28

طلاق اور خلع میں کیا فرق ہے؟

طلاق اور خلع میں کیا فرق ہے؟

طلاق اور خلع میں کیا فرق ہے تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں
اَلْجَوَابُ حَامِدًاوَّمُصَلِّیًاوَّمُسَلِّمًا:
طلاق اور خلع میں فرق یہ ہے کہ خلع کا مطالبہ عموماً عورت کی جانب سے ہوتا ہے، اور اگر مرد کی طرف سے اس کی پیشکش ہو تو عورت کے قبول کرنے پر موقوف رہتی ہے، عورت قبول کرلے تو خلع واقع ہوگا، ورنہ نہیں۔ جبکہ طلاق عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں، وہ قبول کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔
دُوسرا فرق یہ ہے کہ عورت کے خلع قبول کرنے سے اس کا مہر ساقط ہوجاتا ہے، طلاق سے ساقط نہیں ہوتا، البتہ اگر شوہر یہ کہے کہ تمہیں اس شرط پر طلاق دیتا ہوں کہ تم مہر چھوڑ دو اور عورت قبول کرلے تو یہ بامعاوضہ طلاق کہلاتی ہے اور اس کا حکم خلع ہی کا ہے۔
خلع میں شوہر کا لفظ ”طلاق“ استعمال کرنا ضروری نہیں، بلکہ اگر عورت کہے کہ: ”میں خلع (علیحدگی) چاہتی ہوں“، اس کے جواب میں شوہر کہے: ”میں نے خلع دے دیا“ تو بس خلع ہوگیا۔ خلع میں طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے، یعنی شوہر کو اب بیوی سے رُجوع کرنے یا خلع کے واپس لینے کا اختیار نہیں، ہاں! دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
بحوالہ آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد۵/ ۳۷۲ مکتبہ لدھیانوی ۔
فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں