20

عورتوں کے لئے اعتکاف کے اہم مسائل

عورتوں کے لئے اعتکاف کے اہم مسائل

فضیلتِ اعتکاف
حضرت علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ اپنے والدِ ماجدحضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:’’جس شخص نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف کیا ،اس کو دو حج اور دو عمروں کاثواب ملتا ہے‘‘۔(الترغیب)
شرائط اعتکاف
(1)مسلمان ہونا۔
(2)عقلمند ہونا ۔
(3)اعتکاف کی نیت کرنا۔
(4)اگر عورت شادی شدہ ہے تواعتکاف کے لیے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے،شوہر کی اجازت کے بغیربیوی کے لیے اعتکاف کرنا جائز نہیں اور شوہروں کو بھی چاہیے کہ وہ بلاوجہ عورتوں کو اعتکاف سے محروم نہ کریں بلکہ اعتکاف کی اجازت دے دیا کریں ۔
(5)روزہ سے ہونا۔
(6)حیض ونفاس سے پاک ہونا۔(ھندیہ:۱/۲۱۱)
﴿عورتوں کے اعتکاف کے لیے دستورالعمل﴾
اعتکاف کے دوران انسان چونکہ تمام دنیاوی کاموں سے منہ موڑ کراللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیےالگ تھلگ ایک جگہ کا انتخاب کرلیتا ہے تواس وقت کو غنیمت سمجھ کر اس وقت کو فضول باتوں یا سونے میں گذارنے کے بجائے تلاوت،نوافل اور ذکرواذکار میں صرف کرنا چاہیے ۔
اعتکاف کی حالت میں شرعاً کوئی خاص نفلی عبادت متعین نہیں بلکہ جس وقت جس عبادت کی توفیق ہوجائے اسی کو کرلینا چاہیے ،تاہم اعتکاف میں بیٹھنے والی خواتین کے لیے ایک مختصر دستورالعمل تحریر کیا جاتاہے تاکہ اعتکاف کا ایک ایک لمحہ قیمتی بن جائے ۔
دستورالعمل
عورتوں کے لیے حکم یہ ہے کہ گھر میں اس جگہ اعتکاف کریں جو انہوں نے نماز کے لیے متعین کی ہوئی ہے اگرنماز کے لیےکوئی جگہ مخصوص نہیں ہے تو اب مخصوص کرلیں ،عورت 20رمضان المبارک کو سورج غروب ہونے سے پہلے اس جگہ آجائے جو اس نے اعتکاف کے لیے مخصوص کی ہے،اعتکاف کے لیےاتنی جگہ مخصوص کرلینی چاہیے جس میں آرام سے اٹھے ،بیٹھے اور لیٹ سکے اور تھوڑا چہل قدمی کرسکے۔
(1)۔۔۔مغرب کی نماز کےبعد کم از کم چھ رکعات اور زیادہ سے زیادہ بیس رکعات اوابین ادا کریں،پھر آیۃ الکرسی اور چاروں قل پڑھ کر اپنےاوپر دم کریں ۔اس کے بعد مختصر کھانااور آرام کریں پھر نمازِ عشاء کی تیاری کریں۔
(2)۔۔۔نمازِ عشاء اور تراویح سے فارغ ہوکرعلمِ دین حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنےکی نیت سے کسی معتبر اور مستند دینی کتاب مثلاً بہشتی زیور کا مطالعہ کریں جب تک طبعیت میں بشاشت ہو،پھر قبلہ رو کر سنت کے مطابق سوجائیں ۔
(3)۔۔۔صبح صادق سے کم از کم گھنٹے،ڈیڑھ گھنٹے پہلے بیدار ہوجائیں ،طبعی ضروریات سے فارغ ہوکر سنت کے مطابق وضو کرکے تہجد کی نوافل دو،چاریا آٹھ رکعات ادا کریں ،نوافل سے فارغ ہوکر کچھ دیر ذکر میں مشغول رہیں ،پھر خاموشی سے خوب رو کر،گڑگڑاکراللہ تعالیٰ سے اپنےجملہ مقاصدِ حسنہ اور فلاح ِ دارین کی دعا کریں،جہنم سے پناہ اور چھٹکارے کی خصوصیت سے دعا مانگیں اور جنت الفردوس میں داخلہ کا سوال کریں ۔
(4)۔۔۔صبح صادق سے آدھا گھنٹہ پہلے سحری کھالیں اور سحری سے فارغ ہوکر نمازِ فجر کی تیاری کریں۔
(5)۔۔۔نمازِ فجر سے فارغ ہوکر آیۃ الکرسی اور چاروں قل پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں ،اس کے بعد ایک تسبیح استغفار کی ،ایک تسبیح درود شریف کی ،ایک تسبیح لاالہ الا اللہ کی اور ایک تسبیح سبحان اللہ کی پڑھیں ۔
(6)۔۔۔اشراق کے وقت(سورج نکل کر جب تھوڑا بلند ہوجائے تواشراق کا وقت شروع ہوجاتا ہے)کم ازکم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات نوافل ادا کریں ،پھر آرام کریں اور چاشت کے وقت(چاشت کا وقت ایک چوتھائی دن گذرنے کے بعد شروع ہوتا ہےیعنی صبح صادق اور غروب آفتاب کے درمیان جتنے گھنٹے ہوتے ہیں ان کو چار حصوں پر تقسیم کرکے ایک حصہ گذارنے کے بعدزوال آفتاب سے پہلے پہلے کسی وقت بھی یہ نماز پڑھ لیں)بیدار ہو کرکم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعات چاشت کی ادا کریں اور اس کے بعد جتنا ہوسکے صحیح تلفظ کےساتھ قرآن کریم کی تلاوت کریں ۔
(7)۔۔۔جب زوال کا وقت ہوجائے تو چاررکعات نفل سننِ زوال ادا کریں اور نمازِ ظہر ادا کریں پھر نمازِ ظہر کے بعدصلوۃ التسبیح پڑھیں اور تلاوت کریں اور اگر تھکن ہو تو آرام کریں ۔
صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ:یہ ہے کہ چار رکعت کی نیت باندھےپھر ثناء اور قرأت کےبعد پندرہ مرتبہ یہ دعا پڑھے’’سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُلِلّٰهِ وَلَااِلهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکبَر‘‘،پھر رکوع میں جائے اور سبحان ربی العظیم پڑھنے کے بعد دس مرتبہ یہی دعا پڑھے،اس کے بعدرکوع سے اٹھے اور سمع اللہ لمن حمدہ ،ربنا لک الحمد کہنے کے بعد دس مرتبہ یہی دعا پڑھے ،پھر سجدہ میں جائے اور سبحان ربی الاعلیٰ پڑھنےکے بعد دس مرتبہ یہی دعا پڑھے پھر سجدہ سے اٹھ کر دس مرتبہ یہی دعا پڑھے ،پھر دوسرے سجدہ میں چلی جائے اور سبحان ربی الاعلیٰ پڑھنے کے بعد دس مرتبہ یہی دعا پڑھے،پھر سجدہ سے اٹھ کر بیٹھی رہے اور دس مرتبہ یہی دعا پڑھ کردوسری رکعت کے لیے کھڑی ہوجائے اوراسی طرح دوسری رکعت پڑھے اورجب دوسری رکعت میں التحیات کےلیے بیٹھے تو پہلے وہی دعا دس مرتبہ پڑھ لے پھر التحیات پڑھے۔اسی طرح چاروں رکعتیں پڑھے۔
(8)۔۔۔نمازِ عصر کے وقت بیدار ہوکر نمازِ عصر ادا کریں اور اس کے بعد فارغ ہوکر تلاوت اور تسبیحات کریں جن کا ذکر نمبر۵میں ہوگیا ہے اور افطار سے پہلے خوب دعا میں مشغول ہوجائیں ،یہ وقت انتہائی قیمتی ہےاس کو ضائع نہ کریں ۔
(9)۔۔۔جو باتیں حالتِ اعتکاف میں مکروہ ہیں ان سے مکمل طور پر اجتناب کریں ۔
(10)۔۔۔اگر اعتکاف میں بیٹھنے والی عورت کے ذمہ قضا نمازیں لازم ہیں تو وہ نوافل کے بجائے قضا نمازوں کے پڑھنے کا اہتمام کریں۔
اعتکا ف کی حالت میں مندرجہ ذیل امور مکروہ ہیں :
•۔۔۔بالکل خاموشی اختیار کرنا،کیونکہ شریعت میں بالکل خاموش رہنا کوئی عبادت نہیں،البتہ خاموشی کو عبادت نہ سمجھیں اور گناہ سے بچنے کی خاطر حتی الامکان گفتگو کم ہو تواس میں کوئی حرج نہیں۔
•۔۔۔فضول اور بلاضرورت باتیں کرنا ،خاص طور پر غیبت کرنا، چغلی کرنا ،بہتان لگانا ۔
اعتکاف کی حالت میں جائز امور:
اعتکاف کی حالت میں عورت اپنی اعتکاف کی جگہ میں رہتے ہوئے گھریلو ضروریات کی باتیں گھر والوں سے کرسکتی ہے،کوئی کام کروانا ہو یا کوئی چیز منگوانی ہو توکرسکتی ہےاور اپنے اعتکاف کی جگہ میں بیٹھے ہوئے سینے پرونے کا کام بھی کرسکتی ہے اور اگر گھر والے اعتکاف میں بیٹھنے والی خاتون کے ساتھ بیٹھ کر روزہ کھولنا چاہیں تو کھول سکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں