124

لباس

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ o
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ o
﴿ یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَ رِیْشًا وَلِبَاسُ التَّقْوٰ ی ذٰلِکَ خَیْرٌ ذٰ لِکَ مِنْ اٰ یٰتِ اللہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ﴾ (سورۃ الاعراف: 26)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ گلدستۂ سنت کے بیانات چل رہے ہیں۔ اور آج لباس سے متعلق کچھ احکامات اور لباس کی شرعی اہمیت کواجاگر کیا جائے گا۔ اگر توجہ سے بات کوسمجھیں گے تو ان شاء اللہ،ضرور اس کا فائدہ ہوگا۔
لباس کی اہمیت:
لباس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ اے آدم کی اولاد! ہم نے اتارا تم پر یہ لباس جو ڈھانک دے تمھاری شرم گاہیں اور تمہیں زینت عطا کرے۔اور فرمایا کہ تقویٰ کا لباس تو سب سے بہترین لباس ہے۔ اور لباس کو اللہ نے فرمایا کہ یہ میری نشانیوں میں سے ہے۔ لباس کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا کہ اے اولادِ آدم! یہ ہمارا انعام ہے، ہم نے تمھارے لیے لباس پیدا کیا جو تمھارے بدن کو چھپاتا ہے اور موجبِ زینت بھی ہے۔ اور اصل لباس تو یاد رکھو! تقویٰ اور دین داری ہے، اگر تم دین داری والا معاملہ رکھو گے وہ ہمیں زیادہ پسند ہے۔ اور اگلی آیت میں اللہ نے فرمایا:
﴿یٰبَنِیْٓ آدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِ یَھُمَا سَوْ اٰتِھِمَا﴾ (سورۃ الاعراف: 27 )
’’ اے آدم کی اولاد!شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے کہ تم سے خلافِ حیا، خلافِ تقویٰ کوئی کام کروا دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکالا تھا اس حالت میں کہ ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وہ ایک دوسرے کا بدن دیکھ سکیں‘‘۔
تو ایسے انسان کے لیے بڑی رسوائی ہے جو شریف ہو اور اس کے اندر حیا نہ ہو۔ اور اسی آیت کے اندر آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴾ (سورۃ الاعراف: 27 )
’’ شیطان کا رفیق اور شیطان کا ساتھی ہم اسی کو بناتے ہیں جس کے اندر ایمان نہ ہو‘‘۔
کامل طور پر شیطان کا تسلط اس کے اوپر ہوتا ہے جو کافر ہو، لیکن اگر کوئی ایمان والا ہے تو جتنا کم درجے کا اس کا ایمان ہے تو گویا باقی حصہ پرشیطان کا تسلط ہے۔ سمجھنے کے لیے بتاتا ہوں کہ ایک آدمی کا ایمان ہے 50%، تو 50% شیطان کا تسلط ہے۔ ایک کا اگر% 20ہے تو %80شیطان کا تسلط ہے۔ اگر کسی کا 90% ایمان ہے تو 10%شیطان کا تسلط ہے۔ اور اگر کوئی کامل ایمان والا ہے تو ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ﴾ (سورۃ الحجر:42)
’’جو میرے بندے ہیں شیطان کا ان پہ کوئی زور نہیں چلتا‘‘۔
تو اگر ہم اللہ کے بندے ہیں تو شیطان کا زور ہمارے اوپر نہیں ہونا چاہیے۔ تو لباس کیا ہے اس کے بارے میں دل کے کانوں سے باتوں کو سمجھیں اور سنیں!
انسانوں کے لیے تحفہ:
اللہ فرماتے ہیں کہ تمھارا لباس قدرت کی ایک عظیم نعمت ہے اس کی قدر کرو۔ اور یہاں پر خطاب صرف مسلمانوں کو نہیں ہے۔
﴿یَا بَنِیْ آدَمَ﴾
تمام انسانیت کو ہے کہ فطری طور پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ لباس عطا فرمایا۔ اور کیوں عطا فرمایا؟ اسکی وجہ بھی پروردگار عالم نے خود بتا دی۔ آج کل ہم کہہ دیتے ہیں کہ علماء ایسے، مولوی ایسے، فلاں ایسے ارے بھئی! اللہ خود اپنے کلام پاک میں فرما رہے ہیں کہ لباس تمہیں ہم نے اس لیے دیا کہ تم اپنے بدن کوچھپائو اور زینت اختیار کرو اور اصل لباس بتایا وہ تقویٰ کا لباس ہے، حیا کا لباس ہے، شرم اور لحاظ کا لباس ہے۔ وہ زیادہ خیر والا ہے۔
ایک بہت بڑی غلطی کی اصلاح:
بعض فلسفی قسم کے لوگ یوں کہہ دیتے ہیں کہ شروع میں انسان با لکل ننگا تھا، آہستہ آہستہ ارتقائی عمل سے گزرتا رہا، پھر اس نے لباس ایجاد کرلیاتو وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ حضرت آدم اور اماں حوّا دونوں میاں بیوی جنت میں تھے اور جنت میں اللہ نے ان کو لباس دیا تھا۔ اور شیطان نے کیا کیا؟ شیطان نے ان کے لباس کو اتروانے کی کوشش کی۔
لباس کے دو فائدے بتائے:
(1) سترپوشی اور سترپوشی کے ساتھ ہی گرمی اور سردی سے حفاظت
(2) آرائشِ بدن، انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا تو باقی جانوروں کو اللہ نے لباس عطا نہیں کیا، انسان کو لباس سے زینت عطا فرمائی۔
شیطان کی دشمنی:
اب ذرا دیکھیے! شیطان ہمارا پکا دشمن ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا﴾ (سورۃ فاطر : 6)
’’ دیکھو شیطان تمھارا دشمن ہے تم بھی اس کو دشمن بنا کے رکھنا‘‘۔
اور اس کی دشمنی کب سے ہے جب فرشتوں کو حکم ہوا:
﴿اُسْجُدُوْا لِآدَمَ ﴾ (البقرۃ:34)
’’آدم کو سجدہ کرو ‘‘۔
توابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کرلیا۔ وہاں سے اس کو دشمنی ہوگئی کہ عزت والا تو میں تھا، میں نے لاکھوں سال عبادت کی تھی، میں نے اللہ کے قرب کا مقام پایا، زمین کے چپے چپے پر میں نے سجدے کیے۔ یہ کل کے پیدا ہونے والے آدمu کو سجدے کا حکم ہو رہا ہے اور مجھے کرنے کا حکم دیاجا رہا ہے۔ تو اس کو حسد ہوگیا اور اس نے اپنے دل کے اندر پنجابی میں کہتے ہیں کہ ’’وٹ رکھ لیا‘‘۔ تو انسان کے لیے اس نے اپنے اندر دشمنی رکھ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول کھول کے بیان کیا۔
حضرت آدم اوراماں اور شیطان :
آدم اور اماں حوّا یہ دونوں میاں بیوی ہیں اور قرآن مجید کے اندر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِ یَھُمَا سَوْ اٰتِھِمَا﴾ ( سورۃالاعراف : 27 )
’’ان دونوں کا لباس اتروادیا تاکہ وہ ان کو ان کی شرم گاہیں دکھادے‘‘۔
وسوسے کیوں ڈالے؟
﴿ فَوَسْوَسَ لَھُمَاالشَّیْطٰنُ﴾
’’شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے‘‘۔
وسوسے اس لیے ڈالے کہ یہ دونوں اپنے جسم کو دیکھ سکیں۔ ذرا غور کریں! اللہ تعالیٰ کتنی حیا والے ہیں، اللہ تعالیٰ کی غیرت کتنی ہے۔ اپنا بدن دیکھنا گناہ نہیں، شوہر بیوی کا بدن دیکھ سکتا ہے، بیوی خاوند کا بدن دیکھ سکتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ جنت اتنی مقدس اور اتنی اعلیٰ جگہ ہے کہ یہاںاگر میاں بیوی بھی ہیں تو ایک دوسرے کے ستر کو نہ دیکھیں اور شیطان کیا چاہتا ہے کہ ان کے ستر کھلوائے۔ یہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:
﴿ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا﴾
شیطان نے کوشش کی کہ لباس اتروائے۔
انسان پر شیطان کا سب سے پہلا وار:
انسان کے اوپر جو سب سے پہلا شیطان کاوار ہوا ،وہ انسان کو بے لباس کر ناتھا اور اس نے کروایا۔ قرآن مجید میںآتا ہے:
﴿کَمَا اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا﴾
جیساکہ اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا اوران سے ان کے لباس اُتروائے تاکہ ان دونوں کو ان کی شرم گاہیں دکھلائے۔ یہاں ایک باریک سی بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ جب پروردگار عالم کو یہ اچھا نہیں لگتا کہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے جسم کو دیکھیں تو یہ کیسے برداشت کریں گے کہ کوئی نا محرم دوسرے کے جسم کو دیکھے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
حضورِ پاکﷺ کی حیا:
حضرت عائشہ صدّیقہ نے بھی بتایا کہ نبی نے ازواجِ مطہرات کے جسم کو نہیں دیکھا۔ زندگی گزاری اور ازدواجی حقوق سب اداکیے۔ جو شریف لوگ ہوتے ہیں وہ جسم کو مکمل طور سے خالی رکھنا پسند نہیں کرتے۔
نام نہاد ترقی:
شیطان نے انسان کے اوپر جو سب سے پہلا حملہ کیا وہ ان کو بے لباس کروایا۔اور آج بھی شیطان خود اور اپنے چیلوں سمیت، وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، انسان کے لباس اتروانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ شیطان اس کو برہنہ کرنا چاہے گا یا نیم برہنہ کرکے عورتوں کو سڑکوں پر اور گلیوںمیں کھڑا کردیتا ہے۔ اور آج جس چیز کا نام ہم نے تہذیب رکھا، شائستگی رکھا، اور جس چیز کا نام ہم نے ترقی رکھا ہوا ہے، سوائے فحاشی کے اور وہ کچھ بھی نہیں۔ تو شیطان نے ہمارے ماں باپ کے بھی کپڑے اتروائے اور آج وہ ہمارے بھی کپڑے اتروانے کے لیے دن رات زور لگا رہا ہے۔ اور ہمارا پورا میڈیا اس کے لیے تیار ہے کہ انسانوں کے کپڑے اتروائیں، تو یہ کپڑے اتروانا شیطانی کام ہے۔ اور اللہ کا حکم اور اللہ والوں کا کام کیا ہے؟ حیا او ر پاک دامنی کی تعلیم دینا۔ تو شیطان نے انسان کے کمزور پہلوئوں کو بھانپ کر پہلا حملہ انسان کی ستر پوشی پر کیا۔
ایمان لانے کے بعد سب سے پہلا فرض:
اگر آپ غور کریںتو آپ کو معلوم ہوگاکہ نماز فرض ہے لیکن ستر کو چھپانا یہ نماز سے پہلے فرض ہے۔ ایمان لانے کے بعد جو سب سے پہلا فرض ہے وہ نماز نہیں ہے، ایمان لانے کے بعد جو سب سے پہلا فرض ہے وہ بدن کو چھپانا ہے۔ جس کا بدن کھلا ہے وہ نماز پڑھ ہی نہیں سکتا ،بتائیں کیسے پڑھ سکتا ہے۔ تو ستر پوشی کی اتنی اہمیت ہے کہ نماز بھی اس کے بغیر مکمل نہیں۔ علماء نے لکھا کہ ایمان کے بعد جو سب سے زیادہ ضروری ہے وہ ستر پوشی ہے۔
نیا لباس پہننے پر آپﷺ کی دعا:
یہ سترپوشی اتنی بڑی نعمت ہے کہ نبی کو جب نیا لباس ملتا تو آپ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی کَسَانِی
’’اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے لباس عطا کیا‘‘
اور آگے فرماتے ہیں:
مَااُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ (سنن ابن ماجہ)
’’جس کے ذریعے میں اپنے ستر کو چھپائوں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے زینت حاصل کروں‘‘۔
تو اللہ تعالیٰ نے جس بات کا ذکر کیا، نبی کریم ﷺنے اسی بات کا شکر اداکیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی چاہت کو اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺنے پورا کیا، تو ہمیں امتی ہونے کی حیثیت سے لباس کو بڑے خیال سے پہننا چاہیے۔
اصل لباس :
لباس کی اصل قسم کیا ہے؟
﴿وَ لِبَاسُ التَّقْوٰ ی ذٰ لِکَ خَیْرٌ﴾
’’ تقویٰ کا لباس یعنی انسان کے اوپر حیا کا لباس ہویہی بہتر ہے‘‘۔
گویا کہ یہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔
تقوٰی کالباس کیا ہے؟
ذرا غور کریں! یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے؟ عام لباس ہمارے جسم کے عیب کو چھپاتا ہے۔ جسم کے اندر کہیں پھوڑا ہو، کوئی دانہ ہو، یاجسم پر کوئی جلنے کا نشان ہو، انسان لباس پہن لیتا ہے تو وہ عیب چھپ جاتا ہے، تو ظاہری لباس نے ظاہری اعضاء کو چھپایا۔ اور اگر کسی نے حیا کا لباس پہنا، تقویٰ کا لباس پہنا ،یہ حیا اور تقویٰ اس کے باطنی عیوب کو چھپالے گا، اس کے اندر کے عیب اور کمزوریوں کو چھپالے گا۔ اگر کوئی بیوی ہو کھانا پکانا نہیں آتا اور اس کو گھر کے کام کاج زیادہ سلیقے سے نہیں آتے لیکن اگر وہ باحیا ہوگی تو شوہر کو یقینا پسند ہوگی۔ جو حیا والے شوہر ہوں گے تو وہ اسی حیا والی صفت کی وجہ سے اس کو اپنے دل کے قریب رکھیں گے۔
نیکی اور برائی کا اثر:
یہاں ایک بات اور بھی سمجھنے والی ہے۔ حدیث کا مفہوم بتارہاہوںکہ نبی نے فرمایااور یہ روایت ابنِ جریرنے عثمان غنی سے نقل کی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے قسم اُٹھاکے فرمایاکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے! جو شخص بھی کوئی عمل لوگوں کی نظروں سے چھپا کرکرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو لباس یعنی چادر بنا کر اس کے اوپر چڑھا دیتے ہیں۔ یعنی نیک عمل ہوگا تو چہرے کے اوپر اللہ تعالیٰ نیکی کی چادر چڑھا دیں گے، اور اگر چھپ چھپ کے برائی کا عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ برائی کی چادر اس کے اوپر چڑھا دیں گے۔ یہ شکل سے نظر آجاتا ہے، شکل کے اوپر چاہے کچھ بھی ہو اللہ والے جو صاحبِ بصیرت لوگ ہوا کرتے ہیں وہ انسان کے چہرے کو دیکھ کر پہچان لیا کرتے ہیں کہ اندر کیا معاملہ ہے۔ کوئی ستّر پردوں کے اندر جاکر نیکی کرے اور رات کے اوقات میں تہجد پڑھے تواللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو منوّر کر دیتے ہیں۔ اس کے چھپے ہوئے عمل کی چادر اس کے چہرے پر پہنا دیتے ہیں۔ اور اگر کوئی ستّر پردوں میں چھپ کر گناہ کرے اور کسی کو بے لباس کرے اور خود بھی بے لباس ہو کتنا ہی چھپ کر کیا ہو، نبی نے قسم اُٹھا کر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ذلت اور اس کی رسوائی کو اس کے چہرے سے ظاہر کر دیں گے۔ یہ پکی بات ہے، نبی کی بات میں غلطی ہو ہی نہیں سکتی۔ جس طرح انسان نے بدن کے اوپر چادر اوڑھی ہوئی ہوتی ہے وہ انسان کو نظر آتی ہے، سب کو نظر آتی ہے اسی طرح انسان کا عمل کتنا ہی پوشیدہ کیوں نہ ہو اس کے آثار،ثمرات، اس کے حالات اس کے چہرے اور بدن کے اوپر اللہ تعالیٰ ظاہر فرما دیتے ہیں۔
ہماراظاہری لباس کیسا ہو؟
ہمارا ظاہری لباس کیسا ہو؟ متقی لوگوں جیسا ہو، رسول اللہ ﷺ جیسا ہو، وقت کے علماء جیسا ہو۔ اور لباس کے بارے میں فرمایاکہ اتنا چست بھی نہ ہو کہ جسم کے اعضا کُھل کے نظر آنے لگیں، یہ بھی بے لباس کے حکم میں آئے گا۔ اور نہ ہی لباس میں فخر اور غرور کا انداز ہو، عاجزی ہو تکبر نہ ہو۔ اور اگر انسان قیمتی لباس پہننا چاہے تو اسکی بھی اجازت دے دی، لیکن اس میں کیا مقصود ہو؟ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اظہار، یہ نہیں کہ میں نے آج قیسریے کا سوٹ پہنا ہے ۔شوہر کو کہا مجھے فلاں سوٹ لاکے دو فلاں برینڈ کا دو، مجھے تو صفینا برینڈ ہی چاہیے۔ ان برینڈز کے پہننے کی اجازت ہے لیکن صرف اور صرف اس لیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا شکر ادا کریں۔ اگر یہ نیت ہے تو مہنگے سے مہنگے سوٹ اور کپڑے پہننے کی اجازت ہے۔ اور اگر نیت یہ ہے کہ میں سب سے اچھا نظر آئوں، میں سب سے اچھی نظر آئوں، لوگ مجھے میرے کپڑوں سے پہچانیں تو یہ گناہ ہو جائے گا۔ دل کے اوپر انحصار ہے۔ اگر لباس پہنا اور غرور آگیا، فخر پیدا ہوا، اپنی بڑائی آگئی تو معاملہ خراب ہوگیا۔ اسی طرح لباس میں فضول خرچی سے بھی بچا جائے۔
مردوں اورعورتوں کی آپس میں مشابہت:
اور اسی طرح عورتوں کے لیے وہ لباس پہننا جس میںمردوں کی مشابہت آ جائے یہ حرام، اور مردوں کے لیے وہ لباس پہننا جس میں عورتوں کی مشابہت آجائے وہ بھی حرام۔ یہ اللہ تعالیٰ کو غصہ دلاتے ہیں ۔
کفّار کی نقّالی جائز نہیں:
اسی طرح لباس کے اندر ایک بات اور بھی ہے کہ انسان غیر مسلمقوم کا لباس نہ پہنے، ان کے ساتھ نقالی نہ کرے۔ ایک صاحب میرے جاننے والے دوست ہیں۔ میرے پاس آئے کہنے لگے: جناب! میں بڑا پریشان ہوں، میری بیوی تو ہندنی ہوگئی ہے۔ یعنی ہندو کی مؤنث کا لفظ استعمال کیا۔ کہنے لگے کہ میری بیوی ٹی وی پر جو کسی انڈین ایکٹرس کو لباس پہنا ہوا دیکھتی ہے وہی پہننا چاہتی ہے۔ تو یہ چیز کسی طرح بھی اسلام کی غیرت اور حمیت کو گوارہ نہیں۔
مثال:
اپنی قوم کے ساتھ، اپنی ملت کے ساتھ غداری اور اعراض پسندیدہ نہیں۔کوئی پاکستانی فوجی ہو اور انڈین آرمی کے لباس میں آجائے تو اس کا کورٹ مارشل ہو گا، وہ کہے جی کہ میں اندر سے بڑا پکا پاکستانی ہوں، بڑا محب ِ وطن ہوں لیکن کیا کہا جائے گا کہ تو دشمن کے روپ میں آیا ہے، یہ روپ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کوئی بھی غیرت مند پاکستانی اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی پاکستانی فوجی کسی دشمن کے لباس میں آئے۔ تو اللہ ربّ العزّت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اور نبیu نے تو خود فرما دیا:
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ (سنن ابی داؤد کتاب اللباس :4030)
’’جو جن کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا قیامت کے دن ان کے ساتھ ہی اٹھایا جائے گا‘‘۔
اولاد آدم کوتنبیہ:
پھر دوسری آیت مبارکہ میں اللہ ربّ العزّت نے اولاد آدم کو خطاب کر کے تنبیہ فرمائی کہ دیکھو! اپنے ہر حال اور ہر کام میں شیطان کے مکر سے بچتے رہو، ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو فتنے میں مبتلا کردے جیسا کہ تمھارے ماں باپ کو فتنے میں مبتلا کیا اور ان کو بے لباس کردیا ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں بھی بے لباس کردے۔ وہ تمھارا پکا دشمن ہے تم اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا! اسی طرح ایک اورآیت میںاللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
﴿یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَکُلِّ مَسْجِدٍ﴾ (الاعراف:31)
اے آدم کی اولاد! تم آرائش استعمال کر سکتے ہو، جب مساجد میں آئو تو اچھے اور خوبصورت لباس کے ساتھ آئو، مسجد میں حاضری کے وقت زینت اختیار کرو ۔
حضرت حسن کا عمل:
حضرت حسنt کی عادت مبارکہ تھی کہ نماز کے وقت اپنا سب سے بہتر لباس پہنتے تھے۔
ایک نیک خاتون کا واقعہ:
ایک خاتون بڑی نیک تھیں اللہ والی تھیں۔ رات کو خاوند گھر آتے تو تیار ہونے کے بعد ان کے پاس آتیں، کہتیں آپ کو میری حاجت ہے، کوئی کام ، کوئی خدمت، کوئی ضرورت؟ تو وہ ان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے بعد وہاں سے اٹھتیں اور بہترین لباس پہن کر اور خوشبو لگا کر اللہ کے سامنے کھڑیں ہوتی تھیں۔ آج ہماری عورتیں کیا کرتیں ہیں؟ لباس کس وقت پہنتی ہیں کہ جب فنکشن میں جانا ہو تو فنکشن میں جانے کے لیے پہننا یہ اور بات ہے، اللہ کے یہاں کھڑے ہونا یہ اور بات ہے۔
نئے لباس کی ابتدا:
مردوں کے لیے تو یہ ہے کہ جب نیا لباس پہنیں تو کوشش کریں کہ جمعے کے دن نماز جمعہ کے لیے پہنیں اس کے بعد پہنتے رہیں منع نہیں۔نماز کی نیت کے ساتھ لباس خریدیں اور نیا لباس جمعہ کے دن پہنیں، نماز جمعہ کے لیے پہنیں تو یہ بہت ہی مقبول عمل ہوجائے گا۔ عورتیں بھی جب نیا لباس خریدیں تو وہ پہلی دفعہ کوشش کریں تہجد کے اوقات میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے کے لیے پہنیں اور اللہ کو دکھائیں کہ اللہ جی! میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں۔ اللہ کے لیے لباس پہنیں۔ مہنگا لباس پہننا منع نہیں ہے اصل تو دل کی نیت کا معاملہ ہے۔تو انسان کیسا لباس پہنے؟
پہلی بات :
ستر پوشی ہو
دوسری بات:
سنت کے مطابق لباس ہو
تیسری بات :
لباس اللہ تعالیٰ کے لیے پہنا جائے۔ تو بقدرِ استطاعت صاف ستھرااچھا لباس اختیار کرنا یہ منع نہیں۔
مکروہ لباس:
مسجد میں جاتے ہوئے یا نماز میںایسا لباس پہننامکروہ ہے جس کو پہن کے انسان لوگوں کے سامنے نہ جاسکے۔ اب بعض لوگ مسجد میں چلے جاتے ہیں قمیض کسی اور رنگ کی ہوتی ہے، شلوار کسی اور رنگ کی ہوتی ہے پہن کر مسجد پہنچ جاتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ایسا لباس جس کو پہن کے انسان کسی فنکشن میں جانا چاہے اور شرمندگی محسوس کرے، ذلت محسوس کرے تو گویاوہ اچھا لباس نہیں، تو اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کے دربار میں، اللہ تعالیٰ کی مجلس میں ہم ایسا خراب لباس پہن کر جائیں تو یہ بھی ٹھیک نہیں۔ اور یہی بات عورتوں کے لیے بھی ہے کہ وہ لباس جس کو سمجھتی ہیں کہ میں نے سسرال میں جانا ہے یا فلاں کسی دعوت میں جانا ہے، اگر انہوں نے یہ نہ پہناتو بہت ہی برا لگے گا۔ تو ایسے لباس میں پھر یہ نماز بھی نہ پڑھیں نماز بھی صاف ستھرے لباس میں پڑھیں۔ میں بہت اعلی لباس کی بات نہیں کر رہا، کچھ لباس ہوتے ہیں جو بہت ہی خراب ہوتے ہیں وہ ہم نماز کے لیے نہ رکھیں نماز میں بھی اچھا لباس استعمال کریں۔
عمدہ کپڑے پہننا:
فضول خرچی سے بھی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں۔ زیب وزینت کو اختیار کرنامنع نہیں۔ ہمارے سلف صالحین اور آئمہ اسلام میں سے بہت سے اکابر جن کو اللہ تعالیٰ نے خوب مال اور وسعت عطا فرمائی تھی وہ اکثر و بیشتر عمدہ اور بیش قیمت لباس پہنا کرتے تھے ۔
ایک ہزار درہم کی چادر:
خود حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ سرکار دوعالمﷺ نے بھی وسعت کے وقت میں خوب عمدہ لباس پہنا۔ یہ آپﷺ کا معمول نہیں تھا بہرحال اس کوکبھی کبھی پہنا۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ ﷺکے بدن مبارک پر ایک ایسی چادر تھی جس کی قیمت ایک ہزار درہم تھی۔ اور ایک روایت میں اس سے بھی زیادہ قیمتی کا ذکر آتا ہے تو بہت قیمتی لباس بھی پہنا۔ نبی نے امت کے امیروں کے لیے ایک گنجائش نکال دی کہ اچھا بھئی! تم قیمتی لباس پہن سکتے ہو لیکن مقصد یہ ہو کہ میں نے اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے۔
امام اعظم کا عمل:
حضرت امام اعظم امام حنیفہنے ایک مرتبہ جولباس پہنا، چادر پہنی، اس کی قیمت 400 اشرفیاں تھیں اتنی قیمتی پوشاک پہنی لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اظہار کے لیے تھی۔
امام مالک کا لباس:
امام مالک نبی سے شدید محبت کیا کرتے تھے۔ ایک ایک سنت کا لحاظ رکھنے والے تھے۔ اللہ اکبر! ہمیشہ نفیس اور عمدہ لباس استعمال کرتے تھے اور ان کے کسی شاگرد نے،ان کے کسی ساتھی نے جو ان کا معتقد تھا ایک ایسا عجیب انتظام کیا کہ سال بھر کے 360 دن ہوتے ہیں تو امام مالک کے360جوڑے وہاں سے آتے تھے۔ اور امام مالک روز نیا جوڑا پہنتے تھے۔ اور جو جوڑا وہ پہن لیتے تھے اگلے دن نہیں پہنتے تھے، اگلے دن پھر نیا جوڑا اور شام کو وہ جوڑا جب اتارتے یا اگلے دن اتارتے تو وہ ایک دن کا پہنا ہوا جوڑا آگے کسی کو ہدیہ کردیا کرتے تھے۔
پرانے لباس کو ہدیہ کرنے کا ثواب:
حدیث مبارکہ کے اندر بھی نبی نے اس بات کو وضاحت سے فرمایا کہ جو انسان اپنا پرانا لباس اتار دے اور کسی مسکین کو صدقہ کر دے تو وہ زندگی اور موت کے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں آگیا۔ نبی نے فرمایا کہ جو شخص نیا لباس پہننے کے بعد پرانے لباس کو غرباء میں تقسیم کردے ،مساکین پر صدقہ کر دے وہ اپنی زندگی اور موت کے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری اور پناہ میں آگیا۔ تو روز نیا لباس پہننا بھی منع نہیں ہے لیکن مقصد کیا ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے اظہار کے لیے ہے۔ نبی کا ارشاد ہے: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کواپنی نعمت دیںاور وسعت عطا فرما دیں تو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں، پسند کرتے ہیںکہ اس نعمت کا اثر اس کے اوپر دیکھیں۔ ایک امیر آدمی ہے اللہ نے نعمتیں دی ہوئی ہیں، یہ اگر پھٹے پرانے کپڑے پہن کر آئے گا تو اللہ اس شخص پر ناراض ہوں گے ۔ جب امیر پھٹے پرانے کپڑے پہنے گا تو غریبوں کا کیا حال ہو گا۔ تو اس لیے یہ اچھے کپڑے پہن سکتے ہیں۔
ضروری بات:
ضروری بات کیا ہے؟ رِیا، دکھاوا اور نمودو نمائش، فخر اور غرور سے اپنے آپ کو بچائے ،یہ چیز بہت ضروری ہے اور یہ چیز پھر اللہ والوں کی صحبت میں رہ کر ، ذکر کی کثرت کر کے پھر حاصل ہوتی ہے، گھر بیٹھے نہیں ملے گی اور ہمارے سلف صالحین ان دونوں چیزوں سے بری تھے۔
دو سوالات اور انکے جوابات:
اب یہاں دو سوال دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ نبی کریم ﷺ، صدیق اکبر اور فاروق اعظم یہ حضرات اور دوسرے صحابہ حضراتبہت عام اور معمولی قسم کا کپڑا استعمال کرتے تھے، اس کی کیا وجہ ہے؟
علماء نے اس کے بارے میں فرمایا کہ دیکھیں! ان لوگوں کے پاس جتنا مال آتا تھا، کبھی لاکھوں کے حساب سے آتا تھا تو یہ سارا صدقہ کر دیتے تھے کیونکہ یہ جانتے تھے۔
﴿مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَ مَاعِنْدَ اللہِ بَاقٍ﴾ (النحل:96)
’’جو تمہارے پاس ہے ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے، باقی رہے گا‘‘۔
جو ہمارے پاس رہ گیا یہ ختم ہو جائے گا، فنا ہو جائے گا۔ جو اللہ کے پاس رہے گا وہ باقی رہے گا، تو وہ باقی رہنے والے مال کو پسند کرتے تھے لہذا سب صدقہ کر دیتے تھے، غریبوں کو دے دیا کرتے تھے۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ جتنا مال آتا سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا کرتے تھے۔
دوسری وجہ کیا تھی کہ یہ حضرات کون تھے؟ یہ تمام مخلوق کے مرجع تھے، سب لوگوں نے ان کی طرف متوجہ ہونا تھا۔ نبی پوری کائنات کے لیے مرجعِ خلائق ہیں۔ تو آپﷺ نے ہلکا کپڑا پہن کے امت کے غریبوں کو تسلی دی کہ دیکھو! تمھارے نبیﷺ نے بھی پیوند والے کپڑے پہنے ہیں تمہیں تو پھر صاف کپڑے مل جاتے ہیں۔ فاروق اعظمجب بیت المقدس کو فتح کرنے پہنچے تو غالباََ 13 پیوند ان کے کپڑوں میں لگے ہوئے تھے۔ کیاآج آپ نے اپنی آنکھوں سے اپنی زندگی میں کسی ایسے غریب کو دیکھا ہے کہ جس کے لباس میں دوسرے رنگوں کے 13 جوڑ لگے ہوئے ہوں اور وہ کسی مجلس میں آیا ہو؟ تو ان کا معاملہ کچھ اور تھا وہ تو امت کے غریبوں کا خیال رکھنے والے تھے۔
نفس کا علاج:
اسی طرح بعض صوفیا اپنے جو نئے نئے مرید ہوتے ہیں، ان کو بھی منع کرتے ہیں دیکھو تم لباس میں یہ نہ کرو، یہ نہ کرو۔ یہ کیا ہوتا ہے کہ ابتدا میں نفس مکر کر رہا ہوتا ہے، انسان قیمتی لباس اپنی بڑائی کے لیے پہن رہا ہوتا ہے۔ نماز کے اندر بھی اس کو یہ خیال آتا ہے کہ میں نے تو یہ لباس اتنا قیمتی پہنا ہوا ہے۔ تو ان چیزوں کو توڑنے کے لیے ابتدائی طور پر دوا اور علاج کے لیے منع کرتے ہیں۔ اور جب نفس صاف ہو جاتا ہے نفس امارہ اور نفس لوّامہ سے نکل کر نفس مطمئنّہ ہو جاتا ہے، پھر اگر وہ قیمتی لباس پہنتے ہیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اظہار کے طور پر پہنتے ہیں۔ اس وقت وہ قیمتی لباس پہننا ان کو اللہ تعالیٰ کا قرب دے رہا ہوتا ہے۔ اب دینی ماحول میں رہے بغیر یہ بات سمجھنا تھوڑا مشکل ہے۔
لباس میں صحابہاور تابعین کا عمل:
پہننے کے معاملے میں ہمیں یہ اصول یاد رکھنا ہے کہ صحابہ کا اور تابعین کا طریقہ کیاتھا کہ ان چیزوں میں تکلف نہ کرے، جتنا بآسانی میسر ہو اس کے مطابق استعمال کر لے۔ اللہ تعالیٰ نے نعمتیں زیادہ دی ہیں تو قیمتی لباس پہن لے ٹھیک ہے لیکن قرض لے کر، ادھار لے کر اور تکلیف اٹھا کر قیمتی لباس خریدنا ٹھیک نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اور شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ دین کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائیں۔
لباس کے متعلق کچھ تجربات :
اس کے علاوہ میں اپنے چند تجربات بھی آپ سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ میں ایک مرتبہ اپنی اہلیہ کے ساتھ تُرکی گیا۔ وہاں میوزیم ہے توپ کاپی میوزیم۔ اور الحمد اللہ! اللہ نے دل میں وہیں پہ یہ بات ڈالی اور اس وقت بیگم صاحبہ اور میرے جوساتھی ساتھ تھے سب نے ہی اس بات کو محسوس کیا ۔
حضرت بی بی فاطمہ کا لباس:
وہ بات یہ تھی کہ وہاں پہ میں نے بی بی فاطمہ کا لباس اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اتنا موٹا تھا کہ جسم نظر آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،اور اتنا کھلا اور چوڑا تھا کہ جسم کے اعضا بھی نہیں سمجھ میں آسکتے ،اُن کا اُبھار کہاں ہے اور کیسے ہے۔ تو یہاں سے کیا سبق ملا کہ عورتوں کا لباس باریک نہیں ہونا چاہیے اور عورتوں کا لباس ٹائیٹ نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت حسین کا لباس:
وہیں برابر میں حضرت حسین کا لباس مبارک بھی تھا ،وہ بھی بہت کھلا، چوڑا اور بڑا لمبا سا تھا۔ تو یہاں سے کیا معلوم ہوا کہ مردوں کا لباس بھی کھلا اورچوڑا ہو ۔
مقتداؤں کا لباس :
میں نے مختلف ملکوں کا سفر کیا ہے سوچنے اورغور کرنے کا موقع ملا ،آپ بھی ذرا غور کیجیے گا۔ بدھسٹ لوگوں کو بھی دیکھا ہے بُدھ مت کے لوگوں کو، اور ہندئووں کو بھی دیکھا اور مختلف جگہ بینکاک کے ایئر پورٹ پر کئی لوگوں کو دیکھا۔ جتنے بھی دوسرے مذاہب کے لوگ ہیںیا جتنے بھی دوسرے مذاہب کے پیشوا ہیں، عیسائیوں کے راہب ہیں یا پھر عورتوں میں جن کو ہم نن کہہ دیتے ہیں، راہبہ کہتے ہیں،جتنے بھی ہیں آج بھی اس فحاشی کے دور میں بھی دیکھ لیجیے! ان سب کا لباس کھلا، چوڑا اور موٹا ہوتا ہے۔ جو اِن کے مقتدا ہوتے ہیں ان کا بھی ایسا ہی لباس ہوتا ہے۔ کہیں بھی آپ کو ایسا کوئی ٹائیٹ لباس والا اور بے حیائی والا نہیں ملے گا ،چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو یہ آپ چیک کر لیجیے۔
مسلمان باشاہوں کا لباس:
اچھا وہیں ترکی میں توپ کاپی میوزیم کے اندر ایک اور چیز ملی۔ وہ کیا چیز تھی؟ وہاں بادشاہوں کے لباس جو سلطنت عثمانیہ کے تھے وہ دیکھے۔ آپ میں سے جو وہاں جا کر دیکھنا چاہے جاکر دیکھ سکتا ہے۔ اس عاجز نے وہاں دیکھے اور جو ساتھی ساتھ موجود تھے ان کووہیں پہ بتایا، اللہ نے دل میں جو ڈالا تھا۔ وہاں کیا تھا ڈسپلے میں؟ بادشاہوں کے لباس تھے ۔مثلاََ یہ تیرویں صدی میں بادشاہ نے پہنا ہواتھا ، یہ چودھویں صدی کے لباس تھے، یہ پندرہویں صدی کے لباس تھے، اگلے شوکیس میں سولہویں صدی کے لباس تھے، اس سے اگلے میں ستارہویں صدی کے تھے، اس سے اگلے میں اٹھارویں صدی کے تھے پھر انیسویں صدی کے شروع کے لباس تھے۔ تو الگ الگ ڈسپلے کیاہواتھا اور ان کے اوپرتاریخیں لکھی ہوئیں تھیں کہ ان ان سالوں میں یہ لباس سلطنتِ عثمانیہ کے مسلمان بادشاہوں نے پہنے۔ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بات عرض کر رہا ہوں جو وہاں دیکھ کر آیا ہوں جو چاہے جاکے دیکھ لے۔ شروع کے جو لباس تھے چودھویں ، پندرھویں، سولہویں صدی کے، وہ تمام لباس اُس لباس سے مشابہت رکھتے ہیں جو سیدنا حسین کا لباس وہاں ڈسپلے میں ہے ،کُھلے، چوڑے اور موٹے۔ آہستہ آہستہ جیسے جیسے صدیاں آگے آتی گئیں، ان کے لباس میں پھول بوٹے آتے گئے۔ وہ کوئی لا ل رنگ کا تھا ،کوئی گرے کلر کا تھا اور کسی پرگولڈن کلرکی آرائش ہوئی ہوئی تھی، تو رنگ آتے گئے۔ پہلے سادگی تھی چلتے چلتے رنگ آتے گئے اور انیسویں صدی میں جو آخری لباس تھے وہ پینٹ شرٹ تھا۔
سلطنت عثمانیہ کے زوال کی ایک وجہ:
جیسے ہی یہ لباس آیا سلطنت عثمانیہ کا وجود اس دنیا سے ختم ہو گیا۔ یہ میرا دعوی نہیں میں آپ کو حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ وہاں جاکر دیکھ لیجیے کہ شروع میں بادشاہوں کے لباس میں سادگی تھی۔ سلطنت عثمانیہ پوری دنیا پہ حکمران تھی۔ آہستہ آہستہ سادگی ختم ہوتی گئی، اُسی لباس میں جو سنت کے قریب تھا ، اندر پھول بوٹے آتے چلے گئے رنگ لال ہوگیا، گلابی ہوگیا، گولڈن ہوگیا۔ پھر ان گولڈن رنگوں کے بعد وہاں آخری لباس جو تھا وہ پینٹ شرٹ تھا کہ جی آخری بادشاہ کا یہ لباس تھا اور جیسے ہی یہ غیروں کالباس آیا اللہ تعالیٰ نے حکومت ہی واپس لے لی اور یہ بات پکی ہے۔
برائی پھیلانے کے چار طریقے:
ایک بات اور سمجھ لیجیے! آج کافر چار طریقوں سے برائی پھیلا رہا ہے اور اس پر انہوں نے پوری ریسرچ کی ہے کتابیں لکھی ہیں۔
(1) کافر انہ لباس کے ذریعے
(2) غذا کے ذریعے
(3) موسیقی کے ذریعے
(4) ماحول کے ذریعے
موسیقی پر جو بیان تھا الحمد اللہ! پچھلی اتوار کو ہو چکا ہے، سائٹ پہ موجود ہے جو سننا چاہیں اس میں تفصیلات موجود ہیں کہ موسیقی کے ذریعے کیا کچھ ہو رہا ہے۔ غذا میں ہمیں جان بوجھ کر حرام کھلایا جا رہا ہے تو بے حیائی آرہی ہے۔ اور لباس کے معاملےمیں وہ جانتا ہے کہ آدمu کے زمانے سے ہی جو سب سے پہلا حملہ اولاد آدم پر کیا وہ لباس پہ کیا تھا، لباس اتروایا تھا۔ اور آج کے نوجوان جو دوسرں کے لباس اتارنے کے خواہش مند رہتے ہیں۔ یہ دل کے کانوں سے سنیں کہ قیامت کے دن یہ بے لباس ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی محبت کی پوشاک نہیں پہنائیں گے، جنت کے لباس نہیں پہنائیں گے۔ جس کی دنیا میں یہ تمنا ہو، کوشش ہو اور دل کے ارادے ہوں اس کے لیے وہ میسجنگ (messaging) کرتا ہو، چیٹنگ (Chatting)کرتا ہو، فیس بُک پہ بیٹھتا ہو، اس کے لیے وہ کوئی اور بھی ذریعہ اختیار کرتا ہو کہ کسی کو بے لباس کرے۔ یہاں کسی کو بے لباس کرنے والا یاد رکھے کہ قیامت کے دن اس کو بے لباس کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اس کی مکمل بڑی تفصیلات موجود ہیں۔
نبی کریم ﷺ کا اپنی چادر کافرہ عورت کو دینا:
ایک خاتون کے بارے میںپتا چلا کہ وہ قبیلہ رتیہ سے تعلق رکھتی ہے اور کافرہ ہے، اس کا بچہ گم ہوگیا ہے جسے وہ دیوانوں کی طرح تلاش کررہی تھی۔ آقا کی نظر اس کے سر پر پڑی۔ اس کے سر پر چادر نہیں تھی تو نبی نے اپنی نبوت کی چادر دے کے صحابی سے یہ فرمایا! جائو اور اس کو چادر اوڑھا دو۔ صحابی نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ! کافرہ عورت ہے ۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا: بیٹی بیٹی ہوتی ہے چاہے کافر کی کیوں نہ ہو، اس کے سر پر چادر ہونی چاہیے۔ تو نبینے نبوت کی چادر دے کر پاک چادر دے کر ایک کافرہ عورت کے سر کو ڈھانپا۔ تو آج اگرہم دوسروں کے سروں کو ڈھانپنے کی کوشش کریں۔ اپنےسر کو بھی ڈھانپنے کی کوشش کریں تو یقینا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں رحمتیں ملیں گی۔
حضرت مفتی شفیع کا جواب:
اب کچھ لوگ ایک جملہ بول دیتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ جی لباس سے کیا ہوتا ہے؟ ہم جو مرضی لباس پہنیں اس میں ایسی کونسی بات ہے۔ یہی سوال ایک مرتبہ حضرت مفتی شفیع سے ایک جج صاحب نے کیا۔ یہ وکیل لوگ ذرا نکتے بھی نکالتے ہیں، تو انہوں نے نکتہ نکالا کہ حضرت یہ لباس سے کیا ہوتا ہے۔ اگر ہم لباس کوئی بھی پہن لیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟ تو مفتی صاحب نے بڑا پیارا جواب دیا۔ فرمانے لگے کہ کل جب آپ عدالت تشریف لائیں گے اور جج کی کرسی پر بیٹھیں گے تو لباس بے شک اپنی اہلیہ محترمہ کا پہن کے آجائیے گا پھر پتا چل جائے گا کہ لباس سے کچھ ہوتا ہے یا نہیں؟
ہر شعبے کا یونیفارم:
آج ذرا غور کریں! وکیل اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے، ڈاکٹراپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے، پولیس والا اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے، جج اپنے لباس سے پہچانا جاتاہے، فوجی اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے۔ کیا ایک مسلمان ہی رہ گیا ہے جس کے پاس کوئی لباس نہیں؟ آپ کسی بھی اسکول میں چلے جائیں اور دیکھیں کہ ہراسکول والوں نے اپنا ایک یونیفارم بنایا ہوا ہے۔ اس یونیفارم میں آپ آئو گے توآپ کو انٹری ملے گی۔ اگر آپ اس یونیفارم میں نہ آئے تو آپ یہاں داخل نہیں ہوسکتے۔ اسکول والے کو اختیار ہے اور ہم اسکے اختیار کو مانتے ہیں،ہم قبول کرتے ہیں۔ ہم جس اسکول میںبچے داخل کرواتے ہیں اس اسکول کے اصول کوہم مانتے ہیں کہ جی یہ ان کا یونیفارم ہے، ان کا حق ہے کہ جو یونیفارم یہ رکھیں ہم نے وہ پہنانا ہے۔ کیا نبی کریمﷺ کو آپ اتنا حق بھی نہیں دے سکتے جتنا حق آپ ایک اسکول والے کو دے رہے ہوتے ہیں۔ کیا اللہ رب العزت کے پاس یہ حق بھی نہیں کہ جس نے ہمیں یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ ارے بھئی! اللہ رب العزت تو مالک الملک ہیں، ہمیں پیدا کرنے والے ہیں ،نبی ہمارے محسنِ حقیقی ہیں انہوں نے دین کی طرف رہنمائی کی۔ تو ہمارے لیے یہ ہے کہ ہم نبی کے دین کو اپنائیں اور اس لباس کو اپنائیں جو نبی اور صحابہ کرامjکا تھا۔ ان شاء اللہ اگلے جمعے سے لباس کی تفصیلات آئیں گی۔ آج صرف یہ اس کی تمہید ہے یہ معاملہ ایسا نازک ہے کہ آج ہم اس کو با لکل (Ignore)کربیٹھے ہیں۔
بچوں کے لباس سے متعلق احتیاط:
یاد رکھیے کہ علماء نے یہ بات لکھی ہے کہ اگر کوئی ماں باپ ایسا لباس اپنے چھوٹے بچوں کو پہنائیں جو بڑے ہو کر پہننا مکروہ ہے یا حرام ہے، تو اس کا شروع میں بھی گناہ ملے گا۔ آج ہم اپنی بچیوں کو دوپٹہ پہناتے ہی نہیں۔ جب وہ پانچ سات سال کی ہو جاتی ہیں تو دوپٹہ انکو بوجھ لگنے لگتا ہے۔ شروع سے اگر پہنائیں گے تو ان کی عادت بن جائے گی بوجھ نہیں لگے گا۔ اب شروع ہی عمر میں ہی اسکرٹ پہنا رہے ہیں ،پینٹ شرٹ پہنا رہے ہیں، ایسا لباس جو کافروں سے مشابہت رکھتا ہے ٹی وی دیکھ دیکھ کر، میڈیا دیکھ دیکھ کر پہنا رہے ہیں۔ یہ کسی بھی طرح بڑے ہو کر ان بچوں کو بوجھ نہیں لگتا۔ علماء نے فرمایا کہ وہ لباس جو عورت کے بالغ ہونے کے بعد پہننا جائز نہیں وہ ابتدا میں پہنانابھی مکروہ ہے کیوںکہ مشابہت کسی اور سے ہے۔
حضرت عمر فاروق کے زمانے کا ایک واقعہ:
ایک بات یاد آگئی۔ ایک مرتبہ فاروق اعظم کے دور میں ایک قالین آیا غالباََ قیصر روم کا یا کسریٰ کا تھا۔ خیر ان دونوں میں سے کسی ایک کا قالین آیا۔ بہت قیمتی قالین تھا۔ اس کے جب بعد میں ٹکڑے کیے گئے تو ایک ایک بالشت لاکھوں درہم کا سیل ہوا، اتنا قیمتی قالین تھا۔ جب قالین آیا تو صحابہ کرام] حیران ہوگئے کہ یہ کیا چیز آگئی اور اس کے بارے میں پورا مشورہ ہوا کہ کیا کریںاس کو تقسیم کرنا ہے یا رکھنا ہے۔ تو بعض لوگوں نے یہ مشورہ دیا کہ اتنی تاریخی چیز ہے اتنی قیمتی چیز ہے یہ ہماری ثقافت کا حصہ بن سکتی ہے، ہمارے میوزیم میں سج سکتی ہے۔ ہم اس کو سنبھال کے رکھ لیں تاکہ دنیا دیکھے کہ یہ کیاانوکھا عجوبہ بنا ہوا ہے۔ اب کچھ لوگوں نے اور حضرات صحابہ] نے اس مجلس میں یہ مشورہ دیا، وہاں حضرات تابعین بھی موجود تھے۔ مشورے جمع ہوئے تو وہاں پہ حضرت علیt بھی موجود تھے۔ آپtنے فرمایا کہ دیکھو! یہ تاریخی تو ہے، یہ قیمتی چیز تو ہے، یہ یادگار تو ہے لیکن یہ یادگارعیاشی کی یادگار ہے، دین کی یادگار نہیںہے۔ تو جیسے ہی آپt نے یہ جملہ بولا اسی وقت سب نے فیصلہ کرلیا کہ عیاشی کی یادگار کو باقی رکھنا ٹھیک نہیں۔ اس کو کٹوا دیاگیا، تقسیم کر دیا گیا۔ اور اس کا ایک ایک بالشت لاکھوں میں سیل ہوا۔ آپ جائزہ لیجئے کہ صحابہ کرام کی نظر کہاں ہوتی تھی؟ صرف دین پر ہوتی تھی۔ تو ہم ایسا لباس نہ پہنیں نہ پہنوائیں کہ جو لباس غیروں کی نقّالی کرتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ ہم جو کہہ دیتے ہیں کہ لباس سے کیا ہوتا ہے یہ کوئی چھوٹا جملہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی سمجھ عطا فرمائے۔
خیر خواہی کے روپ میں دھوکا:
حضرت آدم اور اماں حوا میاں بیوی ہیں۔ ان کا جو واقعہ قرآن میں بیان ہوا آپ اس میں مزید غور کرلیجئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَوَسْوَسَ لَھُمَاالشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَھُمَا مَا وٗرِیَ عَنْھُمَا مِنْ سَوْاٰتِھِمَا﴾
(الاعراف:20)
’’شیطان نے ان کے اندر وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرم گاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھیں، دونوں کے روبرو بے پردہ کردے‘‘۔
اور آگے فرماتے ہیںکہ شیطان نے قسمیں دے کر ان کو قائل بھی کر لیا اور یہ کہا:
﴿وَقَاسَمَھُمَآ اِنّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ﴾ (الاعراف:21)
’’قسم کھائی اس نے کہ میں تمھارا بہت خیر خواہ ہوں‘‘ ۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ شیطان نے ان کو بہکایا تاکہ کھول دے ان کے اوپر ان کے پردے کی چیز، میاں بیوی کو آپس میں بے لباس کر دے اور قسمیں کھائیں۔
﴿لَمِنَ النّٰصِحِیْن﴾
’’ میں تمھارا خیر خواہ ہوں‘‘۔
﴿فَدَلّٰھُمَا بِغُرُوْرٍ﴾
’’ پھر مائل کر لیا ان کوفریب سے‘‘۔
نوجوانوں کا فریب:
یہاں جو میں نکتہ عرض کرنا چاہتا ہوں وہ صرف اتنا سا ہے کہ آج بھی جو نوجوان فون، میسج پر، انٹرنیٹ پر عورتوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں قسمیں کھاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں میں تمہیں  نصیحت کرنے والاہوں ،میں تمھارا خیر خواہ ہوں۔ خیر خواہی کے رنگ میں یہ اس کو بے لباس کرنا چاہتے ہیں یہ شیطان کی اولاد ہیں، شیطان کے طریقے پر ہیں اور شیطان کے راستے پر ہیں۔ جس طرح شیطان کو اللہ رب العزت نے فرما دیا کہ مردودہوگیا۔ انسان نے بھی اگر توبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ کے دربار جنت سے نکال دیا جائے گا۔ قیامت کے دن اس کو جنت نہیں ملے گی۔
جہنم کا لباس:
اسی بُدھ کو دو دن پہلے ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ اور کچھ حالات میرے سامنے رکھے۔ میرے پاس تو ایسے ایسے عجیب وغریب قسم کے حالات ہیں جنہیں سینے میں چھپا رکھا ہے کہ اگر بیان کرنا شروع کروں تو آپ لوگ میرا بیان بند کروادیں گے کہ ہم ایسی بے حیائی والی باتیں نہیں سن سکتے، لیکن یہ حالات بھی تو ہمارے اپنے ہی گھروں کے ہیں۔ خیر اس نوجوان کی بات چل رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ سارا دن کیا کرتے ہو؟ بیعت ہو چکاتھا، توبہ کر چکا تھا تو کہنے لگا کہ جی میںفیس بُک پر بیٹھتا ہوں اور کچھ خواتین سے تو میرے تعلقات ہیں اور مزید دیکھتا رہتاہوں جہاں جہاں دائو لگ جائے وہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ نوجوان سن لیں ،سمجھ لیں کہ یہاںکسی کو بے لباس کریں گے تو قیامت کے دن اللہ رب العزت ان کو جہنم کے لباس عطا کریں گے۔
﴿سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ﴾ (ابراھیم:50)
وہ لباس عطا فرمائیں گے جو گندھک کا بناہوا ہوگا اور ان کو جہنم میں ڈال دیں گے۔ کسی بے حیا کے لیے آج کسی کو بے لباس کرنا آسان تو ہوسکتا ہے لیکن قیامت کے دن اس کا وبال اٹھانا مشکل ہوگا۔
میاں بیوی کا لباس ہونے کا مطلب:
لباس سے متعلق آخری بات بھی عرض کردوں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے بارے میں فرمایا:
﴿ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ﴾ (البقرۃ:187)
’’وہ (عورتیں) تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو‘‘۔
کیوں کہا؟ دیکھیں! لباس سے انسان کو زینت ملتی ہے۔ فرمایا کہ میاں کو بیوی سے زینت ملے گی اور بیوی کو شوہر سے زینت ملے گی۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے زینت ہوں گے۔ لباس سے انسان کے عیب چھپ جاتے ہیں تو یہاں سے ظاہر ہواکہ میاں کی ذمہ داری ہے کہ بیوی کے عیب چھپائے، سسرال میں بیان نہ کرے، میکے میں بیان نہ کرے، کسی تیسرے کو بیان نہ کرے۔ اور بیوی کی ذمہ داری ہے میاں کے عیب کو چھپائے۔ لباس کا کام عیب چھپانا ہوتا ہے،اور لباس کا کام گرمی اور سردی سے حفاظت دینا ہوتا ہے تو یہ ایک دوسرے کو حفاظت دیں۔ اور لباس کا کام ایک دوسرے کو زینت دینا ہوتا ہے ایک دوسرے کو زینت دیں۔ تو جب میاں بیوی اس پر عمل کر لیں گے، اورایک دوسرے کے لیے لباس بن جائیں گے تواللہ تعالیٰ ان دونوںکو محبتیں عطا فرما دیں گے۔
بھوک اور خوف کا لباس:
اس کے علاوہ ایک اور چیز کو بھی قرآن پاک میں لباس کے ساتھ تشبیہ دی گئی چودھویں سپارے میں۔ وہ کیا؟ فرمایا کہ ہم نے ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا:
﴿ضَرَبَ اللہُ مَثَلًاقَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَأْتِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللہِ فَاذَاقَھَا اللہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ﴾
(النحل:112)

کہ اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر نعمت دی، ان کے پاس امن بھی تھا اور اطمینان بھی تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی نا شکری کی۔ اس ناشکری کے بدلے میں
﴿فَاذَاقَھَا اللہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ﴾
اللہ تعالیٰ نے ان نا فرمانوں کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں گے آج بھی ہمیں اللہ تعالیٰ بھوک اور خوف کا لباس پہنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائیں۔ ان شاء اللہ ا لعزیز اگلے جمعے سے لباس کے بارے میں مزید تفصیلات آئیں گی۔ ان میں سے صرف ایک بات عرض کر دیتا ہوں کہ لباس میںحضور پاک ﷺ کوکُرتا پسند تھا۔ باقی تفصیلات ان شاء اللہ آئیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کے مطابق پہننے کی توفیق عطا فرمائیں۔
لباس کی نعمت کے بارے میں قیامت کے دن اللہ سوال کریں گے کہ میرے بندو! کیا تم نے لباس کا حق ادا کیا؟ اگر ثابت ہو گیا کہ ہم نے سنت کے مطابق لباس پہنا تھا توقیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت کا لباس عطا فرما ئیںگے۔ اور اگر ثابت ہو گیا کہ ہم نے تو میڈیا کو دیکھ کر، ہم نے تو ہندوئوں کو دیکھ کر ، ہم نے تو کافروں کو دیکھ کر لباس پہنا تھا تو اللہ تعالیٰ پھر جہاں ان کو بھیجیں گے وہاں کچھ عرصے کے لیے ایمان والوں کو بھی بھیج دیں گے کہ ذراتم مزہ چکھ کر آئو، مطلب جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت عطا فرمائیں، ہماے گناہوں کو معاف فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں