شریعت میں پسندیدہ لباس

شریعت میں پسندیدہ لباس

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِo بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ o
يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ١ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ١ؕ ( الاعراف: 26)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo۔ وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

لباس کا مقصد:
لباس کے بارے میں تین بنیادی باتیں ہیں، جو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ذکر کی ہیں:
(1) ستر کو چھپانا
(2) زینت
(3) تقویٰ اصل لباس ہے۔
لباس التقوٰی کیا ہے؟
اب لباس التقوٰی کیا ہے؟ اس میں علماء کے بہت سارے اقوال ہیں۔ کسی نے کہا کہ ایمان ہے۔ کسی نے کہا کہ تقوی ہے۔ حسن بصری نے فرمایا کہ حیاہے۔ بہرحال حیا ہوگی تو تقویٰ بھی ہوگااور سارا کچھ ہوگا، اور حیا اور ایمان ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ تو لِبَاسُ التَّقْوَیٰ سے مراد حیا ہے۔ اور کسی مفسر نے یہ بھی فرمایا کہ متقی آدمی کی زینت پاکدامنی کے ساتھ ہے، تو اصل لباس تو حیا کا ہے جس نے حیا کی چادر اوڑھ لی، حیا کا لباس پہن لیا اس کے عیب کوئی نہیں دیکھ سکتا، اس کو زینت ہی زینت مل کےرہے گی۔
نبی کی ناراضگی:
اب لباس والا معاملہ چونکہ بہت نازک ہے تو اس کو مختلف انداز سے سمجھنا بھی ہے کہ ہمارا لباس کیسا ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ اس کے بارے میں کچھ باتیں اور بھی نبی نے بتائیں تو ان باتوں کو دیکھیں۔ آقا کی ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
لَیْسَ مِنَّا مَنْ عَمِلَ بِسُنَّۃِ غَیْرِنَا. (صحیح الجامع: 5439)
’’غیروں کے طریقے پر عمل کرنے والا ہم میں سے نہیںــ‘‘۔
محدثین نے َفَلَیْسَ مِنَّا کا جو مطلب لکھا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے طریقہ پر نہیں اور ہماری اتباع کا خیال کرنے والوں میں سے نہیں۔ 
مشابہت والوں کے ساتھ حشر:
ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابن عمر سے روایت ہے اور سنن ابوداؤد میں کتاب اللباس کے اندر یہ حدیث ہےکہ آقا نے فرمایا:
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْہُمْ. (ابو داؤد:کتاب اللباس)
’’ جوشخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ اُن ہی میں سے ہوتا ہے۔‘‘
اس کا کیا مطلب؟
جو شخص کفار اور فاسق وفاجر لوگوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ اُن میں سے ہوتا ہے، یعنی ان کے گناہوں میں برابر کا شریک ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص اولیاء کی، صلحاء کی اور نیک لوگوں کی مشابہت کرتا ہے تو وہ اجر میں اُن کی طرح ہوجاتا ہے۔
حضورﷺ کا کفار کی مشابہت سے منع فرمانا:
اگر نبی کریمﷺ کی زندگی کو بغور دیکھا جائے تو بہت سارے ایسے معاملات ہیں جس میں آقا نے خود منع فرمایا کہ دیکھو! کفار کی مشابہت نہ کرنا۔
اسی بات کو پڑھیے، سمجھیے اور غور کیجیے کھلے دل کے ساتھ، وسعت قلبی کے ساتھ۔ نبینے یہود کی مخالفت کا حکم دیا، نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا۔ اب اس کو مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔
پہلی مثال:
آپﷺ نے فرمایا کہ داڑھی کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو کٹواؤ تاکہ اُن سے مشابہت نہ ہو۔
دوسری مثال:
مدینہ طیبہ میں یہودی 10محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ پوچھا گیا کہ تم یہ روزہ کیوں رکھتے ہو؟ تو کہا کہ موسیٰd کو فرعون سے اسی دن نجات ملی تھی اس لیے شکرانہ کے طور پر رکھتے ہیں۔ نبی نے فرمایا کہ یہ ہمارے لیے تم سے زیادہ بہتر ہے۔ (مفہوم عرض کررہا ہوں) لیکن صحابہ کو کیا کہا کہ دیکھو10 کا تو رکھنا روزہ مگر ساتھ میں یا تو9 کو جوڑنا یا 11 کو جوڑلینا تاکہ ان یہودیوں سے مشابہت نہ ہو۔
تیسری مثال:
اسی طرح انسان روزہ رکھتا ہے تو آقانے مسلمانوں کو حکم دیا کہ دیکھو! تم سحری کھایا کرو کیونکہ بعض اہلِ کتاب ایسے ہیں جو روزہ تو رکھتے ہیں مگر سحری نہیں کھاتے، تو تم سحری کھاؤ تاکہ یہود سے مخالفت ہوجائے۔ اور افطاری میں جلدی کرنا جیسے ہی ٹائم پورا ہوجائے تو اس کے بعد جلدی کرنا دیر نہ کرنا تا کہ مشرکین سے مشابہت نہ ہوجائے۔ اذان کا ٹائم ہوگیا وقت داخل ہوگیا، اطمینان ہوگیا کہ وقت داخل ہوگیا ہےتو اب افطاری کرنے میں تاخیر نہ کرو کہ افطاری میں تاخیر کرنا مشرکین سے مشابہت ہے۔
چوتھی مثال:
اسی طرح طلوعِ آفتاب کے وقت، زوال کے وقت اور غروبِ آفتاب کے وقت عبادت کو منع فرمایا گیا۔ بھئی! اللہ تو اللہ ہے، بندہ بندہ ہی ہے، ان تین اوقات میں بھی ان کے علاوہ بھی لیکن کہا کہ اس وقت بعض قومیں سورج کی عبادت کرتی ہیں تو ایسا نہ ہوکہ اُن کے ساتھ مشابہت ہوجائے۔ اب انسان کا دل تو نہیں کررہا وہ تو اللہ کی عبادت کررہا ہے، اللہ کو سجدہ کررہا ہے، وہ سورج کو تو نہیں کررہا لیکن مشابہتِ ظاہری سے بھی آقا نے منع فرمایا۔
ان تمام باتوں کا حاصل کلام یہ نکلا کہ جب عبادات سےمنع فرمایا تو کیا لباس میں کوئی احکامات نہیں ہوں گے؟ضرور ہیں اور ہمیں اختیار کرنے چاہیئیں۔
تشبہ کی وضاحت:
ایک لفظ ہے ’’تشبہ‘‘ یہ کیا ہوتا ہے؟فرمایا کہ
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْہُمْ. (ابو داؤد: کتاب اللباس)
یعنی جو شخص جس قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا وہ قیامت کے دن ان ہی میں سے ہوگا۔
ان باتوں کو ذرا دل کے کانوں سے سن لیجیے اور سمجھ لیجیے! ’’تشبہ‘‘ کے بارے میں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ کب پیدا ہوتی ہے، کیسے پیدا ہوتی ہے اور کب جائز ہوتی ہے اور کب ناجائز ہوتی ہے۔ پہلی بات تو یہ اصولی ہے، غور کریں! کسی ایسے کام میں غیر قوم کی، کافر قوم کی نقالی کرنا جو بذاتِ خود برا کام ہےاور شریعت کے اصول کے خلاف بھی ہے تو ایسے کام میں نقالی کرنا منع ہے، حرام ہے۔ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں جیسے بعض لوگ دیوالی مناتے ہیں تو اس میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہذا ایسا کام غیروں کا جو ہی شریعت سے ٹکراتا ہو تو اس میں نقالی کرنا حرام ہے۔ لیکن بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو خود تو برے نہیں ہوتے، شریعت سے ٹکراتے بھی نہیں اور اچھے بھی ہوتے ہیں لیکن یہ آدمی اس لیے کررہا ہے کہ میں اُن جیسا نظرآؤں دیکھنے میں، میں کافروں جیسا لگوں مثلاً  فاحشہ عورت جیسا لباس پہنتی ہے میں بھی ویسی لگوں۔ اب یہ نیت اس جائز کام کو بھی ناجائز کردیتی ہے۔
نیت صحیح رکھنے کی تفصیل:
نیتوں کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ قیامت والے دن سب سے پہلے جہنم کے اندر کون جائے گا؟ حدیث میں آتا ہے کہ عالم، شہید اور سخی جائے گاکیوں کہ نیت ان کی ٹھیک نہیں تھی کہ اتنے بڑے بڑے اعمال بری نیت کی وجہ سے برباد کردیے۔ اب یہ نیت جائز کام کو بھی خراب کردیتی ہے تو معلوم یہ ہوا کہ اعمال میں نیتوں کا بڑا دخل ہے۔ کہیں دو آدمیوں میں لڑائی ہورہی ہو جیسے میاں بیوی ہیں، کسی آدمی نے اُن میں صلح کروانے کے لیے محبت پیدا کرنے کے لیے جھوٹ بول کر اُن کے معاملہ کو نبھادیا، تو اب اس کو اس کے جھوٹ پر بھی ثواب ملے گا، اس لیے کہ وَالصُّلْحُ خَیْرٌ (صلح بہتر ہے) بولا جھوٹ ہے لیکن دو آدمیوں کے جوڑ کا سبب بنا۔ ایک نے جہاد کیا ، کسی نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کی اور کسی نے لوگوں کو دین پڑھایا، لیکن دل میں بات یہ تھی کہ مجھے پہچانا جائے تو نیک اعمال سے رہ گیا۔ اسی لیے فرمایا کہ نیتوں پر بڑا دارومدار ہے۔
اِنَّمَاالْاَعَمَالُ بِالنِّیَاتِ (رواہ البخاری ومسلم)
’’اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے‘‘۔
مباح عمل میں غلط نیت:
پہلی بات یہ تھی کہ کسی کام میں کسی ایسی قوم کی نقالی کرنا جو بذاتِ خود حرام ہو اور شریعت کے حساب سے بھی حرام ہو تو اس کے حرام ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے۔ یہ بات ختم ہوگئی یہ تو سب کو آسانی سے سمجھ میں آتی ہے۔ اصل مسئلہ دوسری جگہ ہے وہ یہ کہ ایک کام خود تو برا تو نہیں، اپنی ذات کے لحاظ سے تو اچھا ہے، لیکن وہ کرنے والا مرد یا عورت اس لیے کررہے ہیں کہ میں اُن کافروں جیسا نظر آؤں یہ نیت اس کو حرام کردیتی ہے۔
تشبہ اور مشابہت میں فرق:
تشبہ اور مشابہت دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔
تشبہ کے معنی ہیں کہ آدمی ارادہ کرکے نقالی کرے، اور ارادہ کرکے اُن جیسا بننے کی کوشش کرکے یہ تشبہ ہے۔اور حدیث شریف بیان ہوئی:
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْہُمْ (ابو داؤد: کتاب اللباس)
انسان ارادۃً کوئی کام کافروں جیسا کرے، غیروں جیسا کرے تو ارادہ شامل ہوگیا، تو اب معاملہ بدل گیا کہ اس کا ارادہ ہی ایسا ہے کہ میں نے نبی، صحابہ کرام کے پیچھے نہیں چلنا، بلکہ میں نے تو اللہ کے نبیﷺ کے دشمنوں جیسےلباس پہننے ہیں اُن فاحشہ عورتوں جیسے لباس پہننے ہیں، یعنی کہ نیت بدل گئی، نسبت بدل گئی یہ بات ناجائز ہے۔
مشابہت کسے کہتے ہیں؟
اور ایک چیز ہوتی ہے ’’مشابہت‘‘۔ یہ کیا چیز ہوتی ہے کہ ان جیسے بننے کا ارادہ نہیں تھا، دل میں یہ نیت نہیں تھی کہ میں کافروں جیسی نظر آؤں یا کافروں جیسا نظر آؤں، فلاں ایکٹر جیسا نظر آؤں۔ دل میں ایسا ارادہ نہیں ہے لیکن عمل کے ساتھ مشابہت از خود ہوگئی۔ یہ جو خود بہ خود مشابہت پیدا ہوجائے یہ حرام تو نہیں لیکن حضورِ پاکﷺ نے بلا ضرورت مشابہت پیدا ہونے سے بچنے کی تاکید فرمائی کہ اسلام کی ایک غیرت ہے، ایک تشخص ہے، ایک معیار ہےلہذا اس کو باقی رکھا جائے۔ امید ہے کہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین
مشابہت بالکفّار سے بچنا کیوں ضروری ہے؟
غیر مسلموں سے مشابہت سے ہم کیوں بچیں؟ اس کو ذرا سمجھیں اسلام نے ایسا لباس پہننے سے منع کیا کہ جس کو پہننے سے انسان کسی غیر مسلم قوم کا فرد نظر آئے۔ اب اسکول ہیں اور ہر اسکول کی ایک الگ الگ یونیفارم ہوتی ہے۔ اگر بچہ کسی دوسرے اسکول کی اگرچہ وہ اس سے معیاری بھی ہو، یونیفارم پہن کر آجائے تو اسکول والے کہیں گے کہ جناب! آپ اپنا بچہ لے جائیں یہ یہاں داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی پاکستانی فوجی کسی دشمن ملک کا لباس پہن کر آجائے اور کہے کہ بھائی! میں بڑا پکا پاکستانی ہوں، تو وہ کہیں گے کہ نہیں بلکہ تو بظاہر بڑا دشمن نظر آرہا ہے۔ کوئی بھی اس کو قبول نہیں کرتا۔ اگر ہمارے فوجی اداروں کو اسکول کالجوں کو قانونی اداروں کو اور اب تو ہوٹلوں کے اندر بھی یہ ہوگیا ہے کہ اس ہوٹل کے اندر آنا ہے تو یہ لباس Allow ہے اور یہ ڈریس Allow نہیں۔ اگر ان چھوٹے چھوٹے اداروں کو یہ حق ہے کہ اپنی حدود میں آنے سے پہلے، اپنے علاقہ میں آنے سے پہلے یہ Candition رکھ دیں کہ ایسے ایسے آنا ہے، تو مجھے بتائیے کہ اللہ رب العزت کو یہ حق نہیںتھا کہ وہ اپنے بندوں کو کہتے کہ تم میرے نظر آؤ، میرے حبیبﷺ جیسے لگو مجھے وہ پیارے ہیں تم بھی ان جیسے بن جاؤ تم بھی مجھے پیارے لگو گے۔
تو اللہ تعالیٰ کو بھی یہ بات پسند ہے کہ جو نبی جیسا نظرآئے اللہ کو اس سے محبت ہوجائے گی۔
اللہ تعالیٰ کی غیرت:
یاد رکھیں! جو دنیا میں اللہ کے دوستوں میں شامل ہونے کی کوشش کرے گا، قیامت کے دن اللہ اس کو اپنے دشمنوں کی قطار میں کھڑا نہیں کریں گے۔
اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ. (متفق علیہ)
’’دنیا میں جس کو جس کے ساتھ محبت ہوگی، اللہ قیامت کے دن اُس کو اُسی کے ساتھ کھڑا کردیں گے‘‘۔
بچیوں کا پینٹ پہننا:
اب ذرا ایک بہت نازک بات ہے۔ نازک مسئلہ چھیڑنا تو نہیں چاہیے لیکن لباس سے متعلق ہے اور اسی کے بارے میں بات چل رہی ہے تو اس لیے بات واضح کردینا بھی ضروری ہے۔ آج کل پینٹ کا رواج چل رہا ہے۔ بہت سے لوگ پینٹ پہنتے ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیلات سُن لیں! سمجھ لیجیے کہ عورتوں کے لیے تو پہننا کسی صورت بھی جائز نہیں، بلکہ مجھے ذاتی طور پر عورتوں کے لیے Traousers سے بھی نفرت ہے ۔
اور مردوں میں جو پینٹ کا رواج ہے اس کے بارے میں چند باتیں تو بذات خود بھی ناجائز ہیں چاہے اس میں تشبہ ہو یا نہ ہو۔
پہلی خرابی:
چنانچہ ایک بنیادی خرابی تو پینٹ میں یہ ہوتی ہے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے پہنی جاتی ہے، یعنی پینٹ اتنی لمبی ہوتی ہے کہ ٹخنے ڈھک جاتے ہیں اور شریعت نے واضح طور پر اس بات سے منع کردیا۔
دوسری خرابی:
دوسری خرابی یہ ہے کہ عام طور سے اتنی Tightچست ہوتی ہے کہ جسم کے وہ اعضا ظاہر ہونے لگتے ہیں جو چھپے ہوئے ہونے چاہیے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ (لباس) تمہارے ستر کو ڈھانپے! لیکن اگر لباس ایسا چست ہے کہ ستر نہیں ڈھانپا جارہا تو وہ شریعت کی نظر میں لباس کہلانے کے لائق ہی نہیں۔ آپ اس کو کوئی بھی نام دے دیں لیکن اسلام کے یہاں لباس وہ ہے جو ستر کو ڈھانپ دے، اور جس لباس نے ستر کو نہیں ڈھانپا تو وہلباس بھی نہیں۔ لہذا ان دونوں خرابیوں کی وجہ سے پتلون نہ پہنی جائے۔
کون سی پتلون مباح ہے؟
اگر کوئی شخص اس بات کا اہتمام کرے کہ وہ پتلون تو پہنتا ہے، پینٹ تو پہنتا ہے۔ لیکن Baggie بیگی ہوتی ہے، ٹائٹ نہیں ہوتی، کھلی ہوتی ہے۔ جیسے ہم نے حج کے موقع پر دیکھا کہ ترکی کے لوگ جو آتے ہیں انہوں نے پینٹ پہنی ہوتی ہے لیکن وہ بہت ڈھیلی ہوتی ہے۔ اب اگر کوئی اس قسم کی پینٹ پہن لے جو ڈھیلی ہو، جسم کے اعضا کا اُبھار آگے پیچھے نظر نہ آئے اور ساتھ ساتھ ٹخنے بھی ڈھکے ہوئے نہ ہوں بلکہ ٹخنے ننگے ہوں تو اب اس کو ہم ناجائز نہیں کہیں گے۔
یہ مباح ہےیعنی نہ ثواب نہ گناہ لیکن اگر انسان یہ بھی نہ پہنے اور کوشش کرے کہ میں آقا جیسا نظر آؤں تو یہ محبت کی بات ہے میرے بھائی! اور اگر کوئی شخص اس نیت سے پینٹ پہنے کہ میں انگریز جیسا نظر آؤں تو یہ پھر نیت کا معاملہ ہوگیا اور نیت کی وجہ سے معاملہ بدل جاتا ہے۔
لباس کی بات چل رہی تھی تو ہم اپنی بات جاری رکھتے ہیں۔
سفید کپڑے کے فضائل:
ایک صحابی حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ کو میں نے سفید لباس میں ملبوس دیکھا۔ (بخاری جلد2 صفحہ 867)
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ سفید کپڑے پہنا کرو یہ تمہارا بہترین لباس ہے، اور ایسے ہی کپڑوں اپنے میں مُردوں کو دفنایا کرو۔ (ترمذی جلد1 صفحہ 118،ابو داؤد صفحہ 562)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ سفید کپڑے پہنوکہ یہ زیادہ خوشگوار اور پاکیزہ ہوتے ہیں، اور ان ہی کے اندر مُردوں کی تدفین کیا کرو۔ (شمائل ترمذی صفحہ 6)
ابن ماجہ کی ایک روایت میں کتنی عجیب بات ہے کہ حضرت ابودرداءفرماتے ہیں نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہتر لباس جس میں تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے اپنی قبروں میں مرنے کے بعد اور مساجد میں زندگی کے اندر وہ سفید لباس ہے۔ (ابن ماجہ)
یعنی مسجد میں جاتے ہوئے اہتمام کرو کہ سفید لباس پہنو تو بعض جگہ لوگوں کو دیکھا کہ جمعہ کے دن تو بہت خصوصیت کے ساتھ سفید لباس کا اہتمام کرتے ہیں اور اگر ساری زندگی ہوجائے تو اور بھی اچھا ہوجائے۔
سفید لباس کے فائدے:
ملا علی قاری نے لکھا کہ سفید لباس کے اندر تواضع ہے اور اس کے اندر تکبر نہیں آتا یعنی تکبر سے بچنے کے لیے بھی یہ مدد گار ہے۔ اور ایک چیز فرمائی کہ سفید رنگ فطرتی رنگ ہے۔
کن مواقع پر سفید لباس پہننا پسندیدہ ہے؟
فرمایا کہ دیکھو! مساجد میں جاؤ، محافل میں جاؤ، لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے جاؤ، تو کوشش کرو کہ سفید لباس میں جاؤ،عیدین اور جمعہ کے لباس کا سفیدہونا بہتر ہے۔
(جمع الوسائل صفحہ 121)
اللہ تعالیٰ کی پسند ہے:
ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضورِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ رب العزت نے جنت کو سفید بنایا ہے اور سفید رنگ اللہ کو پسند ہے۔ (بزار، مجمع جلد5 صفحہ 131)
اگر کوئی انسان یہ سوچ کر سفید رنگ پہنے کہ اللہ کو پسند ہے تو نسبت بدل گئی۔ تو بھئی!بات تو نسبتوں اور نیتوں کی ہے۔
لنگی (دھوتی) پہننا:
اسی طرح لُنگی پہننا بھی سنت ہے۔ اس کے بارے میں دیکھیے کہ حضرت ا بو ہریرہ فرماتے ہیں کہ امی عائشہ نے ایک پیوند لگی چادر اور موٹی تہبند دکھائی اور فرمایا کہ رسول اللہﷺ کا جب وصال ہوا (دنیا سے تشریف لے گئے) انہی دو کپڑوں میں ہوا۔ تو اس سے معلوم ہوا ہے کہ نبی پیوند لگے کپڑے بھی پہن لیتے تھے اور موٹا، سستا کپڑا استعمال فرماتے تھے۔ (شمائل کبریٰ جلد1 صفحہ 176)
پیوند کو آج ہم رفو کہہ سکتے ہیں تو رفو والے کپڑے بھی پہن لیا کرتے تھے۔
ملاّ علی قاری نے لکھا ہے کہ یمن کی بنی ہوئی موٹی لنگی آپﷺ استعمال کیا کرتے تھے ۔ (شمائل کبریٰ جلد 1 صفحہ 176)
لنگی باندھنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
آج ہم نے یہاں لوگوں کو دیکھا جب یہ لنگی باندھ رہے ہوتے ہیں، پہن رہے ہوتے ہیں تو آگے سے اونچی ہوتی ہے اور پیچھے سے ٹخنوں کو ڈھک رہی ہوتی ہے۔
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسi کو دیکھا کہ تہبند کے اگلے حصے کو نیچے کی طرف رکھتے تھے اور پیچھے کا حصہ تھوڑا سا اُنچا ہوتا تھا تو میں نے پوچھا ایسا کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہﷺ اسی طرح باندھا کرتے تھے۔ (مشکوٰۃ صفحہ 377)
کیوں کہ انہوں نے آپﷺ کو ایسے ہی دیکھا تھا۔ تو اگر کوئی لنگی پہنے تو اس میں سنت کا لحاظ رکھے اس طرح کہ آگے سے نیچے ہو۔
لیکن ہمارے یہاں کیا رواج ہے؟ بالکل اُلٹا سنت کے بالکل خلاف۔ آپ کسی کو لنگی پہنا ہوا دیکھیں تو پیچھے سے نیچے جارہی ہوگی اور آگے سے اوپر اُٹھی ہوئی ہوگی، یہ بے شرمی کی بات ہے اور اتباعِ سنت کے خلاف ہے۔
بزرگوں کی چیزیں برکت کے لیے رکھنا:
حدیثِ مبارک سے ایک بات اور بھی معلوم ہوئی کہ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ میں امی عائشہ کے پاس آیا تو آپ نےنبی کا لباس دکھایا کہ آپﷺ کا وصال ان کپڑوں میں ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے لباس تبّرک کے لیے رکھے جاسکتے ہیں۔ یہ ایک بات اس سے ثابت ہوئی۔ اسی طرح نبی کا ایک جبہ تھا جو اپنے پاس انہوں نے رکھا ہوا تھا اور اس جبہ کو وہ پانی میں بھگودیتیں اور اس پانی کو بیماروں کو پلاتیں۔ (مرقاۃ جلد4 صفحہ 171)
یہ بی بی عائشہ کا عمل ہے جو محدّثہ مفسّرہ ہیں، اور نبی نے اُن کے بارے میں فرمایا تھا کہ میری عائشہ تو آدھا دین ہیں، اور انہوں نے تبرک کے لیے جبہ اور لباس رکھا ہوا تھا۔
امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہما کا واقعہ:
اب اس بات میں ذرا اور آگے غور کیجیے۔ اور اچھی طرح بات سمجھ لیجیے کہ اس کی بھی کیا اہمیت ہے؟ اور اس کی کیا( Limits) ہیں؟ دیکھیے! ربیع بن سلیمان کہتے ہیں کہ جب امام شافعی مصر واپس گئے تومیں بھی اُن کے ساتھ چلا گیا اور وہاں انہوں نے مجھے ایک خط دیا اور کہا کہ ربیع تم جاؤ بغداد اور بغداد جا کر یہ خط امام احمد بن حنبل کو دے دو، اور جب جاؤ تو میرا سلام بھی کہنا اور خط کا جواب لے کر آنا۔ ربیع کہتے ہیں: میں نے خط لیا اور بغداد پہنچا تو فجر کی نماز میں امام احمد بن حنبل کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نماز کے بعد جب وہ جانے لگے تو میں نے سلام عرض کیا اور خط پیش کیا اور کہا کہ یہ خط آپ کے بھائی امام شافعی نے مصر سے بھیجا ہے۔ تو امام احمد بن حنبل نے ربیع بن سلیمان سے پوچھا کہ بھئی! تم نے اس خط کو پڑھا؟ میں نے کہا: نہیں، بالکل بندے کر آیا ہوں، میں نے نہیں پڑھا۔ تب انہوں نے اُس خط کی مہر کو کھولا اور اس کو پڑھا تو آنسوؤں سے اُن کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں یعنی رونے لگے۔ میں نے پوچھا کہ حضرت! خیر تو ہے، کیا بات ہے؟ فرمانے لگے کہ امام شافعی نے خط میں تحریر کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی خواب میں زیارت کی۔ یعنی حضرت امام شافعی نے خواب میں حضور اکرمﷺ کی زیارت کی۔ اور آپﷺ نے فرمایا کہ ابو عبداللہ احمد بن حنبل کو خط لکھو اور اس خط میں میرا سلام اُن کو پہنچاؤ اور کہنا کہ تم کو ایک آزمائش پیش آئے گی، تکلیف پیش آئے گی، مسئلہ خَلقِ قرآن کے موقع پر تمہیں مجبور کیا جائے گا۔ دیکھو! تم یہ بات قبول نہ کرنا اللہ قیامت کے دن تمہیںسربلند فرمائےگا۔ قیامت کے دن کی سربلندیاں تمہیں مل جائیں گی۔ ربیع کہتے ہیں کہ حضرت! یہ تو بشارت ہوئی کہ نبی نے خواب کے اندر قیامت کے دن کی سربلندی کی گارنٹی دے دی مجھے کچھ انعام دیجیے۔
بشارت سنانے والے کو ہدیہ دینا:
یہ بھی ایک سنت ہے کہ اگر کوئی بشارت دینے والا آئے تو چاہیے کہ اس کو کوئی ہدیہ دیدے جیسے تین صحابہ کے بارے میں آتا ہے کہ اُن کا بائیکاٹ ہوا کچھ دن، اور اس کے بعد جب اُن کی توبہ قبول ہوئی تو جو اُن کو اطلاع دینے صاحب گئے انہوں نے اُن کو اپنی قمیص دیدی تھی۔ یہ پکی روایت ہے، پکی بات ہے۔ تو کوئی خوشخبری لے کر آئے تو خوشخبری لے کر آنے والے کا منہ میٹھا کروا دینا یا تحفہ دیدینا سنت ہے۔ خوشی کو تقسیم کرنا بانٹنا سنت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناب! مجھے کوئی انعام دیدیں، تحفہ دیدیں بشارت ملی ہے الغرض کوئی چیز دیدیں۔ امام احمد بن حنبل نے اُن صحابی کی طرح اپنی قیمص جسم سے اُتاردی، انہوں نے بھی قمیص دی تھی اس لیے انہوں نے بھی اپنی قمیص جسم سے اُتاری اور بطورِ انعام ربیع بن سلیمان کو دےدی۔ اور جواب میں خط بھی دےدیا جو انہوں نے واپسی پر امام شافعی کو دینا تھا۔ کہتے ہیںکہ میں امام شافعی کے پاس واپس آیا اور جوابی خط ان کو دیا۔ اب امام شافعی نے پوچھا کہ اچھا! تم یہ بتاؤ کہ تم نے بشارت دی تھی تو انعام کے طور پر کچھ ملا ہے؟ تو ربیع کہتے ہیں کہ میں نے کہا: حضرت جی! انہوں نے اپنا جبہ مجھے عنایت فرمایا ہے، اپنی قمیص مجھے دی ہے تو وہ میں حصول برکت کے لیےلے آیا ہوں۔ اب امام شافعی نے فرمایا کہ دیکھو! میں تمہیں یہ تو نہیں کہتا کہ وہ جبہ تم مجھے دے دو کہ اس سے تمہارا دل ٹوٹ جائے گا۔ برکت والی چیز ہے۔ ہاں! اتنا ضرور ہے کہ تم اس قمیص کو پانی میں بھگودو اور اس کا پانی مجھے دے دو۔ اس طرح امام احمد بن حنبل کے جبّے سے امام شافعی نے برکت حاصل کی۔
اس واقعہ سے بزرگوں کی چیزوں میں برکت کا ہونا بھی ثابت ہوا، اور برکت کا حاصل کرنا یہ بھی ثابت ہوا، لیکن اس میں افراط وتفریط سے بچنا چاہیے۔
برکت کس کو ملے گی اور کیوں؟
یہاں کچھ باتیں سمجھنے کی ہیں۔
ایک بہت مشہور واقعہ ہے عبداللہ بن اُبی کا، جو کہ پکا منافق بلکہ رئیس المنافقین تھا۔ جب مرا تو حضورِ پاکﷺ کی قمیص میں دفن کیا گیا مگر اتنی برکتوں والی قمیص اُس کی مغفرت نہ کرواسکی۔ لہذا عقیدہ کا ٹھیک ہونا، عمل کا ٹھیک ہونا بہت ضروری ہے۔ اپنے عقیدہ کو ٹھیک رکھنا، عمل کو ٹھیک رکھنا، نیتوں کو ٹھیک رکھنا پھر برکتوں کو حاصل کرنا جہاں تک اُس کا درجہ ہے تو اُس درجہ تک ٹھیک ہے، اُسے اور آگے بڑھادینا، اُسے ہی سب کچھ سمجھ لینا، تو اس بات کی ممانعت ہے۔ ساری باتیں اس لیے سمجھادیں کہ ہمیں معلوم ہوجائے، سمجھ میں آجائے اور افراط وتفریط سے بچیں۔
لنگی کہاں تک باندھی جائے؟
یہ بات درمیان میں آگئی کہ تبرک حاصل کرنا کیسا ہے۔ ہماری بات جاری تھی۔ لنگی باندھنے کے مسنون طریقہ پر کہ حضرت ابن عباسi کی لنگی آگے کی طرف سے جھکی ہوئی ہوتی تھی اور پیچھے سے اُٹھی ہوئی ہوتی تھی لیکن دونوں طرف سے ٹخنوں سے پھر بھی اُوپر ہوتی تھی۔
یہ لنگی اور شلوار کہاں تک باندھنی چاہیے؟ اس کے بارے میں روایت سن لیجیے۔
حضرت عثمان غنی لنگی آدھی پنڈلی تک باندھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی بھی اسی طرح باندھتے تھے۔ (شمائل صفحہ 9 )
یہ صحابی ہیں اور خلفاءِ راشدین میں سے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید سے پوچھا کہ تم نے تہبند کے بارے میں نبی سے کچھ سنا ہے؟ کیا مومن کا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں! نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔
(ابن ماجہ جلد2 صفحہ 294)
دونوں معیار بتادیے ٹخنہ ڈھکا ہوا نہ ہو بلکہ ٹخنہ ننگا ہو۔ تمام صورتوں میں اور اونچا کرنا چاہے تو کرسکتا ہے نصف پنڈلی تک اس سے اوپر نہ جائے۔ یہ مردوں کے لیے بات ہورہی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ آقا کا تہبند اونچا کرنے والا معاملہ نصف پنڈلی تک تھا۔
لنگی، شلوار کو ٹخنوں سے نیچے کرنے کی ممانعت:
اب یہ جو پینٹ ہے یا پاجامہ ہے، لنگی ہے یا شلوار ہے، یہ سب چیزیں اگر ٹخنے سے نیچے لے جائیں، تو شریعت کیا کہتی ہے؟ اللہ کے نبیﷺ کا کیا حکم ہے؟
بخاری شریف کی روایت ہے حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی نے فرمایا ٹخنوں سے نیچے جو تہبند ہوگا وہ جہنم میں ہوگا۔ (بخاری، مشکوٰۃ صفحہ 373)
یہ تمام چیزوں کو شامل ہے خواہ وہ پینٹ ہو یا شلوار ہو، لنگی ہو یا پاجامہ ہو، جو بھی چیز ہو ٹخنے ڈھک گئے تو نبی نے فرمایا کہ یہ جہنم میں ہوگا۔
بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی نے فرمایا: جو فخر کے باعث اپنے کپڑوں کو لٹکائےگا اللہ رب العزت قیامت کے دن اس پر نظرِشفقت نہیں فرمائیں گے۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ صفحہ 373)
ایک روایت میں ہے نبی نے فرمایا کہ مومن کا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہیے یا پنڈلی سے لے کر ٹخنے سے اوپر اوپر کسی جگہ پر ہو۔ آگے فرمایا کہ جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہوگا وہ جہنم کے لائق ہے۔ یہ حدیث کا مفہوم ہے۔ (نسائی، ترغیب جلد3 صفحہ 88)
ایک اور روایت ہے آقا نے فرمایا کہ تم تہبند اس طرح باندھو جس طرح فرشتے باندھا کرتے ہیں۔ پوچھا گیا کہ اے اللہ کے نبی! فرشتے کس طرح باندھتے ہیں تو فرمایا کہ نصف پنڈلی تک۔ (مجمع الزوائد جلد 5صفحہ 126)
گنجائش اور ممانعت:
جب نبی نے فرمایا کہ تہبند نصف پنڈلی تک باندھنی چاہیے تو صحابہ کرام کو یہ بات ذرا مشکل لگی کہ کہیں بے دھیانی میں کپڑا نیچے نہ چلا جائے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محرومی نہ ہوجائے۔ بعد میں آپﷺ نے گنجائش دی کہ دیکھو! ٹخنے تک رکھو کہ ٹخنے سے نیچے میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور ٹخنے سے اوپر کوئی برائی نہیں۔ یہ مردوں کے لیے حکم ہے۔ (ترغیب جلد2 صفحہ 89)
اس میں اختیار دینے والا معاملہ نہیں کیا گیا کہ جناب! ٹخنے سے نیچے کپڑا جارہا ہے اور فکر ہی نہیں ہورہی کہ میرا انجام کیا ہوگا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے سفیان بن ابی سہل کی کمر کو پکڑ کر فرمایا کہ اے سفیان! اپنی تہبند کو مت لٹکاؤ، اللہ تعالیٰ لٹکانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (ابن ماجہ جلد2 صفحہ 294)
یعنی جو مرد ٹخنے ڈھک کر رکھتا ہے تو اللہ کو یہ بات پسند نہیں۔
حضرت جابر کی طویل روایت ہے کہ جنت کی خوشبو ایک ہزار میل کی مسافت سے آرہی ہوگی، مگر اللہ کی قسم! پاجامہ لٹکا کر پہننے والے اس کی خوشبو کو نہ پاسکیں گے۔
(ترغیب صفحہ 91)
اگر ایمان والے ہوں گے تو پہلے ٹخنے ڈھک کر رکھنے کے جرم میں سزا کو بھگتیں گے اس کے بعد پھر جنت کی کوئی بات ہوگی۔
ان ساری روایتوں سے معلوم ہوا کہ مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے لنگی یا پینٹ یا پاجامہ باندھنا درست نہیں ہے۔ قیامت کے ہولناک منظر میں اللہ کی نگاہِ کرم اس کی طرف نہ ہوگی۔
حضرت صدیق اکبر کے لیے اجازت:
ہاں! اگر کوئی معذور آدمی ہے مثلاً اس کی کمر یعنی پیٹھ اور پیٹ آپس میں کمزوری سے ملے ہوئے ہیں، یا کسی پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہے کہ وہ باندھتا تو ہے ناف کے اوپر لیکن وہ نیچے گر جاتی ہے، ٹکتی نہیں۔ ایسے لوگ ہزاروں یا لاکھوں میں ایک ہوتے ہوں گے ہر آدمی کا ایسا معاملہ نہیں ہوتا، تھوڑے ہوں گے۔ اگر کوئی ایسی معذوری ہے تو اس صورت میں وہ اس وعید سے خارج ہے۔ حضرت صدیقِ اکبر کے ساتھ یہی مسئلہ تھا انہوں نے وعید سنی تو ڈر گئے، نبی سے آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میری تہبند تو بار بار نیچے آجاتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم متکبرین میں سے نہیں ہو۔ اللہ کے نبیﷺ نے خود ان کو اجازت دی ہے، لہذا ہر کوئی انہیں اپنے اوپر قیاس نہ کرے۔
(ترغیب جلد3صفحہ 93)
پرہیزگاری کا سبب:
ایک روایت میں آتا ہے کہ دیکھو! تم (لنگی، پاجامہ، یا شلوار) جو بھی ہے اس کو ٹخنوں سے اوپر رکھوکہ یہ کپڑے کے لیے صفائی اور رب کے یہاں پرہیزگاری کا سبب ہے۔
(کنز جلد19 صفحہ217)
نماز کی عدم قبولیت:
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لنگی، تہبند نیچے لٹکانے والوں کی نماز کو قبول نہیں فرماتا۔ (آداب بیہقی صفحہ352)
اب اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ نماز ہی پڑھنا چھوڑ دیں، نماز تو پڑھنی ہے لیکن نماز کو صحیح طریقہ سے پڑھیں اس طرح سے ٹخنے کھلے ہوں۔
مردوں اور عورتوں کے حکم میں فرق:
شریعت میں مردوں کے لیے ٹخنے ڈھانپنا گناہ ہے اورعورتوں کے لیے ٹخنے ڈھانپنا فرض ہے ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ۔
مگر آج کل معاملہ بالکل اُلٹا ہوگیا۔ یہ خواتین جاتی ہیں اور ایسے کپڑے سلواتی ہیں کہ ٹخنے ننگے رہیں حالانکہ عورتوں کو ٹخنے ڈھانپنے کا حکم ہے۔
چنانچہ اُم سلمہ نے جب یہ بات سُنی کہ بھئ! ازار لٹکانے کی وعید اتنی ہے کہ قیامت کے دن اللہ رب العزت محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔ عبادات میں بھی قبولیت کا معاملہ اٹک جائے گا تو نبی کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ اللہ کے نبی! پھر عورتوں کا کیا معاملہ ہوگا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اگر اُن کے قدم کھل جائیں تو وہ کپڑا نیچے لٹکالیں۔ چنانچہ آپﷺ نے تو ان کو پاؤں چھپانے کی بھی اجازت دی، ٹخنہ چھپانا تو بعد کی بات ہے بلکہ فرمایا کہ قدم بھی چھپائیں۔
قاضی عیاض نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے۔ (جمع الوسائل صفحہ 174)
نبی نے فرمایا کہ تم پیروں کو بھی چھپا سکتی ہو تو چھپاؤ بہتر یہ ہے کہ پیر چادر وغیرہ سے نہ چھپ سکیں تو موزوں کا استعمال کرلیں تاکہ پیر کا اوپری حصہ اور اس کا رنگ وروپ بھی چھپا رہے۔ (فتح الباری جلد10صفحہ 251)
اب بتائیے کہ نبی تو یہ فرماتے ہیں کہ پیروںکو بھی چھپائیں اور آج ہمارا معاملہ بالکل الٹا ہے۔
زائد کپڑا ساتھ رکھنے کی سنت:
نبی ایک کپڑا زیادہ بھی ساتھ رکھا کرتے تھے۔ آج کل علماء حضرات، صلحاء حضرات کو دیکھا ہوگا کہ ہاتھ میں ایک رومال ساتھ رکھ لیتے ہیں یہ نبی کی سنت ہے۔ حضرت انسفرماتے ہیںکہ نبی اپنے سر مبارک کے اوپر اکثر کپڑا رکھا کرتے تھے کیونکہ آپﷺ تیل کا بکثرت استعمال کیا کرتے تھے، تو کپڑے میں ہمیشہ چکنائی محسوس ہوتی تھی۔ تیلی کا کپڑا جیسے ہوتا ہے ویسا ہوتا تھا۔ (شمائل صفحہ9)
اور عمامہ کے نیچے اس لیے رکھا کرتے تھے، تاکہ تیل کی وجہ سے پگڑی یا عمامہ خراب نہ ہو، اور یہ کپڑا بکثرت استعمال کی وجہ سے ہمیشہ چکنا رہتا تھا۔ لیکن نبی کی خصوصیت یہ تھی کہ حضورِ پاکﷺ کا یہ کپڑا میلا بھی نہیں ہوتا تھا اور اُن کے کپڑوں میں کبھی جوں بھی نہیں پڑتی تھی اور کوئی برائی اور عیب بھی نہیں آتا تھا، یہ نبی کی خصوصیت تھی۔ (خصائل صفحہ 100)
پگڑی اور ٹوپی کے اوپر رومال ڈالنا:
کبھی آپﷺ ٹوپی اور پگڑی کے اوپر رومال ڈال لیا کرتے تھے دھوپ سے بچاؤ کے لیے۔ اور حدیثِ ہجرت میں بھی یہ روایت ہے کہ آپﷺ حضرت ابوبکر کے پاس دوپہر کو تشریف لائے تو سر کو کپڑے کے ساتھ ڈھانپے ہوئے تھے۔
(زادالمعاد جلد 1 صفحہ 52)
حضرت عبداللہ بن عباسفرماتے ہیں کہ آپﷺ گھر سے باہر تشریف لائے اور آپﷺ پر ایک مٹیالے رنگ کا کپڑا تھا جسے آپﷺ نے سر پر ڈال رکھا تھا۔ حضرت انسکی روایت ہے کہ چادر کے ایک کونے کو آپﷺ سر پر ڈال لیاکرتے تھے۔ (بخاری جلد2صفحہ 864)
بہرحال ایک اضافی کپڑا آپﷺ کے پاس ہوتا تھا تو اس کو آپﷺ مختلف طریقوں سے استعمال کرلیا کرتے تھے، تو ایسے کپڑے کو گرمی اور دھوپ سے بچاؤ کے لیے سر پر ڈال لینا بھی نبی کی سنت ہے۔ (بخاری جلد 2صفحہ 864)
شلوار آپﷺ کا خریدنا:
اب اس کے بعد ہم بات کرتے ہیں پاجامہ یا شلوار کی۔ اس کے بارے میں حدیث میں جو بات ملتی ہے توجہ سے ان باتوں کو سمجھیے! حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرمﷺ کے ساتھ ایک دن بازار گیا۔ آپﷺ ایک کپڑا فروش کے پاس گئے، اس سے آپﷺ نے چار درہم میں ایک شلوار (پاجامہ) خریدا۔ بازار والوں کے پاس ایک ترازو تھا جس سے وہ سامان وغیرہ وزن کیا کرتے تھے تو نبی نے ان لوگوں کو کہا کہ دیکھو! ذرا جھکتا تولا کرو۔ تو لنے والے نے کہا کہ یہ ایسا کلام ہے کہ میں نے کسی سے نہیں سنا۔ آپﷺ کے ساتھ حضرت ابوہریرہ موجود تھے، انہوں نے کہا کہ تو کیا کہہ رہا ہے، تیرا دین اور دنیا سب برباد ہوجائے گا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ یہ تیرے پیغمبر ہیں، رسول اللہﷺ ہیں۔ اس نے ترازوکو چھوڑ دیا اور فوراً رسول اکرمﷺ کے دستِ مبارک کی طرف بوسہ دینے کے لیے جھپٹا اور آپﷺ نے اپنے مبارک ہاتھ کو کھینچ لیا اور فرمایا کہ یہ عجمی بادشاہوں کا طریقہ ہے۔ ارے! میں تو تمہاری ہی طرح کا آدمی ہوں، ہاں! تم جھکا کر تولا کرو۔ اور آپﷺ نے پاجامہ لے لیا۔
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں آگے بڑھا کہ میں اُٹھالوں تو نبی نے فرمایا کہ صاحبِ سامان اس کے اُٹھانے کا زیادہ حقدار ہے ہاں! اگر کمزور ہو، ضعیف ہو تو مسلمان کو اس کی مدد کرنی چاہیے۔ پھر حضرت ابوہریرہ نے پوچھا (چونکہ اللہ کے نبیﷺ تو لنگی باندھتے تھے) کیا آپﷺ پاجامہ پہنتے ہیں؟ جو آپﷺ نے پاجامہ خریدا۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ رات میں بھی، دن میں بھی، سفر میں بھی، حضر میں بھی مجھے ستر پوشی کا حکم دیا گیا ہے۔ آقا نے کیا فرمایا کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ میں دن میں بھی، رات میں بھی، سفر میں بھی، حضر میں بھی ہر حال میں ستر کو چھپاؤں اور شلوار سے زیادہ میں کسی چیز کو بہتر نہیں سمجھتا کہ ستر کو چھپانے والی ہو۔
(طبرانی مجمع الزوائد جلد5 صفحہ 125،آداب بیہقی صفحہ 256)
لنگی میں احتیاط بہت زیادہ کرنی پڑتی ہے اب میرے اور آپ کے لیے تو اتباعِ سنت کی وجہ سے اگر لنگی پہن لی جائے تو اچھی بات ہے ثواب ملے گا جو بہت بڑی بات ہے، لیکن عام حالات میں ہم لوگوں کے لیے مشکل ہے کہ ہم اتنی احتیاط نہیں کر پائیں گے تو ہمارے لیے شلوار ہی مسنون رہے گی۔
حدیث سے نکلنے والے مسائل:
اب اس حدیثِ مبارک کے اوپر ذرا غور کیجیے! ایک تو واقعہ آپ کی نگاہ سے گزر گیا لیکن جو فقہاء ہوتے ہیں وہ ان سے مسائل نکالا کرتے ہیں۔ اب فقہاء نے اس کے اندر سے کئی مسائلنکالے ہیں۔
پہلی بات:
بازار میں جا کر خریدو فروخت کرنا ناجائز نہیں ہے بلکہ سنت ہے کہ مرد اپنی ضرورت کی چیز لینے جائے، لیکن عورتوں کا بے پردہ جانا بہرحال بہت بڑا گناہ ہے۔
’’ہم ابھی آتے ہیں‘‘ جھوٹ ہے:
ایک بات یاد آگئی کہ عام طور پر ایک جھوٹ بہت زیادہ (Commaon) ہے۔ کسی بھی دوکان پر کوئی مرد کسٹمر آئے یا عورت کسٹمر آئے ایک چیز دیکھی پوچھی اور پھر لینی نہیں ہے تو سب ایک جملہ کہتے ہوئے جاتے ہیں ’’ ہم ابھی آتے ہیں‘‘۔ حالانکہ آنا نہیں ہوتا، لیکن کہتے ہوئے یہ جائیں گے کہ ہم ابھی آتے ہیں۔ دوکاندار کو بھی پتا ہے کہ یہ جو اس نے کہا ہے کہ ہم ابھی آتے ہیں، اس نے آنا کوئی نہیں۔ پتا دونوں کو ہے، اندازہ دونوں کو ہے لیکن جھوٹ، جھوٹ ہماری گھٹی میں پڑا ہوا ہےاس بچنا ضروری ہے۔ بہرحال بازار میں جانا اپنی ضرورت کی چیزیں لینے مسنون طریقے سے تو گناہ نہیں ہے، بلکہ انبیاء تو جایا کرتے تھے اور کفار کو یہی تو اشکال ہوتا تھا کہ قرآن کے اندر بھی آتا ہے کہ کیسے رسول ہیں جو سامان لینے بازار جاتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
دوسری بات:
فرمایا کہ جھکتا تولنا بہتر ہے اور باعثِ برکت ہے۔ اب جتنے لوگ کاروبار کرتے ہیں اگر یہ تھوڑا سا جھکتا تول لیں تو ان کے یہاں برکت ہی برکت ہوجائے گی۔ جو ڈنڈیاں مارتے ہیں وزن میں اور دوسری چیزوں میں تو اللہ تعالیٰ برکت کو اُٹھالیتے ہیں۔
تیسری بات:
ہاتھ کو بوسہ دینا، یہ پسندیدہ چیز نہیں فرمائی گئی، ہاں اگر کوئی فرط محبت میں کرلے جذبات میں آکر تو اور بات ہے لیکن عام طور سے اس کو منع فرمایا گیا۔
چوتھی بات:
اگر کوئی دست بوسی کرنا چاہے، چومنا چاہے تو ہاتھ کو پیش کرکے عملاً ترغیب نہ دے۔ اس بڑے کو چاہیے اگر وہ کوئی شیخ ہے، کوئی عالم ہے تو وہ اپنا ہاتھ پیچھے کرلے اس میں اُس کے لیے تواضع ہے۔
پانچویں بات:
چھوٹوں کو چاہیے کہ بڑوں کی خدمت کے لیے خود پیش قدمی کریں، نہ کہ ان کے حکم کا انتظار کریں۔
چھٹی بات:
بڑوں کو چاہیے کہ حتی الامکان اپنا کام خود کریں۔
ساتویں بات:
سامان والے کو اپنا بوجھ خود اُٹھانا چاہیے۔
آٹھویں بات:
کہ کمزور کی مدد کرنی چاہیے۔
نویں بات:
بڑوں سے علمی سوال کرنے میں جھجکنا نہیں چاہیے اور نبی کریمﷺ کا عام طور پر تہبند، لنگی کا معمول تھا اور انہوں نے خرید لی شلوار، تو حضرت ابوہریرہ نے پوچھ لیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ نے شلوار کیوں خریدی؟ تو علمی سوال پوچھنے میں علم کے حصول کے لیے، ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے، اچھے طریقے سے پوچھنے میں جھجکنا نہیں چاہیے۔
دسویں بات:
حسبِ موقع نصیحت سے گریز نہیں کرنا چاہیے جیسے حضرت ابوہریرہ نے سوال پوچھا تو نبی کریمﷺ اگر صاف اتنا فرمادیتے کہ بھئی! پہننے کے لیے لی ہے تو بات تویہی تھی اور ٹھیک تھی لیکن بات کو تفصیل سے سمجھایا کہ مجھے اللہ نے دن میں، رات میں، سفر میں، حضر میں ستر کو ڈھانپنے کا حکم دیا ہے اور یہ تہبند سے زیادہ ستر چھپانے والی ہے۔
آپﷺ کا پاجامہ خریدنا:
حضرت سوید بن قیس کی ایک روایت ہے کہ ہم منیٰ میں تھے تو آپﷺ تشریف لائے اور ہم سے پاجامہ خریدا۔ (آداب بیہقی صفحہ 357)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے پاجامہ پہنا ہے اور صحابہ کرام آپﷺ کے حکم سے پاجامہ پہنتے تھے۔ حضرت عثمانِ غنی جس دن شہید کیے گئے اس دن پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔ گو آپﷺ سے پہننا ثابت نہ بھی ہو مگر پہننے کے ارادہ سے خریدنا تو ثابت ہے۔ (زاد المعاد جلد1صفحہ 151 )
اوریہ کہ رسول اللہﷺ کے پاس پاجامہ تھا حتیٰ کہ یہ بھی کہا گیا کہ وصال کے بعد ترکہ میں بھی تھا۔
انبیاء کا پاجامہ پہننا:
پاجامہ حضرت ابراہیم کی سنت ہے۔ اور شلوار پہنناانبیاء کی بھی سنت رہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ سب سے پہلے جس نے پاجامہ پہنا وہ حضرت ابراہیم تھے۔ اور آگے فرمایا کہ اس ہی پاجامہ یا شلوار کی برکت سے قیامت کے دن انہیں سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا۔ (عمدۃ القاری جلد21صفحہ 306)
کتنی خوب صورت بات ہے کہ ابراہیم کی سنت بھی ہے اور نبی نے خریدا بھی اور پسند بھی فرمایا اور اس کی تعریف بھی فرمائی اور صحابہ بھی پہنتے تھے۔ اور قرآن مجید کو دیکھیے!
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا١ؕ (النسآء:125)
نبی کو حکم دیا کہ آپ ابراہیم کی اتباع کیجیے! ملّتِ ابراہیمی کی اتباع کیجیے تو ہمیں بھی حکم دیاگیا تو کم ربی بھی موجود ہے پاجامہ کے بارے میں، لہذا پاجامہ خلافِ سنت نہیں ہے۔ اور یہ منیٰ کے میدان میں خریدنا تو صحیح حدیث سے ثابت ہے اور ظاہر بات ہے کہ جب انسان خریدتا ہے تو پہننے کے لیے ہی خریدتا ہے۔
علامہ عینی نے شلوار پہننامستحب قرار دیا ہے۔ (جلد21 صفحہ306)
حضرت موسیٰ کا پاجامہ پہننا:
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے بھی پاجامہ پہنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جس دن سیدنا موسیٰ کو اللہ تعالیٰ سے شرفِ گفتگو سے نوازا گیا، یعنی جس دن اللہ سے ہم کلامی ہوئی اس دن وہ صوف کی چادر اور صو کی ٹوپی اور صوف کا پاجامہ پہنے ہوئے تھے اور جو وہ جوتا پہنے ہوئے تھے وہ دباغت شدہ (یعنی ایسی کھال جسے پاک کیا گیا ہو۔) کھال سے بنا ہواتھا۔ (عمدۃ جلد2 صفحہ 307)
عورتوں کے لیے تنگ لباس کی ممانعت:
کنزالعمال میں حضرت علی سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پاجامہ یعنی شلوار پہنو، یہ تمہارے لباس میں سب سے زیادہ ستر کے لائق ہے اور عورتوں کو بھی پہناؤ جب وہ باہر نکلیں۔ (کنزالعمال جلد19صفحہ 217)
یعنی انہیںٹراؤزر نہ پہناؤ ۔ ایسی تنگ شلوار نہ پہناؤ جس کو پہن کے یہ نہ پتا چلے کہ سی کے پہنا ہے یا پہن کے سیا ہے۔ اتنی تنگ شلوار شریعت کے اندر اس کی اجازت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، ہمیں حیا اور پاکدامنی کی توفیق عطا فرمائے۔ تو روایت میں ہے کہ پاجامہ پہنو، یہ تمہارے لباس میں سب سے زیادہ ستر کے لائق ہے، عورتوں کو بھی پہناؤ۔ اور ستر کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ لنگی میں ذرا سی بے احتیاطی سے ستر کھل جاتا ہے، بیٹھنے، لیٹنے میں بے ستری کا اندیشہ رہتا ہے، خصوصاً رات کو سونے میں تو زیادہ مسئلہ ہوتا ہے اس لیے پاجامہ ہی ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ آج کل ہمارے دور میں ان حالات میں تو شلوار ہی ہر لحاظ سے بہتر ہے۔
آپﷺ کو پاجامے کا ہدیہ:
ایک مرتبہ نجاشی بادشاہ نے آپﷺ کو پاجامہ ہدیہ کیا۔ بریدہ بن حصیب اسلمی کی روایت ہے کہ شاہِ حبشہ نجاشی نے حضور اقدسﷺ کو قمیص، پاجامہ، موزہ اور چادر ہدیہ میں بھیجے تھے۔ (ابن حبان، جمع الوسائل صفحہ 127)
شرعی مسئلہ:
اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جس وقت یہ ہدیہ بھیجا گیا تھا، نجاشی نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کا ہدیہ لینا اور استعمال کرنا بھی جائز ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ خلافِ شرع کوئی چیز نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ لباس کا بیان ان شاء اللہ آگے چلتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے قبول فرمائے اور وہ لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائےجو نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام کا پسندیدہ لباس تھا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائیں۔
حضرت فاطمہ اور اُن کے صاحبزادے کا لباس:
پچھلی بار بھی عرض کیا اس بار بھی عرض کرتا ہوں کہ ترکی کے اندر بی بی فاطمہ کا لباس اور ان کے صاحبزادے حضرت حسن یا حضرت حسین میں سے کسی ایک کا لباس وہاں آج بھی (Display) ڈسپلے کیا ہوا ہے۔ الحمدللہ! بہت کھلا اور اس کے اندر بے ستری کا کوئی امکان ہی نہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ ہمیں اُن ہی جیسے لباس کو پہننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply