46

شکر حصہ دوم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
اِعْمَلُوْآ اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا ط وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُo (سورۃ سبأ: 13)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

عبداللہ بن مبارک
اللہ ربّ العزّت نے جس حال میں ہمیں رکھا ہوا ہے، ہم میں سے ہر بندہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ شکر میں تین باتیں ہمیشہ یاد رکھیں کہ (۱) نعمت اللہ کی طرف سے ہے، اس لیے شکر ادا کریں۔ (۲) جہاں اللہ ربّ العزّت نے استعمال کا حکم دیا ہے وہاں استعمال کریں، جہاں منع کیا ہے وہاں سے بچیں۔ (۳) تقویٰ کی زندگی اختیار کریں، اللہ تعالیٰ زندگی میں برکتیں عطا فرمائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک امیر المؤمنین فی الحدیث۔ بہت امیر آدمی تھے۔ کہتے ہیں کہ میں نے امیروں کے ساتھ بھی وقت گزارا اور غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ بھی وقت گزارا۔ کہتے ہیں کہ میں جب تک امیروں میں اُٹھتابیٹھتا رہا، کبھی شکر کی توفیق نہیں ملی۔ ہر وقت یہ لگا رہتا تھا کہ یہ بھی مجھے مل جائے، وہ بھی مجھے مل جائے، اس کے پاس یہ بھی ہے تو میرے پاس بھی ہو، اس کے پاس وہ بھی ہے تو میرے پاس بھی ہو۔ میں اسی میں لگا رہا۔ اور جب میں نے غریبوں کے پاس جانا اور اُن کے پاس اُٹھنا بیٹھنا شروع کیا تو وہاں تو وہ سب کچھ نہیں ہوتا تھا جو میرے پاس میرے گھر میں تھا۔ میں یہ دیکھ کر پھر اپنے گھر آ کر شکر ادا کرتا تھا کہ یا اللہ! تُونے مجھے یہ بھی دیا، تُونے مجھے وہ بھی دیا۔
شکر کی نعمت کیسے ملے گی؟
دنیا کے معاملے میں ہم اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں تو کبھی پریشانی نہیں ہوگی، اور دین کے معاملے میں ہم اپنے سے اوپر والوں کو دیکھیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ہم دین کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھتے ہیں کہ وہ نماز نہیں پڑھتا، وہ جنت میں جائے گا تو میں بھی چلا جائوں گا۔ اس قسم کی باتیں مناسب نہیں ہیں۔ دین کے معاملے میں نیچے والے کو دیکھتے ہیں تو عمل سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور اوپر والے کو دیکھتے ہیں تو عمل میں آگے بڑھنے کی لگن پیدا ہوتی ہے۔ اور دنیا کے معاملے میں اگر ہم اپنے سے اوپر والے کو دیکھیں گے تو جو نعمتیں ہمارے پاس ہیں، اس پر کبھی شکر ادا نہیں کریں گے۔ یہ نبی کریمﷺ کا بتایا ہوا طریقہ ہے۔ اب اس پر ایک دو واقعات بھی ہیں۔
بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کا قصہ
حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کے بڑے پیارے نبی تھے۔ بڑے پیارے کلیم اللہ تھے۔ اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ اللہ اپنی رحمت سے ہم سب کو جنت میں لے جائے۔ وہاں اِن حضرات سے ملاقاتیں بھی ہوں گی، مجلسیں بھی ہوں گی، زیارت بھی ہوگی۔ جب ہم ان کے طریقوں پر چلیں گے اور دین پر محنت کریں گے، پھر اِن شاء اللہ ضرور ہوگی۔ حضرت موسیٰ کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ ایک دفعہ راستے میں دو بندے مل گئے۔ ایک نے کہا کہ اے موسیٰ! آپ اللہ کے پیارے بندے ہیں۔ اللہ سے بات چیت ہوتی ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کو جا کر میرا پیغام دیں کہ میرے پاس اتنی نعمتیں ہیں کہ کم ہی نہیں ہوتیں۔ آپ اللہ پاک سے کہیں کہ مجھے نعمتیں دینا بند کر دیں، بہت ہے میرے پاس، پریشان ہو گیا ہوں، سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے، آتا ہی چلا جا رہا ہے۔ اب ہم نے تو ایسا بندہ کبھی زندگی میں نہیں دیکھا ہوگا۔ لیکن حضرت موسیٰd کو مل گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے کہہ دیں کہ مجھے اور نہیں چاہیے، اب بہت ہو گیا، بہت مال آگیا ہے۔ اتنے میں آگے گئے تو ایک اور آدمی ملا۔ اس نے کہا کہ اے موسیٰ! آپ کی اللہ تعالیٰ سے بات ہوگی میرے پلے تو کچھ بھی نہیں ہے، بس یہ لنگی سی ہے، اور کیا ہے میرے پاس۔ آپ اللہ تعالیٰ سے کہیں کہ مجھے کچھ دے دیں۔
میں آپ کے سامنے واقعہ کا مفہوم عرض کر رہا ہوں۔ دونوں میں سے پہلے کس سے ملے، یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ خیر! حضرت موسیٰ نے دونوں بندوں کا پیغام اللہ تک پہنچا دیا۔ واپس آئے تو اللہ رب العزت نے پہلے شخص کو پیغام دیا جو امیر آدمی تھا۔ اس کو کہا کہ دیکھو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ پیغام بھیجا ہے کہ تم آج سے میری ناشکری شروع کر دو تو نعمتیں خودبہ خود کم ہو جائیں گی، لیکن جب تک تم شکر ادا کرتے رہو گے، ہمارا قانون ہی نہیں ہے نعمتوں کو روک دینا۔ ہمارے قانون تبدیل نہیں ہوتے ہیں، البتہ تم ناشکری شروع کر دو تو خودبہ خود رُک جائے گا۔ اس نے کہا کہ اے موسیٰ! میں کیسے اللہ پاک کی ناشکری شروع کر دوں۔ اتنا میرے پاس ہے۔ اتنا اللہ مجھے دے رہا ہے تو میں ناشکری کر ہی نہیں سکتا۔ کس بات پہ ناشکری کروں؟ حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ پھر اللہ کا قانون یہ ہے کہ تیری نعمتیں نہیں کم ہو سکتیں۔ تو شکر گزار بندوں میں رہتا ہے۔ نعمتیں شکر کی رسی سے بندھی ہوئی ہیں۔ آپ شکر ادا کریں تو معاملہ خود ہی باہر نکل گیا۔ اب دوسرا بندہ جس کے پاس صرف لنگی سی تھی، چادر وغیرہ کوئی باندھی ہوئی تھی۔ اس سے کہا کہ دیکھو! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم میرا شکر ادا کرو۔ اس نے کہا کہ میرے پاس ہے ہی کیا جس پر میں شکر ادا کروں؟ کہتے ہیں کہ جو اس کے پاس لنگی یا چادر تھی وہ بھی اُتر گئی، اور وہ اپنے آپ کو ریت میں چھپانے لگ گیا۔
یاد رکھنے کی بات ہے کہ ناشکری سے نعمتیں چلی جاتی ہیں۔ یہ تو حضرت موسیٰ کی اُمت کا حال آپ کے سامنے آیا۔ جنابِ محمدﷺ کا اُمتی جب شکر ادا کرے گا، دل سے ادا کرے گا تو کیسے اس کا مال کم ہوگا؟ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ اللہ کا قانون ہی نہیں ہے۔ اب دوواقعات اور سنیے۔ بڑے عجیب ہیں۔ ایک موجودہ زمانے کا واقعہ اور ایک سینکڑوں سال پرانا واقعہ ہے۔ دونوں تقریباً ملتے جلتے ایک جیسے واقعات ہیں۔
بوڑھے شخص کا عمل
ایک استاذ الحدیث نے یہ واقعہ سنایا۔ ایک آدمی ریگستان میں جا رہا تھا تو ایک ویرانے میں اسے ایک خیمہ نظر آیا۔ یہ آدمی بڑا حیران ہوا کہ یہاں خیمہ؟ باہر کوئی نظر نہیں آیا اور نہ کسی کی آواز سنائی دی تو یہ اندر چلا گیا۔ جب یہ اندر گیا تو دیکھا کہ ایک بوڑھا معذور شخص ہے۔ اس کے پائوں بھی نہیں ہیں، اور شاید اندھا بھی ہے۔ بس یونہی پڑا ہوا تھا۔ یہ اس کے قریب ہوا تو سنا کہ وہ بوڑھا معذور اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ یا اللہ! تیرا شکر ہے۔ الحمدللہ! اللہ تیرا شکر ہے۔ پاؤں سے معذور بھی ہے، اور آنکھوں سے نابینا بھی مگر اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے۔ یہ آدمی اور حیران ہوا کہ کس بات پر شکر ادا کر رہا ہے؟ اس نے پوچھا کہ بابا! کس بات پہ شکر ادا کرتے ہو؟ کہنے لگا کہ دیکھ! اللہ نے ایمان تو عطا کیا ہوا ہے۔ زبان سے تو کلمہ طیبہ جاری کر دیا۔ میں روز کلمہ پڑھتا ہوں، درود پاک پڑھتا ہوں، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ابھی ایمان تو ہے اور جان تو ہے کہ ذکر کر رہا ہوں۔ اعمال میرے بڑھ رہے ہیں۔ اللہ نے اتنی نعمتیں دی ہوئی ہیں۔
یہ شخص اس بابا کے شکر پر بڑا حیران ہو گیا۔ پھر اس سے پوچھا کہ آپ کا خیال کون کرتا ہے؟ آپ یہاں اکیلے ہیں اور چل بھی نہیں سکتے۔ کہا کہ میرا ایک نوجوان بیٹا ہے وہ میرا خیال کرتا ہے۔ اب کچھ وقت گزرا آدھا دن یا ایک دن وہ میرے پاس نہیں آیا، اب میں اس کے انتظار میں ہوں۔ اس نے کہا کہ اچھا باباجی! میں جا کر چیک کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر یہ شخص باباجی کے بیٹے کی تلاش میں نکلا۔ تھوڑی ہی دور اسے ایک انسانی لاش مل گئی جس سے پتا چل گیا کہ کسی جانور یا درندے نے اسے مار دیا ہے۔ اس نے خیال کر لیا کہ یہی اُن کا بیٹا ہوگا۔ اب یہ پریشان ہوا کہ اس بوڑھے باپ کو جا کر کیسے بتائے کہ وہ جوان جو تیری زندگی کا دنیاوی اعتبار سے آخری اور واحد سہارا تھا، وہ بھی چلا گیا۔ سوچنے لگا کہ کس منہ سے جا کر بتائوں؟ کیا اظہار کروں؟ آخر اسی سوچ میں،  پریشانی کے عالم میں خیمے میں داخل ہوا اور پھر ہمت کر کے باباجی کو بتا دیا کہ آپ کا بیٹا اس دنیا سے چلا گیا ہے، اس کی لاش ملی ہے۔ یہ کہہ کر سوچنے لگا کہ اب بابا اس پر خوب روئیں گے تو یہ دلاسہ دے گا وغیرہ۔ توقعات کے برخلاف باباجی کہنے لگے کہ الحمدللہ! اس نے پوچھا کہ بابا! اب کس بات پر شکر ادا کر رہے ہو؟ اب یہ سمجھنے والی بات ہے۔ کہنے لگے کہ میں اس بات پر شکر ادا کر رہا ہوں کہ وہ بہترین حالت میں اللہ سے جا ملا۔ راتوں کو تہجد پڑھنے والا تھا، دن میں عبادت کرنے والا، روزے رکھنے والا تھا۔ متقی تھا، اور والد کی خدمت کر کے دعائیں لینے والا تھا۔ وہ تو بہترین حالت میں دنیا سے گیا ہے۔ بری حالت میں بھی جا سکتا تھا، لیکن وہ بہترین حالت میں گیا ہے۔ بھائیو! شکر ادا کرنے والے تو ایسے بھی شکر ادا کرتے ہیں۔ ہمارا حال کیا ہے؟ ہم خود جانتے ہیں۔
ایبٹ آباد کے بوڑھے کا عمل
آج شیخ الحدیث حضرت مولانا عتیق الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم سے بات ہوئی۔ صوفی سرور صاحب دامت برکاتہم کے بیٹے ہیں۔ بہت متقی اور جید عالم ہیں۔ انہوں نے اپنا ایک واقعہ سنایا۔ کہنے لگے کہ ایک دفعہ ایبٹ آباد جانا ہوا۔ وہاں اُن کے ایک شاگرد رہتے تھے۔ اس شاگرد نے کہا کہ حضرت! میرے گھر چلیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے معذرت کی کہ ابھی ہم نے نہیں جانا۔ شاگرد نے تھوڑا اِصرار سے کہا کہ دور نہیں، بس اس پہاڑ کے پیچھے ہے۔ مولانا فرمانے لگے کہ وہ پہاڑ کے پیچھے نہ جانے ہمیں کہاں کہاں سے لے گیا۔ بس گاڑی چلتی ہی چلی گئی، پھر کہیں جا کر اس کا گھر آ ہی گیا۔ رات دیر ہوگئی تو طے ہوا کہ یہیں رُکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم نے اُن کے والد کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دونوں ہاتھ نہیں، دونوں ٹانگیں نہیں، ناف سے لے کر نیچے تک کا سارا حصہ مفلوج، ہلنے جلنے کے قابل نہیں، اپنا کوئی کام خود نہیں کر سکتے، لیکن اُن کی ایک عادت نے ہمیں حیران ہونے پر مجبور کر دیا۔ دو چار منٹ نہیں گزرتے تھے کہ زبان سے ہلکی سی آواز آتی تھی: اللہ! تیرا شکر ہے۔ یااللہ! تیرا شکر ہے۔ الحمدللہ تیرا شکر ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے وہاں رات گزاری۔ جتنی دیر بھی ہم اُن کے ساتھ بیٹھے رہے گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ۔ بس ہر دو منٹ بعد اللہ کا شکر ادا کرتے۔
مولانا عتیق الرحمن صاحب دامت برکاتہم فرما رہے تھے کہ آخر ہم نے اُن سے پوچھا کہ بھئی! کیا بات ہے، کس بات پر شکر ادا کر رہے ہیں؟ آپ کو کیا ہوا؟ اس پر اُن بزرگ نے چند ایمان افروز باتیں کیں جس سے ہمارا ایمان بڑھ گیا۔ وہ بزرگ کہنے لگے کہ میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور اس ایکسیڈنٹ میں جسم مفلوج ہوگیا تھا۔ اتنے بڑے حادثے میں اللہ تعالیٰ نے جان بچا لی، ایمان سلامت ہے، زبان سلامت ہے تو شکر ادا کرتا ہوں، اللہ سے دعائیں تو مانگ سکتا ہوں۔ اگر مر جاتا تو کہانی ختم ہو جانی تھی۔ میرے بیٹے، میرے گھر والے آکر مجھ سے مل لیتے ہیں۔ میں انہیں دیکھ لیتا ہوں تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔ یہ مجھ سے ملتے ہیں، میری خدمت کرتے ہیں۔ ایک نظام چل رہا ہے ناں، بند تو نہیں ہو گیا۔ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔
اللہ کی نعمتوں سے غافل نہ ہوں
اب دیکھیں کہ وہ معذور آدمی کن کن نعمتوں کا خیال کر کے شکر ادا کر رہا ہے۔ یہ آج کی بات ہے۔ ہمارے اسی زمانے کی بات ہے۔ شکر ادا کرنے والے توایسی ایسی باتوں پہ بھی شکر ادا کرتے ہیں۔ ذرا اب ہم بھی اپنے اوپر غور کر لیں۔ ہمارے پاس کتنے مواقع ہیں شکر ادا کرنے کے۔ یقین کر لیں کہ جس حال میں بھی اللہ نے ہمیں رکھا ہوا ہے، ہم چاہیں ناں کہ فلاں بندہ ہمیں اپنے سے بہتر لگ رہا ہے۔ اےاللہ! ہمیں اس کے حال میں تبدیل کر دے۔ یقین کر لیں کہ ہم تین دن نہیں گزار سکتے اس کے حال میں۔ اللہ نے جس کو جس حال میں رکھا ہے وہ اس کے لیے بہترین ہے۔
شکر ادا کرنے کے مواقع
ہمارے پاس شکر ادا کرنے کے لیے کون سے مواقع ہیں؟ غور کریں۔ اللہ ربّ العزّت نے کیا ہمیں ایمان عطا نہیں فرمایا؟ بے شک اللہ ربّ العزّت نے اپنی رحمت سے ہمیں ایمان عطا فرمایا۔ جس دن ہم پیدا ہوئے تھے اس دن دنیا میں مچھر، مکھی، کتا، کوئی بندر، کوئی بلا، کوئی گدھا، کوئی جانور بھی تو پیدا ہوا ہوگا۔ دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں جانور نہیں بنا دیا۔ اگر جانور بنا دیتا تو کوئی ڈگڈگی لے کر پھر رہا ہوتا اور ہم آگے آگے ناچ رہے ہوتے۔ ہمیں انسان کس نے بنایا؟ اللہ ربّ العزّت نے۔ پھر غور کریں! جس دن ہم پیدا ہوئے تھے اس دن کوئی کافر بھی تو پیدا ہوا ہوگا، کوئی ہندو، کوئی عیسائی، کوئی یہودی، یا کوئی اور کافر پیدا تو ہوا ہوگا، صرف مسلمان تو اس دن پیدا نہیں ہوئے ہوں گے۔ اللہ کی کتنی رحمت اور محبت کی نظر پڑی ہوگی کہ ہمیں مسلمان گھرانے میں بھیج دیا۔ بتائیے کہ یہ کوئی چھوٹی بات ہے؟ ہمیں اللہ کے لیے ایمان کے ساتھ جینا ہوگا۔ ایمان والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوتی ہے۔ پھر غور کریں کہ اللہ نے انسان بھی بنایا، ایمان بھی عطا کر دیا، تو یہ بھی ہو سکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کی، حضرت عیسیٰ کی، حضرت اِبراہیم کی اُمت میں پیدا فرما دیتے۔ اللہ کی کتنی محبت کی نگاہ پڑی ہوگی کہ رحمۃٌ للعالمینﷺ کی اُمت میں پیدا فرما دیا۔ کتنی بڑی بات ہے!
تنگ نظری کا مسئلہ
اصل میں مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری نظروں سے موت اور موت کے بعد کی زندگی ختم ہوگئی۔ وہ زندگی ہمیں نظر نہیں آتی تو اس کی سوچ بھی ختم ہو گئی۔ آج کی نئی روشی نے ہمیں صرف روٹی، کپڑا اور مکان لینا بنانا سکھا دیا ہے۔ دنیا، دنیا اور دنیا۔ اس سے آگے نظریں جاتی نہیںہیں۔ ہم نبوّت کی روشنی کو بھول گئے۔ پھر خصوصاً ختمِ نبوّت کی وہ روشنی جس نے ہماری دنیا کو بھی روشن کر دیا، ہمارے گھروں کو بھی روشن کر دیا، ہماری قبروں کو بھی روشن کر دیا، اور قیامت کے اندھیرے میں بھی روشنی عطا کی۔ سب کچھ ہمیں سمجھایا۔ ہمیں نبوّت کی روشنی سے دیکھنا سکھا دیا۔ مسئلہ یہی ہے کہ ہم صرف نئی تہذیب اور نئی روشنی کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس نئی روشنی کے چکر میں ہم قبر کے اندھیروں کو بھی بھول گئے۔ جب ہم اپنی قبر اور حشر کے اندھیروں کو یاد کر کے اپنی زندگی گزاریں گے تو اِن شاء اللہ کوئی مسئلے والی بات نہیں ہے۔ چوںکہ ہم اس نئی تہذیب، نئی روشنی کو بھلا سمجھتے ہیں۔ آج بچہ امتحان میں اگر 98٪ فیصد مارکس لے کر آئے، تو بعض دفعہ ماں غصہ کر دیتی ہے، دو اور کیوں نہیں لیے؟ ہم اتنا تیرے پہ خرچ کرتے ہیں، اتنی تجھ پہ محنت کرتے ہیں۔ اس پہ شکر نہیں ہے کہ اس نے 98 نمبر لے لیے۔ وہ جو نہیں لیے اس پہ لڑائی ہے۔ ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا سیکھیں، اللہ سے مدد مانگیں، اللہ تعالیٰ رحمت کا معاملہ فرمائیں گے اِن شاء اللہ۔
ایمان کے دو حصے
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور پاکﷺ نے حضرت انس سے فرمایا کہ اے انس! ایمان کے دو حصے ہیں: ایک حصہ شکر ہے، اور دوسرا حصہ صبر ہے۔
(مسند شہاب: رقم 150)
شکر کے ساتھ ہم اپنے ایمان کو مزیّن کریں، پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں کیسے آتی ہیں۔ اب یہ ملے گا کیسے؟ یہ دعائوں سے بھی ملے گا اور ہمت بھی کرنی پڑے گی، پھر اللہ تعالیٰ آسانی کا معاملہ فرما دیں گے۔ جب ہم اپنے اِرد گرد ایسے لوگوں کو دیکھنا شروع کریں جو دنیاوی ساز وسامان کے اعتبار سے ہم سے نیچے ہیں تو یقیناً شکر آتا چلا جائے گا۔ لوگ ایسے ایسے حالات بتاتے ہیں کہ وہ کتنی تکلیفوں میں ہیں۔
پلکیں، اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت
حضرت جی دامت برکاتہم العالیہ نے ایک دفعہ یہ واقعہ سنایا۔ ایک صاحب کا ایکسیڈنٹ ہو گیا جس میں اُن کی پلکیں ضائع ہو گئیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کو ہر تھوڑی دیر بعد پلکوں میں پانی چھڑکنا پڑے گا۔ کیوں؟ ڈاکٹر نے کہا کہ ہوا میں مٹی کے اتنے باریک ذرّات ہوتے ہیں جو نظر تو نہیں آتے، لیکن آپ اگر فرنیچر صاف کریں یا گاڑی کی اِسکرین صاف کریں تو گھنٹے دو گھنٹے بعد مٹی دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔ ہوا کے ذریعہ سے مٹی یا دھول اُڑتی ہے جو بظاہر ایسے دکھائی نہیں دیتی، لیکن کسی چیز پر جمتے جمتے تھوڑی دیر بعد نظر آجاتی ہے۔ اسی طرح بہت باریک ذرّات دھول مٹی کے ہماری آنکھوں پر جاتے ہیں۔ جب پلکیں بند ہوتی ہیں تو گاڑی کے وائپر کی مانند آنکھوں کی اسکرین کو صاف کر دیتی ہیں۔ ہوا کے اندر جتنی بھی ڈسٹ ہوتی ہے یہ پلکیں اسے صاف کر دیتی ہیں۔ یہ اللہ کریم کا آٹومیٹک نظام ہے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ چوںکہ اب آپ کا یہ نظام خراب ہو چکا ہے، یہ پلکیں ختم ہو چکی ہیں۔ اب آپ نے ہر تھوڑی دیر بعد اِن پر پانی ڈالنا ہے تا کہ یہ صاف رہیں۔ اب جناب! انہوں نے پانی ڈالنا شروع کر دیا۔ ایک دو مہینہ تو ڈال لیا، لیکن ایک دو مہینے میں یہ جگہ اتنی سینسٹیو ہو گئی کہ جب وہ پانی ڈالتے تو ایسا لگتا جیسے تیزاب ڈال رہے ہوں۔ تکلیف کے عالَم میں پریشان ہو کر پھر ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ جی! ہمارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں۔
ہم سوچیں کہ یہ پلکیں ہم دن میں کتنی مرتبہ بند کرتے ہیں اور کھولتے ہیں؟ ہم جتنا مرضی زور لگا کر بھی اسے گن نہیں سکتے۔ کبھی اس کا ہم نے شکر ادا کیا ہے؟ یہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہ آنکھیں کتنی بڑی نعمت ہیں۔ ہر ہر چیز اپنی جگہ مکمل ہے۔ اس کا کوئی بدل نہیں ہے۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ جی! ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ کوئی ہے ایسا جو دس لاکھ کی ایک آنکھ دینا چاہتا ہو؟ دونوں آنکھیں بیس لاکھ کی دے دے۔ کوئی بھی نہیں دے گا۔ کسی بھی قیمت پر نہیں دے گا۔ ہرہر نعمت اللہ تعالیٰ کی بہترین ہمارے پاس موجود ہے تو اسے شریعت وسنت کے مطابق استعمال کریں۔
کھلے وال، اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت
حضرت جی دامت برکاتہم العالیہ نے ایک اور واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ امریکہ کے سفر میں ایک صاحب کے گھر میں رہائش تھی جو ڈاکٹر ہیں۔ رات کے وقت سب لوگوں کے لیے الگ بستر، مگر ڈاکٹر صاحب کے لیے نہیں۔ پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ کے لیے بستر کیوں نہیں؟ کہنے لگے کہ جی حضرت! میں لیٹ کر سونے کی نعمت سے محروم ہوں۔ بھئی! کیا مطلب؟ کہنے لگے کہ میرا وال لیک کر گیا ہے۔ بھئی! کیا مطلب وال لیک کر گیا ہے؟ کہنے لگے کہ جب انسان کھانا کھاتا ہے تو غذا کی نالی کھل جاتی ہے، اس پر ایک وال ہے جو کھل جاتا ہے اور کھانا اندر چلا جاتا ہے۔ جیسے ہی کھانا چلا جاتا ہے تو آٹومیٹک وہ وال بند ہو جاتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد اگر انسان لیٹ جائے، رکوع میں چلا جائے، سجدے میں چلا جائے تو وہ باہر نہیں آتا۔ منہ میں ڈالا، وال کھلا اور کھانا اندر اور آٹومیٹک بند ہو گیا۔ آپ سجدہ کریں وہ وال بند ہے، کھانا باہر نہیں آسکتا۔ کہا کہ میرا وہ وال لیک کر گیا ہے۔ میں کھانا کھاتا ہوں، اندر چلا جاتا ہے۔ اگر میں لیٹ جائوں یا سجدہ کروں تو چوںکہ وال بند ہے تو واپس بھی آجاتا ہے۔ اللہ اکبر کبیراً!
یہ کون سی نعمت ہے؟ اس کا ہمیں پتا بھی کوئی نہیں۔ تو ہمارے اپنے جسم کے اندر اتنی نعمتیں ہیں جو ہم شمار نہیں کر سکتے۔ خود اللہ ربّ العزّت قرآنِ کریم میں دو جگہ سورۂ نحل اور سورۂ ابراہیم میں اِرشاد فرماتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے میرے بندو! اگر تم میری ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہو جو میں نے تمہیں دی ہیں تو تم شمار بھی نہیں کر سکتے۔
شکایت دور کریں
آج ہم میں سے جسے بھی شکایت ہے کہ ہمارے پاس یہ نہیں ہے، وہ نہیں ہے۔ وہ برائے مہربانی دو پرچے ، یا دو کاغذ لے لیں الگ الگ۔ ایک پر اُن نعمتوں کو لکھنا شروع کریں جو ہمارے پاس ہیں، اور دوسرے پر وہ چیزیں لکھیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ جو نہیں ہے والا پرچہ تو ایک گھنٹے میں یا زیادہ سے زیادہ ایک دن میں بھر جائے گا۔ اور جو دوسرا والا پرچہ ہے ناں، اسے آپ بھرتے چلے جائیں گے لیکن یہ نہیں بھرتا۔ دونوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لیں۔ اتنی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں۔ پھر طریقہ بھی بتا دیا کہ دیکھو! اگر کوئی نعمت جتنی دی تو اس میں ہماری حکمت ہے، جس کو دی ہے وہ بھی آزمایش میں ہے۔ جس کو نہیں دی وہ بھی آزمایش میں ہے کہ اصل معاملہ تو آخرت کا ہے۔ جس کے پاس مال زیادہ ہے اس کو بھی موت آنی ہے، اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو بھی موت آنی ہے۔ قبر میں تو جا کر کوئی نہیں بتا سکتا کہ یہاں کا امیر کون ہے، اور یہاں کا غریب کون۔ فیصلے تو جنت کے قیامت کے دن ہونے ہیں۔ اگر ہمارے سامنے آخرت ہو، قبر ہو، موت کا خوف ہو تو پھر پریشانی کی کوئی بات نہیں ہوگی۔ ہم شکر ادا کریں، اللہ تعالیٰ رحمت فرمائیں گے۔ شکر ادا کرنے کے لیے دعائیں بھی سکھائی گئی ہیں۔
حضرت سلیمان کی دعا
حضرت سلیمان نے بھی اللہ تعالیٰ سے ایک دعا کی تھی۔ قرآن مجید میں سورۂ نمل میں اللہ ربّ العزّت نے اس دعا کو ذکر فرمایا ہے۔ وہ کونسی دعا ہے؟
رَبِّ اَوْزِعْنِىْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيْٓ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىہُ وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ۝۱۹ (النمل: 19)
ترجمہ: ’’ میرے پروردگار! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لیجیے‘‘۔
اس دعا کو یاد کریں اور پڑھیں۔ ایک دعا نبی کریمﷺ نے بھی بتائی ہے۔
نبی کریمﷺ کی دعا
حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ فرض نماز کے بعد اس دعا کو ہمیشہ پڑھتے رہنا، اسے کبھی نہ چھوڑنا:
اَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ. (سنن أبي داود: رقم 1522)
ترجمہ: اے اللہ! میری مدد فرما کہ میں آپ کا ذکر اور شکر اور اچھی عبادت کرنے والا بن جائوں۔
شکر کی نعمت بھی دعائوں سے ملے گی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے مانگنا شروع کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل کرے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ (سبأ: 13)
ترجمہ: ’’ اورمیرے بندوں میں کم لوگ ہیں جو شکر گزار ہوں‘‘۔
اللہ ربّ العزّت ہمیں شکر کرنے والوں میں شامل فرمائے اور ناشکری سے محفوظ فرمائے۔ اپنی نعمتوں کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں