لباس3

لباس3

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ١ۙذٰلِكَ خَيْرٌ١ؕ (الأعراف: 26)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

سنتِ نبوی کے زندگی پر اَثرات
رسولِ پاکﷺ کی ایک ایک سنت کو بہت تفصیل کے ساتھ، بڑی محنت سے مرتب کیا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اُس کی دی ہوئی توفیق سے ہم نے اپنے مدرسے میں طالبات کی تربیت کے لیےاس سلسلے کو شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی مہربانی فرمائی کہ اس کی برکات اپنی زندگی میں اور سننے والوں کی زندگی میں بہت جلد محسوس ہوئیں۔ ایک ترتیب سے بات چل رہی ہے۔ پہلے کھانے میں نبی کریمﷺ کی سنتوں کا بہت تفصیلی مذاکرہ ہوا۔ آج مسنون لباس کے عنوان سے بات ہوگی اِن شاء اللہ۔ اگر آج یہ بات پوری نہ ہوسکی تو دوسرے موقع پر اسے پورا کرلیں گے اِن شاء اللہ۔ الحمدللہ! یہ ایک ترتیب چل رہی ہے۔ اگر کسی نے گزشتہ بیانات سننے ہوں تو وہ ہماری ویب سائٹ عشقِ الٰہی پر مل جائیں گے۔ نبیﷺ کی سنتوں سے ہمیں محبت مل جائے، عمل مل جائے یہ ہمارے لیے کامیابی کی علامات ہیں۔
لباس کے بارے میں بات چل رہی ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: ’’لباس کو آسمان سے ہم نے تمہارے لیے اُتارا ہے تاکہ تم اپنے ستر کو چھپاؤ، زینت حاصل کرو، اور تقویٰ کا لباس بہترین ہے‘‘۔اور فرمایا کہ بہترین لباس حیا اور پاکدامنی کا لباس ہے۔ حضور پاکﷺ کی محبت ہماری زندگی کا حاصل ہوجائے تو سبحان اللہ! ہماری زندگی کامیاب ہوجائے گی۔
اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی واضح دلیل
بہت سے لوگ پوچھتے ہیں، اور کل رات بھی ایک صاحب کہنے لگے کہ مجھے لگتا ہے کہ میرا اللہ مجھ سے دور ہوگیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں لگتا ہے؟ کہنے لگے: پہلے جب میں ذکر میں بیٹھتا تھا تو مزا آتا تھا۔ اور اب اللہ کو یاد کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں، قرآن پڑھتا ہوں لیکن مزا نہیں آتا۔ اور اب گھر میں بیماریاں بھی ہوگئی ہیں، ایک کے بعد ایک بیمار ہوجاتا ہے۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اِدھر اُدھر کی باتوں کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اور ان کے نہ ہونے کو دوری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس عاجز کے نزدیک جو علمائے کرام سے سنا، بڑوں سے سیکھا۔ اللہ ربّ العزّت کی رضا کی دلیل یہ ہے کہ اگر زندگی سنت کے مطابق گزر رہی ہے تو یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہیں۔ اگر ہماری زندگی سنت کے خلاف گزر رہی ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ناراض ہیں۔ کیوںکہ حضور پاکﷺ کی اتباع کی توفیق اللہ تعالیٰ صرف اُسی کو دیں گے جس سے راضی ہوں گے۔
یعفور کا واقعہ
اس موقع پر ایک گدھے کی بات یاد آگئی۔ علامہ ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس چار گدھے تھے، جن میں سے ایک کا نام یعفور تھا۔ عجیب قصہ ہے اُس کا۔ آپﷺ جب خیبر کا مالِ غنیمت تقسیم کرنے لگے تو کچھ گھوڑے، گدھے اور اس طرح کی چیزیں بھی تھیں۔ مال تقسیم ہورہا تھا کہ ایک گدھا از خود آگے بڑھا۔ وہ آقاﷺ کے قریب آکر کہنے لگا کہ یارسول اللہ! آپ آخری رسولﷺ ہیں اور میں اپنی نسل کا آخری گدھا ہوں۔ میں ایک یہودی کے پاس تھا۔ جو مجھے بہت تکلیف دیتا تھا۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپﷺ مجھے اپنے لیے قبول کرلیں۔ اُس کی بات پر آقاﷺ نے اسے اپنی سواری کے لیے قبول کرلیا۔ اور آپﷺ نے اس کا نام یعفور رکھا۔ آپﷺ اسے اے یعفور! کہہ کر بلاتے تو وہ عرض کرتا: میں حاضر۔ اور پھر فوراً آپﷺ کے پاس حاضر ہوجاتا۔ ایک دن اللہ کے رسولﷺ نے اس سے پوچھا: اے یعفور! کیا تمہیں گدھی کی حاجت ہے؟ (اس کا خیال رکھتے ہوئے فرمایا) اس نے جواب دیا: نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپﷺ اُس پر سواری بھی فرماتے تھے۔
اللہ کی شان وہ اتنا سمجھدار تھا کہ نبی کریمﷺ نے جب کبھی کسی صحابی کو بلانا ہوتا تو نبی کریمﷺ اُسے فرماتے کہ جاؤ، فلاں صحابی کو بلا لاؤ۔ وہ گدھا دوڑتا ہوا جاتا اور جن کو بلانا ہوتا، اُن کے گھر کے دروازے پر سر مارتا۔ وہ صحابی باہر تشریف لاتے تو اشارہ کرتا اپنے انداز میں کہ تمہیں نبیﷺ بلا رہے ہیں۔ رفتہ رفتہ صحابہ کرام سمجھ گئے کہ یہ نبیﷺ کی طرف سے کوئی پیغام لایا ہے، تو وہ فوراً حاضر ہوجاتے۔ اُسے نبی پاکﷺ سے اتنی محبت تھی۔ اللہ اکبر کبیراً! جس دن نبی پاکﷺ دنیا سے پردہ فرماگئے۔ اُس یعفور کو بھی اطلاع ہوگئی کہ نبیﷺ اب اس دنیا میں نہیں رہے تو چیخنے چنگھاڑنے لگا۔ مدینہ منوّرہ کی گلیوں میں بے چین دوڑتا رہا اور بالآخر اس نے ابو الہیثم بن تیہان کے کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا۔ (البدایۃ والنہایۃ: باب ما یتعلق بالحیوانات من دلائل النبوۃ)
اس روایت کی سند میں اگرچہ محدثین نے بہت کلام کیا ہے، لیکن نبوت کے دلائل میں اسی واقعہ کو بطورِ دلیل ذکر کیا ہے کہ جب ایک گدھے کو نبی کریمﷺ سے اتنی محبت اور اتنا تعلق ہے۔ ہم تو انسان ہیں، کلمہ پڑھنے والے ہیں، ہمیں نبی کریمﷺ کی سنتوں سے کتنی محبت ہونی چاہیے۔
تشبّہ کسے کہتے ہیں؟
اپنی ہیئت اور وضع کو تبدیل کرکے دوسری قوم کی وضع اور ہیئت کو اختیار کرنے کو تشبّہ کہتے ہیں۔ کافروں کی معاشرت، اُن کے لباس، اُن کے طرز کو اختیار کرنے کا مطلب ہے، اُن کی برتری کو تسلیم کرنا۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ دعویٰ ایمان کا، اور اللہ تعالیٰ اور نبیﷺ سے محبت کا ہو اور لباس کفار کا ہو۔ اس سے بڑا اور ظلم کیا ہوسکتا ہے۔
فاروقِ اعظم کی نظر بڑی دور تک تھی۔ بڑی گہری نظر تھی۔ جب اُن کے دورِ خلافت میں مملکتِ اسلامیہ بہت پھیل گئی تو اُنہیں خطرہ ہوا کہ اب چوںکہ عربوں کا عجمی کفار کے ساتھ میل جول ہوگا، تو ان عجمیوں کا رہن سہن الگ ہے اور آقاﷺ کا الگ ہے۔ اس بارے میں انہوں نے کفار کو الگ نصیحت اور فرمان جاری کیا، اور ایمان والوں کے لیے الگ جاری کیا۔ مسلمانوں کو تاکید کی کہ دیکھو! تم غیروں کی مشابہت ہرگز اختیار نہ کرنا۔ اور دوسری جانب کفار سے کہا کہ وہ اپنے طور طریقوں میں ہی رہیں، اسلام والوں کی وضع قطع اختیار نہ کریں۔
چناںچہ بخاری شریف میں ہے حضرت عمر فاروق نے فارس (ایران) میں مسلمانوں کو فرمان بھیجا:
وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ، وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ، وَلَبُوْسَ الْحَرِيْرِ.
ترجمہ: ’’عیش وعشرت سے، اور مشرکین کے لباس سے، اور ریشمی لباس پہننے سے بچو‘‘۔
(متفق علیہ، بخاری: رقم 5829، مسلم: رقم 2069)
علامہ صنعانی نے الفاظ یوں نقل کیے ہیں: اے مسلمانو! اِزار اور چادر کا استعمال کرو، جوتے پہنو، اور اپنے جد امجد حضرت اسماعیل کے لباس کو لازم پکڑو۔ عجمیوں کے لباس (یعنی غیروں کے لباس)، اُن کی وضع قطع، اُن کے طرز سے دور رہو۔ موٹے اور پرانے اور کھردرے کپڑے استعمال کرو۔ (مصنف عبدالرزاق: رقم 19994)
معلوم یہ ہوا کہ ہمیں لباس کے اندر وہی اختیار کرنا ہے جو رسول اللہﷺ کا لباس ہے۔ اللہ اکبر کبیراً!
پاجامہ پہننے والی کے لیے دعا
پاجامہ پہننا سنت ہے۔ عورتیں اگر پاجامہ پہنیں تو نبی کریمﷺ کی طرف سے دعائے رحمت میں شامل ہوتی ہیں۔ حضرت علیh فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس بارش کے دن موجود تھا۔ بقیع غرقد جنت البقیع کے مقام پر نبی کریمﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں گدھے پر سوار ایک عورت گزری جس کے ساتھ کچھ بوجھ بھی تھا۔ جب وہ ایک نشیبی جگہ پر پہنچی (جہاں پہلے ہی سے پھسلن تھی) تو وہ گرگئی۔ نبیﷺ نے نے اپنا چہرۂ مبارک پھیر لیا کہ کہیں بے پردہ نہ ہوگئی ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عورت پاجامہ پہنے ہوئے ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! میری اُمت کی اُن عورتوں کی جو پاجامہ پہنتی ہیں مغفرت فرما۔ تین دفعہ آپﷺ نے یہی دعائیہ کلمات دہرائے۔ (پھر آگے فرمایا) اے لوگو! پاجامہ یعنی شلوار کا استعمال کرو، یہ تمہارے کپڑوں میں زیادہ پردے کی چیز ہے۔ اور اپنی عورتوں کو جب وہ باہر نکلیں تو اس کے پہننے کی ترغیب دو۔ (البحر الذخّار بمسند البزّار: رقم 828)
اب عورتوں کے لیے پتلون سے تو علماء نے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح کوئی اور آڑھا پاجامہ، جن کی عقل آڑھی ہوتی ہے وہ پاجامہ بھی آڑھا پہن لیتی ہیں۔ شریعت میں اس کی گنجائش کوئی نہیں۔ ایسا سادہ پاجامہ ہو جو باریک بھی نہ ہو اور بطور پردے کے کام آئے۔ اس کے لیے نبی کریمﷺ کی دعائے رحمت ہے۔ لیکن جو ٹراؤزرز استعمال کرتی ہیں، یا کچھ اس طرح کی اور چیزیں جو مروّج فیشن کے مطابق تو ہو لیکن سادگی سے دور ہو تو وہ نبیﷺ کی دعاؤں سے دور ہوجاتی ہیں۔ اس میں ترغیب بھی دی کہ پاجامہ پہنے کہ اس میں ستر پوشی بھی ہے اور رحمت بھی۔ خاص طور سے جب ماحول ایسا ہو جہاں نبیﷺ کی سنتیں مٹ رہی ہوں تو اگر کوئی عورت اتباعِ سنت کی وجہ سے پاجامہ پہنے گی تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ بڑی خوش نصیبی کی بات ہے۔
خواتینِ اسلام کے لیے مسنون لباس
علماء کرام نے فرمایا ہے کہ مسلمان عورتوں کے لیے مسنون یہ ہے کہ اُن کا لباس موٹا ہو، جس سے اُن کا بدن ظاہر نہ ہو، بال نظر نہ آئیں۔ ڈھیلا ڈھالا ہو، چست بھی نہ ہو تاکہ بدن کے اعضا کی وضع قطع ظاہر نہ ہو۔ مردوں سے مشابہت والا بھی نہ ہو، اور کافر عورتوں کے لباس کے مطابق بھی نہ ہو۔ تشبّہ بالکفار سخت منع ہے۔ اور آج ہماری عورتیں ٹی وی دیکھ کر بازار جاتی ہیں کہ فلاں فلم میں فلاں فاحشہ عورت نے جو لباس پہنا تھا میرے لیے بھی ویسا بناؤ۔ سچ بتائیے کہ نبی کریمﷺ سے کتنی دوری کی بات ہے۔
حضرت اسماء کو نبیﷺ کی تنبیہ
باریک لباس کے بارے میں امی عائشہ روایت نقل فرماتی ہیں۔ حضرت اسماء بنتِ ابی بکر ایک مرتبہ آقاﷺ کے پاس آئیں تو انہوں نے باریک لباس پہنا ہوا تھا۔ نبی کریمﷺ نے ان سے بے رخی برتی۔ (آنے والے کا تو اِکرام کیا جاتا ہے، مگر نبی کریمﷺ نے بے رُخی برتی) اور فرمایا: اے اسماء! جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کا جسم ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے (چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کیا کہ محرم کے سامنے صرف یہ ظاہر ہو سکتے ہیں، باقی جسم کا کوئی حصہ غیر محرم تو دور کی بات ہے، محرم کے سامنے بھی ظاہر نہ ہو)۔ (سننِ ابی داؤد: رقم 4104)
اسی لیے بالغ لڑکیوں کے لیے باریک لباس پہننا حرام ہے۔
حضرت اُسامہ کو تاکید
حضرت اُسامہ بن زیدi فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے مجھے ایک قبطی جوڑا دیا۔ پھر آپﷺ نے مجھ سے پوچھا: اُسامہ! بتاؤ تم نے اس کپڑے کا کیا کیا؟ تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! وہ میں نے اپنی بیوی کو پہنا دیا۔ حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنی بیوی سے کہو کہ اُس کے نیچے کوئی موٹا کپڑا لگا لے تاکہ اُس کا حجم، ہیئت (جسم کی وضع قطع) ظاہر نہ ہو۔ (مسندِ احمد: رقم 21279)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کپڑا باریک ہو تو نیچے اَستر لگانا ضروری ہے۔ اور باریک دوپٹہ اوڑھ لینا کہ پردہ ہوگیا، یہ بھی ٹھیک نہیں۔ آج کل تو دوپٹہ منوں وزنی لگتا ہے۔ باریک دوپٹے کے بارے میں بھی آقاﷺ نے وضاحت فرمائی ہے۔
حضرت عائشہ کا موٹا کپڑا پیش کرنا
حضرت علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ میری والدہ نے دیکھا کہ حضرت حفصہ بنتِ عبدالرحمٰنi امی عائشہ کے پاس آئیں۔ یہ باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں۔ امی عائشہ نے اُسے پھاڑ ڈالا اور اپنی طرف سے اُنہیں موٹا کپڑا پیش کیا۔ (المؤطّا للإمام مالك: باب ما یکرہ للنساء لبسہ من الثیاب)
یہ حضرت حفصہ اور ہیں جو رشتہ میں حضرت عائشہ کی سگی بھتیجی ہیں۔ اور جس مجلس میں یہ بات پیش آئی وہ کوئی ہمارے یہاں کی مخلوط مجلس نہیں تھی۔ عام نجی مجلس تھی۔ اماں جان نے ذرا بھی اس بات کو پسند نہیں کیا کہ ایک بچی بھی باریک دوپٹہ اوڑھے۔ اسے اوڑھنے کے لیے موٹا کپڑا دیا۔ نبی کریمﷺ کی سنت اور طریقہ تو یہ ہے۔
پردے کا حکم
حضرت امی عائشہ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابتدائی مہاجر عورتوںپر رحم فرمائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آیتِ کریمہ
وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ (النور: 31)
ترجمہ: ’’اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں‘‘۔
نازل فرمائی تو ان عورتوں نے اپنی موٹی چادروں کو کاٹ کر دوپٹے بنالیے۔
(سنن ابی داؤد: رقم 4102)
ایامِ جاہلیت میں دوپٹوں سے پردہ کا اہتمام نہیں تھا، صرف سر پر اس کا استعمال رائج تھا۔ جب اللہ تعالیٰ کا اس معاملے میں حکم آگیا تو عورتوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ ڈالا۔ دوپٹوں کو موٹا کرلیا۔ ذرا سا بھی پس وپیش سے کام نہ لیا۔ جو آقاﷺ نے حکم دیا، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا فوراً قبول کرلیا۔ پورے جسم کو ڈھانپنا شروع کردیا۔ بڑی چادروں کا استعمال شروع ہوگیا۔ آج فیشن اور یورپ کے پیچھے چلتے ہوئے اپنے جسم کو ظاہر کرنا تہذیب بن گیا ہے۔ ارے! نبیﷺ کا طریقہ تو یہ نہیں تھا۔ آج ہم اللہ تعالیٰ کی نظروں سے کس لیے گرگئے ہیں؟ کبھی سوچیں تو پتا چلے گا کہ نبیﷺ کی سنتوں کو ہم نے اپنی نظروں میں کم کردیا۔ اللہ تعالیٰ کی نظر میں سنت کی بڑی قیمت ہے۔
لوگوں سے شرم مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں
لباس کی بات چل رہی ہے۔ ایک مثال اسی حوالے سے دل میں آئی ہے کہ اگر ہم کوئی کپڑا پہنیں اور سامنے سے ایک دھاری نکل جائے۔ ایک دھاگہ نکل جائے تو وہ کپڑا پہن کر ہم لوگوں کے سامنے جانا پسند نہیں کرتے۔ شرماتے ہیں کہ کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا، کیا کہے گا۔ ایک دھاگہ نکلنے سے کپڑے کی قیمت کم ہوگئی۔ میرے بھائیو! آقاﷺ کی سنت کی قیمت اللہ کے دربار میں کیا ایک دھاگے کے برابر بھی نہیں ہے؟ بہت بڑی قیمت ہے اللہ کے دربار میں۔ جس انسان کی زندگی سے جتنی سنتیں نکلتی چلیں جائیں گی اُس کا درجہ اللہ کی نگاہوں سے گرتا چلا جائے گا۔ اپنے اللہ تعالیٰ سے شرم کرنے والے تو بنیں، پھر اس کی رحمتوں کو دیکھیں کہ کیسے اُچک کر اپنے بندے کو لے لیتی ہیں۔
صِنْفَانِ مِنْ أَھْلِ النَّارِ
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: دوزخی لوگوں کے دو گروہوںکو میں نے اب تک نہیں دیکھا۔ (یعنی اس وقت تک اُن کا ظہور نہیں ہوا تھا، بعد میں ایسی جماعت پیدا ہوگی) اُن میں سے ایک جماعت ایسی ہوگی کہ بیلوں کی دُم کی طرح کے کوڑے اُن کے ہاتھوں میں ہوں گے، اور وہ (اس سے) لوگوں کو ماریں گے۔دوسری جماعت اُن عورتوں کی ہوگی جو ظاہر میں کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی، مگر ننگی ہوں گی، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی، اور خود بھی اُن مردوں کی طرف مائل ہوں گی، اُن عورتوں کے سر کے بال بختی اُونٹ کے کوہانوں کی طرح ہوں گے، یہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوسکیں گی اور نہ جنت کی خوشبو سونگھ سکیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو تو اتنے اتنے فاصلے سے بھی آجاتی ہے۔ (صحیح مسلم: رقم 2128)
باریک کپڑا پہنے والی عورتوں کے بارے میں بتایا کہ جنت میں داخل ہو نا تو دُور کی بات، وہ جنت کے قریب بھی نہیں ہوسکیں گی۔
تفہیم الحدیث
حدیث شریف میں جو یہ فرمایا کہ کپڑا پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔ اس میں دوباتیں ہیں: (۱) یا تو کپڑا اتنا باریک ہوگا کہ جسم نظر آرہا ہوگا، (۲) یا اتنا چست ہوگا کہ جسم کے اُبھار نظر آرہے ہوں گے۔ بچیوں کے فراک، جانگیا، آڑھا پاجامہ، ساڑھی، یا ایسی جتنی بھی چیزیں ہیں جو نبیﷺ کے طریقے، حکم اور شریعت کے خلاف ہیں اس کے اندر شامل ہوجاتی ہیں۔
مائل کرنے والی ہوں گی کا مطلب یہ کہ نِت نئے فیشن کریں گی، اس نیت و اِرادے سے اپنے آپ کو تیار کریں گی کہ لوگ ہمیں دیکھیں اور خوش ہوں۔
اور خود بھی مائل ہوں گی کا مطلب یہ کہ بات صرف لوگوں کے متوجہ کرنے تک بھی نہ ہوگی، بلکہ دعوتِ گناہ کے ساتھ خود بھی گناہ کے لیے تیار ہوں گی۔
ان کے سر بختی اُونٹ کے کوہان کی طرح ہوں گے۔ یعنی فیشن کے طور پر بال اونچے بنائے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے! سر ہلا ہلاکر فیشن سے مٹکاتے ہوئے کیٹ واک کیا کریں گی۔ بختی اُونٹ کے دو کوہان ہوتے ہیں، اور ان دو کوہانوں کے درمیان ڈھلان سی ہوتی ہے۔ تو یہ عورتیں اپنے بالوں کو اس طرح سے بنائیں گی کہ ایک طرف سے اٹھیں ہوں گے، پھر بیٹھے ہوں گے ڈھلان کی طرح، اور دوسری طرف سے پھر اٹھیں ہوں گے۔
ان ساری باتوں کے متعلق نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی میری اُمت میں ظاہر نہیں ہوئیں۔ یہ آپﷺ نے اس وقت ارشاد فرمایا تھا یعنی آج چودہ سو سال قبل، لیکن میں اور آپ اس زمانے میں ان باتوں کو ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ کس قدر نقصان کی بات ہے کہ جس فیشن پر ناز ہو رہا ہے، وہ فیشن ہماری ماؤں اور بہنوں کو جہنم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان کا پیٹ بھی کھلا، پیٹھ بھی کھلی، پنڈلیاں بھی کھلیں اور مردوں کو لبھایا جا رہا ہے، گویا زنا کی دعوت دی جا رہی ہے۔ جب دنیا سے جانا ہوگا، قبر میں پہنچنا ہوگا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ چند دن کی زندگی کے لیے ہم جہنم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مول لیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے آمین۔ گھر کے اندر رہتے ہوئے شوہر کے لیے زیب و زینت اختیار کرنے کی شریعت نے ہر طرح سے اجازت دی ہے، لیکن نامحرم کے لیے کوئی اجازت نہیں۔
ریشمی لباس پہننے کی ممانعت
ایک لباس ہوتا ہے ریشمی لباس۔ اس بارے میں بھی وضاحت سن لیجیے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ فرماتے ہوئے سنا ۔ وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا، آخرت میں ریشمی لباس سے محروم ہوجائے گا۔ (صحیح بخاری: رقم 5414)
جنت میں جنتیوں کو سبز ریشمی لباس پہنایا جائے گا، لیکن اُن مردوں کو جو دنیا میں سادگی کے لباس پہنیں گے۔ جنت میں اللہ تعالیٰ انہیں یہ لباس عطا فرمائیں گے۔
حضرت علی فرماتے ہیں: نبیﷺ نے ایک مرتبہ ریشمی کپڑے کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیا، اور سونے کو بائیں ہاتھ میں، پھر یہ ارشاد فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری اُمت کے مردوں پر حرام ہیں۔ (سنن أبي داود: باب في الحرير للنساء، رقم 4057)
اس سے اگلی حدیث ذرا دل کے کانوں سے سنیے گا۔ دلوں کو تھام لیجیے گا۔ اگر سینوں میں دل ہے تو ضرور کانپے گا، اگر سینوں میں سِل ہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
پانچ چیزوں کو حلال سمجھنے پر ہلاکت
حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: جب میری اُمت پانچ چیزوں کو حلال سمجھنے لگے گی یعنی ان کا ارتکاب کرے گی تو ہلاکت اور بربادی اُن کا مقدر بن جائے گی۔ (وہ پانچ چیزیں کونسی ہیں؟)
1۔ جب ان میں ایک دوسرے پر لعنت کرنا عام ہوجائے۔
آج شوہر کو دیکھیں تو بیوی پر لعنت، بیوی کو دیکھیں تو شوہر پر لعنت کر رہی ہے۔ بھائی بھائی پر لعنت کر رہا ہے۔ خونی رشتہ دار ایک دوسرے پر لعنت کر رہے ہیں اور یہ معاملہ بہت عام ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ بربادی اور تباہی سے اُمت کو محفوظ رکھے آمین۔
2۔ جب شراب پینا عام ہوجائے۔
ایک نوجوان آیا توبہ تائب ہوا۔ کہنے لگا کہ میں ایک جگہ ملازمت کرتا ہوں۔ عام سا کیفے جہاں پان اور مختلف چیزیں مل جاتی ہے، وہاں 35 قسم کے مختلف ناموں سے الکوحل والی چیزیں بھی دستیاب ہیں۔ نوجوان آتے ہیں اور لے جاتے ہیں، اس پر شراب لکھا ہوا نہیں ہے لیکن ہے اندر شراب۔ العیاذ باللہ!
3۔ جب ریشمی لباس پہننا عام ہوجائے۔
عام طور سے مرد ریشمی لباس پہننے لگیں گے۔ اور اس پر اِترائیں گے کہ ہم نے ریشمی لباس پہنا ہے۔ اسے معیوب نہیں سمجھا جائے گا۔
4۔ جب گانے والی باندیاں اختیار کی جائیں گی۔
5۔ اور پانچویں چیز بہت خطرناک کہ مرد مرد پر اکتفا کرے گا اور عورت عورت پر اکتفا کرے گی۔ یعنی شادی کی ضرورت اور اہمیت نظروں سے گرتی چلی جائے گی اور لواطت عام ہوجائے گی۔ اور آج یہ کئی ممالک میں شروع ہوچکا ہے جسے قانون کی حمایت حاصل ہے۔ اللہ اکبر کبیراً! (شعب الایمان للبیہقی: 5056)
پانچوں چیزیں آج اس اُمت میں نظر آرہی ہیں۔ اور ارشادِ نبویﷺ یہ ہے کہ جب یہ پانچ چیزیں عام ہوجائیں گی، بے حیائی عام ہوجائے گی تب ہلاکت اور بربادی مقدر بن جائے گی۔ اَللّٰهُمَّ احْفَظْنَا مِنْهُ.
مخلوط ریشمی لباس
مخلوط یعنی مِکس ریشمی لباس کہ ریشم کم اور باقی چیزیں زیادہ ہوں تو اس کی گنجائش ہے۔ صحابہ نے اسے استعمال فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: آپﷺ نے گھٹے ہوئے ریشمی کپڑے (جس میں ریشم کی مقدار زائد ہو) اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے، اگر ریشم کی مقدار کم ہے تو اجازت ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4055)
ابو رجاء فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے دیکھا کہ انہوں نے ایک چادر پہنی ہوئی تھی جس کا کنارہ (یعنی باڈر) ریشم کا ہے۔ (ہم بڑے حیران ہوئے) حضرت عمران نے فرمایا کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ جس پر انعام فرمائے (یعنی مال عطا فرمائے) تو اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے پر اس نعمت کا اَثر دیکھنا پسند کرتے ہیں۔  (مشکاۃ المصابیح: رقم 4379)
اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اچھے انداز میں استعمال کرنے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں۔
لباس سے ستر چھپانا
اب لباس کے بارے میں چند مسائل ہیں جن کا جاننا ضروری ہے۔
مردوں کے لیے کتنا جسم چھپانا ضروری ہے؟ فرمایا کہ ناف سے لے کر گھٹنے تک۔ گھنٹے کو چھپانا مرد کے لیے فرض ہے، اس سے کم کی گنجائش کوئی نہیں۔
(الفقہ علی المذاھب الأربعۃ للشیخ عبدالرحمن الجزیري: 196/1)
سوئمنگ اگر کرنی ہے تو شریعت اجازت دیتی ہے، لیکن ستر چھپا کر۔ قدیم جدّہ کی تاریخ میں ہے کہ حضرت عثمان نے جدہ کے سمندر کے پانی میں غسل کیا ہے۔ اگر کسی نے کاسٹیوم پہنی ہے تو سنت کے مطابق پہنے، ڈھیلی ہو، ٹائٹ نہ ہو، بہتر تو یہ ہے کہ ناف ڈھکا ہو اور گھٹنے کا ڈھکا ہونا تو فرض ہے۔ کوئی بھی کھیل کھیلنا ہو تو کھیل کے لیے نماز قضا نہ ہو۔ جو جائز کھیل ہوں وہ کھیل سکتے ہیں لیکن نیکر نہ پہنے جس سے گھٹنے ننگے ہوں۔ شریعت کے مطابق لباس پہن لیجیے تو اجازت مل جاتی ہے۔
ایسا کپڑا پہننا جس سے گرمی اور سردی سے حفاظت ہو۔ انسان موسم کے نقصانات سے اپنے آپ کو بچائے، یہ واجب ہے۔
ادائیگی شکر کی نیت سے لباس پہننا
انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی نیت سے لباس پہنے۔ اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کے اِظہار کے لیے پہنے تو لباس پہننا عبادت ہوجائے گا۔ لیکن اگر کسی نے بڑائی جتانے کے لیے، فخر کرنے کے لیے کہ میں تو فلاں برانڈ کا لباس پہنتا ہوں، میں تو چیئرمین کا لٹھا پہنتا ہوں، تاکہ لوگوں کو ظاہر ہو کہ میں نے یہ پہنا ہوا ہے۔ اپنی بڑائی کا اظہار اگر مقصود ہو تو گناہ ہوجائے گا۔ اسی طرح گنجایش ہونے کے باوجود کم تر لباس پہننا، یا پھٹا پرانا لباس پہننا اس سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں! تواضع، عاجزی کے لیے پہننا مستحسن ہے۔ خوشحال آدمی ہو، عمدہ لباس کی قدرت ہو لیکن سادہ لباس پہن لے یہ پسندیدہ ہے۔ اسی طرح ہاف پینٹ، جانگیا، نیکر اور ہر ایسی چیز جو گھٹنے کو ننگا کر دے، عورتوں کے لیے تو کسی درجے میں بھی ٹھیک نہیں، مردوں کے لیے بھی اس کا استعمال منع ہے۔
اسی طرح ٹائی لگانے کے بارے میں فرمایا کہ یہ عیسائیوں کی علامت ہے جو عیسیٰ کے صلیب پر لگانے کی یادگار ہے۔ اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ ایسے ہی مردوں کے ٹخنے ہر حال میں ننگے رہیں۔ صرف نماز میں پانچ منٹ، پندرہ منٹ کے لیے نہیں، بلکہ ہر وقت ٹخنے ننگے رہنے چاہییں۔
حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس شخص کو محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا جس کے ٹخنے فخراً ڈھکے ہوئے ہوں۔
(بخاری بروایت ابی ہریرہ، رقم: 5451، ومسلم بروایت ابن عمرi، رقم 2085)
عورتوں کے لیے ساڑھی، لہنگا غیروں کا لباس ہے اور بے پردگی کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا یہ ناجائز ہیں۔ ہر وہ لباس جس سے کفار کی مشابہت اور دل کے اندر یہ بات پیدا ہوتی ہو کہ میں اُن جیسا نظر آؤں یہ اُس لبا س کو حرام تک لے جاتی ہے۔ ہاں! اگر ایسا لباس ہے جس سے نیت تو یہ نہیں ہے کہ میں اُن جیسا نظر آؤں،حرام تو نہیں ہوتا لیکن ان جیسا لباس پہننا خلافِ سنت ہے۔
مرد، عورت کا جداگانہ پہننا
ایسے کلر اور ایسے پرنٹ اور ایسے کپڑے جو عورتوں کے لیے معروف سمجھے جاتے ہوں کہ عورتوں کے لیے خاص ہیں، ایسی کپڑوں کا مردوں کے لیے پہننا منع ہے۔ اور جو مردوں کے لیے لباس ہیں، اس کا عورتوں کے لیے پہننا منع ہے۔ ایک صحابیہ خاتون کا امی عائشہکے سامنے ذکر کیا گیا جو ایسی جوتیاں پہنتی تھی (جو اس زمانے کے مرد پہنا کرتے تھے) امی عائشہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کے طور کو اختیار کریں۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4099)
جوتا اُن کا ایسا تھا جو مردوں کا تھا اسے بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔ عورت ہے تو مکمل عورتوں کے لباس میں ہو، مرد ہے تو مکمل مردوں والا لباس پہنے۔
اسی طرح عورتوں کے لیے قمیض آگے سے کھلا رکھنا، یا پیچھے سے کھلا رکھنا کہ جسم نظر آتا ہو یہ بھی منع ہے۔ خواتینِ اسلام تو اسلام کا عملی نمونہ پیش کر رہی ہوتی ہیں جس میں ان کے لیے عزت ہے، ان کی حفاظت ہے۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ ہمہ وقت پورے جسم کو چھپائیں۔ اور ایسا لباس ہرگز پہنیں جس سے بے لباسی ظاہر ہوتی ہو۔
خاص مواقع پر عمدہ لباس پہننا
جمعہ والے دن، عیدین کے موقع پر، تقریبات کے موقع پر، مہمان کے آنے کے موقع پر عمدہ لباس پہننا مسنون ہے۔
حضرت ابو اُمامہ فرماتے ہیں: حضرت عمر نے نیا کپڑا پہنا اور یہ دعا پڑھی:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ کَسَانِيْ مَا أُوَارِيْ بِہٖ عَوْرَتِيْ وَأَتَجَمَّلُ بِہٖ فِيْ حَیَاتِيْ.
پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ’’جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ دعا پڑھے (اوپر والی دعا) اور پرانا کپڑا صدقہ کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سایہ (رحمت) میں، اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں، اللہ تعالیٰ کے پردے میں آجاتا ہے خواہ زندہ رہے یا انتقال کر جائے‘‘۔ (سنن ترمذی: رقم 3560)
یعنی جب نیا کپڑا آئے تو پرانا صدقہ کر دے، اللہ کا شکر ادا کرے تو انسان اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آجاتا ہے۔
مسلمان کو کپڑا ہدیہ کرنا
آدمی کسی کو کپڑا پہنائے، اس کا بڑا ثواب ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسi کے پاس ایک سائل آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: کیا تم حضرت محمدﷺ کی رسالت کی گواہی دیتے ہو؟ اس نے کہا؟ جی ہاں! آپ نے پوچھا: کیا تم پانچوں نمازیں پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: کیا تم رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے اپنے غلام سے کہا کہ اسے ایک جوڑا پہنا دو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے: کوئی مسلمان ایسا نہیں جس نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا مگر یہ کہ وہ اُس وقت تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا جب تک کہ پہننے والے کے پاس اس لباس کا چیتھڑا بھی باقی ہو۔ (المستدرك علی الصحیحین: رقم 7499)
کسی دوسرے کو لباس پہنا دیا تو انسان اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آجاتا ہے۔ ذرا غور کریں کہ یہ دین کتنا پیارا دین ہے۔ کتنا خیال رکھا ہے لوگوں کا۔ کسی کو نہ لباس کے اعتبار سے بے آبرو کرنے کی اجازت ہے اور نہ عزّت کے اعتبار سے۔
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس مسلمان نے کسی دوسرے ضرورت مند (کپڑے کے لیے محتاج) مسلمان کو کپڑا پہنایا، اللہ ربّ العزّت اُسے جنت کا سبز لباس پہنائیں گے۔ اور جس کسی مسلمان نے کسی دوسرے مسلمان بھوکے کو کھانا کھلایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کا پھل کھلائے گا۔ اور جس کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی خالص شراب پلائیں گے جس پر مہر لگی ہوگی۔ (سنن ابی داؤد: رقم 1435)
حضرت عبداللہ بن مسعود سے ایک موقوف روایت میں منقول ہے کہ قیامت کے دن لوگ بھوکے اٹھیں گے جو پہلے بھوکے نہ تھے، پیاسے اٹھیں گے جو پہلے پیاسے نہ تھے، ننگے اٹھیں گے جو پہلے ننگے نہ تھے، تھکے ہوئے ہوں گے جو پہلے ایسے نہ تھے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ (کی رضا) کے لیے کسی کو کھانا کھلایا ہوگا اللہ تعالیٰ اسے کھلائیں گے، اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کو پانی پلایا ہوگا اللہ تعالیٰ اسے پلائیں گے، اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کو کپڑا پہنایا ہوگا اللہ تعالیٰ اسے پہنائیں گے، اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیا ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجائیں گے، (دنیا میں) اللہ تعالیٰ (کے دین) کی مدد کی ہوگی اللہ تعالیٰ اس (قیامت کے) دن اسے راحت عطا کریں گے۔ (الدّار الآخرة لعمر عبدالكافي: 21/9)
کتنی بہترین خوبیاں ہیں۔ کاش! ہمیں اس کی حقیقت سمجھ آجائے۔
جمعہ کے دن سے نئے لباس کی ابتدا
اگر کسی کو نیا کپڑا ملے یا نیا کپڑا بنائے تو کوشش یہ کرے کہ اُس کی ابتدا جمعہ والے دن سے کرے۔ مثلاً کپڑا منگل کو سلوایا تو اب دو تین دن رکھ لے۔ نیا کپڑا پہلی مرتبہ جب پہنے تو مستحب یہ ہے کہ جمعہ کے دن سے اُس کی ابتدا کرے۔ ساتھ میں ایک کام اور بھی کرلے۔ (شرح صحيح مسلم للامام نووی: 14/38)
کپڑے پہنتے وقت کی دعا
حضرت معاذ بن انس فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی نیا کپڑا پہنے تو پہلے اس کپڑا کا نام لے اور یہ دعا پڑھے:
اَلْحَمْدُ للّٰہِ الَّذِيْ کَسَانِيْ ھٰذَا الثَّوْ بَ وَرَزَقَنِيْہِ مَنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّيْ وَلَا قُوَّۃٍ.
(سنن أبي داود: رقم 4023)
ترجمہ: ’’تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ پہنایا، اور مجھے روزی دی بغیر میری قوت اور طاقت کے‘‘۔
اللہ تعالیٰ اس دعا کے پڑھنے پر اُس کے اگلے پچھلے سارے گناہ فرما دیتے ہیں۔
اللہ اکبر کبیراً! کتنی عظیم الشان بات ہے۔
کپڑے اُتارتے وقت کی دعا
اچھا! انسان کپڑے بدلتا بھی ہے۔ کپڑے بدلنے کے لیے اس کو بےلباس ہونا پڑتا ہیں۔ اس بارے میں یاد رکھنا چاہیے کہ جنات اور شیاطین ہمارے دشمن ہیں۔ دشمن تو دشمنی میں لگا ہوتا ہے، ہر وقت ٹوہ میں ہوتا ہے، موقع کی تلاش میں ہوتا ہے۔ نبیﷺ نے اس میں بھی ہمیں وضاحت فرما دی۔ نبیﷺ نے فرمایا: جنات کی آنکھوں اور انسان کے ستر کے درمیان پردہ یہ ہے کہ مسلمان جب کپڑا اتارنے کا ارادہ کرے تو اتارنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے:
بِسْمِ اللہِ الَّذِيْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ. (ابن السني: صفحہ240، وصحّحہ الألباني بمجموع طرقہ في صحیح الجامع: رقم 3610)
حضرت علی کی روایت میں صرف بِسْمِ اللہِ ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 606)
یہ سنت ہے۔ لباس تو روز ہی تبدیل کرنا ہوتا ہے تو اگر ہم سنت پر عمل کریں، ہمیں رحمتیں ملیں گی، برکتیں ملیں گی۔ اب سنت کے بارے میں قرآن مجید کی آیات اور نبیﷺ کے فرامین بھی سن لیجیے!
اطاعۃُ اللہ واطاعۃُ الرسولﷺ
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۰۰
(الأنفال: 20)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرو، اور اس (تابعداری) سے منہ نہ موڑو، جبکہ تم (اللہ اور اس کے رسول کے اَحکام) سن رہے ہو‘‘۔
’’منہ نہ موڑو‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ اللہ تعالیٰ شانہٗ اور اس کے رسولﷺ کے قول، وفعل کے خلاف نہ جاؤ۔ جس میں اُن کی خوشی ہے وہ اختیار کرو، اور جس میں اُن کی ناراضگی ہے اُسے چھوڑ دو۔
ایک اور جگہ ارشادِ باری ہے:
قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ (آل عمران: 32)
ترجمہ: ’’کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو‘‘۔
دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا (النّور: 54)
ترجمہ: ’’ان سے کہو کہ اللہ کا حکم مانو اور اس کے فرماں بردار بنو، پھر بھی اگر تم نے منہ پھیرے رکھا تو رسول پر تو اتنا ہی بوجھ ہے جس کی ذمہ داری اُن پر ڈالی گئی ہے، اور جو بوجھ تم پر ڈالا گیا ہے اس کے ذمہ دار تم خود ہو، اگر تم اُن کی فرماں برداری کرو گے تو ہدایت پاجائو گے‘‘۔
ایک عارف باللہ نے کہا:
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ (النّساء: 80)
ترجمہ: ’’جو رسول کی اطاعت کرے، اس نے اللہ کی اطاعت کی‘‘۔
کیوںکہ نبیﷺ کا ہر قول و فعل اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔
اس سے پہلی والی آیتِ مبارکہ میں ارشاد فرمایا:
وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا ۰۰ (النّساء: 69)
ترجمہ: ’’اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ اُن کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اِنعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں‘‘۔
ذرا دیکھیں تو سہی! کتنی پیاری محبت ہے، کتنی پیاری رفاقت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو پورا کرنا اور نبیﷺ کی اطاعت کو مکمل کرنا۔ اس کا انعام کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ جمع کر دیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہیں۔ اور اس سے بھی پہلی آیت میں فرمایا:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ (النّساء: 64)
ترجمہ: ’’اور ہم نے کوئی رسول اس کے سوا کسی اور مقصد کے لیے نہیں بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اِطاعت کی جائے‘‘۔
رسول اللہﷺ کی آمد کا مقصد یہی ہے کہ اُن کی اِتباع کی جائے۔ اُن کے نقشِ قدم پر چلنا اُمت کے لیے ضروری ہے۔ اگر کوئی آدمی نہ چلے، نہ مانے تو کیا ہوگا؟ یاد رکھنے کی بات ہے کہ قیامت کے دن پچھتاوا ہوگا اور اُس آدمی کے الفاظ یہ ہوں گے:
يٰلَيْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا۰۰ (الأحزاب: 66)
ترجمہ: ’’اے کاش! ہم نے اللہ کی اطاعت کرلی ہوتی، اور رسول کا کہنا مان لیا ہوتا‘‘۔
تو آج یہ بُرا انجام نہ دیکھنا پڑتا۔ اپنی خواہش کی بات نہیں ہے۔ ایمان والے کے لیے ضروری ہے نبیﷺ کی اتباع کرنا۔ مذکورہ آیت کے بعد اگلی آیت میں اِرشاد فرمایا:
وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا۰۰ (الأحزاب: 71)
ترجمہ: ’’جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو بڑی زبردست کامیابی ہے‘‘۔
جب بڑے کسی چیز کو بڑا کہتے ہیں تو وہ بہت بڑی ہوتی ہے۔ ایک آدمی جس کی تنخواہ دس ہزار ہے، اُس کے لیے بیس ہزار بڑی رقم ہے۔ ایک آدمی کی اِنکم دس لاکھ ہے، اُس کے لیے کروڑ بڑی رقم ہوگی۔ اور پوری کائنات زمین وآسمان، شجر وحجر، پہاڑ وسمندر ودریاؤں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ (النّساء: 77)
ترجمہ: ’’کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے‘‘۔
اتنی بڑی دنیا جسے ہم اتنی اہمیت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پَر کے برابر بھی نہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ بڑا کہہ رہے ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے مطابق بڑی ہوگی۔ اُس کی بڑائی کا میں اور آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ کتنی بڑی کامیابی ہوگی۔ آگے اصول بھی بتادیا اور کسوٹی بھی بتادی۔ فرمایا:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰ (آل عمران: 31)
ترجمہ: ’’(اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے‘‘۔
محبت کسے کہتے ہیں؟
آپ کو کس سے کتنی محبت ہے، یہ نظر نہیں آئے گی۔ یہ مخفی چھپی ہوئی چیز ہے۔ سب دعویٰ رکھتے ہیں نبیﷺ سے محبت کا۔ زبان سے تو ہم سب کہہ دیتے ہیں، لیکن ظاہر کیسے ہوگی؟ اعمال سے ظاہر ہوں گے۔ اَثرات ہوتے ہیں اُن سے پہچانا جائے گا۔ یاد رکھیے! جو لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعوے دار ہیں، اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اپنی محبت کی کسوٹی بتا دی ہے۔ اگر دنیا میں کوئی یہ کہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے تو دیکھا جائے گا کہ یہ نبیﷺ کی سنتوں سے محبت کرتا ہے۔ کتنا عمل کرتا ہے؟ اپنی محبت کو محمدﷺ کی کسوٹی میں دیکھ لے، جتنی اتباعِ نبی زیادہ ہے اتنی اللہ تعالیٰ کی محبت زیادہ ہوگی۔ جس کے اندر نبیﷺ کی اتباع کم ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کم ہوگی۔ جتنا سچا ہوگا وہ نبیﷺ کی سنتوں میں اتنا پکا ہوگا۔ جو جتنا جھوٹا ہوگا آقاﷺ کی سنتوں سے اتنا دور ہوگا۔
اب چند احادیث بھی سن لیجیے!
اطاعتِ رسولﷺ پر احادیثِ مبارکہ
حضرت ابوہریرہ روایت نقل کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: میرے سب اُمتی جنت میں داخل ہوں گے، سوائے اُن کے جنہوں نے میرا اِنکار کیا۔ صحابہ نے پوچھا: اِنکار کرنے والا کون؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے میرا اِنکار کیا۔
(صحیح بخاری: باب الاقتداء بسنن رسول اللہﷺ)
جس نے سنت پر عمل نہیں کیا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ سنت سے اِنکار کا کیا مطلب ہے؟ جان بوجھ کر، غفلت کی وجہ سے سنت چھوڑ دے۔ یعنی جنت میں داخلے کی کنجی اتباعِ رسولﷺ ہے۔
ایک حدیث میں حضرت عرباض سے مروی ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم پر میری سنت کی اتباع لازم ہے۔ (المستدرك علی الصّحیحین: رقم 334)
جی ہاں! یہ آپشنل نہیں ہے، لازم ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: سنت کے مٹنے کے وقت جو امتی میری سنت کو زندہ کرے گا سو شہیدوں کے برابر ثواب ملے گا۔
(الکامل لابن عدی:327/2)
یعنی وہ وقت جب لوگ سنتوں کو چھوڑ چکے ہوں گے، سنت پر عمل کا رواج نہیں ہوگا، بلکہ فیشن کا رواج ہوگا، لوگ سنتوں سے غافل ہوں گے، یا سنت کو سنت ہی نہیں سمجھ رہے ہوں گے۔ ایسے حالات میں جو نبیﷺ کی سنت پر خود عمل کرے گا، دوسروں کو ترغیب دے گا، اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ مثال کے طور پر اس وقت شادی سنت کے مطابق کرنا ہماری زندگیوں سے ختم ہوچکا ہے۔ چند دن پہلے ایک نوجوان آیا شادی کے بارے میں بات کی۔ میں نے کہا: بیٹا! سنت کے مطابق کرلینا۔ اس نے کہا: ساری برادری میں ناک کٹ جائے گی اگر میں نے سنت کے مطابق شادی کرلی۔
اس کو ذرا دوسرے الفاظ میں دیکھیں! سمجھنے کا ایک انداز ہے۔ کاش! ہمارے دل میں بات اُتر جائے کہ قیامت کےدن نوجوان اللہ کے نبیﷺ کے پاس شفاعت کے لیے جائیں گے کہ میرے گناہوں پر شفاعت کر دیجیے۔ اس موقع پر اگر نبیﷺ پوچھ لیں کہ میرے امتی! تمہارا تو حال یہ تھا کہ میری سنت کے مطابق عمل کرنے میں تمہاری ناک کٹ جاتی تھی، آج بتاؤ تو سہی کیا دلیل ہے کہ تمہاری شفاعت کروں؟ کیا ہم اللہ کے نبیﷺ کا سامنا کر سکیں گے؟ سنت پر عمل کرتے ہوئے ہم شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ اللہ اکبر کبیراً!
ناگفتہ بہ نوجوانوں کے حالات
ایک دوست کی بات سنیے! ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ نکاح کے بعد جب رخصتی ہونے لگتی ہے تو دولہا چند دوستوں کے ساتھ، رشتہ داروں کے ساتھ عورتوں میں جاتا ہے اور دلہن کو لے کر باہر نکلتا ہے۔ پانچ منٹ یا گھنٹہ جو بھی لگتا ہوگا۔ اُس وقت دولہا کے ساتھ جانے والے نوجوان کی دل کی کیفیت سن لیجیے! ایک کی نہیں، پتا نہیں کتنوں کی ہی ہوتی ہے۔ ایک دوست کہنے لگا کہ میرے دل میں تمنا دلہن کو دیکھ کر یہ بیدار ہو رہی تھی کاش! یہ اس کے پاس جانے سے پہلے آدھ گھنٹہ مجھے مل جائے۔ آج کسی کو کہہ دو بھئی! یہ گناہ ہے۔ تو دلیل دیتے ہیں کہ دولہا دلہن محرم ہوچکے ہیں، نکاح تو ہوچکا ہے۔ دولہا کا بھائی، دولہا کا دوست انہیں کس نے محرم قرار دیا ہے؟ جب ہم شریعت و سنت کے خلاف جائیں گے تو ہمیں پریشانیاں دیکھنی پڑیں گی۔ اسلام حیا اور پاکدامنی کا درس دیتا ہے۔
حضرت انس فرماتے ہیں: نبی نے فرمایا: جس نے میری سنت کو زندہ کیا اُس نے مجھ سے محبت کی، جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
(سنن ترمذی: رقم 2678)
یعنی جو حضرات محبتِ رسولﷺ کا دعویٰ رکھتے ہیں، اگر ان کے احوال سنت کے مخالف ہیں تو جھوٹے ہیں۔ دراصل سنتِ نبویہ ﷺ باعثِ نجات ہے۔ سنتوں کی مثال کشتی نوح کی مانند ہے۔ کشتی نوح کا کیا حساب تھا؟ اُس زمانے میں جو کشتی نوح میں بیٹھ گیا، غرق ہونے سے بچ گیا۔ نوح کا سگا بیٹا نہیں بیٹھا، وہ غرق ہوگیا۔ آج بھی جو اُمتی سنت کی کشتی میں بیٹھ جائے گا، بے حیائی اور بے دینی کے طوفان سے بچ جائے گا۔ اس کا بیڑہ پار ہوجائے گا۔ جو سنت کی کشتی میں نہ بیٹھا وہ غرق ہوجائے گا۔ اور نبیﷺ نے خود اِرشاد فرمایا: جس نے میری سنت سے اِعراض کیا(غفلت برتی وہ) مجھ سے نہیں۔ (صحیح البخاري: باب الترغیب في النکاح، رقم 4776)
حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا تین کاموں سے بڑھ کر کوئی کام نہ ہوگا (جسے اُمت اختیار کرے):
(1) رزقِ حلال
(2) مخلص دوست (مخلص دوست سے مراد شیخ، علماء، صلحاء، نیک لوگ)
(3) سنت جس پر عمل کیا جائے۔ (المعجم الاوسط للطبرانی: 35/1)
حضرت عمران بن حصینi فرماتے ہیں: قرآن پاک (کے احکام کو) اللہ تعالیٰ نے خود اُتارا۔ پھر نبیd نے ان سنتوں کو کیا ۔اور اپنی امت سے فرمایا: میری اتباع کرو۔ آگے فرمایا: قسم ہے اللہ تعالیٰ کی! اگر تم میری اتباع نہیں کرو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ (مجمع الزوائد: 1/178)
آقاﷺ نے قسم کھا کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ حدیث کی کتاب ’’مجمع الزوائد‘‘ میں یہ بات موجود ہے۔ دوچیزیں ہیں: احکامِ خداوندی، اور اتباعِ رسولﷺ۔ جو آدمی ان میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ دے گا برباد ہوجائے گا۔
حضرت ابو سعید خدری ایک حدیث میں آقاﷺ نے فرمایا: جس نے پاکیزہ (حلال) کھایا، سنت پر عمل کیا، اور لوگ اس کی تکلیف اور اَذیتوں سے محفوظ رہے تو وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایسے لوگ تو بہت ہیں۔ نبیw نے فرمایا: میرے زمانے کے بعد بھی ایسے لوگ ہوں گے۔
(سنن ترمذی: رقم 2520)
رزقِ حلال کماکر کھانا ہے۔ اور سنتوں پر کوشش کرکے، جستجو کرکے عمل کرنا ہے۔ اور لوگوں کو تکلیف دینے اور اذیت دینے سے بچانا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ لوگ تمہیں تکلیف دیں تو تم صبر کرو۔ بلکہ فرمایا:
تَکَفَّ شَرَّکَ عَنِ النَّاسِ. (صحیح مسلم: رقم 260)
ترجمہ: ’’تم لوگوں کو اپنے شر سے بچاؤ‘‘۔
بیوی کو بھی بچاؤ، سسرال والوں کو بھی بچاؤ، بھائیوں کو بھی بچاؤ، رشتہ داروں کو بھی بچاؤ، جن سے کاروباری شراکت ہے اُنہیں بھی بچاؤ۔ اَخلاق صرف اس چیز کا نام نہیں ہے کہ لوگ تکلیف دیں اور تم صبر کرو۔ اخلاق اس چیز کا بھی نام ہے کہ تم کسی کو تکلیف نہ دو۔ انسانی اَخلاق یہ ہوتے ہیں، ورنہ تو جانور بھی کسی کو تکلیف نہیں دیتے۔ اُس کو ہم ماریں تو جواب دیں گے؟ بعض جانور ہوتے ہیں گائے بکری تکلیف نہیں دیتے، آدمی لڑنے پر آجائے تو الگ بات ہے۔ یہ تو جانوروں میں بھی صفت ہے۔ اخلاق یہ ہے کہ تم کسی کو تکلیف نہ دو۔ آج ہم دیکھیں میری ذات سے کسی کو تکلیف تو نہیں ہو رہی۔ عمل اس کسوٹی پر آجائے اِن شاء اللہ بیڑہ پار ہوجائے گا۔
صحابۂ کرام کا اہتمامِ سنت
حضراتِ صحابۂ کرام کا اہتمامِ سنت کیا تھا؟ اس کےبغیر بات پوری نہیں ہوتی۔ چند باتیں سن لیجیے! حضرت عبداللہ بن عمر کو دیکھا گیا کہ کھلے ہوئے بٹن کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں۔ کسی نے پوچھا: حضرت! ایسے کیوں پڑھ رہے ہیں؟ فرمایا: آقاﷺ کو ایسے پڑھتے دیکھا تھا۔ (ترغیب: 182/1)
حضرت عبداللہ بن عمرi مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان جب سفر کرتے تو عجیب معاملہ ہوتا۔ جہاں آقاﷺ پڑاؤ ڈالا کرتے تھے، اُتر کر وہاں پڑاؤ ڈالتے۔ جہاں جہاں آقاﷺ نے قیلولہ کیا ہوتا، وہاں رک جاتے۔ ایک مقام کا نام پڑ گیا ’’شجرِ قیلولہ‘‘ تو آپ وہاں جا کر قیلولہ کرتے۔
اچھا! آج کل تو فتنوں کا دور ہے بعض نئی روشنی کے اسکولز سے پڑھے ہوئے لوگ سنتوں کا انکار بھی کر دیتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو غلو کرنے لگتے ہیں نعوذ باللہ! نبیﷺ کی کچھ سنتیں تو عمل سے متعلق ہیں جس پر عمل کا حکم دیا، اور کچھ عادتاً ہیں جو یا تو آپﷺ کے ساتھ خاص تھیں، یا اللہ تعالیٰ نے کسی موقع پر ایسا کرنے کا حکم دیا اور بعد میں انہیں منسوخ فرما دیا۔ ہم بھی انسان ہیں اور نبیﷺ بھی بشر تھے۔ انسان کھاتا ہے، نبیﷺ بھی کھاتے تھے۔ جو لوگ بے چارے دین سے دور ہیں، وہ نبیﷺ کی محبت کو نہیں سمجھتے اس لیے وہ فرق کر دیتے ہیں۔ صحابہ سچے عاشقِ رسولﷺ تھے۔ جو حکم ملتا اُسے پورا کرتے تھے۔ سنت کی محبت میں حضرت عبداللہ بن عمر سواری پر سوار ہیں، راستے میں ایک جگہ سواری رک گئی۔ تھوڑا چل کر ایک جگہ آگے گئے اور ایسے بیٹھ گئے جیسے حاجت کے لیے بیٹھنا ہو۔ کیا کچھ نہیں، واپس آگئے۔ ساتھیوں میں کسی نے پوچھا کہ آپ سواری سے کیوں اُترے؟ وقت کیوں لگایا؟ جواب میں فرمایا: مجھے تقاضا تو نہیں تھا، لیکن ایک دفعہ میں نبی کریمﷺ کے ساتھ یہاں سے گزرا، نبی کریمﷺ یہاں رُکے تھے، حاجت سے فارغ ہوئے تھے۔ میں بھی یہاں سے گزر رہا ہوں، میرے دل نے چاہا کہ اسی طرح کروں جیسے میرے نبی کریمﷺ نے کیا تھا۔ محبت تو یہ ہوتی ہے۔ (صحیح البخاري: باب المساجد التي على طرق المدينة والمواضع التي صلّى فيها النبي صلى اللّٰه عليه وسلم)
موجودہ طرزِ عمل
ہم لوگوں اور صحابہ میں کیا فرق تھا؟ صحابہ سنت پر عمل اس لیے کرتے تھے کہ سنت ہے، میرے نبیﷺ کا عمل ہے، یہ کرنا ہے۔ ہم اس لیے چھوڑدیتے ہیں کہ سنت ہی تو ہے۔ کون ساواجب ، یا فرض ہے۔ ارے! بہت بڑا فرق ہے ہمارے اور اُن کے درمیان میں۔ ایک ایک بات کے اندر حساب رکھتے تھے نبی کریمﷺ کے طریقوں کا۔
چھ اشخاص جن پر لعنت کی گئی ہے
حضرت امی عائشہ فرماتی ہیں: حضورِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے چھ آدمیوں پر لعنت کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اُن پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے (یعنی میری لعنت مقبول ہے۔)
(1) خدا تعالیٰ کی کتاب پر زیادتی کرنے والا۔
(2) تقدیر کو جھٹلانے والا۔
(3) ایسے حکمران جو اُمت پر مسلط ہو کر اللہ تعالیٰ نے جنہیں ذلیل قرار دیا ہے (شریر، بے حیا لوگ) انہیں عزت دیں، اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے معزز بنایا ہے (علماء، صلحاء) انہیں ذلیل کریں۔
(4) اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال کرنے والا۔
(5) میرے اہلِ بیت کی بے حرمتی کرنے والا۔
(6) سنتوں کو ترک کرنے والا۔ (سنن ترمذی: رقم 2154)
میرے بھائیو! سنتوں پر عمل کرنا جنت کی کنجی ہے۔ سنتوں کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ اور اس کے نبیﷺ کی طرف سے لعنت کا ذریعہ ہے۔
احیائے سنت کی محنت
حضرت عمرو بن عوف فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے اِرشاد فرمایا: جس نے میرے بعد میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو مٹ چکی تھی، پس اس سنت کو زندہ کرنے والوں کے لیے تمام لوگوں جیسا ثواب ہے جو اُس پر عمل کریں گے، جو لوگ عمل کریں گے اُن کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ (سنن ترمذی: رقم 2677)
آج کے دور میں سنتیں مٹ رہی ہیں۔ ہم سنت معلوم کرکے اُس پر عمل کریں تو آسانی ہو جائے گی۔ سنت پر عمل کرنے میں تین باتیں قابلِ لحاظ ہیں:
نمبر1: اہتمام اور پابندی سے عمل کریں۔
نمبر2: جستجو اور تلاش کرکے اس پر عمل کریں۔
نمبر3: سنت عمل جس درجے اور جس حد تک ہے، اسی پر علمائے کرام سے پوچھ کر عمل کریں، اس میں اِفراط وتفریط سے اجتناب کیا جائے۔
گمراہی سے حفاظت
امام مالک فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم اسے مضبوطی سے تھامو گے تو تم گمراہ نہیں ہوگے: (۱) اللہ کی کتاب، اور (۲) میری سنت۔ (موطا امام مالک: رقم 1395)
جب گمراہی عام ہوجائے گی تو سنتوں پر عمل کرنے والا گمراہی سے بچ جائے گا۔
حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: میری اُمت پر ایک وقت آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے والا ایسا ہوگا جیسے کہ کسی کے ہاتھ میں چنگاری ہو۔ (سنن ترمذی: رقم 2260)
آج گھر میں شرعی پردہ شروع کرنے کا کوئی عورت اعلان کر دے تو عجیب ہنگامہ برپا جاتا ہے۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ ! بیعت ہونے کے بعد کئی بچیوں نے شرعی پردے کا باقاعدہ اہتمام کیا۔ ماں باپ ناراض ہو گئے، ساس سُسر ناراض ہوگئے۔ طنز کیے گئے کہ تم کیسے فاطمہ کے طریقے پر چل سکتی ہو۔ اللہ اکبر! کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ نوجوانوں نے توبہ کی۔ داڑھی رکھنے کے ارادے کیے۔ سگے باپ نے کہا کہ گھر سے نکل جاؤ کہ داڑھی نہیں رکھنی۔ آج یہ حالات آچکے ہیں۔ اِس دور میں جو سنتوں پر عمل کرے گا سو شہیدوں کے برابر اُسے اجر ملے گا۔ تھوڑی بات تو نہیں سو آدمی جان قربان کریں اللہ کے راستے میں۔ آج ایک سنت پر عمل کرلیں تو یہ نعمت ملتی ہے۔
بات کو مکمل کر رہا ہوں کہ سنت کے مطابق زندگی بنانے کا ایک فارمولا سن لیجیے۔
سنت کے مطابق زندگی بنانے کا فامولا
اس عاجز کے نزدیک ایک آسان سا فارمولا ہے اپنی زندگی کو سنت پر لانے والا۔ دیکھے! انسان اپنی صبح سے لے کر شام تک کے تمام کاموں کو نوٹ کرلے کہ میں کیا کیا کام کرتا ہوں۔ بیت الخلاء جانا ایک کام۔ دوسرا کام کپڑے پہننا۔ تیسرا کام کاروبار ہے تو دوکان پر جانا ہوگا۔ سارے کاموں کو نوٹ کرلے۔ زیادہ سے زیادہ روزمرّہ کے پانچ، دس، پندرہ کام بنیں گے۔ ہر آدمی کے مختلف کام ہوں گے۔ اس کے بعد کیا کریں؟ ہر کام کو علماء سے پوچھ پوچھ کر، سیکھ سیکھ کر سنت کے مطابق کرلیں۔ ایک مہینہ یا دو مہینہ اس سے زیادہ نہیں لگیں گے اور دس پندرہ کام سنت کے مطابق ہوجائیں گے ان شاء اللہ۔ کرکے دیکھ لیجیے! کچھ کام ایسے ہیں جو ہفتے بعد کرنے ہوتے ہیں جیسے جمعے کے دن کے اعمال ہوگئے۔ چھٹی کے دن کو الگ نوٹ کرلیں، پھر اسے سنت کے مطابق لے آئیں۔ پھر ہفتہ کے دن کو سنت کے مطابق لے آئیں۔ اسی طرح سارے اعمال کو انجام دینا سنت کے مطابق آسان ہو جائے گا۔
کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو ماہانہ کرنے ہوتے ہیں۔ چاند دیکھنا، تنخواہ کا آنا، یا ملازمین کو تنخواہ دینا۔ یہ سنتیں معلوم کرکے عمل کرلیں تو کتنا بڑا فائدہ ہے۔ اور کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو سال میں ایک دفعہ ہوتے ہیں۔ رمضان ایک دفعہ آتا ہے۔ عید صرف دو دفعہ آتی ہے۔ دو ہی عیدیں نبیﷺ کے زمانے میں تھیں۔ جنت میں بھی دو ہی دفعہ عیدیں ہوں گی۔ احادیث کے اندر بھی فقط دو عیدیں ملتی ہیں۔ سوچیں! اس کی کیا سنتیں ہیں۔ کچھ کام ایسے ہیں جو زندگی میں دو، چار، پانچ، دس مرتبہ ہوتے ہیں۔ جیسے حج کرنا، عمرہ کرنا۔ ان کی سنتوں کو معلوم کیا جائے۔ اور کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو زندگی میں صرف ایک ہی دفعہ ہوتے ہیں جیسے عموماً شادی کرنا۔ اس کی بھی جب ضرورت ہو خواہ اپنی شادی کرنا یا اولاد کی شادی کرنا۔ نبیﷺ نے چار بیٹیاں بیاہی ہیں۔ چار مثالیں ہیں تو اس میں سنت کو معلوم کرنا۔ علماء سے پوچھ لے کہ مجھے بتائیے اس میں سنت طریقہ کیا ہے؟ اگر ہم اس فارمولے پر عمل کرلیتے ہیں تو دو مہینے کے اندر اندر، ورنہ تو ایک مہینہ ہی بہت ہے۔ یہ جو ہمارے دس، پندرہ کام ہیں۔ ایک مہینے کے اندر سنت کے مطابق ہوجائیں گے ان شاء اللہ۔ جنت میں داخلے کی بشارت نبیﷺ خود دے گئے ہیں۔
کہتے ہیں ناں کہ بڑی سے بڑی جگہ گھر ملے۔ آج کوئی کہتا ہے کہ میں نے فلاں کالونی میں گھرلینا ہے۔ قیامت کے دن سب سے زیادہ اچھی جگہ کونسی ہیں؟ جنت الفردوس اور آقاﷺ کا محل جنت الفردوس میں ہوگا۔ نبیﷺ کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے والے جنت میں آباد ہوں گے، محمدی کالونی میں آباد ہوں گے۔ معلوم نہیں کیا نام ہوگا؟ لیکن نبیﷺ کے آس پاس موجود ہوں گے۔ تو نبیﷺ کے برابر میں اگر پلاٹ چاہیے اُس کا طریقہ کیا ہے؟ اُس کی قیمت کیا ہے؟ صرف نبیﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہے، حیا اور پاکدامنی ہے۔ اللہ ہمیں یہ نعمت عطا فرمائے آمین۔ پلاننگ ابھی چل رہی ہے، آپ کو بہت بڑی جگہ ملے گی۔ جگہ اتنی بڑی ہوگی کہ ساری دنیا اُس کے اندر رکھ دو۔ جیسے کسی بڑے محل میں چھوٹی سی بکری کھڑی ہو، اس سے بھی بڑا ہوگا۔ جو نبیﷺ کے برابر میں رہنا چاہتے ہیں تو اس کی قیمت ادا کردیں۔ میرے بھائیو! اس کی قیمت آقاﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply