (شیطان) گھر کے درمیان میں کھڑا ہے۔ نبی کریمﷺ نے اس سے فرمایا: او خبیث! میرے گھر سے ذلیل ہو کر نکل جا۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو رات کے وقت باہر نکلنا پڑے تو نکلتے ہوئے دروازہ بند کرے۔ (معجم کبیر: ۲۲؍۱۳۷)
بچوں کی نگرانی کرنا
یہاں ایک بات اور بھی ذکر کر دوں کہ آج کل جو بے حیائی کا ماحول ہے تو نوجوان بچوں اور بچیوں کو Study کے نام پر کُنڈی لگانے کی اجازت نہ دیں۔ اگر سب لڑکے ایک کمرے میں سوتے ہیں تو کنڈی نہ لگائی جائے، اور باپ رات کو ایک دو دفعہ آکر چیک کرلے اور ان لڑکوں کو بھی پتا ہوکہ باپ آئے گا۔ لڑکے بڑے بہانے بناتے ہیں کہ Study کرنے کے لیے کنڈی لگائی ہے، مگر سچ بات یہ ہے کہ Study ہویا نہ ہو فیس بک پر حرام کام ضرور ہوتے ہیں، یا موبائل فون پر غلط چیٹنگ ہو رہی ہوتی ہے، یا پھر اور گناہ ہو رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بچیوں کے معاملہ میں ماں کو چاہیے کہ اگر وہ الگ کمرے میں ہوتی ہیں تو اُن کے کمرے میں چکر لگا کر چیک کرے۔ غرض یہ کہ کسی کو دروازے بند کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ دروازہ بند کرنا تو شادی شدہ لوگوں کی بات ہے، یا جہاں ضرورت محسوس ہو وہاں دروازہ بند کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ پھر یہ بات بھی واضح رہے کہ دروازہ بند کرنا ایک الگ چیز ہے اور اندر سے کنڈی لگانا ایک الگ چیز ہے۔ میری والدین سے گذارش ہے کہ بچوں اور بچیوں کو اندر سے کنڈی لگانے کی اجازت نہ دیں، ہاں! اگر آج کے باپ میں اتنی ہمت نہیں کہ کنڈی کھول کر بیٹے کو چیک کرسکے تو پھر الگ بات ہے۔ بچوں کو شیطانی آلات بھی دیے ہوئے ہیں تو پھر یہی بچے ماں باپ کی ناک کے نیچے گناہوں کے دیے جلاتے ہیں الامان والحفیظ۔
سونے سے قبل سرمہ لگانے کی سنت
حضرت عبداللہ بن عباسi فرماتے ہیں کہ نبیﷺ رات کو سونے سے پہلے، بستر پر جانے سے قبل (اِثمد) سُرمہ تین تین مرتبہ ہر آنکھ میں لگاتے تھے۔ (شمائل: صفحہ5)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبیﷺ کے پاس سُرمہ دانی تھی جس سے رات میں آپﷺ سونے سے پہلے تین تین سلائیاں ہر آنکھ میں لگاتے تھے۔ (مجمع: 99/5)
اور ایک روایت میں ہے کہنبیﷺ نے فرمایا: ’’جو آدمی سُرمہ لگائے وہ طاق عدد میں لگائے، ایسا کرے تو بہتر ورنہ کوئی حرج نہیں‘‘۔ (مشکوٰۃ شریف)
یہ بھی آقاﷺ کی مبارک سنت ہے۔ لہٰذا سونے سے پہلے سرمہ لگانا چاہیے۔ آج کے زمانے میں جو مٹی ہوئی سنتوں کو زندہ کرے گا، اس کے لیے سو شہیدوں کے برابر اجر و ثواب ہے۔
بستر جھاڑ کر دعا پڑھنا
ایک بڑی آسان سنت ہے۔ وہ یہ کہ نبی نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہیے کہ تین مرتبہ اپنے اِزار کے اندورنی حصے سے بستر کو جھاڑے، اس لیے اسے معلوم نہیں کہ اس کےبعد (غیر موجودگی میں) بستر پر کوئی (جانور) تو نہیں آیا۔ پھر جب لیٹ جائے تو یہ دعا پڑھے:
بِاسْمِکَ رَبِّيْ وَضَعْتُ جَنْبِيْ وَبِکَ أَرْفَعُہٗ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِيْ فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِيْنَ.
(البخاری: رقم ۶۳۲۰)

اب اگر ہم یہ کہیں کہ ہمارے گھر تو بڑے صاف ستھرےFurnished ہیں، یہاں کیڑے مکوڑے نہیں آئیں گے۔ بات یہ ہے کہ اگر کیڑے مکوڑے نہ بھی آئیں، پھر بھی ہم اپنے کپڑے سے بستر کو جھاڑلیں تو پیارے آقاﷺ کی سنت تو پوری ہوجائے گی۔ کیا یہ کوئی چھوٹا اجر ہے؟ میرے بھائیو! اس کا فائدہ تو ہمیں اس وقت پتا چلے گا، جب یہ آنکھیں بند ہوں گی اور قبر میں جاکر آنکھ کھلے گی تو تب قدر معلوم ہوگی اور کہیں گے کہ ہائے افسوس! میں نے نبی کی سنتوں کو ضائع کر دیا۔ اس وقت بس پچھتاوا اور رونے کے سوا کچھ نہیں، مگر تب رونے کا فائدہ نہیں ہوگا۔ دنیا میں تو کہا جا رہا ہے کہ نیک ہوجاؤ، حیا اور پاکدامنی کی زندگی گزار لو، نامحرموں سے حرام دوستیاں چھوڑ دو۔ تب نہیں مانتے، کہتے ہیں کرو بات ساری رات۔ ساری رات پیکج لگا کر نامحرموں سے گفتگو کرنا آسان، مگر چار رکعات تہجد پڑھنا بڑا مشکل لگتا ہے۔
ایک عام چوکیدار کی مثال لے لیجیے کہ اس کو کہو کہ تمہیں ہم /10,000 روپے مہینہ دیں گے، ساری رات تم نے جاگ کر گزارنی ہے۔ اب وہ چوکیدار فوراً جاگنے پر تیار ہوجائے گا کہ سارا مہینہ پوری رات میں آپ کے گھر کے باہر پہرہ دوں گا، آپ پہلی تاریخ کو مجھے /10,000 روپے دے دیں۔ اسی طرح یہ پیکج والے صرف 10 روپے، 5 روپے میں ساری رات پیکج دے دیتے ہیں کہ حرام گفتگو کرو۔ آج کیا قیمت رہ گئی ہے ایمان والے کی اور اس کی رات کی، صرف 5 روپے 10روپے؟ میرے بھائیو! جس وقت موت آئے گی اور اللہ کی طرف بلاوا آجائے گا تو اربوں روپے بھی کوئی دے تو ایک رات بھی نہیں خرید سکتا۔ اور اگر یہی رات ہم اللہ کی یاد میں گزار لیں، اللہ کو منانے میں گزار دیں، کچھ وقت آرام کرلیں اور کچھ وقت تہجد پڑھ لیں تو نفس کچل جائے، اور ہمیں اللہ کی رضا مل جائے اور پھر قبر میں ہم آرام کریں گے۔
بہرحال جب انسان بستر پر جائے تو بستر کو تین مرتبہ جھاڑ لے۔ اگر کسی نے جھاڑ لیا اور پھر اُٹھ کر کہیں چلا گیا تو جب واپس بستر پر آئے تو مسنون یہ ہے کہ دوبارہ جھاڑ دے۔
دائیں کروٹ پر لیٹنے کی سنت
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی جب بستر پر تشریف لاتے تو اپنی دائیں کروٹ پر آرام فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری: رقم ۵۸۴۰)
حضرت براء بن عازب سے ہی دوسری روایت میں ہے کہ نبی نے فرمایا: جب تم بستر پر آؤ تو پہلے وضو کرو، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ۔ (متفق علیہ)
دائیں کروٹ پر سونا صحت کے اعتبار سے بہت مفید ہے۔ حافظ ابنِ حجر نے لکھا ہے کہ یہ حالت صبح اُٹھنے میں زیادہ مددگار ہے، کیوںکہ اس صورت میں انسان کا قلب (دل) اوپر ہوا کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے نیند سے بھاری پن پیدا نہیں ہوتا، یعنی غفلت کی نیند نہیں آتی۔
دیکھیے! سونے کے چار طریقے ہوسکتے ہیں:
ایک یہ کہ انسان سیدھا سوئے، سینہ آسمان کی طرف اور کمر نیچے زمین کی طرف۔ اس میں نقصان یہ ہے کہ اس طرح سونے سے ہمارے پیٹ کا سارا وزن اسپائنل کورڈ پر آجاتا ہے۔ اسپائنل کورڈ گردن کے مہرے سے شروع ہوتی ہے اور یہ نیچے کمر تک پہنچتی ہے۔ جب انسان سیدھا لیٹتا ہے تو پیٹ کا سارا وزن ریڑھ کی ہڈی پر آجاتا ہے او ریہ ہماری ریڑھ کی ہڈی Curve میں ہے اوپر سے اور نیچے سے۔ اور یہ سائنس کا اصول ہے کہ کوئی چیز اگر Curve میں ہو اور اس پر وزن ڈال دیا جائے تو وہ دونوں سروں سے سیدھی ہونے کی کوشش کرے گی۔ بہرحال جو لوگ سیدھے سونے کے عادی ہوتے ہیں ان کو Low back pain بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اور ان کی گردن کے پیچھے درد بھی ہوتا ہے کہ سارا وزن گھنٹوں کے حساب سے ریڑھ کی ہڈی پر پڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ سیدھا سونا صحت کے لیے مفید نہیں بلکہ نقصان دہ ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان اوندھا سوئے یعنی اُلٹا ہو کر۔ اس صورت میں انسان کی آنتیں لٹک جاتی ہیں، گرہ پڑنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ اور احادیث میں اُلٹا سونے سے منع بھی کیا گیا ہے کہ شیطان اُلٹا سوتا ہے۔ حضرت جندب یعنی ابو ذر غِفاری فرماتے ہیں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ نبی کریمﷺ وہاں سے گزرے اور پاؤں سے مجھے حرکت دی اور فرمایا: اے جُنَیدِب! اُلٹا نہ لیٹو، یہ جہنمی لوگوں کا لیٹنا ہے۔ (سنن ابنِ ماجہ: رقم ۳۷۲۴)
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان بائیں کروٹ پر سوئے یعنی جس طرف انسان کا دل ہے۔ اس طرح سونے سے انسان کے دل پر وزن آجائے گا۔ یہ دل سارا دن خون کی Supply کرتا ہے، جب انسان سوتا ہے تو یہ دل آہستہ کام کرتا ہے، اس کی Speed آہستہ ہوجاتی ہے۔ جب انسان Left پر لیٹتا ہے تو دل پر دباؤ آتا ہے جس کی وجہ سے اسے اوپر دماغ کی طرف Blood بھیجنے میں زیادہ ورک کرنا پڑتا ہے۔ جیسے موٹر اگر نیچے ہو اور پانی اوپر بھیجنا ہو تو موٹر زیادہ Work کرے گی۔ سلو فنکشن میں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے تو اس سے (دل) پر بھی پریشر آجاتا ہے۔ اس طرح بائیں کروٹ پر لیٹنے سے دل کی بیماریوں کے زیادہ Chances ہوتے ہیں۔
اور چوتھا طریقہ یہ ہے کہ آدمی دائیں کروٹ پر لیٹے جو کہ نبیﷺ کی سنت ہے۔ انسان کا دل اوپر کی جانب رہتا ہے تو اس طرح اس کے لیے کام کرنا آسان ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جن کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں، اُن میں تقریباً وہ لوگ ہوتے ہیں جو اُلٹی کروٹ سوتے ہیں۔ جب انسان بائیں طرف سوتا ہے تو Mostly اس کے خواب میں یہی آئے گا کہ کوئی چیز میری طرف دوڑتی ہوئی آرہی ہے، کوئی سانپ آرہا ہے۔ اس کے علاوہ اس بندے کی نیند بھی بہت زیادہ گہری ہوتی ہے۔ ایسا شخص کسی کے اُٹھانے سے بھی نہیں اُٹھتا، یعنی اس کی نیند غفلت کی نیند ہوتی ہے۔ اور زیادہ گہری نیند کے باوجود نیند کا پورا مزا نہیں لے سکتا۔ لیکن اگر یہ دائیں کروٹ پر سوئے گا تو یہ تھوڑی نیند میں زیادہ مزے لے گا، اور Alarm، یاکسی کے اُٹھانے پر اس کی آنکھ بھی کھل جائے گی۔ اس کے علاوہ دائیں کروٹ پر سونے والے کو بُرے خواب بھی نہیں آتے۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اس طرح سونے سے رسولِ پاکﷺ کی مبارک سنت پوری ہوجائے گی۔ معلوم ہوا کہ دائیں کروٹ پر سونا ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ سائنس چودہ سو سال بعد اس بات پر پہنچی ہے، لیکن نبی نے اتنی صدیاں پہلے ہمیں دائیں کروٹ پر سونے کا حکم دیا۔
سونے کی چار صورتیں جو ابھی بیان ہوئیں، تین جائز ہیں اور ایک ٹھیک نہیں۔
(۱) چت سونا یعنی سیدھا ہو کر سونا۔ یہ انبیائے کرام کا طریقہ رہا ہے اور اس طرح سے وہ زمین اور آسمان کی پیدائش پر غوروفکر فرماتے تھے۔
(۲) دائیں کروٹ پر سونا۔ یہ نبی کی سنت ہے۔
(۳) بائیں کروٹ پر سونا۔ یہ بادشاہوں کا طریقہ ہے، رئیس اور بڑے لوگوں کا طریقہ ہے، جائز ہے مگر پسندیدہ نہیں۔
(۴) منہ کے بل سونا۔ یہ شیطان کا طریقہ ہے اور دوزخی لوگوں کا طریقہ ہے۔
تکیہ رکھنے کی سنت
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی جب سونے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دائیں رخسار کے نیچے اپنے ہاتھ کو رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری: رقم ۵۹۵۵)
اسی طرح ہم تکیہ استعمال کرتے ہیں تو تکیہ استعمال کرتے ہوئے آج سے ہم سنت کی نیت کرلیں، تو نبی کی سنت بھی پوری ہو جائے گی۔
اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کا تکیہ چمڑے کا تھا جس پر آپ آرام فرماتے، اور اس کا بھراؤ کھجور کی چھال سے تھا۔ (صحیح مسلم: 193/1)
حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ دیکھا کہ آپ کے سرکے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا۔ (متفق علیہ)
اگر ہم بھی چمڑے کا تکیہ بنالیں، چاہے اس پر غلاف چڑھالیں تو نبی سے مشابہت پیدا ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ نبی بسا اوقات چمڑے کے تکیہ کے ساتھ ٹیک بھی لگاتے تھے۔ آج سے ہم بھی اگر تکیہ کے ساتھ ٹیک لگائیں تو اتباعِ سنت کی نیت کرلیں۔
حضرت جابربن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکوایک تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے دیکھا جو بائیں جانب تھا۔ کبھی نبیﷺ تکیےسے دائیں جانب ٹیک لگالیتے اور کبھی بائیں جانب۔ (ترمذی: صفحہ101)
ٹیک لگانے کی دونوں صورتیں (دائیں/ بائیں) جائز ہیں۔
سوتے میں خرّاٹے لینا
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ آپﷺ جب رات کو سوجاتے تو خراٹے کی آواز آپ سے آتی تھی۔ (متفق علیہ)
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سوتے میں نفخ کرتے تھے یعنی خراٹے لیا کرتے تھے۔ (سننِ ابن ماجہ: رقم ۴۷۴)
Normal Awor میں خراٹے نبی سے ثابت ہے۔ سوتے وقت نبی کے خراٹوں کی ہلکی سی آواز آتی تھی جس سے لوگوں کو معلوم ہوجاتا تھا کہ نب آرام فرما رہے ہیں۔ یقیناً نبی بہت خوبصورت تھے اور یقیناً آپﷺ کے خراٹے بھی بہت خوبصورت ہوں گے۔
پاؤں پر پاؤں رکھ کر سونا
حضرت عبداللہ بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو مسجد میں چت سونے کی حالت میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھتے ہوئے دیکھا۔ (سننِ ترمذی: رقم ۲۹۱۵)
واضح رہے کہ چت سونا اس طرح سے کہ سینہ اوپر اور کمر نیچے ہو تو یہ خلافِ سنت نہیں ہے، مگر نبی کی عادتِ مبارکہ عام طور پر دائیں طرف لیٹنے کی تھی۔ یعنی اگر انسان سیدھا چت بھی لیٹ جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ اسی طرح اگر انسان دائیں کروٹ پر لیٹے، پھر تھوڑی دیر بعد نیند میں کروٹ بدل لے تو اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ ہاں! پیٹ کے بل سونا یہ خلاف سنت بھی ہے اور ناپسندیدہ بھی ہے۔ جہاں تک بات پاؤں پر پاؤں رکھ کر سونے کی ہے تو بعض احادیث میں اس کی ممانعت بھی آئی ہے۔ جیسے کہ حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں منع آیا ہے۔(معجم کبیر للطبرانی: رقم ۱۸)
علمائے کرام نے دونوں احادیث مبارکہ کے درمیان تطبیق اس طرح سے کی ہے کہ اگر پاؤں لمبے کرکے پھر پاؤں پر پاؤں رکھ کر سوتا ہے تو کوئی حرج نہیں، اس لیے کہ ستر چھپا ہوا ہے۔ اور اگر گھٹنے کھڑے کر کے پاؤں کو پاؤں پر رکھتا ہے تو یہ منع ہے، اس لیے کہ اس صورت میں کشفِ ستر ممکن ہے۔ البتہ اگر شلوار، پاجامہ پہنا ہوا ہے، لنگی یا دھوتی نہیں تو پھر جائز ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۸؍۴۹، ۵۰)
سونے کی جگہ کہاں بنائی جائے؟
اس بارے میں تفصیلات یہ ہیں کہ انسان کسی راستے میں یا کسی ایسی جگہ پر نہ سوئے کہ گزرنے والوں کو تکلیف ہو، جیسے کہ بعض لوگ فٹ پاتھ پر سو جاتے ہیں، مجلس کے درمیان میں پاؤں پھیلا کر سوجاتے ہیں۔ اس طرح سونے میں چوںکہ لوگوں کو پریشانی ہوگی، اس لیے اگر کسی کو شدید نیند کا تقاضا ہے تو چاہیے کہ کسی کونے میں جاکر سوئے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ بعض اوقات انسان نے لنگی وغیرہ پہنی ہوتی ہے، اس حالت میں اگر درمیانِ مجلس سوئے گا یا فٹ پاتھ پر سوئے گا تو اس کے ستر کے نظر آنے کا خطرہ ہوگا، یہ شرم وحیا کے منافی ہے۔
جنابت کے بعد طہارت لینا
اگر رات میں کسی بھی وجہ سے غسل کی حاجت پیش آجائے تو کیا کرے؟
اُمّ المؤمنین امی عائشہk فرماتی ہیں کہ آپﷺ جنابت کے بعد اوّلاً اپنے ہاتھ دھوتے، پھر سیدھے ہاتھ سے اُلٹے ہاتھ پر پانی ڈال کر خاص جگہ کو دھوتے اور پھر (نماز کی طرح مکمل) وضو فرماتے۔
(صحیح بخاری: کتاب أحکام الغسل، باب الوضوء قبل الغسل)
آج کے ڈاکٹرز بھی یہی کہتے ہیں کہ جب جنابت کا مسئلہ پیش آجائے تو سستی نہ کی جائے۔ کم از کم رسول اللہﷺ نے اپنی امت کو جو آسانی جہاں تک بتلائی ہے، اسی کو اختیار کرلیں۔ وہ یہ کہ اٹھ کر استنجا کر کے وضو کرلیا جائے، پھر اگر چاہیں تو فوراً غسل کرلیں، اور چاہیں تو اس وقت نہ کریں بعد میں نماز کے وقت سے پہلے کرلیں۔
نبی کے بارے میں آتا ہے کہ جنابت کی حالت میں اگر نبی کچھ کھانا پینا چاہتے تو بھی پہلے وضو فرماتے، پھر کھانا چاہتے تو کھا لیتے۔
(التلخیص الحبیر رقم: ۱۸۷، نقلًا عن الشیخین)
حضرت فاروقِ اعظم نے ایک مرتبہ آقاﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا ہم جنابت کی حالت میں سوسکتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں! سوسکتے ہو، لیکن اپنے شرم گاہ کو دھولیا کرو اور نماز کی طرح وضو کرلیا کرو۔ (صحیح بخاری: رقم ۲۸۳)
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے امی عائشہk سے آپﷺ کی جنابت کی حالت میں سونے کےمتعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا کہ آقاﷺ وضو کر کے آرام کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۲۸۶)
علماء فرماتے ہیں کہ جنابت اور ناپاکی کی حالت میں باوضو سونا مستحب ہے۔ اس کے بہت سارے فائدے ہیں:
(۱) یہ سنت ہے۔
(۲) اس طرح شیطان خبیث کا حملہ نہیں ہوتا۔ ورنہ ناپاکی کی حالت میں عموماً ڈراؤنے خواب شیطان دِکھاتا ہے اور انسان کو پریشان کرتا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل روایت کرتے ہیں جنابِ رسول اللﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص بھی ذکر کرتے ہوئے باوضو سوتا ہے اور رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھل جاتی ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی جس خیر کو بھی یہ مانگے گا، اسے دی جائے گی۔
(سنن ابی داؤد: رقم۵۰۴۲)
اکیلے سونے کی ممانعت
اگر کسی مقام پر انسان اکیلا ہو تو چاہیے کہ اکیلا نہ سوئے، بلکہ کسی کے پاس جاکر سوئے۔ اکیلے سونے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اکیلا نہ سونے کی کئی وجوہات ہیں:
۱۔ کبھی ڈر لگ سکتا ہے۔ ۲۔ کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے۔
۳۔ طبیعت خراب ہوسکتی ہے۔ کوئی دوسرا پاس نہیں ہوگا تو دیکھ بھال کیسے ہوگی؟
۴۔ اکیلے سونے سے کبھی کبھار انسان کو وحشت ہوجاتی ہے۔
۵۔ ایسی چھت پر نہ سویا جائے جس کی منڈیر نہ ہو، چاروں طرف دیواریں نہ ہوں۔
نبیd نے فرمایا: جو ایسی چھت پر رات گزارے جس کی منڈیر نہ ہو (چاروں طرف دیوار نہ ہو) تو اس کی کوئی جواب دہی نہیں۔ (سنن ابی داؤد: رقم ۵۰۴۱)
حفاظت کے اسباب کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ جو خود کو اپنے آپ ہلاکت میں ڈالتا ہے، اللہ کی حفاظت کا ذمہ اس سے ہٹ جاتا ہے۔ خطرے کی جگہ سونے سے اسی لیے منع کیا گیا ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب روایت فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
(۱) اگر کوئی بغیر چار دیوار والی چھت پر سو جائے اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری کسی پر نہیں۔ (وہ اپنی غلطی کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے کہ غلط جگہ سویا)
(۲) اگر کسی نے رات میں کچھ پھینکا (اور جواباً اس کی طرف بھی کچھ پھینک دیا گیا، جس سے یہ مرگیا) تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں۔
(۳) اگر دریا میں طوفان ہو اور کوئی اس وقت سفر کرلے (پھر ڈوب کر مرجائے) تو ایسے بندے کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں۔
(المطالب العالیۃ لابن حجر: باب النھي عن النّوم علی سطح لیس لہ حظیر)
یہاں سے معلوم ہوا کہ اپنی جان کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ اس طوفان والی بات سے One wheeling بھی کرنا حرام ہوگئی، One wheeling بھی گناہ ہے۔ جو نوجوان وَن ویلنگ کریں گے تو اس حدیث کے تحت وہ اللہ کی ذمہ داری سے باہر ہیں۔ یا جیسے موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانا یا گاڑی اتنی رفتار سے چلانا کہ گاڑی کنٹرول سے باہر ہوجائے تو یہ بھی شرعاً جائز نہیں۔ اگر موٹروَے ر ایک سو بیس رفتار کی اجازت ہے تو ایک سو بیس سے زیادہ نہ چلائیں۔ اگر کسی نے ایک سو ستّر پر گاڑی چلائی اور خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوگیا تو ساری ذمہ داری تیز رفتاری کرنے والے پر آئے گی۔ اللہ ربّ العزّت نے قانون بنائے ہیں اور نبیd نے ہمیں سمجھایا ہے، اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس لیے منڈیر کے بغیر چھت پر سونا، یا ایسی جگہ سونا خطرہ مول لینے کی بات ہے کہ رات انسان کو یاد نہ رہے اور کروٹ لیتے لیتے وہ نیچے ہی گرجائے۔ یا بعض لوگ نیند میں چلنے کے عادی ہوتے ہیں، نیند میں اُٹھ کر چلنے لگتے ہیں۔ اگر کوئی خطرے والی پر جگہ سوتے سوتے چلے گا تو اس کے لیے نقصان کا سبب ہوگا، اور اگر خدانخواستہ گرگیا تو کافی ہڈیاں بھی ٹوٹیں گی۔
بغیر ہاتھ دھوئے سونے کا نقصان
ایک حدیث میں حضرت ابو ہریر آقا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جو چکنائی وغیرہ سے آلودہ ہاتھ لے کر سوجائے اور اسے نہ دھوئے، پھر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے، تو اسے چاہیے کہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔ (سنن ترمذی: ۱۹۲۱)
مثلاً کھانا کھایا مگر ہاتھ نہیں دھوئے۔ جیسے ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ 9 بجے کھانا کھایا، پھر بارہ بجے تک فیس بک پر بیٹھے چیٹنگ کرتے رہے، پھر واٹس اَپ پر لگے رہے، پھر ایک بجے مثلاً بھوک لگتی ہے تو پھر آرڈر پر کچھ منگواتے ہیں مثلاً پیزا، شوارما وغیرہ۔ اب شوارما بستر پر حاضر ہوتا ہے اور آپ اسے بستر پر ہی کھالیتے ہیں اور ہاتھ نہیں دھوتے۔ ہاتھ میں مایونیز اور آئل لگاہوا ہے اور ایسے ہی سوگیا تو حدیث کے تحت بغیر ہاتھ دھوئے سونا نہیں چاہیے۔ گندے ہاتھ ہونے کی وجہ سے سوتے وقت کوئی نقصان پہنچ جائے تو حدیث کے مطابق اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔
کھانا کھا کر نفل نماز پڑھنا
کھانا کھانے کے بعد فوراً نہیں سونا چاہیے، نہ ہی دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگائے، اور نہ ہی فیس بک پر بیٹھنا چاہیے، بلکہ کھانا کھانے کے بعد نماز پڑھنی چاہیے۔
اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے کھانے کو ذکر اور نماز کے ذریعے ہضم کرو۔ کھانے کے فوراً بعد مت سونا اس طرح تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔ (التنویر شرح الجامع الصغیر: رقم ۹۰۱)
ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ تم کھانے کے بعد نماز پڑھو، یہاں تک کہ تمہاری خوراک ہضم ہوکر معدہ تک نہ چلی جائے۔ لہٰذا رات کے کھانے کے فوراً بعد سونا انسان کی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ کوشش کی جائے کہ کھانا کھانے اور رات کی نیند کے درمیان کم از کم پینتالیس منٹ کا وقفہ ہو۔ لیکن اب یہ پینتالیس منٹ گناہوں میں، یا فیس بک وغیرہ میں نہ گزارے جائیں۔
ممنوعہ اَوقات میں نہ سویا جائے
کچھ اوقات ایسے بھی ہیں جن میں سونا خلافِ شرع ہے۔ نبی نے ایسے اوقات میں سونے سے منع فرمایا ہے، اس لیے ان اَوقات میں نہ سویا جائے۔
مثلاً عصر کی نماز کے بعد سونا مکروہ ہے۔ مکحول تابعیmسے منقول ہے کہ وہ عصر کے بعد سونا ناپسند سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ سونے والے پر وساوس میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ: ۵؍۳۳۹)
امام احمد بن حنبل سے نقل کیا گیا ہے عصر کے بعد سونا مکروہ ہے اور صاحبِ نوم کی عقل کے جانے کا خوف ہے۔ (الآداب الشرعیۃ: ۳؍۱۵۹)
یعنی جو عصر کے بعد سوئے گا، اس کی عقل میں نقصان آسکتا ہے۔
علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ دن کے اوقات میں سونا برا ہے، اس سے بیماریاں ہوتی ہیں، رنگت پر اثر پڑتا ہے، پٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، سستی پیدا ہوتی ہے، فطری شہوت کمزور پڑتی ہے، مگر گرمی کے دنوں میں ظہر کے بعد سو سکتے ہیں۔ (زاد المعاد: ۴؍۲۱۹)
فجر کے بعد طلوعِ شمس کے وقت سونا پسندیدہ نہیں ہے۔ حضرت عروہ بن زبیرi کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت زبیر اپنے بیٹوں کو صبح (طلوعِ شمس) کے وقت سونے سے منع کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۵؍۲۲۲)
ابنِ قیم فرماتے ہیں کہ صبح کے وقت سونا رزق کو روک دیتا ہے۔ اللہ ربّ العزّت اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور بندے کمروں میں لیٹے میٹھی نیند سو رہے ہوتے ہیں، البتہ کوئی بیمار ہے تو ایک الگ بات ہے۔ (زاد المعاد)
حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: صبح کے وقت کا سونا روزی کو روک دیتا ہے۔
(تحفۃ الاحوذی بحوالہ مسند احمد: باب ما جاء في التبکیر بالتجارۃ)
ذرا ایک اور واقعہ دل کے کانوں سے سنیے! بی بی فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں صبح کے وقت سوئی ہوئی تھی۔ حضورِ پاکﷺ میرے پاس سے گزرے تو مجھے پیر سے حرکت دیتے ہوئے فرمایا: اے بیٹی! اپنے رب کی تقسیمِ رزق کے وقت جاگتی رہو، اور غافلین میں سے مت بنو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ طلوعِ فجر سے طلوعِ شمس کے درمیان رزق تقسیم فرماتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی بحوالہ سننِ بیہقی: باب ما جاء في التبکیر بالتجارۃ)
یعنی جب صبح فجر کی اَذان ہوتی ہے اور تہجد کا وقت ختم ہوجاتا ہے، تو فجر کی اَذان سے لے کرطلوعِ شمس Sunrise تک کا سونا، یہ انسان کے رزق کو کم کردیتا ہے۔ اب انسان اس وقت تو سوتا رہ جاتا ہے پھر شکوہ کرتا ہے کہ مجھے رزق نہیں ملتا۔
ابنِ ماجہ کی روایت میں ہے حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طلوعِ آفتاب سے قبل سونے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت صخر الغامدی نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! میری امت کے بکور (سویرے) میں برکت عطا فرما۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ جنابِ رسول اللہﷺ جب کبھی کوئی جماعت روانہ کرتے ہیں تو اسی وقت میں کرتے ہیں۔ یہ صحابی تاجر تھے، چناںچہ انہوں اپنا تجارتی قافلہ سویرے سویرے روانہ کیا تو بہت نفع کمایا اور بڑے مال دار ہوگئے۔ (سنن الترمذي: باب ما جاء في التبکیر بالتجارۃ)
لاہور کے ایک تاجر کا حال
لاہور میں آج بھی ایک صاحب ہیں۔ عجیب اُن کا معاملہ ہے۔ کاغذ کا کام کرتے ہیں۔ صبح آٹھ بجے سے پہلے ساری مارکیٹ بند ہوتی ہے اور وہ اس وقت اپنی Dilever ٹیم بنا کر اُن کو رخصت بھی کر دیتے ہیں کہ جب بارہ بجے دوکانیں  کھلیں گی تو ان کو مال دے آنا۔ میں نے دیکھا کہ ما شاء اللہ کہ اُن کا کاروبار بڑھتا ہی چلا گیا۔ وہ اپنا کام فجر کے بعد شروع کر دیتے ہیں۔ جنہیں مال دینا ہے اگرچہ وہ سو رہے ہوں۔ وہ صاحب خود کہتے ہیں کہ لوگوں کی دوکانوں کے دروازے کھلنے سے پہلے ہم اپنے سارے کام نمٹا چکے ہوتے ہیں۔
صبح کے وقت میں نبی نے برکت کی جو دعا مانگی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس وقت میں برکت رکھی ہے۔ اور ہم سب اس وقت سو کر برکتوں سے محروم ہو رہے ہوتے ہیں۔ حضراتِ صحابۂ کرام تو اپنے چھوٹے لڑکوں کی نگرانی کرتے تھے کہ کوئی طلوعِ آفتاب سے پہلے سو نہ جائے جیسا کہ حضرت زبیر کے حوالے سے عرض کیا۔ پھر جب سورج نکل آتا تو جو اجازت چاہتا آرام کے لیے تھکاوٹ کی وجہ سے تو اسے اجازت دے دیا کرتے تھے۔
رات کی عبادت
یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ وہ سستی کی وجہ سے نہیں سویا کرتے تھے۔ ان کا سونا تو اس وجہ سے تھا کہ رات لمبی لمبی نمازیں پڑھتے تھے، دعائیں کرتے تھے۔ آج کے زمانے کی طرح رات کی فرصت کو ضائع نہیں کرتے تھے، بلکہ ان لمحات کو غنیمت سمجھ کر اپنے رب سے راز ونیاز میں لگ جاتے تھے۔
جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے
حضرت عبداللہ بن عباس نے اپنے ایک بیٹے کو دیکھا جو نمازِ صبح پڑھنے کے بعد سو گیا تھا، یعنی فجر کی نماز پڑھی اور ابھی سورج نہیں نکلا اور وہ سوگیا۔ حضرت ابنِ عباس نے اس سے فرمایا: اٹھو! کیا تم ایسے وقت میں سو رہے ہو جو رزق کے تقسیم کیے جانے کا وقت ہے؟ (زاد المعاد)
اب معلوم ہوا کہ جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے۔ کھوتے کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو جو پنجابی میں ہے جس کا معنی ہے گدھا۔ اور دوسرا وہ جو اُردو میں مستعمل ہے یعنی وہ نقصان اُٹھاتا ہے۔ بہرحال دونوں معاملوں میں یہ بات فٹ ہے کہ جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے۔
ایک سخت وعید
اور یہ جو صبح تک سوتے رہتے ہیں، یہ نوجوان خاص طور پر سنیں!
حضرت ابنِ مسعود سے مروی ہے کہ آپﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا جو صبح تک سوتا رہتا تھا اور نماز نہیں پڑھتا تھا۔ آپﷺ نے اس کے متعلق فرمایا کہ اس کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا۔ (صحیح بخاری: رقم ۱۰۹۳)
یعنی شیطان آتا ہے اور آکر سونے والے کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے۔ اب وہ حضرات جو فجر کی نماز قضا کرنے کے عادی ہیں تو ان کا سارا دن بوجھل گزرتا ہے۔ لوگ خود آکر بتاتے ہیں کہ حضرت! جس دن ہم فجر کی نماز پڑھتے ہیں، صبح مراقبہ کرتے ہیں، سارا دن Fresh رہتے ہیں۔ اتنے کام کاج کے باوجود طبیعت بالکل ہشاش بشاش رہتی ہے۔ اور جس دن فجر کی نماز قضا ہوجائے، بس سارا دن بوجھل رہتا ہے۔ شیطان کا تو کھانا پینا بھی حدیث شریف سے ثابت ہے کہ جب انسان کھائے اور بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا ساتھی کھانے میں شیطان بن جاتا ہے۔ اب اُس نے جو کھایا ہے وہ نکالے گا تو سہی۔ شیطان کے پیشاب کے اَثرات یہ ہوتے ہیں کہ یہ انسان کے اندر باطل اشیاء کو بڑھا دیتا ہے، پھر وہ دن بھر ذکرِ خداوندی سے غافل رہتا ہے۔ اس بندے کو پھرنا محرموں سے باتیں کرنے میں بڑا مزا آتا ہے، لیکن اللہ کا کلام سننے میں مزا نہیں آتا۔
آج کل لوگوں کا صبح سونا معمول بن گیا ہے۔ جوان کیا، بوڑھے کیا، پورا پورا گھر صبح کے وقت سوتا رہتا ہے۔ کوئی ایک نماز کا پابند ہو تو سبحان اللہ! ورنہ سارا سارا گھر سویا رہتا ہے۔ اس وقت سونے سے اور نماز قضا کرنے سے ایک نقصان تو یہ کہ کبیرہ گناہ ہوگیا، دوسرا نقصان قیامت کے دن جو تکلیف ہوگی وہ الگ۔ تیسرا نقصان دیر تک سونے سے جو رزق میں تنگی ہوتی ہے، اس کی پریشانی الگ اُٹھانی پڑتی ہے۔ تو صبح تک سونا معیشت پر تنگی اور خسارے کا سبب ہے۔ مسلمان گھرانے کی شان تو یہ ہے کہ صبح کو سب اُٹھے ہوئے ہوں اور سب لوگ اللہ کے کلام اور قرآن پڑھنے میں مشغول ہوں۔ اور گھروں سے تلاوتِ قرآن پاک کی آواز گونج رہی ہو، مگر آج صبح اُٹھنے کے بعد سب سے پہلےWhatsapp کھولتے ہیں، یا صبح کی نشریات دیکھنے کے لیے ٹی وی دیکھتے ہیں۔ ایسے اعمال سے گھروں کے اندر بے برکتی ضرور آئے گی۔
حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سلیمان کی والدہ نے حضرت سلیمان سے فرمایا تھا: اے بیٹے! رات کو اتنا زیادہ مت سویا کرو، اس لیے کہ رات کو زیادہ سونے والے کو قیامت کے دن فقیر بنا دیا جائے گا۔ (سنن ابنِ ماجہ: ۱۳۳۲)
مطلب یہ کہ انسان ساری رات نہ سویا رہے، اس میں کچھ وقت ذکر اور مراقبے کے لیے بھی نکالے۔
معمولات پورے کرنے کا بہترین وقت
بہت سارے دوست پوچھتے ہیں کہ حضرت! معمولات کے پورا کرنے کا بہترین وقت کیا ہے؟ اس میں دو باتیں ہیں: ایک تو یہ کہ جو وقت مل جائے آسانی سے وہ بہترین ہے۔ معمولات کو کبھی نہ چھوڑیں۔ اوقات کے اعتبار سے بہترین وقت یہ ہے کہ فجر کی اَذان سے آدھا یا پون گھنٹہ پہلے آدمی اُٹھ جائے، تہجد پڑھ لے، دعا مانگ لے اور فجر کی نماز تک اپنے معمولات کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔ اگر انسان سفر پر ہو تو اس کی Candition اور ہوتی ہے۔ لیکن جب انسان اپنے مقام پر ہے اور سہولت موجود ہے، اب اسے چاہیے کہ فجر سے آدھا، پون گھنٹہ پہلے اُٹھ جائے۔ تہجد کے وقت اللہ پاک بندوں سے فرماتے ہیں کہ اے بندو! تم مجھ سے مانگو! میں تمہیں عطا کروں گا۔ یہ One Window Operation کی مانند ہوتا ہے۔ صبح کے وقت 10 جگہ دروازے کھٹکٹھانے سے بہتر ہے کہ انسان تہجد کے وقت اُٹھ کر اللہ سے مانگے۔ اللہ کی طرف سے آوازیں لگ رہی ہوتی ہیں:
ھَلْ مِنْ سَائِلٍ یُعْطٰی؟ (صحیح مسلم: 758)
’’ہے کوئی مانگنے والا کہ جسے عطا کیا جائے؟‘‘
اس وقت تو کوئی لینے والا نہیں ہوتا، پھر سارا دن رزق کی پریشانیوں کو روتے رہتے ہیں۔ میرے بھائیو! تہجد کی پابندی اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ سے مانگنا سیکھ لو، مانگ کے دیکھیں تو سہی، کیسی برکتیں آپ کو ملتی ہیں۔ اگر یہ ڈالڈا والے اعلان کر دیں کہ فجر سے آدھا گھنٹہ پہلے پانچ کلو کا ڈبہ 200 روپے سستا ملے گا، تو سارے اس وقت جاگ کر لائن بنا کر کھڑے ہوںگے۔ اور اللہ ربّ العزّت کی طرف سے تو روز اعلان ہوتا ہے کہ اے میرے بندو! تہجد کے وقت مجھے منالو، میں مان جاؤں گا۔ مجھ سے معافی مانگو میں معاف کردوں گا، مجھ سے دعا مانگو میں رزق دوں گا۔
بہر حال معلوم ہوا کہ عصر کے بعد سونا بھی مکروہ ہے اور طلوعِ شمس سے پہلے سونا بھی مکروہ ہے۔ یہ آرام رزق میں بے برکتی اور نحوست کو لے آتا ہے۔ نمازِ عصر کے بعد سونا عقل کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ اس کے علاوہ نماز مغرب کے بعد بھی سونا منع ہے۔
حضرت ابو برزہ سے روایت ہے کہ آپﷺ عشاء سے قبل سونے کو اور عشاء کے بعد (بغیر ضرورت کی) گفتگو کو ناپسند کرتے تھے۔ (متفق علیہ)
مغرب کے بعد عشاء کا وقت قریب ہی ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی سو جاتا ہے تو اس کی عشاء کی جماعت نکل جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر وہ تھکا ہوا ہے، کام کا غلبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے، یا سفر پر ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے تو ہو سکتا ہے کہ پوری نماز ہی قضا ہو جائے۔ البتہ اگر کوئی بہت ہی زیادہ تھکا ہارا ہے تو کسی کی ڈیوٹی لگا دے کہ مجھے عشاء کی جماعت کے وقت اُٹھا دے کہیں میری جماعت یا نماز فوت نہ ہو۔
چناںچہ حضرت عبداللہ بن عمر اگر عشاء کے قبل سستانا چاہتے تو کسی کی ڈیوٹی لگا دیتے کہ مجھے عشاء سے قبل اُٹھادینا۔ (فتح الباری لابن رجب: ۴؍۳۹۲)
اور نماز عشاء پڑھنے کے بعد آپﷺ کا عمل کیا تھا؟
ایک روایت میں یہ آتا ہے کہ آپ شروع رات میں آرام فرماتے اور آخر رات میں اُٹھ جاتے تھے۔ اور مسند احمد کی روایت میں ہے حضرت عبداللہ بنِ ع فرماتے ہیں کہ عشاء کے بعد آپﷺ گفتگو اور بات چیت کو ناپسند فرماتے تھے۔
نعوذباللہ! آج کل تو نوجوانوں کی ساری ساری رات Lover کے ساتھ ہوتی ہے۔ آج کا ہمارا Media ہمیں ایک ہی تعلیم دیتا ہے کہ کرو بات ساری رات۔ اور حضورِ پاکﷺ کو رات کو بات کرنا پسند نہیں تھا۔ یہ نامحرم لڑکے اور لڑکیاں محبت میں ایک دوسرے کو اشعار سناتے ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ جو کام ہمارے نبیﷺ کو پسند نہیں تھا، آج ہم ان کی امت میں سے ہو کر کیا کر رہے ہیں؟ ذرا غور سے سنیے!
حضرت عمر فاروق کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ جب وہ لوگوں کو دیکھتے کہ عشاء کے بعد جاگے ہوئے ہیں تو وہ ناراض ہوتے اور فرماتے تھے کہ اب اگر تم باتوں میں لگ جاؤ گے تو اخیر رات میں سوئے رہ جاؤ گے۔ تہجد بھی رہ سکتی ہے، اور ہوسکتا ہے کہ تم سے فرض نماز فجر بھی رہ جائے۔ (شرح معانی الآثار للطحاوی: ۴۷۸۴)
کتنے ساتھی ہیں جو بتاتے ہیں کہ حضرت! صبح فجر کے لیے آنکھ ہی نہیں کھلتی، بڑی کوشش کرتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ رات دو بجے بھی سوئیں اور صبح فجر کے وقت کوئی فرشتہ بھی آجائے جو اُن کو نماز کے لیے اُٹھا دے، بستر پر وضو بھی کروادے، اور وہ ان کو نماز بھی پڑھوا کر جنت بھی پہنچا دے۔ بھئی! صبح جلدی اُٹھنے کے لیے رات کو جلدی سونا پڑے گا۔ جب رات کو جلدی سونے کی عادت بنائیں گے تو تہجد کی نماز پڑھنا خود بخود آسان ہوجائے گی۔ عشاء کے بعد سونے کی تاکید اسی لیے ہے کہ بندے کی تہجد کی عادت بن جائے۔ بندہ دیر سے سوئے گا تو دیر سے اُٹھے گا، شیطان یہ چاہتا ہے کہ انسان کا قیمتی وقت غفلت میں گزر جائے، موبائل میں گزر جائے، انٹرنیٹ اور Social Media پر گزر جائے اور انسان تہجد کی لذّت سے محروم ہوجائے۔ صبح کے معمولات سے محروم ہوجائے، حتی کہ فجر کی نماز سے بھی محروم ہو جائے۔ آج کتنے نوجوان ایسے ہیں جو صبح 1,12,11 بجے تک سوئے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ نبی عام طور سے عشاء کے فوراً بعد سوجاتے، ہاں! کبھی ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کے بعد عبادت میں لگ جاتے یا مسلمانوں کا اجتماعی حیثیت کا مسئلہ ہوتا تو اس میں مشورہ فرماتے اور بعد میں آرام فرمالیتے۔
یہ ہمارے مشائخ کا طریقہ رہا ہے کہ جلد سوجاتے تھے کہ ٹائم پر آنکھ کھلے۔ پھر حاجت سے فارغ ہوکر عبادت وغیرہ میں لگ جایا کرتے تھے اور نیند بھی کنٹرول میں رہتی تھی۔
خرافہ کا واقعہ
امی عائشہ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی کریمﷺ نے عشاء کے بعد ازواجِ مطہرات کو ایک قصہ سنایا۔ ایک نے حیرت اور تعجب سے کہا کہ یہ تو بالکل خرافہ کے قصوں جیسا ہے۔ نبی نے فرمایا: کیا تم جانتی ہو، خرافہ کون تھا؟ یہ قبیلہ عذرہ کا ایک شخص تھا۔ جنات اسے پکڑ کرلے گئے اور ایک عرصہ تک اسے اپنے پاس رکھا پھر چھوڑ دیا۔ پھر وہ لوگوں سے جنات کی عجیب عجیب باتیں بیان کیا کرتا تھا، تو لوگوں نے ایسے قصوں کو خرافہ کے قصے کہنے لگ گئے۔ (مسند احمد: ۶؍۱۵۷)
اس سےمعلوم ہوا کہ نبی بیوی بچوں کو قصہ سنایا کرتے تھے۔ بیوی بچوں سے گفتگو کرنا، ان سے خوش طبعی کرنا یہ مسنون ہے، مگر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہنا منع ہے اور مکروہ ہے۔ آج کل لوگ کاروبار سے واپس آکر Tv، موبائل وغیرہ پر لگ جاتے ہیں۔ ہمارے حضرت جی دامت برکاتہم فرماتے ہیں: گھر کے باہر مرد حضرات گلاب کا پھول ہوتے ہیں، اور گھر آکر کریلے نیم چڑھے ہوجاتے ہیں۔ حضرت جی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ٹی وی نے ہمارے ایمان کی ٹی بی کر دی ہے۔
آج کل ایمان کی حفاظت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں