128

ظاہروباطن اور داڑھی

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
قَالَ النَّبِیُّﷺ: مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْہُمْ (سنن ابی دائود: رقم الحدیث 3512)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

ہماری بات چیت بالوں کے بارے میں چل رہی تھی۔ سر کے بالوں سے متعلق تفصیلات گزچکیں۔  اس کا لب لباب یہ ہے کہ یا تو انسان آدھے کان تک بال رکھے یہ مسنون ہے، یا کان کی لو تک رکھے، یا شانوں یعنی کندھوں تک رکھے۔ یہ تینوں باتیں سنت ہیں۔ اگر حلق کروانا چاہے، گنجا ہونا چاہے تو سارے سر کو مونڈھ سکتا ہے۔ اور جائز درجہ یہ ہے کہ تمام سر کے بال ایک جیسے ہوں جو آج کل Trend چل رہا ہے۔ کہ سر کے درمیان کے بال زیادہ اور سائیڈوں سے بال کم یہ مسلمانوں کا شعار نہیں اور یہ گناہ ہے۔ اور یہ گناہ بھی ایسا ہے کہ جب تک ایسے بال سر پر ہیں انسان گناہ گار رہے گا۔ ہماری آج کی بات داڑھی کےموضوع پر ہے۔ اسلام میں داڑھی کا معاملہ اتنا سادہ اور اتنا آسان ہے کہ جیسے کیلے کا درخت ہو اس پر کیلے کا آجانا کوئی مشکل بات تو نہیں ہے آنے چاہییں، آم کا درخت ہو اس پر آم آجائے تو ٹھیک ہے فطری عمل ہے۔ ہاں آم کے درخت پہ آم نہ آئیں اب غیر فطری بات ہوگی، اب پریشانی کا معاملہ ہوگا۔ اسی طرح مسلمان ہو اور داڑھی ہو تو فطری بات ہے اس میں کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ پریشانی کب ہے کہ مسلمان ہو اور داڑھی نہ ہو یہ پریشانی کی بات ہے۔ اسلام میں یہ معاملہ بہت آسان، بہت سادہ اور بہت کھلا ہوا ہے۔ آج کل کے زمانے میں ہم لوگوں نے اس کو پیچیدہ بنادیا ہے کیوں؟ اپنے نفس کی خرابی کی وجہ سے۔ آئیے حضور پاکﷺ کی باتوں کو سنیے! کہ آپﷺ کا چہرہ مبارک کیسا تھا داڑھی اس پہ تھی تو کیسی تھی؟
نبی اور اصحاب النبیﷺ کی داڑھی کی کیفیت
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ آپﷺ کی داڑھی مبارک گھنی تھی۔
(مسلم: صفحہ259، دلائل صفحہ217)
حضرت جابر بن سمرۃ فرماتے ہیں کہ آپﷺ کی ڈاڑھی کے بال گھنے تھے۔
(ابن سعد: صفحہ430)
حضرت علی سے روایت ہے کہ آپﷺ کا سر مبارک بڑا اور داڑھی مبارک بڑی تھی۔
حضرت ابوبکر صدیق کی بھی داڑھی گھنی تھی۔ سیدنا علی کی داڑھی اتنی گھنی تھی کہ سینے کے دونوں طرف کو گھیر لیا کرتی تھی۔ جبکہ حضرت عثمان کی داڑھی قدرتًا گھنی نہیں تھی۔ (سبل، جلد2 صفحہ 34)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضورپاکﷺ کی داڑھی مبارک سیاہ تھی، البتہ آخری عمر میں چندبال سفید ہوگئے تھے۔ آپﷺ گنجان داڑھی والے تھے۔ مشکوٰۃ شریف کی روایت ہے حضرت انس نے فرمایا کہ آپﷺ بہت کثرت کے ساتھ سر میں تیل لگاتے اور اپنی داڑھی مبارک میں کنگھی کرتے تھے۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی داڑھی مبارک میں خلال بھی کرتے تھے۔ (مشکوٰۃ، صفحہ321)
واضح سی بات ہے کہ داڑھی پوری ہوگی تو خلال بھی ہوگا اور کنگھی بھی۔ اگر داڑھی پوری نہ ہوگی تو نہ خلال نہ کنگھی۔ ابن جریر لکھا ہے کہ آپﷺ کے پاس ہاتھی کے دانت کی کنگھی تھی جس سے آپ داڑھی میں کنگھی فرمایا کرتے تھے۔ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺآئینہ دیکھ کر داڑھی کو درست فرماتے۔ طبرانی شریف میں روایت ہے کہ جب داڑھی میں کنگھی فرماتے تو آئینے کو دیکھا کرتے۔ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ آپﷺ ہمیشہ مسواک اور کنگھی کو پاس رکھا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جیب میں کنگھی رکھنا بھی سنت ہے۔
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ آپﷺ کو ہر چیز میں دایاں کام دائیں طرف سے پسند تھا۔ ہر وہ چیز جو زینت کے اعتبار سے ہو، خوبصورتی کے اعتبار سے ہو اس میں نبی دائیں طرف کو پہلے اختیار کیا کرتے تھے۔ مسجد میں داخل ہونا دائیں طرف سے، گھر میں داخل ہونا دائیں طرف سے، داڑھی کے بال بنانا دائیں طرف سے، سر کے بال بنانا دائیں طرف سے، کپڑے پہننا دائیں طرف سے، یہ نبی کی مبارک عادت تھی۔ ہاں جو چیز زینت سے ہٹ کر ہے جیسے بیت الخلاء جانا تو وہاں جب پہلے قدم رکھتے تو بایاں پائوں رکھا کرتے تھے۔ یہ نبی کی سنت ہے۔
داڑھی کو صاف رکھنا اور خوشبو لگانا
اب جو آدمی داڑھی رکھے، اس کو سنوارے بھی، صاف بھی رکھے ایسے ہی گندا نہ چھوڑدے۔ بعض لوگ کسی کی گندی داڑھی کو بھی کہتے ہیں کہ واہ جی واہ! بڑا پہنچا ہوا ہے۔ہاں! وہ کہیں اور پہنچا ہوا ہے نبی کے طریقے تک نہیں پہنچا ہوا بیچارا۔ نبی کا طریقہ کیا ہے؟ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ حضور پاکﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے سر کے اور داڑھی کے بال منتشر تھے تو آپ نے اس کو کہا کہ دیکھو! اپنے سر اور داڑھی کے بال کو ٹھیک کرو اور سنوار کر آئو، اس کو درست کرکے آئو۔ اعتدال کی بات یہی ہے۔ نبی داڑھی کے بالوں کو پانی لگا کر بھی صاف کیا کرتے تھے۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ آپ داڑھی مبارک میں پانی لگاتے اور اس کو سنوارا کرتے تھے۔
پانی لگا کر سنوارنے اور کنگھی کرنے میں بال کم ٹوٹتے ہیں۔
اسی طرح نبی داڑھی میں خوشبو بھی لگایا کرتے تھے۔ (سبل جلد7صفحہ346)
حضرت سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ آپﷺ سر میں اور داڑھی میں خوشبو لگایا کرتے تھے۔ (مرقات، جلد 4 صفحہ 462)
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ میں بہترین خوشبو، بہت اعلیٰ خوشبو نبی کو لگاتی یہاں تک کہ خوشبو کا نشان بھی آپﷺ کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں نظر آجاتا۔
جب نبی داڑھی میں تیل بھی لگایا کرتے تھے تو ہم تیل کیسے لگایا کریں؟ سنت تو یہ ہے کہ ڈاڑھی پوری ہو۔ ڈاڑھی میں تیل لگانا، یہ الگ سنت ہے۔ صحابہ کرام کو نبی سے اتنی محبت تھی کہ ایک ایک چیز کو نوٹ کرکے آگے امت کو نقل کردیا۔ ہمارے پاس آج نبی کی مبارک زندگی موجود ہے۔ ہاں! اب ہم خود ہی رسائی حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں تو یہ ہمارا نقصان ہے۔ ہم فیس بک پہ بیٹھتے ہیں،  انٹرنیٹ پہ بیٹھتے ہیں وہاں سے یہ چیزیں نہیں ملیں گی۔ یہ چیزیں تو اللہ والوں سے ملیں گی۔
نبی کے بارے میں آتا ہے کہ امی عائشہ نے فرمایا کہ آپﷺ جب ڈاڑھی میں تیل لگاتے تو اول اس ریش بچہ میں لگاتے تھے۔ یہ جو نچلے بال ہونٹ کے نیچے ہیں، یہاں سے شروع فرماتے۔ اس کو علماء نے ریش بچہ لکھا یعنی ڈاڑھی کا بچہ۔ جس طرح انسان اپنے بچوں کا خیال رکھتا ہے، اس کو چاہیے کہ ڈاڑھی کے بچے کا بھی خیال رکھے۔ نبی یہاں سے ابتدا میں تیل لگایا کرتے تھے۔
غم کی حالت میں ایک سنت عمل
بعض اوقات نبی غم کی حالت میں ہوتے تھے۔ حدیث شریف میں آتا ہے صحابہ کرام نے فرمایا کہ جب نبی غمگین ہوتے تو اپنی داڑھی مبارک کو پکڑ لیا کرتے تھے۔ یعنی  دست مبارک سے پکڑلیتے تھے۔ یہ دلیل ہے کہ نبی کی ڈاڑھی بڑی تھی، چھوٹی ڈاڑھی ہاتھ میں نہیں آتی۔اس طرح ہاتھ میں ڈاڑھی کو پکڑنے سے صحابہ کو پتہ لگ جاتا کہ آقا کو غم ہے۔ ریش بچہ کے جو بال تھے اس میں سے چند بال سفید تھے۔ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ سترہ یا بیس بال سفید تھے۔ عجیب بات ہے کہ حضرات صحابہ کرام آقاﷺ کو کتنی ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہوں گے کہ بالوں کو گن بھی لیا کرتے تھے کہ کتنے بال سفید ہیں۔ علماء نے لکھا کہ ان بالوں کو جو ریش بچہ کہلاتے ہیں، ان کو کاٹنا بدعت یعنی خلاف سنت ہے اور گناہ ہے۔ امیر المومنین حضرت فاروق اعظم جس شخص کو دیکھتے کہ اس نے اس کو کاٹا ہوا ہے تو فرماتے کہ اس کی شہادت قبول نہ کرو اس کی گواہی قبول نہ ہوگی۔ اتنا اس کا خیال رکھنے کا حکم ہے۔
داڑھی کی سنت مقدار
داڑھی کا لمبا ہو جانا بہت اچھی بات ہے اور یہ نبی سے ثابت ہے۔ اب بہت ہی زیادہ لمبی ہوجائے کہ بری لگنے لگے، اس کے بارے میں بھی نبی کی بات کو سنیے! حضرت فاروق اعظم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے داڑھی چھوڑ رکھی تھی اور بہت لمبی ہوگئی تھی، آپ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ مٹھی سے جو نیچے ہو اسے کاٹ دو اس نے کاٹ دیا۔ آپ نے فرمایا: اس طرح کیوں چھوڑ دیتے ہو کہ درندے کی طرح ہوجائو۔ یعنی اتنی بڑی ہوجائے کہ بدنما لگنے لگے۔ چنانچہ اُس کو مٹھی سے زیادہ فاروق اعظم نے کٹوادیا۔ اگر یہ خلاف سنت ہو تا، بہت لمبی داڑھی کو کاٹ کر ایک بالشت کے برابر کرنا تو فاروق اعظم یہ کام نہ کرواتے۔ عاشق رسول تھے اور نبی کی سنت کو اور دین کو جاننے والے، سمجھنے والے، عمل کرنے والے اور عمل کروانے والے تھے۔ ایک مٹھی سے کم داڑھی کاٹنا منع ہے، زیادہ ہوجائے تو گنجائش ہے۔ ترمذی شریف کی ایک روایت ہے حضرت عمر بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت ہے کہ آپﷺ داڑھی مبارک کو طول وعرض سے کم کیا کرتے تھے۔ (ترمذی، باب ماجاء فی الاخذ من اللحیۃ)
اس وقت جب بہت بڑی ہو جاتی تھی تب آپﷺ یہ کام کیا کرتے۔ بیہقی کی روایت ہے حضرت ابوہریرہ اپنی داڑھی کوپکڑلیتے پھر جو مقدار مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیا کرتے ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حضرت حسن مٹھی سے زائد لمبی داڑھی کو کاٹ دیا کرتے تھے۔ (بیقہی، شعب الایمان جلد5 صفحہ22)
اور ابن ابی شیبہ میں ہی ہے کہ حضرت علی چہرے کی جانب داڑھی کو کچھ کاٹ دیا کرتے تھے جب وہ بڑی ہوجایا کرتی تھی۔
حضرت حسن بصری لمبائی اور چوڑائی سے کچھ داڑھی کو کاٹا کرتے تھے تاکہ بہت زیادہ لمبی نہ ہوجائے۔ اور ’’فتح الباری‘‘ کے اندر یہ روایت موجود ہے۔ اسی طرح آپﷺ نے داڑھی کو کم کرنے سے منع کیا۔ جب ڈاڑھی ایک بالشت سے کم ہو تو اسے کاٹنا یا مزید کم کرنا منع ہے اور اسے گناہ بتایا گیا ہے۔ اچھا داڑھی کے اندر بعض دفعہ سفید بال آجاتے ہیں۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
(فتح الباری جلد10 صفحہ1350)
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سفید بال قیامت کے دن کا نور ہیں۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سفید بال مت کھینچو! یہ مسلمان کا نور ہیں۔ (بیہقی صفحہ 386)
جس کے بال اسلام کی حالت میں سفید ہوئے ہوں اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے نیکیاں لکھے گا اور گناہوں کو معاف فرمائے گا اور درجات کو بلند فرمائے گا۔ ایک تابعی حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس نے اپنی داڑھی میں سفید بالوں کو دیکھا وہ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ داڑھی میں سفید بال آگئے، تب عرض کی: اللہ میاں! یہ کیا ہے اے اللہ! یہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا:
ھٰذاوَقَارٌ. یہ آپ کا وقار ہے۔ (مؤطا امام مالک)
تو آپ فرمانے لگے: اے اللہ! اس کو اور زیادہ کردے۔
سفید بال اگر داڑھی میں آجائیں تو ایمان والے کا وقار ہے اور اس کی دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ! اس کو اور کر دے۔ شرح حیاء میں ہے کہ ابراہیم کی داڑھی کے جب کچھ بال سفید ہوگئے تو فرشتے نے کہا: اللہ پاک نے آپ کو زمین اور آسمان والوں پر عظمتیں عطا فرمائی ہیں اس سے پہلے کسی کے بال سفید نہیں ہوئے تھے اور شرح ا حیاءمیں یہ بھی ہے کہ سفید بالوں کو چننا یا ان کو اُتارنا یہ اللہ تعالیٰ کے نور سے اعراض کرنے کے برابر ہے۔
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دس چیزیں فطرت ہیں اور حضرات انبیاء کی سنت ہیں ان میں دوچیزیں یہ ہیں۔: مونچھوں کو کتروانا اور داڑھی کو بڑھنے دینا۔ (مسلم جلد1صفحہ 129)
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمرi سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو بڑھائو۔ (بخاری جلد1 صفحہ 857)
اللہ اور اس کے رسولﷺ کے دشمنوں کی مخالفت کرو داڑھی بڑھائو۔ یعنی جو داڑھی نہیں بڑھا رہا گویا یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مشرکین کی حمایت کررہا ہے۔ یہ آقا کے الفاظ ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء جتنے بھی آئے حضرت آدم سے لے کر رسول اللہﷺ ہر نبی کی داڑھی تھی۔ اس مقدس پاکیزہ ترین ہستیوں کے اس سلسلے میں ایک بھی ایسا نہیں کہ جس کی داڑھی نہ ہو۔ تمام انبیاء خوبصورت تھے۔ حضرت یوسف بہت خوبصورت تھے۔ اگر داڑھی بدنما کوئی چیز ہوتی تو میرے بھائیو! اللہ پھر اپنے محبوب کو دیتے؟ بتائیں! اگر داڑھی کاٹنا خوبصورتی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو نہ دیتے۔ معلوم یہ ہوا کہ داڑھی مرد کی زینت ہے جب نبی کو مل گئی تو بات ختم ہوگئی اس کے بعد اب بات کوئی نہیں رہتی ۔
ایمان والے کے لیے اتنا کافی ہے۔ جس کو نبی سے محبت ہے، اس کے لیے نبی کی سنت کو اپنانا آسان ہے۔ ہاں جس کو محبت نہیں اس کا معاملہ اور ہے۔ تمام آئمہ، محدثین، فقہاء، مجتہدین، آئمہ اربعہ اور سارے آئمہ داڑھی کے وجوب پر ایک ہی رائے رکھتے ہیں۔ کسی نے بھی داڑھی کو مونڈھنے کی، کاٹنے، شیو کرنے کی، چھوٹی چھوٹی داڑھی جیسے بعض عربی لوگ رکھ لیتے ہیں، کسی بھی محدث یا فقیہ نے اجازت نہیں دی۔ داڑھی کا بڑھنے دینا مطلقًا فطرت ہے۔ اس کا مونڈھنا تخلیق خداوندی کو بگاڑنا ہے، خدا کی پیدا کردہ صورت اور نظام میں تبدیلی کرنا ہے۔ شیطان نے کہا تھا کہ میں انہیں حکم دوں گا اور پھر یہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے۔ سورۃ النساء کی آیت 119 کاترجمہ بتارہا ہوں۔ اور العیاذ باللہ! آج ہم وہی کام کررہے ہیں۔ داڑھی شعائر اسلام میں سے ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی وضو فرماتے تو ہتھیلی میں پانی لیتے اور داڑھی کا خلال فرمایا کرتے تھے۔ (سنن ابی دائود)
امام محمد فرماتے ہیں اپنی مشہور کتاب ’’کتاب الآثار‘‘ میں ایک مٹھی سنت داڑھی کی مقدار ہے، اس طرح سے الٹا کرکے کہ داڑھی مٹھی میں لے اور جو زائد ہو وہ کاٹنا چاہے تو کاٹ لے۔
حضرت لوط کی قوم تھی جسے برباد کیا گیا۔ انہیں آسمان تک اُٹھایا گیا اور پھر اُلٹا پٹخ دیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں ایک عمل تو ہم سب جانتے ہیں کہ مرد مرد سے اپنی خواہش کو پورا کیا کرتا تھا۔ یہ بہت برا عمل ہے، اللہ تعالیٰ کو شدید نفرت ہے۔ اور آج ہمارے معاشرے میں کھل کے ہوتا ہے اللہ ہماری حفاظت فرمائے! وہ تو نبی کی دعائیں ہیں ورنہ ہمارے ساتھ پتا نہیں کیا ہوچکا ہوتا۔ ’’درمنثور‘‘ میں حسن بصری سے روایت ہے کہ ان کے اندر دس گناہ تھے۔ ایک وہ تھا جس کی وجہ سے وہ مشہور ہوئے۔ دوسرا فرمایا کہ داڑھی منڈایا کرتے تھے۔ یہ بھی ان پر عذاب کی ایک وجہ تھی۔ بہرحال ہمیں بھی چاہیے کہ نبی کے مبارک چہرے کے مطابق اپنا چہرہ بنائیں۔
آئینہ دیکھنے کی سنت
حضرت علی سے منقول ہے کہ نبی جب آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے اور چہرے مبارک کو دیکھتے تو یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِیْ، فَأَحْسِنْ خُلُقِیْ.
(مسند احمد، مسند ابی یعلی، شعب الایمان للبیہقی من روایۃ عائشۃ)
ترجمہ: اے اللہ! جس طرح آپ نے میرے چہرے کو خوبصورت بنایا، اللہ! میرے اخلاق بھی خوبصورت بنادیجیے۔
تو بھئی! نبی کا چہرہ خوبصورت ہے کہ نہیں؟ مانتے ہیں ناں کہ خوبصورت ہے، تو آقاﷺ کا چہرہ تو داڑھی کے ساتھ ہے۔
ظاہر اور باطن کا باہمی تعلق
اب چند باتیں اپنے اکابر ہی کی کتابوں میں سے کرنی ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 
وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ (الأنعام: 120)
چھوڑ دو وہ گناہ جو تم ظاہر میں کرتے ہو، اور وہ بھی چھوڑ دو جو تم باطن میں کرتے ہو۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی! اندر ٹھیک ہونا چاہیے، ظاہر سے کیا ہوتا ہے۔ اندر سے ہم پکے مسلمان ہیں، باہر سے کیا ہوتا ہے۔ جی (شکل و صورت کا کیا معاملہ) لباس کا کیا معاملہ، اندر سے ہم پکے عاشق رسول ہیں، پکے مومن ہیں۔ اس بات کو بھی دیکھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم ظاہری گناہ کو بھی چھوڑو اور باطنی گناہ کو بھی چھوڑو۔ ظاہر میں بھی نیکی اختیار کرو باطن میں بھی نیکی اختیار کرو۔
شریعت کے مطابق ظاہر اور باطن کا آپس میں کیا ربط ہے، اس بارے میں چند باتیں مثالوں سے سنیے اور سمجھیے! ظاہر کاباطن سے بڑا پکا اور گہرا تعلق ہے۔ یہ جو کہہ دیتے ہیں، دل صاف ہونا چاہیے، دل کا پردہ ہونا چاہیے۔ دیکھیے! ایک آدمی ہے (صاف اس نے ستھرے کپڑے پہنے۔ کہیں جارہا ہے کہ اتنے میں گھر سے چھوٹی بچی آئی کچن سے، اور اس کے ہاتھ سے کھانے کے چند قطرے گر کر نئے لباس کے دامن میں پڑگئے۔ اب بتائیں! لباس تو ظاہر میں پہنا ہوا ہے قطرے بھی باہر پڑے، اس کے دل پر اثر ہوتا ہے نہیں؟ اچھا یہی چھینٹے  اس کے چہرے پہ پڑجائیں اب دل کے اوپر کتنا اثر ہوگا؟ اچھا بجائے کے چھینٹوں کے پیشاب کے چھینٹے  پڑجائیں تو اب کیا حال ہوگا؟ ظاہر کا باطن کے اوپر اثر ہوتا ہے، یہ بات ثابت ہوجاتی ہے۔
یہاں سے ایک بات اور سمجھ لیں۔ ما شاءاللہ آپ مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی مغرب کی نماز آپ نے پڑھی۔ سمجھانے کی غرض سے بات کررہا ہوں۔ کہ امام صاحب آئیں اور صرف انہوں نے گھٹنے چھپائے ہوئے ہوں اور ناف چھپی ہوئی ہو، اتنا سالباس پہنا ہو کہ  ناف کو چھپالیں اور گھٹنوں کو چھپالیں اور آکر کہیں کہ میں نے عشاء کی نماز پڑھانی ہے۔ آجائو! قرآن مجھے اسی طرح یاد ہے حدیث مجھے اسی طرح معلوم ہے، نماز کے مسائل مجھے اسی طرح معلوم ہیں۔ اب یہاں دیکھیں کہ  فرض تو پورا کرلیا جیسے آپ کہہ دیتے ہیں کہ سنت کی کیا ضرورت ہے فرض پورا ہوجائے یہ بڑی بات ہے۔ یہی امام صاحب کہیں  کہ جی! فرض تو میں نے پورا کرلیا، فقہاء نے لکھا ہے کہ اس سے فرض پورا ہوجاتا ہے ستر چھپ جاتا ہے۔ تو ہم میں سے ہاتھ کھڑا کرکے بتائیں کون ان کے پیچھے نماز پڑھے گا؟ کہیں گے جناب! لگتا ہے آپ کے دماغ میں کوئی مسئلہ ہوگیا ہے علاج کروائیے۔ اسی طرح اعمالِ ظاہرہ کا باطنہ پہ اثر آتا ہے۔
جو آدمی بیعت ہے، معمولات کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے، مراقبہ کی پابندی کرتاہے وہ اپنے دل کے اوپر کیفیات کو محسوس کرتا ہے۔ اور جو نہیں کرتا وہ ان کو محسوس بھی نہیں کرتا حتٰی کے حدیث سے بھی اس کی دلیل لے لیجیے۔ نبی کریمﷺ جب نماز کے لیے صفیں سیدھی فرماتے تو بالکل تیر کی طرح سیدھی فرماتے تھے۔ (متفق علیہ)
یہاں ایک طرف سے سے تیر چلائیں دوسری طرف کی صف سے نکل جائے، اتنا خیال فرماتے تھے۔ صحابہ کی صفوں کو نماز میں ٹھیک فرماتے اور فرماتے کہ دیکھو! تمہاری صفیں اگر ٹیڑھی ہوگئیں تو تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے۔
(مسلم حدیث ابی مسعودh:رقم الحدیث:432)
تو ظاہر کا اثر باطن پہ ہوا کہ نہیں ہوا؟ ظاہر میں صف ٹیڑھی ہورہی ہے لیکن آقاﷺ خبردے رہے ہیں کہ دل ٹیڑھے ہوجائیں گے۔ اس لیے اس فتنے کے دور میں بعض کہہ دیتے ہیں کہ جی! ظاہری گناہ کو چھوڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ باطن ٹھیک ہونا چاہیے۔
اگر ہم غور کریں تو ہم اپنے ظاہری معاملات میں بھی اور اپنے دنیاوی معاملات میں بھی اپنے ظاہر پہ ضرور نظر رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر بیگم صاحبہ نے آپ کو کہا کہ آپ کیلا لے آئیے گا بچہ کو کھلانا ہے۔ آپ فروٹ کی دوکان پر جائیں، وہاں کیلے پڑے ہوئے ہوں، اور اس کا جو ظاہری لباس یعنی چھلکا ٹھیک نہ ہو۔ اب آپ دیکھ کر اس سے کہیں گے کہ کوئی اور ہے؟ بیچنے والا کہتا ہے: نہیں جناب یہ بہترین ہے اندر سے بہت اچھا ہے اس کا باطن بہت ہی پیارا ہے۔ آپ کہیں گے کہ نہیں! تیرے کہنے کی بات نہیں، دیکھنے کا دل نہیں کررہا، جب باہر سے اچھا نہیں تو اندر سے کیسے اچھا ہوگا۔ آپ چھوڑ کے چلے جائیں گے۔ اسی طرح کسی نوجوان کا رشتہ جائے۔ یہ ان لوگوں کی بات ہورہی ہے جو یوں کہتے ہیں کہ جی باطن ٹھیک ہونا چاہیے۔ لڑکی بڑی خوبصورت، ہر چیز ٹھیک ہے، پتا یہ لگاکہ اس کا کان کٹا ہوا ہے لیکن سماعت بالکل ٹھیک ہے۔ کان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ بات کو پہچان لے کس کی آواز ہے؟ چھوٹے کی بڑے کی، محبت میں غصہ میں لہجے کو پہچان لے، آواز کو پہچان لے،بات کو سمجھ لے تو کان کا باطن تو یہ بھی ہوا۔ اگر کسی کا کان ہو اور اس کے اندر سنوائی نہ ہو تو وہ بہرہ کہلائے گا۔ لڑکی کی ماں بتائے کہ بیٹا! کان تو کٹا ہوا ہے ظاہری لیکن جو کان کا مقصد ہے باطن وہ ٹھیک ہے۔ تو کون اس سے شادی کرےگا؟ نہیں جی! ہمیں ظاہر کو بھی دیکھنا ہے کان کٹی نہیں لے کر آئیں گے، پر کٹی لے آئیں گے وہ الگ بات ہے۔ پر کٹی لے آئیں پھر اپنے پر کٹوائیں گے۔
ایک بزرگ حضرت شاہ ابرار الحق فرماتے تھے کہ دیکھو! ظاہر کا اثر ہوتا ہے۔ بعض دفعہ ظاہری چیزوں سے انسان کی جان بچ جایا کرتی ہے کسی جان دار کی جان بچ جاتی ہے۔ اس پر حضرت کبوتر کی مثال دیتے سادہ زمانہ تھا سادہ مثال دیکھو! کبوتر کے پر اگر کاٹ دیے جائیں تو کیا ہوگا کہ ایک بیمار بلی کا بچہ بھی اس پر حملہ کرنے کی سوچ سکتا ہے، اس کو مار سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے ظاہر میں پر کٹے ہوئے نہ ہوں اور پورے ہوں تو بلی کو بھی دیکھنا ہے کہ کس وقت آنا ہے اور کس وقت نہیں آنا۔ اب ظاہر میں تو فقط پر کٹے ہیں جان تو محفوظ ہے، لیکن یہ پر کا کٹ جانا اس کے باطن کو ختم کرسکتا ہے اس کی موت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ہمارا ظاہر نبی کریمﷺ کے مطابق ہے تو ان شاء اللہ یہ قیامت کے دن ہمیں کام آسکتا ہے۔ خدانخواستہ ہمارا ظاہر آقا کے طریقے کے مطابق نہ ہوا تو قیامت کے دن ہمارے لیے پریشانی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اسی طرح کوئی مفتی اعظم ہوں، شہر کے بڑے کوئی پیر صاحب ہوں، وہ جناب! جمعہ کے لیے آئیں اور صرف لنگی باندھ کر، نہ کُرتا ہو، نہ سر پہ ٹوپی ہو، نہ بنیان ہو، کچھ بھی نہ ہو۔ وہ کہیں کہ جناب! مجھے قرآن بھی یاد حدیث بھی یاد، تقریر بھی میں بڑے زوروشور سے کروں گا۔ ہم میں سے کوئی بھی ان کو منصب پہ بٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوگا کہ جناب! مسئلہ بدل گیا، آپ کا لباس بدل گیا۔ اور دنیا کے اندر بھی یہی مثالیں ہیں۔ سمجھنے کے لیے مثال دی جارہی ہے ہوسکتا ہے کسی کو فائدہ ہوجائے۔
دیکھیں! عدالت لگی ہوئی ہے جج صاحب کا انتظار ہے پورا Panelوکلاء کا موجود ہے اور آج فیصلے کی آخری گھڑی آرہی ہے۔ جج صاحب Lateہوگئے، دس بجے آنا تھا سوا دس ہوگئے۔ اب سوا دس بجے جج صاحب چلے آرہے ہیں اور حال یہ ہے کہ اپنی بیوی کا لباس پہنا ہوا ہے۔ اب جج صاحب بیٹھنے لگتے ہیں تو کوئی بٹھاتا نہیں بھئی! کیا ہوا جج صاحب کہتے ہیں: مجھے دیر ہورہی تھی، گھر میں Light گئی ہوئی تھی اور میرے کپڑے استری نہیں تھے تو میں نے بیوی کا غرارہ پہن لیا اور دوپٹہ بھی اسی کا اوڑھ لیا۔ جج میں وہی ہوں جو کل یہاں سے گیا تھا، اور کہہ کے گیا تھا کہ آج میں فیصلہ دوں گا میرا علم بھی وہی، میرا باطن بھی وہی تو مجھے بیٹھنے دو بات کرنے دو۔ کون وکیل ہے جو اس جج کو دوبارہ بٹھا کے اس سے فیصلہ لے گا؟ کہے گا: نہیں آپ کا ظاہر بدل گیا۔ وہ جتنی بھی بات کہے کہ مجھے Caseکی ایک ایک چیز کی History معلوم ہے، تم سے زیادہ میں جانتا ہوں۔ وہ کہیں گے: جناب! مسئلہ یہ ہے کہ کچھ بدل گیا ہے۔ تو ظاہری لباس بدلنے سے انسان کی شخصیت تبدیل ہوجایا کرتی ہے۔ انسان کی حیثیت وہ نہیں رہتی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے ظاہر کو کتنا درست کیا جائے؟ اس کے بارے میں قرآن مجید سے پوچھیں: اللہ فرماتے ہیں:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب:21)
ترجمہ: ’’حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔
ہم نے اپنے محبوب کو تمہارے اندر بھیجا، نمونہ بنا کے بھیجا۔ جیسے نبی کا چلنا ہے ایسا چلنا بنالو، جیسے آقاﷺکا بولنا ہے ایسا بولنا بنالو، جیسا بیٹھنا ہے سونا ہے اُٹھنا ہے لباس ہے ہر ہر چیز اس طریقے کے مطابق بنالو، قیامت کے دن میرے پاس آئو گے میں تمہیں انہی کے ساتھ کھڑا کردوں گا۔ تم میرے محبوب جیسے بن کے آجائو پھر محبت کی نگاہ دنیا میں بھی تمہارے اوپر پڑے گی اور قیامت کے دن بھی تمہارے اوپر پڑے گی۔ حدیث شریف میں آتا ہے آقاﷺ نے فرمایا: میرا امتی قابل معافی ہے مگر جو کھلم کھلا اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔
کُلُّ اُمَتِّی مُعَافًی اِلَّا الْمُجَاھِرِیْنَ (بخاری)
ایسا نہ ہو کہ ہم میڈیا کی اور اِدھر اُدھر کی روش چل کر گناہ کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیں اور کسی وعید میں داخل ہوجائیں۔ کسی نبی کو حقیر سمجھنا نہیں چاہیے۔
مغفرت والا ایک عمل
ایک صحابی نے رات کے وقت ایک عجیب کام کیا۔ صبح حاضر ہوئے نبی کے پاس تو آقا نے پوچھا: اے میرے پیارے! تو نے رات کون سا عمل کیا کہ تیری مغفرت کا فیصلہ اوپر سے ہوگیا کہنےلگے اے اللہ کے نبی! میں رات کو لیٹا ہوا تھا اور چھت کے اوپر آسمان کے اوپر میری نظر پڑی میں نے آسمان کو کہا: اے ستارو! تمہارا بھی کوئی بنانے والا ہے کوئی رب ہے اس کے بعد میں نے اللہ سے مغفرت کی دعا کی۔ آقاﷺ نے فرمایا کہ میرے پیارے! تیرے اس عمل کی برکت سے اللہ نے تیری مغفرت کردی۔ چھوٹا سا عمل بھی نظرِ رحمت سے قبول ہوگیا۔ کبھی ہم بھی یہ کرلیں  گرمیوں میں چھت پہ جائیں آج کل ویسے چلے ہی جاتے ہوں گے اور آسمان پر نظر پڑے تو کہیں:
اے آسمان کے ستارو! تمہارا بھی کوئی بنانے والا ہے، کوئی پیدا کرنے والا ہے، کوئی رب ہے۔ یہ بات کرکے دل سے یقین کرکے اللہ سے معافی مانگیں 
اَللہُمَّ اغْفِرْلِیْ (اے اللہ! مجھے معاف کردے)
کیا معلوم یہ عمل مغفرت کا ذریعہ بن جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت قیمت نہیں مانگتی، اللہ تعالیٰ کی رحمت بہانہ مانگتی ہے۔ بہانہ مل جائے مغفرت ہوجائے گی۔ اللہ نے اپنے حبیبﷺ سے فرمایا:
وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ۰۰۵ (الضحیٰ: 5)
ترجمہ: ’’اور یقین جانو کہ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اتنادے گا کہ تم خوش ہوجائو گے‘‘۔
یہ خوشی دنیاوی بھی مراد ہے اور اُخروی بھی کہ قیامت کے دن ہم آپ کوخوش کریں گے۔ تو جو نبیd کے ساتھ کھڑا ہوگا وہ بھی خوش ہوگا۔
اچھی نیت پر اجروثواب
ایک حدیث میں آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک دفعہ قحط پڑا۔ ایک عام آدمی بستی سے باہر نکلا۔ اس کو ایک ریت کا ٹیلا نظر آیا تو دل میں خیال پیدا ہوا کہ کاش! ریت کی جگہ گندم ہوتی تو میں آج لوگوں میں قحط والوں میں تقسیم کردیتا۔ اللہ تعالیٰ نے وقت کے نبی کو وحی کی کہ اس بندے نیت کے اخلاص کی وجہ سے اس کو اتنا ثواب دے دیا کہ اگر اس کے پاس گندم ہوتی اور یہ صدقہ کرتا تو جتنا اس وقت اس کو ملنا تھا ہم نے اس کی نیت کی وجہ سے دے دیا۔ اللہ تعالیٰ تو قدردان ہیں، مہربان ہیں، کسی کا چھوٹے سے چھوٹا عمل ضائع ہو نے نہیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو معاملہ ہی جدا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم نبی کی ایک ایک سنت کے قدر دان بن جائیں پھر دیکھیں اللہ کی رحمت کیسے متوجہ ہوتی ہے۔
ایک اور مثال دیکھیں! ہم نے لباس پہنا ہوا ہے اس میں تانا بھی ہوتا ہے بانا بھی ہوتا ہے، ایک دھاگا اِدھر سے آیا ہے ایک اُدھر سے آتا ہے ہم نے نیا لباس پہنا، شادی میں جانا ہے یا بڑوں سے ملنے جانا ہے۔ اب سامنے کی Sideسے چند دھاگے کم ہوجائیں تو کیا ہوگا؟ وہ لباس ہماری نگاہ میں عیب دار ہوجائے گا، اس قابل نہیں رہے گا کہ کسی بڑے کے سامنے پہن کے جائیں۔ میرے بھائیو! ایک قمیض میں سے چند دھاگے نکل جائیں تو اس کی Valueکم ہوجاتی ہے، اور جس کے چہرے سے اتنی سنتیں گرجائیں، یا کم ہوجائیں تو اس کا مقام اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنا گرجائے گا۔ الامان والحفیظ یہ باغ نبوت ہے، یہ نور نبوت ہے۔ جس کے چہرے سے یہ نکل جائے تو بتائیں! اللہ کے ہاں اس کا کتنا درجہ کم ہوجائے گا۔ تو یاد رکھیں کہ ظاہر کا باطن کے اوپر بہت اثر ہوتا ہے۔
میوزک کی آواز کان میں پڑے تو کیا کریں؟
اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان بنائے اور ان کو ایسی قوت دے دی سننے کی سمجھنے کی کہ بوڑھا بولے یا بچہ بولے ہم پہچان لیتے ہیں۔ اپنا بولے، غیر بولے ہم پہچان لیتے ہیں۔ ایسا اللہ نے ادراک عطا فرمایا ہے، ایسی Quality عطا فرمائی ہے۔ لیکن اگر ہم ان کانوں سے گانے سنے تو ہمارے دل کے اوپر ویسا بُرا اثر ہوگا۔
حضرت نافع سے روایت ہے کہ وہ یعنی خودحضرت نافع ’’حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھ کہیں جارہے تھے۔ راستے میں ایک چرواہے کے پاس سے گزر ہوا جو بانسری بجارہا تھا۔ یہ بانسری کیا ہے؟ سادی سی لکڑی کی چیز ہے ادھر سے پھونک مارو، ہوا سے آگے سے آواز نکلتی ہے۔ اس کو شریعت نے منع کردیا۔ اسی پھونک کو قرآن پڑھ کے، سورۃ فاتحہ پڑھ کے دم کردو تو شفاء اور یہی پھونک بانسری سے نکلے تو گناہ۔ اب یہ دونوں چل رہے ہیں سنا کہ بانسری کی آواز کانوں میں پڑھ رہی ہے، تو حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے دونوں کانوں کے اندر انگلیاں دیں اور پھر چلتے رہے۔ پھر انہوں نے پوچھا: نافع! کیا ابھی بھی آواز آرہی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ابھی بھی آواز آرہی ہے۔ پھر چلتے رہے اور آگے جاکر پھر پوچھا تو نافع نے کہا: اب آواز نہیں آرہی۔ تب انہوں نے دونوں کانوں سے انگلیاں نکالیں اور فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہﷺ کو ایسے موقع پہ یہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اب کسی کے دل میں خیال آئے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے تو یہ کیا حضرت نافع نے کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب علامہ ابن اسیر جزری نے لکھا ہے ’’جامع اصول‘‘ کے اندر کہ حضرت نافع اس وقت نابالغ تھے چھوٹے تھے، وہ مکلف ہی نہیں تھے۔ ہم تو بال کی کھال نکالنے والے ہیں، اس لیے اچھی طرح سمجھ لیں کہ وہ مکلف نہیں تھے چھوٹے تھے، لیکن بڑے نے وہ کیا جو نبی کا عمل تھا۔ اب یہ ظاہری عمل ہے کیوں کیا کہ وہ آقا کی بات کی حقیقت کو جانتے بھی تھے پہچانتے بھی تھے۔ اور دل سے مانتے بھی تھے۔
گانا دل کے لیے نفاق کا سبب ہے
نبی نے کیا فرمایا: گانا بجانا دل کے اندر نفاق پیدا کرتا ہے۔ وہ نبی کی بات کو جانتے تھے آپ کہیں گے کہ نبی نے فرمایا کہ نفاق پیدا ہوتا ہے، کیسے نفاق پیدا ہوا؟ ہم نے تو منافق کوئی نہیں دیکھا؟ ہم تو کلمہ دل سے پڑھتے ہیں۔ علماء نے جواب ارشاد فرمایا کہ منافق دوطرح کے ہیں: ایک اعتقادی، اور ایک عملی۔ اعتقادی وہ ہے جو زبان سے کلمہ پڑھے اور اندر سے منکر ہو۔ الحمدللہ! ایسا تو کوئی نہیں ہے ہم میں، لیکن عمل کے اعتبار سے ہم دیکھیں اور دوسری حدیث کو یہاں جوڑیں تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں:
اٰیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعْدَ اَخْلَفَ وَاِذَائْوتُمِنَ خَانَ
(متفق علیہ)
ترجمہ: ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بولے جھوٹ بکے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے‘‘۔
منافق کی اکثر باتوں میں جھوٹ شامل ہوگا وعدے کرے گا توڑے گا کہ جی! ایک مہینے بعد Payment دوں گا، دو مہینے بعد بھی نہیں دیتا۔ قرض لے لیا تین مہینے کا کہہ کر اور تین سال بعد بھی واپسی کی کوئی Date نہیں آرہی۔ بات کرے گا جھوٹ  بولے گا، وعدہ کرے گا وعدہ توڑے گا۔ امانت رکھوائی جائے گی امانت کھاجائے گا یہ تین باتیں حدیث میں آئیں کہ یہ منافق کی نشانی ہیں۔ اور حدیث میں آیا کہ گانا سننے سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم سب باتوں کو چھوڑیں تو کیا ایسا نہیں ہے کہ جو گانا سنتے ہیں، میوزک سنتے ہیں اس کے برے اثر کی وجہ سے دل کے اندر منافقت پیدا ہوگئی ہو؟
میرے بھائیو! یہ باتیں سمجھنے والی ہیں کہ ظاہر کا باطن سے تعلق ہے۔
بدنظری کے نقصانات
اللہ نے ہمیں آنکھیں دیں۔ ساری کائنات دیکھنے کو کہا، دیکھو جو چاہو دیکھو۔ کیا منع کیا؟ نامحرم کو نہ دیکھو، حسین لڑکوں کو نہ دیکھو، دو چار چیزیں منع کردیںاور کہا دیکھو قرآن کو دیکھو، بیت اللہ کو دیکھو، والدین کو دیکھو، بیوی کو محبت کی نگاہ سے دیکھو، بچوں کو دیکھو مسجد کو دیکھو، اللہ والوں کے چہروں کو دیکھو۔ کتنی ہی چیزیں ہیں ساری کائنات میں! درخت شجر حجر جو چاہو دیکھو۔ اور چند چیزوں کو کہا کہ بس ان کو نہ دیکھو۔ اس کی کوئی تو حکمت ہوگی۔ جب انسان نامحرم کو دیکھتا ہے، TV پہ Mobileپہ، بازار میں، گلی میں ،اپنے گھر میں، کہیں پر بھی دیکھتا ہے تو اس دیکھنے کا اس کے دل پر اثر ہوگا۔
حضرت جی دامت برکاتہم ایک عجیب بات فرماتے ہیں۔  حضرت جی نے امام ربانی مجدد الف ثانیm کا قول سنایا کہ آنکھ بگڑنے سے دل بگڑتا ہے، دل بگڑنے سے شرم گاہ بگڑجاتی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ دیکھو! اگر قابیل ہابیل کی بیوی کو نہ دیکھتا تو بھائی کو قتل نہ کرتا۔ زلیخا یوسف کو نہ دیکھتی تو گناہ کی دعوت نہ دیتی۔ ظاہر بدلنے سے دل بدل جاتا ہے، حالات بدل جاتے ہیں۔ اگر نگاہوں کے ظاہری تیر ڈالتے رہیں گے تو دل بدل جائے گا۔
بھائیو! داڑھی کا معاملہ انتہائی آسان اور سادہ ہے۔ نبی کی باتیں ہم نے سن لیں ایک حدیث میں ہے نبی نے فرمایا کہ بعض فرشتے اللہ نے تسبیح کے ساتھ مقرر کیے ہوئے ہیں وہ یہی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں: ’’پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو داڑھیوں کے ساتھ اور عورتوں کو چوٹیوں کے ساتھ زینت بخشی‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی یہی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔
شریعت کے کئی احکامات ہیں۔ کچھ احکامات تو وہ ہیں جن کو کہا کہ کرلو اس سے فضیلت مل جائے گی، تحیۃ المسجد پڑھ لو ثواب مل جائے گا، جنازے میں شریک ہوجائو یہ مل جائے گا اور کچھ احکامات کے بارے میں کہا کہ یہ یہ کام کرلو یہ چیز مل جائے گی، لیکن ان کے ساتھ جوڑدیا کہ دیکھو! اگر یہ یہ کام نہ کیے تو تمہیں گناہ بھی ملے گا۔ ان دو باتوں میں ایک فرق ہے: ایک تو احکام وہ ہیں جن کے کرنے پر ترغیب ہے اور نہ کرنے پر پکڑ نہیں۔ جیسے نفلی عبادات ہیںاور کچھ اعمال ایسے ہیں جن کو کرنے کا حکم ہے، وہاں امر کا صیغہ ہے اور نہ کرنے پر گناہ۔ تو یہ جو دوسری کیٹگری ہے اس کو واجب کہا گیا، اس کو لازم کہا گیا کہ یہ لازمی کرنا ہے۔
ہم جو لوگ یعنی میں اور آپ نبی کی شفاعت کو قیامت کے دن اپنا ایک سہارا سمجھتے ہیں کہ اگر اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی اور رسول اللہﷺ کی شفاعت مل گئی تو ہم گناہ گاروں کو جنت کا راستہ مل جائے گا۔ یہ ایک ہماری امید ہے نبی کے زمانے میں  صحابہ میں کوئی ایسا نہیں تھا جس کا چہرہ نبی کے چہرے جیسا نہ ہو سارے ایک جیسے تھے۔ ایک مرتبہ ایران کے بادشاہ کے دونمائندے یا دو سفیر نبی کے پاس آئے اور یہ بات آپ جانتے ہیں کہ نبی رحمۃ للعالمین بھی ہیں اور مہمان نواز بھی سب سے زیادہ ہیں۔ آنے والوں کا ایک اکرام ہوا کرتا ہے، امت کو بھی یہی حکم دیا جارہا ہے۔
جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ مہمان کا اکرام کرے۔
(متفق علیہ)
داڑھی کٹوانا ایک ناپسندیدہ عمل
تو مہمان کے اکرام کا خود حکم دیا ہمیں آقاﷺ نے۔ یہ دو مہمان ایران سے آئے تھے۔ جیسے ہی نبی کے سامنے آئے سفیر بھی تھے، قاصد بھی تھے، گورنمنٹ کی طرف سے آئے تھے۔ دیکھا آقاﷺ نے کہ داڑھیاں کٹی ہوئی ہیں، مونچھیں بڑی ہوئی ہیں نبی باوجود اس کے کہ رحمۃ للعالمین، مہمان کا اکرام کرنے والے، دوسروں کا دل رکھنے والے ہیں۔ آپ نے اپنے چہرے مبارک کو پھیرلیا، کراہت کی وجہ سے ان کی طرف توجہ نہیں کی۔ بڑی تکلیف سے ان سے پوچھا: یہ تم نے کیا حالت بنارکھی ہے؟ کہنے لگے: ہمیں ہمارے رب یعنی کسریٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ داڑھی کٹوائو مونچھیں بڑھائو۔ آقاﷺ نے فرمایا کہ مجھے تو میرے رب نے حکم سے ان سے دیا ہے کہ مونچھیں کٹوائو اور داڑھی بڑھائو۔ (مصنف ابی شیبہ: صفحہ346، جلد7)
اب غور کرنے کی بات ہے کہ غیرمسلموں کو، دشمنوں کو نبی نے اس حالت میں دیکھا تو اتنی تکلیف ہوئی، اپنوں کو اس حالت میں دیکھیں گے قیامت کے دن تو بتائیں کیا ہوگا؟ روضہ رسول پہ جو جاتے ہیں تو قلب اطہر پر کیا چیز پیش آتی ہوگی۔ کبھی ہم نے اس کو بھی دیکھا؟ اور بھئی! داڑھی کا ثبوت قرآن مجید میں سورہ طٰہ کے اندر حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے قصے میں ہے۔ حضرت موسیٰ کوہ طور سے جب واپس آئے تو ہارون کی داڑھی پکڑلی تو حضرت ہارون نے کہا:
’’اے میری ماں کے بیٹے! اے میرے بھائی! نہ میری داڑھی کو پکڑو، نہ میرے سر کو پکڑو‘‘۔
علماء نے لکھا کہ اگر داڑھی چھوٹی ہوتی یا نہ ہوتی تو ہاتھ میں کیسے آتی؟ پکڑ میں تو تب ہی آتی ہے جب پوری ہو۔ اللہ اکبر!
اگر داڑھی کے رکھ لینے سے چہرہ بدنما لگتا
تو پھر داڑھی میرے سرکار کی سنت نہیں ہوتی
خواجہ عزیز الحسن مجذوب فرماتے ہیں کہ اگر قیامت کے دن اللہ نے مجھ سے سوال کیا: اے بندے! تو کیا لے کر آیا ہے؟ کہتے ہیں میں یہ شعر پڑھ دوں گا:
تیرے محبوب کی یارب! شباہت لے کے آیا ہوں
حقیقت اس کو تو کردے میں صورت لے کے آیا ہوں
اس لیے ہم جو کرسکتے ہیں وہ تو کریں، آگے اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کا معاملہ فرمائے۔آمین
جن کو نبی سے محبت ہے وہ تو دلوں میں ارادے کریں کہ ہر عمل نبی کے طریقے کے مطابق بنائیں گے۔
اگر مزید سمجھنا ہو تو ایک بات ہمارے لیے ایسے ہی ہے جیسے ہمارے منہ پہ طمانچہ۔ ایک قوم ہے جس کو سکھ کہتے ہیں۔ بڑے مذاق اُڑائے جاتے ہیں، بڑے ان کے لطیفے سنائے جاتے ہیں، اور ان کو ہم اپنے لطیفوں میں پاگل بنادیتے ہیں۔ اسی طرح کی باتیں کچھ ہم نے سنی ہیں۔ لیکن اس پاگل قوم کو اتنی عقل ہے کہ اپنے گرو نانک سے اتنی محبت! دنیا میں کہیںچلے جائیں اپنی داڑھی نہیں کٹواتے۔ قیامت دن اگر اللہ نے ان سکھوں کو سامنے رکھا تو اُن لوگوں کے پاس کیا جواب ہوگا جو اس سے محروم ہیں۔ سمجھنے کے لیے بات ہورہی ہے، اللہ اپنی رحمت سے ہم سب کی مغفرت فرمائے۔ یہی کہہ دیا کہ ان کے باطل ہوتے ہوئے، اللہ اور اس کے نبی کا دشمن ہوتے ہوئے اپنے بڑے سے اتنا تعلق تھا کہ اس کے چہرے جیسا اپنے چہرے کو رکھا، تم تو کلمہ پڑھنے والے دعویٰ کرنے والے تھے۔ بتائو تمہارا کیا معاملہ ہوا؟ یہ ہمارےلیے بڑی واضح حقیقت اورہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔
ایک صاحب کسی اللہ والے کے پاس حاضر ہوئے۔ کہنے لگے: جی! آپ داڑھی کا کہتے ہیں تو داڑھی تو فطرت میں نہیں ہے، اگر فطرت ہوتی تو بچہ پیدا ہوا تھا اسی وقت ہونی چاہیے تھی یہ تو بعد کی چیز ہے شروع کی نہیں۔ انہوں نے بات کو سن کر کہا: ہاں! بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو تو ایسا کرو جب تم پیدا ہوئے تھے تو تمہارے دانت بھی نہیں تھے یہ بھی سارے کے سارے توڑ دو دونوں چیزوں پر عمل کرو باہر والی پہ بھی اور اندر والی پہ بھی۔ اندروالی کو سنبھال کے رکھو، باہر والی کو ذبح کرو تو یہ کون سی حکمت ہے؟ آپ ایک ہی طریقہ دونوں جگہ لے کر آئو۔
ہمارے بڑوں نے فرمایا:
نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

اور حدیث میں نبی نے ارشاد فرمایا: جو جس سے مشابہت اختیار کرے گا انہی میں سے شمار کیا جائے گا۔ دیکھیں ہم کن سے مشابہت اختیار کرنا چاہتے ہیں اللہ والوں سے یا اللہ کے دشمنوں سے؟ یہ ہم خود محسوس کرلیں۔ 
اب ایک دومثالیں ہیں اس میں غور کرلیں اور پھر بات کو مکمل کرلیتے ہیں۔ اسلام ایک کامل مذہب ہے جس طرح کہ عبادات کے اندر کسی اور مذہب کی کوئی بات نہیں مانتا، اپنی مستقل عبادات رکھتا ہے۔ اسی طرح معاشرت و آداب اور تمام چیزوں میں اپنے مکمل اصول رکھتا ہے دیکھیں! دنیا میں یہ کسی حکومت میں جائز نہیں کہ سلطنت کی فوج دشمنوں کی وردیاں پہن کر آجائے اور کہے کہ جی میں اندر سے بڑا ٹھیک ہوں، اندر سے میں پاکستانی ہوں۔ تو کوئی قبول کرے گا؟ یہ کہا جائے گا تو دشمن کے روپ میں آیا ہے۔ بالکل یہی معاملہ اللہ والوں کا ہے۔ ایک روپ ہے انبیاء کااور ایک روپ ہے دشمنوں کا، مشرکین کا۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک برطانوی جرنیل کو یہ اختیار ہو کہ دیکھو! تم برطانیہ کی آرمی میں ہو تو تمہیں Dress برطانیہ کا ہی پہننا پڑے گا، رشیا کا امریکہ کا، کسی اور ملک کا نہیں پہن سکتے۔ تمہیں ظاہری لباس بھی British ہی کرنا پڑے گا جبکہ وہ باطل ہے۔ تو کیا رسول اللہﷺ کو اختیار نہیں تھا کہ اپنے امتیوں کو کہتے کہ میرے طریقے پہ رہنا، میرے لباس پہ رہنا، میرے انداز میں رہنا؟ یادرکھیں! اسلام نور ہے اور کفر ظلمت ہے، اسلام حق ہے اور کفر باطل ہے، اسلام حسن ہے اور کفر بدصورتی ہے، اسلام روزِ روشن کی طرح روشن ہے اور کفر اندھیری رات کی طرح ہے، اسلام عزت ہے اور کفر ذلت ہے۔ لہذا اسلام اپنے ماننے والوں کو عزتیں دینا چاہتا ہے۔ باطل کا لباس پہننے اور ان کی شکل بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔
علماء نے لکھا کہ شکلِ کفار کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ اسلام کی وقعت اور عظمت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ ان کی طرف میلان ہوتا چلا جاتا ہے۔ علماء نے لکھا کہ جب انسان اسلامی وضع چھوڑ کر دوسری وضع کو اختیار کرے گا تو قوم میں اس کی کوئی عزت باقی نہیں رہے گی، اور پھر جب قوم ہی نے اس کی کوئی عزت نہیں رکھی تو غیروں کو کیا پڑی ہے۔ کہ عزت کریں الحمدللہ ہم نے اس کی عزت یہاں بھی دیکھی وہاں بھی دیکھی۔
ابھی چند دن پہلے عمان کا سفر ہوا جس میں اہلیہ بھی ساتھ تھیں۔ الحمدللہ! شرعی پردے میں تھیں۔ Immigration پہ کھڑے تھے اور عورتیں آرہی تھیں  Pent,shirt میں۔ جب میری باری آئی اس نے دونوں پاسپورٹ لے لیے۔ میرے پاسپورٹ پہ اسٹمپ لگادیا۔ اور اہلیہ کے پاسپورٹ پہ اسٹمپ نہیں لگایا۔ اُسی طرح کھڑے رہے اور کئی منٹ لگ گئے۔ اور کچھ عربی میں کہا۔ اس نے کسی کو بلایا اہلیہ کہنے لگیں کہ یہ کیا کررہا ہے؟ اتنے میں کوئی اور آدمی آیا اسٹاف کا اس نے کسی اور کے پاسپورٹ پہ اسٹمپ لگوالی اور چلا گیا۔ ہم حیران ہیں اور عجیب سا محسوس کر رہے تھے کہ آخر کیا بات ہے؟ پھر عورت آئی اس نے میری اہلیہ کا پاسپورٹ اُس عورت کو دیا اور کہا کہ یہ پردے میں ہیں ادھر لے جائو اور پاسپورٹ کی تصویر سے اس کی شکل کو دیکھو، اگر ملتی ہے تو جانے دو اسٹمپ میں لگا چکا ہوں۔ 
آج بھی عزت ہے۔ اعمال کو اللہ کی رضا کے لیے بنائیں  پھر دیکھیں کیسی رحمتیں آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں اپنے مقبول بندوں میں شامل فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں