133

قبر کے تین سوال

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
قال النبی ﷺ: إنما القبر روضۃ من ریاض الجنّۃ أو حفرۃ من حفر النّار.
أو کما قال ﷺ. (سنن الترمذي: رقم 2460)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

قبر کی رات قبر میں ہی ہوگی
انسان کی جو رات قبر میں لکھی گئی ہے، وہ اس دنیا میں نہیں آ سکتی۔ جو قبر کی پہلی رات ہے وہ قبر میں ہی آئے گی۔ انسان کو چاہیے کہ اس کی تیاری کی فکر کرے۔
تین بھائیوں کی مثال
ایک حدیث میں قبر کی مثال تین بھائیوں سے سمجھائی گئی ہے۔ ایک تو وہ کہ جیسے ہی لوگ قبر سے ہٹے، یہ چھوڑ گیا۔ دوسرا وہ جو قبر میں ڈال کر چلا گیا۔ اور تیسرا وہ جو قبر میں ساتھ دینے کو تیار ہے۔ یہاں تیسرے بھائی نے کام آنا ہے۔ تیسرا بھائی کون ہے؟ نیک اعمال۔
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا کا نمونہ بننا ہے
آج قبر کے تین سوالوں کے بارے میں بات ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جب مؤمن کی تدفین ہو جاتی ہے تو اسے قبر میں بٹھایا جاتا ہے۔ بھائی چلے جاتے ہیں، رشتہ دار چلے جاتے ہیں۔ پھر اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔
سوال ہے کہ یہ کون کہے گا؟ جواب یاد رکھیے جس کی نیت رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا کا نمونہ ہوگی۔ ہر ایک ایسا نہیں کہہ سکے گا، معاملہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ جس کی زندگی رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا کا نمونہ ہوگی وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے۔ رَبِّيَ اللہُ (میرا رب اللہ ہے) جس نے اللہ کے حکم کے آگے اپنے سر کوجھکایا ہو گا، جس نے خلوت میں اور جلوت میں اللہ تعالیٰ سے دوستی کی ہوگی، لوگوں میں بھی اللہ کا دوست ہوگا اور تنہا ئیوں میں بھی اللہ کا دوست ہوگا، خلوت میں بھی اللہ کی مانی ہوگی اور جلوت میں بھی اللہ کی مانی ہوگی۔ ایسا شخص اپنے رب کا اقرار کر سکے گا۔
جب منکر نکیر دو فرشتے آئیں گے، جن کی دو نیلی ڈرائونی آنکھیں ہوگی، ہیبت ناک ان کے چہرے ہوں گے۔ بڑا عجیب منظر ہو گا۔ ان کو face کرنا بہت بڑی بات ہوگی۔ جب وہ پوچھیں گے کہ تمہارا رب کون ہے ؟ مَنْ رَّبُّکَ؟ تو رَبِّيَ اللہُ کون کہے گا؟ یاد رکھ لیجیے! صرف وہ کہہ سکے گا جس کی زندگی رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا کے مطابق ہوگی۔ جس کا قول بھی ہو گا کہ یا اللہ ! میں تیرے رب ہونے پر راضی ہوں۔ اور جس کا فعل بھی یہ ہوگا کہ یا اللہ! میں اپنے سر کو تیرے حکم کے سامنے جھکاتا ہوں۔
صورت اور سیرت کو سنوارنا ہے
پھر دوسرا سوال ہو گا کہ تمہارا نبی کون ہے؟ مَنْ نَّبِیُّکَ؟ تمہارا نبی کون ہے ؟ تو ایمان والا آدمی جواب دے گا کہ میرے نبی محمدﷺ ہیں۔ پھر تیسرا سوال ہوگا کہ مَا دِیْنُکَ؟ تمہارا دین کونسا ہے ؟ تو ایمان والا بندہ جواب دے گا کہ میرا دین اسلام ہے۔ جس کی زندگی وَبِالْإِسْلَامِ دِیْنًا وَّ بِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا نَّبِیًّا کے تحت ہوگی۔ جس نے ہر کام اسلام کے مطابق کیا ہوگا، حضرت محمدﷺ کے طریقے کے مطابق کیا ہوگا۔ یہود و نصاریٰ اور ہندوئوں اور غیروں کو بالکل چھوڑا ہوگا۔ شادی بیاہ، رہن سہن، لباس، بات چیت، ساری چیزیں اسلام کے مطابق ہوں گی۔ جس کا اُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، صبح وشام کے اعمال نبیﷺ کے مطابق ہوں گے، وہ وہاں جواب دے سکے گا۔ اور خدانخواستہ جس کا لباس عیسائیوں جیسا، اور جس کی زندگی کافروں جیسی، اورجس کی معاشرت ہندوئوں جیسی، جس کی شادی بے حیائوں جیسی ہوگی وہ وہاں کیسے جواب دے سکے گا ؟ زندگی میں تو اس نے ہر وہ کام کیا جس سے رسول اللہﷺ کو تکلیف پہنچی، اب وہ وہاں کیسے جواب دے سکے گا۔
تو پہلا پرچہ قبر میں ہوگا جس کے تین سوالات بتائے گئے ہیں:
(۱) تمہارا رب کون ہے؟
(۲) تمہارا دین کیا ہے؟
(۳) تمہارا رسول کون ہے؟ (مصنّف عبدالرزّاق: کتاب الجنائز، باب فتنۃ القبر)

اور دوسرا پرچہ قیامت کے دن ہوگا، اس کے سوالوں کی تفصیلات اِن شاءاللہ آگے اپنے موقع پر آئیں گی۔ بہرحال پہلے پرچہ کی تیاری ہمیں کرنی ہے جب قبر میں اس کے سوالات ہوں گے۔ ہم ہمت کر کے دنیا کے اندر اس کی کوشش کریں تاکہ موقع پر جواب دے سکیں۔
اہلِ ایمان کے ساتھ قبر میں معاملہ
جو مؤمن ہوگا، جس کی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق ہوگی، جس کی تنہائیاں پاکیزہ ہوں گی، جو حیا والے، پاکدامن اور ایمان والے ہوں گے، اگر گناہ ہو چکے ہوں تو بھی سچی پکی توبہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ پھر ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا؟
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جب میت کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے (یا یوں فرمایا: جب تم میں سے کسی کو قبر میں داخل کیا جاتاہے۔ راوی کو الفاظ میں شک ہے، دونوں باتیں ٹھیک ہیں) تو بڑی ڈرائونی شکل کے نیلی آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں۔ ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہتے ہیں۔ وہ دونوں میت سے کہتے ہیں کہ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ (نبیﷺ کی مبارک صورت دکھا کر پوچھتے ہیں) پس وہ کہتا ہے کہ جو کہنا چاہیے کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ ہمیں اندازہ تھا، ہمیں معلوم تھا کہ تم ایسا ہی کہو گے۔ پھر اس کی قبر کو ستر گز کشادہ کر دیا جاتا ہے ،پھر اس کی قبر کو نور سے روشن کر دیا جاتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ سو جائو۔ تو وہ جواب میں کہتا ہے کہ مجھے جانے دو تاکہ میں اپنے گھر والوں کو بتاؤں۔ دو دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ دلہن کی طرح سو جاؤ کہ جسے صرف اس کا محبوب شوہر ہی جگاتا ہے، یہاں تک کہ اس بندے کو بھی اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن اس کی آرام گاہ (قبر سے) اٹھائیں گے۔ (سنن ترمذی: رقم 1071)
سبحان اللہ! اس آدمی سے کہا جاتا ہے کہ آج تم آرام کرلو، سو جائو۔ تم دنیا کی تھکن کو اتار لو تا کہ قیامت کے دن fresh کھڑے ہو۔ چہرے تمہارے کھلتے ہوں گے، خوبصورت ہوں گے، چمکتے ہوں گے۔ یہ سچ ہے کہ دنیا کام کی جگہ ہے، قبر آرام کی جگہ ہے، اور جنت انعام کی جگہ۔ ہم سے سمجھنے میں کتنی بڑی غلطی ہوئی کہ ہم اس کا اُلٹ سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ دنیا آرام کی جگہ نہیں ہے۔ قبر میں وہی میٹھی نیند سوئے گا جو دنیا میں اچھے کام کرے گا۔
بیدار دلوں کو ہے قبر میں آرام
نیند بھر کر وہی سوئے گا جو کہ جاگا ہوگا

جو دنیا میں اللہ کے لیے جاگ لے گا، قبر میں پھر میٹھی نیند سوئے گا۔ فرشتے اس سے کہیں گے کہ تم سو جائو، آرام کرلو، تھکے ہوئے آئے ہو۔ وہ کہے گا کہ میں ذرا اپنے گھر والوں کو خبر تو کر دوں۔ فرشتے کہیں گے کہ نہیں بھئی! سو جائو، دلہن کی طرح تمہارا سونا ہوگا۔ کتنا عجیب جملہ ہے!
دلہن کا سونا
چلو سارے papers اس نے پاس کر لیے، امتحان دے دیا، مائۃ فی المائۃ سو میں سے سو نمبر آ گئے، تینوں سوالوں کے جوابات اچھے دے دیے۔ اب اس کو کہا جاتا ہے کہ سو جائو۔ چلو! یہ بات بھی ٹھیک ہے، لیکن دلہن کی طرح سو جائو، یہ کیا مسئلہ ہے بھئی؟ قبر کے اندر دلہن کا کیا تعلق آ گیا؟ اس میں علماء نے ایک بات لکھی ہے۔ فرمایا کہ دلہن جب پہلی رات کو سوتی ہے تو صبح اسے اس کا محبوب ہی اُٹھاتا ہے یعنی اس کا خاوند اسے اٹھاتا ہے۔ اور آج جب یہ نیک بخت شخص قبر کے اندر دلہن کی طرح سو رہا ہے تو قیامت کے دن اس کا محبوب اللہ تعالیٰ شانہ ہی اسے اٹھائیں گے۔ جب اٹھے گا تو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا۔ اللہ اکبر کبیراً!
یہ نیک مؤمن کا حال ہوگا۔ اور منافق کا کیا حال ہوگا؟ زندگی میں نبیﷺ کے طریقے کے خلاف کرنے والے کا کیا حال ہوگا؟ دین کی بات کو برا سمجھنے والے کا کیا حال ہوگا؟ پہلے ایک قابلِ غور بات سن لیجیے!
دورِ حاضر کا اَلمیہ
آج مجھے ایک میسیج آیا کہ چند لوگوں نے واٹس اَپ پر ایک گروپ بنایا تو اس میں ان کو بھی شامل کر دیا جن کی بات میں سنا رہا ہوں۔ بتاتے ہیں کہ میں نے ایک دینی کلپ گروپ میں share کیا، تو گروپ والوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ irrelevant چیزیں گروپ میں نہ بھیجا کرو۔ بے حیائی کی کوئی چیز ہو وہ بھیجو، بے غیرتی کی ، بے دینی کی کوئی چیز ہو وہ بھیجو۔ دین کی چیزوں کے بارے میں جواب آ رہا ہے کہ irrelevant چیزیں مت بھیجو۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان گروپ والوں کا دین سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہی مطلب ہو سکتا ہے irrelevantکا۔ واللہ اعلم!
ان لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ اگر توبہ نہ کی۔ اللہ کرے کہ سب توبہ کر لیں۔ میں نہیں چاہتا، نہ میری یہ خواہش ہے، نہ کبھی سوچ ہوئی کہ کوئی بھی بندہ جہنم میں جائے۔ اللہ سب کی مغفرت فرمائے آمین۔ بعض دفعہ بات میں سختی ہو جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں میری غلطی ہو، لیکن یہ تلخ تمنا نہیں ہے کہ کوئی بھی مسلمان جہنم میں جائے۔ الحمدللہ! ثم الحمد للہ! اللہ کرے کہ اس قسم کے سب ہی لوگ توبہ کر لیں۔ لیکن اگر توبہ نہ کی اور اسی نہج میں چلتے رہے تو پھر کیا ہوگا؟ اسے بھی دل کے کانوں سے سن لیجیے۔
اہلِ نفاق کے ساتھ قبر میں معاملہ
ابھی ایک حدیث بیان ہوئی حضرت ابوہریرہ کی۔ اسی میں ہے کہ جب منافق شخص کے پاس فرشتے آکر سوال پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ میں لوگوں سے سنتا تھا کہ وہ ایسا کہتے تھے، میں نے بھی ویسا ہی کہہ دیا اور مجھے نہیں معلوم۔ وہ فرشتے کہیں گے کہ ہاں! ہمیں معلوم تھا کہ تم جواب نہیں دے سکو گے۔ پس زمین کو کہا جاتا ہے کہ اسے دبائو، تو زمین اسے دبا دیتی ہے حتی کہ زمین کی دونوں دیواریں آپس میں مل جاتی ہیں اور اس کی پسلیاں ایک دوسرے کے اندر گھس جاتی ہیں (جیسے کہ ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں چلی جاتی ہیں) اسی طرح وہ عذاب میں گرفتار رہتا ہے حتی کہ قیامت کا دن آ جائے۔ (سنن ترمذی: رقم 1071)
حدیثِ حضرت انس
صحیح بخاری میں حضرت انس سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: آدمی کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس کے پاس سے چلے جاتے ہیں، تو وہ قبر میں موجود شخص ان کے چپلوں کی، جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان آدمی محمدﷺ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اب اگر یہ جواب دیتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ دیکھو! یہ ٹھکانہ جہنم کا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہارے ٹھکانے کو جنت سے بدل دیا۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ وہ شخص دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لے گا۔ (اسے خوشی ہو گی کہ میں جہنم سے بچ گیا، اور جنت والے ٹھکانے کو دیکھ کر اس کا دل اتنا خوش ہو جائے گا کہ دنیا کو بھول جائے گا) اور اگر وہ کوئی غیر مسلم کافر ہوا یا منافق ہوا تو پوچھنے پر جواب دے گا کہ مجھے نہیں معلوم، میں تو وہ کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا کہ نہ تم جانتے ہو، نہ تم سوچتے ہو۔ پھر اسے لوہے کے ہتھورے سے دونوں کانوں کے درمیان (یعنی سر پر) مارا جائے گا جس سے وہ چیخے گا اور اس کی آواز کو اس کے پاس والے سنیں گے سوائے جنات اور انسان کے۔ (صحیح بخاری: رقم 1273)
حدیثِ حضرت جابر
مشکوٰۃ شریف میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جب میت کو قبر میں داخل کر دیا جاتا ہے تو اسے ایسے لگتا ہے جیسے بس سورج ڈوبنے لگا ہو (اور عصر کی نماز کا وقت جیسے قضا ہو رہا ہو) چناںچہ وہ اٹھ بیٹھتا ہے اور اپنی آنکھوں کو مَلتا ہے اور فرشتوں سے کہتا ہے کہ مجھے چھوڑو، مجھے نماز پڑھنے دو۔ (مشکوٰۃ المصابیح: رقم 138)
وہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ نماز کا وقت جا رہا ہے، سورج غروب ہونے والا ہے، اسی لیے وہ کہتا ہے کہ مجھے نماز پڑھنے دو۔ یہ کون ہوگا؟ جو دنیا میں نماز کی فکر کرنے والا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارے لیے آسانی والا معاملہ فرمائے۔
ایک اعتراض کا جواب
اچھا! ایک سوال بعض لوگوں کے دلوں میں آتا ہے کہ عذابِ قبر صرف روح کو ہوگا یا جسم کو بھی ہوگا؟ روح تو نکل کر چلی گئی، صرف جسم رہ گیا تو عذابِ قبر کیا صرف جسم کو ہوگا؟ یا دونوں کو ہوگا؟ بعض لوگ اس طرح کے سوال پوچھتے ہیں، پھر پریشان بھی ہوتے ہیں۔ اس کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ عذابِ قبر روح مع الجسم دونوں کو ہوگا۔ روح کو بھی ہوگا اور جسم کو بھی ہوگا۔ ہاں! اب اس کی کیا کیفیات ہیں؟ اسے یہاں سو فیصد سمجھنا ممکن بھی نہیں اور ضرورت بھی نہیں۔ ایک چیز بتا دی گئی ہے تو معاملہ آسان ہوگیا، لیکن ایک مثال سے اس مسئلہ کو سمجھنا آسان ہوگا اِن شاء اللہ۔
روح اور جسم کا تعلق
دیکھیے! صرف روح اگر ہو تو اکیلی روح نے تو کچھ نہیں کیا، صرف جسم اگر ہو تو خالی جسم نے بھی کچھ نہیں کیا۔ روح کے بغیر تو انسان ہل بھی نہیں سکتا۔ اور جو گناہ ہوا تھا وہ روح مع الجسم ہوا تھا، اکیلے نہیں ہوا تھا۔ جب دونوں نے کیا تھا تو سزا بھی دونوں کو ملنی چاہیے۔
لنگڑے اور اندھے کی چوری
اس کی ایک مثال یوں بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ ایک آدمی لنگڑا تھا، چلنا مشکل تھا لیکن آنکھیں ٹھیک تھیں، دکھائی صحیح دیتا تھا۔ دوسرا آدمی اندھا تھا لیکن چلتا ٹھیک تھا۔ دونوں نے کہا کہ ہم چوری کرتے ہیں۔ اندھے نے کہا کہ مجھے تو نظر کچھ نہیں آتا، میں کیا چوری کروں گا؟ لنگڑے نے کہا کہ میں بھی تو چل نہیں سکتا۔ اب ایسا کرتے ہیں کہ ہم مل جل کر کچھ پلان کرتے ہیں۔ چناںچہ لنگڑے نے اندھے سے کہا کہ تم مجھے اپنے کندھوں پر بٹھا دو، میں تمہارے کندھوں پر بیٹھ جائوں گا تو میں تمہیں بتاتا رہوں گا کہ سیدھے ہاتھ پر مڑنا ہے، اُلٹے ہاتھ پر مڑنا ہے، کدھر جانا ہے۔ اور جو چیز چرانی ہو گی تو پھر میں پکڑ لوں گا۔ تمہاری ٹانگیں استعمال ہوں گی اور میری آنکھیں استعمال ہوں گی۔ انہوں نے یہ بات طے کرلی اور جا کر چوری کرلی۔
چوری کرنے کے بعد جب پکڑے گئے تو اب آپ بتائیں کہ لنگڑے کو سزا ملے گی یا اندھے کو؟ یا دونوں کو ملے گی؟ جی، دونوں کو ملے گی۔ بالکل معاملہ ایسا ہی ہے کہ بغیر روح کے جسم کچھ نہیں کر سکتا، اور خالی روح بغیر جسم کے وہ بھی کچھ نہیں کر سکتی۔ ان کا جب جوڑ ہوگا جب ہی خیر یا شر کا معاملہ وجود میں آئے گا۔ نیکی بھی دونوں مل کر کریں گے، اور گناہ بھی دونوں مل کر کریں گے۔ چاہے جزا ہو یا سزا، دونوں کو ملے گی۔
اللہ اور اس کے رسول پر ایمانِ صادق
بعضے لوگ ایسے بھی ہیں کہ گھوم پھر کر پھر وہی سوال کرتے ہیں۔ کچھ دن پہلے مجھ سے ایک آدمی بحث کرنے لگا۔ جب وہ بات کسی طرح سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا تو میں نے کہا کہ بھئی! قبر میں چلے جائیں گے تو سب پتا چل جائے گا، فکر نہ کرو۔ یہاں کم از کم نیکی کا ذخیرہ جمع کرلو۔ اس کی حقیقت کو ہم نہیں سمجھا سکتے۔ پھر وہ کچھ پوچھنے لگا تو میں نے کہا کہ بھئی! مجھے اب اتنی باتوں کا علم نہیں ہے کہ قبر میں کیا ہوگا؟ وہ عالمِ برزخ ہے، حدیث شریف میں اس کی وضاحت آگئی، بس حق اور سچ ہے۔
بعض اللہ والوں کو اللہ تعالیٰ کبھی دِکھلا بھی دیتے ہیں اور بعض دفعہ عام آدمی کو بھی دکھلا دیتے ہیں، لیکن عام معاملہ یہی ہے کہ اللہ پاک نے اس کو لوگوں کی نظروں سے دور رکھا ہوا ہے۔ جیسے خون کا ٹیسٹ کرکے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ شوگر بڑھ گئی اگرچہ ہمیں نظر نہیں آتی۔ کہتے ہیں کہ فلاں جلد میں نمک بڑھ گیا، فلاں کا یہ ہوگیا، فلاں کا یہ ہوگیا۔ ان چیزوں کو دیکھنے کے کچھ آلات ہوا کرتے ہیں۔ قبر کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے چھپایا ہوا ہے ہم نہیں دیکھ سکتے، اللہ جانتا ہے۔ بہرحال ان کو سمجھانے کے لیے دل میں اللہ نے یہ بات ڈالی۔ پھر علمائے کرام سے اس مسئلہ کو مزید پوچھا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ قبر میں روح مع الجسم پر جزا یا سزا ہے۔
سیٹیلائٹ کی مثال
ایک اور صاحب ذرا لمبی بحث کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ دیکھو بھئی! آج کل یہ باتیں سمجھنا نسبتاً آسان ہے۔ یہ جو سیارے جا رہے ہوتے ہیں، سیٹیلائٹچل رہے ہوتے ہیں تو ان کے بھی دنیا میں کوئی نہ کوئی اسٹیشنز ہوتے ہیں۔ اور ان کا کسی نہ کسی طرح دنیا سے کوئی رابطہ یا لنک رہتا ہے۔وہ کس درجے کا ہے؟ قوی ہے یا کمزور ہے؟ جیسا بھی ہے، خیر! سیٹیلائٹ کا دنیا میں کوئی نہ کوئی connection رہتا ہے اگرچہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ قبر کا یہ معاملہ اللہ کا ہے کہ جب روح نکل کر اوپر چلی گئی، اب اس کا کسی نہ کسی درجے میں جسم کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ بات حدیث شریف میں بھی ہے کہ دوبارہ روح لوٹ آتی ہے۔
(مسند احمد بروایت براء بن عازب\: رقم 17803)
معلوم ہوا کہ روح اور جسم دونوں کو ہی عذاب ہوتا ہے۔
قومِ نوح کے ساتھ معاملہ
موت کیسے بھی آئے، اچھی یا بری، نیک ہو یا برا ہو۔ قبر میں جاتے ہی عذاب کا یا راحت کا سلسلہ فوراً شروع ہو جاتا ہے۔ قومِ نوح کے لیے قرآنِ کریم میں ہے:
اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا (نوح: 25)
ترجمہ: ’’انہیں غرق کیا گیا، پھر آگ میں داخل کیا گیا‘‘۔
جب قومِ نوح غرق ہوئی تو جہنم میں داخل کر دی گئی، ان کی قبر کوئی نہیں بنی لیکن برزخ کا معاملہ شروع ہوگیا۔ کسی کو کسی جانور نے کھالیا، کوئی مچھلی کا لقمہ بن گیا، جل کر مر گیا اور اس کی راکھ بن گئی، یا ہوا میں پرزے اُڑ گئے، کچھ بھی ہو۔ جیسے ہی دنیا سے جائے گا، برزخ کا معاملہ شروع ہو جائے گا۔ نیک ہے تو راحت والا معاملہ، اور برا ہے تو بد والا معاملہ ہوگا۔
قبر کی سختی
حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے: کافر کی قبر میں ننانوے سانپ مسلط کیے جاتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہیں گے۔ اگر ایک سانپ بھی زمین پر پھنکار مار دے تو زمین میں قیامت تک گھاس نہ اُگے۔
(مسند احمد بن حنبل: 3/38)
اسی طرح نماز کے بارے میں آتا ہے کہ جو شخص نماز قضا کرنے والا ہوتا ہے، حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ قبر میں ایمان والے شخص کی نماز اس کے سرہانے کھڑی ہوتی ہے، روزہ اس کے دائیں طرف اور دی ہوئی زکوٰۃ اس کے بائیں طرف کھڑے ہوتے ہیں، صدقاتِ نافلہ اور صلہ رحمی اور لوگوں کے ساتھ کی گئی بھلائیاں اس کے پاؤں کے پاس ہوتے ہیں۔ جبکہ کافر کو قبر میں سرہانے یا دائیں بائیں یا پاؤں کے پاس کوئی نیکی نہیں ملتی ہے۔ (صحیح ابن حبان: رقم 3190)
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نمازوں کی فکرکرنے والے بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری قبر کے عذاب سے حفاظت فرمائے۔ ہاں! کچھ نیک لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے زندگی
رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِیْنًا وَّ بِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا نَّبِیًّا
کہ مطابق گزاری ہوتی ہے۔ پھر قبر میں اُن کے لیے آسانیاں ہو جاتی ہیں۔
اللہ والوں کے واقعات
(۱) بعض اللہ والوں کے قصے بھی آتے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد انہیں کسی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا بنا؟ کہنے لگے کہ جب میں قبر میں گیا تو فرشتوں نے مجھ سے پوچھا کہ اے بڈھے! کیا لائے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ بادشاہ کے دربار میں آنے والے سے یہ نہیں پوچھتے کہ کیا لے کر آئے ہو؟ یہ پوچھتے ہیں کہ کیا لینے آئے ہو؟ ایسا جواب تو تیاری کرنے والے ہی دے سکتے ہیں، عام آدمی یہ جواب نہیں دے سکتا۔
(۲) جنید بغدادی کا جب انتقال ہوا تو بعد میں کسی نے خواب میں دیکھا۔ پوچھا کہ کیا بنا؟ کہا کہ فرشتے آئے تھے، مجھ سے پوچھا: مَنْ رَّبُّکَ؟ تمہارا ربّ کون ہے؟ میں نے کہا کہ میرا ربّ وہی ہے جس نے تمہیں حکم دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو۔ فرشتے کہنے لگے کہ اتنی پرانی بات یاد دلا دی۔
(۳) حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کو کسی نے وفات کے بعد خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ حضرت! کیا بنا؟ فرمایا کہ فرشتے آئے تھے اور پوچھا: مَنْ رَّبُّکَ؟ تمہارا رب کون ہے؟ میں نے ان سے عرض کیا کہ تم عرش سے اتنا فاصلہ، اتنا سفر کر کے نیچے آئے ہو پھر بھی تم رب کو نہیں بھولے،میں زمین سے چند فٹ ہی نیچے آیا ہوں تو اس رب کو کیسے بھول جاؤں؟
(۴) حضرت رابعہ بصریہ اللہ تعالیٰ کی نیک بندی تھیں۔ مرنے کے بعد کسی کو خواب میں نظر آئیں تو پوچھا کہ کیا بنا؟ کہا کہ فرشتے آئے تھے اور پوچھا تھا کہ اے بڑھیا! تیرا رب کون ہے؟ میں نے بھی جواب دے دیا تھا کہ جا کر اللہ تعالیٰ سے کہہ دو کہ تیری اتنی بے شمار مخلوق میں تو مجھ بڑھیا کو نہیں بھولا، اللہ! میرا تیرے سوا ہے ہی کون ؟ میں تجھے کیسے بھول جائوں؟ اللہ اکبر کبیراً!
محنت ضروری ہے
یہ جواب وہی دے سکتا ہے جس کا یقین بنا ہو ا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق دنیا میں جڑ جائے گا تو یہ جواب دینا آسان ہو جائے گا، ورنہ انسان اس وقت پریشان ہو جائے گا کہ آخر کیا جواب دوں؟ یہ paper Aہے جو قبر میں ہوگا۔ paper تو قیامت میں ہوگا۔ تفصیلات تو وہاں پوچھی جائیں گی۔ اگر نیک اعمال سے دنیا میں ہم نے زندگی گزاری ہوگی تو قبر جنت کا باغ ہو گی، اور خدانخواستہ اگر گناہوں میں زندگی گزار دی تو قبر ایک جہنم کے عذاب کا گڑھا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قبر کے عذاب سے محفوظ فرمائے۔ سورۃ الملک کی روزانہ تلاوت عذابِ قبر سے بچنے کے لیے بہت مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الملک کو باقاعدگی کے ساتھ روزانہ تلاوت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں