قرض کا لین دین

قرض کا لین دین

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ (البقرۃ:280)
وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠۰۰ (الروم:21)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ

محدود زندگی کو کارآمد بنانا
دنیا کی زندگی ختم ہوجانے والی زندگی ہے۔ اس کے محدود معاملات ختم ہوجانے والے ہیں۔ پھر ان محدود معاملات پر  آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کا دارومدار ہے۔ اس لحاظ سے دنیا کی یہ زندگی بہت قیمتی ہے۔ جب انسان اپنی زندگی گزارتا ہے تو معاشرتی زندگی اور رہن سہن میں بعض اوقات ایک دوسرے سے قرض لینے اور دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ آج اس کے متعلق کچھ باتیں ہوں گی اِن شاءاللہ۔ اگر ہماری زندگی کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کے احکام اور سیدنا رسول اللہﷺ کےطریقے کے مطابق ہوجائے تو قرض لینا اور قرض دینا دونوں عبادت بن جائے۔ یعنی اگر ہمارا اُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، سونا وغیرہ رسول اللہﷺ کی زندگی کے مطابق ہوجائے تو ہماری زندگی کامیاب ہے۔
ہر عمل میں نیت کی درستگی
قرض کا معاملہ دو آدمیوں کے درمیان ہوتا ہے:
ایک ہے قرض دینے والا۔ وہ اپنی نیت کو ٹھیک کرے، اور سوچے کہ اس پر اللہ اور اس کے رسولﷺ نے کیا کیا احکامات لاگو ہوتے ہیں؟
دوسرا ہے قرض لینے والا۔ وہ کس نیت سے لے؟ کس وجہ سے لے؟ اور ادائیگی کے وقت کیا کیا اہتمام کرے؟
اِن شاء اللہ ان ہی امور سے متعلق کچھ احادیث آئیں گی، کچھ واقعات آئیں گے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی آدمی کہیں سے قرض لے کر کہیں پر قرض دے رہا ہوتا ہے، تو دونوں جگہ معاملات میں احکاماتِ شرعیہ کو اپنے اوپر لاگو کرنا ہوگا۔
قرآنِ کریم میں قرض کا مسئلہ
سب سے پہلے جو میں نے شروع میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 280 پڑھی:
وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ١ؕ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰ (البقرۃ: 280)
ترجمہ: ’’اور اگر کوئی تنگ دست (قرض دار) ہو تو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے، اور صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو‘‘۔
یعنی یہ حکم دیا جارہا ہے کہ اگر تم نے کسی کو قرض دیا ہوا ہے اور وہ قرض لینے والا غریب ہے، تو تمہیں چاہیے کہ تم اسے مہلت دو یہاں تک کہ اس غریب کے پاس کچھ گنجایش پیدا ہوجائے۔ ایک مہینے کی، دو مہینے کی، جتنی آسانی سے دی جاسکے مہلت دینی چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے۔ اور آگے حکم فرما دیا کہ
وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ
ترجمہ: ’’اور صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے‘‘۔
اس آیتِ کریمہ میں معاف کرنے کو صدقے سے تعبیر کیا کہ معاف کر دینا ایسا ہے جیسا کہ صدقہ دینا۔ یعنی پروردگارِ عالم کے نزدیک قرضہ معاف کر دینا صدقہ کے برابر ہے۔ پھر اللہ ربّ العزّت نے قرض خواہ سے کہا کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بہتر کہہ دیں، وہ تو لازمًا بہتر ہوگی۔
خَیْرٌ لَّکُمْ کی دو توجیہات
اب اس بہتری کی دو توجیہات ہوسکتی ہیں:
(۱) آخرت کے اعتبار سے بہتری۔ اس کے متعلق تو شک والی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ یعنی اللہ ربّ العزّت اس بندے کو آخرت کی وہ نعمتیں عطا فرمائیں گے جو ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ جیسا کہ اللہ پاک نے خود قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰ (النحل: 96)
ترجمہ: ’’جو کچھ تمہارے پاس ہے، وہ سب ختم ہو جائے گا۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا، ہم انہیں ان کے بہترین کاموں کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے‘‘۔
یہ معاف کیا ہوا قرضہ باقی رہ جانے والے خزانہ میں ہمارے لیے جمع ہوجائے گا۔ اور وہ خزانہ تو سراپا خیر ہی خیر ہے۔
(۲) اور دوسری توجیہ ہے دنیا کی۔ دنیا میں قرضے کو معاف کرنے والے کے ساتھ اللہ پاک خیر اور عافیت اور برکت والے معاملے فرمائیں گے۔ یعنی قرض دار کو اگر مہلت دی جائے تو ثواب ہے، اور اگر معاف کردیا جائے تو صدقہ ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہوئے قرضے کو معاف کر دینا چاہیے۔ قرضہ معاف کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی بہت سے فوائد وبرکات دیتے ہیں:
فائدہ ۱: اللہ ربّ العزّت اس دیے ہوئے قرض کا بدل عطا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے کسی کو ایک لاکھ دیا اور کسی وجہ سے وہ ادا نہ کرسکا، اللہ تعالیٰ نے کسی اور جگہ سے آپ کو دولاکھ عطا کر دیے، مگر بات یہ ہے کہ ہم ان دولاکھ کو سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری محنت سے ہمیں ملا ہے۔ غور کیا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے ہمیں وہ اس وجہ سے ملا ہو ہم نے قرض دار کو معاف کیا ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کا بدل دیا ہو۔
فائدہ ۲: اللہ پاک مال میں برکت ڈال دیتے ہیں، اور باقی مال میں زندگی آسانی سے اور اچھی گزرتی ہے۔
برکت کا مطلب
اب برکت کا مطلب کیا ہے؟ لوگ برکت کثرت کو کہتے ہیں۔ جتنی زیادتی اور کثرت ہوگی اتنی ہی برکت ہوگی نہیں۔ برکت کا معنی کثرت نہیں ہے، بلکہ برکت اس مال کے اندر ہوتی ہے جس سے ضرورت پوری ہوجائے۔ مثال کے طور پر ایک نیک بندہ ہے جو گھر چلا رہا ہے۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تھوڑے مال میں اتنی برکت دے دیتے ہیں جو بعض مرتبہ امیروں کے بہت زیادہ مال میں بھی نہیں ہوتی۔ معلوم ہوا کہ برکت اور چیز ہوا کرتی ہے اور کثرت اور چیز ہوا کرتی ہے۔
برکت کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جو کام کسی انسان کا بڑی بڑی اماؤنٹ سے بھی نہ ہو رہا ہو، وہ کام اللہ تعالیٰ بہت تھوڑے پیسوں سے کروا دیتے ہیں اور اس کی زندگی اچھی گزرجاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ قرض دار کے قرضے کو معاف کرنا ہمارے لیےباعثِ برکت ہے، کیوںکہ یہ ہمارے لیے بہتر ہونے کا اللہ پاک بتا رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس جو مال و دولت ہے وہ سب اللہ ربّ العزّت کا ہی تو دیا ہوا ہے۔
اب قرض دار کو معاف کرنے کے متعلق مزید تفصیلات بہت اہم ہیں، اس لیے دل کے کانوں سے سنیے گا۔ ہم میں بہت سے لوگ ان باتوں کا علم نہ ہونے کی وجہ سے سود کی طرف جا رہے ہیں، اور اس کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ العیاذ باللہ!
قرض لینے، دینے میں تحمل مزاجی
حضرت ابو رافع نبی کریمﷺ کے غلام ہیں۔ وہ ذکرکرتے ہیں کہ ایک صاحب نبی کے پاس مہمان ہوئے (گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا) نبی نے مجھے بھیجا کہ کہیں سے کوئی کھانے کی چیز لے کر آئو (کیوںکہ مہمان آیا ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ) میں ایک یہودی شخص کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا ہے، ان کے ہاں مہمان آیا ہے۔ مجھے کچھ کھانے کی چیزیں اُدھار دے دو، یا اتنے پیسے دے دو، میں تمہیںاتنے دنوں بعد واپس کر دوں گا۔ یہودی نے کہا کہ نہیں، نہ میں تمہیں اُدھار دوں گا، اور نہ میں تمہیں قرضہ دوں گا یہاں تک کہ رسول اللہﷺ میرے پاس اپنی کوئی چیز گروی رکھوائیں۔ وہ صحابی واپس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! وہ یہودی تو یہ کہتا ہے کہ قرض اس وقت نہیں ملے گا جب تک آپ کوئی چیز گروی نہ رکھوادیں۔ نبی نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! میں آسمان والوں میں اور زمین والوں میں سب سے زیادہ امین ہوں، اگر وہ مجھے اُدھار دیتا تو میں وقت پر ادا کرتا۔ اس کے بعد نبی نے حضرت رافع کو اپنی زرہ دی اور کہا کہ یہ زرہ یہودی کو رہن رکھوا کرآئو، اور کھانے کی چیز لے آئو تاکہ مہمان کا اکرام ہوسکے۔ (سبل الہدیٰ)
حضرت عبداللہ مخزومی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہﷺ نے تقریباً تیس سے چالیس ہزار کا قرضہ لیا اور غزوہ سے واپسی پر آپ نے اس کی ادائیگی بھی کر دی۔ (دیکھیے! نبی نے کتنی بڑی امائونٹ قرضہ لیا۔ اور جب نبیd کی ادائیگی کردی) تو قرضہ دینے والے کو دعا دی کہ
بَارَکَ اللہُ فِیْ اَھْلِکَ وَمَالِکَ. (ابن ماجہ: صفحہ 174)
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ تیرے اہل و مال میں برکت دے‘‘۔
ہمیں بھی یہ چھوٹا سا جملہ یاد کرلینا چاہیے کہ جب کاروباری معاملات میں یا ویسے ہی کسی سے کوئی مال اُدھار لیں تو واپس لوٹاتے وقت یہ جملہ کہہ دیں۔
قرضے سے زائد مقدار کا حکم
اگلی بات یہ ہے کہ انسان جتنا قرض لے اتنا ہی واپس دے، یہ مناسب ہے۔ لیکن اگر جتنا قرض لے اور اس سے زیادہ بہ خوشی، بغیر جرمانے، اور بغیر سامنے والے کے مطالبے کے محض اپنی رضا و رغبت سے واپس کرے تو یہ جائز ہے۔ اور اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ کسی دوسرے موقع پر اس کے ساتھ احسان کرلے تاکہ قرض واپس لینے والے کے دل میں بھی یہ بات نہ آئے کہ یہ مجھے منافع دے رہا ہے۔ جس طرح سود سے بچنا ہے، اسی طرح سود کے شبہ سے بھی بچنا ہے۔ نبی نے اگرچہ ایسا معاملہ کیا ہے، لیکن ان کے حسن اخلاق اور نیت کی پختگی آج میں اس درجہ کی نہیں، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ پہلے ہی سے شرائط طے کرنا مثال کے طور پر کوئی کہتا ہے کہ میں تمہیں دس ہزار دے رہا ہوں، تم واپس کرتے وقت گیارہ ہزار واپس کرو گے۔ یہ عمل سود کے زمرے میں آتا ہے۔ قرضہ دینے والا زیادتی کی کوئی شرط نہیں لگاسکتا، ایک روپے زیادتی کی بھی شرط لگانا اور اس زیادتی کی اُمید رکھنا قرض دار کے لیے گناہ، حرام اور سود ہے۔ مقروض اپنی طرف سے اس پر احسان کرتے ہوئے تھوڑی سی زیادتی کے ساتھ دیتا ہےتو یہ جائز ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ۰۰ (الرحمٰن: 60)
ترجمہ: ’’اچھائی کا بدلہ اچھائی کے سوا اور کیا ہے‘‘؟ 
انسان کے یہ معاملات اور نیتیں اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ کون کس نیت سے عمل کر رہا ہے؟
حضرت عبداللہ بن عباسi سے روایت ہے کہ ایک انصاری سے نبی کریمﷺ نے چالیس صاع قرض لیا۔ وہ کچھ دنوں بعد کسی ضرورت کی وجہ سے نبی سے قرض واپس لینے آیا۔ آپﷺ نے فرمایا: ابھی تو کچھ نہیں آیا ہے۔ اس پر وہ کچھ کہنا چاہتا تھا تو نبی نے ارشاد فرمایا: اچھی بات کے علاوہ کچھ نہ کہنا، میں بہتر قرضہ ادا کرنے والا ہوں۔ پھر نبی نے چالیس صاع ادا کیے اور مزید چالیس صاع اپنی طرف سے اس انصاری کو دیے۔ (مسند بزار: 104/2)
یعنی نبی قرض دار کو اتنا دیتے تھے کہ وہ خوش ہوجاتے تھے۔
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی سے نصف وسق (یہ ایک وزن کا نام ہے) ادھار لیا تو جب وہ آدمی قرضہ واپس لینے آیا تو نبی نے اپنی طرف سے پورا ایک وسق انہیں دیا۔ (سننِ کبریٰ: 351/5)
یعنی قرضہ ادا کرنے کے بعد اپنی طرف سے مزید اسے دیا۔ معلومہو اکہ اگر پہلے سے طے شدہ نہ ہو تو مقروض کا قرضہ سے زیادہ واپس کرنا جائز ہے۔
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی کریمﷺ کے پاس چاشت کے وقت حاضر ہوا۔ نبی نے مجھے فرمایا کہ اٹھو! چاشت کی نماز ادا کرو۔ میں چاشت کی نماز پڑھنے چلا گیا۔ میرا قرضہ نبی پر تھا۔ جب میں واپس آیا تو نبی نے مجھے میرا قرضہ واپس کیا اور مزید اپنی طرف سے کچھ عطا کیا۔ (بخاری: 322/1)
قرض دینے کا اَجر
ایک آدمی جب پریشان ہوتا ہے۔ خاندان والوں یا کاروبار وغیرہ کی مختلف ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے قرض مانگتا ہے تو ایسے پریشان حال بندے کو قرض دینا بہت زیادہ باعثِ ثواب ہے۔
حضرت ابو اُمامہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جنت کو دیکھا تو اس کے دروازے پر لکھا تھا کہ صدقہ کا ثواب دس گناہ ہے، مگر قرض دینے کا ثواب اٹھارہ گناہ ہے۔ (جامع الصغیر: 254/1)
معلوم ہوا کہ قرضہ دینا صدقہ کی بہ نسبت زیادہ ثواب کا کام ہے، مگر بعض موقعوں پر صدقہ کا بھی بہت ثواب ملتا ہے۔ دونوں چیزیں اپنی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ قرضہ دینا صدقہ ہے۔ (سنن کبریٰ: 352/5)
یعنی قرض کو صدقے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جو انسان اچھی نیت کے ساتھ قرضہ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ شاملِ حال رہتی ہے۔ یعنی قرض لینے والے کی نیت پر اللہ تعالیٰ کی مدد کا دارومدار ہے۔ اللہ کرے یہ بات ہمیں واقعتًا سمجھ میں آجائے۔
قرض لینے والے کی نیت پر معاملہ
حضرت امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ قرض ادا کرنے کی نیت کے ساتھ قرضہ لیتا ہے، اللہ تعالیٰ کی مدداس کے ساتھ شاملِ حال رہتی ہے۔ پھر آگے فرمایا کہ میں بھی اللہ کی مدد کا طالب ہوں۔ (سنن کبریٰ: 354/5)
اور جو اس نیت سے قرض لے کہ میں نے ادا نہیں کرنا، تو اس کے انجام کے بارے میں بھی حدیث شریف سن لیجیے۔
نبی کریمﷺ کا اِرشاد ہے: جو بندہ قرض ادا کرنے کی نیت سے لے تو اللہ پاک اس کو ادا کروا دے گا، اور جو قرض ادا نہ کرنے کی نیت سے لے تو اللہ پاک اس کے مال کو ضائع کر دے گا۔ (صحیح بخاری: رقم 2257)
دنیا کی رسوائی اور شرمندگی الگ اس کے سر پر رہے گی، اور پھر وہ آخرت میں بھی سزا کا مستحق ہوگا۔ ۔ معلوم ہوا کہ انسان کے تمام معاملات اس کی نیت پر Depend کرتے ہیں۔ ایک حدیث میں حضرت صہیب فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو انسان قرض نہ دینے کے ارادے سے لے، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چور بن کر حاضر ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 2403)
قیامت کے دن ہم سب نے اللہ ربّ العزّت سے ملاقات تو کرنی ہے اِن شاء اللہ! تو ملاقاتیں بھی دو طرح کی ہیں: کچھ تو وہ ملاقاتیں ہیں کہ وہ اللہ کو دیکھ کر مسکرائیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو دیکھ مسکرائیں گے۔ اللہ ہمیں بھی ایسی ملاقات نصیب کرے آمین۔ اور کچھ ملاقاتیں ایسی ہوں گی:
وَتَرْھَقُہُمْ ذِلَّۃٌ (یونس: 27)
ترجمہ: ’’اور اُن پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی‘‘۔
یعنی اُن کے سرجھکے ہوئے ہوں گے، اُن پر شرمندگی چھائی ہوگی۔ چور کبھی بھی سر اُٹھا کے کھڑا نہیں ہوسکتا، وہ ہمیشہ سر جھکا کرہی کھڑا ہوتا ہے۔ تو ایسابندہ جو قرض ہی ایسی نیت سے لیتاہے کہ میں نے ادا نہیں کرنا تو وہ چور کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن کھڑا ہوگا۔
قرض دے کر فائدہ نہیں اُٹھانا
اگر آپ کسی کو قرض دے رہے ہیں تو مقروض سے کسی قسم کا ہدیہ وصول نہیں کرسکتے۔ مثلاً آپ نے کسی کو دس ہزار روپے قرضہ دیا، اور دوسرا بندہ قرضے کے بوجھ تلے آگیا۔ وہ بندہ آپ کے ساتھ اچھے تعلقات استوار رکھنا چاہتا ہے کہ کہیں آپ قرضہ نہ مانگ لیں۔ اس کے لیے کبھی وہ کھانا پکا کر بھیج رہا ہے، کبھی کوئی خدمت کر رہا ہے، کبھی آپ کو اپنی سواری پر بٹھا رہا ہے، آپ کو لا اور لے جا رہا ہے، یا آپ کے کاموں میں مدد وغیرہ کر رہا ہے تو اب اس مقروض سے ایسی خدمت لینا آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ سود کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ ذرا آقاﷺ کی حدیث کو غور سے دل کے کانوں سے سنیے!
حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم کسی کو قرض دو اور وہ مقروض تمہیں ہدیہ دے، یا تمہیں سواری پر سوار کروائے تو تم سوار نہ ہونا اور نہ اس بات کو قبول کرنا، الاّ یہ کہ تمہارے اور اس کے درمیان لین دین کا معاملہ پہلے سے ہوتا چلا آیا ہو۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 2432)
جی! یہ ایک الگ بات ہے کہ اگر قرضہ دینے سے پہلے بھی دوسرے بندے کے ساتھ ہدیہ و خدمت کا معاملہ تھا، اور اب قرضے کی وجہ سے اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تو ایسی خدمت اور ہدیہ لینا مقروض سے جائز ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے معلوم کیا کہ میں نے ایک ایسے شخص کو جس سے جان پہچان نہیں تھی، قرضہ دیا۔ اب اس نے مجھے بڑا ہدیہ بھیجا ہے (اب میں کیا کروں؟) حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ اس کے ہدیہ کو واپس کردو۔ (فتاویٰ کبریٰ ابن تیمیہ: 159/6)
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے ایک مچھلی فروش کو بیس درہم بطور قرض کے دیے تھے۔ اس شخص نے مجھے ایک مچھلی ہدیہ میں بھیجی ہے، جس کی قیمت تیرہ درہم ہے۔ حضرت ابن عباس نے اس سے فرمایا کہ اب تم اس سے سات درہم کے مطالبہ کا حق رکھتے ہو (اس لیے کہ باقی تیرہ درہم تم وصول کر چکے ہو)۔
(فتاویٰ کبریٰ ابن تیمیہ: 159/6)
صحابی رسولﷺ حضرت فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ ہر قرض جس سے نفع اٹھائے یہ سود کی شکل میں سے ہے۔ (اعلاء السنن: 566/14)
قرض لینا کسی سے یہ اچھی بات نہیں ہے۔ انسان کوشش کرے کہ جہاں تک بچ سکتا ہے قرض لینے سے اپنے آپ کو بچائے، کیوںکہ اس کے اندر انسان کی ذلت ہے۔
قرض پر وعیدیں
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: قرض اللہ کی زمین پر اللہ کا جھنڈا ہے، اللہ زمین پر جس کو ذلیل کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کی گردن میں  اس کو ڈال دیتا ہے۔ (ترغیب: 596/2)
یعنی اس کو مقروض کر دیتا ہے، اور پھر وہ قرضہ ادا نہیں کرتا تو قرض خواہ اس کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور موقع ملتے ہی اسے ذلیل کرتا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بُرا اللہ سے ملاقات کرنا اس وقت ہے کہ انسان مقروض ہونے کی حالت میں اللہ سے ملاقات کرے۔ (سنن ابی دائود: 475/1)
یعنی اس حالت میں مرنا کہ آدمی مقروض ہو اور قرضہ اس کے سر پر ہو، سب سے بُری ملاقات ہے، کیوںکہ قیامت کے دن قرض کی ادائیگی نیکیوں سے ہوگی۔ قیامت کے دن مقروض کے پاس درہم، دینار، روپیہ، ڈالر تو نہیں ہوگا وہاں پر نیکیوں سے ہی تبادلہ ہوگا۔ اور نیکیاں نہ ہوئیں تو قرض خواہ کے گناہ مقروض کے سر ڈالیں جائیں گے۔ اب ایک حدیث سنیے اور دل کے کانوں سے سنیے۔
ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میری امت کا مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے جواب دیا کہ وہ جس کےپاس مال وغیرہ نہ ہو۔ یعنی غریب آدمی ہو، کھانے پینے کو نہ ہو۔ نبی نے ارشاد فرمایا کہ نہیں، بلکہ حقیقت میں میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن بڑے بڑے اعمال لے کر آئے گا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔ بڑے کچھ اعمال اس نے کیے ہوں گے، مگر کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا۔ غرض وہ شخص بیٹھ جائے گا اور حق دار آکر اس کی نیکیاں لیتے جائیں گے، نیکیاں ختم ہوجائیں گی مگر حقوق باقی ہوں گے تو ان تمام کے گناہ اس کو دے دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (سنن ترمذی: رقم 2418)
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص انتقال کرجائے اور اس پر ایک درہم یا دینار قرض ہو تو اس کا قرضہ اس کی نیکیوں سے پورا کیا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ: صفحہ173)
کسی کا قرض اپنے ذمہ لینا
ہر مقروض کو قرض ادا کرنے کے اہتمام کی نہایت ضرورت ہے۔ اسی طرح ایمان والوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی ضروری ہے کہ خاندان، دوست، احباب وغیرہ میں کوئی قرض کی حالت میں مر جائے تو مستحب ہے کہ اس مقروض کا قرض اپنے ذمے لے کر اس کو ادا کریں۔ یہ بہت بڑا عمل ہے کہ اس سے مقروض کی جان بخشی ہو جاتی ہے، اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاتا ہے۔ یہ عمل سنت ہے، اور شاید بہت تھوڑے لوگ ہوں گے جنہوں نے اس سنت پر عمل کیا ہوگا۔
سیدنا علی سے روایت ہے کہ قرض کی وجہ سے نبی کریمﷺ نے ایک شخص کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا ۔ (آپ کی عادت یہ تھی کہ آپﷺ مقروض کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے) جب نبی نے منع فرمایا کہ یہ مقروض ہے، میں اس کا جنازہ نہیں پڑھا سکتا تو حضرت علی وہاں موجود تھے۔ فرمانے لگے کہ اے اللہ کے نبی! اس شخص کے ذمے کسی کے دو دینار ہیں، وہ میں اپنے ذمے لیتا ہوں (میں اس کو اداکروں گا، آپ اس کا جنازہ ادا کر دیجیے) پھر نبی نے اس شخص کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اور نبی نے ارشاد فرمایا کہ اے علی! اللہ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ اللہ تمہیں جہنم سے آزاد کروائے جیسا تو نے اپنے بھائی کو قید سے آزاد کرایا۔
(ترغیب: 2/607)
یعنی اس کے قرض کی ادائیگی کر دی۔ تو معلوم ہوا کہ یہ بھی سنت ہے تو کوشش کریں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے، کبھی ایسا کوئی موقع ملے کسی کا قرضہ ادا کرنے کا تو اس کو کریں۔ کسی کے جیتے جی انسان تو مدد کر دیتا ہے، کیوںکہ وہ تو بدلہ بھی دے سکتا ہے، مگر کسی کے مرنے کے بعد مدد کرنا، اس کو قرض کے بوجھ سے جہنم کی آگ سے آزاد کرانا اور قرض کے بوجھ سے نجات دلانا واقعی ایک بڑا عمل ہے اور ایک مبارک سنت بھی ہے۔
مقروض کے لیے سفارش کرنا
ایک مرتبہ نبی کریمﷺ اپنے حجرہ مبارکہ میں تھے کہ دو آدمی مسجد نبوی میں آئے۔ ایک حضرت کعب بن مالک اور دوسرے ابنِ ابی حدرد تھے۔ حضرت کعب بن مالک کا ابنِ ابی حدرد نے قرضہ دینا تھا۔ دونوں میں بات چیت شروع ہوگئی، اور بات چیت کے دوران دونوں کی آوازیں کچھ بلند ہوگئیں۔ نبی کے گھر تک آواز پہنچی تو نبی نے گھر کا پردہ اُٹھایا۔ اور کعب کو آواز دی: اے کعب! حضرت کعب بن مالک نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! (فرمائیے) نبی کریمﷺ نے اشارے سے کہا کہ تم آدھا قرضہ معاف کر دو۔ حضرت کعب نے عرض کیا کہ میں نے آدھا قرضہ معاف کر دیا۔پھر اللہ کے نبیﷺ نے ابن ابی حدرد سے کہا کہ جاؤ! باقی آدھا ادا کرو۔ (صحیح مسلم: رقم 1558)
معلوم ہوا کہ کسی مجبور شخص کے قرض کو معاف کروانا، قرض خواہ کے آگے سفارش کرنا یہ بھی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
بروزِ قیامت کی مشکلات سے نجات
کیا خیال ہے آپ کا کہ قیامت کے دن کی مشکلات سے بچنے کے لیے نسخہ بتا دیں؟ کیوں کہ ہم میں سے ہر کوئی قیامت کے دن ہر مشکل سے بچنا چاہتا ہے۔ اور یہ نسخہ میرا بتایا ہوا نہیں ہے، بلکہ جنابِ رسول اللہﷺ کا بتایا ہوا ہے۔
حضرت ابو قتادہ کی روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی مشکلات سے بچالے، اسے چاہیے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا اسے معاف کر دے۔
(صحیح مسلم: رقم 2931)
آپ کے کسی جاننے والے نے آپ سے قرضہ لیا ہوا ہے، تو آپ اسے مہلت دیتے جائیں، اللہ پاک بھی اِن شاء اللہ قیامت کے دن آپ سے قیامت کے غم اور مشکلات ہٹاتے چلے جائیں گے۔ یہ بہت بھاری سرمایہ کاری ہے کہ یہاں پر آپ کسی مجبور مقروض کو مہلت دے کر سکون دیں گے، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں آپ کو جنت کے ذریعہ سکون دیں گے۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ یہاں کسی کی ٹینشن کو دور کریں گے، اللہ تعالیٰ وہاں قیامت کے احوال وپریشانی کو آپ سے دور کریں گے۔ صرف آخرت ہی نہیں بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی آسانیاں ملتی ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو نبی نے ہمیں بتائی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی تنگدست کو مہلت دی اور سہولت دی، اللہ پاک دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا۔ (صحیح مسلم: رقم 2699)
حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص کا انتقال ہوگیا۔ فرشتوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی بھلائی کی ہے؟ اس نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو کہا کرتا تھا تنگدست کو مہلت دو اور اس سے درگزر کرو۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ تم لوگ بھی اس سے درگزر کرو (اور وہ جنت میں چلا گیا)۔
(صحیح بخاری: رقم 1971)
قرض دینا صدقہ ہے
قرض دینا صدقہ ہے۔ مختلف روایات سے یہ بات ہمیں معلوم ہوتی ہے۔
حضرت بُریدہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی، اسے ہر دن کے بدلے اس (رقم) کے برابر صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ پھر میں نے سنا آپﷺ فرما رہے تھے: جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی، اسے ہر دن کے بدلے اس (رقم) کا دگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔ حضرت بُریدہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ سے عرض کیا کہ میں نے آپ سے ایک ہی بات دو دفعہ اس طرح سے سنی ہے۔ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مقررہ تاریخ میں ادا کرنے سے پہلے جو دن ہیں، اس میں تو اس دی ہوئی رقم کے بقدر ہر دن کے صدقہ کا ثواب ہے۔ اور جب مقررہ تاریخ آئی اور وہ نہ ادا کر سکا اور قرض دینے والے نے اب جو مہلت دی تو اسے ہر دن اس دی ہوئی رقم کا دگنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ (مسند احمد: رقم 22537)
اب میں آپ کو یہ بات آسان طریقے سے سمجھاتا ہوں۔ مثال کے طور پر آپ نے ایک آدمی کو ایک لاکھ روپے قرضہ دیا کہ وہ نوّے دنوں میں آپ کو واپس لوٹا دے گا۔ اب آپ کو روز ایک لاکھ روپے صدقہ کرنے کا ثواب مل رہا ہے۔ یہ ثواب آپ کو نوّے دنوں تک ملے گا۔ اگر اس نے آپ کا قرض ساٹھ دنوں میں لوٹا دیا تو ایک ماہ صدقہ کا ثواب آپ کا گیا، یعنی نہیں ملے گا۔ ہاں! اگر نیت اچھی ہو تو وہ اللہ مہربان ہے۔
اب اگر نوّے دنوں کے بعد مقروض نے قرضہ ادا نہ کیا تنگ دستی یاکسی مجبوری کی وجہ سے، تو آپ نے نوّے دنوں کی اور مہلت دے دی۔ اب جو آپ اس کو زیادہ Extention دے رہے ہیں، اس پر آپ کو دگنا اجر و ثواب ملے گا۔ پہلی مہلت کے دنوں میں آپ کو ایک لاکھ صدقہ کرنے کا ثواب مل رہا تھا، مگر مہلت گزر جانے کے بعد آپ نے جو اس کو Extentionدیا ہے، اب آپ کو دو لاکھ روپے روزانہ صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ اب جس آدمی کو اس کثیر ثواب کا یقین ہوگا، وہ کبھی مقروض کو گالی نہیں دے گا۔ اس سے کبھی سختی سے بات نہیں کرے گا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گا۔ لیکن اگر معاف کر دیا تو اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اس کا بہت ثواب ہے اور یہ بہتر ہے۔ اور اگر معاف نہیں کیا تو چاہیے کہ مقروض کو مہلت دے۔ اس وقت تک تنگدست کو مہلت دے جب تک اسے خوشحالی اور آسانی میسر نہیں آتی۔
دیکھیے! اللہ تعالیٰ کتنے کریم ہیں۔ صرف مہلت دینے سے صدقہ کا ثواب دیتے ہیں، اور مہلت دینے پر صدقہ کا ثواب بڑھا دیتے ہیں۔ اب جسے اس ثواب کا یقین ہو جائے، اسے قرض دیتے وقت اور مقروض کو مہلت دیتے وقت کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے۔
مقروض کو مہلت دینے پر عرش کا سایہ
ہم میں سے ہر کوئی قیامت کے دن عرش کا سایہ چاہتا ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے عرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائے آمین۔
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرض دار کو مہلت دے یا بالکل معاف ہی کر دے، اللہ ربّ العزّت اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا۔ اور اس دن اللہ کے عرش کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ (سنن ترمذی: رقم 1306)
ہمیں چاہیے کہ ہم مقروض کو مہلت دیں۔ اور اگر قرض معاف ہی کر دیں تو کیا ہی بات ہے، اس کے بدلے میں اللہ ربّ العزّت ہمیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرما دیں گے۔ مجھے بتائیے کہ ہم دنیا میں کتنی محنت کرتے ہیں کہ ہم سایہ میں آجائیں۔ شیشہ لگواتے ہیں، False Ceiling کرواتے ہیں وغیرہ وغیرہ تاکہ سایہ رہے اور جگہ ٹھنڈی رہے۔ جب دنیا کے اندر ہم سائے کے لیے اتنی محنت کرتے ہیں، تو اگر کسی تنگدست کے قرضے کو معاف کر دیا تو آخرت میں ہمیں عرش کا سایہ حاصل ہوگا۔
اور تنگدست میں کون سے لوگ آسکتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ تنگدست میں ہمارے غریب رشتہ دار آسکتے ہیں کہ جن کے ہم قرض کو معاف کریں۔ اولاد آسکتی ہے، گھر کی کام والیاں آسکتی ہیں وغیرہ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تنگدستوں کو مہلت دیں تاکہ ہمیں اللہ کے عرش کا سایہ قیامت کے دن مل سکے۔ ہمیں اس کی فکر کرنی چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں اس کی توفیق دے۔
قبولیتِ دعا اور رنج سے چھٹکارا:
ہمارے آقا حضورِپاکﷺ سچوں کے سچے تھے۔ جن کی صداقت پر میں  لاکھوں مرتبہ بھی قسم کھانے کے لیے تیار ہوں۔ کفارِ مکہ نے آپ کو جو طعن وتشنیع کی اس سے سب واقف ہیں، مگر کوئی بھی آپﷺ کو جھوٹا نہ کہہ سکا۔ اس بات کی گواہی کے لیے آپ قرآن مجید اُٹھا کردیکھ لیجیے۔ وہ صادق و مصدوقﷺ بروایت حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ جو چاہے اس کی دعا قبول ہو، اور اس کا رنج دور ہو، اسے چاہیے کہ وہ کسی تنگدست کو مہلت دے۔ (مسند احمد: 23/2)
یعنی قرض خواہ کو جتنے عرصے بعد قرض دینا ہے، اگر اپنی تنگدستی کی وجہ سے وہ قرض نہ دے سکا اور آپ نے اسے مہلت دے دی تو حدیث کی رو سے آپ کی دعائیں قبول ہوں گی۔ جس وقت آپ اسے مہلت دیں اس وقت اگر آپ جنت کی اور فراوانی رزق کی دعا مانگ لیں تو اِن شاءاللہ العزیز قبول ہوگی۔ اس وقت اللہ سے اللہ کے دیدار کے متعلق دعائیں مانگیں، قبول ہوں گی اللہ کی رحمت سے اِن شاءاللہ۔
مقروض کےلیے برداشت اور تحمل
قرض خواہ اگر مقروض کے ساتھ سخت کلامی اور غلط رویہ اختیار کرے تو مقروض کو حکم ہے کہ وہ اس کو نظر انداز کرےا ور صبر و برداشت کرے۔ اس بارے میں حدیث سن لیجیے!
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمﷺ سے اپنے قرض کی ادائیگی کے متعلق سوال کیا اور نبی سے کچھ سختی سے بات کی۔ صحابہ کرام نے جب دیکھا تو خیال کیا کہ ہمیں اس شخص کو سمجھانا چاہیے۔ نبی نے صحابہ کرام ارشاد فرمایا: اسے (صاحبِ حق کو) گنجائش ہے کہ وہ کچھ کہہ سکے۔
(مشکوٰۃ: صفحہ 251)
اگر قرض خواہ کے مزاج میں کچھ سختی آجاتی ہے تو شریعت میں ہے کہ مقروض اسے برادشت کرے۔ اب اس سے متعلق ایک واقعہ سنیے! اور دل کے کانوں سے سنیے! اللہ والوں کی بھی کیسی عجیب باتیں ہوا کرتی ہیں۔ اللہ اکبر کبیرًا! اللہ ربّ العزّت یہ حلم ہمیں بھی عطا فرمائے۔ علم کی نعمت حلم کے ساتھ ہوتی ہے۔ آج ہمارے اندر حلم یعنی برداشت کا مادہ تو ہے ہی نہیں۔ ہمارے مزاج ماچس کی تیلی جیسے ہوگئے ہیں، ذرا سا رگڑو تو آگ نکلتی ہے۔ معلوم ہوا کہ حلم اللہ سے مانگنا چاہیے۔ یہ ایک نعمت ہے۔ اور نبی کا حلم کتنا تھا اس کا اندازہ اس واقعے سے ہوگا۔ ہم لوگ تو مسلمان بھائیوں کی باتوں کو برداشت نہیں کرتے ہیں، جبکہ نبی تو یہودیوں کی سختیوں کو برادشت کیا کرتے تھے۔ ہمارا دین محبت، اخلاق اور تحمل سے پھیلاہے۔ داعی ہونا آسان کام نہیں ہے۔
نبی کریمﷺ کے تحمل کا واقعہ
مدینہ منورہ میں یہودیوں کے ایک بڑے عالم تھے زید بن سُعُنَّہ۔ فرماتے ہیں کہ جب مجھے پتا لگا کہ مدینہ میں ایک رسول آئے ہیں، تو میں انہیں دیکھنے گیا۔ آگے فرماتے ہیں کہ جب میں نے چہرۂ نبوت کو دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ یہ چہرہ حق ہے۔ ہماری کتابوں میں جو نشانیاں ہیں وہ سب اِن میں ہیں۔ بس دونشانیاں ابھی باقی ہیں:
ایک نشانی تو یہ ہے کہ ان کا حلم ان کے غصے پر سبقت لے جائے گا۔ یعنی برداشت زیادہ ہوگی، غصہ کنٹرول میں رہے گا۔
اور دوسری نشانی یہ ہے کہ کوئی جاہل ان کے ساتھ جتنی زیادہ جہالت والا معاملہ کرتا جائے گا، ان کی برداشت اتنی ہی بڑھتی چلی جائے گی۔
اب ایسی نشانیوں کا پتا کسی بیان وغیرہ سے تو نہیں لگتا، بلکہ معاملات سے پتا لگتا ہے۔ کوئی معاملہ کسی کے ساتھ کریں تب پتا چلے گا کہ کس میں کتنا حلم ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ کیوں نہ ان دونوں نشانیوں کو چیک کروں۔ چناںچہ میں اس مقصد سے  نبی سے قریب قریب رہا، موقعے کی تلاش میں رہا۔ چناںچہ ایک دن نبی باہر نکلے تو حضرت علی ان کے ساتھ ساتھ رہے۔ ایک بدو نبی کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! میرے قبیلے کے کچھ لوگ ایمان لاچکے ہیں اور وہاں پر قحط آچکا ہے، اگر آپ مجھے کچھ دے دیں، تاکہ میں جا کر ان کی مدد کرسکوں۔ نبی نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس ابھی تو کچھ نہیں ہے۔ زید بن سُعُنَّہ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت آگے بڑھا اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! آپ مجھ سے کچھ پیسے لے لیجیے اور فلاں دن فلاں وقت میں مجھے فلاں درخت کی کچھ کھجوریں واپس کر دیجیے گا۔ ادائیگی میں ابھی کردیتا ہوں۔ نبی نے جب یہودی کی بات سنی تو فرمایا کہ بات دراصل یہ ہے کہ میں تم سے قرض تو لے لیتا ہوں، مگر باغ کی تخصیص نہ کرو کہ فلاں باغ ہی دوں۔ تم مجھے ابھی پیسے دے دو، میں تمہیں اتنی کھجوریں ادا کردوں گا اور معیّن وقت میں ادا کردوں گا۔
زید بن سُعُنَّہ فرماتے ہیں کہ میں تو پہلے ہی موقع کی تلاش میں تھا۔ چناںچہ میں نے کچھ درہم وغیرہ دے کر نبی سے Deal کرلی، اور نبی نے وہ پیسے اس دیہاتی صحابی کو دے دیے اور فرمایا کہ یہ پیسے میری طرف سے ان کو دے دینا تاکہ وہ اپنا گزارا کرسکیں۔
راوی زید بن سُعُنَّہ فرماتےہیں کہ ابھی وقت معیّن آنے میں دو یا تین دن باقی تھے۔ میں دو تین دن پہلے ہی نبی کے پاس پہنچ گیا۔ اس وقت نبی جنازے پر تشریف لے جا رہے تھے اور چاروں طرف جلیل القدر صحابہ کرام موجود تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں مجمع کو چیڑتا ہوا آپﷺ کے پاس گیا اور نبی کی قمیض کو اس جگہ سے پکڑا جہاں پر قمیض اور تہہ بند ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ وہاں سے پکڑ کر غصے سے نبی کو دیکھا۔ پھر میں نے کہا کہ میرا قرضہ ادا کرو جو تم پر ہے اے محمد! اور چوتھی بات یہ کہی کہ اے ہاشم کی اولاد! تم لوگ حق ادا کرنے میں ٹال مٹول کرتے ہو۔
پہلی چیز قمیض پکڑلی۔ دوسری چیز غصے سے دیکھا۔ تیسری چیز سخت بات کہہ کر ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ چوتھی چیز باپ دادا کا بھی طعنہ دیا۔ یہ چاروں باتیں کوئی چھوٹی نہیں ہیں، بہت بڑی بات ہے۔
زید بن سُعُنَّہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عم کو دیکھا کہ مجھے غصے کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ حضرت عمر نے مجھ سے کہا کہ اے اللہ کے دشمن! میں یہ کیا سن رہا ہوں کہ تو نے میرے نبی کو یہ کہا؟ اللہ کی قسم! اگر تیرا حق نبی پر نہ ہوتا تو میں تیری گردن اُڑا دیتا۔ دیکھیے! غصے کی حالت میں حضرت عمر کا کنٹرول دیکھیے کہ عمل پھر بھی وہ شریعت پر ہی کرتے ہیں۔ زید بن سُعُنَّہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کے چہرے کی طرف دیکھا تو آپ کے چہرے پر اسی طرح مسکراہٹ اور بشاشت تھی۔ پھر آپ نے حضرت عمر سے کہا کہ ہم دونوں تمہارے کسی اور سلوک کے مستحق تھے۔ تمہیں چاہیے تھا کہ تم مجھے کہتے کہ اچھی طرح حق ادا کرو، اور اسے کہتے کہ اچھی طرح تقاضا کرو۔ پھر آپ نے فرمایا: اے عمر!جاؤ، جتنا اس کا قرض ہے اتنا ادا کرو، اور مزید تین صاع وہ ادا کرو جو تم نے اس پر غصہ کیا ہے۔
زید بن سُعُنَّہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے کھجوریں دیں جتنا میرا قرض تھا، مزید اور بھی دیں جو نبی نے ان سے فرمایا تھا۔ نبی کا یہ رویہ دیکھ کر میں نے اسلام قبول کرلیا۔
نبیd کے اخلاق ایسے تھے کہ یہودی مسلمان ہوجایا کرتے تھے۔ آج ہمارے اخلاق ایسے ہیں کہ ہمارے گھر والے ہی ہمیں دیکھ کر دین دار نہیں بن پاتے۔ معلوم ہوا کہ اپنا قرض واپس مانگنے والا اگر سختی کرے تو اس کے برتاؤ کو برداشت کرے، ہوسکے تو اس کا قرض فوراً ادا کر دے۔
ادائیگی قرض کو مقدم رکھنا
اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! میں مقروض ہوں، کیا مجھ پر حج ہے؟ نبی نے ارشاد فرمایا کہ اپنے قرض کو ادا کرو۔ (مجمع الزوائد: 132/4)
حضرت علی کی ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ وصیت سے پہلے قرضہ ادا کرنے کے متعلق ارشاد فرماتے تھے۔ (عمدۃ القاری: 43/4)
یعنی ہمیں وصیت نافذ کرنے سے پہلے میت کا قرضہ ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
قرض کی ادائیگی سے انکار پر مذمت
اگر کوئی شخص قرضہ مانگنے آئے اور آپ کے پاس گنجائش ہو تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس کے قرضے کو ادا کرنا چاہیے۔
حضرت ابو اُمامہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ اس کا بھائی اس کے پاس آئے اور قرض مانگے اور اس کے پاس گنجائش ہو اور وہ نہ دے۔ (کنز العمال: 212/6)
معلوم ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ نےمال دیا ہے، گنجائش رکھی ہے، فروانی دے رکھی ہے تو قرض ادا کر دینا چاہیے۔ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے۔
قرضہ وصول کرنا:
اگر کسی انسان نے قرضہ دیا ہے تو چاہیے کہ مقررہ دن تک مقروض نہ لوٹا سکے تو اسےمہلت دے، اور مہلت دے۔ اور مہلت دینے کے بعد مزید اسے مہلت دے۔ پھر بھی اس نے آپ کا قرضہ واپس نہ لوٹایا تو آپ اس کی وصولی میں کچھ سختی کے ساتھ اپنے قرضے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ اس بارے میں حدیث شریف سن لیجیے!
حضرت کعب بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بڑے سخی تھے۔ ان کے پاس جو مال آتا تھا وہ اللہ کی راہ میں دے دیتے تھے۔ اتنا زیادہ انفاق فی سبیل اللہ کی وجہ سے ہمیشہ مقروض رہتے تھے، حتّٰی کہ ان کا سارا مال قرض کی نذر ہوگیا۔ اور جنہوں نے ان کو قرضہ دیا ہوا تھا، انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا۔ اب ان کا معاملہ نبی کریمﷺ کے پاس پیش ہوا تو نبی نے حضرت معاذ کا سارا سامان بیچ کر اس قرض خواہ کو دے دیا۔ (مشکوٰۃ: صفحہ 253)
معلوم ہوا کہ انسان کو چاہیے کہ قرضہ معاف کر دے۔ معاف نہیں کرسکتا تو مہلت دے۔ پھر اگر ایک وقت ایسا آجائے کہ معاف کرنے کی ہمت نہیں اور مہلت بھی نہیں دے سکتا، تو یہ مقروض سے اپنا قرضہ وصول کرسکتا ہے، مگر سختی کرنے سے زیادہ سے زیادہ بچے۔ اور بہتر طریقہ تویہ ہے کہ کام خود نہ کرے، بلکہ صاحبِ مرتبہ لوگ جیسے قاضی اور حاکم وغیرہ ان لوگوں کے ذریعے اپنا قرضہ وصول کرے جیسے کہ صحابی اپنا معاملہ رسول اللہﷺ کے پاس لے کر گئے تھے۔
اور قرض دار کو چاہیے کہ وہ اپنا قرضہ ادا کرنے کی پوری فکر کرے۔ دنیا میں اگر زبردستی کر کے، اس کے گھر کا سامان تک قرضہ کے طور پر نکلوادیا گیا تو اب یہ مقروض یہ سوچے کہ قیامت کے دن کی سختی کی نسبت یہ معاملہ پھر بھی آسان ہے کہ وہاں روزِ محشر تو ہمارے پاس کوئی مال و متاع نہیں ہوگا۔ پہلے بھی یہ بات بیان ہوچکی کہ نبی کریمﷺ مقروض کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپﷺ دریافت فرماتے کہ کیا تمہارے ساتھی نے قرضہ ادا کرنے کے لیے مال چھوڑا ہے؟ (اگر اس پر قرضہ ہے) اگر لوگ جواب دیتے کہ ہاں! چھوڑا ہے۔ تو نبی اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیتے تھے۔ وگرنہ فرماتے کہ تم لوگ اپنے اس ساتھی کی نمازِ جنازہ ادا کرلو۔ (صحیح بخاری: رقم 2298، صحیح مسلم: رقم 1619)
یعنی اس کے مال سےپہلے قرضہ ادا ہوتا تھا، پھر اس کے بعد وراثت اور ترکہ وغیرہ کی تقسیم ہوتی تھی۔ اگر لوگ رسول اللہﷺ سے عرض کرتے کہ اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے مال نہیں چھوڑا ہے (یعنی مقروض مرا ہے اور مال بھی نہیں چھوڑا) تو پھر نبیd ایسے بندے کی نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔ لیکن اگر کوئی شخص کہہ دیتا کہ اے اللہ کے نبی! اس کا قرض میرے ذمے ہے، تو نبیd اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: رقم 2169)
قرضے کی عدم ادائیگی پر وعید
ایک حدیث میں آتا ہے کہ مقروض اپنے قرضے کی وجہ سے قید میں رہتا ہے یہاں تک اس کا قرضہ ادا کیا جائے۔ یعنی قبر میں جنت کی کھڑکیاں اس مقروض کے لیے نہیں کھلتیں۔ (سنن ابی داؤد: رقم 3341، سنن ابن ماجہ: رقم 1988)
حضرت محمد بن جحش فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! کوئی اللہ پاک کے راستے میں شہید کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر شہید کیا جائے تو بھی یہ شخص جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوگا جب تک اس کا قرضہ نہ ادا کر دیا جائے۔ (سنن نسائی صغریٰ: رقم 4631)
ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ فلاں شخص جس کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہوگیا تھا، قرضہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک دیا گیا ہے۔ وہیں پر ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! اس کا قرض میرے ذمے ہے، میں اس کا قرضہ ادا کروں گا۔ (عبدالرزاق: 118/8)
صحابہ کرام کی یہ عادتِ مبارکہ ہوا کرتی تھی کہ وہ لوگوں کا قرض اپنے ذمے لے کر ادا کر دیا کرتے تھے۔
دخولِ جنت میں تین رکاوٹیں
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی روح جسمِ خاکی سے جدا ہوگئی اور وہ تین چیزوں سے محفوظ ہے، تو وہ جنت میں داخل ہوگا:
(۱) مالِ غنیمت کی چوری سے
(۲) قرض سے
(۳) تکبر سے۔ (ترغیب: 867/2)
معلوم ہوا کہ متکبر آدمی بھی جنت میں نہیں جائے گا، مقروض آدمی بھی جنت میں نہیں جائے گا، اور خیانت کرنے والا بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حضرت براء بن عازب کی روایت ہے جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: مقروض اپنے قرضے میں مقید رہتا ہے، قیامت کے دن وہ اپنی تنہائی کی شکایت اللہ تعالیٰ سے کرے گا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ: رقم 2916)
یعنی اس کی روح جنت کی نعمتوں سے دور رہتی ہے۔ کوشش کی جائے کہ قرضہ نہ لیں۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے، اسی پر کفایت کریں۔ اور اگر قرضہ لینا انتہائی ضروری ہو تو اس کو ادا کرنے کی فکر کریں، اور ادا کرنے کی پوری کوشش کریں۔ اگر انسان اس نیت سے قرضہ لے کہ میں نے ادا کرنا ہے تو اللہ ربّ العزّت اسباب میسر فرما دیتے ہیں اور وہ قرضہ ادا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر قرضے کو ادا کرنے کی نیت سے نہیں لیتا تو اس کا مال ضائع ہو جاتا ہے اور اس کا قرضہ بھی ادا نہیں ہوتا۔ ایسے بندے کو دنیا کی پشیمانی اور آخرت کی بھی پریشانی اور ذلت اُٹھانا پڑتی ہے۔
تمام مؤمنین کا ولی
لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ واقعتاً حالات کی وجہ سے آدمی مجبور اور پریشان ہوجاتا ہے، اور باوجود نیت کے، کوشش اور ارادے کے اپنا قرض ادا نہیں کرپاتا۔ اور نیت کے اندر اتنا اخلاص بھی ہے کہ جیسے ہی اس کے پاس پیسے ہوں تو وہ سب سے پہلے قرضہ ادا کرے گا۔ نیت کے اخلاص کی وجہ سے ایسے لوگوں کے لیے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا بدلہ میں اداکروں گا۔
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی نے ارشاد فرمایا: میں ایمان کے والوں کے لیے ان کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ جو شخص مر جائے اور اس پر کچھ قرضہ ہو اور اس نے مال بھی نہ چھوڑا ہو (یعنی غریب ہو) تو ہمارے ذمہ ہے اسے ادا کرنا، اور جس نے مال چھوڑا ہو تو وہ اس میت کے وارثین کے ذمے ہے۔
(صحیح بخاری: رقم 6350)
مثلاً میت اگر مال چھوڑ کر جائے اور قرضہ اس کے ذمے ہو تو وارثین کو چاہیے کہ وراثت کو تقسیم کرنے سے پہلے اس بندے کا قرضہ ادا کریں، اس کے بعد باقی ماندہ مال کو وراثت میں تقسیم کریں۔ یہ کام وارثین کی ذمہ داری ہے۔ شروع شروع تو نبی کریمﷺ جنازے کے موقع پر پوچھا کرتے تھے کہ اس پر قرضہ ہے؟ ادائیگی کے لیے مال چھوڑا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ملتا تو نمازِ جنازہ پڑھا دیتے، وگرنہ فرما دیا کرتے تھے کہ تم اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ یا کوئی صحابی اس میت کے قرضے کے ضامن بنتے، تب نبی کریمﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو آسودگی عطا فرمائی اور فتوحات ہونے لگیں تو پھر نبی کریمﷺ نے مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے تھے کہ اب اگر کسی کا قرضے رہ گیا ہو اور ادائیگی کی صورت نہ ہو تو محمد رسول اللہﷺ اس کی طرف سے قرضہ ادا کریں گے۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری میں علامہ ابن حجر نے اس حدیث کی تشریح میں یہی بات ارشاد فرمائی ہے۔
گھروالوں کی ضروریات کے لیے قرض لینا
حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ نبی نے یہودی سے کھانے پینے کی چیزیں خریدیں اور بدلہ میں اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھوائی تھی۔
(صحیح بخاری: رقم 2096)
مرض الوفات میں بھی ایسا معاملہ ہوا تھا کہ نبی کو گھر والوں کی ضروریات کے لیے کچھ چاہیے تھا تو نبیd نے اپنی زرہ رہن رکھوائی تھی۔ (صحیح بخاری: رقم 2916)
کسی سے قرض لے کر گھر کا نظام چلایا۔ ضرورت کی وجہ سے غیر مسلم سے بھی قرضہ لینا جائز ہے۔ نبی کریمﷺ نے مختلف مقامات پر اہل یہود سے قرضہ لیا ہے حالاںکہ یہودیوں کے بارے میں ہے کہ یہ لوگ سخت حرام کھانے والے ہیں۔ بہرحال ان سے قرضہ لینا جائز ہے، لیکن کسی بھی غیرمسلم سے سود کا معاملہ کرنا جائز نہیں ہے، حرام ہے۔ اسی طرح سے غیر مسلم کو قرضہ دینا بھی جائز ہے۔
قرض خواہ کا شکریہ ادا کرنا
حضرت ابن ابی ربیعہ سے روایت ہے کہ مجھ سے نبی نے چالیس ہزار درہم قرضہ لیا۔ پھر جب نبی کے پاس مال آیا تو نبی نے میرا قرضہ ادا کیا اور فرمایا کہ اللہ تیرے لیے تیرے اہل ومال میں برکت عطا فرمائے۔ قرض کا بدلہ یہی ہے کہ قرض دار کی تعریف کی جائے اور اس کا قرضہ ادا کیا جائے۔
(سنن نسائی صغریٰ: رقم 4630)
جب بھی کسی کو قرضہ ادا کرنے کی گنجائش پیدا ہوجائے تو اسے چاہیے کہ فوراً اپنے قرض دار کا قرضہ ادا کرے، اور ساتھ ساتھ اس کا بہت زیادہ شکریہ بھی ادا کرے۔ ایسے بندے کے متعلق آتا ہے کہ ایسے بندے نے اپنے قرض خواہ کے ساتھ وفا کی۔
حضرت میمونہ کا پختہ یقین
حضرت عمران بن حذیفہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت میمونہ قرض لیا کرتی تھیں۔ ان کے اہلِ خانہ میں سے کسی نے انہیں منع کیا اور اعتراض بھی کیا۔ حضرت میمونہ نے ارشاد فرمایا کہ کیوں نہیں، میں نے میرے نبی اور میرے دوست رسول اللہﷺ سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ جو شخص قرض لیتا ہے اور اللہ کے علم میں ہوکہ وہ اس کو ادا کرنے کا پورا پورا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرضہ دنیا ہی میں ادا کروا دیتے ہیں۔  (سنن ابن ماجہ: 2401)
اتنا پختہ یقین تھا کہ یہ قرض تو میں لوگوں سے لے رہی ہوں، مگر میرا اللہ اس کو ادا کروائے گا۔ معلوم ہوا کہ بندے کا معاملہ تو اس کی نیت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ ربّ العزّت تو ’’یعلم ما فی الصدور‘‘ یعنی دلوں کے بھیدوں کو جانتے ہیں۔ ہاں! جولوگوں کے قرضوں کو ہڑپ کر جاتے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں پشیمانی، ذلت اور رسوائی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ حتی المقدور قرض لینے سے بچے۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک شخص کو وصیت کی اور فرمایا کہ گناہ کم کرو تاکہ موت آسان ہوجائے، اور قرض لینے والا معاملہ کم کرو تاکہ زندگی آزادی سے بسر ہو جائے۔ (شمائل کبریٰ حصہ سوم)
تنگی دور ہونے کا واقعہ
پچھلی اُمتوں میں ایک تاجر آدمی کی مغفرت اس بات پر ہوئی کہ اس کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں بہت غریب ہوں، پریشان ہوں، میری مدد کرو۔ وہ عورت اس کی تاجر کی چچازاد بہن تھی۔ اس آدمی نے کہا کہ تم میری ضرورت اور خواہش پوری کرو، میں تمہاری مالی ضرورت پوری کروں گا۔ وہ عورت چلی گئی اور بات نہ مانی اور کہا کہ میں تو اللہ ربّ العزّت سے ڈرتی ہوں۔ وہ عورت بار بار پیسے مانگنے آتی، مگر وہ شخص ہر بار اسے اپنی خواہش پوری کرنے پر اُکساتا رہتا کہ میری خواہش پوری کرے گی تو تیری مدد کروں گا۔ ایک مرتبہ وہ اتنی زیادہ حالات سے مجبور ہو کر اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری عزت تیرے حوالے ہے۔ بس! تو میری مدد کر دے اور مجھے سو دینار دے دے۔ اس آدمی نے طے کرلیا اور پیسے دے دیے۔ اس کے بعد جب وہ آدمی گناہ کرنے کے لیے بیٹھا تو وہ لڑکی متقیہ اور پاک دامن تھی۔ وہ یک دم کہنے لگی کہ اللہ سے ڈر اور ناجائز مہر نہ توڑ۔ اس وقت کی بات اس تاجر آدمی پر اس قدر اثرا انداز ہوئی کہ اس نے مال بھی اس کو دیا اور چاہت کے باوجود گناہ کیے بغیر واپس آگیا۔ پھر اس نے ایک تنگی کے موقع پر اپنے اس عمل کو اللہ کے سامنے پیش کیا کہ اے اللہ! یہ عمل تیرے سامنے قبول ہے تو مجھے تنگی سے نجات دے دیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کو قبول فرماتے ہوئے اسے تنگی سے راحت عطا فرما دی۔ (صحیح بخاری: رقم 5653)
معلوم ہوا کہ غریب بیوہ عورتوں کی مالی مدد کرکے ہم اللہ ربّ العزّت سے جنت کا سودا کرواسکتے ہیں۔ ہمیشہ کی جنت کا فیصلہ کرواسکتے ہیں، لیکن شیطانی اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے ہم آخرت کی جہنم کو خریدتے ہیں اور دنیا کی ذلت ورسوائی کو خریدتے ہیں۔ بعض عورتیں اپنے حالات سے پریشان ہو کر اپنا زیور بیچنے جاتی ہیں اور مرد حضرات ان کو چوری کے دام بیچتے ہیں، یعنی کوئی قیمت نہیں دیتے۔ یہ لوگ ان عورتوں پر کتنا ظلم کرتے ہیں؟
امام اعظم کی تجارت
امام اعظم ابوحنیفہ کے پاس ایک عورت آئی اور ایک کپڑے کے متعلق کہا کہ میں نے اسے بیچنا ہے۔ امام صاحب نے پوچھا کہ کتنے کا بیچنا ہے؟ اس عورت نے کہا کہ سودرہم کا۔ امام صاحب نے کہا کہ نہیں! یہ سو درہم کا نہیں ہے، بلکہ زیادہ قیمت کا ہے۔ اس عورت نے کہا کہ اچھا! تو اس کپڑے کا دو سو درہم دے دیں۔ امام صاحب نے کہا کہ نہیں، یہ تو اس سے بھی مہنگا ہے۔ اس عورت نے تین سو، چار سو، حتّٰی کہ پانچ سو درہم تک قیمت لگائی۔ امام صاحب نے عورت سے کہا کہ اب تم نے اس کی قیمت صحیح لگائی ہے، یہ پانچ سو درہم کا ہے۔ اس عورت نے کہا کہ مجھے اس کے عوض پانچ سو روپے دے دیں۔ امام صاحب نے کہا کہ پہلے کوئی گواہ لے کر آئو، پھر میں تمہیں پیسے دوں گا تاکہ مجھے پتا چل جائے کہ یہ تیرا ہی کپڑا ہے، چوری کا مال نہیں ہے۔ اس عورت نے کہا کہ میں اپنے خاوند سے اجازت لے کر آئی ہوں اور یہ کپڑا میرا اپنا ہے۔ لیکن امام صاحب نے کہا کہ خاوند کی گواہی کے بغیر نہیں خریدوں گا۔ وہ عورت جا کر اپنے خاوند کو لے آئی۔ اس نے حضرت کے سامنے جب گواہی دی تو پانچ سو درہم دے کر کپڑا خرید لیا۔ وہی کپڑا جو وہ سو درہم کا بیچنے آئی تھی، پانچ سو درھم کا بیچ کر چلی گئی۔ یہ تھی امام صاحب ابو حنیفہ کی تجارت۔
اگر آپ کسی سے چوری کا مال خرید رہے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ یہ چوری کا مال ہے، تو حدیث کی رو سے آپ اس کی چوری میں شریک ہیں۔
تین مقروض اشخاص
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہیں کہ جنہوں نے قرض لیا اور ادا نہ کرسکے، بلکہ انتقال کرگئے تو اللہ ربّ العزّت ان کا قرضہ خود ادا کریں گے۔
ایک وہ آدمی ہے جو جہاد پر گیا اور اس کا کپڑا پھٹ گیا، بوسیدہ ہوگیا۔ اور فقط اپنے ستر کو چھپانے کے لیے اتنا قرض لیا کہ اپنا جسم ڈھانپ سکے۔ پھر وہ شہید ہوگیا اور قرضہ ادا نہ کرسکا۔ اسے ادائیگی کا موقع ہی نہیں ملا۔
دوسرا وہ شخص جس کے سامنے کسی مسلمان کا انتقال ہو رہا تھا، میت کے پاس بھی کچھ نہیں تھا، اور خود اس شخص کے پاس بھی کفن دفن کے پیسے نہیں تھے۔ اب اس نے کفن دفن کے لیے قرضہ لے لیا۔
تیسرا وہ شخص ہے جس نے زنا سے بچنے کے لیے نکاح کیا۔ غریب تھا، مہر دینے کے لیے رقم نہیں تھی۔ کوشش کےباوجود مہر کا قرضہ نہ ادا کرسکا۔ حدیث شریف میں ان تینوں قسم کے لوگوں کے متعلق آتا ہے کہ ان کا قرضہ اللہ ربّ العزّت خود ادا کریں گے۔
(ترغیب: 603/2)
اس حدیث شریف سے جو Main pointہمیں ملتا ہے کہ شدید ضرورت کے وقت قرض لینا چاہیے اور بس اتنا قرض لینا چاہیے کہ وہ ضرورتِ شدیدہ ختم ہوجائے۔ اچھے لباس اور اسراف کرنے کے لیے نہ لیا ہو۔ آج کل لوگ مہندی، مایوں اور اس قسم کی فضول ہندوانہ رسموں کے لیے قرض لیتے ہیں تو ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ صرف اس ضرورت میں جو شریعت کی نظر میں ضرورتِ شرعیہ ہو۔ بس اسی صورت میں قرضہ لیا جاسکتا ہے۔ فضول خرچیوں سے انسان اپنے آپ کو بچائے۔ جائیداد بنانے کی بات نہیں ہو رہی ہے، بلکہ شدید ضرورت کی بات ہو رہی ہے کہ اگر پختہ ارادے کے باوجود وہ بندہ قرضہ نہ ادا کرسکا تو اللہ ربّ العزّت فرماتے ہیں کہ اس کا قرضہ میں ادا کروں گا۔
اب یہ شرعی ضرورت کیا ہے؟ اس کے متعلق علماء سے دریافت فرما لیجیے۔ مقروض کو چاہیے کہ جب اس پر قرض ہو تو اپنی ضرورتوں کو مختصر کرلے، اپنے اخراجات کو محدود کرلے تاکہ اس کا قرضہ جلدی ادا ہو جائے۔
حقوق العباد میں ہیرا پھیری سے بچنا
قرض چوںکہ حقوق العباد سے متعلق معاملہ ہے۔ دو تین باتیں اس کے متعلق اور بھی سمجھ لیجیے۔ بہت سارے لوگ دیکھے ہیں کہ جو مہر ادا نہیں کرتے ہیں، وارثین کو وراثت سے محروم رکھتے ہیں۔ یہ بھی لوگوں کے بڑے عجیب معاملے ہوگئے ہیں۔ یاد رکھیں! جو شخص مہر ادا نہ کرنے کی نیت سے نکاح کرے، تو ایسا شخص حدیث کی رو سے قیامت کے دن اللہ ربّ العزّت کے پاس زانی بن کر کھڑا ہوگا۔ آج کل لوگ بیویوں کا مہر اور حق ادا نہیں کرتے، بلکہ معاف کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیوی بھی آج کل کے رواج کی وجہ سے مہر معاف کر دیتی ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ اپنا مہر وصول کرلیں، کیوںکہ اگر آپ کے مردوں نے آپ کا مہر نہ دیا تو یہ قیامت کے دن زانی بن کر کھڑے ہوں گے۔ مہر کا ادا کرنا لازمی اور ضروری چیز ہے۔ اس کی فکر کرنے کی بہت ضرورت ہے۔
اسی طرح وراثت کا بھی یہی حال ہے۔ ہمارے معاشرے میں تو وراثت کے معاملات میں یہ ہوتا ہے کہ بھائیوں کو وراثت دے دیتے ہیں، لیکن بہنوں کو وراثت سے محروم رکھتے ہیں اور ان سے معاف کروالیتے ہیں کہ ہم بھائی غریب ہیں، ہم حصہ دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یاد رکھیں! جس طرح پروردگارِ عالم نے بھائی کا حق وراثت میں رکھا ہے، اسی طرح بہن کا حق بھی رکھا ہے۔ اگربھائی نے بہن سے کہہ کروراثت کو معاف کروالیا تو آپ سب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس طرح معاف کر دینے سے وراثت کا حق معاف نہیں ہوتا ۔ وہ حق دینا لازمی ہوتا ہے۔
شرعی مسئلہ
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ باپ کے مرتے ہی جو عورتیں بیوی، بیٹیاں وراثت لینے سے انکار کر دیتی ہیں۔ ان کا انکار شریعت میں معتبر نہیں ہے۔ اس کے معتبر نہ ہونے کی تین وجوہات ہیں:
ایک تو یہ وجہ کہ تازہ تازہ صدمہ ہوتا ہے تو ان کی حالت پریشانی والی ہوتی ہے، اپنے نفع نقصان کا خیال نہیں رہتا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ رواج میں ہی پڑگیا ہے کہ بہنوں کو حصہ دینا ہی کوئی نہیں ہے۔ بہنیں حصہ مانگ لیں تو لگتا ہے کہ جیسے بہنوں نے دشمنی کرلی ہے۔
تیسرا یہ کہ اس حالت میں ان کو اپنے حق کی خبر ہی نہیں ہوتی ہے کہ میرا حصہ کتنا ہے۔ تو اس بات پر فتویٰ ہے کہ کوئی کہہ بھی دے کہ میں نے اپنا حصہ نہیں لینا تو حق معاف نہیں ہوتا۔
بروزِ قیامت ایک دوسرے سے فرار
اس میں دو باتیں اور ہیں۔ دنیا میں تو وہ اپنا حق معاف کر دیتی ہیں، قیامت کے دن جب اس عورت کو اپنی پڑی ہوگی اور جنت میں جانا ہوگا اور وہاں جب اسے پتا چلے گا کہ میں نے اپنے بھائیوں سے حصہ لینا ہے اور وہ وہاں کھڑا ہے۔ میرے پاس Option ہے، میں اپنے بھائی پر مقدمہ کرسکتی ہوں، اپنا حصہ لے سکتی ہوں۔ وہاں وہ عورت اپنی جنت کی حرص میں اپنے بھائی پر مقدمہ کر کے اپنا حصہ لے لے گی اور جہنم میں جانا پسند نہیں کرے گی۔
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِۙ۰۰۳۴ وَ اُمِّهٖ وَ اَبِيْهِۙ۰۰۳۵ وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِيْهِؕ۰۰۳۶
(عبس: 33-36)
ترجمہ:’’یہ اس دن ہوگا جب انسان اپنے بھائی سے بھی بھاگے گا۔ اور اپنے ماں باپ سے بھی۔ اور اپنے بیوی بچوں سے بھی‘‘۔
اب بھائی کو سوچنا چاہیے کہ وہاں آخرت میں کیا کرے گا؟ جب بہنیں آپ کی ساری نیکیاں لے جائیں گی۔
حکمت وبصیرت سے بہن کا حق دینا
دوسری توجیہ اور بات یہ ہے کہ آپ کی بہن کہے کہ میں نے اپنا حق معاف کر دیا اور حصہ چھوڑ دیا۔ تو اس طرح سے تو حق معاف نہیں ہوتا ہے۔ بھائیوں کو چاہیے کہ وہ ایسا کریں کہ جب والدین کی وفات کے صدمے سے بہنیں باہر آجائیں، تو اس وقت اپنی بہن کا پورا حصہ ان کے حوالے کر دیں۔ چند دن میں وہ اس مال کی لذت اور حرارت کو دل میں محسوس کریں گی۔ پھر دس پندرہ دن بعد ان سے کہیے کہ مجھے اپنا حق معاف کرکے پیسے واپس کردے۔ پھر دیکھیے کہ سو میں سے کوئی ایک بہن بھی نہ نکلے گی جو مال واپس کر دے۔ اب اس صورت میں مال واپس کرنا شریعت میں معتبر ہوگا، کیوںکہ اس صورت میں کوئی بھی بہن ایسی نہیں جو اپنا حصہ واپس کر دے جبکہ بھائی نے اس کے حوالے کیا ہو۔
اگر یہ دونوں باتیں ہمیں سمجھ میں آجائیں تو ہم اپنی بہنوں کو ان کا حق ضرور ادا کریں گے، کیوںکہ بہتر یہی ہے کہ یہاں ادا کر دیا جائے۔ وہاں پر حقوق کا مطالبہ مال پیسوں سے نہیں، نیکیوں کے ساتھ ہوگا۔ اللہ ربّ العزّت قیامت کی مفلسی سے بچائے آمین۔
ہمارے اکابرین قرض کی ادائیگی اور مہر کی رقم ادا کرنے میں اتنا اہتمام کرتے تھے اس کے متعلق بس ایک واقعہ سن لیجیے!
ایک طالب علم کا حکیم الامت سے سوال
ایک مرتبہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے پاس ایک طالب علم آیا۔ اس نے کہا کہ حضرت! میرے والد صاحب نے دو شادیاں کی ہوئی تھیں۔ والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، اور انہوں نے اپنی کسی بھی زوجہ کا حق مہر ادا نہیں کیا ہوا۔ علم نہیں ہوگا اس چیز کا، یا رواج نہیں ہوگا تو پتا نہیں چلا ہوگا۔ طالب علم نے کہا کہ حضرت! میں اب کیا کروں؟ جیسے ہی اس طالب علم نے سوال کیا تو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کو اپنے والد صاحب کے بارے میں خیال آیا کہ انہوں نے تو یکے بعد دیگرے چار شادیاں کی تھیں۔ اور سوچنے لگ گئے کہ حق مہر دینے کا رواج تو ان کے والد کے ہاں بھی نہیں تھا۔حضرت نے اس طالب علم کا بہت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تم نے تو میری ایک ایسے مسئلے کی طرف یاد دہانی کروادی جو کہ مجھے یاد ہی نہیں تھا۔
اس کے بعد حضرت نے مختلف علماء کو خطوط لکھے اور مسئلہ کی تفصیل دریافت کی کہ میں کیا کروں؟ خود فتویٰ نہیں دیا حالاںکہ بہت بڑے فقیہ تھے، مگر اپنے معاملے کے متعلق دوسروں سے سوال دریافت کیا۔ مفتیان کرام نے جواب دیا کہ وہ تو آپ کے والد پر تھا، آپ پر تو اد اکرنا نہیں ہے۔ مگر حضرت نے احتیاط کی کہ یہ تو میرے والد پر قرض تھا، مجھے ادا کرنا چاہیے۔ پھر انہوں نے بڑے اہتمام کے ساتھ حق کی ادائیگی کی۔ لوگ چوںکہ مختلف ملکوں میں چلے گئے تھے تو دوسال صرف اس تحقیق میں گزرگئے کہ کس کا کتنا حق بنتا ہے اور کتنے حقوق ہیں۔ رشتے داروں کو خطوط بھیج بھیج کر انہوں نے تفتیش کروائی اور ایک اہلِ علم کو اپنے ساتھ رکھا کہ جس کو مختلف سفروں میں بھیجنے کا اہتمام فرمایا۔ اسے بھی پیسے دے کر کام کروایا کرتے تھے۔
جب انتہائی محنت کے بعد سب رشتہ داروں کے نام سامنے آگئے تو ان کو حصہ دینے کی Calculation مولانا اشرف علی تھانوی نے کی۔ کسی کے حصے میں ایک ایک آنہ آیا، کسی کے حصے میں ایک پیسہ آیا، لیکن انہوں نے دوسرے ممالک تک بھی پہنچا کر لوگوں کو ان کے حصے دیے۔ اور لوگوں کے حصے دینے بعد فرمایا کرتے تھے کہ چاہے میرے اوپر جتنی مرضی بڑی Amount ہو، میں اسے ادا کروں گا۔ ان کے والد صاحب نے چاروں ازواج کے جو حق مہر مقرر کیے تھے، وہ پانچ پانچ ہزار روپے تھے۔ اور اس زمانے میں پانچ ہزار کی بہت زیادہ وقعت ہوا کرتی تھی۔ لوگ تو آج کل پچپن سو روپے لکھواتے ہیں یہ تو ستّر اسّی سال پرانی بات ہورہی ہے۔ ٹوٹل 20000/- بیس ہزار ان کے ذمے تھا۔ انہوں نے اپنے وراثت کے حصے سے تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کرتے اور فرماتے تھے کہ چاہے میں عمر بھر ادا کرتا رہوں، مگر میں یہ رقم ضرور ادا کروں گا۔ انہوں ایک لمبا عرصہ اپنی زندگی کا لگا کر اس معاملے کو نمٹایا۔
یہ ان کا قیامت کے دن کا خوف تھا کہ قیامت کے دن اگر کسی کا ایک پیسہ بھی دینا پڑے گا تو لوگ آپ کی مقبول نمازیں لے جائیں گے، کوئی دین کی محنت لے جائے گا، کوئی صدقات لے جائے گا، کوئی رات کی تہجد لے جائے گا۔ جن لوگوں کو اپنے اعمال کی حفاظت کی فکر ہوتی ہے وہ پھر اس چیز کا بہت خیال رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن کوئی حق مانگنے والا نہ آجائے، کیوںکہ قیامت کے دن کی مفلسی سے بری کوئی مفلسی نہیں ہے۔ ہمارے اکابرین ان باتوں کا بہت اہتمام کیا کرتے تھے۔ اس واقعے سے تو سب کو اندازہ ہوہی گیا ہوگا کہ قرض ادا کرنے کی کتنی اہمیت ہے۔
ادائیگی قرض کی دعائیں
قرض ادا کرنے سے متعلق کچھ دعائیں نبی نے اپنی امت کو بتائی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اِن دعائوں کو یاد کریں اور ان کو پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے آسانی کا معاملہ پیدا فرمائیں گے ان شاء اللہ۔ امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی نمازمیں سلام پھیرنے سے قبل یہ دعا مانگتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأثَمِ وَالْمَغْرَمِ. (صحیح البخاري: باب الدعاء قبل السلام)
ترجمہ: ’’اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔
ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ نبی یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الْکُفْرِ وَالدَّیْنِ.
ترجمہ: ’’میں میں کفر اور قرض سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
ایک صحابی نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! آپ قرض کو کفر کے برابر سمجھتے ہیں؟ نبی نے فرمایا کہ ہاں!  (مشكاة المصابيح: باب الاستعاذة، رقم 2481)
بعض مرتبہ ایسی صورتیں بن جاتی ہیں کہ انسان جب مقروض ہوتا ہے تو زبان سے ایسے جملے نکال لیتا ہے کہ وہ دین اور دائرۂ اسلام سے باہر ہوجاتا ہے، کیوںکہ مقروض آدمی پریشانی کے عالم میں بڑی غلط باتیں بھی منہ سے نکال دیتا ہے جس کی وجہ سے بسااوقات وہ دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ اللہ ہمیں بچائے۔
حضرت علی کی خدمت میں ایک غلام آیا اور آکر کہنے لگا کہ میں نے Payment کرنی ہے، میری مدد کیجیے اور مجھے مال دیں۔ حضرت علی نے فرمایا کہ میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو رسول اللہﷺ نے سکھایا ہے۔ اگر تم پر صِیر پہاڑ کے برابر بھی قرضہ ہے تو وہ ادا ہوجائے گا۔ اس نے کہا کہ بتا دیجیے۔ حضرت علی نے اسے یہ دعا سکھائی:
اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ، وَاَغْنِنْيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ.
(سنن ترمذی: رقم 3563)
ایک صحابی حضرت معاذ بن جبل ایک مرتبہ جمعہ کی نماز میں حاضر نہ ہوسکے۔ نبی جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان کے پاس گئے اور پوچھا کہ اے معاذ! کیا بات ہے میں تم کو نہیں دیکھ رہا تھا، تم جمعہ کی نماز کے لیے نہیں آئے تھے؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ایک یہودی کا ایک اُوقیہ سونا میں نے دینا ہے، اس یہودی نے مجھے روک دیا تھا جس کی وجہ سے میں جمعہ میں شریک نہیںہوسکا۔ نبی نے فرمایا کہ اے معاذ! میں تمہیں وہ دعا سکھا دوں؟ اگر اُحُد پہاڑ کے برابر بھی سونا قرض ہوگا تو وہ تم سے ادا کردیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے:
اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١ٞ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِيَدِكَ الْخَيْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۲۶
رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَرَحِیْمُھُمَا، تُعْطِیْھِمَا مَنْ تَشَاءُ، وَتَمْنَعُ مِنْھُمَا مَنْ تَشَاءُ، اِرْحَمْنِیْ رَحْمَۃً تُغْنِیْنِیْ بِھَا عَنْ رَحْمَۃٍ مَنْ سِوَاکَ.
(الترغیب والترھیب: رقم 1821)
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ صدیق اکبر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ نبی نے مجھے ایسی دعا سکھائی اور یہ دعا حضرت عیسیٰ نے اپنے ساتھیوں کو سکھائی تھی۔ اور حضرت عیسیٰ فرماتےتھے کہ اگر تم پر کسی پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو تم یہ دعا پڑھو گے تو اللہ قرضہ ادا فرمادے گا۔ قرضے کی ادائیگی کی آسان مسنون دعا رات کو سوتے وقت اس دعا کو پڑھ لیجیے۔
اَللّٰھُمَّ فَارِجَ الْھَمِّ ، کَاشِفَ الغَمِّ ، مُجِیْبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّیْنَ ، رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَرَحِیْمَھُمَا ، أَنْتَ تَرْحَمُنِیْ ، فَارْحَمْنِيْ بِرَحْمَۃٍ تُغْنِیْنِيْ بِھَا عَنْ رَحْمَۃٍ مَنْ سِوَاکَ. (الدر المنثور للسيوطي 24/1)
ہمیں ان مسنون دعائوں کو پڑھنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں قرضوں سے نجات عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply