75

ماہ شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت

ماہ شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت :/

احادیث مبارکہ میں اس رات کے بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں اور اسلاف امت بھی اس کی فضیلت کے قائل ہیں اس رات کو شب برات کہتے ہیں کیونکہ اس رات لا تعداد انسان رحمت باری تعالیٰ سے جہنم سے نجات حاصل کرتے ہیں !

⭐️شب براءت کے متعلق لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں بعض تو وہ ہیں جو سرے سے اس کی فضیلت کے قائل ہی نہیں بلکہ اس کی فضیلت میں جو احادیث مروی ہیں انھیں موضوع و من گھڑت قرار دیتے ہیں جبکہ بعض فضیلت کے قائل تو ہیں لیکن اس فضیلت کے حصول میں بے شمار بدعات ، رسومات اور خود ساختہ امور کے مرتکب ہیں جبکہ اعتدال کا راستہ یہ ہے کہ شعبان کی اس رات کی فضیلت ثابت ہے لیکن اس کا درجہ فرض و واجب کا نہیں بلکہ محض استحباب کا ہے سرے سے اس کی فضیلت کا انکار کرنا بھی صحیح نہیں اس میں کئے جانے والے اعمال و عبادات کو فرائض و واجبات کا درجہ دینا بھی درست نہیں اس رات کے فضائل میں بہت سی احادیث مروی ہیں اگرچہ ان میں سے بعض سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں لیکن چونکہ فضائل کے باب میں ضعیف احادیث تعدد روایات کی وجہ سے مقبول ہیں اس لئے وہ پیش خدمت ہیں مزید یہ کہ اکابر و اسلاف اور امت کا عبادت کا تعامل بھی مؤید ہے !

1)حدیث شریف کا مہفوم ہے حضرت عائشہؓ نقل فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کون سی رات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اس رات اللہ رب العزت اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتے ہیں بخشش چاہنے والوں کو بخش دیتے ہیں رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں ! (شعب الایمان للبیہقی : رقم الحدیث 3554 ، جامع الاحادیث للسیوطی : رقم 7265 ، کنز العمال : رقم الحدیث 7450)

2) حدیث شریف کا مہفوم ہے حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں (کَمَا یَلِیقُ بِشَانِه) اس رات ہر ایک کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا ہو یا وہ شخص جس کے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کینہ بھرا ہو ! (شعب الایمان للبیہقی : رقم الحدیث 3546 ، مجمع الزوائد للہیثمی : رقم 12957)

قال الہیثمی : رواه البزار وفيه عبد الملك بن عبد الملك ذكره ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل ولم يضعفه وبقية رجاله ثقات (مجمع الزوائد للہیثمی : تحت الرقم 12957)

قال المنذری : اسنادہ لا باس بہ (الترغیب و الترہیب : تحت الرقم 4190)

3) حدیث شریف کا مہفوم ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! کیا تمھیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرھویں رات میں کیا ہوتا ہے؟ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! اس میں کیا ہوتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سال جتنے انسان پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ اس رات میں لکھ دئے جاتے ہیں اور جتنے لوگ اس سال میں مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اس رات بنی آدم کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے ! (مشکوة : رقم الحدیث 1305)

فائدہ :/ لکھنے کا کیا مطلب یہ ہے کہ اس رات لوح محفوظ سے انسانی امور سے متعلقہ فہرستیں لکھ کر فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہیں ! واللہ اعلم بالصواب

4) حدیث شریف کا مہفوم ہے حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے لیکن اس رات مشرک ، کینہ رکھنے والے ، قطع رحمی کرنے والے ، ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے ، ماں باپ کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتے ! (شعب الایمان للبیہقی : رقم الحدیث 3556 ، الترغیب و الترہیب للمنذری : رقم الحدیث 1547)

⭐️شب برأت اکابرین امت کی نظر میں !

1) از قلم ✒….. حضرت عطاء بن یسار تابعیؒ فرماتے ہیں کہ مَا مِنْ لَيْلَةٍ بَعْدَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفْضَلُ مِنْ لَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ (لطائف المعارف : ابن رجب الحنبلی : صفحہ 151)
ترجمہ : یعنی لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرھویں رات سے زیادہ افضل کوئی رات نہیں !

2) از قلم ✒….. علامہ ابن رجب الحنبلیؒ فرماتے ہیں کہ اہل شام کے تابعین حضرات مثلاً : امام خالد بن معدان ، امام مکحول ، امام لقمان بن عامر وغیرہ شعبان کی پندرہویں رات کی تعظیم کرتے تھے اور اس رات خوب محنت سے عبادت فرماتے تھے انہی حضرات سے لوگوں نے شب براءت کی فضیلت کو لیا ہے ! (لطائف المعارف : ابن رجب الحنبلی صفحہ 151)

3) از قلم ✒….. امام محمد بن ادریس شافعیؒ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہا جاتا تھا کہ پانچ راتوں میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے جمعہ کی رات ، عید الاضحیٰ کی رات ، عید الفطر کی رات ، رجب کی پہلی رات اور نصف شعبان کی رات میں نے ان راتوں کے متعلق جو بیان کیا ہے اسے مستحب سمجھتا ہوں فرض نہیں سمجھتا ! (کتاب الام للشافعی جلد 1 صفحہ 231 العبادة لیلۃ العيدين ، السنن الکبریٰ للبیہقی جلد 3 صفحہ 319)

4) از قلم ✒….. علامہ زین الدین بن ابراہیم المعروف بابن نجیم المصری الحنفیؒ فرماتے ہیں کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں ، عیدین کی راتوں میں ، ذوالحجہ کی دس راتوں میں ، شعبان کی پندرہویں رات میں شب بیداری کرنا مستحبات میں سے ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہے اور از قلم ✒….. علامہ منذریؒ نے انہیں ترغیب و ترہیب میں مفصلاً بیان کیا ہے ! (البحر الرائق لابن نجیم جلد 2 صفحہ 56)

5) از قلم ✒….. حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ یہ رات لیلة البرأت ہے اور اس لیلة البرأت کی فضیلت کے بارے میں روایات صحیح ہیں ! (العرف الشذی جلد 2 صفحہ 250)

6) از قلم ✒….. حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ شب برأت کی اتنی اصل ہے کہ پندہویں رات اور پندرہواں دن اس مہینے کا بہت بزرگی اور برکت کا ہے ! (بہشتی زیور حصہ ششم صفحہ 58)

7) از قلم ✒….. حضرت مفتی محمد کفایت اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں شب ایک افضل رات ہے ! (کفایت المفتی جلد 1 صفحہ 226 ، 225)

8) از قلم ✒….. حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ شب قدر و شب براءت کے لئے شریعت نے عبادت ، نوافل ، تلاوت ، ذکر ، تسبیح ، دعاء و استغفار کی ترغیب دی ہے ! (فتاوی محمودیہ جلد 3 صفحہ 263)

9) از قلم ✒….. شیخ الاسلام شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں شب برأت کی فضیلت میں بہت سی روایات مروی ہیں جن میں سے بیشتر علامہ سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے الدر المنثور میں جمع کر دی ہیں ان روایات کے ضعف کے باوجود شب برأت میں اہتمام عبادت بدعت نہیں اول تو اس لیے کہ روایات کا تعدد اور ان کا مجموعہ اس پر دال ہے کہ لیلة البرأت کی فضیلت بے اصل نہیں دوسرے امت کا تعامل لیلة البرأت میں بیداری اور عبادت کا خاص اہتمام کرنے کا رہا ہے اور یہ بات کئی مرتبہ گزر چکی ہے کہ جو بھی ضعیف روایت مؤید بالتعامل ہے وہ مقبول ہوتی ہے لہذا لیلة البرأت کی فضیلت ثابت ہے اور ہمارے زمانے کے بعض ظاہر پرست لوگوں نے احادیث کے محض اسنادی ضعف کو دیکھ کر لیلة البرأت کی فضیلت کو بے اثر قرار دینے کی جو کوشش کی ہے وہ درست نہیں !
(درس ترمذی جلد 2 صفحہ 579)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں