علوم اسلامیہ میں فقہ کی اہمیت اور کتاب وسنت سے اس کا ربط

علوم اسلامیہ میں فقہ کی اہمیت اور کتاب وسنت سے اس کا ربط

حرف ِ آغاز

 لیے چراغ راہ بھی، اس لیے علوم اسلامیہ میں اس کی جو اہمیت وضرورت ہے وہ آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہے اور یہی نہیں کہ اس کی ضرورت صرف اور صرف ماضی ہی سے وابستہ تھی؛ بلکہ آج بھی اور آئندہ بھی اس کی ضرورت و اہمیت ماضی ہی کی طرح محسوس کی جاتی رہے گی اور مجتہدین کرام قرآن و حدیث میں غوطہ زنی کرکے فقہی اصول کے ذریعے امت کے پیش آمدہ مسائل حل کرتے رہیں گے۔

ذیل میں اسی پر روشنی ڈالی جائے گی اوراس پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے گا کہ علوم اسلامیہ میں ”فقہ“ ہی ایسافن ہے جس کے اندر ایسی عالمگیریت وہمہ جہتی پائی جاتی ہے کہ ہرہر مسلمان کی زندگی بلکہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس سے پوری طرح مربوط ہے، اور اس کے بغیر انسانی زندگی ادھوری ونامکمل سمجھی جائے گی، رہ گئے وہ کورچشم جو اپنی مینڈکی فطرت کی بنا پر سرے سے فقہ کے منکر ہیں اور اسے کتاب وسنت سے علیحدہ شئی گمان کرتے ہیں تو اس سلسلے میں اتنا کافی ہے کہ چاند پر دھول ڈالنے والے کا چہرہ تو گرد آلود ہوسکتا ہے؛ لیکن قمر کی چمک دمک میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔

غرض یہ کہ ”فقہ“ قرآن وحدیث سے تیار شدہ وہ گاڑی ہے جس کے ذریعے حیاتِ انسانی مکمل زاد راہ کے ساتھ اپنی منزل مقصود (آخرت) تک بآسانی پہنچ سکتی ہے۔

فقہ کس کا نام ہے

لغت میں لفظ فقہ کو کسی چیز کے جاننے اور سمجھنے کے معنی میں استعمال کیاجاتا تھا، بعد میں اس کا استعمال خاص علم دین کے فہم میں ہونے لگا(۱) قرآن پاک میں یہی مراد ہے(۲) اور حدیث میں بھی یہی معنی: من یرد اللّٰہ بہ خیرا یفقہ فی الدین(۳)۔ عہد صحابہ و تابعین میں فقہ کا لفظ ہر قسم کے دینی احکام کے فہم پر بولا جاتا تھا جس میں ایمان و عقائد، عبادات واخلاق، معاملات اور حدود و فرائض سب شامل تھے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ سے منقول فقہ کی تعریف ان الفقہ ہو معرفة النفس مالہا وماعلیہا: ”جس سے انسان اپنے نفع و نقصان اور حقوق و فرائض کو جان لے وہ فقہ ہے“(۴) اپنے اندر مذکورہ تمام چیزوں کو سموئے ہوئے ہے، مگر بعد میں جب علیحدہ طور پر ہر فن کی تدوین وتقسیم ہوئی تو ”فقہ“ عبادات و معاملات اور معاشرت کے ظاہری احکام کے لیے خاص ہوگیا، چنانچہ فقہ کی تعریف علامہ ابن خلدون کے الفاظ میں اس طرح ہے کہ ”افعال مکلفین کی بابت اس حیثیت سے احکامِ الٰہی کے جاننے کا نام ہے کہ وہ واجب ہیں یا محظور (ممنوع وحرام)، مستحب اور مباح ہیں یا مکروہ“(۵) اس کی مزید وضاحت اس طرح بھی ہوتی ہے کہ ”فقہ ملکہٴ استنباط اور دینی بصیرت کا نام ہے جس کے ذریعے احکامِ شریعت، اسرار معرفت اور مسائل حکمت سے واقفیت ہوتی ہے نیز نئے فروعی مسائل کے استنباط اور ان کی باریکیوں کا علم ہوتا ہے“(۶)

فقہ کی بنیاد قرآن و حدیث ہی ہیں نہ کہ محض عقل و قیاس چنانچہ علامہ مناظر احسن گیلانی فرماتے ہیں کہ: ”فقہ کے یہ معنی نہیں کہ شریعت میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ عقل کرتی ہے؛ بلکہ وہی بات یعنی نتائج و احکام کا جو روغن وحی و نبوت کے ان معلومات میں چھپا ہوا تھا، عقل کی مشین ان ہی کو اپنی طاقت کی حد تک ان سے نچوڑنے کی کوشش کرتی ہے اسی کوشش کا نام اجتہاد ہے“(۷)

فقہ کا اصل سرچشمہ

یہ بات تو پوری طرح واضح ہے کہ احکام شرعیہ کے استنباط کا اصل منبع کتاب اللہ رہا، اس کے بعد سنت رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) پھر قیاس و اجماع، جس کی حقیقی تصویر اس واقعہ میں دیکھی جاسکتی ہے جب کہ حضرت معاذ بن جبل کو یمن کا قاضی بناکر رخصت کرتے وقت رسول الثقلین ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا کہ: کوئی مسئلہ درپیش ہوتو اپنے فیصلہ کی بنیاد کس کو قرار دوگے؟ حضرت معاذ نے عرض کیا کتاب اللہ کو – آپ نے پوچھا اگر اس میں کسی کا حل نہ مل سکے تو؟ فرمایا: احادیث سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا: کہ اگر وہاں بھی نہ ملے تو؟ اخیر میں کہا کہ اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا اورحق کی جستجو میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا(۸)، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کے مزاجِ دین اور مزاجِ شریعت سے ہم آہنگی اور آگہی پر خوشی کا اظہار کیا اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جس سے اس کا رسول راضی ہے۔

اسی طرح اسی کی ہم شکل تصویر آپ کے وصال کے بعد مسئلہ خلافت سے جھلکتی ہے جوکہ صحابہ کے اجماع سے حل ہوا، اسی کے ساتھ اس حقیقت کی حیثیت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ درس نبوی کے سب سے پہلے مدرسہ کا پہلا معلم، جن کے اخلاق واعمال نبی کے بالکل مشابہ حضرت ابن مسعود جن کو بنی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ ہی میں درس و تعلیم کی اجازت دے دی تھی اور صحابہ کو حکم فرمایا کہ قرآن وحدیث اورمسائل ابن مسعود سے حاصل کرو(۹) یہی وجہ ہے کہ آپ کا فقہی طریقہٴ کار بے حد مقبول ہوا بعد میں یہی ”فقہ حنفی“ کی شکل میں ابھر کر پورے عالم میں پھیل گیا۔ مذکورہ سطور سے پوری حقیقت سامنے آگئی کہ عمارتِ فقہ کی خشت اول کتاب اللہ ہے پھر حدیث، قیاس اور اجماع۔ اور فقہ کی بنیاد بھی عہد نبوی ہی میں رکھی جاچکی تھی۔

Leave a Reply