غیرضروری بالوں کا صاف کرنا

غیرضروری بالوں کا صاف کرنا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِoبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِo
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًاؕ۰۰۲۱ (الاحزاب:21)
وَقَالَ اللہُ تَعَالٰی فِیْ مَقَامٍ اٰخَر:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۱۱ (التوبہ:119)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اسلام مکمل دین ہے:
اسلام ایک مکمل مذہب اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام اپنے کسی بھی حکم میں، کسی بھی عمل میں، کسی بھی طریقے میں کسی بھی غیر قوم یا مذہب کا محتاج نہیں۔ اس کی اپنی ایک جداگانہ شخصیت ہے۔ ایک جداگانہ تہذیب ہے۔ کسی بھی چیز میں اسلام کسی کو Follow نہیں کرتا۔ یہ پوری کائنات کو دعوت دیتا ہے کہ کائنات اگر امن چاہتی ہے، پُرسکون زندگی چاہتی ہے، اللہ رب العزت کی رضا چاہتی ہے، جنت میں اعلیٰ مقام چاہتی ہے، تو یہ کائنات میں رہنے والی ہر چیز کو دعوت دیتا ہے کہ آؤ اور رسول اللہﷺ کے طریقے پر ڈھل جاؤ۔ جو نبی کے طریقے پر چلا وہ کامیاب ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور ناراضگی کا پیمانہ:
اکثر دوست پوچھتے ہیں اور فون بھی آتے ہیں کہ بیماری آگئی ہے، پریشانی آگئی ہے، غم آگیا ہے تو لگتا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سے ناراض ہوگئے۔ اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہورہیں اور پریشانی والے حالات آگئے ہیں، بیماری آگئی ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ لوگ دنیا کے غموں اور پریشانیوں کے آنے کو اللہ کی ناراضگی کا سبب سمجھتے ہیں۔ اور کاروبار چمک رہا ہو خواہ وہ سود سے ہو یا حرام سے ہو، یا جھوٹ کی وجہ سے پیسہ آرہا ہو تو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ رب العزت ہم سے بہت راضی ہیں۔ یعنی دنیا کے ظاہری مال پیسے وغیرہ کے آنے کو اللہ کی رضا سمجھتے ہیں، اور دنیا کے ظاہری غموں اور پریشانیوں کے آنے کو اللہ کی ناراضگی سمجھتے ہیں۔ بڑے دھوکے میں پڑ گئے بہت بڑے دھوکے میں پڑ گئے۔
یاد رکھیے! اللہ رب العزت کی رضا مندی اور ناراضگی کا تعلق مال ودولت، سلطنت وبادشاہت کے آنے جانے سے نہیں ہے۔ قارون کے پاس تو بہت پیسہ تھا، لیکن حضرت بلال کے پاس تو کچھ بھی نہ تھا وہ غلام تھے اور غلام کے بیٹے تھے۔ لیکن ان کو نبی نے بیت اللہ کی چھت پر چڑھوا دیا۔ اللہ رب العزت نے ان کو اتنی عزتیں عطا فرمائیں کہ چلتے فرش پر تھے اور چلنے کی آوازیں عرش پر آتی تھیں۔ مال ودولت کا تعلق تو کچھ بھی نہیں ہے یہ لوگوں کی محض غلط سوچ ہے۔ جو نئی روشنی کے اس دور میں اور اس ماحول میں پڑھ لکھ کر لوگوں کی یہ سوچ بن جاتی ہے۔
اس کا آسان طریقہ Check کرنے کا کیا ہے؟ Check کرنے کے لیے ہم دیکھیں کہ ہماری زندگی رسول اللہﷺ کے طریقے کے مطابق کتنی ہے؟ اگر ہماری زندگی نبی کے طریقے کے مطابق ہے تو اس سے زیادہ ٹھوس دلیل کوئی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہیں۔ یعنی جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں اس کو آقاﷺ کے طریقے پر چلا دیتے ہیں، اللہ رب العزت اس بندے کو نبی کے نقشِ قدم پر چلا دیتے ہیں۔
اور اگر اپنی زندگی کو دیکھیں کہ خدانخواستہ نبی کے طریقوں سے دور ہے، یہود،ہنود اور نصاریٰ کے طریقوں پر ہے تومیرے بھائیو! اس سے زیادہ بڑی اللہ کی ناراضگی کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے؟ اور اس سے بڑی اللہ کی ناراضگی کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ ہمارے چہرے، لباس، چلنا، پھرنا، اُوڑھنا، پہننا یہ سب کافروں کے طریقوں پر ہوگیا ہے۔
واضح بات:
اب یہ سیدھی سی بات ہے جیسے دو جمع دو چار ہوتے ہیں۔ کیونکہ کسی کافر سے اللہ راضی نہیں ہوسکتے تو کافروں کے طریقے پر چلنے والے سے اللہ کیسے راضی ہوسکتے ہیں؟ جبکہ رسول اللہﷺ سے اللہ تعالیٰ راضی ہیں اور نبی کے تمام صحابہ سے بھی اللہ تعالیٰ راضی ہیں۔ اب جو شخص نبیd کے طریقوں پر ہے تو وہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی راضی ہیں۔
اسلام صفائی کو پسند کرتا ہے:
بہرحال! ہمارا گلدستئہ سنت کا الحمدللہ! سلسلہ چل رہا تھا۔ اسلام صفائی کو پسند کرتا ہے، پاک صاف رہنے کو پسند کرتا ہے، معاملات میں بھی صفائی، کاروبار میں بھی صفائی، باطن میں بھی یعنی دل کی بھی صفائی، نفس کی بھی صفائی، اور جو جسم کے بال ہیں ناخن ہیں، میل کچیل ہیں اس کی بھی صفائی کو پسند کرتا ہے۔ الغرض اسلام ہر چیز میں صفائی پسند ہے، بلکہ نبی نے فرمایا کہ صفائی تو ایمان کا حصہ ہے۔
جہالت کی انتہا:
ہم میں سے بعض لوگوں کو دھوکہ لگ جاتا ہے کہ گلی کے کنارے کوئی گندہ سا بابا ہو جس نے مہینوں سے غسل نہ کیا ہو اور گندگی، غلاظت اور بدبو اس سے آرہی ہو تو لوگ سوچتے ہیں کہ یہ بڑا اللہ کے قریب ہے۔
کیا تم کسی میلے کچیلے کو دوست بناتے ہو؟
ایک دفعہ کی بات ہے کہ ایک اللہ والے کہیں جارہے تھے تو نیلے گنبد کے پاس ان کو ایک مجمع لگا نظر آیا۔ یہ رکے اور دیکھنے لگے کہ کیا معاملہ ہورہا ہے؟ انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی بالکل ننگا، گند۱ اور غلیظ تھا اور بدبو بھی اس کے پاس سے آرہی تھی اور لوگ اس کے اردگرد جمع تھے۔ بزرگ آدمی نے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ اللہ کا دوست ہے۔ لوگوں کی تو Mentality ہی Change ہوگئی ہے کہ کیسے بندے کو اللہ کا دوست سمجھ رہے ہیں۔ تو وہ بزرگ جلال میں آگئے اور کہنے لگے کہ تم میں کون ہے جو اس کو اپنا دوست قرار دے اور اپنے گھر میں عزت والی جگہ پر بٹھائے؟ تو سارے چپ ہوگئے۔ آگے پوچھا کہ تمہارے گھر میں کبھی شادی کا فنکشن ہو اور تمہارے گھر میں بڑے بڑے لوگ آرہے ہوں، تو تم میں سے کون ایسا ہے جو خود صاف ستھرے کپڑےپہن کر اس کو اپنے ساتھ بٹھائے تو سارے چپ ہوگئے۔ ان بزرگ نے کہا کہ تم میں سے کوئی اس کو اپنا دوست بنانے کے لیے تیار نہیں تو اللہ کی طرف نسبت کررہے ہو گندے آدمی کی؟
زیرِ ناف بالوں کی صفائی احادیث کی روشنی میں:
نبی نے ہمیں صفائی کا حکم دیا اور انہوں نے خود بھی صفائی اختیار کی۔ آج جو چند باتیں کرنی ہے ان میں سے ایک اسوئہ حسنہ زیر ناف بال اور اس طرح کی جو چیزیں ہیں ان کے بارے میں ہے۔ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ آپﷺنورہ( ہڑتال وغیرہ) سے زیر ناف بالوں کو خود دور کیا کرتے تھے۔ (ابن ماجہ صفحہ266)
جیسے پاؤڈر ہوتا ہے، صفوف وغیرہ اس طرح کی چیزوں سے ان غیر ضروری بالوں کو صاف کیا جاتا ہے۔
سیدنا ابراہیم کی سنت:
ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جنہوں نے زیر ناف بال اُتارے وہ سیدنا ابراہیم تھے۔ (مرقاۃ جلد4صفحہ452)
آپﷺکا عمل:
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺکبھی ہڑتال کا استعمال فرماتے اور کبھی نہ فرماتے اور کبھی بال بڑے ہوجاتے تو مونڈھ دیتے۔ یعنی دونوں طریقوں کو نبی نے استعمال کیا ہے۔ اکثر اوقات تو مونڈھ دیتے جس کو حلق کرنا کہتے ہیں جیسےRaser استعمال کیا جاتا ہے، استرا وغیرہ Use کیا جاتا ہے۔ ویسے صفوف وغیرہ ان چیزوں سے مونڈھنا بھی نبی سے ثابت ہے۔
حضرت عمر کا قول:
فاروق اعظم فرماتے ہیں کہ نبی مونڈھنے کو پسند فرماتے تھے۔
(کنز جلد6صفحہ388)
ابن حجرکا قول:
حافظ ابن حجرm نے لکھا کہ زیرِناف بالوں کو اُتارنے میں سنت مرد اور عورت کے حق میں یہ ہے کہ اُسترے وغیرہ کے ذریعے بالوں کو صاف کرے۔
(فتح الباری جلد10صفحہ344)
علامہ نووی کا قول:
علامہ نووی نے بیان کیا ہے کہ مردوں کے حق میں استرا بہتر ہے اور عورتوں کے حق میں اُکھاڑنا بہتر ہے۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ332)
جیسےCreamوغیرہ کے ذریعے عورتوں کے لیے زیادہ بہتر ہے۔
آپﷺکی عادتِ مبارکہ:
ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی ہر بیس دن کے بعد زیر ناف بالوں کو صاف کیا کرتے تھے۔ اور اس کی وہی ترتیب ہے جو ناخن کی ہے کہ چالیس دن سے پہلے پہلے زیر ناف بال صاف کرنا ضروری ہے۔ اگر صاف نہ کیے تو انسان گناہ گار ہوگا اور اس شخص کی نماز مکروہ ہوجائے گی۔
مستحب طریقہ:
مستحب تو یہ ہے کہ ہر جمعے زیر ناف بالوں کو صاف کیا جائے اور ناخنوں کو بھی تراشے، اگر یہ نہ ہوسکے تو پندرہ دن بعد ہی کرے ورنہ آخری حد چالیس دن کی ہے اس سے آگے گناہ گار ہوگا۔
نبی کی ناراضگی:
چالیس دن سے زیادہ اگر ہوجائیں تو اس کے بارے میں وعید بھی ہے۔ بنی غفار کے ایک شخص سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص زیر ناف بال نہ اُتارے، ناخن نہ تراشے، مونچھیں نہ کٹوائے تو وہ ہم میں سےنہیں۔
(اتحاف جلد2صفحہ412)
تو معلوم ہوا کہ زیر ناف بال اُتارنا بھی ضروری، ناخن تراشنا بھی ضروری، مونچھوں کو کٹوانا بھی ضروری ہے۔
زیر ناف بال کتنے اور کیسے کاٹے جائیں؟
اس کے بارے میں مرقاۃ میں لکھا ہے کہ زیر ناف بال سے مراد مرد اور عورت کی پیشاب گاہ کے اردگرد جو بال بالغ ہوجانے کے بعد آجاتے ہیں وہ ہیں۔
(مرقاۃ جلد4صفحہ456)
اور دونوں جگہ کے بال یعنی پیشاب گاہ اور پاخانہ گاہ کے بالوں کو اُتارنا ضروری ہے۔ اور مرد اور عورت کی پیشاب گاہ کی اوپری حصے کے جو بال ہیں ان کو اُتارنا بھی ضروری ہے۔ (فتح الباری جلد10صفحہ344)
قینچی سے بال وغیرہ کاٹ سکتے ہیں۔ (فتح الباری جلد10صفحہ243)
لیکن جو سنت کا ثواب ہے وہ استرے سے ملے گا، حلق کرنے سے ملے گا۔
(مرقاۃ جلد4صفحہ457)
زیر ناف بال دور کرنے کا طریقہ:
زیر ناف بال دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بال صاف کرنے کی ابتدا اوپر سے کرے اور کوشش یہ کرے۔ یعنی حدود اربعہ صفائی کا یہ ہو کہ پیشاب گاہ اور پاخانہ گاہ کے اردگرد جہاں تک ممکن ہے زیادہ صفائی کرے، تھوڑے سے زیادہ بھی کٹ جائیں گے تو کوئی حرج نہیں۔
شریعت مطہّرہ کا پاکیزہ حکم:
اب شریعت کا حکم دیکھیں! شریعت کتنی پیاری ہے، کتنی خوبصورت ہے کہ یہ جگہ انسان کے ستر میں شامل ہوتی ہے۔ یہ انسان کسی کے سامنے کھول نہیں سکتا تو فرمایا گیا کہ دیکھو! یہ ستر والی جگہ ہے۔ لہذاجب تم ان کو بالوں کو کاٹ لو تو ان بالوں کو ایسی جگہ پر نہ ڈالو کے کسی دوسرے کی ان بالوں پر نظر پڑے۔ (نفع المفتی صفحہ116)
غور کرنے کی بات ہے کہ شریعت مطہّرہ نے ہمیں کتنی حیا کی تعلیم دی ہے۔ فرمایا کہ ایسے بال جن کو تم کاٹ کر پھینک چکے ہو چونکہ ایسی جگہ کے ہیں جس کا نظر آنا اور دکھانا گناہ ہے تو وہاں کے بال بھی تم نہ دکھاؤ۔ اور آج تو سب کچھ دکھانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں بال کی کیا بات رہی؟
امورِ فطرت:
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ امور فطرت میں سے ہیں:
(1) ختنہ کرنا
(2) زیر ناف بال صاف کرنا
(3) بغل کے بال اُکھاڑنا
(4)ناخن کاٹنا
(5)مونچھیں تراشنا۔ (بخاری جلد2صفحہ875)
یہ تو بخاری شریف کی روایت تھی۔ ایک روایت ہے ترمذی شریف کی اور مسلم شریف میں بھی یہ موجود ہے۔ اس میں نبیd نے ارشادات فرمایا کہ 10 چیزیں امورِ فطرت ہیں۔
(1)مونچھیں تراشنا
(2)ڈاڑھی کو لمبا کرنا
(3)مسواک کرنا
(4)ناک صاف کرنا
(5)ناخن تراشنا
(6)جوڑوں کو صاف رکھنا
(7)ناک کے بال صاف کرنا
(8) زیر ناف بالوں کو صاف کرنا
(9) انتقاص الماء (یعنی پانی سے استنجاء کرنا)
(10) کلی کرنا (مسلم جلد1صفحہ139،ترمذی صفحہ100)
فطرت سے کیا مراد ہے؟
فطرت سے مراد حضرات انبیاء کرامf کے طریقےہیں۔ (شرح مسلم جلد1صفحہ128)
اور بعض روایات میں کئی اور بھی چیزیں ہیں تو اس طرح کل یہ 30 سے زائد بن جاتی ہیں۔ چند ایک تو ذکر ہوگئی ہیں۔ (فتح الباری جلد10صفحہ338)
پہلی چیز ختنہ
ختنہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ سنت مؤکدہ ہے(واجب کے درجے میں ہے۔ آج ہم اس کو اپنی زبان میں مسلمانی بھی کہہ دیتے ہیں۔ تو شریعت میں اس کا نام ختنہ ہے) بہتر یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن ختنہ کروالیا جائے۔ (شرح مسلم جلد1صفحہ128)
حضرت جابر کی حدیث ہے کہ آپﷺنے حضرت حسن اور حضرت حسین کا ختنہ ساتویں دن ہی کرایا تھا۔ معلوم ہوا کہ کہ سنت ہے (ساتویں دن کروانا) علماء کرام نے لکھا ہے کہ جلد کروادیا جائے کہ جلد نرم ہوتی ہے تو آسانی رہتی ہے۔
(فتح الباری جلد10صفحہ343)
بعض لوگ تاخیر کردیتے ہیں پھر بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو ان کو مشکل ہوتی ہے۔
بغل کے بال صاف کرنا:
اس کے بعد دوسری چیز ہے بغل کے بال اُتارنا۔ اس کے بارے میں شریعت میں اُکھاڑنا بھی آیا ہے اور مونڈھنا بھی آیا ہے۔ اُکھاڑنے کے بارے میں علماء کرام نے فرمایا کہ فائدے زیادہ ہیں۔ بدبو نہیں ہوتی، بال نرم رہتے ہیں۔ کیونکہ انسان جب حلق کرتا ہے تو بال سخت ہوجاتے ہیں، تاہم مونڈھنا بھی کافی ہے، کیونکہ اصل مقصود تو صفائی ہے۔ مونڈھنے سے بھی سنت ادا ہوجائے گی اگر اُکھاڑنے کی عادت نہ ہو۔ اب بعض اوقات اُکھاڑنے سے ڈرلگتا ہے، تکلیف محسوس ہوتی ہے انسان سوچ رہا ہوتا ہے کہ پتا نہیں کیا بنے گا؟ تو اس کے اندر بھی گنجائش موجود ہے کہ Blade بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
امام شافعی کا واقعہ:
ایک بزرگ ہیں یونس بن عبدالاعلی یہ امام شافعی کے پاس ایک مرتبہ گئے تو دیکھا کہ امام شافعی بغل کے بال استرے سے مونڈوا رہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ سنت اُکھاڑنا ہے مگر اُکھاڑنے کی طاقت نہیں پاتا۔
(فتح الباری جلد10صفحہ344)
بغل کے بال صاف کرنے کا مستحب طریقہ:
جب صاف کرنے کی نوبت آئے تو پہلے دائیں بغل کے بال مونڈھے بائیں ہاتھ سے، اور جب بائیں بغل کے بال مونڈھے تو کوشش یہ کرے کہ بائیں ہاتھ ہی استعمال کرے، لیکن اگر بائیں ہاتھ سے کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے تو دائیں ہاتھ کی مدد لے سکتا ہے۔ (فتح الباری جلد10صفحہ344)
آپﷺکی بغل مبارک کی کیفیت:
حضرت انسh فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب دعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتے تو بغل کی سفیدی نظر آتی۔ (دلائل النبوۃ جلد1صفحہ247)
یعنی بال بالکل صاف کیے ہوتے تھے۔
ناک صاف کرنا:
یہ بھی امور فطرت میں سے ہے۔ آج کل اتنے بڑے لوگ ہوتے ہیں بیچاروں کو ناک صاف کرنا بھی نہیں آتا ہوتا۔ تو میرے بھائیو! شریعت نے تو ناک صاف کرنا بھی سکھایا ہے۔ یہ اسلام کا حسن ہے کہ اس نے ہمیں ہر ہر طرح سے سمجھایا ہے، ہم خود ہی سیکھنے کے لیے تیار نہ ہوں تو بدقسمتی ہماری اپنی ہے۔ شریعت نے بتایا ہے کہ جسم کے ہر عضو کی صفائی مطلوب ہے۔ بعض لوگ ہوتے ہیں کہ ناک کے اندر ریزش ہوتی ہے یعنی ناک آئی ہوئی ہوتی ہے اور اس کو ایسے ہی سڑسڑ کرتے رہتے ہیں۔ اور بعض کو نزلہ ہوا ہوتا ہے یا کوئی ایسا معاملہ ہوتا ہے۔ بس اس کو صاف کرلیا۔ اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو اسی کپڑے سے یا جہاں بیٹھے ہوئے ہیں صوفہ وغیرہ سے صاف کرلیا، اس بات کو شریعت نے ناپسند قرار دیا۔
ناک صاف کرنے کا طریقہ:
چاہیے کہ انسان Bathroom جائے اور سیدھے ہاتھ سے ناک کے اندر پانی ڈالے اور ناک کو جھاڑنے کی کوشش کرے اور اگر انگلی ڈالنی ہو تو بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی ڈالے اور ناک کو صاف کرے۔ یعنی Washroomجاکر پانی کو استعمال کرلے اور ناک کو صاف کرے، یہ سنت ہے۔ اس کے علاوہ انسان ٹشو پیپر یا رومال اپنے ساتھ رکھے۔ Direct انگلی لگا کر سب کے سامنے ناک صاف کرنا اس سے دوسروں کو بھی کراہیت محسوس ہوتی ہے، اس لیے شریعت نے اس کو ناپسند کیا ہے۔ لیکن اگر روزہ ہو تو روزہ کی حالت میں ناک میں پانی نہ ڈالے بلکہ احتیاط کرے کیونکہ اس سے روزہ فاسد ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
ناک کے بالوں کے بارے میں وضاحت:
بعض لوگوں کی ناک بہت بڑی لمبی ہوتی ہے، بہرحال یہاں تو ہم جسمانی ناک کی بات کررہے ہیں۔ نبی نے فرمایا کہ ناک کے بالوں کو اکھاڑو۔
(بیہقی، فیض القدیر جلد11صفحہ199)
یعنی جو بال باہر آجاتے ہیں ان کو اُکھاڑنا چاہیے۔ اندر والے بالوں کا ناک میں ہونا ضروری ہے۔ اگر اندر والے بال سارے ہی صاف کرلیے جائیں یا ان کو مونڈھ لیا کسی طریقے سے یعنی بالکل صاف کرلیا جائے تو یہ درست نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ناک کے بالوں کا ہونا جذام سے حفظ کا ذریعہ ہے۔ (فیض الباری)
ناک کے بالوں کا ایک فائدہ:
اور ویسے بھی جب انسان سانس لیتا ہے تو ناک کے بال اس میں بہت Role ادا کرتے ہیں۔ سانس کے آنے اور جانے میں ان ناک کے بالوں کا ہونا بڑی اللہ کی نعمت ہے۔ یہ نہ ہو تو بہت ساری مٹی اندر پہنچ جاتی ہے۔ لیکن جو بال باہر نکل آئے تو فرمایا کہ ان کو قینچی سے کاٹ دو۔ لیکن ایسا طریقہ اختیار کرنا کہ ناک کےبال بالکل ہی صاف ہوجائیں یا ختم ہوجائیں یہ درست نہیں ہے۔
جوڑوں کا صاف رکھنا:
انسانی جسم کے وہ جوڑ اور اعضا وغیرہ جہاں عموماً میل کچیل جمع ہوجاتی ہے ان کو صاف رکھنا۔ مثلاً کان کے سوراخ کو صاف رکھنا اور اس کی میل کچیل کو صاف کرنا۔
(شرح احیاء جلد2صفحہ394)
آج کل تو Cotton Buds ملتا ہے، نہانے کے بعد ذرا سا استعمال کرلیا جائے۔ مگر احتیاط سے ایسا بھی نہ ہو کہ کان کے پردے کو خراب کردیں اور قوتِ سماعت متاثر نہ ہو جائے اور کہیں بہرے نہ ہوجائیں۔ تو کانوں کا صاف کرنا، اس کے میل کچیل کو دور کرنا اور کہیں بھی جسم کے اندر میل کچیل ہو تو اس کو دور کرنا ضروری ہے۔
امام نووی لکھتے ہیں کہ جس مقام پر بھی میل کچیل اور مٹی جمع ہوجائے تو اس کو صاف کرنے کا حکم ہے۔ (شرح مسلم للام النووی جلد1صفحہ129)
معلوم یہ ہوا کہ شریعت صفائی کو پسند کرتی ہے، گندہ رہنے والے کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔
انتقاص الماء کی وضاحت:
ایک اور بات بتائی تھی کہ یہ بھی امورِ فطرت میں سے ہے، وہ ہے انتقاص الماء۔ علماء کرام نے اس کے دو مفہوم لیے ہیں:
(1) پیشاب کرنے کے بعد پیشاب گاہ کے اوپر انسان از خود چھینٹیں ڈالے۔ (چونکہ بہت سے نوجوان اس وجہ سےپریشان ہوجاتے ہیں کہ پیشاب کرنے بعد ایسا لگتا ہے کہ جیسے قطرہ آگیا۔ ڈرتے رہتے ہیں،ان کو شیطان وہم لگا کر رکھتا ہے۔ پھر اس طرح وہ وہم کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ تو اس کا بہترین علاج یہ بتایا کہ جب ہم پیشاب کرلیں تو پیشاب کرنے بعد ہاتھ کو گیلا کرکے وہیں پر چھڑکاؤ کرلیں پانی سے ۔ خطرہ ہی نہ پیدا ہو قطرے کا، اب وسوسہ آئے تو انسان اس کو اپنی ہمت کے ذریعے دور کرے)
(2) دوسرا اس کا مطلب ہے پانی سے استنجا کرنا۔ (شرح مسلم للام النووی جلد1صفحہ129)
خضاب لگانا:
بہرحال یہ باتیں تو تھیں صفائی کے متعلق، اس کے بعد اگلا موضوع ہے بالوں میں خضاب لگانا۔
حضرت عثمانفرماتے ہیں کہ میں ام سلمہ کی خدمت حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے نبی کے بال دکھائے جو کہ خضاب شدہ تھے۔ (بخاری)
علامہ نوونے بیان کیا ہے کہ نبی نے خضاب کا استعمال کیا ہے، البتہ کم کیا ہے اور کبھی کبھی کیا ہ، بیشتر اوقات آپﷺ استعمال نہیں فرماتے تھے۔
(شرح مسلم للام النووی جلد2صفحہ259)
یہ شرح مسلم کے اندر انہوں نے بات لکھی ہے۔
بہترین خضاب مہندی:
اگر خضاب لگانا ہو تو اس کے بارے میں فرمایا آپﷺ نے کہ مہندی کا خضاب لگاؤ، اس کی خوشبو بہت اچھی ہے اور دردِسر کے لیے مفید ہے۔ (مطالب عالیہ جلد 2صفحہ275)
ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جنہوں نے مہندی اور کثم کا خضاب استعمال کیا ہے وہ سیدنا ابراہیم تھے۔ (مرقات جلد4صفحہ482)
کثم کسے کہتے ہیں؟
کثم یمن میں ایک پودا ہوتا ہے جس سے سیاہی مائل سرخ رنگ تیار ہوتا ہے۔ ان دونوں (یعنی مہندی اور کثم) کے ذریعے سے سیاہی اور سُرخی کے درمیان کا رنگ نمایاں ہوتا ہے۔ (فتح الباری صفحہ355)
خضاب کے درجات:
ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، اس نے مہندی کا خضاب لگایا ہوا تھا۔ آ نے فرمایا کہ کیا ہی اچھا ہے۔ پھر ایک دوسرا گزرا اس نے مہندی اور کثم دونوں کا خضاب لگایا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اس سے بہتر ہے۔ اور پھر ایک اور گزرا جس نے زرد (رنگ کا) خضاب لگایا ہوا تھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ سب خضاب سے اعلیٰ ہے۔ (ابو داؤد)
تو معلوم یہ ہوا کہ زرد رنگ کا خضاب زیادہ بہتر ہے اور پسندیدہ ہے۔ اس کے بعد مہندی اورکثم سے ملا ہوا اور تیسرے نمبر پر مہندی کا خضاب نبی کو پسند تھا۔
سیاہ خضاب لگانے پر وعیدیں:
اسی طرح ایک سیاہ خضاب بھی ہوتا ہے۔ سیاہ کےبارے میں چند باتیں سن لیجیے۔
پہلی وعید:
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی نے ارشاد فرمایا کہ آخر زمانے میں ایک جماعت ہوگی جو سیاہ (Black Colour) کا خضاب لگائے گی اس کی طرف خدا کی (خیر اور رحمت) کی نگاہ نہیں ہوگی۔ (ابو داؤد،مجمع جلد5صفحہ164)
دوسری وعید:
ارشاد نبویﷺ ہے کہ ایک جماعت آخر زمانے میں ہوگی جوکہ کبوتر کے سینے کی مانند سیاہ خضاب لگائے گی، یہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکیں گے۔ (مشکوٰۃ، ابو داؤد)
تیسری وعید:
ایک روایت میں ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا کہ جس نے سیاہ خضاب استعمال کیا قیامت کے دن اس کاچہرہ سیاہ ہوگا۔ (بزار مجمع الزوائد جلد5)
سیاہ خضاب کے بارے میں آتا ہے کہ سب سے پہلے اس کو فرعون نے لگایا تھا۔
(کنزالعمال جلد6صفحہ379)
یعنی اس کی نسبت فرعون کے ساتھ ہے۔ تو ہم اگر Colour لگانا چاہیں اپنے بالوں میں بڑھاپے کی وجہ سے، بیوی کی محبت کی وجہ سے تو Black Colur کالا رنگ قطعاً استعمال نہ کریں اس سے بچنے کی کوشش کریں۔
مسلم اور کافر کا خضاب:
ایک روایت میں ہے کہ مومن کا خضاب زرد رنگ کا ہوتا ہے، مسلمان کا سرخ ہوتا ہے اور کافر کا کالا ہوتا ہے۔ (مجمع الزوائد جلد5)
عورتوں کا خضاب لگانا:
عورتوں کے خضاب کے متعلق جان لیجیے کہ عورتوں کا خضاب مہندی ہے۔
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے پردےکے پیچھے سے خط دینے کے لیے آپ کو ہاتھ بڑھایا تو یہاں پر نکتہ سمجھنے والا ہے کہ پردے کے پیچھے سے کوئی چیز پکڑائی کیونکہ سامنے نبی بھی موجود تھے تو نبی کو کوئی چیز دینی ہوتی تھی تو پردے کے پیچھے سے دیتے تھے۔ قرآن پاک میں آتا ہے:
فَسْـَٔلُوْهُنَّ۠ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ (الاحزاب:53)
’’کوئی چیز لینی یا دینی ہو تو پردے کے پیچھے سے دیں‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر نامحرم کو بضرورت شدیدہ کوئی چیز دینی ہے یا ان سے کچھ لینا ہے پردے کے پیچھے سے لینا دینا سنت عمل ہے۔ سامنے نہ آنا چاہیے جس کے مفاسد بھی بہت ہیں۔ حدیث مبارک میں آتا ہے کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے آپﷺ کو خط پکڑانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ تو آپﷺ نے فرمایا: نہیں معلوم کہ یہ ہاتھ کسی عورت کا ہے یا مرد کا۔ تو پھر فرمایا کہ اگر عورت ہے تو اپنے ہاتھوں کو مہندی کے رنگ سے کیوں نہیں رنگا۔ (مشکوٰۃ صفحہ383)
تو عورتوں کے لیے ناخنوں پر مہندی لگانا درست اور مسنون ہے۔ شریعت اس کی اجازت دیتی ہے کہ عورت اپنے ہاتھوں کو رنگ لگائے اور وہ رنگ مہندی کا ہو۔مہندی لگانا ایک زینت بھی ہے اور عورتوں کی نشانی بھی۔ اور عورتوں کے لیے یہ ہے کہ زینت اپنے خاوند کے لیے اختیار کریں نہ کہ کسی غیر محرم کے لیے۔
نیل پالش:
مگر ایسا سخت رنگ جس کے اندر وضو اور غسل کا پانی سرایت نہ کرے درست نہیں ہے جیسے آج کلخواتین Nail Palish لگاتی ہیں ۔ اگر کسی نے نیل پالش لگائی اول تو یہ کہ نہ لگائے کیونکہ اکثر اس میں حرام چیزیں جیسے سور اور حرام جانوروں کی Fats وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ اور اگر کسی نے پوری تسلی کرکے حلال لے بھی لی تو اب اس کو لگا کر وضو کی جب دوبارہ ضرورت ہوگی تو وضو نہیں ہوگا، کیوں کہ اس کا ایک خول جلد پر بن جاتا ہے جس کی وجہ سے وضو یا غسل کا پانی اندر نہیں جاتا جب وضو یا غسل صحیح ادا نہ ہوا تو اب تلاوت قرآن، نماز وغیرہ درست نہیں ہوگی۔
غلط فتوٰی:
آج کل کے نئے قسم کے جو علماء ہوتے ہیں تو وہ یہ فتویٰ دے دیتے ہیں کہ جب وضو کرکے اپنے ناخنوں پر نیل پالش لگائی تو اب اگر وضو ٹوٹ بھی گیا ہے کہ تو اس جگہ کا نہیں ٹوٹا جہاں نیل پالش لگائی ہے۔ تو جس طرح یوم السبت ہفتے کے دن والے تھے یعنی احکام کو مسخ کرنے والے تو ان کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔
ایک لطیفہ:
جیسے ایک لطیفہ ہے کہ ایک آدمی نے وضو کیا اور وضو کرنے کے بعد دوبارہ پھر وضو کرلیا تو کسی نے پوچھا کہ تم نے وضو کرنے کے بعد دوبارہ پھر وضو کرلیا تو اس نے کہا کہ ایک ٹوٹ جائے گا تو دوسرا باقی رہے گا۔ تو میرے بھائیو! احکامات تو وہی چلیں گے جو نبی نے بتادئیے۔
مردوں کو عورتوں کی مشابہت سے ممانعت:
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک مخنث آیا۔ (مخنث جس کو عام زبان میں ہیجڑا کہہ دیتےہیں) اس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگا رکھی تھی۔ آپﷺنے اس سے پوچھا کہ یہ تم نے کیوں لگائی؟ تو اس نے جواب دیا کہ عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے۔ آپﷺ نے اس کو باہر نکل جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس کو نکال کر بقیع تک پہنچا دیا گیا۔ (مشکوٰۃ، مرقاۃ صفحہ480)
اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے ان کی طرح مہندی لگانا منع اور حرام ہے۔
بعض لوگ صرف ایک ہاتھ پر لگالیتے ہیں۔ بعض لوگ شادی بیاہ پر لگالیتے ہیں تو تمام صورتوں میں یہی حکم ہے کہ مردوں کے لیے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگانا جائز نہیں۔
اسی طرح لڑکوں کے لیے بھی مہندی لگانا پسندیدہ نہیں۔ مہندی کو نبی نے عورتوں کے لیے پسند فرمایا تو جو مرد مہندی لگائے تو وہ عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا اور عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے اس کو لعنت کا مستحق ہونا پڑے گا۔ بہرحال اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں سمجھ عطا فرمائے آمین۔ اور ایک ایک سنت کو شوق اور لگن سے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
دل کی صفائی:
یہ چند باتیں تو تھیں ظاہری صفائی اور سنت کےبارے میں۔ اب چند باتیں دل کی صفائی کے متعلق بھی سن لیجیے کہ دل کی صفائی کے لیے کیا چیزیں ضروری ہیں۔ دل کی صفائی کثرتِ ذکر سے ہوگی اور اللہ والوں کی صحبت سے ہوگی۔
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ
لِکُلِّ شَیْ ءٍ مَعْدَنْ وَمَعْدَنُ التَّقْوٰی قُلُوْبُ الْعَارِفِیْنَ.
(کتاب الزہد،مجمع الزوائد حدیث:17944)
’’ہر چیز کا ایک خزانہ ہوا کرتا ہے اور تقویٰ کا خزانہ اللہ والوں کے دل ہوا کرتے ہیں‘‘۔
تقوٰی کیسے اور کہاں سے ملے گا؟
تقوٰی کا حاصل کرنا فرض عین ہے یعنی ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔ مگر یہ کیسے ملے گا؟ یہ اللہ والوں کی صحبت سےملے گا۔
قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۱۱۹ (التوبۃ:119)
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو‘‘۔
کیوں کہ سوال ہوسکتا ہے کہ یہ کیسے حاصل کیا جائے؟ تو اللہ پاک نے خود ہی جواب دے یا کہ
وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۱۱۹ (التوبہ:119)
’’تم سچوں کے ساتھ ہوجاؤ‘‘۔
مفسرین نے اس آیت کا مفہوم مشائخِ وقت کو لیا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ
لِتَکُونُوْا مِثْلَہُمْ
یعنی کہ تم اللہ والوں اور مشائخ وقت کے ساتھ اتنا رہو اتنا رہو کہ ان جیسے بن جاؤ، اس لیے کہ صحبت مؤثر ہوا کرتی ہے۔
اَلْمَرْءُ عَلی دِینِ خَلِیْلِہٖ (مسند احمد)
’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے‘‘۔
اب ہمیں چاہیے کہ ہم دیکھیں کہ ہم کس کو اپنا دوست بنا رہے ہیں۔ کہاں اُٹھ رہے ہیں؟ بیٹھ رہے ہیں؟ امت کے اندر جتنے بھی علماء اور مشائخ گزرے ہیں سب نے کسی نہ کسی کی صحبت میں بیٹھ کر فیض حاصل کیا تو پھر اللہ نے ان کو چار چاند لگائے۔
امام ابو حنیفہ کا قول:
امام اعظم ابو حنیفہ یہ امام جعفر صادق کی خدمت میں جایا کرتے تھے۔
دو سال ان کی خدمت میں رہے اور خود فرمایا کرتے تھے کہ
لَولَا سَنَتَانِ لَھَلَکَ نُعْمَانُ.
’’اگر وہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا‘‘۔
اکابر علماء کا اصلاحی تعلق:
اگر اکابرین کی بات کی جائے تو تفصیلات بہت ہیں۔ ہمارے اکابر علماء جتنے بھی گزرے ہیں جیسے حضرت مولانا قاسم نانوتوی اور حضرت اقدس مولانا تھانوی یہ حضرات علم کے پہاڑ تھے۔ اور ایک بزرگ تھے حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی تو یہ بزرگ فقط کافیہ تک پڑھے ہوئے تھے پورے عالم نہیں تھے۔ اور علم کے پہاڑ حاجی صاحب سے جاکے بیعت ہوگئے۔ اب لوگوں نے اعتراض کیا کہ حضرت! آپ اتنے زیادہ علم والے ہیں تو آپ ایک صوفی سے اللہ والے سے بیعت ہوگئے ہیں۔ کہنے لگے کہ ہم نے مدارس میں پڑھنے کے بعد مٹھائیوں کےنام یاد کرلیے تھے۔ ذائقہ وہاں جا کے آیاکہ نماز کیسے پڑھنی ہے، روزہ کب شروع ہوتا ہے، کب ختم ہوتا ہے۔ جو فقہی مسائل ہیں وہ مدرسے سے ہمیں معلوم ہوگئے تھے لیکن نماز کی کیفیات کیا ہوں؟ اللہ کا قرب کیسے ملے؟ اور نماز سے ایمان میں کیسے اضافہ ہو؟ تلاوت سے ایمان میں اضافہ کیسے ہو؟ تو یہ چیزیں اللہ والوں کے پاس جاکر ہی آتی ہیں۔ یہ فقہی مسائل پڑھ کے حاصل نہیں ہوتیں۔
محدث العصر حضرت کشمیری کا قول:
حضرت مولانا انور شاہ کشمیری بہت بڑے محدث گزرے ہیں۔زمانہ آپ کو محدث العصر کے نام سے یاد کرتا ہے۔ ایک مرتبہ بخاری کا ختم ہوا تو انہوں نے طلباء کو فرمایا کہ جتنی مرتبہ چاہو بخاری شریف ختم کرلو، جب تک تم کسی اللہ والے کی جوتیاں سیدھی نہیں کرو گے روح علم سے محروم رہو گے۔ مطلب کہ علم کی جو باطنی کیفیات ہیں وہ نہیں مل سکتیں۔
اللہ والوں کی صحبت کیوں ضروری ہے؟
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ والوں کی صحبت کیوں ضروری ہے؟ اس کا جواب علمائے کرام نے یہ دیا ہے کہ انسان عمل تو کرتا رہتا ہے۔ یعنی عمل تو انسان کی زندگی میں آہی جاتا ہے مگر جب تک انسان اللہ والوں کی مجلس میں نہیں بیٹھتا عمل کے اندر اخلاص سے محروم رہتا ہے۔ عمل کررہا ہوگا زندگی کے بیس تیس چالیس سال گزرے ہوں گے، وہ شخص بڑے بڑے اعمال کررہا ہوگا لیکن اگر کسی اللہ والوں کے پاؤں میں نہیں بیٹھا ہوگا تو اخلاص کی اس مقدار کا اس کو پتا ہی نہیں ہوگا۔ سمجھ نہیں ہوگی کہ وہ کیا نعمت ہوا کرتی ہے۔
اللہ والوں کی صحبت مفید ہونے کی وجوہات:
ویسے تو بہت زیادہ ہیں لیکن چار بنیادی وجوہات علماء نے لکھی ہیں۔ یہ باتیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
پہلی وجہ:
یہ ہے کہ جس طرف ان کے دل متوجہ ہوتےہیں اللہ کی رحمت اس طرف متوجہ ہوجاتی ہے یعنی ان کے پاس اللہ کی رحمت کو کھینچنے والے مقناطیس ہوتے ہیں۔ علماء سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ یہ اللہ کے منظورِ نظر ہوا کرتے ہیں۔
دوسری وجہ:
یہ ہے کہ ان کےملفوظات کو سن کر انسان کو اپنے نفس کے رزائل اور نفس کی خباثتوں کا پتا چل جاتا ہے کہ میں کتنے پانی میں ہوں، گھر بیٹھے تو ہر بندہ جنید اور بایزید ہی ہوتا ہے۔
تیسری وجہ :
یہ ہے کہ جب انسان اپنے حالات ان کو سناتا ہے تو ان کے مقبول اوقات کی مقبول دعاؤں میں اپنا حصہ لے لیتا ہے۔ جیسے کسی نے کہا:
دور بیٹھا کوئی تو دعائیں دیتا ہے
میں ڈوبتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے
یعنی محسوس ہوتا ہے کہ دعائیں پہرہ کررہی ہوتی ہیں۔
چوتھی وجہ:
یہ ہے کہ انسان کی طبیعت کے اندر نقلِ صفات کا خاصہ ہے جہاں بیٹھے گا دل چاہے گا کہ میںویسا ہو جاؤں۔ آپ کپڑے والے کے پاس بیٹھیں دل کرے گا کہ میں کپڑے بیچنے لگ جاؤں۔ کرکٹ والے کے پاس بیٹھیں، دل کرے گا میں بھی کرکٹ کھیلنا شروع کردوں۔ معلوم ہوا کہ انسان جہاں بیٹھتا ہے، ویسا ہونے کا دل کرتا ہے۔ تو اگر بندہ اللہ والوں کی صحبت میںبیٹھے گا تو اللہ والوں جیسا بننے کی کوشش کرے گا تو کثرتِ صحبت کی وجہ سے ویسا ہو بھی جائے گا۔
وصول الی اللہ کی تعریف:
اس کے علاوہ وصول الی اللہ ہمارے ہاں ایک ٹرم Term بولی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا ایسا استحضار ہوجانا کہ پھر اللہ تعالیٰ بھلانے سے بھی نہ بھولے۔ جیسے کسی نے کہا کہ بھلانا چاہو گے بھی تو بھلا نہ سکو گے۔ تو ایسی کیفیت کے حاصل ہوجانے کو وصول الی اللہ بھی کہتے ہیں۔
اللہ والا بننے کا نسخہ:
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے فرمایا: چار کام تم کرلو تم اللہ والے بن جاؤ گے، ٹھیکہ میں لیتا ہوں۔ وہ چار کام یہ ہیں:
(1) اعمال میں ہمت کرکے ظاہراً اور باطناً شریعت کا پابند بنا جائے۔
(2) کثرت کے ساتھ اللہ کو یاد کیا جائے۔ مطلب کہ خوب اللہ اللہ کیا جائے۔
(3) کسی متبع سنت وشریعت شیخ کی صحبت اختیار کی جائے، اس سے بیعت ہو جائے، اس کے پاس وقت گزارا جائے۔
(4) جب بندہ شیخ سے دور ہوجائے تو ان کی باتوں سے، مواعظ سے، بیانات سے، ملفوظات سے فائدہ اُٹھائے۔
حضرت نے کہا: جو یہ چار کام کرلے گا وہ اللہ والا بن جائے گا۔ ٹھیکہ اس بات کا میں لیتا ہوں۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔
فی زمانہ بیعت فرض ہے:
حضرت مولانا اشرف علی تھانویفرماتے تھے کہ یہ جو بیعت ہے یہ ہے تو سنت عمل لیکن فی زمانہ میری نظر میں یہ فرض ہے، کیونکہ اس سنت کو پوری کرنے سے انسان کی زندگی میں فرائض زندہ ہوجاتے ہیں۔
بیعت ہونے سے ڈرنا:
بہت سے لوگ ڈرتے ہیں بیعت کے نام سے۔ کچھ دنوں پہلے ایک خاتون نے فون پر بتایا کہ میری فلاں رشتے دار بیعت ہونا چاہتی ہے، مگر ڈرتی ہے کہ اگر میں بیعت ہوگئی تو عمل کرنا پڑ جائے گا۔ نماز پڑھنی پڑ جائے گی اور پتا نہیں کیا کیا ہم پر فرض ہوجائے گا۔ تو میں نے ان کو سادھی سی بات سمجھائی کہ بیعت ہونے سے پہلے اور بیعت ہونے کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آجاتی، جو چیزیں بیعت ہونے سے پہلے بھی فرض ہیں وہ بیعت ہونے کے بعد بھی فرض ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ نماز اور قرآن کو بیعت نے فرض نہیں کیا بلکہ یہ تو جو کلمہ پڑھے لے:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللہِ
تو اب ایک بہت بڑا تقاضا ہماری طرف متوجہ ہوگیا۔ خالی کلمہ پڑھنے سے کام پورا نہ ہوا ایک بہت بڑا عمل کا میدان ہمارے سامنے آگیا۔
بیعت ہونے کے فوائد:
بیعت ہوجانے کے بعد ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ جو دین سے دور تھے بیعت کی برکت سے دین کے قریب آگئے۔ اور وہ کلمہ جو انہوں نے پڑھا تھا اس کے تقاضے پورے کرنا ان کے لیے آسان ہوگیا۔
فوائد کی وجوہات:
ایک بات تو یہ ہوتی ہے کہ اس میںاللہ والوں کی دعائیں شامل ہوتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ انسان ارادہ کرلیتا ہے کہ میں نے توبہ کرلی ہے اور اب اللہ کو راضی کرنا ہے۔ اور توبہ کی وجہ سے اللہ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے۔ پھر جو شیخ ہوتے ہیں وہ رات کو اُٹھ اُٹھ کر ان کے لیے دعائیں کررہے ہوتے ہیں۔ اللہ کی رحمتوں کو بار بار کھینچنے کے لیے بار بار مانگ رہے ہوتے ہیں دامن پھیلا رہے ہوتے ہیں۔
مزہ تو تب آئے گا کہ شیخ بھی اس کے لیے دعا کرتا رہے اور وہ خود بھی اپنے لیے توبہ کو طلب کرے، تو یہ دونوں چیزیں جب مل جاتی ہیں تو اللہ کی رحمتیں جلدی مل جاتی ہیں۔
شیخ سے محبت:
ایک حدیث سنیے! نبیﷺ نے فرمایا:
اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ (متفق علیہ)
’’آدمی جس سے محبت کرے گا قیامت کے دن اسی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا‘‘۔
انسان جب بیعت کرتا ہے تو کیوں کرتا ہے؟ ظاہر ہے محبت کی وجہ سے کرتا ہے۔ اب ذرا غور کیجیے! اور اس کی تشریح سن لیجیے!
میں اپنے شیخ حضرت مولانا حافظ پیرذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم سے الحمدللہ! بیعت ہوں۔ مجھے اپنے شیخ سے بے پناہ محبت ہے اور ان کو اپنے شیخ سے محبت ہے۔ حدیث میں نبی نے فرمایا کہ
اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ
کہ انسان تو اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس کو محبت ہوگی۔
اب بھئی! مجھے تو اپنے شیخ سے محبت ہے تو میں ان کے ساتھ جڑگیا اور ان کو اپنے شیخ سے محبت ہے وہ ان کے ساتھ جڑگئے، تو اس طرح چلتے چلتے پورا شجرہ طیبہ ہمارے پاس موجود ہے۔ آپ خانقاہ میں آئیے اور شجرہ طیبہ ملاحظہ کریں اور کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ یہ سلسلہ چلتے چلتے سیدنا صدیق اکبر تک جا پہنچتا ہے۔ اب آپ سب بتائیں ان کو کن سے محبت ہے؟ ان کو نبی سےمحبت ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ وہ تعلق ہے جو قیامت کے دن آقاﷺ کے قدموں میں جگہ دلواسکتا ہے۔ آپ بتائیں ہمیں اس کی کتنی لاج رکھنی چاہیے؟ کتنی قدر کرنی چاہیے؟ کیا یہ نسبت چھوٹی ہے؟
عجیب مثال:
اب اس کی مثال جو علماء دیتے ہیں سُن لیجیے۔ ریل گاڑی کے اندر ڈبے ہوتے ہیں، کچھ ہوتے ہیں فرسٹ کلاس کے ڈبے اور کچھ ہوتے ہیں تھرڈ کلاس کے ڈبے، جس میں آوازیں بھی آرہی ہوتی ہیں، چوں چوں بھی کررہا ہوتا ہے اور گندہ بھی ہوتا ہے کہ جیسے کوئی پھٹیچر ہو اور اس کی سیٹیں بھی پھٹی ہوئی ہوتی ہیں۔ ایک دن فرسٹ کلاس کےڈبے نے کہا کہ کیا تو میرے ساتھ لگارہتا ہے، میں تو اتنا صاف ستھرا ہوں۔ لگا ہوا ہے، مٹی بھی نہیں ہے،لیکن تیری چوں چوں سے مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے بڑا گندہ رہتا ہے تو میرے ساتھ تیرا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ تھرڈ کلاس والے ڈبے نے کہا کہ جناب! میں آپ کی عظمتوں کا قائل ہوں، آپ بالکل ٹھیک فرماتے ہیں، بالکل ایسا ہی ہے اور میں اس سےگیا گزرا ہوں جیسا آپ کہہ رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میری کنڈی آپ کے ساتھ لگی ہوئی ہے جدھر آپ پہنچیں گے، ادھر میں بھی پہنچ جاؤں گا۔ تو یہ جو اللہ والے ہوتے ہیں یہ فرسٹ کلاس ڈبے کی مانند ہوا کرتے ہیں، ہم پھٹیچر قسم کے ڈبے ہی ہیں، مگر جب ہم اپنی کنڈی ان کے ساتھ جوڑ لیں گے تو اللہ کی رضا کا جو اسٹیشن ہے تو جہاں یہ پہنچیں گے ہم بھی وہاں پہنچ جائیں گے۔
سورئہ طور میں اللہ رب العزت کا فرمان:
اب اس میں دلائل تو اور بھی بہت ہیں۔ قرآن پاک میں سورہ طور سے ایک دلیل بھی سن لیجیے، پھر بات کو میں ان شاء اللہ مکمل کرتا ہوں۔ قرآن مجید میں اللہ کریم فرماتے ہیں:
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ. (الطور:21)
’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان لائی اور وہ ایمان والوں کے پیچھے چلے (لیکن اعمال اس درجے کے نہ کرسکے اتنی بلند پرواز نہ ملی، جتنی بڑوں کو ملی تھی) تو اللہ پاک اپنی رحمت سے قیامت کے دن اولاد کو ان کے بڑوں کے ساتھ کردے گی‘‘۔
یعنی نیکیوں میں۔ تو علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس سے روحانی اولاد بھی مراد ہے اور جسمانی اولاد بھی مرادہے۔ شیخ ہے اس کا مرید مراد ہے، استاد ہے تو اس کا شاگرد بھی مراد ہے اور جسمانی اولاد تو مراد ہی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ اولاد سے دونوں طرح کی اولادیں مراد ہیں۔ یہ اللہ رب العزت فرمارہے ہیں۔
اللہ کے لیے محبت کرنے پر انعام:
اب بیعت کے متعلق ایک اور حدیث مبارک بھی سن لیجیے۔ فرمایا:
ھُمُ الْمُتَحَابُّوْنَ فِیْ اللہِ
’’یہ وہ ہیں جو اللہ کے لیے آپس میں محبت کرتے ہیں‘‘۔
یہ روایت وَلٰکِنَّ اللہَ اَلَّفَ بَیْنَہُمْ کی تفسیر میں علماء نے لکھی ہے۔
(سنن نسائی، مستدرک حاکم)
مطلب یہ ہے کہ جو شیخ سے بیعت کرتے ہیں یعنی جب مرید بیعت کرتا ہے تو یہ اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں، مال پیسے کے لیے نہیں۔ تو نبیﷺکی حدیث کے مطابق جو دو شخص اللہ کی رضا کے لیے ایک دو سرے سےمحبت کرتے ہیں، قیامت کے دن ان کو عرش کا سایہ مل جائے گا۔ اللہ اکبر! بیعت کی بڑی برکتیں ہیں۔ اور بیعت کے بہت سے فوائد ہیں۔ سب سے بڑا بیعت کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے دل میں اللہ رب العزت کی محبت آجائے، گھر کر جائے، راسخ ہوجائے۔
محبت پر اشعار:
حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے کیا خوب فرمایا ہے:
محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہوجانا
متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہوجانا
قدم ہے راہِ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی؟
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چُور ہوجانا
یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو!
کوئی آسان نہیں ہے کیا سرمد منصور وہوجانا
بسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجہ ہے
پہاڑوں کو تو بس آتا ہے جل کر طور ہوجانا
معلوم ہوا کہ اللہ کی یہ محبت اللہ والوں کی صحبت سے ملے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply