31

لقطہ کا حکم ؟ ( اگر راستے میں کوئی چیز پڑی ملے تو اس کے اٹھانے اور استعمال کا کیا حکم ہے ؟ )

لقطہ کا حکم ؟
( اگر راستے میں کوئی چیز پڑی ملے تو اس کے اٹھانے اور استعمال کا کیا حکم ہے ؟ )

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما

عام شاہراہ پہ اگر کوئی چیز پڑی ہوئی ملےتو وہ شرعاً ” لقطہ “ ہے ، اور ” لقطہ “ اٹھانے کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس کے ضائع ہونے کااندیشہ ہو تو ایسی صورت میں مالک تک پہنچانے کی نیت سے بحفاظت اٹھا لینا واجب ہے ،
اور اگر اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو اس کا اٹھانا جائز ہے ، ضروری نہیں ،

بہر دو صورت اگر کسی نے وہ چیز اٹھالی تو اب اس کاحکم یہ ہے کہ جس جگہ اٹھائی ہے وہاں پر ممکن ذرائع سے اس کے مالک کوتلاش کرنے کی پوری کوشش کی جائے ، اس کے بعد بھی اگرمالک نہ ملے اورغالب گمان ہوجائے کہ مالک نےاب اس کوتلاش کرنا چھوڑدیا ہوگا ، پھرحکم یہ ہے کہ وہ چیز کسی فقیرکواصل مالک کی طرف سے بطورصدقہ دیدی جائے ،
اوراگراٹھانے والاخود فقیر ہوتو خود بھی استعمال کرسکتاہے ، کیونکہ ”لقطہ“ کا مصرف شرعاً فقیرہے ، غنی کے لیے اس کااستعمال کرنا جائز نہیں ہے ،

اس کےبعد اگر اصل مالک آجائے اور وہ صدقہ پر راضی ہو توصدقہ درست ہوجائے گا ،
اور وہ ثواب کامستحق ہوگا ،
اوراگروہ صدقہ پر راضی نہ ہو اور اپنی چیز کا مطالبہ کرے تو اٹھانے والے پراپنے مال میں سے دینا لازم ہوگا ، تاہم ایسی صورت میں اٹھانے والے کو صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ،

الفتاوى الهندية – (2 / 289) وإذا رفع اللقطة يعرفها فيقول: التقطت لقطة، أو وجدت ضالة، أو عندي شيء فمن سمعتموه يطلب دلوه علي، كذا في فتاوى قاضي خان. ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء، كذا في خزانة المفتين، ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع علی الملتقط وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين….فتح القدير للمحقق ابن الهمام الحنفي – (13 / 372)
قال ( اللقطة أمانة إذا أشهد الملتقط أنه يأخذها ليحفظها ويردها على صاحبها ) لأن الأخذ على هذا الوجه مأذون فيه شرعا بل هو الأفضل عند عامة العلماء وهو الواجب إذا خاف الضياع على ماقالوا….الهداية في شرح بداية المبتدي – (2 / 419)
” ولا يتصدق باللقطة على غني ” لأن المأمور به هو التصدق لقوله عليه الصلاة والسلام: ” فإن لم يأت ” يعني صاحبها ” فليتصدق به ” والصدقة لا تكون على غني فأشبه الصدقة المفروضة ” وإن كان الملتقط غنيا لم يجز له أن ينتفع بها ” وإن كان الملتقط فقيرا فلا بأس بأن ينتفع بها “

فقط وﷲ اعلم باالصواب
محمد مستقیم عفاالله عنه ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں