51

عدالتی خلع کے بعد ساتھ رہنے کے لیے کیا دوسری جگہ نکاح کرکے پھر دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا؟

سوال: ایک خاتون نے عدالت کے ذریعے اپنے خاوند سے خلع لے لی، دونوں کا ایک بچہ بھی ہے، اب ان دونوں میں رضامندی ہو گئی ہے اور دونوں ایک ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔کیا انہیں اب حلالہ کی شرط پیش نظر رکھنا ہو گی یاصرف تجدیدِ نکاح ہی کافی ہے؟ برائے کرم اس کےمتعلق شرعی تقاضوں سے آگاہ کریں!

جواب: اگر عدالتی خلع بیوی نے شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت سے یک طرفہ طور پر لی تھی اور عدالت سے خلع کی ڈگری جاری ہونے کے بعد بھی شوہر نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا تو یہ خلع شرعاً معتبر نہیں تھی، اس صورت میں دونوں کا نکاح برقرار ہے، چوں کہ اس دوران بیوی نے کہیں اور بھی نکاح نہیں کیا، (اگرچہ کرتی بھی تو نافذ نہ ہوتا) لہٰذا دونوں کو ساتھ رہنے کے لیے نہ تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے نہ ہی انتظار یا کسی اور عمل کی۔

لیکن اگر مذکورہ خلع شوہر کی رضامندی سے ہوا تھا یا عدالت سے خلع جاری ہونے کے بعد شوہر نے اس پر رضامندی کا اظہار کردیا ہو تو دیکھا جائے گا کہ خلع نامہ پر تین طلاق کا ذکر تو نہیں ؟ اگر خلع نامہ میں تین طلاق کا ذکر نہ ہو تو اس صورت میں اس خلع سے چوں کہ ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے؛ اس لیے دونوں کو دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورت گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنا پڑے گا۔ دوسری جگہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

لیکن اگر خلع نامہ میں تین طلاق کا ذکر ہو تو پھر مذکورہ عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگی، رجوع بھی جائز نہیں ہوگا اور تجدیدِ نکاح کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ البتہ اگر عورت سابقہ شوہر کی عدت پوری کرکے خود کہیں نکاح کرے اور دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ حقوقِ زوجیت ادا کرکے خود ہی اسے طلاق دے دے اور اس کی عدت بھی گزر جائے تو مذکورہ عورت کے لیے سابقہ شوہر سے نئے مہر کے تقرر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کی اجازت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144103200390
تاریخ اجراء :15-11-2019

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں