29

ماہ محرّم پارٹ2

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰہِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْہِنَّ اَنْفُسَكُمْ
(التوبۃ: 36)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

عبادت میں زیادہ کوشش کریں
گزشتہ باتوں سے معلوم ہوا کہ محرّم کی اہمیت اور احترام شروع سے چلاآ رہا ہے۔ ان فضائل کا تقاضا یہ ہے کہ اس مہینے میں ہم عبادت میں اپنے آپ کو زیادہ لگانے کی فکر کریں۔ اور زیادہ سے زیادہ محنت کریں۔ محرّم الحرام کا پورا مہینہ رمضان کے بعد عبادات کے اعتبار سے بہت بابرکت مہینہ ہے۔ اس لیے ہمیں اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔ وقت کا پہیہ تیزی سے گزرتا چلا جا رہا ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے وقت سے فائدہ اٹھالے۔
یومِ عاشوراء کی تعظیم
اب ہم دس محرّم کے دن کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ دس محرّم کی فضیلت اپنی جگہ بہت زیادہ ہے اور اس کا نام عرفِ عام میں عاشوراء ہے۔ اس دن کے بارے میں جو مختلف باتیں ہمیں ملتی ہیں، ان میں ایک یہ ہے کہ ا س دن حضرت موسیٰ کو اللہ ربّ العزّت نے فرعون سے نجات دی تھی، فرعون اس دن غرق ہو گیا تھا۔ یہودی، عیسائی اور مشرکینِ مکہ یہ تینوں مذاہب والے اس دن یعنی دس محرّم کی بہت تعظیم کیا کرتے تھے۔ حضورِ اکرمﷺ اس دن خود بھی روزہ رکھتے اور دوسروں کو اس کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں دس محرّم کو غلافِ کعبہ تبدیل کیا جاتا تھا۔ گویا اس دن کی عظمت مشرکینِ مکہ کے ہاں پہلے سے موجود تھی۔ اسی طرح رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت سے پہلے دس محرّم کا روزہ نبی کریمﷺ کی شریعت میں بھی فرض تھا۔ نبی کریمﷺ ہجرت سے قبل مکہ مکرّمہ میں روزہ رکھا کرتے تھے۔ اِن شاء اللہ آگے تفصیل سے اس پر بات ہوگی۔
بعض مؤرّخین نے اس دن کے حوالے سے کچھ اور تاریخی واقعات بھی نقل فرمائے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دس محرّم کے دن حضرت آدم کی توبہ قبول ہوئی۔ حضرت نوح کی کشتی جس دن ساحل پر آئی، اس دن بھی دس محرّم تھا۔ حضرت عیسیٰ کی ولادت جس دن ہوئی، وہ دس محرّم کا دن تھا۔ جس دن ان کو آسمانوں پر اٹھایا گیا، وہ بھی دس محرّم کا دن تھا۔ حضرت یونس کو جس دن مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی، وہ بھی دس محرّم کا دن تھا۔ اور اسی دن ان کی قوم کا قصور معاف ہوا تھا۔ اور دس محرّم کے دن ہی حضرت یوسف کنویں سے نکالے گئے، جس کنویں میں ان کو ان کے بھائیوں نے ڈال دیا تھا۔ دس محرّم کے دن ہی حضرت ایوب کو صحت عطا ہوئی۔ اور دس محرّم کے روز ہی حضرت اِدریس آسمانوں پر اٹھائے گئے۔اور یہ بھی تاریخ کی کتابوں میں مؤرّخین نے لکھا ہے کہ دس محرّم کے دن حضرت ابراہیم کی ولادت ہوئی۔ اور دس محرّم ہی کے دن حضرت سلیمان کو بادشاہت ملی۔
عظمتِ عاشوراء واقعہ کربلا سے نہیں
ایک اور بات یہاں پر قابلِ غور ہے کہ جس وقت نبی کریمﷺ مکہ مکرّمہ میں دس محرّم کا روزہ رکھتے تھے، اس وقت تو بی بی فاطمہ کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی، تو حضرت حسن اور حضرت حسین پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ جاننا چاہیے کہ دس محرّم کی حرمت کا معاملہ فقط حضرت حسین کی شہادت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس دن کی حرمت اور عزّت تو پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ اس دن کا احترام، اور اہمیت تو پچھلی امتوں سے ثابت ہے، اس لیے اس دن کو فقط حضرت حسین کے واقعہ سے منسوب کر دینا غلط ہے۔ دیکھیں! میں اس واقعے کی کسی بات کی تردید نہیں کر رہا۔ یقیناً ان کی شہادت کا بہت بڑا رُتبہ ہے اور اُن کی بڑی عظیم قربانی ہے۔ وہ سب کچھ اپنی جگہ ہے، لیکن باقی ساری باتوں اور شریعت کو چھوڑ صرف اسی واقعے کو سامنے رکھنا اور ساری شریعت اور باتوں کو چھوڑ دینا بڑی لاعلمی کی بات ہے۔
مروّجہ ناواقفیت والے کام
اب ہمارے ہاںدس محرّم کو آپ جانتے ہی ہیں کہ کیا ہوتا ہے؟کہیںکھیچڑا بنتا ہے، کہیں حلیم بنتی ہے، اور کہیں کھیر بنتی ہے۔ بھائیو! آپ کا دل ہے آپ جو چاہیں بنائیں، مگر یہ چیزیں مخصوص کر دینا کہ اس دن یہی بنانا ہے تو یہ ایک عجیب سی بات ہے۔ اور شرعی نکتہ نظر سے عقیدتاً اسے کرنا بدعت ہے۔ ہمارے ہاں تو ایک اور بھی عجیب سی رسم ہے کہ شادی کے بعد جو پہلی محرّم آتی ہے، تو بیوی کو اس کے ماں کے ہاں چھوڑ آتے ہیں۔ یہ سب باتیں جہالت کی، اور دین سے ناواقفیت کی وجہ سے ہیں۔ ان باتوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے علاوہ اس دن روٹیاں پکا کر پھینکنا بہت بری بات ہے۔ یاد رکھیے! روٹیاں تو احترام کرنے کی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق ہے۔ اس کی بے حرمتی کر کے پھینکنا انتہائی گناہ کا کام ہے۔
دسویں محرّم کو روزہ رکھنا
اس کے برعکس ہمیں چاہیے کہ ہم دس محرّم کے دن ان چیزوں اور باتوں کو اختیار کریں جو صحابۂ کرام نے اختیار کیں۔
(۱) حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دنوں میں سے عاشوراء اور مہینوں میں سے ماہِ رمضان کے روزوں سے زیادہ کسی دن یا مہینے کے روزے رکھنے کا اہتمام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری: رقم 1867)
یعنی نبی کریمﷺ ان ایام کے روزے انتہائی اہتمام سے رکھتے تھے، ان کے علاوہ روزے کا اہتمام آپﷺ نے اتنا نہیں کیا۔
(۲) ایک حدیث میں نبی کریمﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:
صِیَامُ یَوْمِ عَاشُوْرَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللہِ أَنْ یُّکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِيْ قَبْلَہُ.
(صحیح مسلم: رقم 1162)
ترجمہ: ’’دسویں محرّم کے روزے کے بارے میں میں اللہ تعالیٰ سے اُمید کرتا ہوں کہ ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ بنادے‘‘۔
یعنی دس محرّم کو روزہ رکھنے سے گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ علمائے کرام لکھتے ہیں کہ دس محرّم کا روزہ رکھنے سے جو پچھلے ایک سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے، اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں، وہ اس روزے کی برکت سے معاف ہو جائیں گے۔ میرے بھائیو! اگر ہمارے صغیرہ گناہ بھی معاف ہو جائیں تو یہ ہمارے لیے بہت سعادت کی بات ہے۔
کبائر کی معافی
کبیرہ گناہ کے معاف کرانے کے لیے تین شرائط ہیں:
(۱) بندے کو اپنے گناہوں پر، اور اپنی زندگی کی گزشتہ خطاؤں اور لغزشوں پر شرمندگی اور ندامت ہو۔ یہ اوّل شرط ہے۔
(۲) گناہگار آدمی اس گناہ سے ہمیشہ کے لیے ہٹ جائے اور اسے چھوڑ دے۔
(۳) آیندہ اس گناہ کے نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے۔
کبیرہ گناہ کی معافی کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں۔ اگر توبہ کے بعد انجانے میں پھر گناہ ہو جائے تو پریشان نہ ہوں، ان شرائط کے ساتھ پھر توبہ کر لیں۔ شیطان اکثر یہاں پر گڑ بڑ ڈال دیتا ہے اور اللہ پاک سے نا اُمیدی اور مایوسی ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
روزے میں اِفراط و تفریط سے بچنا
ہمارے ہاں بعض حضرات تو ایسے ہیں کہ اس روزے کو اتنی زیادہ فضیلت دے دیتے ہیں کہ اپنی نمازیں بھی قضا کر دیتے ہیں۔ اور گناہوں سے بچنے کا بھی کوئی اہتمام نہیں کرتے۔ جبکہ بعض حضرات مطلقاً اس روزے کا انکار کرتے ہیں، اور بعض دس محرّم کے حوالے سے عجیب عجیب بدعات کا شکار ہیں۔ آئیے! ان باتوں کو ذرا تفصیل سے سن لیجیے۔
نبی کریمﷺ کا اِرشاد مبارک ہے: آج عاشوراء یعنی دس محرّم کا دن ہے، اور تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا گیا، لیکن میں روزے سے ہوں۔ پس تم میں سے جو اس دن کا روزہ رکھنا پسند کرے اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھ لے، اور جو نہ رکھنا چاہے تو اسے نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ (صحیح مسلم: رقم 1916)
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ جب مکہ مکرّمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپﷺ نے یہودیوں کو دسویں محرّم کا روزہ رکھتے دیکھا۔ حضور نبی کریمﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس دن کی تمہارے پاس کیا خصوصیت اور احترام ہے کہ تم اس دن کا روزہ رکھتے ہو؟ یہودیوںنے جواب دیا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے کہ اس دن اللہ ربّ العزّت نے موسیٰd کو نجات دی تھی اور فرعون کو اور اس کے لشکر کو غرق کر دیا تھا۔ چناں چہ حضرت موسیٰd نے شکر انے کے طور پر روزہ رکھا۔ نبی کریمﷺ نے ان کی بات سن کر ارشاد فرمایا: میں تمہاری نسبت موسیٰd سے زیادہ قریب ہوں، (کیوںکہ تم تو ان کے لائے ہوئے احکامات اور شریعت کو بدل چکے ہو، تو ہم زیادہ حقدار ہیں کہ ہم اس دن کا روزہ رکھیں) پھر آپﷺ نے خود بھی دسویں محرّم کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔(صحیح بخاری: رقم 3216)
قبیلہ قریش کے لوگ زمانۂ جاہلیت میں عاشوراء کے دن روزہ رکھتے تھے اور نبی کریمﷺ بھی یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ اور جب نبیﷺ نے ہجرت کی تو خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرامj کو رکھنے کا حکم دیا۔ پھر جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہو گئے تو آپﷺ نے دسویں محرّم کے روزے کی فرضیت کی منسوخی کا اعلان فرما دیا۔ اور ارشاد فرما دیا کہ اگر کوئی عاشوراء کے دن روزہ رکھنا چاہے تو رکھ لے، نہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی ملامت نہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 1794، صحیح مسلم: رقم 1125)
غیروں کی مشابہت ترک کرنا ضروری ہے
اچھا! جس وقت نبی کریمﷺ نے دس محرّم کا روزہ رکھا اور صحابہ کرا کو اس کا حکم دیا۔ یہ وہ صحابہ تھے جو آپﷺ کے صحبت یافتہ تھے اور شریعت کے مزاج کو بھرپور طریقے سے جاننے والے تھے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! یہ ایسا دن ہے کہ یہود ونصاریٰ اس دن کی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ اگر ہم بھی اس دن کا روزہ رکھیں گے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ موافقت اور مشابہت ہو جائے گی، حالاںکہ ہم مسلمانوں اور یہود ونصاریٰ میں تو بڑا فرق ہے۔ ان کی بات پر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: آیندہ سال اِن شاء اللہ ہم دسویں محرّم کے ساتھ نویں محرّم کو ملائیں گے۔ اور اگلا سال آنے سے قبل ہی رسول اللہﷺ اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ (صحیح مسلم: رقم 1916)
مسندِ احمد میں حضرت ابن عباس سے نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ دسویں محرّم کا روزہ رکھو تو اس میں یہود کی مخالفت کرو، دسویں محرّم کے ساتھ یا نویں محرّم کا روزہ ملالو، یا گیارہویں محرّم کے روزے کو ملالو۔ (مسند احمد: رقم 2155)
اب ذرا نبی کریمﷺ کی بات ’’یہود کی مخالفت کرو‘‘ پر بھی غور فرما لیجیے۔روزہ رکھنا ایک عبادت ہے اور دسویں محرّم کا روزہ تو پہلے سے نبی کریمﷺ کا معمول تھا۔ لیکن جب مدینہ طیبہ میں نبی کریمﷺ تشریف لائے اور یہ معلوم ہوا کہ یہود بھی اس دن کا روزہ رکھتے ہیں تو آپﷺ نے روزہ رکھنے کا حکم تو دیا، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہودیوں کی مخالفت کا بھی حکم دیا۔ معلوم ہوا کہ اسلام کی غیرت یہ بات برداشت ہی نہیں کرتی کہ اللہ کو ایک ماننے والا اور کلمہ پڑھنے والا، رسول اللہﷺ کو آخری نبی ماننے والا کسی غیر کے طریقے پر کیسے چل سکتا ہے؟ یہ کام اسلام کی غیرت اور حمیت برداشت نہیں کرتی۔
نبی کریمﷺ نے صرف اسی موقع پر نہیں، اور بھی کئی مواقع پر ارشاد فرمایا کہ یہود ونصاریٰ کی مخالفت کرو۔ اس بارے میں آپ کو مزید تفصیلات ہماری کتاب ’’گلدستۂ سنت‘‘ جلد 2سے مل جائیں گی۔ چند باتیں ابھی بتلائے دیتا ہوں، باقی وہاں سے دیکھ لیجیے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین۔
مشابہت کی ممانعت پر احادیثِ مبارکہ
حضرت ابو اُمامہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اہلِ کتاب پاجامہ تو پہنتے ہیں، لیکن لنگی نہیں پہنتے۔ اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پاجامہ بھی پہنو اور لنگی بھی باندھو، اور اہلِ کتاب کی مخالفت کرو۔ (مسند احمد: رقم 21695)
اسی طرح کی ایک روایت میں یہ بھی فرمایا کہ جہاں تک ہو سکے، جس قدر ہو سکے شیطان کے دوستوں کی مخالفت کرو۔ (معجم اوسط للطبرانی: رقم 4254)
معلوم ہوا کہ یہ جو کفار ہیں یہ شیطان کے دوست ہیں، ان جیسا ہرگز نہیں بننا۔
حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اسی میں سے ہوگا۔ (سنن ابی داؤد: رقم 3401)
ملا علی قاری اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ظاہری کاموں میں، اور ظاہری لباس وغیرہ میں کفار کی مخالفت سے بچنا ہے۔ حضرت عمر کے دور میں جب اسلامی عظیم فتوحات کا دروازہ کھلا اور بہت ساری مختلف قومیں مسلمان ہونے لگیں تو دین کے اجزا کے خلط ملط ہونے کا اندیشہ ہوا کہ مسلمان غیروں کے رسوم ورواج کو اپنانے نہ لگ جائیں۔ جیسے آج کل کے دور میں ہندوستان اور پاکستان کے شہروں میں مسلمانوں کی شادیوں میں ہندوؤں کی بہت ساری باتیں شامل ہوتی ہیں۔ آپ سعودی عرب میں مسلمانوں کی شادیوں میں چلے جائیں، وہاں پر الحمدللہ! آپ کو یہ چیزیں نظر نہیں آئیں گی۔ جیسے اُبٹن لگانا، مہندی لگانا وغیرہ۔ مجھے تو سارے نام یاد نہیں ہے۔ بہرحال اس دور میں حضرت عمر کو بھی خطرہ لاحق ہوا کہ عجم سے مختلف قومیں اسلام میں داخل رہی ہیں تو ان کے اپنے طور طریقے ہیں اور عربوں کے اپنے طور طریقے ہیں، تو کہیں دینِ اسلام میں قوموں کی تہذیب کی دخل اندازی نہ ہوجا ئے۔ حضرت عمر تو فاروقِ اعظم تھے۔ حق اور باطل میں فرق کر دینے والے تھے۔ نبی کریمﷺ ان کے متعلق فرماتے تھے کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
(سنن ترمذی: رقم 3686)
اور فرمایا کہ عمر کی زبان اور دل پر حق بولتا ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 3682)
یہ بھی فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(ﷺ) کی جان ہے جس راستے پر عمر چلتا ہے، شیطان وہ راستہ چھوڑ دیتا ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 3294، صحیح مسلم: رقم 2396)
اس عظیم ہستی نے جب عجمیوں کے حالات کو پَرکھا تو پھر دو احکامات جاری فرمائے۔ اور تمام خلافتِ اسلامیہ کے ماتحت علاقوں میں اس کو نافذ فرما دیا۔ ایک والانامہ مسلمانوں کی طرف بھیجا اور ایک خط ذمی کافروں کی طرف بھیجا۔ مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ دیکھو! تم نے کافروں کے طریقوں پر نہیں رہنا، بلکہ رسول اللہﷺ کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنی ہے۔ اے مسلمانو! اِزار اور چادر کا استعمال کرو یعنی لنگی بھی کبھی پہن لیا کرو، اور جوتے پہنو۔ اور حضرت اسماعیل کے لباس کو لازم پکڑو، اور عجمیوں کے لباس اور اُن کی وضع قطع سے دور رہو۔ (صحیح ابن حبان: رقم 5454)
اور غیر مسلموں سے کہا کہ تم اپنے طریقوں پر رہو، ہمارے طریقوں کو اختیار نہ کرو تاکہ ہم اور تم الگ الگ ہی رہیں۔
ایک جگہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو کٹواؤ۔ (صحیح بخاری: رقم 5553)
بعض اہلِ کتاب جب روزہ رکھتے تو سحری نہیں کرتے تھے۔ نبی کریمﷺ نے صحابۂ کرام سے فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے (کہ سحری نہیں کرتے)۔ (صحیح مسلم: رقم 1096)
طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت عبادت کرنے سے منع فرمایا کہ بہت ساری قومیں ان موقعوں پر سورج کی عبادت کر رہی ہوتی ہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 581)
یعنی ہر جگہ نبی کریمﷺ کی یہ کوشش رہی کہ مسلمان اپنے بلند مقام اور تشخّص کو باقی رکھیں اور کسی طریقے سے بھی غیروں کے طریقے پر فریفتہ نہ ہوں۔ اس لیے مشابہت بالکفار سے بچنا بے حد ضروری ہے۔ اور یہ تو اللہ ربّ العزّت کی غیرت کا معاملہ ہے کہ اس کے بتائے ہوئے دین کو چھوڑ کر غیروں کی اتباع کی جائے۔
اگر دوست دشمن کے رُوپ میں ہو ۔۔۔
ایک آسان سا سوال آپ سے پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی پاکستانی فوج کا جوان انڈین فوجی کے لباس میں آ جائے تو آپ لوگ اس جوان کو محبت کی نگاہ سے دیکھیں گے یا غصے کی نگاہ سے دیکھیں گے؟ ظاہر سی بات ہے کہ غصے سے دیکھیں گے۔ کیوں بھئی؟ اگر میں کہوں کہ لباس سے کیا ہوتا ہے؟ اگر وہ نوجوان فوجی لاکھ قسمیں کھائے اور کلمہ پڑھے کہ میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں اور پاکستان کے آئین کی پوری لاج رکھوں گا اور پاکستان کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں اور اندر سے میں پورا پاکستانی ہوں، مگر میرا لباس بس انڈین فوجی والا ہے تو کیا ہوا؟ کیا آپ لوگ اس بندے کی کوئی بات مانیں گے؟ نہیں مانیں گے، کیوںکہ وہ دشمن کے روپ میں نظر آ رہا ہے۔
سمجھنے کی بات
اب اسی مثال سے بتائیے کہ کیا مسلمان کا اپنا تشخّص اور اپنی پہچان نہیں ہے؟ پھر کیوں ہم غیروں کے لباس اور اَطوار کو اختیار کرتے ہیں۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے لباس کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں، کیوںکہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمدﷺ نے ہمیں ہمیشہ یہود و نصاریٰ کی مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ قیامت کے دن جنابِ رسول اللہﷺ کو شکل دکھانی ہے تو پھر کب تک ہم نبی کریمﷺ کی سنتوں کو یونہی پسِ پشت ڈالتے رہیں گے۔ شفاعت بھی نبی کریمﷺ سے کروانی ہے، تو پھر کون سے لباس اور کس چہرے کے ساتھ نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہوں گے؟ انتہائی افسوس کہہ رہا ہوں کہ آج جس راستے پر ہم چل رہے ہیں، آیندہ 15,20 سالوں تک اگر یہی حال رہا تو آج جو یورپ کا لباس ہے وہی ہمارا ہوگا العیاذباللہ!۔
جو راستہ ہم غیروں کا پکڑ کر بیٹھے ہیں، اس راستے پر چلنے سے آیندہ سالوں میں مسجدیں ختم اور کلب کھل جائیں گے۔ آج کل کے ٹی وی ڈرامے ہمارے اور ہماری اولادوں کے ایمان کو ختم کر رہے ہیں۔ اور اگر کہا جائے کہ گھر سے ٹی وی نکال دو تو ہم اس کو اپنے گھروں سے نکال نہیں سکتے۔ اب آپ خود ہی سوچیں کہ ہم اپنی اولادوں کو کیا بے حیائی دکھا رہے ہیں۔ ہمیں ان خرافات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سنت کو لازم پکڑیں
بہرحال دسویں محرّم کا جب آپ روزہ رکھیں تو ساتھ میں نویں یا گیارہویں محرّم کا بھی روزہ ملا لیں۔ دس کا تو اس لیے کہ احترام والا دن ہے اور نو یا گیارہ کا روزہ رکھتے ہوئے سوچیں کہ میں نے آج کا روزہ اس لیے رکھا کہ مجھے یہود ونصاریٰ کی مخالفت کرنی ہے اور ان کے طریقوں پر نہیں چلنا ہے۔ ہمارے حالات تو ایسے ہو گئے کہ ہم رسم ورواج کے لیے تو جان دینے کو تیار ہیں، مگر سنت جاتی ہے اور چھوٹتی ہے تو چھوٹے۔ ہمیں کوئی پروا نہیں۔ یاد رکھیے!ہم نے کل اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی پیش ہو نا ہے، اور اپنے تمام اعمال کا اللہ ربّ العزّت کے آگے جواب دہ بھی ہونا ہے۔ اگر آج کے دور میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی یا کوئی بھی جلیل القدر صحابی لوٹ آئے، تو پتا نہیں وہ ہمارے حالات کو دیکھ کر ہمیں شاید مسلمان بھی تسلیم نہ کرے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سچا اور سنتوں پر چلنے والا مسلمان بنائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر ایمان پر کرے آمین۔
دسویں محرّم کو اہل و عیال پر وسعتِ رزق
بہر حال دس محرّم والے دن اہل و عیال پر رزق میں وسعت کے بارے میں بھی چند باتیں سن لیجیے۔ ابن عبدالبر سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ وَسَّعَ عَلٰى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ يَوْمَ عَاشُوْرَاءَ وَسَّعَ اللّٰهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ.
(الاستذکار: 140/10)
ترجمہ: ’’جو اپنے آپ پر اور اپنے گھر والوں پر عاشوراء یعنی دس محرّم کے دن میں وسعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس پر پورے سال وسعت فرمائے گا‘‘۔
اس حدیث شریف کو بیان کرنے کے بعد صحابی رسولﷺ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ’’ہم نے اس کا تجربہ کیا تو اس کو اپنے تجربے میں صحیح پایا‘‘۔ ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ اس باب میں سب سے مضبوط روایت یہی حضرت جابر کی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جس نے اپنے گھر والوں پر عاشوراء یعنی دس محرّم کے دن وسعت کی یعنی کشادگی کی، اللہ تعالیٰ اس پر پورے سال وسعت اور کشادگی کا معاملہ فرمائے گا۔ (مجمع الزوائد: رقم 5136)
اب دس محرّم کے دن ہم اپنے آپ پر اور اپنے گھر والوں پر وسعت کریں۔
حدیث شریف میں عموم نہیں، خصو ص ہے
ایک سوال پوچھتا ہوں کہ محلے والے گھر والوں میں شامل ہوتے ہیں؟ بازار والے گھر والوں میں شامل ہوتے ہیں؟ شہر والے گھر والوں میںشامل ہوتے ہیں؟ آپ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ شامل نہیں ہوتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے جتنا بتایا، بس اتنے کو ہی سمجھیں۔ اگر کوئی عام لوگوں کو کھانا کھلانا چاہے تو منع نہیں ہے، مگر اس کے لیے دس محرّم کی تخصیص بھی نہیں ہے۔ آپ مدرسے میں طلبہ کو، غرباء کو، رشتہ داروں کو جب مرضی چاہے کھلائیں، اس کے لیے دس محرّم کا دن مخصوص کر لینا درست نہیں ہے۔ اور اس میں کئی قباحتیں ہیں جنہیں ہم علمائے کرام سے پوچھ سکتے ہیں۔ مثلاً ریا و نمود، مال کا اِسراف وغیرہ کئی ایسی برائیاں ہیں جو قطعاً ٹھیک نہیں ہیں۔
بھئی!آسانی گھر والوں کے لیے پیدا کرنی ہیں جیسی جس کی ہمت ہے اس کے حساب سے۔ مثلاً فروٹ زیادہ آ گیا، کھانا اچھا بنا لیا، بچوں کی پسند کی چیز بن گئی۔ ایک ڈش بنتی ہے تو دو بنا لیں۔ جیسے مہمانوں کے لیے اِکرام کرتے ہیں، اور ایک آدھ چیز زیادہ بناتے ہیں، ایسے ہی گھر والوں کے لیے بھی کرلیں۔
رزق سے برکت اٹھنا
اب انسان دس محرّم کو کشادگی تو کر لیتا ہے، ٹھیک ہے۔ پھر دیکھنا ہے کہ صحابی رسولﷺ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو بعینہٰ اسے ایسا پایا۔ اور بعض لوگ اپنے گھر والوں کا دس محرّم کو بڑا اکرام کرتے ہیں، مگر بتلاتے ہیں کہ انہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ایک شخص نے سارا سال فجر نہیں پڑھنی، سارا سال سود کا نظام بھی چلانا ہے۔ اور دس محرّم کا کھانا کھلا کر یہ سمجھ لینا کہ باقی سارے احکامات معاف ہوگئے، اب جو مرضی چاہے کرو، بالکل دین سے ناواقفیت والی بات ہے۔ شریعت کے سارے احکامات اپنی اپنی جگہ ہیں، تو ہر عمل کو ہم اس درجے میں کریں جس درجے میں ہے۔ مستحب کو فرض کا درجہ دیتے ہوئے بہت اہتمام کرنا اور فرض عمل کو بالکل ہی چھوڑ دینے سے مشکل ہی پیش آئے گی۔ جبکہ فرض کو فرض کے درجے میں رکھتے ہوئے، مستحب کو مستحب کے درجے میں رکھتے ہوئے عمل کرنے میں ان شاء اللہ آسانی ہوگی۔
پچھلی اتوار کو رزق کی سترہ کنجیوں کے بارے میں بات ہوئی تھی۔ رزق میں برکت کے بارے میں کئی معاملات ہیں۔ اب ایک آدمی نافرمانی پر تلا ہوا ہے تو یہ نافرمانی ہی اس کے رزق کو کم کر رہی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: بے شک آدمی رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے اس گناہ کی وجہ سے جس کو وہ اختیار کرے۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 4022)
گناہوں کی نحوست سے انسان رزق سے محروم ہوجاتا ہے۔ ہم گناہوں کو چھوڑ دیںپھر دیکھیں کہ کیسے اللہ تعالیٰ برکت کا معاملہ فرمائیں گے۔ جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے اس کا رزق بھی کم کر دیا جاتا ہے۔
عظمتِ حضرت حسین
اب رہی بات حضرت حسین کی شہادت کی۔ چناںچہ حضرت حسین کی شہادت دس محرّم کو ہوئی۔ حضرت حسین اہلِ بیت میں سے ہیں، ان کا مقام اور مرتبہ بہت بڑا ہے۔ ان کے مقام کے بارے میں اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کمی کر دی تو ایمان کا نقصان ہو جائے گا۔ اپنے ایمان کے لالے پڑ جائیں گے۔ ان کا مقام بھی بہت بلند ہے ۔ ان کی قربانی بھی بہت عظیم ہے۔ اس عظیم قربانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے عظیم شخصیت کو عظیم دن میں یہ فضیلت دی۔ قربانی بھی عظیم، خاندان بھی عظیم، شخصیت بھی عظیم، واقعہ بھی عظیم، سب کچھ عظیم۔ اور اس عظیم دن کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم واقعے کے ساتھ نسبت دے دی۔ اگر پانچ دن پہلے یا پانچ دن بعد ہو جاتا تو باقی ساری عظمتیں تو اسی طرح تھیں، اس کی تو کوئی کمی نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مزید انہیں دس محرّم کی عظمت سے نوازا۔ آپ سمجھ لیجیے کہ اُن پر عزّت کا ایک اور تاج پہنا دیا گیا۔ اہلِ بیت اور تمام صحابہ کرام کا مقام اتنا بڑا ہے کہ ہم کسی کی بھی عظمت میں کمی نہیں کر سکتے۔
لاعلمی کی بات
بعض لوگ محرّم کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں کہ بڑا منحوس مہینہ ہے، اس میں شادی نہیں کرنی۔ یہ معاملہ بھی لاعلمی کی وجہ سے ہے۔ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کہ کوئی دن، کوئی وقت، کوئی زمانہ منحوس نہیں ہوتا۔ جب کسی کی بدعملی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مار اس پر پڑی تو گویا وہ دن اس کے اپنے حق میں ناموافق اور نحوست کے ہوئے۔ اور یہ کسی اور کی وجہ سے نہیں، خود اس کے اپنے کرتوت کی وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں قومِ عاد کی تباہ کاری کو بیان فرماتے ہیں:
اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّo (سورۃ القمر: الآیۃ 19)
ترجمہ: ’’ہم نے ایک مسلسل نحوست کے دن میں اُن پر تیز آندھی والی ہوا چھوڑ دی تھی‘‘۔
نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يُؤذيني ابن آدم، يسبّ الدهر، وأنا الدهر، أقلّب الليل والنهار.
(صحیح مسلم: رقم 4173)
ترجمہ: ’’بنی آدم مجھے ایذا دیتا ہے (یعنی میری شان کے خلاف بات کہتا ہے) یہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے حالاںکہ زمانہ تو میں ہوں (یعنی زمانہ میرے تابع اور میرے ماتحت ہے) اور میں ہی رات اور دن کو پلٹتا ہوں‘‘۔
اس لیے کسی بھی مہینے یا دن کو منحوس سمجھنا مناسب نہیں۔
ایک فقیہ کا واقعہ
ایک مرتبہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو یوںکہہ دیا کہ میں تجھے منحوس دن طلاق دوں گا۔ اب وہ کہہ تو بیٹھا، اس کے بعد ایک فقیہ کے پاس گیا اور جا کر پوچھا کہ بھئی! میں اپنی بیوی کو یہ کہہ چکا ہوں کہ میں تجھے منحوس دن طلاق دوں گا۔ اب میں کیا کروں؟ فرمایا کہ جس دن تیری فجر کی نماز قضا ہو جائے تو وہ تیرے لیے منحوس دن ہے، اس دن تم یہ کام کر سکتے ہو۔ معلوم ہوا کہ جس دن نماز قضا ہو جائے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو جائے اور آدمی نے توبہ نہیں کی تو وہ دن اس کے لیے نحوست والا کہا جا سکتا ہے۔
جمعہ کی مبارک دینا
ایک اور ہمارے ہاں رسم چلی ہوئی ہے پہلے تو نہیں تھی۔ ہر جمعے کو جمعہ مبارک کا پیغام آتا ہے۔ بڑے بڑے خوبصورت Images بن گئے ہیں۔ چند سیکنڈز کی ویڈیوز بھی بن گئی ہیں۔ دیکھیں! میں نے مفتی حضرات سے اس کو پوچھا کہ جمعہ مبارک دینا لینا کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضراتِ صحابہ کرام کے ہاں ایسا نہیں تھا، لہٰذا یہ سنت تو نہیں ہے۔ اور مبارک یعنی برکت کا تعلق تو اعمال کے ساتھ ہے۔ ایک آدمی نے جمعہ کے دن فجر کی نماز نہیں پڑھی، داڑھی کو اس نے ذبح کیا، اور جا کر مسجد میں بیٹھ گیا۔ اور کہتا ہے کہ جی! میں جمعے کی تیاری کر کے آیا ہوں۔ ہفتے بعد جمعہ کی نماز پڑھ لیتے ہیں، نہ دعا کا پتا ہوتا ہے، نہ سارے ہفتے کی نمازوں کا پتا ہوتا ہے۔
پھر یہ جمعہ کی برکتیں کس کو ملیں گی؟ جو تمام نمازیں اہتمام سے ادا کرے، جمعہ کی نماز کا غسل، خوشبو، سنت لباس، عمامے کا یا کم از کم ٹوپی سے سر ڈھکنے کا اہتمام، ناخن کاٹنے، بال کاٹنے، سورۂ کہف کی تلاوت اور درود شریف کی کثرت کرے۔ جمعہ کی نماز کے لیے جب اُردو میں بیان شروع ہوتا ہے تو بیان کے شروع میں پہنچے، خطبہ توجہ سے سنے، توجہ سے نماز ادا کرے، تسلی سے سنتیں اور نفل نماز پڑھے۔ جو جمعہ کے پورے احکامات پر اُترے اس کے لیے تو جمعہ مبارک ہے۔ اور جو جمعہ کے دن کچھ بھی نہ کرے، کوئی نماز ہی نہیں پڑھی، یا صرف ایک جمعہ کی نماز پڑھے تو یہ اس کے لیے مبارک نہ ہوا۔ اعمال کے ساتھ برکت کا تعلق ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت کو صحیح سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو چیز جس درجے میں بتائی گئی اس کو اسی درجے میں رکھیں گے تو ہمارے لیے آسانی ہوگی۔ کمی بیشی کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت کی عزتیں اور برکتیں عطا فرمائے آمین۔
نئے سال میں نیکیوں میں اضافہ کا عزم
بارہ کے بارہ مہینے اللہ ہی کے ہیں۔ اب نیا سال شروع ہونے والا ہے۔ ہم اپنا ہدف طے کریںکہ اس سال ہم نے پہلے سے بہتر کرنا ہے۔ ہر کاروباری آدمی اپنی پانچ سال پرانی کاروباری سوچ پر نہ راضی ہوتا ہے، اور نہ ملازم ملازمت پر خوش ہوتا ہے۔ وہ ہرسال اپنی Increment چاہتا ہے۔ وہ ہرسال چاہتا ہے کہ میرے Bounas اور الاؤنس میں اضافہ ہو۔ دوکاندار ہر سال اپنی Sale میں اضافہ چاہتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ہر سال زیادہ سے زیادہ اللہ کی ذات اور نیکیوں کی طرف راغب ہوں۔ ہماری زندگی کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ ہم جتنی زندگی لے کر آئے تھے اس کا معین وقت طے ہے۔ اب اس میں سے ایک سال اور کم ہوگیا، یعنی ہم اپنی موت کے اور زیادہ قریب ہوگئے۔ یعنی اب ہمارے پاس اللہ کو منانے کا وقت ختم ہو رہا ہے۔تو اب ہمیں دین کی طرف محنت کرنے کی مزید ضرورت ہے۔ جو تھوڑا سا وقت بچ گیا اس میں زیادہ سے زیادہ اللہ کو منانے کی کوشش کریں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہماری کوششوں کو قبول فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں