قبولیت دعا

قبولیت دعا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:60)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

دل کے یقین کے ساتھ دعا مانگنا
حضرت ابوہریرہ راوی حدیث ہیں۔ فرماتے ہیں کہ حضورِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا:
ادعوا اللّٰه وأنتم موقنون بالإجابة، واعلموا أن اللّٰه لا يستجيب دعاء من قلبٍ غافلٍ لاهٍ. (سنن الترمذي: باب ما جاء في جامع الدّعوات عن النبيﷺ)
ترجمہ: ’’جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرو تو قبولیت کا کامل یقین رکھاکرو۔ اور اس بات کو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غافل دلوں کی دعائوں کو قبول نہیں فرماتے‘‘۔
اس حدیث شریف میں دو باتیں اِرشاد فرمائیں: ایک تو یہ بتایا کہ جب انسان مانگے تو یقین کے ساتھ مانگے کہ جو میں مانگ رہا ہوں وہ اللہ تعالیٰ دیں گے۔ اور دل کو حاضر کرکے مانگے کہ جو زبان سے مانگ رہا ہوں، دل میں سچی وہی ہے۔ زبان اور دل ایک ساتھ ہوں۔ نبی کریمﷺ نے ایک تو یہ بات سمجھا دی۔ پھر ایک حدیثِ قدسی میں آتا ہے:
أَنَا عِنْدظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ. (صحیح البخاري: 6977)
ترجمہ: ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں‘‘۔
بندے کے گمان کے مطابق معاملہ ہوتا ہے۔ اگر بندہ اپنے اللہ کے ساتھ یقین کا معاملہ رکھتا ہے تو اللہ ربّ العزّت اسے عطا فرماتے ہیں۔ اور اگر وہ یہ گمان کرتا ہے کہ مجھے نہیں ملتا تو پھر اس سے روک لیا جاتا ہے۔ اسی لیے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ دل کے یقین کے ساتھ مانگو، تو اللہ تعالیٰ رحمت کا معاملہ فرما دیتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ شانہٗ فرماتے ہیں:
وَ قَالَ رَبُّكُمُ
’’اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے‘‘۔ اس میں صرف مسلمان یا نیک مسلمان مراد نہیں، پوری انسانیت مراد ہے۔ اللہ تو سب کا ربّ ہے۔ کیا کہا ہے؟
ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ (المؤمن: 60)
ترجمہ: ’’مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا‘‘۔
کیسی بات کہی!! بغیر کسی فعل کے، بغیر کسی شرط کے، بغیر کسی اور بات کے فوراً ہی وعدہ فرما لیا کہ میرے بندو! تم مانگو، میں عطا کر دوں گا۔ درمیان میں کوئی شرط نہیں رکھی۔ یہ تو نہیں کہا کہ داڑھی والے مانگیں گے تو دوں گا، بغیر داڑھی والے مانگیں تو نہیں دوں گا۔ نمازی مانگیں تو دوں گا، بے نمازی مانگیں تو نہیں دوں گا۔ بلکہ فرماتے ہیں کہ بس تم یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگو، وہ تمہیں دےگا :
ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ
اللہ تعالیٰ کی بات سچی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کس کی بات سچی ہوسکتی ہے؟
وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا۰۰ (النّساء: 122)
ترجمہ: ’’سب سے زیادہ سچی بات میرے پروردگار کی ہے‘‘۔
دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، لیکن مانگتے ہوئے یقین ہو۔
بے پرواہی بندہ کو زیب نہیں دیتی
ایک حدیث میں آتا ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی دعا میں اس طرح سے نہ کہا کرے کہ اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت کر دے، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر دے۔ چاہیے کہ دعا میں پختہ عزم ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں کرتے ہیں، اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں‘‘۔ (صحیح مسلم: باب العزم بالدّعاء ولا یقل إن شئت)
اللہ تعالیٰ سے بے پرواہی؟ ہم تو محتاج ہیں، سوالی بن کر مانگیں کہ اللہ! آپ ہی سے لینا ہے۔ تیرے سوا دَر کونسا ہے۔ نبیوں کو یہاں سے ملا، ولیوں کو یہاں سے ملا۔ اللہ! ہمیں بھی یہیں سے ملنا ہے، عطا کر دیجیے۔ یقین کے ساتھ مانگیے۔
شیطان کا وسوسہ
شیطان تو بد بخت ہے ناں! یہ بعض وقت دل میں ڈالتا دیتا ہے۔ لوگ فون کرتے ہیں کہ حضرت! ہم بڑے گناہ گار ہیں، ہماری دعا کہاں قبول ہوگی۔ آپ حضرت جی کے پاس جا رہے ہیں، جھنگ جارہے ہیں تو ہمارے لیے دعا کروا دیجیے گا۔ ہماری کہاں قبول ہوگی؟ ٹھیک ہے اللہ والوں کی دعائوں کا مقابلہ ہم نہیں کرسکتے، اُن کا درجہ یقیناً زیادہ ہے، لیکن گناہ گاروںکی دعائوں کو بھی پروردگارِ عالَم قبول فرماتے ہیں۔ ’’ہماری کہاں قبول ہوگی‘‘ اس قسم کی باتیں ڈال کر شیطان انسان کا یقین خراب کر دیتا ہے، اور خراب یقین والے کی دعا ویسے ہی قبول نہیں ہوتی ہے۔ جس وقت وہ ہمارے یقین کو خراب کر دیتا ہے تو جو اُصولِ ربی ہے وہ بتا دیا گیا ہے کہ یقین کے ساتھ مانگو۔ شیطان ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہماری دعائوں کے یقین کو خراب کر دیتا ہے یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ نہیں آئی؟ شیطان کیا کرتا ہے؟ شیطان کی چال کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری دعائیں قبول ہوجائیں۔
رمضانی فقیر
رمضان کی چند راتیں رہ گئیں تو ان چند راتوں میں اللہ تعالیٰ سے مانگ لیں۔ آپ نے دیکھا ہے ناں! رمضان میں کئی لوگ نکلتے ہیں، وہ رمضانی ہوتے ہیں۔ مانگنے کے لیے نکل آتے ہیں مسجدوں پہ، گھروں کے دروازوں پہ، دوکانوں پہ آکر مانگتے ہیں۔ تو رمضان میں رمضانی فقیر بھی نکل آتے ہیں، تو ہم بھی رمضانی فقیر کی مانند ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دربار میں آئے ہوئے ہیں۔ اے اللہ! سارا سال تو سوئے رہتے ہیں، رمضان میں کچھ مانگنے کی توفیق ہوجاتی ہے۔ اللہ! قبول کرلیجیے۔ یقین کے ساتھ مانگیں۔ اب شیطان جو چکر ڈالتا ہے کہ تم گناہگار ہو، تم یہ کرتے ہو، تم وہ کرتے ہو، تمہاری کیا قبول ہونی ہے۔ اب آپ اسے جواب دیں۔ کیا جواب دیں؟
پہلا جواب
مفسرین نے لکھا ہے، فرعون کہتا تھا:
اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى۝ (النازعات: 24)
ترجمہ: ’’میں تمہارا اعلیٰ درجے کا پروردگار ہوں‘‘۔
آپ کون ہیں جی؟ رمضان میں بیس تراویح پڑھیں، پانچ نمازیں پڑھیں اور ہر سجدے میں تین یا پانچ دفعہ جب آپ نے ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘ پڑھا تو گویا سینکڑوں مرتبہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور بڑائی کے اقرار کرنے والے بن گئے۔ فرعون کون تھا؟ جوکہتا تھا کہ میں سب سے بڑا رب ہوں۔ اور ہم تو اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکانے والے ہیں۔ اس بدبخت کی دعا بھی قبول ہوگئی تھی۔ کیسے؟
ایک مرتبہ دریائے نیل خشک ہوگیا۔ کچھ پانی نہیں آیا۔ کھیتیاں، باغات، زمینیں بنجر ہونے لگیں۔ مصر کے لوگ پریشان ہوکر فرعون کے پاس آئے۔ اسے سجدہ کیا اور کہا: اے ہمارے خدا! (وہ فرعون کو خدا کہتے تھے) ہم قحط سالی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ آپ دریائے نیل کو جاری کر دیں۔ فرعون نے اُن سے کہا کہ ٹھیک ہے، تم جائو۔ وہ سارے چلے گئے کہ چلو! خدا کو کہہ دیا ہے، پانی آجائے گا۔ لیکن یہاں تو فرعون کی نیند اُڑگئی۔ پریشان ہوگیا۔ آدھی رات کو گھر سے باہر نکلا۔ اس وقت نہ سر پہ تاج تھا اور نہ پائوں میں چپل تھی۔ بے قرار تھا، بے چین تھا۔ چلتا چلتا سیدھا دریائے نیل کے کنارے آیا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ سے کہنے لگا: اے اللہ! تو جانتا ہے ساری دنیا کو میں دھوکا دے سکتا ہوں، مگر اے اللہ! تجھے نہیں دھوکا دے سکتا۔ اللہ! لاج رکھ لے اور پانی جاری کر دے۔ ابھی سجدے سے سر نہیں اُٹھایا تھا کہ دریائے نیل کا پانی جاری ہوگیا۔
تو شیطان کو کہہ سکتے ہیں کہ جو پروردگار بے قراری کی مانگی ہوئی دعا، دل سے مانگی ہوئی دعا فرعون کی قبول کرلیتا ہے جو کہتا تھا:
اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى۝ (النازعات: 24)
ترجمہ: ’’میں تمہارا اعلیٰ درجے کا پروردگار ہوں‘‘۔
میری دعا کیوں نہیں قبول کرے گا؟میں تو ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘ کہنے والا ہوں۔ یہ جواب بنتا ہے شیطان کو دینے کے لیے۔ ایک اور جواب اس سے بھی زیادہ بہترین ہے۔ وہ دے دیں آپ کا یقین او بڑھ جائے گا۔
دوسرا جواب
شیطان سے کہیں: او بدبخت! تو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہگاروں کی نہیں سنتا۔ وہ سب کے پروردگار ہیں۔ شیطان کو یاد دلائو: او بدبخت! تجھے یاد ہے، جب اللہ پاک نے فرمایا: (اُسْجُدُوْا لِآدَمَ) سب نے سجدہ کرلیا تھا، لیکن تُونے نہ کیا۔ تو کھڑا ہوگیا تھا اور تجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے دربار سے نکال دیا تھا۔ اور تجھ سے کہا تھا کہ قیامت تک میری لعنتیں تجھ پربرستی رہیں گی۔ دفع ہو، دور ہو جایہاں سے!
شیطان! کیا تجھے وہ وقت یاد ہے؟ راندۂ درگاہ ہونے کے بعد تُونے پروردگار سے مہلت مانگی تھی: اللہ! قیامت تک کی مہلت دے دے۔ تیرے جیسے راندۂ درگاہ کو عین غصے کے عالم میں اللہ تعالیٰ قبول کرسکتے ہیں، تو میری دعا کیوں قبول نہ ہوگی؟
قبولیت کے اوقات میں دعا مانگنا
یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔ یہ چند راتیں رہ گئی ہیں رمضان کی۔ خوب اللہ تعالیٰ سے مانگ لیں۔ اور افطاری کے وقت نبی کریمﷺ نے فرمایا: روزے دار کی دعا قبول ہوتی ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 2525)
تو اب یہ جوچند دن رہ گئے ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ سے یقین کے ساتھ مانگیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہماری سب دعائوں کو قبول کرلیں گے۔ یقین ہم پیدا کریں اور مانگیں اللہ تعالیٰ سے۔ اپنی زبانوں سے نکلی ہوئی دعائوں کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا خود دیکھیں گے۔ مخلوق کے پاس جانے کی، رونے دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ نہیں ہے کسی کے پاس کسی کو دینےکے لیے۔ سب محتاج ہیں اللہ تعالیٰ کے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے وہ عطا کریں گے۔ تو آج سے ہم اِن شاء اللہ یقین کے ساتھ مانگیں گے، کمزور دل کے ساتھ نہیں کہ پتا نہیں ملتا ہے کہ نہیں۔ یقین کے ساتھ مانگیں اللہ تعالیٰ دیں گے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب نے یہ شعر لکھا ہے:
تُو وہ داتا ہے کہ دینے کے واسطے
دَر تیری رحمت کے ہیں ہر دَم کھلے

وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply