130

لباس کی سنتیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَکَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِo بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِo
وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ (الاعراف:26)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo۔ وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

لباس سے متعلق سنتیں:
الحمدللہ! گلدستہ سنت کےبیانات میں اب ہمارا موضوع پہنچ رہا ہے لباس کے متعلقکہ اگر ہمارا لباس بھی سنت کے مطابق ہوجاتے تو یقیناً ہمارے لیے رحمتوں کا لباس بھی اگر ہمارا نبی کریمﷺ کے لباس کے مطابق ہوجائے تو یقیناً ہمارے لیے رحمتوں کا ذریعہ بنےگا۔ حدیث مبارک میں آتا ہے کہ
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ
’’جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرلیتا ہے اُس کا معاملہ اسی کے ساتھ ہوگا‘‘۔
قیامت کے دن اس کا معاملہ اسی کے ساتھ ہوگا۔ تو اگر ہم نبی کریمﷺ کے مبارک لباس اور صحابیات کے لباس، صحابہ کرام کے لباس کو اپنائیں گے تو یقیناً اس وجہ سے اللہ رب العزت ہمارے اوپر اپنی رحمت نازل فرمادیں گے۔
جادو گروں کے ایمان لانے کا واقعہ:
اس سلسلہ میں پہلے ایک واقعہ سن لیجیے! اُس کے بعد لباس کے متعلق بات شروع ہوگی۔
ہم سب کے علم میں ہے کہ موسیٰ کا مقابلہ ہوا جادو گروں سے۔ جادو گر فرعون کے تھے اور کافر تھے۔ جادو گر ویسے ہی غلیظ اور پلید قسم کے لوگ ہوتے ہیں، پاکی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ تو ہوا کیا کہ مقابلہ شروع ہوااور انہوں نے موسیٰ کے سامنے اپنی لاٹھیاں پھینکیں۔ جب موسیٰ نے اللہ کے حکم سے عصا پھینکا تو وہ مقابلہ جیت گئے۔ اس کےبعد رزلٹ (Result) کیا نکلا کہ سارے کے سارے جادو گر مسلمان ہوگئے۔ اب ذرا غور کرنےکی بات ہے! جادو گر جتنےبھی تھے ہزاروں کی تعداد تھی، 10 ہزار یا جو بھی تھے جتنےبھی تھے، سارے کے سارے مسلمان ہوگئے ایک بھی کافر نہ رہا۔ غور کرنا ہو گا! اس بات میں سارے جادوگر مسلمان ہوگئے، فرعون اور اس کی فوج اور اس کی قوم جو قبطی تھی وہ سارے موجود تھے، ان میں سےایک بھی مسلمان نہ ہوا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ پہلی بات تو یہ کہ اللہ کی مرضی، اللہ جسے چاہے ہدایت دے، لیکن علماء ومفسرین نے اس کے اندر ایک عجیب نکتہ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے حضرت موسیٰd کا معجزہ دیکھا جو کہ منجانب اللہ تھا تو حجت بازی نہیں سرتسلیم خم کیا اور سوچنے لگے کہ انسان تو یہ ہماری طرح کا ہے مگر یہ کوئی انسانی فن نہیں ہے۔ اگر یہ انسانی فن یا انسانی کمال ہوتا تو یہ کبھی ہم پر غالب نہ آتا۔ تو جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نشانی کے آگے سر جھکایا اور بغیر چوں چرا کے حق کا اعتراف کرلیا تو اس کے بعد اللہ نے اپنی رحمت سے ہدایت دینے کا فیصلہ کیا۔
رحمتِ الٰہی اور حبِ رسول کے حصول کا طریقہ:
اگر میرا اور آپ کا لباس نبی کی محبت میں ہوگا اور اسے ہم اپنائیں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی مزید رحمتیں ہمیں مل جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان عطا فرمادیا یہ اللہ کا انعام لیکن اگر ہم مزید نبی کی سنّتوں کو اپنی زندگی میں لے کر آئیں گے، اپنی اولاد کی زندگی میں لائیں گے، گھر والوں کی زندگی میں لانے کی کوشش کریں گے تو ایک تو نبی کریمﷺ کی محبت بڑھے گی اور دوسرا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
آپﷺکی پسند کُرتا:
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی پاکﷺ کو تمام لباسوں میں سب سے زیادہ پسندکُرتا تھا۔ (شمائل ترمذی صفحہ 5)
کُرتا آپﷺ کو بہت پسند تھا۔
محدثین نے لکھا ہے کہ کُرتا پہننا بہتر اس لیے ہے اور آپﷺ کے پسندیدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ستر پوشی زیادہ ہے۔ یہ جسم کے اعضا کو ڈھانپ لیتا ہے کیونکہ کھلا بھی ہوتا ہے، سلا ہوا بھی ہوتا ہے۔ ٹائٹ (Tite) نہیں ہوتا تو اعضا کا اُبھار بھی نظر نہیں آتااور پورے جسم کو صحیح طرح سے Coverکرلیتا ہے۔ جسم کے اعضا کو چھپانے والا ہوتا ہے، بے ستری کا احتمال نہیں رہتا۔ بخلاف چادر وغیرہ کے کہ انسان اس کو باندھ کر جسم پر اُوڑھ بھی لے تو کہیں نہ کہیں چلتے پھرتے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، پریشانی ہوتی ہے۔ ملا علی قاری نے بھی یہی لکھا ہے کہ کُرتازیادہ ستر چھپانے والا ہوتا ہے، بدن پر ہلکا ہوتا ہے اور اس کے پہننے میں تواضع اور عاجزی ہے۔
(جمع الوسائل جلد1صفحہ107)
اس کے بالمقابل کفار کا لباس پہننے میں تو بے ستری ہی ہے۔ علماء نےلکھا ہے کہ کُرتے کے اندر عاجزی زیادہ ہے اور اس میں زینت بھی ہوجاتی ہے۔
(شمائل کبریٰ جلد1صفحہ 165)
سوتی کُرتا بھی سنت ہے:
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرمﷺ جب دنیا سے تشریف لے گئے تو آپﷺ کے پاس سوتی کُرتا تھا۔ (ابویعلیٰ، سیرت جلد7صفحہ 148)
سوت کے بارے میں مفتی حضرات سے معلوم کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سوت غالباً کھّدر کو کہتےہیں۔ کھّدر سوت کے زیادہ قریب ہے۔ سید حسین احمد مدنی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری یہ دونوں حضرات سوتی کپڑے کا مستقل استعمال رکھتے تھے، حتیٰ کہ ٹوپی بھی سوتی کپڑے کی بناتے تھے۔ کھدر کے متعلق تو علماء کا گمان یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو کھدر ہے یہ سوت کے قریب ترین ہے، باقی اللہ بہتر جانتےہیں۔ اور محدثین نے بھی لکھا ہے کہ آپﷺ کا کُرتا سوتی ہوا کرتا تھا اور بکثرت نبی سوتی کپڑے کو استعمال فرماتے تھے۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ 165)
حضرت انس فرماتے ہیں کہ مرضِ وفات میں آپﷺ حضرت اُسامہ کے سہارے جب تشریف لائے تو سوتی کپڑا زیب تن تھا۔ اور محمد بن سیرین سے منقول ہے کہ آپﷺ نے کتان اور سوتی کپڑا پہنا تھا۔ (بخاری)
حضرت انس کی ایک اور روایت ہے کہ آپﷺ کے پاس قبطی قمیض جو بہت لمبی نہ تھی (لمبی سے مراد ٹخنوں کو کور (Cover) نہیں کرتی تھی، گھٹنوں سے نیچے تھی لیکن ٹخنوں سے اوپر تھی۔ آپﷺ کے پاس جو قمیض تھی وہ اتنی لمبی نہ تھی کہ ٹخنے ہی ڈھانک لیتی) اس کی جو آستین تھی وہ تنگ تھی۔ قبطی سفید باریک کتان جو مصر سے بن کر آتا تھا۔
(سیرت جلد7صفحہ 464)
اکثر وبیشتر نبی سوت کے بنے ہوئے کپڑوں کو استعمال کرتے تھے اور کبھی کبھی آپﷺنے کتان کو استعمال فرمایا، اور صوف کو بھی جو اُون کا بنا ہوا تھا اس کو استعمال فرمایا۔ (زاد المعاد جلد1صفحہ 52)
یہ جو لفظ صوفی ہے، یہ صوف سے نکلا ہے، اُون کے لباس سے اس کا تعلق بنتا ہے۔
کُرتے میں مسنون لمبائی:
اب کرتے کی لمبائی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ عبداللہ بن عباس  فرماتے ہیں کہ نبی پاکﷺ کا کُرتا نہ زیادہ لمبا ہوتا تھا، نہ ہی اس کی آستین زیادہ لمبی ہوتی تھی۔ ( شمائل ترمذی، ابن ماجہ جلد 2صفحہ 294)
اور حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ آپﷺ نے جو کُرتا زیب تن فرمایا تھا وہ ٹخنوں سے اوپر تھا۔ علامہ قسطلانی نے بیان کیا ہے کہ آپﷺ کے کُرتے کی لمبائی، چادر کی نصف ساق (آدھی پنڈلی)تک ہوتی تھی۔ (شرح مواہب جلد5 صفحہ 5)
نبی کا کُرتا آدھی پنڈلی تک ہوتا تھایعنی گھنٹوں سے نیچے اور ٹخنوں سے اوپر۔
آستین میں مسنون لمبائی:
صحابہ کو نبی سے کتنی محبت تھی۔ ایک ایک چیز کو نوٹ کیا۔ اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمیں کتنی نبی سے محبت ہے؟ یہ معلوم ہوگا عمل سے۔ حضرت اسماء بیان کرتی ہیں کہ آپﷺ کے کُرتے کی آستین وہ گٹّوں تک ہوتی تھی۔
(ابو داؤد، ترمذی، سیرت جلد7صفحہ 463)
اُم سلمہ کی روایت ہے کہ آپﷺ کی آستین گٹّوں تک ہوتی تھی۔ حضرت عبداللہ ابن عباس سے منقول ہے کہ آستین کی لمبائی گٹّوں تک ہوتی تھی۔ اور بھی کئی صحابہ نے اسی بات کو بیان فرمایا ہے۔ (مسند بزار صفحہ124)
البتہ حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ کی آستین انگلیوں تک ہوتی تھی اور ملا علی قاری نے علامہ جزریm کا قول نقل کیا ہے کہ کُرتے کی آستین کی لمبائی میں سنت یہ ہے کہ گٹّوں تک رہے۔ تو کُرتے کی سنت کیا ہوئی؟ گٹّوں تک ہونی چاہیے! تھوڑا سا اور بڑا کردیں ہتھیلی بھی شامل ہوجائے تو بھی گنجائش ہے، لیکن (Half Sleev) کی نبی کے دین میں کوئی گنجائش نہیں۔ اسی طرح جبہ ہوتا ہے، چوغا وغیرہ ہوتا ہے تو تھوڑا سا آگے بھی ہوجائے یعنی گٹّوں سے آگے، انگلیوں تک پہنچ جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ ابن القیمm نے زاد المعاد میں لکھا ہے کہ آپ آستین گٹّوں تک پہنتے تھے۔ ہاں! جب آپﷺ سفر میں ہوتے تو آپﷺ نے سفر میں تنگ آستین والا جبّہ وکرتا پہنا بھی ہے۔ (زاد المعاد جلد1صفحہ 51)
عام طور پر آپﷺ کا لباس کھلا ہوا، ڈھیلا ڈھالا ہوا کرتا تھا، لیکن سفر میں آپﷺ نے کبھی تنگ آستین والا لباس پہنا ہے۔ اس سے ہمارے زمانے کے پینٹ اور شرٹ کو قیاس نہیں کرنا چاہیے کہ جس میں ستر پوشی برائے نام بھی نہیں ہے تو آستین تنگ ہو حرج نہیں۔ البتہ انگلیوں سے آگے آستین کا ہونا درست نہیں، گٹوں تک رہے یہ سنت ہے۔ کوئی زیادہ کرنا چاہے جبہ اور چوغہ میں تو ہتھیلی تک لے آئے، لیکن انگلیاں پوری ڈھک جائیں یہ خلافِ سنت ہے۔ بیہقی میں حضرت علی سے روایت ہے کہ آستین انگلیوں سے زائد ہونے پر قینچی سے کاٹ دیتے تھے۔ یعنی اس کو چھوٹا کرلیا جاتا تھا۔ (جمع الوسائل صفحہ 109)
کُرتے کے گریبان کا بیان:
اب کُرتے کے اندر گریبان بھی ہوتا ہے۔ اللہ کرے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا نصیب ہوجائے۔
ہم دوسروں کے گریبانوں میں بڑا جھانکتے ہیں، اصل میں کیا ہے؟ جب ہماری نظریں سامنے ہوں گی تو اپنا گریبان نظر نہیں آئے گا دوسروں کا نظر آئے گا، نظروں کو اپنے سینے پر کرلیں، جھکالیں پھر دوسروں کا نظر نہیں آئے گا اپنا نظر آئے گا۔
آپﷺ کے کُرتے کا گریبان:
حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ میں قبیلہ مزینہ کے ساتھ مدینہ شریف نبی کے پاس آیا اور ہم نے نبی سے بیعت کی اور آپﷺ کی قمیض کا تکمہ کھلا ہوا تھا۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ 166)
قمیص میں جو بٹن لگا ہوتا ہے تو اس کو تکمہ کہا جاتا ہے، چنانچہ امام بخاری نے صحیح بخاری میں قمیص کا گریبان سینے پر ہو اس کا باب قائم کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ گریبان سینے کی طرف ہونا سنت ہے جیسا کہ عام معمول ہے۔ اس میں ہم سنت کی نیت بھی کرلیں تو مزید فائدہ ہوگا۔ رسول اکرمﷺ کی قمیص مبارک کا گریبان سینے کے مقام پر تھا۔
(عمدۃ القاری جلد21صفحہ 303)
اور یہی قمیص کی سنت ہے۔ ابن بطال نے کہا ہے کہ اسلاف کپڑوں کا گریبان سینے پر ہی رکھا کرتے تھے۔ (الحاوی للفتاویٰ صفحہ93)
اور سینے پر ہو تو کس طرف ہو؟ دائیں سائٹ پر ہو؟ بائیں سائٹ پر ہو؟ یا سینٹر (Center) میں ہو؟ علامہ عبدالحی نے لکھا ہے کہ آپﷺ کا گریبان بیچ میں ہوتا تھا، دائیں اور بائیں نہیں ہوتا تھا۔ (السعایہ صفحہ174)
اب بعض لوگ فیشن میں بٹن اُلٹے ہاتھ پر لگوالیتے ہیں، کبھی سیدھے ہاتھ پر لگوالیتے ہیں تو وہ فیشن والوں کا تو معاملہ ہوسکتا ہے، نبی کی سنت یہ ہے کہ گریبان درمیان میں ہو۔
کُرتے کے بٹنوں کا بیان:
حضرت عبداللہ بن عمرسے روایت ہے کہ آپﷺ نے ایک کُرتا بنوایا جو تکمہ دار گھنڈی والا تھا۔ (جمع صفحہ 111)
یعنی بٹن والا اور کُرتے کے گریبان میں بٹن لگوایا ہوا تھا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ سلمہ بن اکوعh فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گھنڈی لگاؤ خواہ کانٹے سے ہی سہی۔ (احمد، کنزالعمال جلد19صفحہ219)
جس کو آج ہم آسان شکل میں بٹن کی ایک کیفیت کہہ سکتے ہیں، جو گھنڈی ہوتی ہے بس گول سا کپڑے سے بنالیں۔
سمجھنے کی بات:
اس حدیث مبارک میں حکم کیا دیا گیا کہ سینے کو بٹن لگا کر مستور رکھو، چھپا کر رکھو، کھلا نہ رکھو۔ سینہ کھول کر نہ رکھو۔ اپنے سینے کی نمائش نہ کرو۔ سینے کو بند رکھو۔ جب یہ مردوں کو حکم ہے تو عورتوں کو کیسے حکم ہوسکتا ہے کہ وہ کھلے سینے والا لباس استعمال کریں۔
صحابہ کی حضورﷺ سے محبت کا انداز:
زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر کا جو بٹن تھا قمیص کا وہ کھلا ہوا دیکھا تو میں نے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ (بزار)
ایک اور صحابی معاویہ بن مرۃ جن کی ابھی بات گزری انہوں نے اپنے والد سے بیان کیا کہ قبیلہ مزینہ کے لوگوں کے ساتھ جب بیعت کی تو آپﷺ کے کُرتے کے بٹن کو میں نے اُس وقت کھلا ہوا دیکھا تھا، اور اس وقت انہوں نے نبیd کی مہر نبوت کا بوسہ بھی لیا تھا۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ جلد2صفحہ 295)
محدث بیہقی نے لکھا ہے کہ اس کے راوی عروہ نے کہا کہ میں نے معاویہ جو اس حدیث کے ذکر کرنے والے ہیں، ان کو ہمیشہ گھنڈی نہ لگی ہوئی قمیص میں پایا، خواہ گرمی ہو یا سردی۔ (آداب بیہقی صفحہ 352)
یعنی انہوں نے جب نبی کی زیارت کی اُس موقع پر نبی نے جو کُرتا پہنا ہوا تھا، بٹن اوپر تھا تو بٹن کھلا ہوا تھا۔ انہوں نے آقاﷺ کو جب اس ہیئت میں دیکھا تو زندگی بھر انہوں نے بٹن تو بنوایا لیکن اتباع سنت کی وجہ سے بٹن کو بند نہیں کرتے تھےچاہے گرمی ہو یا سردی، یہ محبت کی علامت ہوتی ہے۔ لیکن یہ وہ صحابی ہیں جن کا زندگی بھر نبی کا ساتھ نہ رہا۔ کچھ عرصہ کے لیے محدود وقت کے لیے تھا، تو جو انہوں نے دیکھا اُس پر عمل کرتے رہے۔
کپڑے پہننے کا مسنون طریقہ:
اس کا سنت طریقہ کیا ہے؟ پہننا تو روز ہی ہے، اگر ہم سنت کے مطابق پہن لیں گے تو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اکرمﷺ کُرتا زیب تن فرماتے تو دائیں طرف کو پہلے پہنتے۔ (مشکوٰۃ صفحہ 374،ترمذی، نسائی)
کُرتا پہنتے تو پہلے دائیں آستین میں ہاتھ ڈال کر ہاتھ نکال لیتے، اس کے بعد بائیں آستین میں ڈالتے۔ تو جتنے بھی لباس ہیں تمام لباس کو پہننے کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ دائیں طرف سے پہنا جائے۔ عورت کپڑے پہنے، برقعہ پہنے، مرد سویٹر پہنے، جیکٹ پہنے، کچھ بھی پہنے، پہننے میں ابتدا سیدھی طرف سے کرے اور اتباع سنت کی نیت کرے۔ اور جب اُتارنے لگے تو اس کے خلاف کرلے یعنی اُلٹی طرف کو پہلے اُتارلے، تو ان دونوں عمل میں سنت کا ثواب مل جائے گا۔ کُرتے کے بعد ایک چیز ہے جبہ یہ بھی سنت ہے۔
جبّہ پہننے کی بھی سنت:
حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ آپﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپﷺ پر صوف یعنی اُونی جبہ تھا، جس کی آستین چھوٹی تھی، اور آپﷺ نے اُسی جبہ میں ہمیں نماز پڑھائی۔ (ابن ماجہ جلد2صفحہ292)
آستین چھوٹی ہونے سے مراد گٹوں تک ہونا ہے، ہتھیلی اس میں ڈھکی نہیں ہوتی۔ حضرت دحیہ کلبی نے آپﷺ کو ملک شام کا ایک جبہ ہدیہ کیا۔ (سیرت جلد7صفحہ 467)
حضرت عمر فاروق کی روایت ہے کہ میں نے آپﷺ کو روم کا جبہ پہنے ہوئے دیکھا۔ (مسند ابو یعلیٰ)
حضورﷺ کی سخاوت:
حضرت سہل بن سعد کی روایت میں ہے کہ آپﷺ کا ایک اُونی جبہ تھا۔ صوف کا جبہ (جسے عرب کے بدو پہنا کرتے تھے) وہ آپﷺ زیب تن فرماتے تھے۔ آپﷺ کو یہ بڑا اچھا معلوم ہوا اور اس کے اوپر ہاتھ پھیر کر فرمانے لگے: دیکھو! کتنا اچھا ہے۔ ایک بدو بھی اس مجلس میں موجود تھا، اُس نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ مجھے دے دیجیے! تو نبی نے اُس جبہ کو اُتارا اور اُس مانگنے والے کو دیدیا۔
(سیرت جلد7صفحہ469)
آپﷺ کا سفری لباس:
علامہ ابن قیم اور حافظ ابن حجر نے لکھا ہے آپﷺ سفر میں چھوٹا تنگ آستین والا جبہ پہنتے تھے۔ (زادلمعاد جلد1صفحہ51،فتح الباری جلد 10صفحہ268)
مدارج نبوۃ میں ہے کہ سفر کی حالت میں آپﷺ تنگ آستین والا لباس پہنتے تھے۔ چنانچہ جہاد وغیرہ کے موقع پر جو جبہ آپﷺ نے پہنا ہے وہ ایسا ہی رہتا تھا سہولت اور آسانی کی وجہ سے، ورنہ اہل عرب عموماً جبہ کی آستین بہت لمبی رکھتے تھے۔
دھاری دھار لباس:
نبی کے بارے میں آتا ہے کہ آپﷺ نے سرخ لباس بھی پہنا لیکن وہ ایسا سرخ نہیں تھا۔ وہ دھاری دھار نقش ونگار حُلّہ تھا۔ (سیرت صفحہ467)
حضرت براء فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی سرخ جوڑے والے کو حضورﷺ سے زیادہ حسین نہیں دیکھا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ مردوں کے لیے اللہ کے نبیﷺ نے سُرخ لباس کو پسند نہیں فرمایا اور ایک صحابی سے یہ فرمایا کہ سُرخ چادر اپنے گھر کی عورتوں کو دے دو۔ ہم اس سُرخ لباس سے یہ نہ سمجھیں کہ بس! سُرخ لباس ثابت ہوگیا، یہ دھاری دھار منقش ہونے کی وجہ سے مائل بہ سُرخی تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نہ آئی ہو بعد میں جب وحی کے ذریعے بتلادیا گیا تو آپﷺ نے نہ خود پہنا اور نہ صحابہ کو پہننے کی اجازت دی۔ اُس وقت آپ کے بال مونڈھوں کے قریب آرہے تھے، یعنی سر کے بال کچھ بڑھے ہوئے تھے۔ (شمائل صفحہ6)
حُلّہ:
تہبند اور چادر کے مجموعے کو حُلّہ کہتے ہیں۔ حضرت انس بن کی روایت ہے کہ زازان بادشاہ نے آپﷺ کی خدمت اقدس میں ایک نہایت ہی قیمتی حُلّہ ہدیہ کیا تھا، جسے انہوں نے تینتیس اُونٹ دے کر خریدا تھا اور آپﷺ نے اس کو قبول کیا تھا۔ یہ بہت قیمتی جوڑا تھا اور آپﷺ موقع بموقع مثلاً وفود وغیرہ کے آنے یا جمعہ کے دن یا عیدین وغیرہ کے موقع اسے پہن لیا کرتے تھے۔ عام استعمال میں آپﷺ کا لباس سادہ ہوتا تھا۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ168)
فائدہ:
معلوم ہوا کہ قیمتی جوڑا پہننا منع نہیں ہے، لیکن اُس وقت جب دل پر اثر نہ کرے۔ جہاد کے موقع پر نبی نے ریشمی جبہ بھی استعمال فرمایا۔
(سیرت جلد7صفحہ467،ابن ابی شیبہ)
عام حالات میں مردوں کو منع ہے لیکن جہاد کے موقع پر نبی نے اس لیے پہنا کہ تلوار کا وار، دشمن کا وار اگر ہوا تو وہ ریشم کے اوپر سلپ (Slip) کر جائے، تو مقصد احتیاط تھا۔ ویسے عام طور سے مردوں کے لیے منع ہے۔
تبرک کے حصول کا ایک خاص طریقہ:
ایک جبہ حضرت عائشہ کے پاس تھا جو نبی کی وفات کے بعد بھی آپ کے پاس رہا اور آپ اس کو دھو دھو کر مریضوں کو پانی پلاتی تھیں۔
(مسلم، سیرت جلد7صفحہ467)
اس سے معلوم ہوا کہ جو بزرگوں کی استعمال شدہ چیزیں ہیں، تبرکاً ان کو رکھا جاسکتا ہے۔ اور ہمارے ائمہ مجتہدین امام شافعی، امالک ان حضرات سے بھی ثابت ہے کہ نیک اور بزرگ لوگوں کی استعمال شدہ چیزوں سے تبرک حاصل کیا جاسکتا ہے۔
نمستین:
حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نمستین یعنی (واسکٹ نما چمڑے کی جیکٹ) پہن کر نماز پڑھاتے تھے، اور آپﷺ کو پسند تھا کہ دباغت شدہ(یعنی پاک کی ہوئی) کھال کی نمستین میں نماز پڑھائیں۔
(ابن عساکر، سیرت جلد7صفحہ486)
اب یہ نمستین کیا ہوئی؟ سمجھنے کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جیسے آج کل ہم واسکوٹ پہن لیتے ہیں، جیکٹ سی پہن لیتے ہیں چھوٹی سی، اس کو نمستین کہا جاتا ہے۔ نمستین چمڑے کے بمثل صدری ایک لباس ہوتا ہے، آپﷺ نے اس کا بھی استعمال کیا ہے۔
(زاد المعاد جلد1صفحہ 151)
واسکوٹ پہننابھی اس کے قریب ترین ہیں، اگر چمڑے کی ہو تو زیادہ قریب ترین سنت کے ہوجائے گی۔
بُرنس کا بیان:
اسی طرح ایک لباس کہا گیا بُرنس۔ حضرت عاصم بن کلیم سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے یہاں حاضر ہوا تو میں نے آپﷺ کو بُرنس پہنے ہوئے دیکھا۔ ایک قسم کی بڑی ٹوپی جو جبہ سے ملی ہوئی ہوتی تھی اور سردی میں استعمال ہوتی تھی۔ (عمدۃ القاری جلد7صفحہ433)
بعض اوڑھنے والی چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ پہننے والی ٹوپی ان کے ساتھ ہی جڑی ہوتی ہے۔ سردیوں میں انسان ایسا لباس پہن لیتا ہے۔ تو یہ بھی سنت ہے۔
آپﷺ کی چادر:
اس کے علاوہ نبی کریمﷺ چادر کا بکثرت استعمال فرماتے تھے۔ نبی چادریں پہنتے تھے اور کثرت کے ساتھ پہنتے تھے اور مختلف موقعوں پر مختلف قسم کی منقش اور غیر منقش دونوں طرح کی آپﷺ سے ثابت ہیں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو یمن کی منقش چادریں کپڑوں میں بہت زیادہ پسندیدہ تھیں۔
(بخاری جلد2صفحہ865)
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کی تدفین دو عدد یمنی چادروں میں ہوئی تھی۔ اور وہ کیوں؟ اس لیے کہ وہ آپﷺ کی پسندیدہ تھیں۔ (بخاری جلد 2صفحہ 865)
عرب میں اُس زمانہ میں یمن کی چادریں بڑی مقبول تھیں۔ یہ سوتی ہوتی تھیں (یعنی کھدر کی ہوتی تھیں)۔ اور ان کے اوپر (بعض دفعہ) سبز یا لال (یا کسی) رنگ کی دھاریاں بھی بنی ہوتی تھیں۔ (عمدۃ القاری صفحہ 311)
عام طور سے آپﷺ کو رنگین چادریں زیادہ پسند تھیں کیونکہ اُن میں میل نمایاں نہیں ہوتی تھی۔ سفر میں چلتے پھرتے بہت جلدی میلی نہیں ہوتی تھیں۔ اور علماء نے منقش یمنی دھاری دھار چادر کو مستحب قرار دیا ہے۔ (جمع الوسائل صفحہ115)
اُونی چادر:
اس کے علاوہ اُونی چادر بھی نبی نے استعمال کی ہے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ کے پاس صوف یعنی اون کی چادر تھی جو چھ یا سات درہم میں خریدی گئی تھی، یعنی بہت ہلکی قیمت کی تھی۔ اس وقت سب سے ادنیٰ اور سب سے سستا لباس صوف کا ہوتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس ایک اُون کی چادر تھی جو سیاہ اور سفید تھی جو آپﷺ کے لیے بُنی گئی تھی، اور آپﷺ کے پاس کافی عرصہ رہی حتی کہ وفات تک رہی۔ (ترغیب صفحہ 108)
یعنی دو رنگوں والی چادر تھی۔
حضورﷺ کی اُمت سے شفقت:
نبی نے قیمتی کپڑا بھی پہنا اور عام کپڑا بھی پہنا۔ اُمت کے امیروں کے لیے بھی گنجائش رکھ دی، اور امت کے غریبوں کا بھی لحاظ رکھااور ان کا بھی دل رکھا۔
(جلد3صفحہ109)
صوف پہننا انبیاکی پسند:
ایک حدیث میں آتا ہے کہ عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضراتِ انبیاء کرامf صوف (موٹے اُون) کو پسند کیا کرتے تھے۔ (ترغیب جلد3صفحہ109)
اور حضرت عبداللہ بن مسعود سے ہی روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت موسیٰ نے جس دن اللہ تعالیٰ سے کلام فرمایا اُس دن آپ صوف کے لباس میں تھے۔ (ترغیب جلد3صفحہ109)
ایمان کی حلاوت:
اور حضرت ابو امامہ سے منقول ہے کہ تم صوف کا لباس پہنو، اپنے دلوں میں ایمان کی حلاوت محسوس کرو گے۔ (حاکم، کنز جلد19صفحہ219)
اسی لیے بہت سارے اللہ والے صوف کا لباس پہنتے تھے، تو وہ پھر صوفی کہلانے لگے۔ آج دنیا کہتی ہے کہ صوفی کا لفظ کہاں سے آگیا؟ تو جان لیں کہ صوفی کا لفظ تابعین سے چلا آرہا ہے، کوئی نئی چیز نہیں۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے کھردرا اور موٹے صوف کالباس پہنا۔ (ترغیب جلد3صفحہ108)
کِبر سے بچاؤ:
اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ آقاﷺ نے فرمایا کہ صوف کا لباس کِبر سے بچاتا ہے چونکہ اس سے غربت اور مسکنت نمایاں ہوتی ہے۔ (ترغیب جلد3صفحہ110)
بالوں سے بنی چادر:
اسی طرح کچھ چادریں بالوں والی ہوتی ہیں۔ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ ایک مرتبہ صبح کو مکان سے باہر تشریف لے گئے تو آپﷺ کے بدن پر سیاہ بالوں والی چادرتھی۔ (شمائل صفحہ6)
ممکن ہے کہ اُس میں سیاہ بال بھیڑ یا دنبہ وغیرہ کے ہوں جس کی وجہ سے سیاہ بال والی کہا گیا ورنہ عام طور سے صوف کی چادر ہی ہوتی تھی۔ (شمائل صفحہ6)
دھاری دار چادر:
ابو رمثہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کو دیکھا کہ وہ سبز دھاری دھار چادروں میں ملبوس تھے۔ (مسلم، ترمذی، ابوداؤد،شرح مواہب جلد5صفحہ15)
حضرت یعلیٰ بن امیہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرمﷺ کو دیکھا کہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اور سبز دھاری دھار چادر میں تھے جسے دائیں جانب سے نکال کر کندھے پر ڈال رکھا تھا۔ (ابو داؤد، زرقانی جلد5صفحہ151)
حضرت عامر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو مقام منیٰ میں خچر پر سوار خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور آپﷺ پر لال دھاری دھار چادر تھی اور حضرت علی آپ کی بات کو پہنچا رہے تھے اور لوگ زیادہ تھے۔ (سیرت الشامیہ جلد7صفحہ491)
آپﷺ بات فرمارہے تھے اور علی اُس بات کو سن کر آگے امت کو پہنچا رہے تھے۔ اُم الحصین فرماتی ہیں کہ میں نے حج کے موقع پر نبی کو دھاری دھار چادر میں دیکھا جسے آپﷺ نے بغل سے نکال کر لپیٹ رکھا تھا۔
(مسند، سیرت الشامی جلد7صفحہ426)
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ لال دھاری دھار چادر آپﷺ کے پاس تھی یہ بات ابھی گزرچکی ہے سُرخ دھاری دھار ہونے کا کیا مطلب ہے۔ پوری بات دوبارہ تو ذکر نہیں کرتے مگر اتنی بات یاد رکھیں کہ مکمل سُرخ لباس مردوں کے لیے صحیح نہیں ہے۔ یہ فسّاق کا طریقہ ہے۔ کپڑا سفید ہو اور اس میں کچھ مائل لکیریں ہوں تو حرج نہیں۔ جسے آپ عیدین اور جمعہ میں زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ (بیہقی، سیرت جلد7صفحہ491)
جھالر والی چادر:
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کو دھاری دھار چادر میں لپٹے ہوئے دیکھا، جس کے کنارے کی جھالر آپﷺ کے قدم مبارک پر تھی۔
(شمائل کبریٰ جلد1صفحہ171)
حضرت سلیم بن جابر فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ اُس وقت دھاری دھار چادر سے حبوہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اُس کے کنارے کی جھالر دونوں قدم مبارک پر تھی۔ (سیرت جلد7صفحہ479، ابوداؤد)
حبوہ کی وضاحت:
حبوہ ایک خاص کیفیت ہے کہ کپڑے کو اس طرح باندھ لیا جائے کہ بیٹھنے کے وقت پیٹھ اور ٹانگوں کو باندھ کر سہارا لینا ہو۔ آپ نے دیکھا ہوگا، اکثر جماعت میں ساتھی جاتے ہیں تو پیچھے ٹیک نہیں ہوتی اور اِتباع سنت کی نیت سے بھی کرتے ہیں تو وہ ایک ٹیک بن جاتی ہے کہ چادر کو خوب لپیٹا، ٹانگوں کو اوپر کیا اور چادر کو کمر اور ٹانگوں کو لے کر باندھ دیا۔ اور وہی چادر اُوڑھی بھی ہوتی ہے اور ٹانگوں کی طرف بھی آگئی تو یہ حبوہ کہتے ہیں۔سنت کی نیت سے ہم اس کو کرسکتے ہیں۔حدیث پاک میں ازار مہدب کا ذکر ہے۔ علامہ عینی نے بیان کیا کہ بسا اوقات چادر کے کناروں کے دھاگوں کو چھوڑ دیا جاتا جن کو بُنا نہیں جاتا تھا۔ سائیڈیں (Sides) چھوڑ دی جاتی تھی تو وہ دھاری نظر آجاتی تھی، تو کبھی دھاری کھلی ہوتی تھی اور کبھی اُس جھالر کی دھاریاں جو تھیں اس کو گرہ لگا کر بند کردیا جاتا تھا، تو آپﷺ نے دونوں طرح سے استعمال کیا ہے۔
(عمدۃ القاری جلد22صفحہ30،فتح الباری جلد10صفحہ265)
اور امام بخاریmنے اس کو صحیح بخاری میں نقل فرمایا ہے۔
آپﷺ کی پاکیزہ طبیعت:
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرمﷺ کے لیے کالے رنگ کی دھاری دھار چادر بنوائی کہ آپﷺ نے اس کو پہنا۔ جب آپﷺ کو پسینہ آیا تو گیلے ہونے کی وجہ سے اُس میں اُون کی بو (Smell) آنے لگی تو آپﷺ نے اسے تبدیل فرمادیا۔ (مشکوٰۃ صفحہ376)
آپﷺ کا پسینہ مبارک خوشبودار تھا لیکن اُس چادر کا جو مٹیریل (Material) تھا وہ ایسا تھا کہ وہ گیلا ہونے کے بعد اپنی بو دینے لگا اور اللہ کے نبیﷺ کے ساتھ ہر وقت فرشتے ہوتے تھے اس لیے کہ نبی نے اسے پسند نہیں فرمایا اور لباس تبدیل فرمالیا۔
چادر کا کنارہ سر پر ڈالنا:
چادر کے کنارے کو سر پر ڈال دینا اتباع سنت کی نیت سے تو یہ صحیح ہے۔ صحابہ کی محبت کو دیکھیں آپﷺ کی ایک ایک ادا کو محسوس کرتے تھے اورآئندہ آنے والی امت کو بتادی۔ بخاری شریف کے اندر یہ بات ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے چادر کا کنارہ اپنے سر کے اوپر ڈال دیا تھا۔ (بخاری جلد2صفحہ864)
یعنی سر پر الگ سے کپڑا رکھنے کے بجائے اوڑھی ہوئی چادر کا کنارہ ہی ڈال رکھا تھا۔ ویسے عام طور سے آپﷺ کی مبارک عادت یہ تھی کہ آپﷺ گرمی سے بچاؤ کے لیے (کیونکہ عرب میں گرمی بھی ہوتی تھی صحراء کا سفر بھی ہوتا تھا، تو گرمی سے بچاؤ کے لیے) آپ سر مبارک کے اوپر کپڑا ڈال لیا کرتے تھے۔ لیکن ایک موقع پر آپ نے اپنی پہنی ہوئی چادر کو ہی سر پر ڈال لیا۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ172)
آپﷺ کا سادہ چادر طلب فرمانا:
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ابو جہم نے ملکِ شام کی ایک منقش چادر نبی کو ہدیۃً پیش کی۔ آپ نے استعمال فرمائی۔ وہ اتنا زیادہ ڈیزائننگ والی تھی کہ آپﷺ نے بعد میں فرمایا کہ دیکھو! اس چادر کو واپس کردو۔ اس نے میرے ذہن کو منتشر کیا اپنی طرف متوجہ کیا۔ تو آپﷺ نے وہ چادر واپس کردی اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی بھجوایا کہ دیکھو! ابو جہم کے پاس ایک اور سادہ چادر بھی ہے (جس میں اتنی ڈیزائننگ نہیں) یہ اُسے دے دو۔ وہ اس سے میرے لیے لے آؤ۔ (بخاری جلد2صفحہ865)
تا کہ اُس کا دل بھی چھوٹا نہ ہو۔ تو لوگوں کے دل کا خیال رکھنا یہ بھی نبی کی مبارک عادت تھی۔
چادر کاتکیہ کےطور پر استعمال کرنا:
چادر کو سر کے پاس رکھنا یا چادر کا تکیہ بنانا یہ بھی سنت ہے۔
ابو ذر غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کی خدمت میں حاضر ہوا مکہ میں، تو آپﷺ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کا تکیہ بنائے ہوئے آرام فرمارہے تھے۔
(مسند حارث، سیرت جلد7صفحہ479)
اسی طرح حضرت خباب نے ذکر کیا کہ میں آپﷺ کے پاس آیا اور آپ کو کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر کا تکیہ بنائے آرام فرماتے دیکھا۔ (مسند حمیدی، سیرت جلد7صفحہ479)
اہم نکتہ:
اب کعبہ کے سائے کا ذکر آگیا تو ایک نکتہ نوٹ کرلیجیے! اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو بار بار حج وعمرہ کی توفیق عطا فرمائے اور لے جائے۔ آمین۔ بیت اللہ کے سائے میں انسان جب جائے تو اللہ سے عرش کے سائے کو بھی مانگ لے۔
باقی ان دونوں حدیثوں سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ کہ آپﷺ چادر سے ہی ٹیک لگانے کا کام لے لیا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جسے جو چیز میسر ہو انسان اس کے اوپر ہی صبر کرلے۔ ہر وقت تکیہ کا اہتمام اور ہر وقت ہر چیز پوری ہوجانا یہ ضروری نہیں۔ جو نعمت حاضر ہو، انسان صبر شکر کے ساتھ اس کو استعمال میں لے آئے۔
قابلِ اصلاح سوچ:
عورتیں اس بات کا بہت زیادہ خیال رکھیں کہ یہ لباس کے بارے میں زیادہ حسّاس ہوتی ہیں۔ ان کا دل کرتا ہے کہ ایسا لباس پہنیں جو کسی نے نہ پہنا ہوا ہو۔ اور ہر مجلس میں، ہر محفل میں نیا لباس پہنیں اور دوبارہ نہ پہنیں۔ ایک لباس یہ چند دفع پہن لیں تو دوبارہ پہننے میں ان کو شرم محسوس ہوتی ہے۔ کہتی ہیں کہ نہیں اب نیا چاہیے۔ اور اسی وجہ سے لوگوں کا کاروبار بھی چمک رہا ہے۔ جو سوٹ 2ہزار کا ہے وہ 5 ہزار کا بھی دے دیتے ہیں۔ کیا ہے جی؟ ڈیزائننگ ہے، جی یہ نیا ڈیزائن ہے، وہ نیا ڈیزائن ہے۔ تو فضول خرچی پر ہم جارہے ہیں اور نبی کی سنت کو ہم چھوڑ رہے ہیں۔ سادہ لباس جو ضرورت کو پورا کردے وہ کافی ہے۔
صحابیاتl کی سادگی:
بی بی عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک ایسا لباس تھا، ایک ایسی قمیص تھی جس میں مدینہ کی کتنی بچیوں کی شادیاں ہوگئیں وہ لے جاتی تھیں، اُس میں شادی ہوجاتی تھی اور پھر واپس آجاتا تھا۔
اس لیے اپنے لباس کے اندر سادگی کا بھی خیال رکھا جائے۔ اور ایسا لباس جو اپنی طرف متوجہ کردے اور جس سے اپنے دل کے اندر فخر محسوس ہو ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جوڈیزائن اتنا خوبصورت ہو کہ دھیان ڈیزائن کی طرف ہی رہے نماز میں بھی نہ رہے تو نماز میں خصوصاً اس کو استعمال کرنا ٹھیک نہیں۔
(مالک، بخاری، سیرت جلد7صفحہ480)
سفید چادر:
سفید چادر آپﷺ نے پہنی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ نبی صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اور سفید چادر میں ملبوس تھے۔ (سیرت جلد7صفحہ478)
ریشم ملی چادر کا حکم:
امی عائشہ فرماتی ہیں ہ بوقتِ وفات آپﷺ کے جسم اطہر پر خمیصہ چادر ڈال دی گئی تھی، جب جبنش محسوس ہوتی تو چہرے سے ہٹادی جاتی تھی۔ (بخاری جلد2صفحہ865)
خمیصہ کی تعریف:
علامہ عینی نے بیان کیا کہ خمیصہ وہ چادر ہے جس میں ریشم کی کوئی ڈیزائننگ سی ہوتی تھی، پٹیاں سی ہوتی تھیں۔ اس قسم کے لباس کو صحاب اور تابعین نے بھی استعمال کیا ہے۔ (عمدۃ القاری جلد22صفحہ3)
اور زاد المعاد میں لکھا ہے کہ آپﷺ نےمنقش خمیصہ اوڑھی ہے۔
(زاد المعاد جلد1صفحہ51)
کالی چادر اور کالا کمبل:
کالے رنگ کی چادر بھی نبی نے استعمال فرمائی ہے۔ نبی نے ایک مرتبہ نماز استسقا پڑھائی تو آپ کالی چادر پہنے ہوئے تھے۔ (سیرت صفحہ493)
اور حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرمﷺ سردی کے موسم میں جب صبح کے وقت باہر تشریف لاتے تو آپﷺ کے اوپر کالا کمبل ہوتا۔
(مدارج النبوۃ جلد6صفحہ129)
پیوند لگی چادر:
چادر اگر خراب ہوجائے رفو کروالیتے ہیں، تو یہ رفو کروانا پیوند لگانا یہ بھی آقاﷺ کی سنت ہے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ امی عائشہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھے نبی کی ایک پیوند لگی چادر دکھائی۔ (بخاری، ترغیب جلد3صفحہ108)
آج کل پیوند کو رفو کو ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ میری تو اس میں شرمندگی(Embarrassment) ہوگی۔ حالانکہ یہ سنت ہے۔
عمر فاروق جب بیت المقدس کی چابیاں لینے گئے تھے، تو آپ کے مبارک لباس کے اوپر 13پیوندلگے ہوئے تھے۔
چادر کے اوڑھنے کا ایک مسنون طریقہ:
علماء نے لکھا کہ چادر اس طرح اوڑھنا کہ اس کے دونوں کنارے دونوں کندھوں پر ڈال دیئے جائیں اور دونوں کنارے دونوں طرف نیچے کی جانب لٹک رہے ہوں، یہ ممنوع ہے، جیسے آج کل شادیوں میں یا غیر مسلموں کا طریقہ دیکھا گیا۔
نبی کا طریقہ کیا ہے؟ صحابہ کا طریقہ کیا ہے؟ یہ کہ دائیں طرف کی چادر کو بائیں کندھے پر ڈال لیا کرتے تھے۔ (مدارج)
چادر کی دائیں سائیڈ کو بائیں کندھے پر ڈال دیا کرتے تھے۔ یہ مسنون طریقہ ہے۔ جو آدمی چادر پہنے اس نیت سے پہنے کہ سنت طریقہ ہے، تو سنت کا ثواب بھی مل جائے گا۔
چادر اور ازار:
حضرت عمربن خطاب نے جو خطوط ذمہ داروں کے پاس (حکام کے پاس) بھیجے تھے۔ (اسلامی حکومت بہت بڑھ گئی تھی تو مختلف جگہ گورنر بنادئیے گئے تھے اپنے اپنے علاقوں کے۔ تو حضرت فاروق اعظم نے جب گورنروں کے نام خط لکھے، سب کے نام خطوط بھیجے) تو آپ نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ چادر اور ازار کا استعمال کرو۔ (فتح الباری)
مقامی اور غیرمقامی چادریں:
آپﷺ کے پاس سفید سبز دھاری دھار، لال دھاری دھار، سیاہ، زعفرانی، کالی، منقش مختلف قسم کی چادریں تھیں۔ ایک چادر بال والی بھی تھی، یمنی چادریں بھی آپﷺ نے استعمال فرمائیں۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ174)
یعنی ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہبیرون ملک سے ہدیۃً ملنے والی چادریں بھی استعمال فرمائیں اور مقامی بھی استعمال فرمائیں۔
آپﷺ کی ٹوپیاں:
چادر کے بعد معاملہ آجاتا ہے ٹوپی کا۔ ٹوپی کے بارے میں آتا ہے کہ نبی سفید رنگ کی ٹوپی پہنتے تھے۔ اور حضرت رکانہفرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان ٹوپی پر عمامہ کا فرق ہے۔
(ترمذی، ابو داؤد مشکوٰۃ صفحہ347)
اُس زمانہ میں مشرکین بھی عمامہ باندھتے تھے، پگڑی باندھتے تھے، لیکن وہ ڈائریکٹ سر کے اوپر باندھ لیتے تھے اور ٹوپی نہیں ہوتی تھی اس لیے نبی نے فرمایا کہ ہمارا اور یہودیوں کا اور مشرکین کا فرق یہ ہے کہ ہم پہلے ٹوپی پہنتے ہیںاور اس ٹوپی کے اوپر عمامہ باندھتے ہیں، اور وہ بغیر ٹوپی کے عمامہ باندھتے ہیں۔
سفید ٹوپی:
حضرت فرقدفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کے ساتھ کھانا کھایا اور آپﷺ کے سر مبارک کے اوپر سفید ٹوپی تھی۔ (ابن سکن ، سیرت جلد7 صفحہ447)
یعنی کبھی آپﷺ نے ایسا بھی کیا ہے کہ عمامہ نہ باندھا لیکن ٹوپی ضرور رہی، لیکن ایسا نہ ہو کہ ننگے سرچلا جائے، اس کو منع کیا گیا۔
حضرت عبداللہ بن عم سے روایت ہے کہ نبیﷺ سفید گول ٹوپی پہنا کرتے تھے۔ (طبرانی، مجمع جلد5صفحہ124)
کبھی آپﷺ صرف ٹوپی پہنے رہتے، کبھی ٹوپی کے اوپر عمامہ باندھ لیتے تو یہ دونوں طرح سے بات موجود ہے۔ آپﷺ کے پاس ایک سفید مصری ٹوپی، اور ایک سبز دھاری دھار ٹوپی بھی تھی۔ (سیرت جلد7صفحہ448)
صحابہ کی ٹوپی:
حضرت ابو کبشہ فرماتے ہیں کہ حضرات صحابہ کرام کی ٹوپی گول ہوتی تھی اور سر سے چپکی ہوئی ہوتی تھی۔ (مشکوٰۃ صفحہ374)
جتنا سائز (Size) سر کا ہوتا تھا اُس حساب سے مناسب ہوتی تھی۔
چمڑے کی ٹوپی:
حضرت عبداللہ ابن عباس کی روایت ہے کہ آپﷺ کے پاس چمڑے کی ایک ایسی ٹوپی تھی، جس میں سوراخ تھا۔ (سیرۃ الشامی جلد7صفحہ448)
سفید لباس:
اور ابوذر فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرمﷺ کی خدمت میں جب حاضر ہوا، تو میں نے آپﷺ کو سفید لباس میں ملبوس دیکھا۔ (بخاری جلد2صفحہ867)
بہترین لباس:
آپﷺ نے فرمایا کہ سفید لباس پہنا کرو۔ یہ تمہارا بہترین لباس ہے اور ایسے ہی کپڑوں میں مُردوں کو دفن کیا کرو۔ (ترمذی جلد1صفحہ118)
اور حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ سفید کپڑے پہنو، یہ زیادہ خوشگوار اور پاکیزہ ہوتے ہیں، اور انہی میں مردوں کی تدفین کرو۔ (شمائل ترمذی صفحہ6)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نبیکی ایک ایک سنت کو شوق اور محبت سے عمل میں لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اور آخر میں بات کو ختم کرنے کے لیے ایک اُصول سمجھانا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کی زندگی میں مقصد کوئی نہیں ہوتا، اُن کی زندگی میں اور جانوروں کی زندگی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ آپ دنیا میں دیکھتے ہیں کہ انسان پیدا ہوتا ہے، بچہ ہوتا ہے، جوان ہوتا ہے، بوڑھا ہوتا ہے حتیٰ کہ دنیا سے چلا جاتا ہے۔ کوئی آدمی ہمیشہ یہاں نہیں رہتا تو اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ دنیا اس کی منزل نہیں۔ یہ ایک مسافر ہے جو سفر طے کررہا ہے اور کوئی سفر بغیر مقصد کے نہیں ہوتا۔ اگر انسان کو زندگی میں اپنے مقصد کا پتا نہ ہو تو زندگی تو بے کار ہے۔ انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں، لیکن ہمیں مقصد کس نے بتایا؟ حضور پاکﷺ نے ہمیں دنیا میں آنے کا مقصد بتایا۔
پریشانیوں سے بچاؤ کا طریقہ:
آج دنیا کے اندر جرائم بھی ہوتے ہیں، گناہ بھی ہوتے ہیں، سب کچھ ہوتا ہے۔ تو انسان کو جرائم سے، ظلم وستم اور حق تلفیوں سے کون بچاسکتا ہے؟ یہ دین ہے جو بچا سکتا ہے، اور آخرت کا استحضار (یعنی سامنے ہونا) قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہونا اور زندگی کے حساب کا استحضار ہونا یہ چیز بچاسکتی ہے۔ آپ نے دیکھے ہوں گے CCTVکیمرے لگے ہوتے ہیں اور وہاں لکھا ہوتا ہے کہ کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے۔ یہ کیمرے کی آنکھ ہمیں گناہ سے نہیں بچا سکتی۔ ہمیں گناہ سے بچائے گی اللہ کی آنکھ۔ کیا مطلب؟ اللہ تعالیٰ کی آنکھ سے مراد کیا ہے؟ اللہ پاک کا دیکھنا جیسی ان کی شان ہے، جیسی ان کی صفت ہے، جیسے وہ ہیں، ہم نہیں جانتے۔ تو دیکھنے سے مراد کہ ہمیں یہ کیفیت پیدا ہوجائے اللہ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ جو کچھ میں کررہا ہوں یا میں کررہی ہوں، اللہ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ اور قیامت کے دن مجھے اس کا جواب دینا ہے جو جو میں نے کیا۔ جب یہ کیفیت پیدا ہوگی تو انسان جرائم سے رک جائے گا۔ آج دنیا کے فلسفی کہتے ہیں، لوگ بحث کرتے ہیں کہ جی دنیا میں جو جرائم ہیں اس کا سبب فقر اور افلاس (یعنی غربت) ہے۔ اور کچھ کہتے ہیں کہ تعلیم کی کمی ہے۔ تو فقر اور افلاس کی اگر بات کی جائے تو دنیا کے وہ ممالک جہاں بے شمار وسائل ہیں تو وہاں تو جرائم نہیں ہونے چاہییں تھے، وہاں جرائم اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جی تعلیم کی کمی کی وجہ سے جرائم ہوتے ہیں، تو تعلیم یافتہ ممالک جہاں %100 یافتہ لوگ ہیں، جرائم وہاں بھی ہوتے ہیں۔ کچھ بے چارے کہتے ہیں کہ پردہ ترقی کے اندر رُکاوٹ ہے۔ ایک اسی طرح کا آدمی حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے پاس آیا کہنے لگا: حضرت! یہ جو مسلمان پردہ کرتے ہیں، اس لیے ان کی ترقی نہیں ہوتی۔ تو حضرت نے جواب دیا کہ دنیا میں جتنی بھی بے پردہ قومیں ہیں، کیا ساری ترقی یافتہ ہوگئی ہیں؟ تو وہ چپ ہوگیا۔ تو اصل چیز کیا ہے؟ نبی کی زندگی پر عمل کرنا۔ جب ہم نبی کے طور طریقوں کو سیکھیں گے، اپنائیں گے تو حقوق کی ادائیگی میں ہمیں آسانی ملے گی۔ اور ایک ایک چیز کو جو ہم نبی کے طریقہ پر اپنائیں گے تو ہماری زندگی پر امن ہوجائے گی اور ہمارا دل پُرسکون ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کی سچی محبت عطا فرمائے، اُسوہ حسنہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں