160

کیا حافظہ لڑکی تراویح میں صرف عورتوں کی امامت کر سکتی ہے؟

سوال:کیا ایک حافظہ لڑکی اگر قرآن کریم کی حفاظت کے لئے نماز تراویح میں مکمل قران سنانا چاہے تو کیا گھر میں عورتوں کی جماعت بناکر تراویح پڑھاسکتی ہے ؟ قرآن و حدیث کے روشنی میں اس کی وضاحت کردیں۔
بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1179-763/H=9/1433 تنہا عورتوں کی جماعت کہ جس میں امام بھی عورت ہی ہو ناجائز ہے، خواہ یہ جماعت تراویح کی ہی ہو تب بھی مکروہ تحریمی ہے، فتاوی شامی وغیرہ میں صراحت ہے۔ رہا حفاظت کا معاملہ تو وہ تراویح میں امامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ سال بھر تلاوت کا اہتمام کرنا، گھر میں والد بھائی بہن والدہ کو سنانا بچیوں کو پڑھاتے رہنا، نوافل وافرائض میں طویل طویل قرأت کرتے رہنا وغیرہ امور کو اختیار کرنے سے ان شاء اللہ پوری طرح محفوظ رہے گا، اور بے شمار برکات کا موجب ہوگا۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں