34

قضائے حاجت کے آداب

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
قال اللّٰه تعالٰى: فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْاط (التوبۃ: 108)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

پیشاب، پاخانے کے وقت سمت کا تعین:
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت زندگی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ ایک معاملہ آج کل بہت خراب ہو چکا ہے وہ ہے پیشاب، پاخانے کے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ یا پشت کرنا۔ حضرت ابوایوب انصاری کی روایت ہے کہ آپ نے پیشاب، پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف رُخ کرنے اور پشت کر نے سے منع فرمایا ہے۔
(صحیح بخاری: رقم 394، صحیح مسلم: رقم 264)
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمa نے فرمایا: میں تمہارے لیے ایسا ہوں جیسا (کہ تعلیم وتربیت کے لیے) والد اپنی اولاد کے لیے ہوتا ہے۔ میں تمہیں سکھاتا ہوں کہ جب تم پاخانہ، پیشاب کے لیے آؤ تو نہ قبلہ کی طرف رخ کرو، اور نہ پشت کیا کرو۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 313)
علمائے کرام نے لکھا ہے کہ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں بیت الخلاء میں قضائے حاجت کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونے یا قبلہ کی طرف پشت کرنے کی ممانعت ہے، لیکن آج افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر ساتھی اس کو جانتے بھی نہیں اور خیال بھی نہیں کرتے۔ بلڈنگ بنانے والے، مکانات تعمیر کرنے والے کمرے میں قبلے کا رخ چیک کریں اور اس طرح سے بیت الخلاء میں قضائے حاجت کی جگہ بنائیں کہ قبلہ کی طرف نہ رُخ ہو، نہ پشت۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے آمین۔
مجبوری میں حل:
جب کسی جگہ آدمی جائے تو پہلے وہاں کمرے میں قبلے کا رخ چیک کر لے، پھر کموڈ کا رخ اس سے میچ کر لے۔ اگر الگ الگ رخ ہے تو الحمدللہ! کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ لیکن اگر قبلہ رُخ ہے تو کموڈ پر بیٹھتے ہوئے تھوڑا دائیں جانب ہو جائے۔ جتنا کرسکتا ہے اس میں احتیاط کرے۔ نہاتے ہوئے بھی چوں کہ انسان کے جسم پر کپڑا نہیں ہوتا تو یہی معاملہ ہے کہ نہ قبلہ رُخ ہو اور نہ قبلہ کی جانب پشت کرے۔
اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرنا:
حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ نبی کریمa نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب پاخانہ کو جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، یہ اس کے لیے (پاکیزگی حاصل کرنے میں) کافی ہوں گے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 40)
آج کل موجودہ پکے بیت الخلاء میں ڈھیلے یا پتھر استعمال نہ کیے جائیں، بلکہ اس کی جگہ ٹشو پیپر یا ٹوائلٹ پیپر استعمال کریں اس سے پاکیزگی حاصل ہوجائے گی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ قبا کی تعریف کی۔
اہلِ قبا کی تعریف:
فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ o (التوبۃ: 108)
ترجمہ: ’’اُس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک صاف لوگوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔
قبا کی بستی وہ بستی ہے جہاں نبی کریمﷺ مکہ سے ہجرت کر کے تشریف لائے اور یہاں چودہ دن قیام فرمایا، اور پہلی باقاعدہ مسجد تعمیر کی۔ پھر مدینہ منوّرہ پہنچے تو مسجدِ نبوی کی تعمیر کی۔ دونوں ہی کی بنیاد تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر تھی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اہلِ قبا کی تعریف کی کہ وہ پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں۔ نبی کریم نے حضرت عُوَیم بن ساعدہ

  سے پوچھا کہ وہ پاکی کا کون سا طریقہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف کی؟ انہوں نےعرض کی: یا رسول اللہ! ہم جب پیشاب پاخانہ کرتے ہیں تو( پھر آخر میں) پانی استعمال کرتے ہیں۔ (دیکھیے تفسیر ابنِ کثیر، آیت 108)
عام طور پر مسلمان ڈھیلا یا پتھر استعمال فرماتے تھے، اور یہ حضرات اس کے علاوہ صفائی کے لیے خاص طور سے پانی استعمال فرماتے تھے۔ اس پر ان کی تعریف ہوئی۔ اور بعض مرتبہ انسان کو جو وسوسہ آتا ہے کہ قطرہ نکل رہا ہے، اس کا بھی علاج ہے۔ وہ یہ ہے کہ قضائے حاجت کے جتنے آداب ہیں، ان کا خیال رکھا جائے۔
استنجا کا طریقہ و آداب:
(۱) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب بیت الخلاء جانے کا ارادہ فرماتے تویہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ. (صحیح البخاري: رقم 142)
ایک روایت میں بسم اللہ کا ذکر بھی ہے، اِس لیے مذکورہ دعا کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا چاہیے۔ دعا پڑھنے کے بعد بائیں (اُلٹے) پاؤں سے اندر داخل ہوا جائے۔
(۲) دائیں یعنی سیدھے ہاتھ سے استنجا کرنا منع ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 152)
بائیں ہاتھ سے استنجا کیا جائے۔ جب آدمی دائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا ہے تو وہ کیسے اسی ہاتھ سے صفائی بھی کرے گا۔ اسے شدید کراہیت ہوگی۔
(۳) بائیں طرف زور دے کر بیٹھا جائے۔ اس طریقے سے پیشاب یا پاخانے میں سہولت ہوگی اور کوئی قطرہ باقی ہوا تو وہ نکل جائے گا۔
(۴) پاخانہ کے مقام پر لگی نجاست کو اوّلاً تین ڈھیلوں یا ٹشو پیپر سے صاف کرلیا جائے، اور پیشاب کے قطرات کو خشک کرلیا جائے۔ اس کے بعد پانی سے اطمینان بخش طریقہ پر پاکی وصفائی حاصل کی جائے۔ اب شیطان وسوسہ ڈالے کہ قطرہ نکل گیا تو یہ کہو کہ پانی کے چھینٹے میں نے خود مارے ہیں اب کہاں سے آئے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہے جب ہمیں پورا یقین یا شک ہو کہ پاکی ہوئی ہے۔ اگر یقین ہے کہ قطرہ نکل رہا ہے تو صاف کرنا ضروری ہے۔
(۵) شرمگاہ کے سوراخ کے اندر نہیں، بلکہ پیشاب کی نالی کے منہ پر ڈھیلہ یا ٹشوپیپر لگاکر قطرات خشک کرلیے جائیں۔
(۶) صرف پانی سے استنجا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے بائیں (اُلٹے) ہاتھ کو کلائی تک دھو لے۔ پھر اگر روزہ دار نہ ہو تو پاخانہ کے مقام کو خوب ڈھیلا چھوڑ کر بیٹھے اور بائیں ہاتھ سے اچھی طرح صفائی کرے، اور اس قدر صفائی کرے کہ پاکی کا یقین یا ظنِ غالب ہو اور چکنائی جاتی رہے۔ اور اگر روزہ دار ہو تو زیادہ پھیل کر نہ بیٹھے، اور نہ پانی بہانے میں مبالغہ کرے۔ دھونے کے لیے کوئی تعین نہیں ہے۔ اگر کسی کو وسوسہ زیادہ آتا ہو تو اپنے لیے تین مرتبہ دھونا مقرر کر لے۔ (زبدۃ الفقہ)
(۷) استنجا کے بعد ہاتھ کلائیوں تک اچھی طرح دھو لے جیسا کہ شروع میں دھوئے جاتے ہیں تاکہ صفائی ہو۔ نبی کریمa جب قضائے حاجت سے واپس تشریف لاتے تو اپنے ہاتھوں کو زمین سے رگڑتے اور پھر پانی سے دھو لیتے۔ ہم صابن استعمال کرلیں، اور اگر صابن میسر نہیں تو مٹی سے ہاتھوں کو مَل کر پاک کرلیں۔
(۸) استعمال کے بعد ڈھیلہ یا ٹشوپیپر کو ایسی جگہ نہ ڈالیں کہ جس سے گندگی یا تعفن ہوجائے، یا نالی اور گٹر وغیرہ بند ہوکر لوگوں کے لیے اذیت کا ذریعہ بنے۔
(۹) اپنے کپڑوں اور بدن کو نجاست یعنی گندگی پیشاب کے چھینٹوں سے بچائے، اور اگر کہیں لگ جائے تو اسے دھو دیا جائے۔
(۱۰) پیشاب، پاخانہ بیٹھ کر کیا جائے، کھڑے کھڑے پیشاب کرنا منع ہے۔ نبی کریمa نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں بہت ساری قباحتیں ہیں، چھینٹیں پڑنے کے بھی امکانات ہیں جو عذابِ قبر کی طرف لے جاتے ہیں۔ (سنن دارقطنی: 311/1)
(۱۱) سر کو ڈھانپ کر بیت الخلاء میں جانا ۔
(۱۲) بیت الخلاء جانے سے پہلے نبی کریمa اپنی انگوٹھی اُتار دیا کرتے تھے کیوںکہ اس میں محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔ یہاں سے ہمیں یہ سبق ملا کہ کسی نےانگوٹھی یا لاکٹ پہنا ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام، آیتِ مبارکہ وغیرہ لکھی ہو تو اس کو باہر رکھ کر جائے۔ اگر تعویذ کپڑے میں، یا موم جامہ کرکے پہناگیا ہے تو اس تعویذ کو پہنے ہوئے بیت الخلا میں جانا جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ تعویذ اُتار کر جائے۔
اسی طرح اگر موبائل میں قرآنِ کریم یا تفسیر کا صفحہ اسکرین پر کھلا ہو ا ہو، یا تلاوت جاری ہو تو اس کو لے کر بیت الخلاء جانا جائز نہیں، بصورت دیگر گنجایش ہے لیکن خلافِ اولیٰ ہے۔ نیز جس ڈائری میں قرآنِ کریم کی کوئی آیت لکھی ہوئی ہو، اس کا بھی یہی حکم ہے۔ لہٰذا ایسی ڈائری بند بھی ہو تو زیادہ اَدب کا تقاضا اور بہتر یہی ہے کہ بیت الخلاء کے باہر کسی محفوظ جگہ پر رکھ کر جائے واللہ اعلم۔
(۱۳) کھڑے ہونے کی حالت میں ستر نہ کھولے، بلکہ بیٹھنے کے قریب ہو کر کھولے۔ اور ضرورت سے زیادہ بدن نہ کھولے۔
(۱۴) بیت الخلاء میں باتیں کرنا، یا باہر بات کرنے والے کو اندر سے جواب دینا، ذکر کرنا، سلام کرنا یا اس کا جواب دینا، کسی دینی مسئلہ پر غور کرنا سب منع ہے۔ البتہ خود کو چھینک آئے تو دل میں الحمدللہ پڑھ لے، زبان سے نہ پڑھے۔
(۱۵) بلا ضرورت اپنے ستر کو نہ دیکھے، نہ اپنے بدن سے کھیل کرے، نہ آسمان کی طرف نظر اٹھائے۔ اسی طرح بلاوجہ زیادہ دیر تک نہ بیٹھا رہے۔
(۱۶) جب فارغ ہو جائے تو مقامِ نجاست کو صاف کر کے کھڑا ہو جائے ۔ اور سیدھا ہونے سے پہلے بدن کو چھپا لے۔
(۱۷) استبراء کرنا۔ یعنی پیشاب سے فراغت کے بعد چند قدم چلنا، یا زمین پر پاؤں مارنا، یا کھنکھارنا، یا دائیں ٹانگ پر بائیں ٹانگ لپیٹنا اور پھر اس کے برعکس کرنا تاکہ رکا ہوا قطرہ نکل جائے۔ استبراء مردوں کے لیے ہے۔ عورت پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر کر پہلے ٹوائلٹ پیپر سے مقامِ پیشاب کو خشک کر لے، پھر پانی سے طہارت کر لے۔
(۱۸) قضائے حاجت سے فراغت کے بعد سیدھا پاؤں پہلے باہر رکھیں، پھر اُلٹا پاؤں باہر رکھیں اور یہ دعا پڑھیں:
غُفْرَانَکَ. (سنن الترمذي: باب ما يقول إذا خرج من الخلاء)
اس کے ساتھ یہ بھی پڑھ لیں:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَذْهَبَ عَنِّيَ الْأَذٰى وَعَافَانِيْ. (سنن ابن ماجہ: رقم 301)
(۱۹) کہیں میدان یا ایسی جگہ ہو جہاں بیت الخلاء نہ بنے ہوں تو آبادی سے دور جائے۔ اور ستر پوشی کا خاص خیال رکھے۔
(۲۰) قبلے کے رُخ پر یا پیٹھ دے کر نہ بیٹھے۔ اسی طرح ہوا اور سورج کے رُخ پر بھی نہ بیٹھے۔
(۲۱) کسی سایہ دار یا پھل دار درخت کے نیچے پیشاب نہ کرے۔
(۲۲) ندی، نالے اور تالاب میں بھی پیشاب یا پاخانہ نہ کیا جائے۔
(۲۳) کسی سوراخ یا قبرستان کے پاس بھی قضائے حاجت نہ کی جائے۔
(۲۴) نرم زمین پر قضائے حاجت کی جائے جہاں سے چھینٹے لوٹ کر نہ آئیں۔ سخت زمین جہاں سے چھینٹے واپس آئیں یا گٹر بند ہو اور پانی جمع ہوگیا ہے تو ایسی جگہ قضائے حاجت کرنے سے کپڑے اور جسم کے ناپاک ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔
(۲۵) ہڈی سے استنجا نہ کیا جائے۔ حدیث شریف میں یہ تمہارے مسلمان جنات بھائیوں کی غذا ہے۔ اسی طرح کوئلے، لوہے اور دھاتی چیزوں سے استنجا کرنا منع ہے جس میں نقصان کا اندیشہ زیادہ ہے۔ عام کاغذ سے استنجا کرنا منع ہے، البتہ وہ کاغذ جو بنایا ہی اس لیے گیا ہے جسے ہم ٹوائلٹ پیپر کہتے ہیں، اس سے استنجا کرنا صحیح ہے۔
(۲۶) غسل والی جگہ پر قضائے حاجت نہ کی جائے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اس سے وسوسے آتے ہیں۔
یہ تقریباً چھبیس آداب بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی ہیں جو مستند علمائے کرام سے معلوم کیے جا سکتے ہیں۔
حضور پاکﷺ کی برکت:
پیشاب، پاخانے کے وقت پوری احتیاط کرے کہ کوئی گندگی نہ لگے۔ اگر جسم کے کسی حصے پر لگ جائے تو وہاں پانی بہا کر صاف کیا جائے۔ اور اگر کپڑے پر لگ جائے تو اس کو اچھے طریقے سے تین مرتبہ دھو کر پاک کرے۔ حضور اکرم کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہم سب کے لیے بڑی آسانی فرمائی ہے۔ پچھلی اُمتوں میں ایسا نہیں تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن حسنہ اور حضرت عمرو بن العاصi سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل کے جب کپڑوں پر پیشاب لگ جاتا، نجاست لگ جاتی تو دھونے کے بجائے قینچی سے کاٹنے کا حکم تھا۔ ایک صاحب نے اس پر عمل نہیں کیا تو ان کو قبر میں عذاب ہوا۔(سنن کبریٰ: رقم 462)
علامہ انور شاہ کشمیری سے منقول ہے، اور سنن ابی داؤد کی شرح میں بھی ہے کہ بعض روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان کے بدن پر پیشاب لگ جاتا تو کھال کھرچنے کا حکم تھا۔ قربان جائیں حضور پاکa پر کہ آپa کی وجہ سے کتنی آسانیاں امت کو مل گئیں۔ صحابہ کرام باریک باریک چھینٹوں سے بھی بچنے کا خیال کرتے تھے۔ آج ہمیں چاہیے کہ تسلی کے ساتھ فارغ ہوں اور پانی مناسب استعمال کریں۔ زیادہ پانی بہانا اچھا نہیں ہے۔
صفائی کا اہتمام:
عام طور سے عوامی ٹوائلٹ (Public toilets) میں بدبو بہت ہوتی ہے۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ فراغت کے بعد لوگ پانی نہیں بہاتے۔ یہ بہت بری عادت ہے۔ عوامی چیز سب کے لیے ہے تو کسی کو اذیت اور تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اسی طرح بعض عورتیں بہت بےاحتیاطی کرتی ہیں۔ بچوں کا بستر یا کپڑے اپنی کاہلی یا دین سے بےرغبتی کی وجہ سے پاک نہیں کرتیں، جس کی وجہ سے ناپاک رہتا ہے۔ وہ کیوں اپنے آپ کو عذابِ قبر کے لیے تیار کرتی ہیں؟ مختلف چھوٹے موٹے بہانے بنانا، پانی گرم نہیں ہے، یہ نہیں ہے، وہ نہیں ہے۔ سب بہانے یہیں رہ جائیں گے۔ پیشاب بچے کا ہو یا بچی کا، بڑے کا ہو یا چھوٹے کا ہر صورت ناپاک ہے۔ اس میں بے احتیاطی نہ کریں، اور جگہ کو پاک کریں۔
ممانعت والی جگہیں:
کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں قضائے حاجت سے منع کیا گیا ہے۔
(۱) غسل خانے میں پیشاب کرنا منع ہے۔ حضرت عبداللہ بن مغفّل سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: تم میں سے کوئی غسل خانے میں پیشاب (پاخانہ) نہ کرے، اس لیے کہ عام طور سے وسوسے اس سے پیدا ہوتے ہیں۔
(سنن ترمذی: رقم 21)
حُمید بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ میں ایک صحابی سے ملا جس نے رسول اللہﷺ کی صحبت اسی طرح پائی جیسے کہ حضرت ابوہریرہ نے چار سال پائی۔ اُن صحابی نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ ہمیں غسل خانے میں قضائے حاجت سے منع فرماتے تھے۔
(سنن نسائی: رقم 238، سنن ابی داؤد: رقم 28)
(۲) ٹھہرئے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ماءِ دائم یعنی ٹھہرے ہوئے، رکے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر وہ اسی سے وضو (بھی) کرتا ہے۔
(سننِ ترمذی: رقم 68)
اس لیے کہ جو پانی اپنی جگہ پر رُکا ہوا ہے، جاری نہیں ہے، اس میں پیشاب پاخانے کرنے سے پانی ناپاک ہو جائے گا، پھر وہ طہارت حاصل کرنے کے قابل نہ ہوگا۔
(۳) راستے میں پیشاب پاخانہ کرنا منع ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم لعنت کے دو کاموں سے بچو۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لعنت کے وہ دو کام کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے راستے، یا اُن کے سائے کی جگہ میں پاخانہ کرے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 25)
اس سے بھی کتنا تعفّن پھیلتا ہے، اور کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس کے اندر احساس ہو۔
(۴) درخت کے سوراخ یا عام سوراخوں کے قریب پیشاب کرنا منع ہے۔ حضرت عبداللہ بن سرجس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے سوراخ میں پیشاب سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 29)
ممکن ہے کہ کوئی جاندار مثلاً سانپ وغیرہ وہاں رہتا ہو، اسے تکلیف ہوگی پھر وہ حملہ کر دے گا۔ سنن ابی داؤد میں یہ بھی ہے کہ کسی نے ابو قتادہ سے پوچھا کہ کیوں منع ہے؟ فرمایا کہ یہ جنات کے رہنے کی جگہ ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں ابوقتادہ کی اس بات کا انکار نہیں کرسکتا، کیوںکہ یہ ابوقتادہ کی بات ہے (اور وہ بڑے ثقہ آدمی ہیں)۔ اس لیے ایسی جگہوں پر پیشاب کرنے سے بچنا چاہیے۔
سر ڈھانک کر جانا:
نبی کریم قضائے حاجت کے لیے جاتے تو سر ڈھانکا ہوتا اور چپل پہنی ہوتی تھی۔ ننگے سر بیت الخلاء جانا مکروہ ہے۔ بعض مرد ٹوپی پہنے ہوئے یا عورتیں دوپٹہ لیے، بیت الخلاء جاتے ہوئے سر کھلا کر دیتے ہیں۔ یہ بالکل ٹھیک نہیں۔ بیت الخلاء جاتے ہوئے مسلمان مرد اور عورت کا سر ڈھکا ہوا ہونا چاہیے۔ بلکہ مسلمان کا سر تو ہر حالت میں ڈھکا ہوا ہونا چاہیے۔
بیت الخالہ نہ سمجھیں:
بہت سارے نوجوان بیت الخلاء کو بیت الخالہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ بیت الخالہ نہیں ہے، بیت الخلاء ہے کہ ضرورت کے وقت گئے اور جتنی ضرورت تھی اتنا وقت وہاں گزارا اور باہر آگئے۔ والدین کو چاہیے کہ جب کوئی بچہ 10، 12 سال 13 سال کا ہوجائے تو نوٹ کریں کہ اولاد کتنی دیر ٹوائلٹ میں لگا رہی ہے۔ اگر زیادہ وقت لگ رہا ہے اور مستقل ہی ایسی عادت بن رہی ہے تو پھر Something is wrong کچھ غلط ہورہا ہے، جسے ٹھیککرنے کی ضرورت ہے۔
قومِ لوط کے عمل سے بچنا:
حضرت عبداللہ بن زمعہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی خروجِ ریح (یعنی ہوا خارج ہونے ) پر ہنسے۔ (صحیح بخاری: رقم 5609)
جب ہوا اپنے مقام سے خارج ہوتی ہے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ بعض دفعہ ہوا کا خروج آواز کے ساتھ ہوتا ہے، اور بعض مرتبہ بغیر آواز کے۔ اگر آواز کے ساتھ ہوجائے تو بندے کا اس میں اختیار نہیں۔ اس پر اگر کوئی ہنسے گا تو اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہے۔ اس پر ہنسنا شدید منع ہے۔
حضرت عبداللہ بن زمعہ سے دوسری روایت میں ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے ہوا خارج ہونے پر نصیحت کی اور فرمایا کہ تم کیوں اس پر ہنستے ہو؟ (مشکاۃ: رقم 3242)
اسی حدیث کی شرح میں ملا علی قاری نے حدیث جابر نقل کی ہے۔ اس میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے خروجِ ریح کی آواز پر ہنسنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت لوط کی قوم پر دردناک عذاب آیا۔ حضرت جبرائیل اپنا پَر اُن کی بستی کے ساتوں زمین کے نیچے لے گئے اور انہیں اٹھایا یہاں تک پہلے آسمان والے فرشتوں نے اُن کے مرغوں اور کتوں کی آواز سنی۔ اور پھر وہاں سے اُنہیں اُلٹا کر دیا۔ جو زمین کے نیچے والا حصہ تھا وہ اوپر آگیا اور اُوپر والا نیچے آگیا۔ پیچھے سے پتھر بھی مارے گئے۔ ان کے ساتھ عذاب کا یہ معاملہ ان کے کچھ ایسے ہی گناہوں کی وجہ سے تھا۔ علماء نے لکھا ہے کہ اُن کے جتنے بھی گناہ تھے وہ سارے کے سارے انتہائی قبیح اور بُرے ہیں۔ اگر کوئی انسان کرتا ہے تو وہ ان کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے، اور اللہ کو ناراض کرنے والے کام کرتا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
(۱) وہ اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر زور زور سے ریح خارج کر ہنستے تھے۔
(۲) کبوتروں سے کھیلنا یعنی کبوتر بازی ان کی عادت تھی۔
(۳) راستے میں بیٹھ کر سیٹیاں بجاتے تھے۔
(۴) راہ چلتے مسافروں کو کنکریاں اور ڈھیلے مارتے تھے۔
(۵) انگلیوں کو چٹخاتے تھے۔ بعض دفعہ دیکھا گیا کہ لوگ مسجد میں بیٹھ کر ایسا کر رہے ہیں۔ یہ تو مسجد سے باہر بھی مکروہ ہے تو مسجد کے اندر تو اور زیادہ اس کی کراہت ہے۔
(۶) ان کے مرد رنگین کپڑے پہن کر عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کیا کرتے تھے۔ اور قمیص کا اگلا بٹن کھلا رکھتے تھے۔
(۷) مردوں کی مردوں کے ساتھ بدفعلی اتنا قبیح گناہ ہےجس کی بنیاد اس قوم نے رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ ان سے پہلے یہ کسی نے نہیں کیا۔
بہرحال ہوا خارج ہونے پر ہنسنے سے بچا جائے۔
نماز یکسوئی سے ادا کی جائے:
کبھی نماز کے وقت بشریت کی وجہ سے پیشاب، پاخانہ کی حاجت ہو جاتی ہے۔ شریعتِ مطہرہ کی تعلیم یہ ہے کہ جب ایسا موقع ہو اور نماز میں توجہ کے بٹنے کا اندیشہ ہو تو پہلے قضائے حاجت کر لے، تسلی سے فراغت حاصل کر لے پھر نماز پڑھے۔ اس کے لیے بہترین ترتیب یہی ہے کہ اذان سے پہلے ہی نماز کی تیاری شروع کر دے تاکہ نماز میں مسئلہ نہ ہو۔
قضائے حاجت کے لیے جگہ کا دوسروں کی نظر سے چھپا ہونا نہایت ضروری ہے۔ یہ دین حیا والا ہے۔ بے ستری جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں دو معجزے نبی کریمﷺ کے بیان کرتے ہیں تاکہ حیا کا اندازہ ہو سکے۔
پہلا معجزۂ رسولﷺ:
مسلم شریف میں ایک طویل قصہ کتاب الزہد میں بروایت حضرت جابر بن عبداللہi نقل کیا ہے۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ نبی کریمa کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ایک وادی میں ہم نے پڑائو ڈالا۔ نبی کری قضائے حاجت کے لیے جانے لگے تو میں ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پیچھے (چھپ کر) چلنے لگا۔ (مقصد یہ تھا کہ جہاں رسول اللہﷺ کو ضرورت ہوگی، آپﷺ کو پانی کا برتن پیش کردوں گا۔ انتہائی محبت اور ادب کی بات ہے) نبی کریم نے پردے والی جگہ تلاش کی، لیکن کوئی جگہ نظر نہ آئی۔ البتہ وادی کے کنارے پر دیکھا کہ دو درخت ہیں۔ آپ ایک درخت کے پاس تشریف لے گئے اور اس کی ایک ٹہنی کو پکڑ کر کہا کہ اللہ کے حکم سے میرے ساتھ چل۔ وہ آپ کے پیچھے پیچھے ایسے آنے لگی جیسے کوئی اونٹ والا نکیل ڈال کر اونٹ کو چلاتا ہے۔ پھر آپ دوسرے درخت کے پاس تشریف لے گئے اور اس کی ٹہنی پکڑ کر بھی یہی بات ارشاد فرمائی، وہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے آنے لگی یہاںتک کہ آپ دونوں درختوں کے درمیان والی جگہ پر آگئے۔ پھر آپ نے ان دونوں ٹہنیوں سے فرمایا: دونوں ایک دوسرے سے مل جائو۔ اللہ کی شان کہ دونوں جڑ گئیں، مل گئیں اور پردہ ہوگیا۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ دیکھ کر میں ڈر گیا اور وہاں سے ہٹ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نبی کریم کو معلوم ہو جائے اور پھر آپﷺ مجھے وہاں سے ہٹا دیں۔ تھوڑے وقت کے بعد خود ہی رسول اللہﷺ میرے قریب آگئے، میں نے دیکھا کہ دونوں درختوں کی ٹہنیاں اپنی اپنی جگہ واپس چلی گئیں۔ آگے حدیث اور بھی ہے۔
(صحیح مسلم: رقم 3014)
دوسرا معجزۂ رسولﷺ:
حضرت اُسامہ بن زید کہتے ہیں کہ نبی کریم نے ایک سفر کے موقع پر مجھ سے فرمایا کہ دیکھو! کوئی جگہ قضائے حاجت کے لیے پردے والی ہے؟ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یہاں تو کوئی ایسی جگہ نہیں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اچھا ! تمہیں کھجور کے درخت، اور پتھر نظر آتے ہیں؟ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: جی! کھجور کے درختوں کو قریب قریب دیکھ رہا ہوں۔ نبی کریم نے مجھ سے فرمایا کہ ان درختوں کے پاس جائو اور ان سے کہو کہ رسول اللہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم سب میرے پاس ادھر آئو۔ اور پتھروں سے بھی کہو کہ یہ بھی آجائیں۔ فرماتے ہیں کہ میں آیا اور میں نے درختوں اور پتھروں کو رسول اللہﷺ کا فرمان سنا دیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کےساتھ مبعوث کیا ہے! میں ان درختوں کو دیکھ رہا تھا کہ راستہ بناتے ہوئے جمع ہوگئے، اور پتھر جو الگ الگ تھے قریب ہو گئے اور چٹان کی مانند درختوں کے پیچھے ہو گئے۔ نبی کریم نے اپنی ضرورت کو پورا فرمایا اور واپس آئے اور مجھ سے کہا کہ ان سب سے کہہ دو کہ واپس اپنی اپنی جگہ چلے جائو۔ میں نے آکر کہا اور یہ سب اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے۔
(الشفاء للقاضی عیاض: فصل سادس عشر)
بیت الخلاء میں وضو کرنا:
ہمارے ہاں عام طور سے وضو بیت الخلاء کے اندر کیا جاتا ہے۔ اگر وضو بیت الخلاء میں کرنا ہے تو وضو کی مسنون دعائیں بیت الخلاء سے باہر پڑھ کر جائیں۔ اسی طرح غسل کے لیے بھی وہی جگہ ہے تو پہلے جگہ کو پاک کریں، پھر وہاں غسل کریں۔ بہتر یہ ہے کہ جہاں غسل اور قضائے حاجت کے لیے ایک ہی جگہ ہو تو درمیان میں ایک دیوار 2،3 فٹ کی بنا لی جائے تاکہ تقسیم ہوجائے۔ یہ بہتر ہے اور شریعت کے زیادہ قریب ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان آداب کی سمجھ عطا فرمائے، اور ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں