56

غسل جنابت میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے تو کیا حکم ہے؟


سوال
کسی شخص نے غسلِ جنابت کیا، لیکن غسل کے فرض مثلاً:  ناک میں پانی ڈالنا اور غرارہ کرنا بھول گیا اور کچھ وقت بھی گزر گیا تو اب کیا کرے اور اس دوران  کچھ نماز بھی ادا کی ہیں؟

جواب
فرض غسل میں اگر کوئی شخص ناک میں پانی ڈالنا یا کلی کرنا بھول جائے تو یاد آنے پر جو فرض رہ گیا ہے اس کو کرلے، یعنی ناک میں پانی ڈال لے یا کلی کرلے،اس سے غسل ہوجائے گا،  از سرِ نو پورے غسل کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، اور اس دوران جو نمازیں پڑھی گئی ہیں اگر وہ نفل ہیں تو  ان کا اعادہ لازم نہیں ہے، اور اگر فرض ہیں تو ان کا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔

نیز  واضح رہے کہ فرض غسل میں منہ بھر کر کلی کرنا فرض ہے، غرارہ کرنا فرض نہیں ہے، بلکہ سنت ہے۔

اللباب في الجمع بين السنة والكتاب (1/ 129):
“وعنه: عن ابن عباس رضي الله عنه قال: ” إذا نسي المضمضة والاستنشاق إن كان جنباً أعاد المضمضة والاستنشاق واستأنف الصلاة “. وكذلك قال ابن عرفة، وإلى هذا ذهب الثوري رحمه الله تعالى”.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 155):
“فروع] نسي المضمضة أو جزءاً من بدنه فصلى ثم تذكر، فلو نفلا لم يعد لعدم صحة شروعه.

(قوله: لعدم صحة شروعه) أي والنفل إنما تلزم إعادته بعد صحة الشروع فيه قصدا، وسكت عن الفرض لظهور أنه يلزمه الإتيان به مطلقاً”.

الأصل للشيباني ط قطر (1/ 32):
“قلت: أرأيت رجلاً  توضأ ونسي المضمضة والاستنشاق أو كان جُنُباً فنسي المضمضة والاستنشاق ثم صلى؟ قال: أمّا ما كان في الوضوء فصلاته  تامة، وأمّا ما كان في غُسل الجنابة أو طُهر حيض فإنه يتمضمض ويستنشق ويعيد الصلاة. قلت: من أين اختلفا؟ قال: هما في القياس سواء، إلا أنّا نَدَعُ القياس للأثر الذي جاء عن ابن عباس”.  فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144007200008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں