100

عشرۂ ذو الحجہ کے مخصوص اعمال

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ذو الحجہ قمری سال کا آخری مہینہ ہونے کے اعتبار سے مسلمانوں کے لیے درسِ عبرت ہے کہ الله تعالیٰ  نے زندگی کی صورت میں جو نعمت تمہیں عطا فرمائی تھی اس میں ایک سال اور کم ہو گیا اور یہ نعمتِ عظمیٰ جس مقصد کے لیے عطا کی گئی تھی وہ کہاں تک پورا ہوا؟ اس اعتبار سے ماہِ ذوالحجہ انسان کو اس کی غفلت سے بیدار کرنے والا بھی ہے۔

ربِّ ذوالجلال نے جس طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے آخری عشرے کو جو فضیلت بخشی ہے بعینہٖ ماہ ذوالحجہ کے تین عشروں میں سے پہلے عشرے کو بھی خاص فضیلت سے نوازا گیا ہے اور اس عشرے میں اعمال پر خاص اجروثواب رکھا گیا ہے۔

قرآن کریم اور احادیث طیبہ سے ذوالحجہ کے 10اعمال ثابت ہیں:

۱) نیک عمل:ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:’’حضرت عبدالله ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ”الله تعالیٰ کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرۂ ذوالحجہ(یکم ذوالحجہ سے دس ذوالحجہ تک) کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول الله! کیا یہ جہاد فی سبیل الله سے بھی بڑھ کر ہے ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد فی سبیل الله سے بھی بڑھ کر ہے، ہاں! جو شخص جان اور مال لے کر الله کی راہ میں نکلا، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا، سب کچھ الله کے راستے میں قربان کر دیا، بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے۔“

(مشکوٰۃ المصابیح:327/1، باب فی الاضحیۃ، المکتب الاسلامی، بیروت)

۲) ذکر ﷲ کی کثرت: ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :’’ﷲ تعالیٰ کے نزدیک عشرۂ ذی الحجہ سے زیادہ فضیلت والے کوئی دن نہیں اور نہ ان دنوں کے عمل سے اور کسی دن کا عمل زیادہ محبوب ہے۔ لہٰذا تم ان دنوں میں تسبیح (سبحان اللہ) و تہلیل(لا الٰہ الا اللہ) وتکبیر (اللہ اکبر)، تحمید(الحمد للہ) کثرت سے کہا کرو۔‘‘

(المعجم الکبیرللطبرانی:82/11،مکتبۃ العلوم والحکم)

۳) نفلی روزے: ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :’’کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں عبادت اﷲ تعالیٰ کے نزدیک عشرۂ ذی الحجہ سے زیادہ پسندیدہ ہو۔ کیوں کہ عشرۂ ذی الحجہ میں سے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے۔‘‘

(شعب الایمان:355/3،تخصیص ایام العشرمن ذی الحجۃ بالاجتہاد بالعمل فیھن، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

۴) شب بیداری:ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:’’عشرۂ ذی الحجہ کی ہر رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔ ‘‘

(شعب الایمان:355/3،تخصیص ایام العشرمن ذی الحجۃ بالاجتہاد بالعمل فیھن، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

۵)عرفہ کا روزہ: حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے قوی اُمید ہے کہ وہ اسے گزشتہ ایک سال اور آیندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنادے گا۔‘‘

(شعب الایمان:362/3، تخصیص عاشوراء بالذکر،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ذو الحجہ کی نویں تاریخ یعنی عرفہ کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے۔

(شامی:375/2 سعید)

۶) بال اور ناخن نہ کا ٹنا :ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ’’جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھے اور اس کا قربانی کرنے کا بھی ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔‘‘

(مشکوٰۃ المصابیح:327/1، باب فی الاضحیۃ، المکتب الاسلامی، بیروت)

مسئلہ:قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک نہ تووہ اپنے ناخن کترے ، نہ سر کے بال مونڈے اور نہ بغل اور ناف کے نیچے کے بال صاف کرے، بلکہ بدن کے کسی بھی حصے کے بال نہ کاٹے۔ قربانی کرنے کے بعد ناخن تراشے اور بال کٹوائے۔

مسئلہ: اگر زیر ناف اور بغل کے بالوں پر چالیس روز کا عرصہ گزر چکا ہو تو ان بالوں کی صفائی کرنا واجب ہے۔

۷) تکبیرِ تشریق: نو ذوالحجہ کی فجر سے تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بالغ مرد اور عورت پر تکبیر تشریق پڑھنا واجب ہے۔ مرد تھوڑی اُونچی آواز سے اور عورتیں آہستہ آواز سے پڑھیں۔ تکبیر تشریق یہ ہے:

اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَلِلہِ الْحَمْدُ

مسئلہ: تکبیر تشریق ہر فرض نماز کے بعد صرف ایک مرتبہ کہنے کا حکم ہے اور صحیح قول کے مطابق ایک سے زیادہ مرتبہ کہنا خلافِ سنت ہے۔

(شامی،فتاویٰ دارالعلوم مدلل)

۸) شبِ عید الاضحیٰ:ارشادِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:’’جس شخص نے دونوں عیدوں (یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کی راتوں کو ثواب کا یقین رکھتے ہوئے زندہ رکھا تو اس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوجائیں گے۔ ‘‘

(الترغیب و الترہیب:98/2، منقول عن ابن ماجۃ)

۹) عیدالا ضحیٰ کی نماز: عید کی نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دل میں یہ نیت کرے کہ میں چھ تکبیروں کے ساتھ عید کی دو رکعت واجب نماز پڑھتا ہوں۔ نیت کے مذکورہ الفاظ زبان سے کہنا ضروری نہیں،دل میں ارادہ کرلینا بھی کافی ہے۔ نیت کرکے ہاتھ باندھ لے اور ’’سبحانک اللّٰہم‘‘ آخر تک پڑھ کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہے، ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی طرح دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے،تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکادے، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لے اور ’’اعوذ باللہ‘‘ اور’’بسم اللہ‘‘ پڑھ کر سورۂ فاتحہ اورکوئی دوسری سورت پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے کھڑا ہو، دوسری رکعت میں پہلے سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھ لے، اس کے بعد تین تکبیریں اسی طرح کہے، لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے اور پھر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے۔

۱۰) قربانی:ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’دس ذوالحجہ کے دن جانور کا خون بہانے سے بڑھ کر ﷲ تعالیٰ کے ہاں بندے کا کوئی عمل بہتر نہیں ہوتا۔ یہ قربانی کے جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت آئیں گے۔ خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ کے ہاں اس کا ایک مقام ہوتا ہے، لہٰذا تم یہ قربانی خوش دلی سے کیا کرو۔‘‘

(مشکوٰۃ المصابیح:1086/3،باب فی الاضحیۃ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں