: ماہواری کی حالت میں تلاوت کرنے کا حکم:

: ماہواری کی حالت میں تلاوت کرنے کا حکم:

عورت کے لیے ماہواری کی حالت میں تلاوت کرنا ناجائز ہے، اسی طرح قرآن کریم کی دعائیں تلاوت کے طور پر پڑھنا بھی ناجائز ہے، البتہ انھیں دعاؤں کی نیت سے پڑھنا جائز ہے۔

📿 ماہواری کی حالت میں قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کا حکم:
واضح رہے کہ اصولی طور پر تو عورت کے لیے ماہواری کی حالت میں قرآن کریم سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے بھی تلاوت کرنا جائز نہیں، البتہ چوں کہ قرآن کریم سیکھنا اور سکھانا ایک مجبوری کی صورت ہے اس لیے ایسی مجبوری کی صورت میں معلمہ اور طالبہ کے لیے اس قدر گنجائش ہے کہ ایک ہی سانس میں روانی کے ساتھ قرآن کریم کی آیت نہ پڑھے بلکہ آیت کے ہر ہر کلمہ پر سانس توڑ کر علیحدہ علیحدہ کرکے پڑھے، جیسے کہ آیت: ’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‘‘ کو یوں پڑھے کہ ’’إِيَّاكَ‘‘ پڑھ کر سانس توڑ دے، پھر ’’نَعْبُدُ‘‘ پڑھ کر سانس توڑ دے، پھر ’’وَإِيَّاكَ‘‘ پڑھ کر سانس توڑ دے، پھر ’’نَسْتَعِينُ‘‘ پڑھ کر سانس توڑ دے۔
(مأخذ: فتویٰ جامعہ دار العلوم کراچی نمبر: ۱۹۴۶/ ۳۷، اور ۱۳۴۱/ ۵۱)

❄️ فائدہ: جو طالبات اور خواتین قرآن کریم کی حافظہ ہوں یا حفظ کررہی ہوں تو وہ مذکورہ مسئلے کے مطابق بھی عمل کرسکتی ہیں، البتہ سبق وغیرہ یاد کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دل ہی دل میں آیات پڑھ لیا کریں یا شرعی احکام کی رعایت کے ساتھ کسی کی تلاوت سُن لیا کریں۔

مسئلہ: ماہواری کی حالت میں عورت کے لیے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنا جائز ہے۔

▪ مسئلہ: ماہواری کی حالت میں عورت کے لیے کسی حائل کے بغیر قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں، اس لیے مذکورہ مسائل میں بھی اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ کسی حائل کے بغیر قرآن کریم کو چھونے سے اجتناب کیا جائے۔ اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے اگلی قسط ملاحظہ فرمائیں۔

❄️ فائدہ: واضح رہے کہ مذکورہ احکام حالتِ نفاس کے لیے بھی ہیں۔

📚 حدیث اور فقہی عبارات
☀ سنن الدار قطني:
428- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَا يَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئاً مِنَ الْقُرْآنِ». (باب فىِ النَّهْىِ لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ)
☀ الدر المختار:
(وَ) يَحْرُمُ بِهِ (تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ) وَلَوْ دُونَ آيَةٍ عَلَى الْمُخْتَارِ (بِقَصْدِهِ) فَلَوْ قَصَدَ الدُّعَاءَ أَوِ الثَّنَاءَ أَوِ افْتِتَاحَ أَمْرٍ أَوِ التَّعْلِيمِ وَلَقَّنَ كَلِمَةً كَلِمَةً حَلَّ فِي الْأَصَحِّ …… (وَ) يَحْرُمُ (بِهِ) أَيْ بِالْأَكْبَرِ (وَبِالْأَصْغَرِ) مَسُّ مُصْحَفٍ: أَيْ مَا فِيهِ آيَةٌ كَدِرْهَمٍ وَجِدَارٍ.
☀ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ) أَيْ وَلَوْ بَعْدَ الْمَضْمَضَةِ كَمَا يَأْتِي، وَفِي حُكْمِهِ مَنْسُوخُ التِّلَاوَةِ عَلَى مَا سَنَذْكُرُهُ. (قَوْلُهُ: وَلَوْ دُونَ آيَةٍ) أَيْ مِنَ الْمُرَكَّبَاتِ لَا الْمُفْرَدَاتِ؛ لِأَنَّهُ جَوَّزَ لِلْحَائِضٍ الْمُعَلِّمَةِ تَعْلِيمَهُ كَلِمَةً كَلِمَةً. يَعْقُوبُ بَاشَا. (قَوْلُهُ: عَلَى الْمُخْتَارِ) أَيْ مِنْ قَوْلَيْنِ مُصَحَّحَيْنِ، ثَانِيهِمَا أَنَّهُ لَا يَحْرُمُ مَا دُونَ آيَةٍ، وَرَجَّحَهُ ابْنُ الْهُمَامِ بِأَنَّهُ لَا يُعَدُّ قَارِئًا بِمَا دُونَ آيَةٍ فِي حَقِّ جَوَازِ الصَّلَاةِ فَكَذَا هُنَا، وَاعْتَرَضَهُ فِي «الْبَحْرِ» تَبَعًا لِـ«الْحَلْبَةِ» بِأَنَّ الْأَحَادِيثَ لَمْ تَفْصِلْ بَيْنَ الْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ وَالتَّعْلِيلُ فِي مُقَابَلَةِ النَّصِّ مَرْدُودٌ. اهـ. وَالْأَوَّلُ قَوْلُ الْكَرْخِيِّ، وَالثَّانِي قَوْلُ الطَّحَاوِيِّ. أَقُولُ: وَمَحَلُّهُ إذَا لَمْ تَكُنْ طَوِيلَةً، فَلَوْ كَانَتْ طَوِيلَةً كَانَ بَعْضُهَا كَآيَةٍ؛ لِأَنَّهَا تَعْدِلُ ثَلَاثَ آيَاتٍ, ذَكَرَهُ فِي «الْحَلْبَةِ» عَنْ «شَرْحِ الْجَامِع»ِ لِفَخْرِ الْإِسْلَامِ ….. (قَوْلُهُ: أَوِ التَّعْلِيمَ) فَرَّقَ بَعْضُهُمْ بَيْنَ الْحَائِضِ وَالْجُنُبِ بِأَنَّ الْحَائِضَ مُضْطَرَّةٌ؛ لِأَنَّهَا لَا تَقْدِرُ عَلَى رَفْعِ حَدَثِهَا، بِخِلَافِ الْجُنُبِ وَالْمُخْتَارُ؛ لِأَنَّهُ لَا فَرْقَ. نُوحٌ. (قَوْلُهُ: وَلَقَّنَ كَلِمَةً كَلِمَةً) هُوَ الْمُرَادُ بِقَوْلِ «الْمُنْيَةِ»: «حَرْفًا حَرْفًا» كَمَا فَسَّرَهُ بِهِ فِي شَرْحِهَا، وَالْمُرَادُ مَعَ الْقَطْعِ بَيْنَ كُلِّ كَلِمَتَيْنِ، وَهَذَا عَلَى قَوْلِ الْكَرْخِيِّ، وَعَلَى قَوْلِ الطَّحَاوِيِّ تَعَلَّمَ نِصْفَ آيَةٍ، «نِهَايَةٌ» وَغَيْرُهَا. وَنَظَرَ فِيهِ فِي «الْبَحْرِ» بِأَنَّ الْكَرْخِيَّ قَائِلٌ بِاسْتِوَاءِ الْآيَةِ وَمَا دُونَهَا فِي الْمَنْعِ. وَأَجَابَ فِي «النَّهْرِ» بِأَنَّ مُرَادَهُ بِمَا دُونَهَا مَا بِهِ يُسَمَّى قَارِئًا، وَبِالتَّعْلِيمِ كَلِمَةً كَلِمَةً لَا يُعَدُّ قَارِئًا اهـ. وَيُؤَيِّدُهُ مَا قَدَّمْنَاهُ عَنِ «الْيَعْقُوبِيَّةِ» بَقِيَ مَا لَوْ كَانَتِ الْكَلِمَةُ آيَةً كـ«ص» و «ق» نَقَلَ نُوحٌ أَفَنْدِي عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ يَنْبَغِي الْجَوَازُ. أَقُولُ: وَيَنْبَغِي عَدَمُهُ فِي «مُدْهَامَّتَانِ»، [الرحمن: 64]. تَأَمَّلْ. ….. (قَوْلُهُ، مَسُّ مُصْحَفٍ) «الْمُصْحَفُ» بِتَثْلِيثِ الْمِيمِ، وَالضَّمُّ فِيهِ أَشْهَرُ، سُمِّيَ بِهِ؛ لِأَنَّهُ أُصْحِفَ أَيْ جُمِعَ فِيهِ الصَّحَائِفُ، «حَلْبَةٌ». (قَوْلُهُ: أَيْ مَا فِيهِ آيَةٌ إلَخْ) أَيِ الْمُرَادُ مُطْلَقُ مَا كُتِبَ فِيهِ قُرْآنٌ مَجَازًا، مِنْ إطْلَاقِ اسْمِ الْكُلِّ عَلَى الْجُزْءِ، أَوْ مِنْ بَابِ الْإِطْلَاقِ وَالتَّقْيِيدِ. قَالَ ح: لَكِنْ لَا يَحْرُمُ فِي غَيْرِ الْمُصْحَفِ إلَّا بِالْمَكْتُوبِ أَيْ مَوْضِعُ الْكِتَابَةِ، كَذَا فِي «بَابِ الْحَيْضِ» مِنَ «الْبَحْرِ»، وَقَيَّدَ بِالْآيَةِ؛ لِأَنَّهُ لَوْ كَتَبَ مَا دُونَهَا لَا يُكْرَهُ مَسُّهُ كَمَا فِي «حَيْضِ الْقُهُسْتَانِيِّ». وَيَنْبَغِي أَنْ يَجْرِيَ هُنَا مَا جَرَى فِي قِرَاءَةِ مَا دُونَ آيَةٍ مِنَ الْخِلَافِ وَالتَّفْصِيلِ الْمَارَّيْنِ هُنَاكَ بِالْأَوْلَى؛ لِأَنَّ الْمَسَّ يَحْرُمُ بِالْحَدَثِ وَلَوْ أَصْغَرَ، بِخِلَافِ الْقِرَاءَةِ فَكَانَتْ دُونَهُ، تَأَمَّلْ. (كتاب الطهارة)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
2 ربیع الثانی 1442ھ/ 18 نومبر 2020

Leave a Reply