61

لباس کے شرعی احکامات

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِoبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِo
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

الحمدللہ! سنتوں کا بیان چل رہا ہے۔ غذا کے بارے میں تفصیل سے بات ہوئی، اس کے بعد لباس کے بارے میں ابھی موضوع چل رہا ہے۔ بس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ ان سب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت کے دن رسول اللہﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے اور اپنا قُرب عطا فرمائے ۔آمین
تھوڑی دیر کا کام ہمیشہ کا انعام:
دنیا کے اندر تھوڑی سی زندگی میں جو انسان نبی کریمﷺ کے طریقوں کو اختیار کرے گا، اللہ کے دین کو اختیار کرے گا وہ قیامت کے دن کامیاب ہوجائے گا۔ یہ دنیا عارضی جگہ ہے رہنےکی جگہ ہی نہیں ختم ہوجانی ہے۔ اس مثال سےبات کو سمجھیں کہ کوئی گورنمنٹ کسی کالونی کا افتتاح کردے اور یہ اعلان کردے کہ کالونی ہم نے بنائی ہے، رہائش گاہیں بہت اچھی ہیں، یہاں پر رہنے والوں کو بجلی فری ملے گی، تمام سہولیات ملیں گی، لیکن کسی بھی وقت اچانک اس کو بم سے اُڑا دیا جائے گا یا اس کو بلڈوز ر سے ختم کردیا جائے گا۔ تو ہم میں سے کوئی بھی اس جگہ جا کر پلاٹ نہیں خریدے گا۔ گھر نہیں خریدے گا بالکل ایسی ہی مثال دنیا کی ہے کہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے بنایا اور بتادیا کہ دیکھو! یہ مٹی اور گارے کی بنی ہوئی ہے آخرت سونے اور چاندی کی بنی ہوئی ہے، تم اس مٹی گارے کو میرے کہنے کے مطابق استعمال کرلینا میں آخرت کا سونا چاندی تمہارے قدموں میں ڈال دوں گا۔
میرے بندو! تم دنیا کی زندگی کو میرے کہنے پر، میرے نبیﷺ کے طریقے پر گزار لینا میں آخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی میں تمہاری تمام خواہشات کو پورا کردوں گا۔ میرے بندو! یہ ایک ڈیل (Deal) ہے، تم میرے بن جاؤ، وہاں تمہاری ہر بات چلے گی۔ وہاں تمہیں ایک سلطنت عطا کردی جائے گی۔ تو بھئی! جو انسان دنیا میں اللہ کےاحکامات کو پورا کرے،رسول اللہﷺ کے طریقوں کو پورا کرے وہ یقیناً کامیاب ہوگا۔
ایمان کی علامت:
ابو داؤد شریف میں آتا ہے کہ حضرت ایاس فرماتے ہیں کہ اصحابِ رسولﷺ میں سے ایک صاحب نے آپﷺ کے سامنے دنیا کا تذکرہ کیا تو نبی نے فرمایا کہ کیا تم نہیں سنتے کہ سادگی ایمان کی علامت ہے اور سادہ لباس ایمان کی علامت ہے۔
(ابو داؤد، ترغیب جلد3 صفحہ108)
نبی کو دنیا کا تذکرہ بھی زیادہ پسند نہیں تھا کہ لوگ دنیا کا زیادہ تذکرہ کریں۔
رابعہ بصریہ کے سامنےدنیا کا تذکرہ:
ایک مرتبہ رابعہ بصری کے سامنے کسی نے دنیا کا تذکرہ کیا، دنیا کی برائی کے ساتھ کہ جی ایسی ہے ویسی ہے۔ کہنے لگیں کہ تم چلے جاؤ یہاں سے، تمہارے دل میں دنیا کی محبت ہے۔ وہ کہنے لگے کہ میں تو برائی کررہا ہوں۔ فرمانے لگیں کہ کبھی تم نے پاخانے کا بھی اس طرح ذکر کیا ہے؟ پاخانہ کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا جو بھی جاتا ہے فلش کرکے آجاتا ہے باہر آکے کوئی تذکرہ نہیں کرتا کہ آج تعداد ومقدار کیا تھی اور کیسا تھا، اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتا کیونکہ وہ اس کو پسند نہیں کرتا۔ فرمایا کہ تم جو یہ دنیا کا ذکر کررہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دل میں اس کی طلب ہے، تو اس کا ذکر ہی نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ کو کونسا بندہ محبوب ہے؟
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ایسا سادہ مزاج آدمی پسند ہے جسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس نے کیا پہنا ہے۔
(بیہقی، ترغیب جلد3صفحہ108)
جو لباس موجود ہے، شریعت کے مطابق ہے اور ستر پورا چھپاتا ہے، جسم پورا چھپاتا ہے، جسم کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور اگرچہ سادہ عام لباس ہے، اگر وہ اس کو پہن کر چلا جائے تو یہ اللہ کو پسند ہے۔ اور اس کو یہ بھی پرواہ نہ ہو کہ میں کون سے فنکشن میں گیا وہاں کس نے کیا پہنا۔ اپنے بارے میں بے پرواہ ہو کہ بھئی! میرا جو لباس ہے سنت کے مطابق ہے، پاک صاف ہے گندا نہیں ہے اور شریعت کے خلاف نہیں ہے، غیروں کی مشابہت نہیں کررہا تو الحمدللہ! مجھے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور کسی دوسرے نے کیا پہنا ہوا ہے اور آئندہ میں نے کیا پہننا ہے، کیا بنوانا ہے، کیا سلوانا ہے؟ جس کو ان سب چیزوں کی پرواہ نہ ہو تو نبیd نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے بندے سے محبت کرتے ہیں۔ اب ذرا عورتیں غور کرلیں کہ اس بارے میں ہمارا آج کل کیا عمل ہے؟
انبیاکی عادات مبارکہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ انبیا موٹے اون کا لباس پسند کیا کرتے تھے (کیونکہ موٹا کپڑا ہونے کی وجہ سے جسم اچھی طرح چھپتا تھا)، خود بکریوں کا دودھ نکال لیا کرتے تھے اور گدھے پر بھی سوار ہو جایا کرتے تھے۔
(حاکم، ترغیب جلد3صفحہ110)
کیا مطلب؟ کہ لباس میں سادگی اور خود کام کاج کرنے میں کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے تھے اور کام کو کرنے میں عیب نہیں سمجھتے تھے اپنے کام خود کرلیا کرتے تھے اور سواری میں بھی سادگی تھی۔ یہ نبی کی اور صحابہ کرام اور تمام انبیا کی سنتیں ہیں۔
آپﷺ کا آخری لباس:
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ امی عائشہ نے ان کو پیوند لگی ایک چادر اور موٹی تہبند دکھائی اور فرمایا کہ انہی دو کپڑوں میں نبی کریمﷺ کی وفات ہوئی۔
(آداب بیہقی صفحہ350)
باوجود وسعت کے آپﷺ نے سادگی کو اختیار کیے رکھا۔
سادہ لباس آپﷺ کی پسند:
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ نبی صوف کی ایسی چادر اوڑھا کرتے تھے جس کی قیمت 6یا 7 درہم ہوتی تھی۔ (بیہقی، ترغیب جلد3صفحہ110)
یعنی عام لباس بھی پہن لیا کرتے تھے اور عام معاملات بھی آپﷺ کے ایسے ہی تھے۔
دنیا کتنی کافی ہے؟
اب اس حدیث کو ذرا غور سے سنیں کہ نبی سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے نبی! دنیا کی کتنی مقدار (ہمارے لیے) کافی ہے (کتنی کوٹھیاں بنائیں، کتنے پلاٹ ہم اکٹھے کریں؟ کیا کیا ہم کریں اس کے بارے میں رہنمائی فرمادیجیے) تو آقا نے ارشاد فرمایا کہ خوراک کی وہ مقدار جو بھوک کو روک دے، (اتنا کھانا ہونا چاہیے چاہے دال روٹی ہی کیوں نہ ہو، تمہاری بھوک پوری ہوجائے تو اللہ کا شکر ادا کرو۔ اور تمہارے پاس لباس ایسا ہو کہ تمہارا) ستر چھپ جائے (تو اللہ کا شکر ادا کرو) اور گھر ہو تو سایہ کا انتظام ہوجائے اپنی چھوٹی سے چھت مل جائے تو وہ بھی بہت اچھی بات ہے۔ اور آخری بات یہ فرمائی کہ اگر ان تینوں چیزوں کے ساتھ) سواری بھی اللہ تعالیٰ عنایت فرمادیں تو کیا ہی کہنا۔ (ترغیب جلد3صفحہ115)
یعنی انسان کی زندگی کی ضروریات کے لیے بتادیا کہ اتنی مقدار میں غذا جو اس کا پیٹ بھردے، ایسا لباس جو اس کا جسم ڈھانپ دے اورگھر بھی ہو اور سواری بھی مل جائے تو فرمایا کہ اس کے پاس تو ساری دنیا جمع ہوگئی، اس کے علاوہ اب اس کو کیا چاہیے؟ اب گھر اگر ہم 10 کنال کا بھی بنالیں تو رہنا تو وہی ایک کمرہ میں ہے، ایک ہی بیڈ پر لیٹنا ہے اور باقی تمام چیزوں میں بھی اسی طرح ہے۔ دنیا تو وقتی ختم ہوجانے والی چیز ہے، ایک وقت آئے گا ختم ہوجائے گی یا ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ آخرت ہے مقامِ عیش، عیش تو وہاں کرنے ہیں انعام تو وہاں لینے ہیں تو دنیا کی مقدار اتنی ہی کافی ہے۔ جس کے پاس ایک مناسب سا گھرہو پیسہ مل جاتا ہو، گزارہ ہو جاتا ہو اور اس کے پاس سواری بھی ہو تو اللہ کا شکر ادا کرے۔
اللہ کا انعام:
والد صاحب بتاتے تھے کہ دیکھو! اگر تم کھانا کھارہے ہو اور تمہارا پیٹ بھر گیا اور روٹی باقی ہے تو اور کیا چاہیے؟ اگر تم روز صبح الماری سے ایک لباس نکالتے ہو اور اس لباس کے بعد اگلے دن کے لیے ایک اور لباس رکھا ہوا ہے تو اور کیا چاہیے؟ یہ اللہ کے انعامات ہیں اللہ کا شکر ادا کرو۔
سادگی اختیار کرو:
نبیd نے ارشاد فرمایا کہ سادگی اختیار کرو موٹا کپڑا پہنو(یعنی سادہ کپڑا بھی پہن لیا کرو) تیر اندازی سیکھو (اور دیکھو کبھی کبھی) ننگے پیر چلو (تاکہ پتا چلے) کہ جن کے پاس جوتے نہیں ہوتے ان کو کیا تکلیف ہوتی ہے؟ (Hush pupies) کی دعوت نہیں  دی بلکہ فرمایا کہ کبھی کبھی ننگے پیر بھی چلا کرو تاکہ معلوم ہو کہ جن کے پاس چپل نہیں ان کےساتھ معاملہ کیا ہوتا ہے؟ نیز ایک اور روایت میں ہے کہ تیر اندازی سیکھو، موٹا کپڑا پہنو۔ اور ایک حدیث میں آقا نے فرمایا کہ میں ایک غلام ہوں، ایسا ہی لباس پہنتا ہوں جیسا ایک غلام پہنتا ہے۔ (مواہب جلد5صفحہ17)
میں اللہ کا بندہ ہو میں اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہوں۔
سادگی کے فضائل:
حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عمدہ لباس کو اللہ کے لیےعاجزی اختیار کرتے ہوئے چھوڑ دے گا باجود اس کے کہ وہ حیثیت رکھتا ہے (کہ خرید کر پہن سکے) تو قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلایا جائے گا اور اسےاختیار دیا جاے گا کہ جس جوڑے کو چاہے اختیار کرے۔
(ترغیب جلد3صفحہ107)
ساری مخلوق کے سامنے اس کو عزت دی جائے گی کہ یہ وہ بندہ ہے جس نےاللہ کے لیے سادگی اور تواضع کو اختیار کیا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جس نے باوجود قدرت واستطاعت کے خوبصورت اور عمدہ لباس کو چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ اسے عزت اور اکرام کا لباس پہنائیں گے۔ (ترغیب جلد3صفحہ107)
جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے گا اللہ اسے عزتیں عطاء فرمائیں گے۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا کہ جس نے خوبصورت اور عمدہ لباس اللہ کے لیے چھوڑدیا باوجود وسعت کے تو اللہ اسے (عزتیں عطا فرمائیں گے) عزت کا لباس پہنائیں گے (اور اگلی بات تو بہت ہی عجیب ہے توجہ طلب ہے فرمایا کہ) جو شخص اپنے سے کمتر سے شادی کرلے گا، اللہ اسے بادشاہوں کا تاج پہنائیں گے۔ (ابوداؤد)
عزتیں عطا فرمائیں گے۔ اس بات کا کیا مطلب ہے؟ اگر کوئی شخص اپنے سے کمتر اپنے سے مسکین سے غریبہ سے یتیم سے یا کسی ایسی خاتون سے شادی کرے جس کا پہلے سے کوئی بچہ ہو یا طلاق ہوچکی ہو، خاوند فوت ہوچکا ہو، بیوہ ہو کسی کا سہارا بن جائے کسی کو سہارا دیدے اللہ تعالیٰ اس کو بادشاہوں کا تاج پہنائیں گے۔ اس ہی میں اس کی ساس جو لڑکے کی والدہ ہوتی ہے اور نندیں یعنی لڑکے کی بہنیں وہ بھی شامل ہیں کہ اگر کوئی بچی گھر میں آگئی بہو بن کے وہ جہیز نہ لاسکی یا کم لے کر آئی تو اس کو طعنہ بھی نہ دیں۔ اس کو سپورٹ کریں، اس کا خیال رکھیں اگر اللہ تعالیٰ دولہا کو یہ نعمتیں عطا فرمائیں گے تو اس کی ماں بہنوں کو بھی عطا فرمائیں گے۔ جہیز تو ویسے ہی ایک غلط چیز ہے ضرورت کے درجے میں باپ اگر کچھ دے دے تو اس کی خوشی کی بات ہے، جہیز کا مانگنا قطعاً جائز نہیں کہ یہ بھی لے کر آؤ۔ وہ بھی لے کر آؤ اور اس کا طعنہ دینا کہ وہ نہیں لے کر آئی، ورنہ تو قیامت کے دن پھر اس کو ذلتیں ہی ملیں گی اگر اس کو عزتیں چاہییں تو کسی کمتر کو سہارا دے۔
تکبر سے پاک لباس:
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ صوف کا لباس تکبر سے پاک ہوتا ہے۔ (بیہقی، ترغیب جلد3صفحہ110)
یعنی سادہ لباس۔ ایک عام آدمی عام سا جوڑا بنا لے تو تکبر تو نہیں آئے گا۔ تکبر تو آتا ہی جب ہے کہ کیسریا کا پہننا ہے اور ثنا سفیناز کا پہنا ہے، اور فلاں فلاں برانڈز کا پہننا ہے۔ بہرحال تو جب انسان برانڈز کے پیچھے جاتا ہے تو (Brand conscious) ہو جاتا ہے کہ جی مجھے فلاں چیز فلاں برانڈ کی لینی ہے۔
محمدی برانڈ اپناؤ:
ارے بھائی! ہم نے محمدی برانڈ کو اپنانا ہے، باقی سارے برانڈ قیامت کے دن کسی کام نہیں آئیں گے۔ یاد رکھیے! ہمارے اعمال جو کچھ ہم دن رات کرتے ہیں، قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ ایک ایک عمل سامنے لایا جائے گا اور اللہ رب العزت خود اس وقت فرشتوں کو فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے ان بندوں کے سارے اعمال کو چیک کرو جس عمل کے اوپر میرے محبوب کی سنت کی مہر لگی ہوئی ہے۔ آج کا برانڈ محمدی برانڈ ہے، جس عمل کے اوپر محمدی برانڈ کی مہر لگی ہوئی ہے، اس کو تو قبول کرلو اور ادھر اُدھر کی جو چیزیں ہیں ان سب کو اٹھا کر باہر پھینک دو۔ قیامت کے دن ایک ہی برانڈ چلے گا وہ محمدی برانڈ ہوگا۔
عمدہ لباس کب پہنا جائے؟
عام طور پر تو سادہ لباس ہی کی تعلیم دی گئی لیکن بعض دفعہ عمدہ لباس بھی پہننا پڑتا ہے۔ اس کے بارے میں بھی تفصیلات سن لیجیے! سمجھ لیجیے! تاکہ بات کھل کے واضح ہوجائے اور دونوں پہلو سامنے آجائیں۔ اگر کوئی اس لیے عمدہ لباس پہنے کہ میں عمدہ نظر آؤں اور لوگوں کو حقیر سمجھوں کہ اس کے پاس ایسا نہیں ہے میرے پاس ایسا ہے، میں کچھ خاص ہوگئی ہوں، یا میں کچھ خاص ہوگیا ہوں، تو ایسی سوچ عمدہ لباس پہننے کو گناہ میں تبدیل کردے گی۔ یہ جو چیز ہے یہ عمدہ لباس پہننے کو گناہ کردے گی۔
دگنا گناہ:
کسی کو حقیر سمجھنا اور اگر خدانخواستہ یہ لباس جو کسی کافرہ یا کافر کے لباس سے مطابق ہے، شریعت کے خلاف ہے، ستر کو نہیں ڈھانپ رہا تو ویسے ہی دگنا گناہ ہوگیا۔ ایک تو دل کا گناہ ہوگیا اور دوسرا عمل کا گناہ بھی شامل ہوگیا۔
اگر اچھا لباس پہننا ہو تو اس نیت اور جذبے کے ساتھ پہنیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے وسعت عطافرمائی ہے اس کے شکر کے اظہار میں یہ پہن رہا ہوں جیسا کہ حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ (مطالب عالیہ جلد2صفحہ262)
اَللہُ جَمِیْلٌ وَّیُحِبُّ الْجَمَال
یعنی اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ اسے پسند ہے کہ اپنے بندوں کے اوپر اپنی نعمتوں کا اثر دیکھے یعنی اسے استعمال کرتا ہوا دیکھے۔
نعمت کا اظہار اللہ کو پسند ہے:
حضرت زبیر بن ابی علقمہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو بہت بُری حالت میں تھا (کپڑے پھٹے ہوئے تھے، مٹیالے تھے، گندا لباس پہن کر آیا) آپﷺ نے اس سے پوچھا کہ (اے اللہ کے بندے!) کیا تیرے پاس مال نہیں؟ تو کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی! (اللہ کا دیا بہت کچھ ہے، بڑے) مختلف قسم کے اموال ہیں۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس نعمت کا اثر ظاہر ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ بندے کے اوپر اپنے انعام کا اثر دیکھے۔ (مطالب جلد2صفحہ262)
اگر اللہ نے کسی کو نعمتیں عطا فرمائی ہوں تو اس کو چاہیے کہ اچھا لباس پہن لے، لیکن دل میں کیا ہو؟ اللہ کی نعمت کا اظہار ہو، شکر ہو، دل کے اندر ریاکاری نہ ہو، دکھاوا اور کسی دوسرے کو سامنے والے کو حقیر سمجھنا کہ اُس نے وہ برانڈ نہیں لیا، وہ اس برانڈ کو نہیں خرید سکا۔ تو یہ چیز گناہ ہوجائے گی البتہ اظہارِ نعمت کی اجازت ہے۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کسی بندے پر انعام ظاہر فرماتے ہیںتو وہ نعمت کے ظہور کو بندے پر دیکھنا پسند فرماتے ہیں۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ193)
یعنی کہ انعام میں مال ودولت عطا فرماتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ وہ میرا بندہ نعمت کو استعمال کرے اور میرا شکر ادا کرے، یعنی نعمتیں بھی اللہ کی استعمال کرلے اور گیت بھی اللہ کے گائے پھر اجازت ہے۔
حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک شخص (پھٹے پرانے کپڑے پہنے عجیب) بری حالت میں آیا۔ تو نبی نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس مال نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے، اونٹ بھی ہیں، گائے بھی ہیں، بکریاں بھی ہیں (ان کے ریوڑ ہیں میرے پاس بہت کچھ ہے)۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ جس کے پاس مال ہو اس کو چاہیے کہ مال کا صحیح اثر ظاہر کرے۔ (مجمع جلد5صفحہ136)
استعمال بھی کرے، نظر آنا چاہیے، تو ان دو واقعات سے بات اور زیادہ واضح ہوجائے گی۔
تکبر پر وعید:
حضرت ثابت بن قیس فرماتے ہیں کہ نبی کے سامنے تکبر کا ذکر ہوا تو آپﷺ نے تکبر کی بڑی وعید بیان کی کہ تکبر بہت بُری چیز ہے۔
تکبر کسے کہتے ہیں؟
اپنے آپ کو کچھ سمجھنا کوئی لباس پہن لیا اور اپنے آپ کو یہ سمجھنا کہ میں واقعتاً خوبصورت ہوں یا میں واقعتاً امیر ہوں یا لوگوں کے اوپر اپنی بڑائی کا اظہار کرنا، اس کو تکبر کہتے ہیں۔ اور تکبر کرنے والے کے لیے تو کہا گیا کہ قیامت کے دن متکبر شخص چیونٹی کے مانند ہوجائے گا اور لوگ اس کے اوپر پیر رکھ کر جارہے ہوں گے۔ اللہ ذلیل کردیں گے۔ یہاں تو جو کوئی بھی اپنی بڑائی دکھائے گایا دکھائے گی تو لیکن قیامت کے دن اس کو اللہ ذلیل کردیں گے۔ نبی نے تکبر کی وعید بیان کی اور صاف صاف بتادیا کہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ صحابہ میں سے کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! میں تو کپڑے صاف دھوتا ہوں اور مجھے اس کی سفیدی خوشنما معلوم ہوتی ہے یہاں تک کہ میں اپنے جوتے کے تسمے بھی بہت اچھے رکھتا ہوں (اور اس سے بھی زیادہ اپنی سواری کا جو میرا جانور ہے اس کے لیے میں جو) کوڑا لیتا ہوں وہ بھی میں (بڑا خیال کرکے بڑا) اچھا اور قیمتی لیتا ہوں، (تو کیا یہ تکبر ہے؟) تو نبی نے فرمایا کہ نہیں، تکبر تو یہ ہے کہ تو حق کو ذلیل کرے اور لوگوں کی تحقیر کرے۔ (مجمع صفحہ136)
اچھے لباس پہننے کی ممانعت نہیں ہے، منع نہیں کیا۔ اچھا لباس انسان پہن سکتا ہے، جوتے اچھے پہن سکتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک عام سی چیز ہے کوئی بھی اچھی چیز ہو، انسان استعمال کرسکتا ہے، لیکن وہ شریعت کے دائرے کے اندر ہو۔ حلال مال سے ہو، اور دل میں یہ نہ ہو کہ میں اپنی بڑائی کو ظاہر کروں اور کسی اللہ کے بندے کو ذلیل کروں، اس کو نیچا دکھاؤں۔ دل کی کیفیت کے اوپر بات منحصر ہے اچھے کپڑے کے اوپر بات نہیں۔
حضرت ابن عمر کی چاہت:
عبداللہ بن عمر (یہ حضرت عمر فاروقِ اعظم کے بیٹے ہیں) فرماتے ہیں کہ میں نے خود حضور اکرمﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! میں تو عمدہ جوڑے پہنتا ہوں تو کیا یہ تکبر کی علامت ہے؟ تو نبی نے فرمایا کہ نہیں اللہ کے نبیﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ کی دل کی کیفیت سے آگاہ کردیا تھا۔ پھر پوچھا کہ اے اللہ کے نبیﷺ میرا دل چاہتا ہے کہ میں کھانا بناؤں اور سب کی دعوت کروں، تو کیا یہ تکبرہے؟ فرمایا کہ نہیں یہ تکبر نہیں، تکبر یہ ہے کہ تم حق کو بھول جاؤاور لوگوں کی تحقیر کرو۔ (مجمع جلد5صفحہ136)
تکبر یہ ہے کہ تم شریعت کی خلاف ورزی کرو اور لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھو۔ دعوت کی بھی تو اس لیے کہ میری بڑائی ظاہر ہو کہ اتنے لوگوں کو بلایا ہے فلاں تو نہیں بلاسکتا یہ غلط ہے۔ تو دل کے اندر اللہ کی شریعت کی پابندی ہو اور اللہ کے شکرکا احساس ہو تب تو قیمتی کپڑا پہننا اس کی اجازت بھی ہے اور احسن بھی، اس میں کوئی سوچنے والی بات نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ عمدہ لباس پہننا کوئی خلاف سنت نہیں ہے دل کی کیفیات کے اوپر منحصر ہے۔ اگر ایسی کیفیات ظاہر ہوتی ہیں کہ میں تو بہت خاص ہوں تو اس کیفیت کا علاج کرنا پڑے گا۔
آپﷺ کا قیمتی لباس:
حضرت عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ نبی نے ایک مرتبہ ستائیس27اُونٹوں کے بدلے ایک جوڑا خریدا، اتنا قیمتی جوڑا کہ 27اُونٹ دئیے تب آیا۔ لیکن یہ ایک وقتی بات تھی عام طور سے آپﷺ کا معمول ایسا نہیں تھا۔ عام طور سے میرے نبی کا لباس بہت معمولی ہوا کرتا تھا۔ (خصائل صفحہ55)
میلے اور گندے لباس کا حکم:
اسی طرح ایک ہوتا ہے لباس کا قیمتی ہونا، اور ایک ہوتا ہے لباس کا صاف ہونا اور ایک ہوتا ہے لباس کا گندا ہونا اور میلا ہونا۔ میلے کپڑے کے بارے میں ذرا بات سمجھیے۔
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ایک شخص کو دیکھا اس نے گندے کپڑے پہنے ہوئے تھے (میلے کپڑے تھے) جیسے آج کل ڈیزل لگے ہوتے ہیں اور دوسری گندگی لگے ہوئے ہوتے ہیں اور گندگی لگے ہوئے کپڑوں میں لوگ مسجدوں میں آجاتے ہیں، محفل میں آجاتے ہیں۔ تو آپﷺ نے یہ فرمایا کہ کیا اس کے پاس اتنا بھی کچھ نہیں کہ اپنے کپڑوں کو دھو ہی لے، اتنا ہی تنگدست ہے کہ کپڑوں کو دھونے کے لیے بھی اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ نبی نے اس کو تنبیہ فرمائی اور سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ انسان گندے کپڑے پہن لے۔
ہمارا حال:
اور آج کل ہمارے بعض لوگ ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ صوفی ہوتا ہی وہ ہے جو گندے کپڑوں میں ہو۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
گندے کپڑے والوں کواللہ کا ولی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ بغیر لباس کے سڑکوں پر بیٹھے ہوتے ہیں، اُن سے جا کر مسائل پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ پتا نہیں کیا کیا کروارہے ہوتے ہیں، جن کو نماز کا پتا نہ غسل کا پتا اور ان کو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کے قریب ہیں۔
اللہ جمیل ہے، اللہ خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ نبی نے ہمیشہ خوبصورتی اور صفائی کو سامنے رکھا۔ قیمتی لباس ہونا اور سادہ لباس ہونا وہ الگ بات ہے۔ صاف ہونا تو ضروری چیز ہے۔ تو ایسا گندا آدمی جس کے کپڑے بھی گندے ہوں وہ اللہ کا قرب کیسے حاصل کرسکتا ہے؟ نبی نے تو اس کو ڈانٹ دیا کہ کیا تیرے پاس اتنا بھی نہیں کہ تو اپنا لباس ہی دھو لے۔ اور یہ بات بھی گزرچکی ہے کہ صحابہ کرام نے بھی عمدہ لباس پہنا۔ اور عام طور سے صحابہ کرام کا معمول یہ تھا کہ سنت کے مطابق ہلکے سے ہلکا لباس پہنتے اور نارمل رہتے۔ عام 10،15درہم کا یا 20 درہم کا لباس پہنا کرتے تھے۔ بات پھر وہی آجاتی ہے دل کی حالت کے اوپر (Depend) کرتا ہے کہ ہماری ضرورت کیا ہے؟ بعض اوقات صاف ستھرا لباس پہننا انسان کی ضرورت بن جاتی ہے، کہ اس نے کہیں جانا ہے یا دین کی بات کرنے کے لیے جانا ہے تو ایسے وقت دین کی بات پہنچانی ہے، تو ایسے وقت میں ایک ضرورت بن جاتی ہے اور یہ نبی کی سنت سے ثابت ہے۔
حضرات صحابہ کے احوال:
حضرت عبداللہ بن مسعود کے بارے میں آتا ہے کہ وہ صحابہ میں عمدہ کپڑے زیب تن کرنے والے تھےا ور عمدہ خوشبو استعمال کرنے والے تھے۔ (مجمع جلد5صفحہ138)
حضرت ابو عامر سلیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی کے اوپر ایک چادر دیکھی، جو 100درہم کی تھی۔ (طبقات ابن سعد، حیاۃ الصحابہ: ج5ص839)
سعد بن ابراہیم تابعی ہیں، فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفh یمن کی چادر یا یمن کا جوڑا پہنتے تھے جو 400 یا 500 درہم کی قیمت کا ہوتا تھا۔
(ابن سعد، حیاۃ الصحابہ جلد2صفحہ840)
حضرت عثمان بن ابی سلیمان سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسi نے ایک کپڑا1000درہم کا خریدا پھر اس کو پہنا۔ (حیاۃ الصحابہ جلد2صفحہ840)
تو ضرورت کے تحت ان چیزوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مگر کیسے؟
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ
’’اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے‘‘۔
اصل معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے۔ اللہ اکبر کبیرًا
آپﷺ کی مختلف وفود سے ملاقات:
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت جندب بن مکیث فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس جب وفد آتا (ملکوں کے وفد آتے، قبائل کے وفد دور دراز سے آتے اور سردار آتے) تو اس وقت نبی اچھے کپڑے زیبِ تن فرماتے اور اپنے بڑے صحابہ کو بھی حکم دیتے (کہ دیکھو! میرے ساتھ بیٹھنا ہے، ملنا ہے، فلاں وفد آرہا ہے، فلاں بادشاہ، فلاں قبیلےکا رئیس آرہا ہے، فلاں قبیلے کے نمائندے آرہے ہیں، تو آپﷺ خود بھی عمدہ لباس پہنتے اور صحابہ کو بھی کہتے) چنانچہ فرماتے ہیں کہ جس دن کندہ کا وفد آیا ہوا تھا (میں وہاں موجود تھا) میں نے دیکھا کہ نبی یمنی جوڑے میں ملبوس تھے، اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر بھی اسی قسم کا حلّہ تھا۔
(طبقات ابن سعد، حیاۃ الصحابہ جلد2صفحہ834)
چوں کہ دین کی دعوت دینی ہے۔ اب ایک نیا آدمی ہے اس کو سمجھ نہیں ہے وہ لباس کی سادگی کو نہیں سمجھے گا، تو وہاں دین کے لیے، اللہ کے لیے اگر قیمتی جوڑا پہننا ہے تو وہ محض اللہ کے لیے پہننا ہے۔ بہرحال سادہ لباس اگر اس لیے پہنا کہ لوگ مجھے سمجھیں کہ عاجزی وانکساری والا ہے تو بھی گناہ ہے، عمدہ لباس اس لیے پہنا کہ لوگ مجھے عمدہ سمجھیں تو بھی گناہ ہے۔ معاملہ ہے دل کا اور دل کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔ سادگی اختیار کرنی ہے تو وہ بھی اللہ کے لیے اور عمدہ لباس پہننا ہے تو وہ بھی اللہ کے لیے ہی پہننا ہے اس سے معلوم ہوا کہ تقریبات کے موقع پر یا معزز لوگوں کی آمد پر عمدہ لباس پہن لینا یہ صرف بہتر نہیں سنت بھی ہے اس پر سنت کا ثواب ملے گا بشرطیکہ نیت درست ہو۔
ایک اعتراض کا جواب:
اب بعض لوگ اعتراض کردیتے ہیں کہ یہ عمدہ لباس کیوںپہنتی ہیں؟ دعوت تو دیتی ہیں قرآن اور حدیث کی اور لباس دیکھو انہوں نے یہ پہننا ہوا ہے تو بھئی! اگر انہوں نے اللہ کے لیے پہنا ہوا ہے، اگر ان کے دل کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے تو ہم دوسرے کے بارے میں گمان اچھا رکھیں۔ اپنے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہیں کہ پتا نہیں ہمارا کیا بنے گا؟ جب اپنی طرف نگاہیں ڈالیں گے، تو پھر دوسرے نظر نہیں آئیں گے۔ تو معاملہ کیا بنا کہ نیا لباس بھی اللہ کے لیے، عمدہ لباس بھی اللہ کے لیے اور سادگی کرنی ہے تو بھی اللہ کے لیے سارا معاملہنیت کے اوپر ہی آتا ہے۔
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ
’’اعمال کا دارو مدار نیتں پر ہے‘‘۔
نیا لباس کب پہننا سنت ہے؟
انسان نیا جوڑا پہنتا ہے تو کس دن پہننا چاہیے؟ ہمارے یہاں کیا رواج ہے کہ جی فلاں فنکشن میں جانا ہے، یہ لباس بنا رکھا ہے اسی دن پہننا ہے۔ سنت کیا ہے؟ حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی جب نیا کپڑا پہنتے تو اسے جمعہ کے دن پہنتے۔
(سیرت خیر العباد جلد7صفحہ425)
تو ہم بھی کوشش کرلیں کہ جب نیا جوڑا سلوائیں تو پہلی مرتبہ اسے جمعہ کے دن پہن لیں تو سنت بھی پوری ہوجائے گی اور اس کا ثواب بھی مل جائے گا۔ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کے پاس دو کپڑے تھے جنہیں آپﷺ زیب تن فرماتے تھے، اور جب آپﷺ واپس آتے تھے تو ہم اُنہیں اسی طرح لپیٹ کر رکھ دیتے تھے۔ (مجمع جلد5صفحہ179)
امی عائشہ نے فرمایا کہ آپﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا اور آپﷺ کے اوپر عمدہ دھاری دارچادر تھی۔ (زادالمعاد جلد1صفحہ128)
تو جمعہ کے دن عمدہ لباس پہننا سنت ہے، لیکن اگر کوئی ایک ایسا آدمی ہے کہ جس کے پاس ایک عمدہ لباس ہے، باقی درمیانی قسم کے ہیں تو بہتر ہے کہ وہ عمدہ لباس جمعہ کے جمعہ پہن لیا کرے، جمعہ کا اکرام کیا کرے۔ جمعہ کے اکرام سے کیا ملے گا؟
یوم جمعہ کا اہتمام:
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ جب جمعہ کا دن ہو تو انسان غسل کرے، عمدہ خوشبو لگائے (جو موجود ہو)، موجود کپڑوں میں سے عمدہ کپڑا پہنے پھر نماز کو جائے اور کسی کی گردن نہ پھلانگے (کسی کو تکلیف نہ دے جہاں جگہ ہو بیٹھ جائے) پھر خطبہ سنے۔ تو اللہ تعالیٰ ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔ (ترغیب جلد1صفحہ498)
جمعہ کے لیے مرد بھی احترام کریں، عورتیں بھی احترام کریں، مردوں کو تو یہ بتایا کہ تم جلدی کرو مسجد میں جلدی پہنچو، اور خریدو فروخت کو ترک کردو۔ عورتوں کو بھی اس آیت
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَيْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۹ (الجمعہ:9)
میں سے عمل کا حکم مل سکتا ہے۔ اس آیت کے اوپر عورتیں بھی گھر بیٹھے عمل کرسکتی ہیں۔ بتائیں وہ کیسے؟ مردوں کو یہ کہا کہ تم کاروبار بند کر دو، تو عورتیں کیا کریں؟ اس وقت کے دوران عورتوں کو چاہیے کہ نہ کوئی چیز خریدنے جائیں نہ کسی کو خریدنے بھیجیں کہ بھئی! جمعہ کا دن ہے جمعہ کا ٹائم ہوگیا اذان کا ٹائم ہوگیا تو دو تین گھنٹے ہم نے کچھ نہیں خریدنا۔اس عمل سے دوکانداروں کو ویسے ہی فرق پڑ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائیں۔ اسی طرح عید کے دن عمدہ لباس پہننا بھی سنت ہے۔
عیدین پر آپﷺ کا خاص اہتمام:
حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کے پاس ایک عمدہ لال دھاری دار چادر تھی جسے آپﷺ عیدین میں استعمال فرماتے تھے۔ (مجمع جلد5صفحہ201)
اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی جمعہ کے دن اور عیدین کے موقع پر لال یمنی چادر زیب تن فرماتے تھے۔ (سیرت الشامی جلد7صفحہ491)
عیدین پر آپﷺ لال یمنی چادر زیب تن فرماتے، مکمل لال نہیں ہوتی تھی اس میں باڈر وغیرہ بنا ہوا ہوتا تھا، یا دھاریاں سی ہوا کرتی تھیں۔
کپڑوں کو تہہ کرکے رکھنا:
حضرت جابر سے روایت ہے کہ شیطان تمہارے کپڑے استعمال کرتا ہے، (جب شیطان استعمال کرے گا تو مس یوز(Misuse) ہی کرے گا، برکت تو نہیں آئے گی)۔ جب تم میں کوئی کپڑا اتارے تو اسے چاہیے کہ لپیٹ کر تہہ لگا کر رکھے۔
(کنزالعمال جلد19صفحہ218)
تو سنت طریقہ کیا ہے کہ انسان کپڑوں کو لپیٹ کر تہہ لگا کر رکھے۔
بہت خطرناک معاملہ:
اب ایک اور معاملہ شروع ہورہا ہے بہت ہی خطرناک۔ عرض تو کرنا ہے ان شاء اللہ، یہ نہ ہو کہ کل سےآپ لوگ کہیں کہ جی گلدستہ سنت کے بیانات پڑھتے ہی نہیں ہیں، یہ تو مولوی صاحب نےہمارے لیے پتا نہیں کیا کیا مسائل کھڑے کردئیے۔ کچھ کپڑے ہوتے ہیں جن میں تصویریںبنی ہوئی ہوتی ہیں۔ رسول اکرمﷺ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ کیا کوئی حدیث نہیں ہے؟ کیا ہمارے پاس کوئی گائیڈ لائن نہیں ہے کہ جو چاہیں استعمال کریں، اتنا کھلا چھوڑا ہوا ہے یا اس کے بارے میں نبی کے کچھ احکامات بھی ہیں؟ اس بات کو ذرا مختصرًا سمجھ لیجئے۔ دیکھیے! یہ میری باتیں نہیں ہیں۔ ہمارا کام مسئلہ بنانا نہیں ہے مسئلہ بتانا ہے جو علماء نے کتابوں میں لکھا ہے۔ نبی سے متعلق باقاعدہ اس کی روایات بخاری شریف، مسلم شریف اور مشکوٰۃ شریف میں اور احادیث کتب میں موجود ہیں جس کا دل چاہے دیکھ لے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو قیامت تک کے لیے اٹل ہیں یہ تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ ہم تبدیل ہوجائیں لیکن یہ باتیں تبدیل نہیں ہوسکتیں۔
آپﷺ کا گھر سے باہر ہی رک جانا:
امی عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک چادر خریدی اس چادر کے اوپر تصویر بنی ہوئی تھی۔ (جب آپﷺ گھر تشریف لائے دروازے پر ہی تھے کہ آپﷺ کی نظر پڑگئی، چادر کے اوپر کہیں بچھائی ہوئی ہوگی) تو اس کے اوپر تصویر دیکھ کر آپﷺ دروازہ پر ہی رک گئے۔ (بی بی عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کا یہ انداز دیکھا کہ دروازہ کے اوپر ہی ہیں اندر نہیں آرہے) تو میں آپﷺ کی (یعنی خاوند کی) ناراضگی کو پہچان گئی۔ (بیوی ہو تو ایسی کہ شوہر کے انداز سے پہچان لیا کہ معاملہ کچھ اور ہے، تو ایک دم پہچان گئیں اور بڑی عاجزی کے ساتھ کہنے لگیں کہ اے اللہ کے نبی! میں نے آپ کی ناراضگی کو سمجھ لیا ہے۔ اور) میں نے کہا کہ میں اللہ سے توبہ کرتی ہوں، آپﷺ سے بھی معافی مانگتی ہوں اپنی غلطی پر۔ (جب انہوں نے اس طرح بات فرمائی) تو نبی نے فرمایا کہ عائشہ! یہ چادر کیسی ہے؟ (یہ کیسی چادر لے کر آئی ہو؟) میں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! میں نے اسے خریدا ہے تاکہ آپﷺ (اس کو استعمال کریں۔) تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اصحابِ تصاویر (تصویر والے لوگوں) کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا ہے اس میں روح ڈالو۔ اور آگے آپﷺ نے فرمایا کہ وہ گھر جس میں تصاویر ہوں اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ صفحہ375)
اب اس روایت میں دیکھیں کہ ایک بات یہ سمجھ میں آئی کہ بی بی عائشہ نے وہ خریدی تھی خود بنائی نہیں تھی۔ اس کے اوپر بھی آپﷺ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور بنانے والوں کے اوپر تو عذاب کی وعید سنائی اور اس کے بعد یہ بتادیا کہ دیکھو! جس گھر میں تصویریں ہوں وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ تو تصویر والی چیز چاہے وہ چٹائی ہو، چاہے وہ کپڑا ہو یا بچوں کی قمیض ہو، بچوں کے لباس کی چیزیں ہوں تو یہ سب نبی کے دین میں منع ہیں۔ کسی کو سمجھ میں آجائے اور اس کو عمل کی توفیق مل جائے تو یہ اللہ کا انعام ہے، نہیں تو قیامت کے دن نبی سے جا کر خود پوچھ لیجیے گا کہ آپﷺ نے یہ فرمایا تھا؟ جب یہاں پر یقین نہیں آتا اور یہاں پر یقین کرنا ہے تو بخاری شریف دیکھ لیجیے، مسلم شریف دیکھ لیجیے کہ آیا یہ باتیں وہاں لکھی ہوئی ہیں یا نہیں۔
سب سے سخت عذاب:
بلکہ یہاں تک بھی بخاری شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ شدید ترین عذاب والے کون لوگ ہوں گے؟ تو فرمایا کہ تصویر بنانے والے ہوں گے؟ شدید ترین عذاب میں ہوںگے۔ ایک بچی بیعت ہوئی۔ اللہ اکبر کبیرا! اس نے جلا تو ساری تصویریں دیں، لیکن اس نے بتایا کہ 1500 تصویریں اس کے پاس تھیں۔ بتائیں زندگیوں میں رحمت کہاں سےآئے گی، گھروں میں رحمت کہاں سے آئے گی۔ یہ فیس بک کے اوپر تصویریں ہم نے لگادیں، موبائل پر لگادیں، دیواروں پر لگادیں، بتائیں اللہ کی رحمت کیسے دل میں آئے گی۔
رحمت کے فرشتوں سے محروم گھر:
ایک اور حدیث ہے، حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرات ملائکہ (یعنی رحمت کے جو فرشتے ہیں) اس گھر میں نہیں آتے جس گھر میں کوئی تصویر ہو۔ (طحاوی جلد2صفحہ363)
یہ طحاوی شریف کی روایت ہے اور امی عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت جبرائیل نے نبی سے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! جس گھر میں تصویر ہو ہم لوگ وہاں نہیں جاتے۔ (طحاوی صفحہ363)
ایک اور حدیث میں آتاہے کہ جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں جاتے۔
حضرت حکیم الامت کا حکیمانہ جواب:
اسی طرح کا کوئی سر پھرا تھا، آج کل تو لوگ لوجک (Logic) پر چلتے ہیں تو وہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بڑے مزے کی بات ہوگئی کہ جس گھر میں کتا اور تصویر ہو وہاں فرشتے نہیں آتے، تو موت بھی نہیں آئے گی کہ روح کس نے نکالنی ہوتی ہے؟ فرشتوں نے۔ تو جب کتا گھر میں ہوگا تو فرشتے نے تو آنا نہیں تو پھر ٹھیک ہے موت بھی نہیں آئے گی تو بڑے ہی مزے ہوں گے۔ عجیب جواب ارشاد فرمایا کہ دیکھو! اس کتے کو تو موت آنی ہے تو جو فرشتہ کتے کی روح لینے آئے گا وہ تیری بھی روح نکال کر ساتھ لے جائے گا جو سیدھی بات نہیں سمجھتے ان کو پھر دوسری طرح بات سمجھانی پڑتی ہے۔ سیدھی طرح مان جائیں کہ بھئی! آقاﷺ کا فرمان ہے، بات حق اور سچ ہے۔ اپنے سر کو جھکا لو پھر اللہ کی رحمتیں ملا کرتی ہیں، نہیں تو پھر انسان تکلیفوں میں چلا جاتا ہے۔
اپنے آپ کو بچائیں:
آج کل تصویر والی چیزوں کا بڑی کثرت سے استعمال ہے اور تو اور بلا جھجک استعمال کیا جاتا ہےجیسے کوئی بات ہی نہیں ہے۔ تو قیامت کے دن اس شخص پر پریشانیاں آئیں گی اور دنیا میں بھی بے سکون رہے گا۔ ہم آج ہی سے اپنے آپ کو اس سےبچائیں۔ اسی طرح موبائل فون کے اوپر تصویریں لینا ماں کی، باپ کی، بیٹی کی، رشتہ داروں کی تو بھئی! اس سے بھی اپنے آپ کو بچائیں اور اپنے گھر والوں کو بچائیں آیندہ کے معاملات آسان نہیں ہیں ہمیں اس کی کیا ضرورت ہے؟
ایک سچا خواب:
حضرت مولانا عبداللہ برنی دامت برکاتہم مدینہ طیبہ میں ہوتے ہیں اور ابھی حیات ہیں اور یہ حضرت مولانا عاشق الٰہی کے بیٹے ہیں۔ جب جس کا دل چاہے جا کر مل لے۔ ان سے ملنے پاکستان سے بھی لوگ آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے ایک بزرگ نورالحسن دامت برکاتہم ان کو 88 مرتبہ نبی کی زیارت ہوچکی ہے۔ ابھی سفر حج پر تھے تو نبی کی زیارت ہوئی اٹھاسیویں مرتبہ۔ تو آخری مرتبہ جب زیارت ہوئی تو نبی نے فرمایا کہ میرے امتی جو میری مسجد میں آکر یہاں تصویریں بناتے ہیں، میرے دل کو دکھاتے ہیں، مجھے غمگین کردیتے ہیں مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں۔
خوب غور کریں:
خواب میں یہ بات نبی نے بتائی۔ تو وہاں کس چیز سے تصویریں بناتے ہیں؟ موبائل ہی ہوتا ہے، ویڈیو کیمرہ ہی ہوتے ہیں، ڈیجیٹل کیمرہ ہی ہوتے ہیں۔ ہمیں کیا ضرورت ہے موبائل فون پر تصویریں بنانے کی؟ اور بنانی ہی ہیں تو پہاڑوں کی بنالیں، درختوں کی بنالیں، اللہ کے گھر کی بنالیں، کسی ایسی چیز کی بنالیں کہ جس میں جاندار کی تصویر نہ ہو۔ ہم خود اپنا جان مال پیسہ خرچ کرکے اپنے گھروں سے کیوں اللہ کی رحمت کو دور کرتے ہیں، پھر کہتےہیں جی کہ دل کے اندر پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں۔ رحمت کو تو ہم نے خود روک رکھا ہے۔ اللہ کے نبیﷺ تو رحمت للعالمین تھے۔ بی بی عائشہ نے جو چادر خریدی، تصویروں والی تو وہ بھی تو گھر کے اندر نہیں آئے۔ اور فرشتوں کے بارے میں آپﷺ کی روایات بھی ثابت ہیں۔ یقیناً خواب کو خواب کے درجے میں رکھا جائے گا۔ یہ بخاری یا مسلم کا درجہ تو نہیں رکھتا، لیکن بہرحال نبی کی خواب میں زیارت ہونا بڑی نعمت کی بات ہے اور کوئی آدمی نبی کی طرف نسبت کرکے جھوٹ اپنی طرف سے کیسے منسوب کرسکتا ہے؟ اور جب کہ وہ متقی اور نیک بھی ہو، اس کے چہرے سے ظاہر ہوتا ہو اور اس کا تقوٰی نور اس کے چہرے سے بھی ظاہر ہوتا ہو۔ تو بھئی! ہم تصویروں سے توبہ کرلیں۔ اپنے گھر سے تصویروں کو نکال دیں، پھر دیکھیں اللہ کی رحمت دل میں کیسے آتی ہے۔
مردو زن کی ایک دوسرے کے ساتھ مشابہت پر وعید:
اس کے بعد ایک اور معاملہ جو اس سے بھی زیادہ خطرناک اللہ خیر ہی رکھے وہ کیا ہے؟ ’’مشابہت‘‘ عورتوں اور مردوں کی ایک دوسرے کے ساتھ مشابہت۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آپﷺ نے لعنت فرمائی ہے اُن مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں، اور اُن عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ (بخاری جلد2صفحہ874)
اور اس معاملہ میں آج میں کیا تفصیلات بیان کروں۔ کتنی ہی عورتیں ایسی ہیں جو مردوں کے لباس میں ہیں اور کتنے ہی مرد ایسے ہیں کہ بال بڑے بڑے کرلیتے ہیں، پونیاں بنالیں اور کھلے عام بازاروں میں جاتے ہیں اتنا دل دکھتا ہے۔ اللہ کی قسم! دل تکلیف میں چلا جاتا ہے اُن کو دیکھ کر کہ یا اللہ! ان کا کیا بنے گا؟ ان کے لیے دعائیں ہی کرسکتے ہیں کہ خود اپنے لیے لعنتوں کے مستحق ہورہے ہیں۔
موجودہ تعلیم اور نبوی تعلیم:
اور آج ہمارا میڈیا، ہماری تعلیم ہمیں کیا سکھاتی ہے کہ عورت اور مرد مل کر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کریں۔ نبی نے کیا بتایا کہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ گھر کے باہر کی ڈیوٹی نبھانی ہے اور عورت کی ذمہ داری ہے کہ گھر کے اندر کی ڈیوٹی کو نبھائے اور بچوں کی شریعت اور سنت کے مطابق تربیت کرے۔
عورتوں کے لیے دینی تعلیم کی ضرورت:
عورت بچوں کی تربیت شریعت وسنت کے مطابق تب ہی کرے گی جب اس کو دین کا علم آتا ہوگا۔ نبی نے حضرت عائشہ کو سکھایا اور آخر میں یہ فرمایا کہ میری عائشہ تو آدھا دین ہیں۔ کیا آپ اپنی بیوی کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ اس کو دین کا علم ہے، آدھا دین کا علم کہنا تو بہت دور کی بات ہے۔ مدارس ہیں بھیجیں اپنی بیویوں کو کہ علم حاصل کریں۔ آج کی جو ایجوکیشن ہے، وہ یہ کہتی ہے کہ مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر عورت سارے وہ کام کرے جو مرد کرتےہیں۔ یاد رکھیے! اس فقیر کی نظر میں یہ بات شریعت وسنت کے مطابق نہیں، اور اس کے بارے میں حدیث ابو داؤد شریف میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے لعنت فرمائی اُن مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں اور اُن عورتوںپر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی ہیں۔ (ابو داؤد)
مشابہت کسی بھی طرح کی ہو وہ جائز نہیں۔
آپﷺ کی لعنت:
اس کے بارے میں ایک واقعہ سے بات سمجھ لیجیے! ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ کے قریب سے ایک عورت گزری جو کمان اُٹھائے ہوئے تھی۔ (اور مردوں کی طرح جس طرح بہادر جنگجو مرد ہوتے ہیں اس طرح وہ گزر رہی تھی) تو آپﷺ نے اس کے متعلق فرمایا کہ لعنت ہو ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی ہیں، اور اُن مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے ہیں۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ196)
اتنی سی مشابہت بھی اللہ کے نبی کو پسند نہ آئی۔ حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ چار اشخاص کے اوپر دنیا اور آخرت کی لعنت ہے اور فرشتے بھی اس لعنت پر آمین کہتے ہیں (یعنی وہ مقبول ہیں) اُن میں سے ایک تو وہ ہے  جسے خدا نے مرد بنایا اور وہ عورتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے۔ اور اسی طرح عورت بنایا اور وہ مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہے، لعنت کی گئی ان کے اوپر۔ (ترغیب جلد3صفحہ105)
تین محروم آدمی:
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
یہ کون خبردے رہا ہے؟ وہ کہ جن کو کفار نے بھی کہا کہ صادق الامین ہیں۔ کافروں نے آپﷺ کو جادو گر کہا، ساحر کہا، طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں، لیکن کوئی کافر حتیٰ کہ ابو جہل بھی آپﷺ کو جھوٹا نہیں کہہ سکا۔ آپﷺ کے صدق کو جانتا تھا، آپ کی سچائی کو مانتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں دنیا میں جنت کو دکھایا، جہنم کو دکھا دیا وہ فرماتے ہیں، جو حق اور سچائی پر ہیں وہ فرمارہے ہیں کہ جنت میں تین لوگ داخل نہیں ہوں گے:
(1) والدین کا نافرمان (جو ماں باپ کی نہیں مانتا)۔
(2) دیوث (دیوث کہتے ہیں اس شخص کو کہ جس کی بیوی، ماں، بہن کے پاس دوسرے غیر محرم آئیں اور اس کو پرواہ نہ ہو یعنی آسان اور آج کی زبان میںمکس گیدرنگ میں شامل ہونے والوں کو دیوث کہا جاسکتاہے۔
مردو زن کی ایک دوسرے کے ساتھ مشابہت پر وعید:
کل میں مسجد سے باہر نکلا اللہ کو حاضر ناظر جان کے بات کررہا ہوں۔ ظہر یا عصر کی نماز کے بعد مسجد سے باہر نکلا تو ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا: حضرت! ایک مسئلہ پوچھنا ہے تو میں نے کہا: پوچھو۔ تو کہنے لگا: ایک آدمی نے بیٹے کی منگنی کی اور منگنی کے بعد وہ اپنی ہونے والی بہو کی ماں کے ساتھ زنا میں ملوث ہوگیا، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ منگنی ٹوٹ گئی کہ نہیں ٹوٹی؟ اب مجھے بتائیے میں اس کا کیا جواب دوں۔ یہ مکس گیدرنگ نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔ اس نے تو نہیں کہا کہ مکس گیدرنگ ہے، اگر پردہ ہوتا تو کیا یہ بات ہوتی؟ کیا مجھ سے پوچھنے آتا وہ یہ سوال۔ میں اس کوکیا جواب دوں ؟ تو وہ انسان جو غیر مردوں کے ساتھ اپنے گھر والوں کا آنا جانا برداشت کرے یہ دل لگی یہ دوستیاں، تو فرمایا کہ جنت میں نہیں جائے گا اور یہ خبر نبی نے دی ہے۔ دنیا کے اندر ہوسکتا ہے کہ وہ سب سے بڑا عہدیدار بن جائے، مالدار بن جائے، سب سے بڑے منصب والا بن جائے لیکن قیامت کے دن کا معاملہ تو اللہ نے اپنے احکامات پر رکھا ہے، لیکن اس پر کون عمل کرتا ہے۔ تو پہلا فرمایا کہ ماںباپ کا نافرمان جنت میں نہیں جائے گا۔ اور دوسرا دیّوث جو اپنی عورت کا غیر محرموں میں آنا جانا اور دوسرے مردوں کا ان کے پاس آنا جانا برداشت کرلیتا ہو۔ اس کو پروا ہی نہ ہوتی ہو تو فرمایا کہ ایسا بے غیرت آدمی جنت میں نہیں جائے گا۔ جنت باحیا لوگوں کی جگہ ہے۔
(3) عورتوں کی طرح کا لباس اختیار کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔
(ترغیب جلد3صفحہ106)
عورتیں اپنے لباس میں احتیاط کریں:
ان تمام وعیدی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لباس عام طور سے مردوں کے لیے ہیں ان کو عورتیں پہنیں تو وہ بھی اس کے اندر شامل ہیں، جو لباس عام طور سے عورتوں کے لیے ہیں ان کو مرد پہنیں تو وہ بھی اس کے اندر شامل ہیں۔ چنانچہ مردوںکو پرنٹڈ کپڑے، لال رنگ کی قمیض پہننا بھی منع کیا گیا۔ عورتوں کو پینٹ، چست لباس پہننے سے منع کیا گیا۔ اور ایسا لباس پہننا جو مردوں کے مطابق ہے یہ منع کیا گیا۔ اور حال یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ لوگ اس کی پرواہ ہی نہیں کرتے، بلکہ ایسی عورتیں تو مردوں کی مشابہت کرکے فخر محسوس کرتی ہیں کہ جس پر اللہ کی لعنت برس رہی ہو، اب ان کو کیا سمجھایا جائے اور کوئی کیسے سمجھائے؟
مردوں جیسی جوتیاں:
اس بات کو ذرا ایک اور حدیث سے سمجھ لیجیے! یہ مشکوٰۃ شریف کی روایت ہے جس کا دل چاہے مشکوٰہ شریف کی جلد2 اٹھائے اور چیک کرے۔ حضرت ابو ملیکہ نے روایت کیا ہے کہ امی عائشہ کے سامنے ایک عورت کا ذکر کیا گیا وہ عورت جوتیاں مردوں جیسی پہنتی تھی، اس پر امی عائشہ نے فرمایا کہ اللہ کے رسولﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے جو مردوں کے طور طریقے اختیار کریں۔ (مشکوٰۃ جلد2صفحہ383)
جوتی پہننے پر جو لعنت ہو تو باقی چیزیں پہننے پہ کیا حال ہوگا؟ یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پہلے دل بدلتا ہے پھر لباس:
یہ بھی یاد رکھیے گا کہ پہلے دل بدلتے ہیں بعد میں لباس بدلا کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ
کہ جو جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوگا۔ اگر ہم کسی بھی ڈرامے کو دیکھ کر اس جیسا لباس بنواتے ہیں، یا ٹی وی کو دیکھ کر اس جیسا بنواتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لباس بعد میں پہنے گا، دل پہلے ہمارا ادھر ہوچکا ہوگا۔ یہ یاد رکھیے گا کہ دل پہلے بدلا کرتے ہیں، لباس بعد میں بدلتے ہیں۔ اللہ کرے کہ اس بات کی حقیقت ہمیں سمجھ آجائے۔ اب چند باتیں اور بھی ہیں۔
کافروں کے لباس کی ممانعت:
ایک تو یہ بات فرمائی کہ مرد عورت جیسا نہ پہنے، عورت مرد جیسا نہ پہنے۔ دونوں میں امتیاز رکھا ہے۔ اسی طرح یہ ممانعت فرمائی کہ دیکھو کہ تم غیروں کا لباس، کافروں کا لباس مت پہنو! اس کے بارے میں بھی صحیح مسلم میں واضح روایت ہے۔ یہ حدیث کی باتیں بتائی جارہی ہیں، اپنے سے گھڑ کے کچھ نہیںبتارہا، اور اگر کوئی کمی بات میں نکل آئے تو یہ بیان ہے، اس کی اصلاح آپ بعد میں کرسکتے ہیں۔ میں ان شاءاللہ اس کے لیے تیار ہوں۔ کوئی بات شریعت اور سنت کے خلاف ہو تو میری اصلاح ضرور کریں۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے میرے اوپر دو زرد رنگ کے کپڑے دیکھے تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ تو کافروں کا لباس ہے، ان کو مت پہنو۔ اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! میں ان کو دھو لوں گا اور ان کا رنگ صاف ہوجائے گا۔ فرمایا کہ نہیں، ان کو جا کر جلا دو۔
(مسلم، مشکوٰۃ صفحہ374)
آگ میں ڈال دو اتنی بھی اجازت نہیں دی۔
کفار کی مخالفت کا حکم:
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہحضرات صحابہ کرامj نے فرمایا: اےاللہ کے رسول! مشرکین پاجامہ تو پہنتے ہیں، لیکن تہبند(لنگی) نہیں باندھتےاس پر آپﷺ نے فرمایاکہ دیکھو! تم پاجامہ بھی پہنو اور لنگی بھی باندھتے رہا کرو تاکہ مخالفت ہوتی رہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جہاں تک ہوسکے، جس قدر ہوسکے شیطان کے دوستوں  کی مخالفت کرو۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ197)
یہ آقاﷺ کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہوسکے، جس قدر ہوسکے شیطان کی مخالفت کرو۔ اور قرآن سے پوچھیے، حدیث مبارک کو دیکھیے کہ شیطان کا دوست کون ہے؟ تو واضح لکھا ہوا ملے گا کہ کفار جو ہیں وہ شیطان کے دوست ہیں، یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ شیطان کی جماعت ہے۔
اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ١ؕ (المجادلہ:19)
بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ١ؕ (المائدۃ:51)
شیطان کی دوستی میں سارے ایک ہیں، ایمان والوں کی دشمنی میں سارے ایک ہیں۔ وضاحت کے ساتھ ہمارے نبی نے بتادیا:
اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ
’’ترجمہ: سارا کفر ایک مذہب ہے‘‘۔
قیامت کے دن بتائیں معافی ہم نے کس سے مانگنی ہے؟ اللہ سے، شفاعت کی امید کس سے ہے؟ نبی سے، تو ان کی بات یہاں مان لینی چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو غیروں کے طور طریقے، رہن سہن سے پرہیز کرنی چاہیے۔ حضرت ابو کریمہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کو کوفہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ وہ فرمارہے تھے: اے لوگو سنو! میں نے رسول اکرمﷺ سے سنا ہے کہ خبردار! راہبوں (عیسائی عبادت گزاروں) کے لباس کی مخالفت کرو، جو راہبانہ طریقہ اختیار کرے گا یا ان سے مشابہت اختیار کرے گا وہ ہم میں سے نہیں۔ اور جو جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی گروہ میں سے ہوگا۔ (مجمع جلد5صفحہ124)
ابو داؤد شریف کی ایک حدیث میں آتا ہے آپﷺ نے فرمایا کہ جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اسی قوم میں سے ہوگا۔ (ابو داؤدجلد3صفحہ559)
ایمان کو بچانا ہے:
ملا علی قاری فرماتے ہیں اس حدیث کی شرح میں کہ مراد اس سے ظاہری لباس اور ظاہری امور میں مشابہت اختیار کرنا ہے۔ غیر قوم سے تشبہ اختیار کرنا سخت وعید کی بات ہے۔ اس مشابہت اختیار کرنے والے کا شمار ان ہی دشمنانِ اسلام میں سے ہوگا۔ اللہ اکبر! کتنی بڑی وعید ہےاور آج ہم کتنے بگڑگئے ہیں کہ غیروں کے طریقوں پر عمل کرنے سے فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہماری نئی تعلیم ہمیں کہاں لے کر جارہی ہے۔ میں نئی تعلیم کا مخالف نہیں مگر اس تعلیم کی وجہ سے ہمیں دین سے کیوں دور کیا جارہا ہے؟ جدید تعلیم ایک فن ہے ٹھیک ہے جس درجے تک اس کی ضرورت ہے۔ ہمیں ڈاکٹر کی ضرورت ہے، انجینئر کی ضرورت ہے ہمیں وہ کرنا ہے مگر ایمان کو بچاتے ہوئے کرنا ہے۔
تشبہ اور اس کا مفہوم کیا ہے؟
اپنی ہیئت اور وضع تبدیل کرکے دوسری قوم کی وضع اور ہیئت کو اختیار کرنے کا نام تشبہ ہے۔ انسان اپنے تشخص کو بھول جائے اور دوسروں کو اختیار کرے۔ اس حوالے سے ایک دو واقعات ہیں۔
حضرت عمر کا فرمان:
حضرت عمر کے عہدِ خلافت میں جب اسلامی فتوحات کا دائرہ بہت وسیع ہوا تو فکر ہوئی کہ عجمیوں کے ساتھ اختلاط اور میل جول کی وجہ سے کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کے جو امتیاز ہیں، جو خاص چیزیں ہیں، کہیں ان کی مکسنگ (Mixing) نہ ہو جائے۔ اختلاط نہ ہوجائے، گڈ مڈ نہ ہوجائیں، کوئی فرق نہ آجائے۔ تو انہوں نے دو احکامات جاری کیے تاکہ اسلامی تہذیب اور رسم ورواج میں فرق رہے۔ ایک حکم مسلمانوں کی طرف اور ایک کافروں کی طرف۔ مسلمانوں کو کہا کہ دیکھو! تم نے کافروں کے طریقوں پر نہیں رہنا، رسولِ اکرمﷺ کے طریقوں پر رہنا ہے۔ اور کافروں کو کہا کہ دیکھو! تم اپنے طور طریقوں میں رہو، تم ہمارے طریقے مت اختیار کرو، تاکہ الگ الگ طریقے واضح رہیں، مماثلت نہ ہوجائے۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایران میں مقیم مسلمانوں کو یہ پیغام بھیجا کہ مشرکین اور کافروں کے لباس سے دور رہیں۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا کہ جامع بیان ان کی طرف سے بھیجا گیا۔ یہ فاروقی بیان ملاحظہ کریں:
اے مسلمانو! ازار اور چادر کا استعمال کرو یعنی لنگی اور چادر بھی پہن لیا کرو۔ اور پاجامہ تو بہرحال مسنون ہی ہے اس پر بات ہوچکی ہے۔ تم مسلمانوں والا لباس استعمال کرو، اور جوتے پہنو۔ جد امجد حضرت اسماعیل کے لباس کو لازمی پکڑو۔ عجمیوں کے لباس یعنی غیروں کے لباس، ان کی وضع قطع اور ہیئت سے دور رہو۔ موٹے اور کھردرے کپڑے پہنو (جو تواضع کا سبب ہیں)۔
حضرت عمر کا دوسرا فرمان:
مسند احمد بن حنبل کے اندر بھی ایک روایت ہے کہ جب مسلمانوں کا لشکر آذر بیجان میں پہنچا، اور چلتے ادھر آگئے جہاں پر یہ رشین اسٹیٹس ہیں ازبکستان، آذربیجان وغیرہ۔ تو جب مسلمانوں کا لشکر وہاں پہنچا تو فاروق اعظمh کا فرمان بھی ان کو ملا۔ اُس زمانے میں لشکر کے جو سردار تھے ان کا نام عتبہ بن فرقد تھا۔ آپ نے ان کو مخاطب کیا: اے عتبہ! تم سب کا فرض ہے اپنے آپ کو عیش پرستی سے روکو، اُن کی مشابہت اختیار کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اور مردوں کو کہا: ریشم سے پرہیز کرو۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ198)
توہین اسلام سے بچنا:
اس بات سے ہمیں کیا معلوم ہوا کہ ہمیں کفار کے لباس اور ان کی وضع قطع اور ان کی ہیئت اختیار کرنے سے سخت گریز کرنی چاہیے، بچنا چاہیے! اس میں اسلام کے شعائر کی توہین ہے۔ اسلام کا بھی ایک معیار ہے اگر اس کی پاسداری نہ کی جائے تو اس کی توہین ہوتی ہے۔ لہذا ہم انگریزی لباس کو چھوڑ دیں اور نبوی لباس کو اختیار کریں، دشمنوں کے لباس کو چھوڑدیں۔
رسول اکرمﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ کفار کا لباس مت پہنو! اور کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج ہمیں اس فرمان کی کوئی قدر نہیں رہی۔ نبیd کے حکم کی کوئی قدر نہیں رہی۔ ایسا لباس اختیار کرنا قیامت کے دن اللہ کی ناراضگی کا سبب ہوگا۔ اور یہ یاد رکھیں کہ کفار کے لباس میں عام طور سے بے پردگی ہوتی ہے۔
ساڑھی کا حکم:
ایک لباس جسے ساڑھی کہتے ہیں۔ ساڑھی تو شریعت نے حرام قرار دیدی، منع ہی کردیا کہ اس میں پیٹ بھی اور پیٹھ بھی دونوں ہی کھلا رہتے ہیں۔ ذرا سا ساڑھی کا آنچل ہٹ جائے تو گلا اور سینہ بھی نمائش میں آجاتا ہے، تو اس کے اندر ممانعت کی گئی کہ ایسا لباس مت پہنو۔
آپﷺ کی دعائے رحمت:
مسلمان عورتوں کا شرعی لباس کرتا پاجامہ ہے۔ نبی نے پاجامہ پہننے والی عورتوں پر رحمت کی دعا فرمائی ہے۔ سادہ پاجامہ (شلوار) جو شریعت سنت کے مطابق ہو ایسی عورت کے اوپر نبی نے رحمت کی دعا فرمائی ہے۔ ان شاءاللہ آگے اس کے بارے میں تفصیل سے بات ہوگی۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔
ایک افسوس ناک صورت حال:
اور ہمارا حال تو اتنا بگڑ گیا ہے کہ کچھ لوگوں کا فون آیا کہ حضرت! اب ہمیں پینٹ شرٹ کے بغیر دفتر میں داخلہ کی اجازت نہیں۔ کہتے ہیں نوکری چھوڑنی ہے تو چھوڑ دو، لیکن اگر تم مسلمانوں کا لباس پہن کر آؤ گے تو ہم تمہیں کام نہیں کرنے دیں گے۔ یہ مسلمانوں کے دفتر ہیں۔ پچھلے دنوں میں کئی لوگوں نے یہ بات بتائی کہ جی دفتر میں جاتے ہیں وہاں منع ہے کہ اگر تم قمیض شلوار میں آئے تو تم اندر داخل نہیں ہوسکتے۔ دوسرے لفظوں میں یہی ہوا ناں! کہ اگر تم اس نبی کے لباس میں آئے جس کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو ہم تمہیں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ ہم کہاں جارہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت سنت کی پابندی عطا فرمائے۔ اور دین کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں