170

عصا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱
وَ مَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يٰمُوْسٰى۰۰۱۷ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَكَّؤُ ا عَلَيْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيْ وَ لِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى۰۰۱۸ (طٰہٰ:17,18)
وَقَالَ اللہُ تَعَالٰی فِیْ مَقَامٍ اٰخَر:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.
(الاحزاب:21)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

عقل مند کون؟
اللہ رب العزت نے مجھے اور آپ کو اس دنیا کے اندر بہت مخصوص مدت کے لیے بھیجا ہے۔ ہم اس دنیا کو جنت بنانے میں لگے ہوئے ہیں جب کہ یہ دنیا خود بھی ختم ہوجائے گی اور ہم نے خود بھی اس کو چھوڑ کر جانا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو آنے والی زندگی کی تیاری اِس زندگی میں کرلے۔
کفن کا کپڑا:
امام غزالی  ایک عجیب بات فرماتے تھے: اے دوست! تجھے کیا خبر کہ وہ کپڑا جس نے تیرا کفن بننا ہے بازار میں پہنچ چکا ہو۔ ہم تو اپنے کفن سے بھی واقف نہیں کہ بازار میں آگیا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ بازار میں آچکا ہو، مارکیٹوں میں آچکا ہو۔ اور کون سا وقت ملاقات الٰہی کے لیے جانے کا آجائے اور اللہ رب العزت کا فرشتہ آجائے اور ہمیں اپنے ساتھ لے جائے۔ عقل مند وہ ہے جو اللہ سے ملاقات کے لیے تیاری کرے۔
اللہ سے ملاقات کی تیاری:
اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری کیسے ہوگی؟ اس کے لیے کن اسباب کی ضرورت ہے؟ فقط نبی کریمﷺ کے طریقوں میں ڈھل جانا۔ آپﷺ کے مبارک سانچے میں ڈھل جاناہی کامیابی ہے۔ جس نے نبی کریمﷺ کی زندگی کو اپنایا وہ کامیاب ہوگا، اور جس نے نبی کریمﷺکے طور طریقوں کو چھوڑدیا وہ ناکام ہوگیا۔
ہماری غلط سوچ:
لوگ سمجھتے ہیں مال پیسے کا زیادہ ہونا، کاروبار کا بڑھ جانا، عہدے کا مل جانا یہ کامیابی ہے اور اللہ کی رضا کی دلیل ہے۔ لوگ فون کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت! لگتا ہے اللہ ناراض ہوگیا، پریشانیاں زیادہ ہیں، تکلیفیں زیادہ ہیں، خوشیاں نہیں ہیں۔ تو لوگ غموں اور پریشانیوں کو اللہ کی رضا اور ناراضگی کی وجہ سمجھ لیتے ہیں۔ سبحان اللہ دھوکے میں پڑگئے ہیں۔ اگر ہماری زندگی حضورِ پاکﷺ کے مبارک طریقوں پر ہے تو اللہ ہم سے راضی ہے۔ یہ حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ مال تو اپنوں کو بھی دے دیتے ہیں، غیروں کو بھی دے دیتے ہیں، یاروں کو بھی دے دیتے ہیں، غداروں کو بھی دے دیتے ہیں لیکن دین اور دین سے محبت اپنے پیاروں کو ہی دیتے ہیں۔ یہ غیروں کو نہیں ملتی، غداروں کو نہیں ملتی۔ یہ کس کو ملتی ہے؟ پیاروں کو ملتی ہے۔ جس کو اللہ اپنا پیارا بنانا چاہتے ہیں اس کو ہی اپنے پیارے کی یعنی اپنے پیارے نبی کریمﷺ کی محبت اور سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرماتے ہیں۔
اللہ کی رضاوناراضگی جاننے کا طریقہ:
اگر ہماری زندگی نبی کریمﷺکے طریقے پر ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہیں، چاہے مال ہو یا نہ ہو۔ اور اگر ہماری زندگی نبی کریمﷺ کے طریقے سے مخالف گزر رہی ہے تو کتنا ہی مال کیوں نہ ہو، جمال کیوں نہ ہو، اللہ ہم سے ناراض ہیں۔ اللہ رب العزت حضورِ پاکﷺ کی اتباع کی توفیق دیتے ہی اپنے پیاروں کو ہیں۔
جنت میں کون جائے گا؟
نبیd نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص سنتوں کو مضبوطی سے پکڑے رہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اہتمام اور پابندی کے ساتھ عمل کرے۔ تلاش کرکے، پوچھ پوچھ کر، نبی کے طریقوں کو اپنی زندگی میں لائے۔ ایسا نہ ہو جیسا کہ بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ سنت ہی تو ہے اس کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے نہ بنیں۔ سنت سے بے توجہی اختیار نہ کریں بلکہ سنت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں پھر زندگی میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔
آپﷺکا عصا مبارک:
چوں کہ ہماری ساری گفتگو سنت اعمال کے متعلق ہے اور مختلف موضوعات پر بات ہوچکی ہے الحمدللہ۔ آج ان شاء اللہ بات ہوگی عصا کے متعلق۔ آپﷺ عصا کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔ جس کو ہم چھڑی یا لاٹھی کہہ دیتے ہیں عربی میں اس کو عصا کہا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آپﷺ عصا استعمال فرمایا کرتے تھے۔ (سبل الہدٰی جلد7صفحہ589)
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی تو آپﷺ نے اپنا عصا اس کی انگوٹھی کے اوپر مارا۔ (سبل الہدٰی جلد7صفحہ587)
تنبیہ کے لیے کہ دیکھو! تو نے کیا پہنا ہوا ہے؟ کیونکہ مردوں کے لیے سونا پہننا حرام ہے۔ اللہ انہیں جنت میں عطا فرمائیں گے۔ دنیا کے اندر مردوں کے لیے سونا پہننا حرام ہے۔
حاصلِ حدیث:
اس حدیثِ مبارک سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک تو یہ کہ نبیﷺ عصا استعمال فرماتے تھے۔ اور دوسرا یہ معلوم ہوا کہ اگر سامنے کوئی مرید ہے یا شاگرد ہے، اولاد ہے، ایسا موقع ہے کہ انسان تنبیہ کرے کہ سمجھ جائے گا تو تنبیہ کرنا بھی چاہیے۔ اس کو سمجھانا بھی چاہیے کہ دیکھو! یہ کام غلط کررہے ہو ایسا نہ کرو۔ تو جو بڑے ہیں اُن کو چاہیے کہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ موقع محل کو دیکھتے ہوئے امر بالمعروف والنہی عن المنکر کرتے رہیں۔
عصا انبیاء کرام کی سنت ہے:
عصا کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ یہ انبیاء کرام کی سنت تھی۔
(الجامع الاحکام القرآن جلد11صفحہ188)
موسیٰ کے عصا کی تاریخ:
چنانچہ سیدنا موسیٰ کا جو عصا ہے اُس کا قرآن مجید میں ذکر ہے اور کئی جگہ ذکر ہے۔ حضرت شعیب نے سیدنا موسیٰ کو جو عصا دیا تھا اس کے بارے میں آتا ہے کہ جب حضرت آدم جنت سے زمین پر آئے تھے تو عصا لے کر آئے تھے اور یہ آبنوس کی لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ مختلف انبیا سے ہوتا ہوا حضرت موسیٰ تک پہنچا۔ اس طرح سے کہ حضرت آدم سے یہ عصا حضرت نوح تک پھر آگے حضرت ابراہیم سے ہوتا ہوا اور آگے انبیاء سے ہوتا ہوا حضرت شعیب تک اور پھر انہوں نے اپنے داماد حضرت موسیٰ کو عطا کیا۔ (فتوحات الٰہیہ جلد3صفحہ346)
بحر محیط کے اندر بھی یہ ہے کہ جنت سے یہ عصا سیدنا آدم دنیا میں لے کر تشریف لائے تھے۔ (بحرِ محیط جلد6صفحہ235)
یہاں سے معلوم ہوا کہ جلیل القدر انبیاء  عصا استعمال فرمایا کرتے تھے۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ عصا کااستعمال فرمایا کرتے تھے اور اس کے استعمال کا حکم بھی فرماتے تھے۔ (سبل الہدٰی جلد7صفحہ589)
عصا مومن کی علامت ہے:
علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ عصا کااستعمال مومن کی علامت اور حضرات انبیاء کرام کی سنت ہے۔ (الحاوی جلد11صفحہ188)
حضورِ پاکﷺ کی عادت طیبہ یہ تھی کہ بعض اوقات آپﷺ عصا کا استعمال کرتے اور کبھی عصا نہ ہوتا تو اس جیسی لکڑی کی کوئی شاخ بطور عصا چھڑی یا لاٹھی کے استعمال فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ مسند حمیدی میں حضرت ابو سعیدh سے مروی ہے کہ آپﷺ کھجور کی شاخ کو پسند فرماتے، اُسے ہاتھ میں رکھتے، ہاتھ میں رکھے ہوئے مسجد میں داخل ہو جاتے۔ (سبل الہدٰی جلد7صفحہ587)
اس سے معلوم ہوا کہ عصا، چھڑی یا لاٹھی کا استعمال کرنا سنت ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ کوئی ذلت یا کوئی گھٹیا پن ہے۔ نہیں، یہ تو عین سنت ہے اور اس سے انسان کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔
علامہ آلوسی کی رائے:
علامہ آلوسی سورۃ طٰہٰ کی آیت
اَتَوَكَّوُا عَلَيْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيْ وَ لِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى۰۰۱۸
(طٰہٰ:18)
کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت کریمہ سے عصا کا مستحب (باعث ثواب ہونا) ثابت ہوتا ہے۔ (روح المعانی جلد16صفحہ177)
مبارک لوگ:
آج عصا کا استعمال امت میں متروک ہوچکا ہے۔ چنانچہ سنت کی حیثیت سے اس کے استعمال اور اس کو رائج کرنے کا بڑا ثواب ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو سنتوں کو تلاش کرنے والے ہیں اور خلوص کے ساتھ ان پر عمل کرنے والے ہیں۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ میری امت میں بگاڑ کے وقت جو میری کسی مٹی ہوئی سنت کو زندہ کرے گا، اللہ رب العزت اس کو سو شہیدوں کا ثواب عطا فرمائیں گے۔ (مشکوٰۃ )
چلتےوقت  عصا کا استعمال:
چلتے وقت عصا رکھنا سنت ہے۔
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپﷺ عصا کا سہارا لیے ہوتے تھے۔ (ابن ماجہ صفحہ272)
حضرت عبداللہ بن مسعود آپﷺ کے خادمِ خاص تھے۔ سفر میں، حضر میں آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ اُن کے بارے میں آتا ہے کہ
کان من السّباقین الأوّلین
’’شروع کے لوگوں میں سے تھے‘‘۔
ایک جگہ آتا ہے چھٹے نمبر کے صحابی تھے۔ تئیس سال نبی کے ساتھ گزارے، عاشقِ صادق تھے۔ نبی کہیںباہر تشریف لے جانے لگتے تو آپﷺ کو جوتا پہناتے اور آپﷺ کو عصا آپﷺ کے ہاتھ میں لاکر دیتے اور نبی چلتے تو آپ ساتھ چلتے، پھر جب نبی کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو اپنا جوتا اُتارتے تو حضرت عبداللہ بن مسعود کے حوالے کردیتے۔ اس طرح اور عصا بھی ان کے حوالے کردیتے یہ خادمِ خاص تھے۔ سفر میں، حضر میں آپ کی خدمت کیا کرتے تھے۔ خاص کر آپ کے جوتے، عصا، مسواک یہ ساری چیزیں جو ضرورت کی ہوتی تھیں، اُن کے ذمہ دار ہوتے تھے اور اُن کو سنبھالا کرتے تھے۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ360)
سُترہ بنانا:
حضرت اُم سلمہ فرماتی ہیں کہ آپﷺ اپنے عصا کو سفر میں ساتھ رکھتے اور نماز پڑھ لیتے۔ (سبل الہدٰی جلد7صفحہ588)
یعنی جب نماز پڑھنے لگتے تو اسے سُترہ کے طور پر سامنے کھڑا کرلیتے تاکہ کسی نے اگر سامنے سے گزرنا ہو تو گزرسکے تو نماز کا سُترہ بنالیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کا ایک لقب یہ بھی ہے صاحب عصا النبیﷺ۔ (الجامع الاحکام القرآن جلد11صفحہ189)
نبی کے عصا کو سنبھالنے والے۔
نبی کا ترکہ:
ابوالحسن ضحاک نے محمد بن مہاجر کے واسطے سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب فرماتے تھے کہ ان کے پاس نبی کی چارپائی (استعمال شدہ چارپائی) عصا، پیالہ، لگن، تکیہ جس کابھراؤ چھال سے تھا اور کپڑے کا ایک ٹکڑا اور رحل تھی۔ یہ چیزیں وہ قریش والوں کو دکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ دیکھو! یہ اُن کی میراث ہے جو اللہ پاک کے نزدیک سب سے معّززومکّرم ومحترم تھے۔
(سیرۃ الشامی جلد7صفحہ 563)
نبی کا استعمال شدہ عصا سیدنا فاروق اعظم کے پاس بھی آیا اس سے یہ معلوم ہوا کہ آخر زمانے تک نبی نے عصا کا استعمال فرمایا تھا۔
خطبات میں عصا کا استعمال:
اسی طرح جو لوگ جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہیں ان کے بارے میں بات کیا ہے؟ حَکَم بن حزن بن کلفی فرماتے ہیں کہ میں قیامِ مدینہ کے موقع پر جمعہ کے دن نبی کو عصا یا کمان کے سہارے خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ (ابو داؤد جلد1صفحہ256)
حضرت عبدالرحمٰن بن سعد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ جہاد کے موقع پر ہوتے، جنگ کے موقع پر ہوتے اور خطبہ دینے لگتے تو کمان کا سہارا لے لیا کرتے تھے۔ اور جب اپنے شہر مدینہ طیبہ میں ہوتے جمعہ کے دن خطبہ دینے کا ارادہ ہوتا تو عصا کے سہارے رہتے۔ (ابن ماجہ صفحہ77)
اہتمامِ عصا:
الحمدللہ! اب مسجد میں خطبہ ہوتا ہے تو یہاں والوں کو جو ذمہ دار ہیں چاہیے کہ عصا کا انتظام کرلیں۔ جمعہ کے دن امام خطبہ دینے آئے تو عصا کا سہارا لے لے۔ یہ سنت ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ ابن شہاب زہری (جو جلیل القدر تابعین میں سے ہیں) کہتے ہیں کہ آپﷺ (جمعہ کے دن) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوتے تو عصا لیتے اور اس کے سہارے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے اور فرمایا کہ یہ سنت حضرات خلفائے راشدین میں بھی جاری رہی۔ نبی کے بعد صدیق اکبر، عمر بن خطاب، عثمان غنی یہ حضرات بھی عصا کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔ (مراسیل ابو داؤد صفحہ7)
عیدین کے موقع پر عصا کا استعمال:
اسی طرح عیدین کے موقع پر عیدالاضحی، عیدالفطر، دوعیدیں ہیں۔ سال کی دونوں عیدوں میں نبی کمان یا عصا کا سہارا لیا کرتے تھے۔ براء بن عازب فرماتے ہیں کہ آپﷺ کو عید کے دن کمان دی گئی تو آپﷺ نے اسی کے سہارے خطبہ دیا۔
(ابوداؤد :162)
ان تمام روایتوں سے ثابت ہوا کہ آپﷺ اور خلفائے راشدین کا عمل اور سنت یہ ہے کہ جمعہ اور عیدین میں خاص طور سے عصا کا سہارا لیتے یعنی منبر پر چڑھ کر عصا کا سہارا لے کر خطبہ دیتے۔
آج خطبے کا یہ مسنون طریقہ اُمت میں سے ختم ہوگیا تو خطیب حضرات کو چاہیے کہ اس مسنون طریقے کو اختیار کریں۔ عصا کے سہارے خطبہ دیں اور ہر مسجد میں ایک عصا کا اہتمام ہونا چاہیے۔ مسنون اعمال اور طریقوں کو زندہ کرنا سو شہیدوں کے اجر کے برابر ہے۔
عصا کی خصوصیات:
حسن بصری فرماتے ہیں عصا کے اندر چھ خصوصیات ہیں:
(1) یہ حضرات انبیاء کی سنت ہے۔
(2) یہ صلحاء کی زینت ہے۔
(3) دشمنوں پر ہتھیار ہے۔
(4) کمزور اور ضعیفوں کا مدد گار ہے۔
(5) منافقین کے لیے باعث غم ہے۔
(6) عبادات کے اندر اضافہ ہے۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ362)
عصا کے فوائد:
چنانچہ علامہ قرطبی نے اس کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مومن کے پاس جب عصا ہوتا ہے تو شیطان اس سے دور بھاگتا ہے۔ یعنی یہ عصا ہتھیار بن جاتا ہے اور شیطان کو دور بھگاتا ہے۔ فاجر اور منافقین اس عصا سے خوف کھاتے ہیں اور نماز اگر انسان پڑھے تو سُترہ کے طور پر بھی استعمال کرسکتا ہے۔ تھک جائے تو اس سے ٹیک بھی لگاسکتا ہے۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ362)
تفسیرِ قرطبی میں علامہ قرطبی نے ذکر کیا کہ حجاج بن یوسف نے ایک دیہاتی کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں عصا ہے تو اس سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ عصا ہے جسے میں نماز پڑھتے وقت آگے رکھ کر سُترہ بنا لیتا ہوں تو مجھے مدد مل جاتی ہے۔ پھر میرے جانور ہیں جنہیں مجھے لے جانا ہوتا ہے، تو یہ عصا مجھے وہاں بھی کام دیتا ہے کہ میں ان کو ہانکتا ہوں۔ اور سفر میں اس کے سہارے چلتا ہوں۔ مجھے قوت ملتی ہے، مدد ملتی ہے، چلنے میں اس کا سہارا لے کر اپنا قدم بڑھاتا ہوں۔ پھر کہنے لگے: کبھی مجھے نہر میں چھلانگ لگانی پڑے نہانے کے لیے تو اس عصا کے ذریعے میں اپنے نہانے میں بھی مدد لیتا ہوں۔ گرنے کی صورت میں، پھسلنے کی صورت میں، مجھے اس سے مدد رہتی ہے۔ سڑک خراب ہو، اُونچائی پر چڑھنا ہو، نیچے اُترنا ہے تو یہ مجھے مدد دیتا ہے اور میں گرنے اور پھسلنے سے محفوظ رہتا ہوں۔ پھر دھوپ کے وقت میں کپڑا ڈال کر اس کے اوپر ایک چھتری سی بنا لیتا ہوں، اس سے مجھے سایہ ہوجاتا ہے۔ اور میں کہیں جاتا ہوں کسی کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو اس عصا سے میں دروازہ بھی کھٹکھٹاتا ہوں اسی طرح راستے میں چلنے والے کتے کے کاٹنے سے بھی محفوظ رہتا ہوں۔ تو بہت سارے فائدے گنوادیے۔
(شمائل کبریٰ جلد1صفحہ362)
بروز قیامت تھوڑے لوگ:
ایک حدیث میں نبی نے فرمایا کہ قیامت کے دن عصا استعمال کرنے والے بہت کم ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن اُنیس بن اسلمی کونبی نے عصا ہدیہ (Gift) دیا اور فرمایا کہ لو اسے استعمال کرو، قیامت میں اس کو استعمال کرنے والے بہت کم لوگ ہوں گے۔ (بہت تھوڑے ہوں گے جو اس سنت کو پورا کرکے لائیں گے)، جب ان کا انتقال ہوا تو تبرکاً برکت کے حصول کے لیے ان کی قبر میں نبی کے مبارک عصا کو رکھا گیا۔ (مصنف عبدالرزاق جلد3صفحہ185)
جب کہ آج کل عصا کا استعمال شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ بات ذراسمجھیے ! عصا کے استعمال کے اندر ایک قسم کی تواضع ہے، مسکنت ہے، کمزوری کا اظہار ہے اور تواضع اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ جو جتنی تواضع اختیار کرے گا اللہ رب العزت اس کو اتنی برکتیں عطا فرمائیں گے۔ چنانچہ جو لوگ اس کا استعمال کریں گے قیامت کے دن اس سنت کو زندہ کرنے والوں میں ان کا شمار ہوگا۔
عصا کا قرآن مجید میں ذکرـ:
قرآن مجید میں بھی عصا کا ذکر آتا ہے۔ ذرا غور کیجیے گا! حضرت موسیٰ جب اللہ رب العزت سے ملنے پہلی مرتبہ جبل طور پر تشریف لے گئے تو اللہ رب العزت نے اپنے کلیم سے ہم کلامی کی:
وَ مَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يٰمُوْسٰى۰۰۱۷ (طٰہٰ:17)
’’اے موسیٰ! تمہارے ہاتھ میں کیا ہے‘‘؟
عرض کیا:
قَالَ ھِیَ عصَایَ اَتَوَكَّؤُا عَلَيْهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيْ وَلِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى۰۰۱۸(طٰہٰ :18)
’’اے اللہ! یہ عصا ہے۔ اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑتا ہوں اور کبھی میرے کام آتا ہے‘‘۔
اے موسیٰ! اسے چھوڑ دو زمین پر پھینک دو تو موسیٰ نے اپنے عصا کو زمین پر پھینک دیا۔
فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعٰى۰۰۲۰ (طٰہٰ:20)
جیسے ہی آپ نے اپنے عصا کو زمین پر پھینکا تو وہ ایک سانپ بن گیا۔ اب موسیٰ ڈرے تو اللہ رب العزت نے فرمایا: موسیٰ! اسے دوبارہ پکڑلو۔
قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِيْدُهَا سِيْرَتَهَا الْاُوْلٰى ۰۰۲۱ (طٰہٰ:21)
’’آپ اسے پکڑ لیجیے ہم اسے دوبارہ اصل حالت پر لے آئیں گے‘‘۔
جب موسیٰ نے جب سانپ کو ہاتھ میں پکڑا تو دوبارہ وہ لاٹھی بن گیا۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت:
اب یہاں دیکھیے! ایک بے جان چیز ہے۔ اللہ جب چاہتے ہیں بے جان سے زندہ کو پیدا کردیتے ہیں۔ کتنے منافع گنوائے تھے حضرت موسیٰ نے کہ میں اس سے کتنے فائدے لیتا ہوں۔ اللہ کے حکم سے جب چھوڑا تو فائدے کی چیز نقصان دہ چیز بن گئی۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتے ہیں نفع دینے والی چیز سے نقصان ظاہر فرمادیتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ڈر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موسیٰ! ڈرو نہیں دوبارہ پکڑ لو۔ جب حضرت موسیٰ اللہ کے حکم سے اس نقصان پہنچانے والی چیز کو پکڑتے ہیں تو وہی چیز نفع دینے والی دوبارہ بن جاتی ہے۔
اللہ جو چاہتے ہیں ویسا کرتے ہیں۔ نفع دینے والی چیز سے جب چاہتے ہیں نقصان ظاہر فرمادیتے ہیں۔ اور جب چاہتے ہیں نقصان دینے والی چیز سے نفع ظاہر فرمادیتے ہیں غرض یہ کہ یہ ایسے واقعات ہیں جوہمارے ایمان کو بڑھاتے ہیں۔ آج ہمیں اپنی اولاد کو یہ واقعات سنانے کی ضرورت ہے۔
ترکی کے میوزیم میں موسیٰ کا عصا:
اللہ کی شان! ترکی جانا ہوا تو وہاں استنبول ایک شہر ہے۔ وہاں پر ایک میوزیم ہے توپ کاپی۔ اس میوزیم میں جب جانا ہوا تو بہت سارے تبرکات نظر آئے۔ حضور پاکﷺکے بال مبارک بھی ہیں، نبی کی تلواریں بھی ہیں، نبی کی کمان بھی ہے۔ حضرات خلفائے راشدین کی تلواریں بھی ہیں اور بھی صحابہ کی تلواریں ہیں۔ بیت اللہ شریف کی وہاں بہت ساری چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ حرمِ مدینہ کی بہت ساری چیزیں وہاں رکھی ہوئی ہیں۔ مختلف انبیاء کے مختلف تبرکات وہاں موجود ہیں۔ نبی کا مبارک پیالہ بھی وہاں موجود ہے۔ تو جب ہم ان چیزوں کو دیکھ رہے تھے تو اچانک ایک شوکیس میں ایک عجیب چیز نظر آئی اور اس کے نیچے لکھا ہوا تھا: حضرت موسیٰ کا عصا۔ مجھے تو امید ہی نہیں تھی کہ کبھی زندگی میں دیکھیں گے۔ سنا تھا کہ وہاں اس طرح کی کئی چیزیں ہیں۔ بہرحال جیسے ہی حضرت موسیٰ کا عصا سامنے آیا۔ تو واقعات سارے گھومتے چلے گئے۔ عجیب کیفیت ہوگئی کہ یہ وہ عصا ہے جس کو موسیٰ اپنے مستقل استعمال میں رکھا کرتے تھے۔اللہ رب العزت نے اسی عصا سے معجزہ ظاہر فرمایا اور موسیٰ سے فرمایا: نیچے ڈال دو، جیسے ہی نیچے ڈالا اژدھا بن گیا۔ آپ ڈرگئے تو فرمایا: اُٹھا لو۔جب اُٹھایا تو وہ واپس عصا بن گیا۔ اس واقعہ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ کہ اللہ رب العزت جب چاہتے ہیں جو چاہتے ہیں ویسا کردیتے ہیں۔ یہ ہمیں اپنے بڑوں کو، بچوں سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔
عصا کے ذریعے بارہ راستے بننا:
پھر یہی عصا حضرت موسیٰ کے پاس ہے۔ موسیٰ اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو لے کر چلتے ہیں، پیچھے سے فرعون کو خبر ہوجاتی ہے۔ اور وہ اپنے لشکر کو لے کر چل پڑتا ہے۔ موسیٰ جارہے ہیں، بنی اسرائیل ساتھ ہیں۔ چلتے چلتے ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ آگے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر تو بنی اسرائیل نے کہا:
اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ (الشعرآء:61)
’’اب تو پکی بات ہے کہ ہم پکڑ ہی لیے گئے‘‘۔
ہم تو مارے گئے ہم تو برباد ہوگئے، ہم تو پھنس گئے۔ آگے سمندر ہے پیچھے فرعون کی فوج کا سمندر ہے۔ آج تو ہم Sandwich بن جائیں گے۔ کام ہی خراب ہوگیا۔ جیسے ہی انہوں نے یہ جملہ کہا موسیٰ نے فرمایا: ہر گز نہیں، ہم اللہ کے حکم سے اللہ کے راستے میں نکلے ہیں۔
قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ۰۰۶۲ (الشعرآء:62)
’’میرے ساتھ یقینی طور سے میرا پروردگار ہے وہ مجھے راستہ بتائے گا‘‘۔
میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔ وہی مدد کرے گا، وہی راستے کھولے گا۔ اب موسیٰ کے پاس عصا ہے۔ پوری بنی اسرائیل کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے، پیچھے فرعون جو آرہا ہے اور جو لشکر ہے اس کے پاس اس کے دور کا ہر قسم کا اسلحہ موجود ہے۔ اِس دوران اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا:
فَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِۚ۰۰۶۳ (الشعرآء:63)
اے موسیٰ! اپنے عصا کو سمندر میں مارئیے! اب حضرت موسیٰ نے کیا کیا؟ اللہ رب العزت کے حکم کو مانا اور اپنے عصا کو سمندر میں مارا اور وہاں سے بارہ راستے نکل گئے۔
Logicکے دلدادہ:
اب یہاں ایک بات سمجھنے والی ہے۔ آج بہت سارے لوگ Logic کے پیچھے جاتے ہیں۔ ہر بات میںLogic تلاش کرتے ہیں۔ اگر عقل سے پوچھیں تو عقل ہمیں کیا کہتی ہے؟ کہ دیکھو! پوری فوج کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے وہ ہے آپ کا عصا، سنبھال کر رکھنا، مضبوطی سے پکڑنا، پانی میں مارنے سے کیا ہوگا؟ عصا خراب ہوجائے گا، ٹوٹ جائے گا، بہہ جائے گا، کچھ بھی نقصان ہوسکتا ہے۔ عقل کیا کہتی ہے؟ اے موسیٰ! پانی پہ مت مارنا، فرعون قریب آرہا ہے، مضبوطی سے ہاتھ میں پکڑ لو، جیسے ہی فرعون آئے تاک کے اس کے نشانہ مارنا۔ اُس کی آنکھ کو پھوڑدینا، اُس کے سر کو ماردینا، اگر وہ مرگیا تو یہ واحد طریقہ ہے کہ تم بچ جاؤ گے ورنہ آج عقل کے پاس اس سے اچھا علاج کوئی نہ تھا۔
لیکن بھائیو! یہ عقل کی پکار تھی۔ یہ نظر کی بات ہے۔ لیکن خبر کیا ہے؟ خبر یہ دی جاری ہے پروردگارِ عالم کی طرف سے
اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ (الشعرآ:63)
میرے پیارے موسیٰ! آپ اپنے عصا کو سمندر پر ماریے۔ آپ کے پاس عصا ہے، آپ اُس کو ماردیجیے سمندر میں ہمارے حکم سے۔ پھر ہم جو چاہیں گے وہ کریں گے۔
اللہ تعالیٰ کی ماننے میں نجات:
اللہ کی شان! حضرت موسی نے حکم ربی کے اوپر عصا کو پانی پر مارابارہ راستے بن گئے۔ موسیٰ بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوئے ان راستوں پر،ان کے 12قبیلے تھے۔ ہر قبیلہ اپنے اپنے راستے پر روانہ ہو پڑا۔ ادھر موسیٰd Crossکرگئے تو پیچھے سے فرعون آیا۔ اُس کو عقل آگئی سمجھ گیا اِن کے ساتھ اللہ کی مدد ہے۔ نہیں چاہتا تھا کہ اس راستے پر دوڑے۔ اللہ کی شان جو ہونے والا ہوتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے۔ پھر فرعون بھی اس راستے پر چل پڑا۔ لوگوں نے کہا: حضور! یہ راستے آپ کے لیے ہی تو بنے ہیں۔ سمندر بھی آپ کی بات مانتا ہے۔ فرعون اپنے زعم میں آگیا۔ اور اس راستے پر آکر غرق ہوگیا۔
توبہ کب تک مقبول ہے؟
اب یہاں دیکھیے کیا عجیب معاملہ ہوا۔ موت کے وقت جب پانی میں غوطہ لگا اور اس کا دنیا سے ابھی100% رابطہ واسطہ کٹا نہیں تھا۔ اور آخرت میں پہنچا نہیں تھا۔ درمیان کی ایک Stageتھی، چند لمحات کی ہوتی ہے کہ فرشتے اُسے نظر آنے لگے اور حقیقت اس کی سمجھ میںآگئی، نظر آگئی۔ کہنے لگا:
اٰمَنْتُ بِرَبِّ مُوْسَیٰ وَھَارُوْنَ
’’ایمان لاتا ہوں موسیٰ اورہارون کے رب پر‘‘۔
میرے بھائیو! زندگی میں مان جانا یہ قیمت رکھتا ہے۔ موت کے وقت تو بڑے بڑے فرعون مان جاتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے قرآن میں آتا ہے:
آٰلْـٰٔنَ وَ قَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۰۰۹۱ (یونس:91)
اے فرعون! دیر ہوگئی۔ بہت دیر کردی، تھوڑی دیر پہلے بھی مان لیتے تو ہم قبول کرلیتے، تمہیں ایمان عطا فرمادیتے لیکن اب Late ہوگیا۔ یہاں سے کیا ظاہر ہوا؟ زندگی میں توبہ، زندگی میں اللہ کے در پر  جھک جانا یہ ہمارے لیے کامیابی کی دلیل ہوگا۔ ورنہ موت کے وقت سارے مانتے ہیں۔
آج ہی تیاری کرلو ورنہ۔۔۔!
آج کسی سے کہہ دو گھر سے ٹی وی نکال دو تیار نہیں، آج کسی کو کہہ دو بھئی! نامحرموں سے بات نہ کرو تیار نہیں، آج کسی کو کہو جھوٹ بولنا چھوڑ دو، غیبت چھوڑ دو، دھوکا دینا چھوڑ دو، تو تیار نہیں ہوتے۔ موت کے وقت جب فرشتہ آئے گا ہم سب تیار ہوں گے۔ ہم اس کو کہنے لگیں گےکہ ہم ایمان بھی لاتے ہیں اور نئے سرے سے اعمال شروع کرنا چاہتے ہیں، تھوڑا سا موقع دے دو، لیکن موقع نہیں دیا جائے گا۔ آج وقت ہے۔ آج اگر اللہ کو منالیں تو قیمت ہے۔
ٹی وی کی تباہ کاریاں:
ایک دن صبح فجر کی نماز پڑھ کر جب مسجد سے واپس آیا تو 2,3 میسج ایک خاتون کے آئے ہوئے تھے۔ جی! فوراً فون کریں، پریشانی ہوگئی ہے۔ میں نے کہا: اللہ پاک خیر فرمائے۔ پھر میں نے نو بجے کے قریب ان کو فون کرکے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ کہنے لگی: گھر میں ٹی وی ہے ناں! National geographic کے Program کو دیکھا تو انہوں نے Logicallyثابت کردیا کہ سیدنا موسیٰ کےلیے جو راستے بنائے گئے تھے آج بھی اس طرح کی چیزیں موجود ہیں اور پتا نہیں رات کو راستے بن جاتے ہیں صبح ختم ہوجاتے ہیں اس کے بعد لمبی تفصیل بتائی کہ یہ جو مسلمان کہتے ہیں کہ جنت ہے، جہنم ہے، مرنے کے بعد کے معمولات ہیں یہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ پریشان ہورہی تھی کہمیں کیا کروں؟ پھر میں ان کو سمجھایا کہ بی بی! یہ چینل بھی کافروں کا ہے، اور یہ عقیدہ بھی کافروں کا ہے ہم ایمان والے ہیں کلمہ پڑھنے والے ہیں۔ نہ ہمارا عقیدہ یہ ہے اور نہ ہمارا طریقہ یہ ہے۔ ہم تو مانتے ہیں قیامت کے دن اللہ کے سامنے جانا ہے حساب کتاب ہوگا۔ غرض ایک تو یہ سمجھ آیا کہNational geographic کے لیے بہت سارے لوگ دلیل دیتے ہیں اور اس کو برا ہی نہیں سمجھتے کہ اس کے اندر تو خالی جانوروںکو دکھایا جارہا ہے اور کیا ہے؟ میرے بھائیو! دشمن دشمن ہے۔ جہاں سے چاہتا ہے وار کرتا ہے۔اور میں مسجد میں بیٹھا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے گھر میں حاضر ہو کر بات کررہا ہوں، اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر بات کررہا ہوں، اللہ تعالیٰ سن رہے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں تو ٹی وی کےنقصانات تو آکے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ نصیب فرمائے آمین۔
حضرت موسی کے عصا کا تین جگہ ذکر:
حضرت موسیٰکے عصا کا ذکر تین مواقع پر ہوا۔ ایک اس وقت جب وہ اژدھا بنایا گیا۔ ایک اس وقت جب سمندر میںمارنے کا حکم دیا گیا اور راستے بنائے گئے اور فرعون ڈوب گیا اور بنی اسرائیل کو اللہ رب العزت نے نجات عطا فرمائی۔ اب یہ سب لوگ آگے چلے۔ ایک موقع ایسا آیا پانی کی ضرورت تھی تو موسیٰ سے لوگوں نے کہا: پانی نہیں ہے۔ موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ قرآن مجید میں آتا ہے اللہ رب العزت نےفرمایا:
اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ (البقرۃ:60)
’’اے موسیٰ! اپنے عصا کو پتھر پر ماریں‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے حکم کو سامنے رکھنا:
پھر وہی بات آگئی عقل سے اگر پوچھیں تو عقل کیا کہے گی کہ لاٹھی پتھر پر مارنے سے کوئی پانی کا انتظام ہوتا ہے، وہ تو کہے گی کہ لاٹھی کو اگر زور سے مارا تو لاٹھی تو ٹوٹ جائے گی۔ اگر آپ کو پانی نکالنا ہی ہے تو آہستہ آہستہ کھودنا شروع کریں شاید کوئی ایسا معاملہ ہوجائے اور پانی نکل آئے۔ لیکن صرف پتھر پر مارنا نہیں ہے۔ لیکن پروردگار کا حکم تھا۔ سیدنا موسیٰ نے اللہ کے حکم کے ساتھ پتھر پر جب ضرب ماری تو بارہ چشمے اللہ تعالیٰ نےنکال دیے۔ تو پھر وہی بات آگئی کہ عقل کچھ اور کہتی ہے، خبر کچھ اور کہتی ہے۔
عقل پر خبر کی لگام ضروری ہے:
عقل تو یہ کہتی ہے کہ آج زندگی ہے جیسے چاہے وقت گزار لو، نامحرموں کے کپڑے اُترواؤ۔ لیکن خبر کیا کہتی ہے کہ جو دنیا میں نامحرم کے کپڑے اُتروائے گا قیامت کے دن یہ ذلیل اور ننگا ہو کر اُمت کے سامنے پیش ہوگا۔ اولین وآخرین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ آج کسی کے کپڑے اُتروانا آسان لیکن کل قیامت کے دن اپنے ساتھ معاملہ پیش آجائے گا تو جیسی کرنی ویسی بھرنی ہوگی۔ عقل کہتی ہے کہ موج اُڑاؤ اور خبر کہتی ہے کہ دیکھو! اللہ کا خوف رکھو، اپنی اوقات میں رہو۔ اپنی Limitsکو Cross نہ کرو ورنہ پھر اللہ رب العزت تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے۔ آج تم Hotel میں جا کر چھپ چھپ کے کسی کے کپڑے اُترواؤ گے کل اللہ رب العزت بھرے میدان میں آدم سے لے کر آخری انسان تک موجود ہوں گے تمہیں اللہ بے لباس کرکے دکھائیں گے۔ بھائیو! عقل کی ماننی ہے یا خبر کی؟ موسیٰ نے خبر کی مانی سمندر پر مارا اور راستے بن گئے، پتھرپر مارا اللہ نے پانی نکال دیا۔ اللہ تعالیٰ کی ماننے میں خیر ہے۔
سیدنا سلیمان کا عصا مبارک:
ایک عصا کا ذکر اور بھی ملتا ہے وہ کون سا ہے؟ سیدنا سلیمان کا عصا۔ اِس بات کو بھی ذرا توجہ سے سنیے پھر بات کوان شاء اللہ مکمل کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے حضرت سلیمان کو حکم دیا تھا کہ سلیمان! آپ میرے حکم سے بیت المقدس بنائیے۔ جنات آپ کے تابع ہیں، اللہ نے ہوا بھی تابع کی تھی۔ اب جنات اور انسان سب لگے ہوئے ہیں، بیت المقدس تعمیر ہورہا ہے۔ سیدنا سلیمان بیت المقدس کی تعمیر کی نگرانی کررہے ہیں، دیکھتے رہتے ہیں۔ Checking کرتے رہتے ہیں، کہاں تک پہنچا؟ کہاں تک کام ہوا، کیسے ہوا؟
ایک موقع ایسا آیا کہ حضرت سلیمان بیت المقدس کی تعمیر دیکھ رہے ہیں اور اپنے عصا کے ساتھ انہوں نے ٹیک لگائی ہوئی ہے اور اُسی ٹیک لگائی ہوئی Position کے اندر اللہ رب العزت کا پیغامِ اجل آگیا اور سیدنا سلیمان کی روح کو اپنے پاس بلالیا۔ میرے بھائیو! کھڑے پیرجانا اسے کہہ سکتےہیں۔
کھڑے پیر جانا:
سیدنا سلیمان کیا کررہے تھے؟ اللہ کا گھر بنارہے تھے۔ اللہ کے حکم سے بنا رہے تھے لیکن پروردگارِ عالم سے جب وقتِ ملاقات آگیا۔ وفات کا، موت کا ایک لمحہ ان کو بھی سامنے فالتو نہیں دیا۔ جتنی مقرر Limitدی ہوئی تھی، جتنا Time جتنے سانس دیئے ہوئے تھےپورے کروائے اور پھر فوراً واپس بلالیا۔ اللہ چاہتے تو اپنا کام پورا کرواسکتے تھے کہ اے سلیمان! آپ کو ہم مزید تھوڑی مہلت دیتے ہیں، یہ کام پورا ہوجائے پھر بلائیں گے، لیکن اللہ کے فیصلے میرے بھائیو! اٹل ہیں۔ موت کے فیصلے اٹل ہیں۔ سیدنا سلیمان اپنے عصا کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بلالیا، سیدنا سلیمان کا انتقال ہوگیا۔ اب کام جاری ہے۔ اللہ رب العزت نے کام کو کیسے لیا۔ کتنی عبرت کی بات ہے۔ سمجھنے والی بات ہے کہ جو کام پروردگارِ عالم نے سلیمانسے لیا تھا کچھ باقی رہ گیا تھا پروردگار نے وہ کام فقط سلیمانکے مبارک جسم سے لے لیا تھا۔ وہ ایسے کہ عصا کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے رہے اور جنات سمجھتے رہے کہ آپ ہمیں دیکھ رہے ہیںWatch کررہے ہیں، ہماری طرف نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حقیقت سے بے خبر تھے کہ یہ تو اللہ کے پاس جاچکے ہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک سال کے قریب اسی طرح معاملہ ہوا اور جنات بیت المقدس کی تعمیر کرتے رہے اور سلیمان کے جسم کو دیکھ کر سمجھتے رہے کہ حضرت سلیمان ان کی نگرانی کررہے ہیں۔ ایک سال کے بعد اس عصا کو دیمک نے چاٹ لیا تو سیدنا سلیمان نیچے زمین پر آگئے۔ تب ان کو پتا لگا کہ او ہو! ان کا تو انتقال ہوچکا ہے۔
مہلت کس کے لیے نہیں:
یہاں غور کرنے والی بات ہمارے لیے کیا ہے؟ سمجھنے والی بات کیا ہے؟ کہ اللہ رب العزت نے کھڑے پیر اپنے نبیd کو واپس بلالیا۔ حالانکہ وہ اللہ کے دین کا کام کررہے تھے۔ اللہ کا گھر بنارہے تھے اور اللہ کے حکم سے بنارہے تھے۔ میں اور آپ ایسے کون سےکام کررہے ہیںجوہمیں مہلت دی جائی گی۔ جب وقت پورا ہوجائے گا واپس جانا پڑے گا، کسی کو مہلت نہیں دی جائے گی جب وقت پورا ہوگیا تو جانا پڑے گا۔
کھڑے پیر جانے کی وضاحت:
کھڑے پیر جانے کو سمجھنا ہو تو اس طرح سے سمجھیے کہ ابھی اسی وقت کوئی آپ کے پاس آئے کہے کہ جناب! ابھی چھ مہینے کے لیے فلاں ملک جانا ہے میرے ساتھ چلو۔ ہم میں سے ہر ایک کو سینکڑوں نہیں ہزاروں کام یاد آجائیں گے۔ ابھی یہ کام کرنا ہے، ابھی وہ کام کرنا ہے، ابھی وہ Apointment، وہ وعدہ، یہ دینا، وہ لینا، یہ کام، یہ وصیت کرنی، کتنی باتیں ہمیںیاد آجائیں گی۔ کوئی کہے: جناب! ایک ہفتے کے لیے فوراً چلو تو بھی بھئی! کتنے لوگ ہوں گے کہ میں ایک ہفتے کے لیے بھی نہیں جاسکتا مجھے اتنے کام سمیٹنے ہیں ذرا مجھے مہلت دو، موقع دو کہ میں اپنے کاموں کو سمیٹ لوں۔ کسی ڈگر پر لے آؤں، کسی رخ پر لے آؤں۔ کسی کو سمجھا دوں، بتادوں، کچھ لکھ دوں، کچھ سمجھادوں۔ پھر تمہارے ساتھ چلوں گا۔
میرے بھائیو! اسی کے اوپر سمجھ لیںکہ موت کا فرشتہ جب آئے گا تو وہ وقت نہیں دے گا فوراً لے جائے گا۔ اور ہم کون سے ایسے کام کررہے ہیںجو ہمیں موقع دیا جائے ہمیں اپنے کاموں میں غور کرنا ہے اور اللہ سے ملاقات کے لیے ہر وقت راضی رہنا ہے۔
ماہِ شعبان کی فضیلت:
اس کے علاوہ شعبان کا مہینہ چل رہا ہے۔ اس کے بارے میں چند باتیں عرض کی جاتی ہیں۔
ماہِ شعبان میں جو 15شعبان کی رات ہے اس رات جتنی کوشش کرکے ہمت کرکے، آسانی سے ہو اللہ کی عبادت کریں۔ اللہ سے مانگ لیں۔ اللہ کے آگے رولیں، رزق کے فیصلے کروالیں، زندگی کے فیصلے کروالیں، اللہ تعالیٰ سے خوب گڑگڑا کر مانگیں۔ اللہ اپنی رحمتوں میں شامل فرمالیں گے۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں اللہ رب العزت بہت سارے لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔ ایک قبیلہ ہے بنو کلب نامی، اس کی بکریاں بے شمار تھیں۔ جب نکلتی تھیں دو پہاڑوں کو بھردیا کرتی تھیں۔ ان بکریوں کے جسم میں جتنے بال تھے اتنے بالوںکے برابر اللہ رب العزت اپنے بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں اور جہنم سے برأت فرمادیتے ہیں۔ لیکن چند گناہ گار ایسے ہیں اس مبارک رات میں بھی ان کی مغفرت نہیں ہوتی۔ وہ کون لوگ ہیں؟
مغفرت سے محروم تین اشخاص:
نمبر 1:اُن میں سے ایک ماں باپ کا نافرمان ہے۔ ہم میں سےکتنے ہوں گے جو ماں باپ کے نافرمان ہوں گے۔ ماؤں کے دل دکھاتے ہیں، ابھی یہاں آنے سے پہلے تھوڑی دیر پہلے اولاد کی وجہ سے بیٹے کی نافرمانی کی وجہ سے ماں باپ میں لڑائی ہوگئی۔ علیحدگی تک نوبت جاپہنچی۔ کتنے ہیں جو ماں باپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ غم پہنچاتے ہیں، شبِ برات میں، مغفرت کی اس رات میں بھی ان کی مغفرت نہیں ہوتی۔
نمبر 2:قطع رحمی کرنے والا، رشتہ داریاں توڑنے والا۔ ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو اپنے سُسرال والوں سے ناراض، خاندان سے ناراض، رشتہ داروں سے ناراض ہو کر الگ بیٹھے ہیں۔ ایک خاتون سے بات ہونے لگی کہنے لگیں کہ میرے لیے عبادت کرنا آسان ہے، آپ مجھے کوئی وظیفہ بتائیں، ساری رات میں وظیفہ کرلوں گی۔ اُن کو کہا کہ تم فلاں رشتہ دار کو معاف کردو۔ سگی بہن کو معاف کردو۔ کہنے لگیں: مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا۔ ہمارا حال بھی یہ ہی ہے۔ ہنسنے کی بات نہیں ہے۔ ساری رات کھڑے ہوکر عبادت کرنا آسان، سگے بھائی کو دل سے معاف کرنا مشکل کام ہے۔ دل کے اندر کا کینہ، دل کے اندر بغض تو شبِ برأت کی رات میں ایسےبندے کی جس کے دل میں رشتہ داروں کے لیے کینہ ہو، قطع رحمی کرنے والاہو اس کی مغفرت نہیں ہوتی۔
نمبر 3:اسی طرح وہ لوگ جو اپنے ٹخنے ڈھانپ کررکھتے ہیں۔ شلواریں پہنی ہیں تو ٹخنے ننگے رہیں، اور پینٹ اگر پہنی ہے شریعت کے مطابق ذرا ٹھیک کریں اور ٹخنے ننگے رکھیں۔ لنگی پہنی ہے تو ٹخنے ننگے رکھیں۔ ٹخنے ڈھانپنے والے کا معاملہ بھی خطرناک ہے۔ یہ تو چند باتیں ہیں نبی نے بتائیں۔ اِن تین قسم کے لوگوں کی اس برکت والی رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی۔
ہرگناہ سے توبہ کرنے کی ضرورت:
میرے بھائیو! اگر ہم نے ان گناہوں سےتوبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے اٹل ہیں۔ ہم اللہ کے فیصلے نہیں بدل سکتے۔ ہمیں خود اپنے حال بدلنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کے احکامات مان لینے کی ضرورت ہے پھر اللہ کی رحمتیں ہمارےساتھ آئیں گی چھم چھم ہمارے اوپر برسیں گی۔ بس اپنے ہر گناہ سے توبہ کی ضرورت ہے، اللہ سے معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔
15شعبان میں کرنے کے کام:
اس رات ہم کیا کریں؟ اللہ تعالیٰ سےگناہوں کی معافی مانگ لیں، اور ساری مخلوق کو معاف کردیں۔ دل کو صاف کردیں، دل بےکینہ کردیں پھر ہماری بھی مغفرت ہوجائے گی ان شاء اللہ۔ اور 15تاریخ کو اگر آسانی ہو تو روزہ رکھ لیں۔ نفل روزہ ہے، واجب نہیں ہے۔ لیکن کوشش یہ کریں کہ اس رات میں نہ تو عشاء کی نماز قضا ہو، نہ فجر کی نماز قضا ہو۔ اگر عشاء یا فجر قضا ہوگئیں یا ان دونوں میں سے ایک قضا ہوگئی اور ساری رات عبادت بھی کرتے رہے تو بھی بہت بڑا نقصان کرلیا۔
ر مضان کی تیاری:
رمضان المبارک بھی آنے والا ہے، اُس کی تیاری ہم شعبان ہی سے شروع کرلیں۔ جو بھی عید کی خریداری کرنی ہے، کچھ بھی معمولات ہیں، ہم شعبان میں نمٹائیں، رمضان میں بازاروں کے چکر نہ لگائیں۔ رمضان کا احترام کریں۔ رمضان کو اچھے سے اچھا گزارلیں۔ اللہ کی رحمتیں ہمارے ساتھ ہوں گی۔ رمضان کے بارے میں ایک بات کرکے بات مکمل کرتا ہوں۔ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سحری اور افطاری کے وقت یعنی مغرب کی اذان سے دس پندرہ منٹ پہلے سمجھ لیجیےاور فجر کی اذان سے پہلے دس پندرہ منٹ کا جو وقت ہوتا ہے تو ہم ان دونوں اوقات میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ افطاری کے وقت سموسے، دہی بھلوں میں اپنا وقت ضائع نہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے میرے بندو! تم مانگو گے میں دوں گا۔ سارا دن تم نے مزدوری کی روزہ رکھا اب تم جو مانگو گے میں عطا کروں گا۔ تو اس موقع پر ہم اللہ تعالیٰ سے اچھے مستقبل کو مانگیں، قیامت کے دن کی آسانیاں مانگیں، نبی کی محبت مانگیں، آخرت کی بہترین نعمتوں کا سوال کریں، پھر دیکھیں کہ عید کے بعد ساری نعمتیں آپ کو مل جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کی ایک ایک سنت کو شوق اور محبت سے عمل میں لانے کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت کے دن نبی کے جھنڈے تلے جمع فرمائے۔ اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے۔ آمین
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں