113

سیرت نبی قصہ – دین نہیں چھوڑوں گا

حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں:
جب میں یمن میں اپنی خریداری اور تجارتی کام کر چکا تو رخصت ہونے کے وقت اس آسمانی کتابوں کے عالم پاس آیا ۔ اس وقت اس عالم نے مجھ سے کہا :
میری طرف سے چند شعر سن لو جو میں نے اس نبی کی شان میں کہے ہیں ۔
اس پر میں نے کہا:
اچھی بات ہے ، سناؤ‘‘
تب اس نے مجھے وہ شعر سنائے ، اس کے بعد جب میں مکہ معظمہ پہنچا تونبی صلی الله علیہ وسلم اپنی نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔ فورا ہی میرے پاس قریش کے بڑے بڑے سردارآئے۔ ان میں زیادہ اہم عقبہ بن ابی معیط ، شیبہ اور ربیعہ، اور ابو جہل تھے۔ ان
لوگوں نے مجھ سے کہا:
”اے ابو بکر! ابوطالب کے یتیم نے دعوی کیا ہے کہ وہ نبی ہیں ۔ اگر آپ کا انتظار نہ ہوتا تو ہم اس وقت تک صبر نہ کرتے۔ اب جب کہ آپ آ گئے ہیں، ان سے نپٹنا آپ ہی کام ہے-
اور یہ بات انہوں نے اس لیے کہی تھی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ نبی کریم ﷺ کے قریبی دوست تھے
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےاچھے انداز سے ان لوگوں کو ٹال دیا اور خود آپ کے گھر پہنچ کر دروازے پر دستک دی۔
آپ باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھ کر آپ نے ارشادفرمایا:
“اے ابو بکر میں تمہاری اور تمام انسانوں کی طرف الله کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں،
اس لیے الله تعالی پر ایمان لے آو
آپ کی بات سن کر میں نے کہا:
آپ کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے۔
آپ نے میری بات سن کر ارشاد فرمایا:
اس بوڑھے کے وہ شعر جو اس نے آپ کو سنائے تھے ۔
یہ سن کر میں حیران رہ گیا اور بولا :
میرے دوست! آپ کو ان کے بارے میں کس نے بتایا؟
آپ نے ارشادفرمایا:

اس عظیم فرشتے نے جو مجھ سے پہلے بھی تمام نبیوں کے پاس آتارہا ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

اپناہاتھ لائیے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘
آپ میرے ایمان لانے پر بہت خوش ہوئے ، مجھے سینے سے لگایا۔ پھر کلمہ پڑھ کر میںآپ کے پاس سے واپس آ گیا۔
مسلمان ہونے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ تھا اسلام کی تبلیغ ۔ انہوں نے اپنے جاننے والوں کو اسلام کا پیغام دیا۔ انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا، چنانچہ ان کی تبلیغ کے نتیجے میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسلمان
ہوئے۔ حضرت عثمان رضی الله عنہ کے مسلمان ہونے کی خبر ان کے چچا کو ہوئی جس کا نام :حکم: تھا تو اس نے
انہیں پکڑ لیا اور کہا
تو اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر محمد کا دین قبول کرتا ہے اللہ کی قسم میں تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تو اس دین کو نہیں چھوڑے گا

اس کی بات سن کر حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ نے فرمایا:
اللہ کی قسم میں اس دین کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
ان کے چچا نے جب ان کی پختگی اور ثابت قدمی دیکھی تو انہیں دھوئیں میں کھڑا کر کے
تکالیف پہنچائیں۔ حضرت عثمان رضی الله عنه ثابت قدم رہے۔ حضرت عثمان رضی الله عنه
کی فضیلت میں ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا “جنت میں ہرنبی کا ایک رفیق یعنی ساتھی ہوتا ہے اور میرے ساتھی وہاں عثمان ابن عفان ہوں گے

حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے اسلام کی بات اور تبلیغ جاری رکھی۔ آپ کی کوششوں سے حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہوگئے ۔ اس
وقت ان کی عمرآٹھ سال تھی۔ اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے مسلمان ہوئے۔ جاہلیت کے زمانے میں ان کا نام
عبدالکعبہ تھا، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے آپ کا نام عبدالرحمن رکھا۔ عبد الرحمن بن عوف
رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
امیہ بن خلف میرا دوست تھا، ایک روز اس نے مجھ سے کہا تم نے اس نام کو چھوڑ دیا
تمہارے باپ نے رکھا تھا۔
جواب میں میں نے کہا:
”ہاں! چھوڑ دیا۔“
یہ سن کر وہ بولا:
میں رحمن کو تو نہیں جانتا اس لیے میں تمھارا نام عبد الالہ رکھتا ہوں-

چنانچہ مشرک اس روز سے بن عبد الہ کہہ کر پکارنے لگے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کا واقعہ اس طرح بیان
کرتے ہیں
میں اکثر یمن جایا کرتا تھا۔ جب بھی وہاں جاتاعسکلان بن عواکف کے
امکان پر ٹھہرا کرتا تھا اور جب بھی میں اس کے ہاں جاتا، وہ مجھ سے پو پھا کرتا تھا ، کیا وہ شخص تم میں ظاہر ہو گیا ہے
جس کی شہرت اور چرچے ہیں، کیا تمہارے دین کے معاملے میں کسی نے مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ میں ہمیشہ یہی کرتا تھا کہ نہیں ، ایسا کوئی شخص ظاہر نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ وہ سال آ گیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔
میں اس سال یمن گیا تو اس کے ہاں ٹھہرا۔ اس نے یہی سوال پوچھا تب میں نے اسے بتایا:
ہاں! ان کا ظہور ہوگیا ہے۔ ان کی مخالفت بھی ہورہی ہے ۔“
حضرت عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
تم زمین والوں میں بھی امانت دار ہو اور آسمان والوں میں بھی ۔‘‘
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے کوئی ہچکچاہٹ
کا مظاہرہ نہیں کیا اور فورا حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس چلے آئے ، آپ سے آپ کے
پیغام کے بارے میں پوچھا
۔ آپ نے انہیں بتایا تو یہ اسی وقت مسلمان ہو گئے۔ اس وقت
ان کی عمر 19 سال تھی۔ یہ بنی زہرہ کے خاندان سے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ
ماجدہ سیدہ آمنہ بھی اسی خاندان سے تھیں ۔ اسی لیے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حضورصلی الله علیہ وسلم کے ماموں کہلاتے تھے۔ آپ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی
اله عنہ کے لیے ایک بار فرمایا:
یہ میرے ماموں ہیں ، ہے کوئی ایسا جس کے ایسے ماموں ہوں ۔‘‘
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے اور ان کی والدہ کو ان کے مسلمان ہونے کا پتہ چلا تو انہیں یہ بات بہت ناگوار گزری-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں