شکر حصہ اول

شکر حصہ اول

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
اِعْمَلُوْآ اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا ط وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُo (سورۃ سبأ: 13)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

’’نِعْمَ الْعَبْدُ‘‘ بہترین بندہ
نعمتوں پر شکر کرنا اہل جنت کی نشانی ہے اور آزمائشوں پر صبر کرنا بھی اہل جنت ہی کی نشانی ہے۔ تو خلاصہ کلام یہ ہوا کہ جو تکلیفوں پر صبر کرے وہ بھی جنتی، اور جو نعمتوں کا شکر ادا کرے وہ بھی جنتی۔ اِن دونوں کو قرآن مجید میں ’’نعم العبد‘‘ کہا گیا ہے۔ حضرت ایوب اللہ ربّ العزّت کے برگزیدہ نبی تھے۔ ان پر آزمائشیں، پریشانیاں، تکلیفیں آئیں، بیماری میں مبتلا ہوئے، اولاد مر گئی، مال ختم ہو گیا، بہت عرصہ تکلیفوں کے اندر رہے، لیکن صبر کرتے رہے۔ اس صبر کی وجہ سے قرآن مجید میں ان کی شان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًاط نِعْمَ الْعَبْدُط اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ۝۴۴ (صٓ: 44)
ترجمہ: ’’حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اُنہیں بڑا صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اللہ سے خوب لَو لگائے ہوئے تھے‘‘۔
نعم العبد کسی بندے کے لیے بہت بڑا جملہ ہے۔ جب بڑے کسی کو بلا کر کوئی لقب دے دیں تو بڑی بات ہوا کرتی ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے بھی حضرت ایوب کے بارے میں فرمایا کہ نعم العبد میرا پیارا بندہ، میرا بہترین بندہ۔ کس وجہ سے ان کو یہ لقب ملا؟ تکلیفوں پر صبر کرنے کی وجہ سے۔
ایک اورنبی بھی گزرے ہیں حضرت سلیمان۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں بادشاہت عطا فرمائی تھی، ہوائوں کو اُن کے لیے مسخر کر دیا تھا، اُنہیں پرندوں کی بولیوں کی سمجھ بھی عطا کر دی گئی تھی، اور انہیں دنیا کا بہترین مال و دولت عطا کیا گیا تھا۔ ان تمام نعمتوں پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے سارے اَعمال کیے، اور مال کو اللہ کے حکم کے مطابق استعمال کیا۔ اُنہیں بھی قرآن پاک میں نعم العبد ہی کہا گیا:
وَوَہَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَيْمٰنَط نِعْمَ الْعَبْدُ ط اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ۝۳۰ (صٓ: 30)
ترجمہ: ’’اور ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطا کیا، وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اللہ سے خوب لَو لگائے ہوئے تھے‘‘۔
کیا ہم ’’نِعْمَ الْعَبْدُ‘‘ بن سکتے ہیں؟
معلوم ہوا کہ دونوں صورتوں میں انسان نعم العبد بن سکتا ہے۔ تکلیفوں کے وقت صبر کر کے، اور نعمتوں کے وقت شکر کر کے۔ انسان کے پاس چند ہی تو حال ہوتے ہیں۔ یا وہ خوشی میں ہوگا یا غمی میں ہوگا، یا پریشان ہوگا یا خوش ہوگا، یا بیمار ہوگا یا صحت مند ہوگا، یا امیر ہوگا یا غریب ہوگا۔ یہ چند ایک حال ہی ہیں، چند ہی تو باتیں ہیں۔ ہر حال میں انسان یہ دیکھے کہ اللہ کیا چاہتے ہیں؟ بس اس کو مطلوب مل جائے گا۔
آج کی اس مجلس میںشکر کے بارے میں چند باتیں کرنی ہیں۔ شکر کہتے کسے ہیں؟ شکر کا مطلب کیا ہے؟ اور اس سے ملے گا کیا؟ یہ چند موضوعات آج اِن شاء اللہ آئیں گے۔
شکر کی حقیقت
شکر سے متعلق قرآن مجید نے ایک زریں اُصول بیان کیا ہے:
لَىِٕنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (إبراھیم: 7)
ترجمہ: ’’اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتیں شکر کی رسی سے بندھی ہوئی ہیں۔ جو انسان شکر کرتا چلا جائے گا، کرتا چلا جائے گا، اس نے نعمتوں کو رسی ڈال رکھی ہے، نکل ہی نہیں سکتیں۔ آگے فرمایا:
وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ۝۷ (إبراھیم: 7)
ترجمہ: ’’اور اگر تم نے ناشکری کی تو یقین جانو، میرا عذاب بڑا سخت ہے‘‘۔
شکر کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔ شکر کی حقیقت کیا ہے؟ انسان اس بات کا اعتراف کرے کہ یہ نعمت اللہ کی طرف سے ہے۔ پھر اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ صرف اتنا نہیں ہے کہ نعمت اللہ نے دے دی ہے۔ نہیں! استعمال کا طریقہ کار بھی اللہ تعالیٰ نے ہی عطا فرمایا ہے۔
آلِ داؤد کی ترتیب
جب اللہ ربّ العزّت نے حضرت دائود کو شکر کے بارے میں حکم دیا تو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے خاندان نے اپنے قول اور اپنے عمل کے ذریعے شکر کو ثابت کر کے دکھایا۔ کیا ترتیب بنائی؟ 24 گھنٹے میں کوئی وقت ایسا نہیں گزرتا تھا کہ ان کے گھر کا کوئی فرد عبادت میں مشغول نہ ہو۔ ایک ترتیب بنالی تھی کہ ایک عبادت کر رہا ہے، اس کے اُٹھنے سے پہلے کوئی دوسرا عبادت کے لیے مصلّٰی پر آ جائے گا۔ عبادت کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شکر جس طرح زبان سے ادا ہوتا ہے، اسی طرح عمل سے بھی شکر ادا ہوتا ہے۔
تقویٰ اور عملِ صالح
محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ شکر تقویٰ اور عملِ صالح کا نام ہے۔ زبان سے شکر ہے، شکر ہے، وہ الگ ہے۔ الحمدللہ کہا، وہ الگ ہے۔ لیکن فرماتے ہیں کہ اصل شکر کیا ہے؟ انسان تقویٰ کی زندگی اختیار کرے، اور عملِ صالح کو اختیار کرے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ اللہ ربّ العزّت کی دی ہوئی نعمتوں میں سے یہ جسم و جان بھی اللہ کی نعمت ہے، مال بھی اللہ کی نعمت ہے۔ ان سب کو اللہ کے حکم کے مطابق لگانا ہے۔
اے داؤد! اب تم نے شکر ادا کیا
جب حضرت دائود سے اللہ ربّ العزّت نے فرمایا کہ اے دائود! میرا شکر ادا کرو۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ یا اللہ! میں آپ کا شکر کیسے ادا کر سکتا ہوں؟ اگر میں کہتا ہوں کہ الحمدللہ (یا اللہ! آپ کا شکر ہے) تو یہ بھی ایک نعمت ہوئی ناں۔ یہ بھی تو ایک عبادت ہوئی ناں۔ اس پر بھی شکر ادا کرنا پڑے گا، تو میں اس پر شکر ادا کروں گا کہ یا اللہ! تیرا شکر ہے تُونے مجھے پھر شکر کی توفیق دی۔ اور اس پر پھر میں تیرا شکر ادا کروں گا کہ اس شکر پر شکر کی توفیق دی۔ اے اللہ! ساری زندگی کی سانسیں لگا کر بھی تیرا شکر ادا ہو ہی نہیں سکے گا۔ اللہ! کیسے میں آپ کا شکر ادا کروں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الآن شكرتَني حين علمتَ أنّ النِّعمة منّي.
ترجمہ: ’’اے دائود! جب تم نے اس بات کو جان لیا کہ ساری نعمتیں میری طرف سے ہی ہیں تو اب تم نے میرا شکر ادا کیا ہے‘‘۔ (دیکھیے! تفسیرِ ابنِ کثیر اسی آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں)
کیا مطلب؟ کہ انسان اپنے آپ کو عاجز پائے کہ میں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتا۔ یہ حقیقی معنوں میں اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔
آلِ داؤد کی فضیلت کیسے مل سکتی ہے؟
جب قرآن کریم کی یہ آیت
اِعْمَلُوْآ اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا ط وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُo (سورۃ سبأ: 13)
نازل ہوئی تو جنابِ رسول اللہﷺ منبر پر تشریف لائے اور اُمت کو چند باتیں بتائیں۔ یہ بہت توجہ سے سننے کی باتیں ہیں۔ حکیم ترمذی، امام ابوبکر جصّاص حضرت عطاء بن یسار سے نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:
اِعْمَلُوْآ اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا ط وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُo (سورۃ سبأ: 13)
تو نبی کریمﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور پھر ارشاد فرمایا کہ میری اُمت میں سے جسے یہ تین صفات دے دی گئیں، اسے گویا وہ فضیلت مل گئی جو آلِ داؤد کو ملی ہے۔ (آلِ دائود کو اللہ ربّ العزّت نے برکتیں اور عزتیں عطا فرمائی تھیں تو جو شخص یہ تین کام کر لے تو اسے بھی آلِ دائود کی فضیلت مل جائے گی) صحابۂ کرام نے پوچھا کہ وہ کون سے تین کام ہیں؟ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
(1) اَلْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا
یعنی غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں انصاف قائم رکھنا۔ جیسے میاں بیوی ہیں۔ آپس میں ہر چیز ٹھیک چل رہی ہے۔ کوئی خرابی نہیں، کوئی لڑائی نہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے راضی ہیں، لیکن انصاف کو ابھی بھی قائم رکھنا ہے۔ اس محبت کی وجہ سے کسی کے ساتھ بے انصافی نہ ہو جائے کہ مجھے اپنی بیوی سے محبت ہے تو کسی کا نقصان میں کر دوں۔ یا جیسے دوبھائی ہیں۔ ایک دوسرے سے تعلق ہے، جوڑ بنا ہوا ہے۔ اب آپس میں محبت کی وجہ سے کوئی ایسا عمل نہ کریں کہ محبت میں محبوب کو نفع پہنچانے کے لیے انصاف کا ہاتھ چھوڑ دیں۔ جب محبت کے اوقات چل رہے ہوں دوبندوں کے درمیان، دو گروہوں کے درمیان، دو قوموں کے درمیان، دوستی کا معاملہ چل رہا ہو تب بھی انصاف کو قائم رکھنا ہے۔ اور اگر خدانخواستہ غصہ غالب آجائے۔ بھائیوں میں کسی بات پر لڑائی ہوگئی، دوستوں میں کسی بات پر لڑائی ہو گئی اور اب غصہ آ رہا ہے تواس موقع پر بھی انصاف کو قائم رکھنا ہے۔ ایسا نہیں کہ میری اس سے لڑائی ہے تو میں اس کا نقصان کر دوں۔ اس کے پیسے میرے پاس رکھے ہوئے، اور اب لڑائی ہوگئی تو اس کو دے نہیں رہا۔ میری اس سے ناراضگی ہے، مجھے غصہ ہے اب میں انصاف کو چھوڑ دوں۔ یہ بات ہرگز نہیں کرنی ہے۔ دوستی کے عالم میں بھی اور غصہ کے عالم میں بھی، محبت ونفرت دونوں حالتوں میں انصاف قائم رکھنا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں انصاف کو لے آئے۔
(2) اَلْقَصْدُ فِي الْغِنٰی وَ الْفَقْرِ
یعنی فقر اور تونگری دونوں حالتوں میں اعتدال اور میانہ روی رکھنی ہے۔ کیا مطلب؟ ایک آدمی کو اللہ نے خوب مال دیا ہے، وہ اپنے اخراجات میں میانہ روی رکھے۔ اپنے آپ کو چادر کے اندر ہی رکھنے کی کوشش کرے۔ اور کسی کے حالات تنگ ہیں، فقر ہے، پریشانی ہے۔ وہ بھی اب اس کی کوشش کرے کہ میانہ روی اختیار کرے۔ دونوں حالتوں میں میانہ روی میں رہنا ہے اور درمیانی راستہ اختیار کرنا ہے۔
(3) خَشْيَۃُ اللّٰهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِیَۃِ
یعنی خفیہ اور علانیہ دونوں حالتوں میں اللہ سے ڈرتے رہنا ہے۔
تین باتیں کیا ہو گئیں؟ (1)رضا اور غضب، دوستی اور نفرت میں انصاف پر رہنا دونوں حالتوں میں۔ (2) غناوفقر، امیری اور غریبی دونوں حالتوں میں میانہ روی کی چال چلنا۔ (3) خفیہ اور علانیہ دونوں حالتوں میں اللہ سے ڈرنا۔
آج کل تو بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو علانیہ بھی گناہ کرتے نہیں ڈرتے۔ کیا مطلب؟ مکس گیدرنگ ہو رہی ہے، میوزک کی پارٹیاں ہو رہی ہیں، اور اس میں ہر قسم کی خرافات ہو رہی ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر، یا کسی اور موقع پر، یا کوئی بے حیائی کا دن منایا جا رہا ہے۔ ان سب مواقع پر کھلم کھلا گناہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جو لوگ علانیہ گناہ کرتے ہیں ان کا معاملہ بہت خراب ہو جاتا ہے۔ جو عورت بےپردہ ہو کے جا رہی ہے، پردہ نہیں کر رہی اور بازاروں میں جا رہی ہے، بال بھی کٹے ہوئے ہیں، یہ علانیہ گناہ کرنے والی ہے۔ علانیہ گناہ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسجد میں آواز لگے گی کہ جی! میں نے گناہ کیا ہے۔ عمل سے معلوم ہو رہا ہے، اس کا عمل اعلان کر رہا ہے، عمل سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کے لیے تو بہت سخت بات ہے۔ حدیث شریف میں نبی کریمﷺ نے بتایا ہے کہ میری پوری اُمت کی معافی ہو جائے گی اِن شاء اللہ لیکن یہ جو بغاوت کرنے والے ہیں، کھلم کھلا گناہ کرنے والے ہیں، ان کا معاملہ جدا ہے۔
(صحیح البخاري: رقم 6069، باب ستر المؤمن)
بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو کھلے حال میں، اوپن پوزیشن میں اللہ کی نافرمانی کر رہے ہوتے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔ حکم دیا گیا ہے کہ اپنی مجالس کو بھی پاکیزہ کرو اور علانیہ بھی اللہ سے ڈرتے رہو۔ ایک تو اس حدیث شریف میں کھلم کھلا یعنی علانیہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا معاملہ ہے۔ دوسرا معاملہ حدیث شریف میں خفیۃً بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا کا ہے۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن کی علانیہ زندگی تو پاکدامنی والی، نیکیوں والی نظر آتی ہے۔ لیکن ان کی خفیہ زندگی جو موبائل کی زندگی ہے، وہ زندگی اُن کی خراب ہے۔ وہ زندگی اِن کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔ آج کل کے ماحول میں یہ موبائل فون ایک ایسا فتنہ ہے کہ مدرسے کے طلبہ وطالبات بھی نہیں بچ سکے۔ ویسے قرآن و حدیث پڑھتے ہیں، لیکن موبائل آگیا تو چپکے سے کچھ بھی شروع کر دیا۔ ارے بھئی! شیخ کو پتا نہیں لگا، استاذ کو نہیں پتا چلا، لیکنمیرا اللہ تو دیکھ رہا ہے ناں۔ سوچیے کہ اس کے ساتھ ہم کیسا معاملہ کر رہے ہیں۔
اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہوں گے؟
ایک حدیث سنیے اور دل کے کانوں سے سنیے۔ یہ جو لوگ ہوتے ہیں ناں چاہے وہ طالبات میں سے ہوں، طلباء میں سے ہوں، عوام میں سے ہوں، یا مریدین میں سے ہوں۔ کوئی بھی ہوں۔ جن کی تنہائیاں پاکیزہ نہیں ہیں وہ نبی کریمﷺ کی اس بات کو سن لیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بڑے بڑے اعمال لے کر آئیں گے پہاڑوں جتنے، لیکن کچھ نہیں ملے گا۔ صحابۂ کرامj ڈر گئے۔ پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہوں گے؟ ہمیں بتائیے تاکہ ان اعمال سے ہم اپنے آپ کو بچائیں، ہم ٹھیک نہ کر رہے ہوں اور ہمیں اس کا معلوم نہ ہو۔ فرمایا:
أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ، وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ، وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ، وَلٰكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللّٰهِ انْتَهَكُوْهَا. (سنن ابن ماجہ: رقم 4245)
ترجمہ: ’’جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں، اور تمہاری قوم میں سے ہیں، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے جیسے تم عبادت کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا اِرتکاب کریں گے‘‘۔
یہ وہ لوگ ہوں گے جو لوگوں کے ساتھ تو طالبِ علم ہوں گے، لوگوں کے سامنے تو یہ دین کی طالبہ ہوگی، لیکن جب اس کو تنہائی میں وقت ملے گا، فرصت ملے گی تو یہ موبائل فون پر گانا سن رہی ہوگی، ویڈیو دیکھ رہی ہوگی، کوئی اللہ کی نافرمانی کا کام کر رہی ہوگی۔ سارے اعمال، سب پڑھنا پڑھانا ضائع ہو جائے گا۔ بہت بچنے کی ضرورت ہے۔ یہ موبائل فون صحیح استعال نہ کرنے کی صورت میں ہیل فون ہے۔ اگر اسے ٹھیک استعمال نہ کیا تو یہ جہنم میں لے جانے والا فون ہے۔ اس کے استعمال میں بہت احتیاط چاہیے۔
خلاصہ یہ کہ تین باتیں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمائیں۔ جو اِن تین باتوں پر عمل کرے گا، فرمایا کہ جو فضیلت آلِ دائود کو ملی تھی وہ اس اُمتی کو بھی مل جائے گی۔ کون سی تین باتیں؟ (۱) رضا اور غضب، دشمنی ہو یا کسی سے دوستی ہو، دونوں حالتوں میں انصاف قائم رکھنا، انصاف کو نہ چھوڑنا۔ (۲) غنا ہو یا فقر، امیری ہو یا غریبی، دونوں حالتوں میں درمیانی چال چلنا۔ (۳) خفیہ اور علانیہ دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔
کمالِ شکر
بہرحال شکر کا مطلوب ومقصود اس بات سے مل گیا۔ نبی کریمﷺ کی اس بات سے شکر کا مقصود و مطلوب حاصل ہوگیا کہ صرف زبان سے الحمدللہ کہنا، یااللہ! تیرا شکر ہے کہنا صرف اتنا مراد نہیں ہے، اتنا کافی نہیں ہے۔ بلکہ پورا مفہوم کیا ہے؟ شکر کے مفہوم میں تین باتیں ہیں: ایک تو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف ہو کہ یہ نعمت مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اِطاعت کرنا۔ تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا۔ یہ تین باتیں مل کر کامل شکر بنتا ہے۔ ایک زبان سے شکر ادا کرنا اور جاننا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ نعمت ملی ہے۔ اس کا احساس پیدا ہو جائے۔ دوسرا اللہ کی نعمت کو اللہ کے دین کے لیے لگانا، دین کے مطابق استعمال کرنا۔ تیسری بات اس نعمت کو غلط جگہ استعمال نہ کرنا، گناہ نہ کرنا تب جا کے یہ شکر پورا ہوا کرتا ہے۔
شکرگزار کیسے بنیں؟
نبی کریمﷺ نے ٹیسٹنگ کا ایک طریقہ بھی بتا دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں یا نہیں۔ یہ کیسے پتا چلے گا؟ اللہ تعالیٰ نبی کریمﷺ کو بہترین جزائے خیر ہماری طرف سے عطا فرمائے کہ ایک ایک بات کو سمجھا گئے۔ لیکن ہم اِمام گوگل کے پیچھے چلنے والے ہیں، اس لیے ہمیں اِن باتوں کا پتا نہیں۔ حضور پاکﷺ نے طریقہ بتا دیا ہے، ہمیں اس طریقے کو اپنے اندر چیک کرنا ہے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ نہیں کرتے۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اِرشاد فرمایا:
مَنْ لَّمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللہَ. (سنن الترمذي: رقم 1955)
ترجمہ: ’’جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا‘‘۔
مطلب یہ کہ جو لوگوں کے اِحسانات کا، لوگوں کے دیے ہوئے تحفوں کا، اور ان کی مدد کا شکر ادا کرے گا وہی اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا کر سکتا ہے۔
ہمارا اَلمیہ
اب یہاں انسان پھنستا ہے۔ ساس نے کوئی اچھا کام کر دیا تو بہو کی زبان سے اپنی ساس کے لیے جزاک اللہ خیرا نہیں نکلے گا۔ اسی طرح بہو کی اچھائی پر ساس شکریہ نہیں ادا کرے گی۔ چھوٹے بھائی نے اچھا کام کر دیا تو بڑے بھائی کی زبان سے جزاک اللہ خیرا نہیں نکلے گا۔ یہ تو ہم نے سیکھا ہی نہیں۔ ہم نے سیکھنا ہے ایک دوسرے کی مدد کرنا، خیال کرنا، کوئی ہمارا خیال کرے تو اس کا شکریہ ادا کرنا۔ یہ سیکھنا ضروری ہے۔ جو لوگوں کا شکریہ ادا کرے گا، لوگوں کا شکرگزار رہے گا، وہی اللہ کا شکر گزار بھی ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی یوں کہے کہ جی! ہمیں ٹیچر پڑھاتی ہیں، ساری محنتیں کرتی ہیں، ٹائم دیتی ہیں لیکن ہم نے تو کبھی ٹیچر سے نہیں کہا کہ آپ نے محنت سے پڑھایا، آج بڑا اچھا پڑھایا، جزاک اللہ خیراً، اللہ آپ کو خوش رکھے۔ ہم جب لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتے۔ کل قیامت کے دن شکوے ہوں گے ۔ یہ نبی کریمﷺ کی بتائی ہوئی بات ہے۔ اب لوگوں کا شکر ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
لوگوں کا شکر کیسے ادا کریں؟
حضرت اُسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کے ساتھ بھلائی کی گئی، اس نے بھلائی کرنے والے سے کہا: جَزَاكَ اللہُ خَیْرًا۔ تحقیق اِس نے اُس بھلائی کرنے والے کی تعریف میں انتہا کر دی۔
(سنن ترمذی: رقم 2035)
ہمارے بعض ساتھی کہتے تو ہیں جزاک اللہ، مگر پورے کلمات ادا نہیں کرتے۔ بھئی! جزاک اللہ کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ اللہ تجھے بدلہ دے، اچھا دے یا برا دے، یہاں چھپ ہو گئے۔ اس لیے جب جزاک اللہ کے ساتھ خیراً کہا تو مطلب یہ ہوا کہ اچھا بدلہ دے۔ اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ہم پورے مسنون کلمات ادا کریں۔
دوسرا طریقہ لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کا یہ ہے کہ بھلائی کرنے والے کا ذکر اس کی پیٹ پیچھےا چھے انداز میں کیا جائے گویا اس نے بھی شکریہ ادا کر دیا۔ بھئی! اگر انسان کسی عالم کے پاس گیا، رابطہ کیا، مسئلہ پوچھا اور اس کو ہدایت مل گئی اور یہ طریقہ پر آگیا، اب یہ پیٹھ پیچھے اس کا ذکرِ خیر کرے۔ مجھے یہ مسئلہ درپیش تھا، میں وہاں گیا، انہوں نے میری رہنمائی کی اور میرے لیے آسانی ہو گئی۔ خیر کے ساتھ ذکر کرنے سے شکر ادا ہو جائے گا۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جسے کسی چیز سے نوازا گیا، لینے والے کو چاہیے کہ وہ بھی اس کا اچھا بدلہ دے، اگر اس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو کم از کم اس کی تعریف کر دے۔ اس لیے کہ جس نے تعریف کی اس نے شکر ادا کیا، اور جس نے تعریف نہ کی (دوسرے کی بھلائی کو چھپایا) اس نے ناشکری کی۔
(سنن ترمذی: رقم 2034)
ہمیں کسی نے کوئی چیز دی، ہم اس کا اچھا خیر کے ساتھ ذکر کریں کسی کے یہاں۔ یہ تو شکر ادا کرنا ہے۔ اور اگر ہمیں دوسرے کی طرف سے کوئی تحفہ ملا اور ہم چپ ہیں، ہماری زبان تنگ ہو گئی، اس کے لیے کھلتی ہی نہیں، تو یہ ناشکری ہے۔ یہی سکھایا گیا کہ مخلوق کا بھی شکر ادا کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی جو مسبّبُ الاسباب ہے۔
والدین کا شکرگزار بننا
اسی طرح قرآن مجید میں والدین کا بھی شکریہ ادا کرنے کے لیے فرمایا گیا:
اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ (لقمٰن: 14)
ترجمہ: ’’تم میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کا (بھی شکر ادا کرو)۔‘‘
علماء نے لکھا ہے کہ اللہ نے دونوں کو ایک ہی جملے میں لیا۔ یعنی جو والدین کا شکر گزار نہیں ہوتا، اُن کے احسان کو اِحسان نہیں سمجھتا، یہ شخص کبھی خدا کا شکر گزار ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لیے دونوں کا شکر گزار ہونے کی ضرورت ہے۔
نعمتوں میں ترقی
نعمتوں میں ترقی کیسے ہو، اس کے لیے اللہ تعالیٰ بنیادی بات فرماتے ہیں:
لَىِٕنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (إبراھیم: 7)
ترجمہ: ’’اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا برکت ہے، اور زیادتیٔ نعمت (نعمت کو بڑھانے) کا ذریعہ ہے۔ حضرت انس سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے راضی ہوتے ہیں جو لقمہ لیتا ہے اور اللہ کی تعریف اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور گھونٹ پانی پیتا ہے اور اللہ کی تعریف اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ (صحیح مسلم: رقم 2734)
جس شخص کو نعمتوں پر شکر کی توفیق مل گئی، کبھی اس کی نعمتیں کم نہیں ہوں گی۔ یہ کس نے بتایا؟ جنابِ رسول اللہﷺ نے۔ قرآن بھی یہی کہہ رہا ہے، نبی بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ ہم اللہ ربّ العزّت کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ یہ آیتیں اس کی دلیل ہے:
لَىِٕنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (إبراھیم: 7)
ترجمہ: ’’اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘۔
وَسَيَجْزِي اللّٰہُ الشّٰكِرِيْنَ۝۱۴۴ (آل عمران: 144)
ترجمہ: ’’اور جو شکرگزار بندے ہیں، اللہ اُن کو ثواب دیں گے‘‘۔
حسن بصری کا قول ہے فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت بندوں کو نوازتے رہتے ہیں جب تک بندہ شکر ادا کرتا ہے۔ اللہ ربّ العزّت نعمتوں کو کم نہیں کرتے۔ لیکن جب بندہ ناشکری پہ آجائے تو اللہ ربّ العزّت بجائے اضافۂ نعمت کے، اسے تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ظاہر میں کچھ بھی نظر آرہا ہو کہ بی ایم ڈبلیو میں آرہا ہے، جھنڈے والی گاڑی میں آرہا ہے، لیکن اگر ناشکری کر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عجیب عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ شکرگزار بندوں کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائیں گے۔
تین بہترین صفات
تین صفات کے بارے میں ایک حدیث میں آتا ہے کہ تین صفات ایسی ہیں جن کے اندر یہ تین باتیں ہوں گی اللہ تعالیٰ تین انعامات اُن پر کریں گے۔ انعامات سنیں کون کون سے ہیں۔ فرمایا:
ثلاثة من كن فيه آواه اللّٰه في كنفه، وستر عليه برحمته ، وأدخله في محبّته.
(1) اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا۔
(2) اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کی ستاری فرمائیں گے۔ اس کے عیبوں کو، برائیوں کو، گناہوں کو چھپائیں گے۔
(3) اللہ تعالیٰ اسے اپنی محبت عطا فرمائیں گے۔
ہم میں سے کسے یہ تینوں نعمتیں چاہیے؟ پھر اسے تین کام کرنے پڑیں گے۔ تین خوبیاں کون سی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی حفاظت ملے گی۔ چور، ڈاکو، کسی چیز کا، نفس و شیطان کا مسئلہ ہی کوئی نہیں رہا۔ جو اللہ کی حفاظت میں آگیا موج ہو گئی اس کی۔ دوسری خوبی یا نعمت ہماری کمی کوتاہیاں، غلطیاں غیب میں ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈال دیں گے، چھپا دیں گے کسی کو نظر ہی نہیں آئیں گی۔ اور تیسری یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی محبت عطا فرمائیں گے۔ تینوں کتنی بڑی بڑی نعمتیں ہیں، عظیم دولتیں ہیں۔ یہ دنیا سے بڑھ کر نعمتیں ہیں۔ لیکن یہ ملیں گی کس کو؟ جو تین کام کرے گا، اسے یہ تین نعمتیں ملیں گی۔ حضراتِ صحابۂ کرام نے بھی پوچھا تھا :
ما هنّ يا رسول اللّٰه ؟
وہ تین کام اور تین نعمتیں کونسی ہیں اے اللہ کے رسول! آپ بتلا دیجیے۔
جنابِ سرورِ کونینﷺ نے فرمایا:
(1) مَنْ إِذْا أُعْطِيْ شَكَرَ. جب کسی کو کوئی نعمت ملے تو اللہ کا شکر ادا کرے۔
(2) وَإِذَا قَدَرَ غَفَرَ. جب کسی کو انتقام لینے پر قدرت مل جائے، دوسرے سے اپنا بدلہ لینے کا موقع مل جائے اور اب یہ انتقام نہ لے، معاف کر دے۔
(3) وَإِذَا غَضِبَ فَتَرَ . جب غصہ آجائے تو اس کو ختم کرے اور غصے کے تقاضے پر غیرشرعی عمل نہ کرے۔ (المستدرك للحاكم: رقم (397
کسی نے اگر تھپڑ مارا ہے 80 کلو میٹر کی رفتار سے، تو یہ تھپڑ نہ مارے۔ مارنا بھی ہو تو 70 سے نیچے ہی رہے۔ اگر اس نے 90 سے مارا ہے تو یا تو چھوڑ دے، یا اس سے نیچے رہے۔ اگر کسی نے دس باتیںسنائی ہیں، اس نے بیس باتیںسنا دیں تو یہ ظالم ہو گیا۔ کیوںکہ قرآن کریم میں ہے کہ اگر تم بدلہ لینا چاہتے ہو تو ایک درجہ میں لے سکتے ہو جتنا تمہارے ساتھ ہوا ہے۔ اور فرمایا کہ معاف کر دو گے تو بہترین بات ہوگی۔ یہاں یہی کہا جا رہا ہے کہ جب غصہ آجائے تو پی جائے، انسان غصہ کے تقاضے پر عمل ہی نہ کرے۔
خلاصۂ کلام کیا ہوا کہ تین کام کرنے پر تین بڑی نعمتیں ملیں گی: (۱) اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ (۲) انتقام کی قدرت اور طاقت کے باوجود معاف کر دے۔ اس میں ایک اور بھی بہت بڑی پیاری بات ہے۔ بھئی! قیامت کے دن ہمارے اوپر قدرت کس کو ہوگی؟ اللہ تعالیٰ کو ہوگی۔ آج بھی اللہ ہی کو ہے، اور قیامت کے دن بھی اسی کو ہوگی۔ کامل قدرت صرف ایک اللہ ہی کو ہے۔ جب دنیا میں ہم اپنی قدرت کے موقع پر دوسرے کو معاف کریں گے۔ یاد رکھیں! قیامت کے دن جب اللہ کو ہم پر قدرت ہوگی، ہم گناہوں کی وجہ سے ڈوبے ہوئے ہوں گے، تکلیف میں ہوں گے، اللہ اپنی رحمت سے ہمیں بھی معاف کرے گا۔ اگر چاہتے ہیں قیامت کے دن معافی مل جائے تو دنیا میں لوگوں کو معاف کرنا ہوگا۔ سب کو معاف کر دیں، دل کو کھلا اور صاف کریں۔ مزے ہی مزے ہیں، کوئی پریشانی نہیں آئے گی۔
دنیا و آخرت کی بھلائیاں
ایک حدیث میں ہے کہ جس آدمی کو چار نعمتیں مل جائیں وہ دنیا اور آخرت کی ساری بھلائیاں لے گیا، سب کچھ اسے مل گیا۔ وہ چار نعمتیں کون سی ہیں؟
(1) شکر گزار دل
(2) ذکر کرنے والی زبان
(3) مصیبت پر صبر کرنے والا بدن (یعنی تکلیف آجائے تو برداشت کرے)
(4) ایسی بیوی جو نفس اور مال پر خیانت کرنے سے محفوظ ہو۔ (مجمع الزوائد: رقم 7437)
جس کو یہ چار نعمتیں مل گئیں اسے دنیا کی ساری نعمتیں مل گئیں۔ اسے بہترین نعمتوں سے نواز دیا گیا۔ نفس اور مال کی حفاظت سے کیا مراد ہے؟ مال سے مراد یہ ہے کہ وہ خاوند کے مال کو ضائع نہ ہونے دے، صحیح موقع پر خرچ کرے، اور صحیح طریقے سے استعمال کرے۔ اور نفس کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ نامحرم شخص کو اپنے قریب نہ آنے دے۔ ہاں! شکر ادا کرنے سے اللہ ربّ العزّت نعمتوں کو بڑھا دیا کرتے ہیں۔
کنز العمّال میں ہے حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ جنابِ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ ربّ العزّت جس کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتے ہیں تو اس کی عمر میں زیادتی فرماتے ہیں اور اس کو شکر کی توفیق عطا فرما دیتے ہیں۔ اور یہ شکر کی توفیق اللہ کے خاص انعامات میں سے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کریم اللہ سے مانگیں کہ وہ ہمیں شکر گزار بندوں میں شامل فرمائےآمین۔
نعمتِ شکر کا حصول
یہ شکر ملے گا کیسے؟ یہ بھی حدیث میں نبی کریمﷺ نے بتا دیا۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بندہ اللہ ربّ العزّت کی نعمت کی قدر کرنا چاہے (یعنی شکر کرنا چاہے) تو اپنے سے کمزور کو دیکھے، اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھے۔ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم سے نعمت کی ناقدری نہ ہو۔ (صحیح مسلم: رقم 2963)
یہ اُصول بتا دیا کہ دین کے معاملے میں ہم اپنے سے اوپر والے کو دیکھیں کہ بھئی! میں تو تہجد نہیں پڑھتا وہ تو تہجد بھی پڑھتا ہے۔ میرے پردہ کرنے میں کمی ہے، برقع میں نے نہیں پہنا۔ چہرہ پورا نہیں ڈھانپا۔ میں کبھی کرتی ہوں اور کبھی نہیں کرتی، لیکن وہ تو ہر وقت کرتی ہے۔ وہ مکس گیدرنگ میں تو جاتی ہی نہیں، اگر کسی شادی میں جانا بھی پڑ جائے رشتہ داروں میں، اور وہاں ویٹر کا آنا جانا ہو، کسی مرد کا گزرنا ہو تو یہ کسی بات کی پرواہ نہیں کرتی، ہمہ وقت پردے میں رہتی ہے۔ یہ مجھ سے آگے ہے۔ مجھے دین کے معاملے میں اس کو دیکھنا ہےاور دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا ہے۔ جب ہم اپنے سے نیچے والے کو دیکھیں گے ہمیں قدر آجائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رضامندی کے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply