106

فجر کے فرضوں کے بعد سنت فجر کی ادائیگی کا حکم


سوال…. نماز فجر میں دو سنت اور دو فرض ہوتے ہیں اگر یہ دو سنت رہ جائیں تو کیا یہ دو سنت فرضوں کے بعد اسی وقت ادا کی جا سکتی ہیں یا ان کو سورج طلوع ہونے کے بعد بطور قضا ادا کیا جائے۔

جواب….. ابو دائود شریف میں ایک روایت آتی ہے ’’عن علی رضی اللہ عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی اثرکل صلوۃ مکتوبۃ رکعتین الاالفجر والعصر‘‘۔ (سنن ابی دائود ۱/۴۹۲۔ اعلاء السنن ۷/۱۲)

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے لیکن عصر کی نماز اور فجر کی نماز کے بعد نہیں پڑھا کرتے تھے۔

اس حدیث سے واضح طور پر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ فجر اور عصر کے فرائض کے بعد ان کے وقت میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھ سکتے اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پڑھا کرتے تھے اور فجر کی سنتیں جب فرضوں سے پہلے ادا نہ کی گئیں تو ان کی حیثیت نفل کی سی ہو جاتی ہے اور فجر کے فرضوں کے بعد نفل پڑھنا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا فرضوں کے بعد ان کا پڑھنا جائز نہیں ہے۔

ایک دوسری روایت میں ہے ’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من لم یصل رکعتی الفجر فلیصلھما بعد ماتطلع الشمس رواہ الترمذی ۱/۵۷ قال لانعرف الامن ھذا الوجہ قلت رجالہ رجال الصحیین الاعقبۃ فمن افراد مسلم و عزاہ العزیری الی الترمذی والحاکم وقال الحاکم صحیح واقروہ۔ الخ

وفی النیل الاوطار (۲/۲۶۹) بعد عزوہ الی الترمذی اخرجہ ابن حبان فی صحیحہ والحاکم فی المستدرک وقال صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ الخ وکذارأیتہ فی المستدرک ۱/۳۰۷ بلفظ من نسی رکعتی الفجر صحہ الحاکم علی شرطھما واقرہ علیہ الذہبی۔ (اعلاء السنن ۷/۷۰)

یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھیں تو اس کو چاہیے کہ وہ سورج نکلنے کے بعدپڑھ لے اس حدیث مبارک سے صراحتاً یہ ثابت ہو رہا ہے کہ فجر کی سنتیں فرضوں کے بعد نہیں پڑھنی چاہئیں بلکہ سورج نکلنے کے بعد پڑھنی چاہئیں۔”

واللہ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں