لوگوں کے ساتھ میل جول

لوگوں کے ساتھ میل جول

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّاط (الزخرف:32 )
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

آپس کے تعلقات
انسان جب زندگی میں وقت گزارتا ہے تو ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ معاملات پیش آتے ہیں۔ زندگی کی اُونچ نیچ میں رشتہ دار، پڑوسی، دوست اَحباب سب ہی سے تعلق ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے معاملات کو سنت کے مطابق بنائیں گے اور شریعت کی روشنی میں عمل کریں گے تو اللہ ربّ العزّت کی مدد ہمارے ساتھ شاملِ حال ہو جائے گی۔ جتنی بھی سنتیں ہیں، ہر سنت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت جڑی ہوئی ہے۔ ہم جتنا بھی سنتوں پر عمل کرتے جائیں گے، اتنی اللہ کی محبت ہمارے اندر بڑھے گی۔ اور ہم بھی اللہ کے محبوب ہو جائیں گے۔ آپس کے معاملات میں بعض دفعہ جو چیزیں پیش آتی ہیں ان میں چند کا ذکر آج ہوگا۔
سفارش کرنا
بسااوقات انسان کو کسی اور کے لیے سفارش کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ بعض لوگ سفارش کرنے کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ جی! میں کیوں ان کی سفارش کروں؟ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اور بعض لوگ سفارش کرنے میں بہت آگے ہیں کہ وہ گناہ کی بھی سفارش کر دیتے ہیں۔ غرض اس میں لوگ اِفراط و تفریط کا شکار ہیں۔ سفارش کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کے بارے میں قرآن کریم میں بھی ہدایت ہے، اور حدیثِ پاک میں بھی رہبری موجود ہے۔ ہمیں صحیح اور غلط کو سیکھنا چاہیے۔ زندگی میں ہم نے کسی کے لیے کتنی دفعہ سفارش کی ہوگی؟ یا ہم کسی کے پاس اپنی سفارش کے لیے گئے ہوں گے۔
یہ زندگی کا ایک اہم معاملہ ہے۔ ہمیں قرآن اور سنت کے مطابق معلوم ہونا چاہیے کہ کس سفارش پر عذاب ہوتا ہے اور کس سفارش پر ثواب۔ جو شخص کسی کی بھلائی کی سفارش کرے گا تو اس کو اس کا بدلہ ثواب میں سے ملے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو ثواب عطا فرمائیں گے۔ اور اگر کوئی کسی گناہ کی سفارش کرے گا تو گناہ ملے گا۔ اگر ہم کسی کے جائز کام کےلیے سفارش کریں گے تو ہمیں اس پر ثواب ملے گا۔ اور اگر ہم نے گناہ کے بارے میں سفارش کر دی تو ہم گناہ میں شریک ہو جائیں گے۔
سفارش ایک ایسا عمل ہے جس میں عذاب بھی مل سکتا ہے، اور ثواب بھی مل سکتا ہے، اس لیے سفارش دیکھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔
گناہ کے کاموں میں معاون نہ بنو
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا:
وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۠ص وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدۃ: 2)
ترجمہ: ’’اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو‘‘۔
دیکھو! نیکی میں ایک دوسرے کی مدد کرنا، لیکن گناہ کے اُمور میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرنا۔ کوئی بھی گناہ ہو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں دوسروں کی مدد نہ کرنا۔ نیکی کے کاموں میں، تقویٰ کے کاموں میں، خیر کے کاموں میں، کہیں مسجد بن رہی ہے، کہیں مدرسہ بن رہا ہو۔ اول تو ہم خود مدد کریں، یا دوسروں کو کہہ سکتے ہیں تو دوسروں کو کہہ دیں۔ یہ نیکی کے کام میں مدد ہوگئی۔ لیکن اگر ہم کسی کے بارے میں سفارش کریں تو ہمارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ اگر اب کوئی رشتہ دار یا جاننے والا ہمارے پاس آتا ہے کہ جی! میری نوکری نہیں ہے، فلاں جگہ آپ کے جاننے والے ہیں، آپ سفارش کر دیں۔ ایسی سفارش جس میں دنیا کی کوئی لالچ نہ ہو تو یہ عبادت ہے اور اس پر ثواب ملے گا۔ آپ کے کہنے سننے سے اگر کسی کی نوکری لگی، یا کسی کا کوئی کام ہوگیا، کوئی اُلجھن دور ہوگئی تو یہ خیر خواہی ثواب کا کام ہے، لیکن مقصد اللہ کی رضا ہو۔ اسی طرح سود کے معاملے میں، یا کسی گناہ کے معاملے میں، یا کوئی ایسی بات ہو جس میں رب کی نافرمانی ہو تو وہاں مدد کرنا اللہ ربّ العزّت کی ناراضگی کا سبب ہے۔
رحمتِ الٰہی سے محرومی
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: کسی شخص نے اگر کسی مسلمان کے قتل میں ایک کلمے یا ایک جملے سے بھی مدد کی تو قیامت کے دن وہ اس طرح پیش ہوگا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا:
آئِسٌ مِّنْ رَّحْمَۃِ اللہِ. (سنن ابن ماجہ: رقم 2620)
ترجمہ: ’’یہ شخص اللہ ربّ العزّت کی رحمت سے محروم ہے‘‘۔
زندگی بہت احتیاط سے گزارنے کی ضرورت ہے۔ یہ جو وکیل حضرات ہوتے ہیں، اگر کسی کی ناجائز سفارش کر دی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ نبی کریمﷺ لوگوں کی بھلائی کے کام کیا کرتے تھے، اور بڑھ چڑھ کر کیا کرتے تھے، اور اُمت کو بھی یہ سکھایا کرتے تھے۔ سفارش کے بارے میں ایک اور بات بھی اُمت کو سکھائی۔
جائز سفارش پر نیکی
حضرت ابو موسیٰ اشعریسے روایت ہے کہ آپﷺ کے پاس جب کوئی سائل یا ضرورت مند آتا تو آپ ﷺ صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے: تم سفارش کرو ثواب پائو گے، اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے حکم جاری فرماتے ہیں۔
(صحیح بخاری: رقم 1432)
حضرت معاویہ بن ابی سفیانi روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مجھ سے کچھ مانگتا ہے (اور میں اس کے لیے بھلائی کا ارادہ کرلیتا ہوں، لیکن کچھ وقت) میں رک جاتا ہوں تاکہ تم اس کے لیے سفارش کرو اور تمہیں اس کا ثواب ملے۔ (معجم کبیر للطبرانی: رقم 809)
اگر آپ کے کہنے سے، کوشش سے کسی بھائی کا کام ہو جائے اور بھلا ہو جائے تو یہ بہت ثواب کا کام ہے۔ جتنا ہو سکے، آدمی دوسرے کے لیے بھلائی کرے۔
اچھا! یہاں ایک بات اور بھی ہے۔ ہم نے کسی کے لیے سفارش کر دی اور اس کا کام ہو گیا، اس پر تو ہمیں ثواب مل گیا۔ اور اگر کسی کی سفارش کی اور اس کا کام نہیں ہوا تو پھر کیا اجر ملے گا؟ جی ہاں! پھر بھی ہمیں اجر و ثواب ملے گا۔ ہمارا کام ہے بات کو آگے پہنچانا۔ وہ سفارش قبول ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں اِخلاص ہے تو ہمیں ثواب ملے گا۔ اس لیے کہ اس پر اِصرار تو کوئی نہیں ہے کہ تم نے قبول ہی کرنا ہے۔ ایسی بات نہیں ہے۔
اب جس طرح جائز کام کی سفارش پر اَجر ملتا ہے اگرچہ منظوری ہوئی ہو یا نہیں ہوئی ہو، اس سے بحث نہیں ہے۔ ایسے ہی اگر ہم نے گناہ میں سفارش کر دی تو ہم گناہ میں شریک ہو گئے، چاہے وہ ہماری سفارش قبول ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ سفارش کرنا اچھا کام ہے اگر نیکی کے بارے میں ہو، اور یہی سفارش برا کام ہے اگر گناہ کے بارے میں ہو۔ اس میں ہماری نیت پر معاملہ اور فیصلہ ہے، چاہے آگے قبول ہو یا نہ ہو۔
ناجائز سفارش پر گناہ
اگلی بات جو بات اہمیت کی ہے۔ ہم کسی نیک کام کی سفارش کر رہے ہیں، لیکن اس نیکی کے کام میں بھی گناہ ہو سکتا ہے۔ وہ کیسے؟ جس کی ہم سفارش کر رہے ہیں اس سے اس سفارش کرنے کے پیسے مانگے، کوئی ہدیہ یا تحفہ مانگا، یا اس سفارش کے بدلے میں اس کا اپنا کوئی کام نکلوانا، یا اپنا سلسلہ بنانا، پھر یہ سفارش کرنا ناجائز ہو جائے گا۔
حضرت ابو اُمامہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا:جس نے اپنے بھائی کے لیے سفارش کی، اس نے بدلے میں سفارش کرنے والا کو کوئی ہدیہ دے دیا، اور دوسرے نے قبول کرلیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد: رقم 3541)
محض اللہ ربّ العزّت کی رضا کے لیے انسان کسی کی مدد کرے، کسی کا خیال رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے سے دنیا کا نفع چاہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کےلیے نیکی کے کام میں سفارش کرنا عبادت ہے۔ آج کی مجلس کی پہلی بات جائز سفارش کرنے سے متعلق تھی۔ دوسری بات آپس میں ساتھ رہتے ہوئے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اچھا گمان رکھنے کی بھی بہت ضرورت ہے۔
حسنِ ظن رکھنا
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حسنِ ظن رکھنا بہترین عبادت ہے۔ (سنن أبي داود: رقم 4993، باب في حسن الظنّ)
اللہ اکبر کبیرا! اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں سے اچھے سے اچھا گمان رکھیں۔
اور حضرت ابو ہریرہ سے دوسری روایت ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار بدگمانی سے بچو، بدگمانی بری بات ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 6066)
ایک حدیثِ قدسی میں آتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں اپنے بندے سے اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔ (سنن الترمذي: رقم 3603، باب في حسن الظنّ باللّٰہ عزّ و جلّ)
یہاں دو باتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ آدمی اپنے اللہ ربّ العزّت سے اچھا گمان رکھے۔ کسی وسوسہ کا شکار نہ ہو، اور نہ اللہ تعالیٰ سے کسی بات پر مایوس ہو۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے اچھا گمان رکھیں، اور دن رات آپس میں ساتھ رہتے ہوئے دل میں بدگمانی نہ آنے دیں۔ اچھے سے اچھا گمان رکھیں۔ اور اس گمان کو سیکھیں۔ جب ہم اس گمان کو سیکھ لیں گے تو آسانی ہو جائے گی۔ حسنِ ظن ایک بڑی نیکی ہے، جبکہ بدگمانی بڑا گناہ ہے۔ اس سے آپس کے تعلقات متاثر بھی ہوتے ہیں اور رشتہ داریاں ٹوٹتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی سمجھ نصیب فرمائے آمین۔
مشورہ کرنا
آج کی مجلس کی تیسری اہم بات مشورے کا عمل ہے۔ جب ہم آپس میں ساتھ رہتے ہیں تو کئی اُمور میں مشورے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم نے آج تک کتنے لوگوں سے مشورے کیے ہوں گے۔ ہر ایک مسلمان کے لیے آدابِ مشورہ سیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ قرآن کریم نے مشورہ کا حکم دیا ہے۔ سورۃُ الشوریٰ میں مؤمنین کے اَوصاف کا ذکر ہوا تو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے ایک وصف یہ ذکر فرمایا:
وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰى بَیْنَھُمْ (الشّورٰی: 38)
ترجمہ: ’’اور اُن کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں‘‘۔
سورہ آلِ عمران میں نبی پاکﷺ کو اللہ ربّ العزّت نے مشورہ کرنے کا حکم دیا۔
وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ (آل عمرٰن: 159)
ترجمہ: ’’اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو‘‘۔
یعنی آپﷺ صحابۂ کرام سے اہم کاموں کے بارے میں مشورہ کیا کریں۔ یہ مشورہ کمالِ ایمان کا حصہ ہے۔ بعض لوگ جو اپنے آپ کو بڑا سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ منکرین میں سے ہوتے ہیں۔ وہ مشورہ کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس دنیا میں اعلیٰ اور سب سے اونچی شان رسول اللہﷺ کو ملی ہے۔ باوجود نبی ہونے کے، باوجود منجانب اللہ وحی آنے کے صحابۂ کرام سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ یہ تربیت دینی تھی کہ آپﷺ کے بعد معاملات کس طرح چلانے ہیں۔ آپﷺ کا تو اللہ ربّ العزّت سے براہِ راست تعلق تھا۔ آپﷺ چاہتے تو ساری بات اوپر رکھتے، مشورہ نہ کرتے۔ لیکن ساتھ والے کو عزّت دینا، اس سے مشورہ لینا، دوسرے کو اہمیت دینا اس سے خوش ہوا کرتے تھے۔ اس کے اندر توازن بھی ہے اور تکبر بھی نہیں ہے۔
حضراتِ صحابہ کرام کے مشورے
چناںچہ حدیث میں آتا ہے کہ غزوۂ بدر کے قیدیوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرامj سے مشورہ کیا۔ غزوۂ اُحد میں بھی مشورہ کیا۔ خندق کے موقع پر بھی مشورہ کیا۔ حُدَیبیہ کے موقع پر بھی مشورہ کیا۔ اور حضورﷺ کے بعد خلفائے راشدین بھی اس عمل کو کرتے رہے۔ اور حضرت عمر فاروقکی تو عجیب شان تھی کہ وہ تو چھوٹے نوجوان صحابی سے بھی مشورہ لیا کرتے تھے۔ نوجوانوں کی ذہن کی تیزی اور نوعمری سے فائدہ اُٹھانا چاہیے اور وہ فائدہ اُٹھاتے تھے۔ اپنے تجارتی اُمور، گھر کے کام مشورے سے طے کرنا چاہیے۔
تبلیغ کے کام کی مضبوطی
اب تبلیغی جماعت کے کام ہی کو دیکھ لیجیے۔ مشورہ تبلیغ کے کام کی ٹھوس بنیاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس مسجد میں صبح کا مشورہ مضبوط ہے، وہاں کا کام مضبوط ہے۔ اور جس مسجد میں صبح کا مشورہ مضبوط نہیں، وہاں کا کام بھی مضبوط نہیں۔ کتنا بڑا سلسلہ اللہ ربّ العزّت نے پوری دنیا میں پھیلا رکھا ہے۔ جس طرح سورج کی روشنی پوری دنیا کو منوّر کر رہی ہے، تبلیغی جماعت کا کام ایمان اور یقین کے ساتھ پوری دنیا کو منوّر کر رہا ہے۔ اتنے بڑے کام کی بنیاد کیا ہے؟ مشورہ ہی ہے۔ ہم مشورے کو اَہمیت نہیں دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ حکمِ ربیّ ہے۔ اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے کاموں میں مشورہ لیں۔
سربراہ مشورہ سے کام کرے
مدرسے کے مہتمم حضرات ہیں یا اسکولز و کالجز کے پرنسپلز صاحبان ہیں۔ جو کوئی بھی ذمہ داران ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے کام مشورے سے طے کریں۔ اللہ کا حکم، نبی کریمﷺ کا طریقہ، صحابۂ کرام کا طریقہ ہے۔ اس میں عزت ہی عزت ہے۔ عاجزی بھی ہے، اور تکبر سے بھی انسان پاک ہو جاتا ہے۔ اس لیے آیندہ سے ہم اپنے کاموں کو مشورے سے کریں۔ اچھا! اب کس چیز کے بارے میں مشورہ ہو سکتا ہے اور کس کے بارے میں نہیں ہو سکتا، یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مشورے کا محل کیا ہے؟ مشورہ کن باتوں میں کرے؟
اُمورِ مشورہ کیا ہیں؟
دیکھیں! مشورے کا حکم ہر جگہ نہیں ہے کہ ہر کام کے بارے میں مشورہ کریں۔ وہ احکامات جوکرنے کے لیے اللہ ربّ العزّت نے اپنے بندوں کو دے دیے ہیں، اس کے بارے میں مشورہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر کہ میں حج پر جائوں یا نہ جائوں؟ یہ تو فرض عمل ہے، اور اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔ ہاں! آپ یہ مشورہ کریں کہ کون سے گروپ کے ساتھ جائوں؟ کن کے ساتھ جائوں؟ میری گنجائش اتنی ہے، میرے حالات ایسے ہیں، اور مجھے دین دار لوگوں کے ساتھ جانا ہے تو میں کیا کروں؟ یہ مشورہ تو آپ کرسکتے ہیں۔ گروپ کون سا ہو؟ جہاز کون سا ہو؟ یہ تو ٹھیک ہے۔ لیکن یہ پوچھنا کہ حج کروں یا نہ کروں؟ اس پر کوئی مشورہ نہیں ہے۔
اسی طریقے سے کہ میں علمِ دین حاصل کروں یا نہ کروں؟ بھئی! علمِ دین تو حاصل کرنا فرض ہے۔ یہ پوچھا جائے کہ کون سے مدرسے میں جائوں جہاں تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ہوتی ہے۔ صرف کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں، تربیت بھی ہوتی ہے اور دعائیں مانگنا بھی سکھاتے ہیں۔ وہ مدرسہ بتائیں جہاں راتوں کو اُٹھ کر طلبہ اور طالبات مانگتے ہوں، جہاں پردے کا انتظام صحیح ہو۔ ایسی باتوں میں مشورہ کیا جائے کہ جو چیز حاصل کرنی ہی ہے، چاہیے کہ وہ حاصل کرے۔ البتہ نوعیت کا مشورہ کیا جا سکتا ہے۔
انتظامی اُمور میں بھی مشورہ کرنا بہت ضروری ہے۔ چاہے انسان اپنے ماتحت سے ہی کیوں نہ کرے۔ اب مدرسے کی بڑی باجی ہے۔ جناب! وہ تو سینہ پھلا کر بیٹھی ہیں کہ جی! جو میں نے طے کر دیا وہی ہوگا۔ یہ تو ٹیچرز ہیں، یہ تو طالبات ہیں، یہ تو خدمت کرنے والے ہیں، ان سے کیوں مشورہ کروں؟ اگر کسی میں یہ چیز ہے تو یہ تکبر کی نشانی ہے۔ حضور پاکﷺ سے تو بڑا کوئی نہیں۔ آپﷺ صحابۂ کرام سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے اُمور مشورے سے طے کریں۔ مشورے کی اہمیت کو سمجھیں۔
بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشورہ تو کرتے ہیں، لیکن بندہ اپنی ہی منوا رہا ہوتا ہے۔ مشورہ خالی نام کا ہوتا ہے۔ تو مشورہ خالی نام کا نہ ہو، بلکہ صحیح طریقے سے مشورہ ہو۔
اہلِ مشورہ کون ہیں؟
اب مشورے میں ایک اور بات سمجھ لیجیے کہ مشورہ کس سے لیا جائے؟ یہ تو سمجھ میں آگیا کہ مشورہ کرنا ہے، لیکن کس سے کرنا ہے؟ یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ اس کے بارے میں آسانی کی بات یہ ہے کہ جس آدمی کی جو فیلڈ یا شعبہ ہے، اس میں دیندار آدمی کو دیکھا جائے اور اس سے مشورہ کیا جائے۔
اگر میڈیکل کا مشورہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ اِنکم ٹیکس والوں کا معاملہ ہو تو وکیل سے مشورہ کریں۔ شریعت یا دین کا مسئلہ ہو تو علمائے کرام سے مشورہ کریں۔ یہ جو جدّت پسند حضرات علماء کو کہتے ہیں کہ یہ سائنس نہیں جانتے، یہ وکالت نہیں جانتے۔ کبھی ہم نے کسی ڈاکٹر کو کہا کہ یہ وکالت کیوں نہیں جانتے، کسی وکیل کو کہا کہ یہ میڈیکل کیوں نہیں جانتے۔ ہر آدمی اپنی فیلڈ کا، اپنے شعبہ کا ماہر ہوتا ہے۔ آپ کو گھر بنوانا ہے تو سول انجینئر سے مشورہ کریں، آپ ڈاکٹر سے بالکل مشورہ نہ کریں۔ کیوںکہ جس چیز کے بارے مشورہ کرنا ہے، وہ اس کے ماہر ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ اور آج کل تو مشورہ مفت مل جاتا ہے۔ ہر فن کے بارے میں مشورہ دینے والے لوگ موجود ہیں۔ کسی بھی موضوع پر مشورہ لے لو، حاضر ہے۔ ایسا کبھی نہیں کرنا۔ ہم اس فیلڈ کے بندے سے مشورہ کریں۔ جب وہ مشورہ دے تو پھر بس، ہم اللہ کی طرف سے سمجھیں اور آسانی اِن شاء اللہ اللہ تعالی کریں گے۔
مشورے کا فائدہ
اچھا! مشورے سے ہوتا کیا ہے؟ حکم تو پتا لگ گیا ہے، لیکن ہوتا کیا ہے؟
حضرت ابو ہریرہh فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو اتنا مشورہ کرتے نہیں دیکھا جتنا رسول اللہﷺ اپنے صحابہ سے کیا کرتے تھے۔ (صحیح ابنِ حبّان: 216/11)
حسن بصری mفرماتے ہیں کہ جب کوئی قوم مشورے سے اپنے کام طے کرتی ہے تو ضرور صحیح راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ (تفسیرِ کشّاف: 648/1)
جب اللہ کے حکم، نبیﷺ کے طریقے کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو مختلف ذہن مل کر بیٹھتے ہیں، پھر ان کی مختلف رائے سامنے آ جاتی ہیں۔ پھر انسان کے لیے صحیح رائے کو لینا آسان ہو جاتا ہے۔ بعض مرتبہ کسی چیز کے دو رُخ ہوتے ہیں اور ہمیں ایک ہی نظر آ رہا ہوتا ہے، لیکن جب ہم مشورہ کرتے ہیں تو بہت ساری باتیں دوسرے رُخ کی بھی دکھائی دیتی ہیں۔ مشورہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ مشورہ کرنے والا نادم نہیں ہوتا۔ (معجم صغیر للطبرانی: رقم 980)
اللہ ربّ العزّت اس کی مدد فرماتے ہیں۔ جتنے بھی ہمارے کام ہیں، ہم مشورے سے طے کرنے کی عادت ڈالیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہوگی۔
دین دار اور ذی رائے اہلِ مشورہ
ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ صاحبِ رائے، اہلِ فہم سے مشورہ کرو، صحیح رہنمائی حاصل ہو گی ۔اور جب مشورہ کرلو (نیک دیندار لوگوں سے، اس فیلڈ کے جاننے والوں سے) پھر اس کے خلاف نہ جائو، ورنہ تمہیں ندامت ہوگی۔ (کنز العمال: رقم 7180)
حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: مشورہ سمجھ دار اور عبادت گزار سے کرو۔ (مجمع الزوائد: رقم 834)
دیکھیے! کیا کہا جا رہا ہے کہ مشورہ کن لوگوں سے کرو؟ دین دار لوگوں سے کرو، عبادت گزار لوگوں سے کرو، جن کو اللہ ربّ العزّت کا خوف ہو، جن کے پاس دین کا علم ہو، سمجھ دار ہوں، اُن سے مشورہ کرو۔ اس لیے تو لوگ مشورہ کرنے اللہ والوں کے پاس جاتے ہیں، پھر وہ اس نور سے جو اللہ ربّ العزّت نے ان کو عطا کیا ہے جسے نورِ فراست کہتے ہیں، اس نورِ فراست سے مشورہ دیا کرتے ہیں۔ اگر ہم بے دین آدمی سے مشورہ کریں گے تو کیا ہوگا؟ اگرچہ وہ مشورہ بڑے اِخلاص سے دے رہا ہوگا، لیکن چوںکہ اسے حلال وحرام کا پتا نہیں ہے، تو اپنی طرف سے گناہ کا مشورہ دے دے گا اور اسے صحیح سمجھ رہا ہوگا۔ دل میں آیا کہ انشورنس کرائے۔ اب اگر دین دار آدمی سے مشورہ کرے گا تو وہ کہے گا کہ یہ جائز نہیں ہے، سود ہے، حرام ہے۔ دنیا دار سے کرے گا جسے دین کا پتا ہی کوئی نہیں، وہ کہے گا کہ جی ہاں! کرلیں، اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ دیندار، ذی رائے سے مشورہ کرنے میں دنیا اور آخرت کی عزّتیں ہیں اور خیر کا باعث ہے۔
ترمذی شریف کی ایک روایت
حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب تمہارے حکمران بہترین لوگ ہوں، اور تمہارے مال دار سخی لوگ ہوں، اور تمہارے آپس کے کام مشورے سے ہوں، اس وقت زمین کا اُوپر والا حصہ نیچے والے حصہ سے بہتر ہے۔ اور جب تمہارے حکمران بدترین لوگ ہوں، اور مال دار بخیل (کنجوس) لوگ ہوں، اور تمہارے معاملات عورتوں کے حوالے ہو جائیں تو اس وقت زمین کا نیچے کا حصہ اُوپر کے حصہ سے بہتر ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 2197)
بخیل سے مشورہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
بعض روایات میں ہے کہ تین طرح کے شخصوں سے مشورہ کرنے کی ممانعت ہے۔ ایک یہ کہ صدقہ خیرات کرنے میں کسی بخیل کنجوس سے مشورہ نہ کرو۔ مثلاً ایک آدمی کے بارے میں آپ کو پتا ہے کہ بڑا ہی کنجوس ہے۔ اس سے پوچھیں کہ بھائی! فلاں جگہ مدرسہ بن رہا ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ وہاں دو لاکھ روپے دوں۔ وہ کنجوس آدمی منع ہی کرے گا۔ خود تو کنجوس ہے، دوسروں کو بھی صدقہ خیرات نہیں کرنے دے گا۔ اس لیے صلہ رحمی، صدقات خیرات میں یا جہاں کہیں دوسروں کی مدد کا معاملہ ہو تو وہاں کسی بخیل سے مشورہ نہ کرو۔
دوسرا فرمایا کہ جہاد کے بارے میں کسی بزدل سے مشورہ نہ کرنا۔ جو خود ہی ڈرپوک ہو، اس سے آپ نے مشورہ کیا تو وہ آپ کو بھی ڈرپوک بنا دے گا۔
اور تیسری بات یہ کہ شادی بیاہ میں جوانوں سے مشورہ نہ کرنا۔ بوڑھوں نے زندگی گزاری ہے۔ اُونچ نیچ دیکھا ہوتا ہے۔ اور نوجوان اپنی نفسانیت کو سامنے رکھتے ہوئے، جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے مشورہ دیتے ہیں جو بعد میں نقصان کا باعث ہوتا ہے۔
اسلام میں پسند کی شادی
چند دن پہلے کسی نے پوچھا کہ اسلام میں پسند کی شادی کا کیا حکم ہے؟ تو میں نے کہا کہ بھائی! اسلام کہتا ہے کہ پسند کی شادی کرو۔ اسلام نے کب کہا کہ ناپسند کی شادی کرو۔ اسلام نے تو حکم دیا کہ بھائی! گھر والے بیٹھیں، جو بڑوں کا فیصلہ ہو، جو بڑے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں، جہاں پسند ہو وہاں رشتہ دے دیں۔ خاندان کے جو بزرگ لوگ بیٹھے ہیں، ان کی شادی بھی پسند سے ہی ہوئی ہے۔ میری اپنی شادی بھی پسند سے ہوئی ہے الحمد للہ! ماں باپ نے، دادا دادی نے، بڑوں نے پسند کیا اور شادی ہوگئی۔ یہ ہے اصل پسند کی شادی۔ اور جس کو ہمارے جوان پسند کی شادی کہتے ہیں، وہ تو نفسانیت اور حیوانیت ہے۔ اس لیے فرمایا کہ شادی کے بارے میں جوانوں سے مشورہ نہ کرو۔ یہ مطلب نہیں کہ جوان سے بغیر پوچھے ہی رشتہ کر دیا جائے۔ پوچھا جائے، لیکن بڑوں کو ساتھ شامل رکھ کر پوچھا جائے۔
یہ چند باتیں مشورے کے بارے میں وہ ہو گئیں جو ہمیں کرنی چاہیے۔ اب جس سے مشورہ مانگا جائے وہ کیا کرے؟ ہم سے کوئی آدمی مشورہ مانگے تو کیا کریں؟ اس بارے میں احادیث سن لیجیے۔
مشورہ دینے والا امانت دار ہے
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کسی سے اس کے مسلمان بھائی نے مشورہ مانگا، اور اس نے بغیر سوچے سمجھے مشورہ دے دیا تو اس نے اس مسلمان بھائی کے ساتھ خیانت کی۔ (الادب المفرد: رقم 254)
اگر ہم سے کوئی مشورہ مانگے تو اس پر غور کریں، سوچیں۔ بات سمجھ آئی تو مشورہ دیں، ورنہ کہہ دیجیے کہ بھائی! آپ کسی اور سے پوچھ لیں، مجھے اس کی گہرائی کا علم نہیں ہے۔ آج تک آپ کو کوئی ایسا بندہ ملا نہیں ہوگا، اپنی طرف سے مشورہ اس نے ضرور داغا ہوگا۔ اور حضور اکرمﷺ کے فرمان کے مطابق جان بوجھ کر غلط مشورہ دینے والا خیانت کرنے والا ہے۔یعنی یہ امانت میں خیانت کرنے والا ہوگیا۔
ایک اور حدیث میں فرمایا: جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ ذمہ دار ہو جاتا ہے۔
(مشکاۃ المصابیح: رقم 5061)
ہم اپنی طرف سے خیر خواہی کے ساتھ اچھا مشورہ دیں۔ اِن شاء اللہ اس کا ثواب ملے گا۔ اور اگر برا مشورہ دیں گے اور اس کا نقصان ہوا تو ہم پورے ذمہ دار ہوں گے۔گو دنیا میں کچھ نہ ہو، مگر اللہ ربّ العزّت کے سامنے ہمارا معاملہ پیش ہوگا۔
پھر ہم جس سے مشورہ کریں دیکھیں! وہ ہمارا خیر خواہ ہو، دین کی سمجھ رکھتا ہو، پھر اس سے مشورہ کریں۔ اگر کوئی حاسد سے، کسی مخالف سے، یا جس میں کوئی بغض ہو اس سے مشورہ کرے تو بھی نقصان ہوگا۔ ہم خیر خواہ بندے سے مشورہ کریں۔ خیر خواہ کون ہوگا؟ جیسے پہلے بات آئی کہ دیندار، عبادت گزار اور ذی رائے لوگ یہ خیر خواہ لوگ ہوتے ہیں، ان لوگوں سے مشورہ کیا کریں۔ اور جب کوئی ہم سے مشورہ مانگے تو صحیح مشورہ دیں، اپنے نفع کو، اپنے مفاد کو پیچھے رکھتے ہوئے۔ اگر ہم نے اپنے مفاد کی وجہ سے دوسرے کو پھنسوا دیا، غلط مشورہ دے دیا تو حدیث میں آتا ہے مشورہ دینے والا ذمہ دار ہو جائے گا۔ بڑی پکڑ کی بات ہے۔
ایک بزرگ کی امانت داری کا واقعہ
ہماری رہائش پہلے انار کلی میں تھی۔ ٹاؤن شپ میں 1993ء میں رہنے آئے ہیں۔ وہاں انارکلی میں ہمارے گھر کے نیچے ہی ایک بزرگ کی کپڑے کی دکان تھی۔ جماعت میں ان کا آنا جانا ہوتا تھا۔ بہت نیک آدمی تھے۔ ایک مرتبہ اُن کے ایک دوست اُن کے پاس آئے اور بات چیت کے درمیان کہا کہ جناب! میرا ایک لڑکا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے لڑکے کی شادی آپ کی لڑکی سے ہو جائے۔ اِن بزرگ نے کہا کہ اچھا! ٹھیک ہے مشورہ کر کے بتائیں گے۔ بات ختم ہوگئی۔
تھوڑی دیر بعد اسی مجلس میں بات ہوتے ہوتے ان بزرگ نے اپنے دوست سے پوچھا کہ بھئی! میری بیٹی کا رشتہ آیا ہے۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں کہ جس نے رشتہ مانگا تھا، اسی سے کہہ رہے ہیں کہ میری بیٹی کا رشتہ آیا ہے میرے ایک دوست کی طرف سے۔ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اب وہی دوست جس نے اپنے بیٹے کے لیے رشتہ مانگا تھا، اپنا سر جھکا لیا اور تھوڑی دیر بعد کہنے لگا کہ آپ کی بیٹی پاکدامن ہے، نقیہ ہے، تقیہ ہے، آپ حضرات کا شریف خاندان ہے۔ میرے بیٹے کو میں جانتا ہوں، رشتہ مناسب نہیں ہے۔ عجیب بات ہے یا نہیں؟ جو رشتہ مانگنے والا تھا، اسی سے جب مشورہ لیا گیا اسی کے بیٹے کے بارے میں تو کہہ دیا کہ نہیں، آپ کی لڑکی کے مناسب نہیں ہے۔ یہ ہے امانت اور دیانت داری۔ ایسی مثالیں کہیں کہیں ملتی ہیں۔
یہ مشورہ امانت ہوا کرتا ہے۔ جب کوئی مشورہ دے تو اللہ کو سامنے رکھتے ہوئے مشورہ دے، پھر اِن شاء اللہ آسانی ہوگی۔ یہ تین باتیں آپ کے سامنے آگئیں: سفارش، اچھا گمان، اور مشورہ۔
انصاف کی بات قبول کرنا اور کہنا
چوتھی بات عدل وانصاف سے رہنے کی ہے۔ ہم آپس میں انصاف سے کام لیں۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے صحابۂ کرام سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ میں سبقت کرنے والے کون ہوں گے؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب ان سے کوئی حق بات کہی جائے تو (بغیر چوںوچرا) قبول کریں، اور کوئی آدمی ان سے اپنا مطالبہ کرے یا کچھ مانگے تو خرچ کریں، اور لوگوں کے لیے ایسا فیصلہ کریں جو اپنے لیے کرتے ہیں۔
(مشکاۃ المصابیح: رقم 3711)
حق بات کو قبول کر لینا بہت بڑی صفت ہے۔ اور عام طور پر یہ بات لوگوں میں نہیں پائی جاتی۔ بعض لوگ بات کرتے ہیں اور اس پر ڈَٹ جاتے ہیں، ہلتے نہیں۔ اپنی اَنا کی وجہ سے اَڑ جاتے ہیں۔ بس جو ہم نے کہہ دیا وہی ہوگا۔ قیامت کے دن عرش کا سایہ حاصل کرنے کےلیے حق بات کو قبول کرنا بہت ضروری ہے۔ صحابۂ کرام کے اندر یہ شان بہت تھی کہ حق بات کو قبول کیا کرتے تھے۔ اسی طرح فرمایا کہ اس سے سوال کیا جائے، مانگا جائے تو خرچ کرے۔ یعنی کوئی مال مانگنے آ جائے تو عطا کریں۔ خرچ کرنے میں بخل نہ کریں۔ اور فرمایا کہ لوگوں کے لیے وہ فیصلہ کریں جو اپنے لیے کرتے ہیں۔ اگر ہم نے اس بات کو سمجھ لیا کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، وہی دوسروں کے لیے کیا جائے تومعاملہ آسان ہو جائے گا۔ جنت میں جانا آسان ہو جائے گا۔ آپس میں محبت سے رہنا، اتحاد سے رہنا، مل جل کر رہنا یہ سب ضروری ہے۔ سب ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔
آپس میں صلح کرانا
آج کی مجلس کی آخری بات یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان صلح کرائو۔ آپس میںرنجش ہو جاتی ہے، خرابیاں ہو جاتی ہیں۔ اب اس بارے میں قرآن کریم اور حدیث شریف میں کیا ارشادات ہیں؟ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا:
فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ (الحجرات: 10)
ترجمہ: ’’اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ‘‘۔
سب سے زیادہ ہمارے یہاں گڑبڑ میاں بیوی کے تعلقات میں ہو رہی ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کو بہت سخت نفرت ہے۔ وہ شخص جو میاں بیوی کو دور کرنے کا ذریعہ بنے، اللہ ربّ العزّت کو پسند ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف محبت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ میاں بیوی دونوں پہلے نامحرم تھے، اللہ تعالیٰ کے نام سے جڑ گئے، ایک ہوگئے۔ اب ان کو جوڑے رکھنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
ساس کی بہو سے ناراضگی کا اَثر
ہوتا کیا ہے ساس کو بہو سے نفرت ہے۔ بہو کی کوئی بات کسی موقع پر بری لگی ہوگی، اب یہ اپنے بیٹے سے اپنے انداز میں بات کرے گی کہ بیٹے کے دل میں اپنی بیوی کے دل میں بدگمانی ہوجائے، یا برا تاثر پیدا ہوجائے۔ اس طرح دو دلوں میں دوری پیدا ہو جائے گی۔ جہاں پہلے محبت تھی، اب نفرت ہوگی۔ آج یہ ماحول بنایا جا رہا ہے کہ میاں بیوی میں دوری پیدا کرنی ہے۔
میاں بیوی کی لڑائی میں والدین کا کردار
میاں بیوی آپس میں صلح کرانامیں دوری پیدا کرنے میں لڑکی کے ماں باپ، لڑکے کے ماں باپ بہترین رول ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر لڑکی کی ماں، اگر یہ بڑھیا ہو اور فتنے کی پُڑیا ہو تو گھر تباہ کرنے میں سب سے زیادہ اسی کا حصہ ہوتا ہے۔ ہر معاملے میں دخل اندازی کرنا، ہر ہر بات پوچھنا۔ اتنے معاملات ہوتے نہیں جتنے یہ بناتی ہیں اور بیٹی کا گھر خراب کرنے میں سب سے بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ خود کی تربیت نہیں ہوئی ہوتی اور غلط مشورے دے کر بیٹی کا گھر خراب کرتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ حدیث شریف میں اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟
حضورﷺ کی ابو ایوب انصاری کو نصیحت
حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے اُن سے فرمایا: اے ابو ایوب! کیا میں تمہیں ایسا صدقہ نہ بتائوں جو اللہ تعالیٰ کو اور اللہ کے محبوب ﷺ کو راضی کرے؟ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیں۔ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: جب لوگوں کے درمیان جھگڑا ہونے لگے تو تم صلح کراؤ۔ اور جب لوگوں کے درمیان دوری ہو تو ان کو ایک دوسرے کے قریب کرو۔ (شعب الایمان للبیہقی: رقم 10336)
جب لوگوں میں آپس میں بغض ہو اور لڑائی ہو رہی ہو تو وہاں اپنا کردار ادا کرو، صلح کراؤ۔ جب ہم دیکھیں کہ میاں بیوی آپس میں دور ہو رہے ہیں، ان کو قریب کرنے کی فکر کریں۔ غلط فہمی کی وجہ سے دو دوست دور ہو رہے ہیں، ہم قریب کرنے کی فکر کریں۔ دو بھائی دور ہو رہے ہیں، ہم قریب کرنے کی فکر کریں۔ اس سے ملے گا کیا؟ غور سے سننے والی بات ہے۔
صلح کروانے کی فضیلت
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اپنے معاملے کو درست فرمائیں گے، اور اسے ہر اس بات کے بدلے میں جو اس نے صلح کے لیے کی ہوگی، غلام آزاد کرنے کا ثواب دیں گے، اور وہ اس حال میں لوٹے گا کہ اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ (ترغیب و ترہیب: رقم 4262)
دو بندوں کی لڑائی ہوگئی، ایک آدمی نے کوشش کی کہ دونوں کے درمیان راضی نامہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ اس کی کوشش کرنے والے کے اپنے معاملات میں درستگی عطا فرماتے ہیں، اور اس شخص کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور اس صلح کے ہر لفظ کے بدلے میں، ہر بول کے عوض میں اسے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے۔ اگر آپ فریقین کے درمیان صلح کروا رہے ہیں، بات چیت ہو رہی ہے۔ بات کرتےکرتے ایک گھنٹہ ہوگیا، اس میں آپ نے سینکڑوں کلمات بولے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ بعض دفعہ آپ جوڑ پیدا کرنے کے لیے بولتے گئے، سمجھاتے گئے، تو یہ بولنا خالی نہیں جاتا۔ ہر ہر لفظ پر آپ کو ایک ایک غلام کی رہائی کا ثواب مل رہا ہوتا ہے۔ دیکھ لیجیے کہ لوگوں میں صلح کروانا کتنی بڑی عبادت اور اللہ کو اتنا پسند ہے۔
صلح کے لیے حیلہ اختیار کرنا
بتائیے کہ جھوٹ بولنا نیکی ہے یا گناہ؟ بتائیں۔ گناہ ہے۔ پکی بات ہے۔ اور کبیرہ گناہ ہے، کوئی عام گناہ بھی نہیں۔ لیکن اگر دو بندوں کے درمیان لڑائی ہو اور اس میں صلح کروانے کےلیے جھوٹ بول دیں تو یہ گناہ نہیں۔ اللہ ربّ العزّت نے اس کی صحیح نیت کی وجہ سے گناہ کو ختم کر دیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو کتنا پسند ہے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا۔
حضرت اُمّ کلثوم بنت عقبہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
ليس الكذّاب الذي يصلح بين النّاس فينمي خيراً أو يقول خيراً.
(صحیح البخاري: رقم 2546)
ترجمہ: ’’جھوٹا وہ نہیں ہے جو لوگوں میں باہم صلح کرانے کی کوشش کرے اور اس کے لیے کسی اچھی بات کی چغلی کھائے یا اسی سلسلہ کی اور کوئی اچھی بات کہہ دے‘‘۔
جو انسان دو شخصوں کے درمیان صلح کروانے کےلیے جھوٹ بولتا ہے، وہ جھوٹا نہیں ہے، وہ یا تو خیر بولے گا یا خیر پہنچائے گا۔ یہ نیت کا معاملہ ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کے معاملات ہوں، دونوں میں خرابی آ رہی ہو تو جوڑ پیدا کرنے کےلیے، رشتہ باقی رکھنے کےلیے جھوٹ بولنا پڑے تو اس پر بھی نیکی کا ثواب ملے گا۔
آج کل ہو کیا رہا ہے؟ توڑ کروانے کےلیے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ گھروں کے کتنے ایسے معاملات ہیں، دن رات ایسی چیزیں پیش آ رہی ہیں کہ بس! اللہ تعالیٰ ہی ہماری حفاظت فرمائے، اور اپنے مقبول بندوں میں شامل فرمائے، اور تقویٰ عطا فرمائے۔ ہم اہلِ ایمان کی نیک صحبتیں اپنائیں گے تو ہمیں یہ نعمتیں مل جائیں گی۔
صحبت کا اَثر ہوتا ہے
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو، اور اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلائو۔ (سنن ترمذی: رقم 2331)
مطلب یہ کہ نیکوکاروں کے ساتھ اپنے تعلقات رکھو اور گناہ گاروں سے اپنے آپ کو بچائو۔ نیکی کے نیک اثرات ہیں، اور گناہ کے برے اَثرات ہیں۔
حضرت عمرسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: خدا کے دشمن یہودی اور نصاریٰ کے مذہبی اجتماع اور میلوں میں شریک ہونے سے بچو، اگر ان پر عذابِ خداوندی نازل ہوا تو مجھے ڈر ہے کہیں تم تک نہ پہنچ جائے۔ اور ان کے اندرونی حالات جاننے کی کوشش نہ کرو، ورنہ ان کی عادات واَطوار تمہارے اندر آ جائیں گے۔
(شعب الایمان للبیہقی: رقم 8940)
اور آج یہ بات پوری ہو چکی ہے۔ ہمارے یہاں ہر دن جو یہود و نصاریٰ کا دن ہے، وہ منایا جاتا ہے۔ بے حیائی کا دن منانے کی فکر ہوگی۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ ہم نے اپنی مجالس کو ٹھیک نہیں رکھا۔ اس سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ اللہ ربّ العزّت ہم سب کو نیکی اور تقویٰ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply