19

شوہر کی رصامندی کے بغیر خلع کی شرعی حیثیت

میری سابقہ بیوی نے میری رضامندی کے بغیر عدالت کے ذریعے سے خلع لیا تھا اب ھمیں پتا چلا ھے کہ ایسا خلع شریعت میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور وہ اب بھی میرے نکاح میں ھے لیکن اب مسئلہ یہ ھے کہ اس نے دوسری جگہ شادی بھی کر لی ھے اور وہ پچھتا بھی رھی ھے تو کیا شرعاً وہ نکاح باطل ھے اور وہ اب میرے پاس آنا چاھتی ھے اسکی اب کیا صورت ھو گی؟؟
جواب:
واضح رہے خلع بھی دیگر مالی معاملات کی طرح ایک معاملہ ہے جس میں فریقین یعنی میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ اگرایک فریق بھی خلع پرراضی نہ ہوتوشریعت کی نگاہ میں وہ خلع واقع نہیں ہوتی۔ لہٰذا بصورتِ صدقِ سوال شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی جانب سے دی جانے والی خلع کی ڈگری سے جدائی واقع نہیں ہوئی تھی ،عورت بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں تھی،یک طرفہ عدالتی ڈگری کی بنیاد پر نہ ہی عدت لازم تھی اور نہ ہی دوسرا نکاح کرنا جائز تھا۔عورت نے عدالتی خلع کی بنیاد پر جو دوسرا نکاح کیا ہے شریعت کی نگاہ میں یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ،عورت بدستور اپنے شوہرکے نکاح میں ہے۔لہذا دوسرے شوہر سے فی الفور علیحدگی لازم ہے، اور اپنے اس فعل پر عورت کو توبہ استغفار کرنا لازم ہے۔البتہ قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے عورت کو چاہیے کہ دوسرے شوہر سے تحریری طورپر جدائی حاصل کرلے، اور پھر تین ماہواریاں گزار کر سابقہ شوہر سے تجدید نکاح کرلے۔[فتاوی شامی۔3/441،باب الخلع،ط:ایچ ایم سعیدکراچی]فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 143906200089
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں