محبوبِ خدا اور محبوبِ رسولﷺ

محبوبِ خدا اور محبوبِ رسولﷺ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران: 31)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

محبتِ الٰہی، محبتِ رسول کیسے ملے؟
ہم میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسرے کو پسند آجائے۔ مثال کے طور پر بیوی یہ چاہتی ہے کہ خاوند کی محبوبہ بن جائے، خاوند کو پسند آجائے۔ بچے یہ چاہتے ہیں کہ اپنے استاذ کو پسند آجائیں، اپنی والدہ کو پسند آجائیں، والد کو پسند آجائیں۔ دوست یہ چاہتا ہے کہ دوست کو پسند آجائے۔ اسی طرح ہر آدمی کسی نہ کسی کا محبوب بننا چاہتا ہے۔ لیکن صحابۂ کرام کس کے محبوب بننا چاہتے تھے؟ ایک حدیث پاک سنیے! نبی کریمﷺ کی خدمت میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور آکر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ کا اور اللہ کے رسول کا محبوب بننا چاہتا ہوں۔ نبی کریمﷺ نے ان کو نسخہ بتادیا۔ فرمایا کہ دیکھو! اگر تم اللہ کے محبوب بننا چاہتے ہو اور میرے محبوب یعنی اللہ کے محبوب کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اب تم ہر وہ کام کرو جو اللہ کو محبوب ہو اور اس کے محبوب کو محبوب ہو۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے محبوب بن جائیں، جنابِ رسول اللہﷺ کے محبوب بن جائیں تو ہمیں وہ اعمال اختیار کرنے ہوں گے کہ جن سے ہم اللہ کے بھی قریب ہوجائیں اور نبی کے بھی قریب ہوجائیں۔ اللہ کے بھی محبوب بن جائیں گے اور نبی کے بھی محبوب بن جائیں گے۔
بروزِ قیامت نبیﷺ سے قربت
حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی سے سنا آپﷺ فرمارہے تھے کہ کیا میں تم کو یہ نہ بتائوں کہ سب سے زیادہ مجھے محبوب کون ہوگا؟ اور قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب کون ہوگا؟ لوگ خاموش رہے تو نبی نے دو بار یا تین بار یہی پوچھا۔ تب لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! ضرور بتائیے۔ نبیd نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو بہترین اخلاق والا ہو۔ (مسند احمد: رقم 6775)
جس کے جتنے زیادہ اخلاق بلند ہوں گے، قیامت کے دن وہ نبیd کے اتنا زیادہ قریب ہوگا۔ اگلی حدیث اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔
بروزِ قیامت نبیﷺ سے دوری
حضرت جابرh فرماتے ہیں کہ نبیd نے فرمایا: ’’تم میں سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب قیامت کے دن وہ ہوگا جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے بہتر ہوگا۔ اور تم میں سب سے زیادہ مبغوض اور سب سے زیادہ دوروہ ہوگا جو بہت باتونی، لوگوں پر باتوں میں سبقت لے جانےوالا اور متکبر ہوگا‘‘۔ (سنن ترمذی: 2018)
یعنی اخلاق کے اعتبار سے بدترین ہوگا۔ اس لیے با اخلاق کو اللہ ربّ العزّت کا قرب بھی ملتا ہے اور نبی کا بھی قرب ملتا ہے۔
مکارمِ اخلاق کی تکمیل
ایک اور حدیث میں ارشاد ہے:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ.)مسند البزار عن أبي هريرة)
ترجمہ: ’’میں بہترین اخلاق اور عادات کو پورا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں‘‘۔
یعنیآقا کی آمد کے مقاصد میں سے ایک بہت بڑابنیادی مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اچھے اخلاق سکھائے جائیں۔
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ خوب صورت ہیں اور خوب صورتی کو پسند فرماتے ہیں، اور اعلیٰ اخلاق کو پسند فرماتے ہیں اور بدخلقی کو ناپسند کرتے ہیں‘‘۔ (معجم للطبرانی)
حسنِ اخلاق پر ارشاداتِ نبیﷺ
احادیثِ مبارکہ میں نبی نے حسنِ اخلاق کی اہمیت بہت زیادہ بتائی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ ایک دن نبی سے ان کی ملاقات ہوئی تو نبی نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:
اے عقبہ! کیا میں تجھے نہ بتا دوں کہ دنیا اور آخرت کے بہترین اخلاق کیا ہیں؟ حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپﷺ نے فرمایا:
(۱) تم اُس سے جوڑ کر رکھو جو تم سے توڑے۔
(۲) تم اسے محروم نہ کرو جو تمہیں محروم کرے یعنی نہ دے۔
(۳) جو تمہیں تکلیف پہنچائے تم اسے معاف کردو۔ (مسند احمد: 158/4)
یہ تینوں باتیں بہترین اخلاق میں سے ہیں۔ یہ سرورِ کونینﷺ نے بتایا ہے۔ اور پھر یہ عمل صرف ایک صحابی کو نہیں فرمایا، بلکہ جگہ جگہ ہر ہر صحابی کو فرمایا کرتے تھے۔
ایک اور صحابی حضرت معاذبن انس

سے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بہترین خصائل یہ ہیں:
(۱) تم توڑنے والوں سے جوڑ کر رکھو۔
(۲) جو تمہیں محروم کرے تم اسے نوازدیا کرو۔
(۳) جو تمہیں بُرا بھلا کہا کرے، گالی دے تم اس سے درگزر کیا کرو۔ (مسند احمد: 438/3)
اسی طرح حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ کیا میں تمہیں دنیا وآخرت کے بہترین اخلاق نہ بتلاؤں؟ لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! ضرور بتلائیے، کون سے اخلاق ہیں؟ نبی نےفرمایا:
(۱) جو تمہارے ساتھ قطع تعلقی رکھے تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
(۲) تم اُسے دیا کرو جو تمہیں محروم کرے۔
(۳) تم اسے معاف کر دو جو تم پر زیادتی کیا کرے۔ (درّ منثور: 711/6)
حضرت علیh سے روایت ہے کہ نبیd نے ارشاد فرمایا کہ اے علی! کیا میں تمہیں اوّلین و آخرین کے بہترین اخلاق نہ بتائوں؟ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! جی ہاں، ضرور بتلائیے۔ نبی نے فرمایا:
(۱)جو تمہیں محروم کرے تم اسے (محروم نہ کرنا، بلکہ) تم اسے دو۔
(۲) جو تم پر ظلم کرے، تم اسے معاف کردو۔
(۳) تم اس سے جوڑو جو تم سے توڑتا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
اس طرح بہت سے صحابۂ کرام کو نبیd نے یہی بات ارشاد فرمائی کہ دیکھو! دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لیے بہترین اخلاق اپنائو۔ اگر ہم حقوق کو پورا کریں گے، محبت کے ساتھ زندگی گزاریں گے تو نسل درنسل جوڑ کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ اور اگر ہم نبیd کی ان باتوں کو نہیں مانیں گے تو بجائے جوڑ کے توڑ پیدا ہوجائے گا، نفرتیں پیدا ہوں  گی، دوریاں پیدا ہوجائیں گی۔ اسی لیے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تمہارا اخلاقی فریضہ ہے کہ تم جوڑ اور رابطے کو پیدا کرو۔
حسنِ خُلُق کیا ہے؟
حضرت عبداللہ بن عمرi لوگوں سے پوچھا کرتے تھے کہ حُسنِ خلق کیا ہے؟ پھر فرماتے کہ لوگوں سے اچھے انداز سے ملنا، خندہ پیشانی سے ملنا، بھلائی کا معاملہ کرنا، تکلیف دہ اُمور سے لوگوں کو بچانا۔ لوگوں کی تکلیف سے بچنا یہ اصل نہیں، بلکہ لوگوں کو اپنی تکلیف سے بچانا ہے۔ یعنی اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے یہ اصل ہے۔
حافظ ابن حجر نے شرح صحیح بخاری میں حسنِ خلق کی تعریف میں ذکر کیا ہے کہ معاف کر دینا، درگز کر دینا، سخاوت کرنا، صبر کرنا، تحمل مزاجی کو اپنانا، لوگوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرنا، رحمت کا معاملہ کرنا، لوگوں کی ضروریات پوری کرنا، لوگوں سے محبت کا اور بھائی چارے کا برتائو کرنا، لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا یہ بہترین اخلاق ہیں۔ یہ وہ اخلاق ہیں جن کی وجہ سے جنت کی بڑی بڑی نعمتیں ملا کرتی ہیں۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، نرمی کا معاملہ کرنا یہ اخلاق میں سے ہے۔ پھر ایک جگہ یہ فرمایا کہ مختلف قسم کی طبیعتیں ہوتی ہیں، مختلف مزاج ہوتے ہیں۔ ہر بندے کی طبیعت اور مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے، اس کی رعایت کرتے ہوئے ان کے ساتھ خوشگواری کا برتائو کرنا یہ حُسنِ اخلاق میں سے ہے۔
حدیثِ عمرو بن عَبَسَہ
ایک صحابی حضرت عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ میں آقاﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ کی کن کن لوگوں نے اتباع کی ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا کہ آزاد لوگوں نے بھی کی ہے اور غلاموں نے بھی کی ہے یعنی تمام قسم کے لوگوں نے کی ہے۔ پھر میں نے پوچھا: یارسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: عمدہ کلام یعنی اچھی بات کرنا اور لوگوں کو کھانا کھلانا۔ پھر میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! ایمان کیا ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا: صبر کرنا اور درگزر کرنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام میں افضل ترین عمل کیا ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا: جس کے زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! افضل ایمان کیا ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ میں نے پوچھا: کون سی نماز افضل ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا: جس میں لمبا قیام ہو (لمبی لمبی رکعتیں پڑھنا)۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! بہترین ہجرت کون سی ہے؟ نبی نے فرمایا: بہترین ہجرت یہ ہے کہ تم ان چیزوں کو چھوڑ دو جو تمہارے ربّ کو ناپسند ہو۔ (آگے لمبی حدیث ہے) (مشکاۃ المصابیح: رقم 46)
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جب پوچھا گیا کہ افضل ترین عمل کیا ہے؟ تو نبی نے فرمایا کہ جس کے زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اب ہم غور کریں کہ کیا ہماری زبان سے ہمارے گھر والے محفوظ ہیں؟ ہمارے بچے محفوظ ہیں؟ ہمارے دوست محفوظ ہیں؟ یا ہمارے ہاتھ سے ہمارے ماتحت محفوظ ہیں؟ اگر یہ محفوظ ہیں توہم ایمان کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں۔ پھر ہمیں حُسن اخلاق پر ملے گا کیا؟ اللہ اکبر!اللہ ربّ العزّت بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں گے۔
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: جس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اگرچہ وہ غلطی پر تھا، اسے اللہ ربّ العزّت جنت میں محل بنا کر دیں گے جو کہ شروع میں ہوگا۔ اور جس نے جھگڑا ختم کر دیا باوجود اس بات پہ کہ وہ حق پر تھا (اور دوسرا اس پر ظلم کررہا تھا، اس کے حق کو کھارہا تھا) تو اللہ ربّ العزّت جنت کے بالکل بیچ میں ایک محل عطا فرمائیں گے۔ اور جس نے عمدہ اخلاق اختیار کیے اس کے لیے جنت کے بلند و بالا حصے میں محل بنایا جائے گا۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 4831)
عمدہ اخلاق پر جنت کی بہترین نعمتیں ملا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عطا فرمائے آمین۔
اَخلاق کی تقسیم
جس طرح رزق انسان میں تقسیم ہوتا ہے، اسی طرح اخلاق بھی تقسیم ہوتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرi سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اللہ ربّ العزّت نے تمہارے اخلاق تم میں اسی طرح تقسیم فرمائے ہیں جس طرح تمہارے درمیان رزق کو تقسیم کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ دنیا اسے بھی دیتے ہیں جسے پسند فرماتے ہیں، اور اسے بھی دیتے ہیں جسے پسند نہیں فرماتے، مگر ایمان صرف اسے دیتے ہیں جسے پسند فرماتے ہیں۔ (مستدرکِ حاکم)
جس طرح رزق ہم اللہ سے مانگتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی دعائوں میں اچھے اخلاق بھی اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ جنہیں اچھے اخلاق عطافرمادیتے ہیں جنت کے راستے اُن کے لیے آسان ہوجاتے ہیں۔
کمالِ ایمان اچھے اخلاق سے ہے
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آقاﷺ نے فرمایا: ایمان کے اعتبار سے کامل وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے بہترین ہے، اور تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہترین ہے۔ (سنن ترمذی: 1162)
اپنی بیوی پر، بچوں اور بچیوں پر شفقت و مہربان ہونا چاہیے۔ اکثر مرد حضرات بیویوں پر ظلم کرتے ہیں۔ معمولی معمولی بات پر ڈانٹ ڈپٹ کرنا، سخت سست کہنا اور اسے تکلیف پہنچانا یہ رویہ نبی کی سنت کے خلاف ہے۔ اور بعض لوگ اپنی ہی اولاد کے ساتھ بد اَخلاق ہوتے ہیں، اُن سے ہر وقت ناراضگی والی اور غصے والی باتیں کرتے ہیں اور غیروں کے لیے بڑے خوش اَخلاق ہوتے ہیں۔ اس بات کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔ بچوں سے محبت کرنا، پیار کرنا یہ نبی کی سنت ہے، اور دیگر انبیاء کی بھی سنت ہے اور اللہ والوں کے اَوصاف میں سے ہے۔ اب ذرا غور کرنے کی بات ہے کہ ہماری زندگی پر اچھے اخلاق کا کتنا فرق پڑتا ہے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ کی طویل روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کا حال بیان کیا جو گھٹنوں کے بل چل رہا تھا اور اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک حجاب حائل تھا۔ اس کے عمدہ اخلاق نے اس کا ہاتھ پکڑ کر یکدم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیا۔ (مجمع الزوائد: 179/7)
دنیا و آخرت کی بھلائی کیسے حاصل ہو؟
نبی نے حضرت اُمّ ِحبیبہ سے ارشاد فرمایا: اے اُمّ حبیبہ! حُسنِ اخلاق والے دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کریں گے۔ (معجم کبیر للطبرانی: 411/23)
دنیا میں یہ لوگوں کے نزدیک محبوب ہوں گے اور قیامت میں یہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوں گے، اللہ کے یہاں مقبول ہوں گے، اور نبی کے محبوب بھی ہوں گے، اور نبی سے قریب بھی ہوں گے۔ جن کے اخلاق اچھے ہیں دنیا میں لوگ ان سے باتیں کرتے ہیں، ان سے ملتے ہیں، ان کو اپنے پاس بٹھانا پسند کرتے ہیں۔
ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ اچھے اخلاق جنت کے اعمال میں سے ہیں۔ یعنی اچھے اخلاق والا ان شاءاللہ العزیز جنت میں پہنچے گا۔
دو بہترین عادتیں
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کی ملاقات حضرت ابوذر سے ہوئی تو نبی نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! کیا میں تمہیں دو پیاری باتیں نہ بتائوں، دو ایسی عادات کی نشاندہی نہ کروں جو کرنے میں آسان ہوں، لیکن قیامت والے دن دوسرے کے اعمال کی بہ نسبت ترازو میں بہت وزنی ہوں؟ حضرت ابوذر نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ضرور بتائیے۔ (نبی نے ارشاد فرمایا کہ وہ دوعادتیں یہ ہیں: (۱) حُسن اخلاق (۲) خاموشی) فرمایا کہ حُسن اخلاق اور خاموشی کو لازمی پکڑ لو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! ان دونوں سے بہتر کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انسان مُزین ہو۔ (مسند ابی یعلیٰ: رقم 3298)
یہ بہت جامع ترین اَوصاف ہیں۔ آج کے دور میں خاموش رہنا کتنا مشکل ہے حالاںکہ خاموش رہنے والا شخص بہت سی برائیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اُسے آخرت کی یاد کا موقع مل جاتا ہے۔ ایک اور حدیث میں جنت کے بلند و بالا درجات حاصل کرنے کا طریقہ آقاﷺ نے بتایا ہے۔
جنت کے درجات میں بلندی
حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتا دوں جس سے جنت میں تمہارے درجات بلند ہوجائیں؟ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ضرور بتائیے۔ نبی نے فرمایا:
(۱) تم اس کے ساتھ حلم کا معاملہ کرو جو تم سے جہالت کا معاملہ کرے، تمہارے مرتبے کی رعایت نہ کرے، تم سے تکلیف دہ باتیں کرے، تمہیں تکلیفیں پہنچائے۔
(۲) تم اس سے جوڑ پیدا کرو جو تم سے توڑے۔
(۳) تم اسے دو جو تمہارا حق نہ دے، جو تمہیں تمہارے حق سے محروم رکھے لیکن تم محروم نہ رکھنا۔
(۴) تم اُس سے درگزر کرو جو تم پر ظلم کرے۔ اگر تم نے یہ کام کرلیے تو جنت میں تمہارے درجات بلند ہوجائیں گے۔ (مجمع الزوائد: رقم 13695)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ کچھ لوگ ہوتے ہیں عبادت میں کمزور، اگر ان کے اَخلاق زیادہ ہوں تو آخرت میں اونچے درجات ان کو مل جائینگے۔
حضرت انس سے روایت ہے نبی نے فرمایا کہ آدمی اچھے اخلاق کی وجہ سے آخرت میں بلند مرتبے اور اچھے درجات کو پالیتا ہے حالاںکہ وہ عبادات میں کمزور ہوتا ہے۔ اور بداخلاقی کی وجہ سے جہنم میں نیچے تک چلا جاتا ہے حالاں کہ وہ عبادت گزار ہوتا ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی: رقم 754)
عبادت میں کمزور ہونے سے کیا مراد ہے؟ فقط فرائض پورے کرلیے، واجبات پورے کرلیے۔ بہت زیادہ نفل تو نہیں پڑھتا مگر نماز خشوع اور اہتمام سے پڑھتا ہے۔ بہت زیادہ مراقبے بھی نہیں کرتا لیکن اخلاق کے اندر وہ اتنا میٹھا ہے کہ ہر آدمی اس سے بات کرنا پسند کرتا ہے۔ ہر آدمی اس کے قریب ہونا پسند کرتا ہے۔ ان اخلاق کی وجہ سے وہ عبادت گزار لوگوں سے آگے چلا جاتا ہے۔ دوسروں کا خیال رکھتا ہے تو اس بندے کو اللہ ربّ العزّت جنت کے اعلیٰ درجات عطا فرمادیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح یہ بھی اسی حدیث میں ذکر کیا ہے کہ جہنم کے نیچے والے درجے کو انسان اپنی بداخلاقی کی وجہ سے حاصل کرلیتا ہے۔ جس کے اخلاق اچھے نہیں ہوتے اللہ ربّ العزّت اس کو جہنم میں بھیج دیتے ہیں اگرچہ وہ بڑی بڑی عبادتیں کرکے آیا ہو، بڑے اعمال کیے ہوں۔
جنید بغدادی کا قول
جنید بغدادیm فرماتے ہیں کہ چار خوبیاں ایسی ہیں، چار صفات ایسی ہیں جو انسان کو بہت ہی بلند و بالا درجات پر پہنچادیتی ہیں گو اس کا عمل کم ہو۔ یعنی صرف فرائض ہی پورے ہوں، بہت زیادہ عبادات نہ ہوں، بہت زیادہ دین کے لیے محنت نہ کی ہو۔ لیکن چار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کو اعلیٰ ترین مقام پر پہنچادیتی ہیں۔ غور کرنے والی بات ہے کہ وہ کون سی چار باتیں ہیں؟
1 تحمل مزاجی 2 سخاوت
3 تواضع اپنے آپ کو جھکا کررکھنا۔ 4 حُسنِ اخلاق
یہ چار باتیں جس کے اندر ہیں اس کو بلند و بالا درجات مل جایا کرتے ہیں۔
ایک بزرگ فرماتے تھے کہ کوئی شخص بلندی حاصل نہیں کرسکتا سوائے اچھے اخلاق کے۔
حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے ملا کرو گو اُن کے اعمال کی مخالفت کرو۔ مطلب یہ ہے کہ کسی سے ہمارا اختلاف ہے، اس کا عمل اور ہے ہمارا عمل اور ہے، اس کی سوچ اور ہے ہماری سوچ اور ہے، اس کا انداز اور ہے ہمارا انداز اور ہے، ان تمام اختلافات کے باوجود جب ہماری اس سے ملاقات ہو تو فرمایا کہ اچھے انداز سے ہی ملا کرو۔
جیسا کہ پہلے یہ بات ذکر کی کہ حضور نبی کریمﷺ نے ایک آدمی کا حال بیان کیا تھا کہ میری اُمت کا ایک شخص گھٹنے کے سہارے چلتا ہوا آیا، اس کے اور اللہ ربّ العزّت کے درمیان پردہ تھا۔ یعنی خدا سے دور تھا تو اُس کے حُسنِ اخلاق کی وجہ سے جو دنیا میں اختیار کیے ہوئے تھے، جنت میں داخل کردیا گیا۔
حسنِ اخلاق میں برکت
اللہ تعالیٰ نے حُسن اخلاق میں برکت ہی برکت رکھی ہے۔
حضرت اُمّ حبیبہ کی مختصر حدیث ابھی بیان کی۔ ذرا تفصیل اسے ذکر کرتے ہیں۔ فرماتی ہیں کہ نبی سے پوچھا گیا کہ ایک عورت ایسی ہے جس کے دو شوہر ہوں۔ مثال کے طور پر ایک عورت کی شادی ہوئی شوہر کا انتقال ہوگیا، اس نے دوسری شادی کرلی پھر اس کا بھی انتقال ہوگیا۔ پھر اس عورت کا بھی انتقال ہوگیا۔ تینوں نیک تھے، تینوں کا فیصلہ ہوگیا اور تینوں جنت میں پہنچ گئے۔ اب یہ عورت جس کے دنیا میں دو  شوہر ہوئے تھے یہ عورت جنت میں کس شوہر کے پاس رہے گی؟ یہ سوال پوچھا گیا تو نبی نے ارشاد فرمایا کہ جس کے اخلاق اچھے ہوں گے وہ اس کے پاس رہے گی۔ اور آگے نبی نے فرمایا: اے اُمّ حبیبہ! حُسنِ اخلاق والے دنیا بھی اچھی کرگئے اور آخرت کی بھلائیاں بھی ساتھ لے گئے۔ (معجم کبیر للطبرانی: 411/23)
کس قدر فضیلت کی بات ہے کہ حُسن اخلاق کی وجہ سے دنیا کی نعمتیں بھی انسان کو مل گئیں اور آخرت کی نعمتیں بھی انسان کو مل جائیں گی اور حُسن اخلاق کی وجہ سے بیوی بھی مل گئی اور آخرت کے درجات بھی بلند ہوگئے۔
اب آپ دیکھیں کہ کس قدر فضیلت ہے حُسنِ اخلاق کی۔ جو لوگ مصروف ہیں، مشغول ہیں، ان کو عبادات کا، ذکر کا، تلاوت کا، مراقبے کا اتنا موقع نہیں ملتا اور وہ اپنے وقت کو فارغ نہیں کرسکتے، وہ کیا کریں؟ اپنے معاملات میں، اپنے ملنے جلنے والوں میں، اپنے رشتے داروں میں، غرض جن جن سے ان کے روز مرّہ کے تعلقات دنیا میں ہوتے ہیں، ان سے نرمی سے ملیں، ان سے محبت سے ملیں، ان سے اخلاق سے پیش آئیں۔ اتنا آسان کام کرلیں تو جنت کے بڑےبڑے درجات حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ نبی نے فرمایا کہ قیامت کے دن مؤمن کے اعمال کے ترازو میں حُسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی عمل بھاری نہیں ہوگا۔ (سنن ترمذی: رقم 2002)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ نعمتیں عطافرمائے آمین۔
یہودی عالم کا مسلمان ہونا
آخر میں حسنِ اخلاق پر ایک واقعہ سن لیجیے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ نبی کریمﷺ کے اَخلاق کتنے بلند تھے۔ حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ مدینہ منوّرہ میں ایک یہودی عالم تھے زید بن سُعُنَّہ۔ انہوں نے نبیd کو دیکھا، ارشادات سنے۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہوا تھا کہ ایک نبی آنے والے ہیں۔ اپنے دل میں کہا کہ میں ساری چیزوں کو چیک کروں گا، نشانیوں کو دیکھوں گا، پھر کسی بات پر پہنچوں گا۔ اللہ کی شان کہ انہوں نے ساری نشانیوں کو دیکھ لیا، لیکن دو نشانیاں ایسی تھیں جو انہیں فوری طور پر نہ ملیں۔ (۱) نبی کا حلم اس کے جہل پر غالب ہوتا ہے۔ (۲) جتنا بھی نبی کے ساتھ جہالت کا معاملہ کیا جائے تو نبی کا حلم اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ نبی کریمﷺ کے اخلاق، برداشت، اورحلم کو کھلی آنکھوں دیکھنا چاہتا تھے۔ کسی کو چیک کرنے کے لیے نماز روزہ نہیں دیکھا جاتا، مسجد میں آنا جانا نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اس کے معاملات کو دیکھا جاتا ہے۔ اخلاق کے اعتبار سے انسان پر کھاجاتا ہے۔
زید بن سعنّہ کہتے ہیں کہ میں اس موقع کی تلاش میں تھا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ نبی چند صحابہ کے ساتھ تھے اور میں نبی کے قریب ہی تھا۔ دور سے ایک صاحب آئے اور انہوں نے نبی کہا کہ میں فلاں علاقے سے آیا ہوں۔ وہاں غربت ہے، لوگ پریشان ہیں، تکلیف میں ہیں، ڈر ہے کہ کہیں اسلام ہی سے نکل جائیں۔ اگر آپ ان کی مالی مدد فرمائیں تو ان کے لیے آسانی ہوجائے گی۔ نبی نے بات سنی تو فرمایا کہ اس وقت تو میرے پاس دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ زید بن سعنّہ کہتے ہیں کہ میں نے سوچ لیا کہ یہی موقع ہے۔ چناںچہ میں نے قریب ہو کر کہا: اے محمد! (یہود سرکارِ دو عالمﷺ کو ایسے ہی مخاطب کیا کرتے تھے) اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی مدد کر دیتا ہوں۔ اس کے بدلے آپ مجھے فلاں باغ کی کھجوریں اتنی مدت میں دے دینا۔ نبی نے فرمایا: نہیں، اے یہودی! اتنی مدت میں نہیں، بلکہ اتنی مدت میں دیں گے اور باغ متعین نہیں ہوگا۔ (حضور پاکﷺ نے ایک خاص مدت کا ذکر کیا اور باغ کا عموم فرمایا) چناںچہ اس سے بات طے ہوگئی۔ زید بن سعنّہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ رقم نبی کے حوالے کردی۔ نبی نے وہ رقم لی اور آنے والے صاحب کودے دی اور وہ صاحب اسے لے کر واپس چلے گئے کہ اپنے علاقے والوں کی مدد کریں۔
زید بن سعنّہ کہتے ہیں کہ ٹائم پورا ہونے سے دو، تین دن قبل میں آیا۔ میں نے دیکھا کہ نبی کے پاس حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور چند صحابہ موجود ہیں۔ میں نبی کے اخلاق کو دیکھنا تھا کہ ان کے اخلاق کیسے ہیں؟ ان کا قول اور فعل کیسا ہے؟ کہتے ہیں کہ میں نے آتے ہی نبی کے لباس، قمیص کو پکڑلیا اور عجیب انداز سے غصہ میں کہا: اے عبدالمطلب کی اولاد! (یہ دیکھیں کہ باپ دادا کے طعنے دیے جا رہے ہیں) آپ اپنا وعدہ پورا کریں۔ خدا کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ تم بنو عبدالمطلب والے ٹال مٹول کرتے ہو۔ زید بن سعنّہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کے چہرے کو دیکھا، اتنی سخت کلامی کے بعد بھی نبی کا چہرہ نارمل تھا، آپﷺ مسکرارہے تھے۔ پھر میں نے حضرت عمر کے چہرے کو دیکھا تو ان کا چہرہ غصے کی وجہ سے سُرخ ہو رہا تھا۔ غصے کی شدت سے مجھے دیکھنے لگے اور کہا: اے اللہ کے دشمن! تم اللہ کے رسولﷺ سے اس لہجے میں بات کر رہے ہو جو میں سن رہا ہوں۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے حق کے فوت ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا، تمہیں قتل کردیتا۔
یہاں غور کریں کہ فاروق اعظم کو غصہ تو ان پر بہت تھا کہ انہوں نے اللہ کے نبی کی گستاخی کی، بے ادبی سے بات کی، لیکن اس غصے کے عالم میں بھی کتنا خیال تھا دوسرے کے حق کا کہ اس کو کہا کہ تیرا حق ادا کرنے کا مسئلہ نہ ہوتا تو تمہیں میں سبق سکھا دیتا۔
نبی نے حضرت عمرفاروق کو جب ایسے دیکھا تو نبی نے بہت ہی تحمل مزاجی کے ساتھ، نرمی کےساتھ حضرت عمر سے فرمایا: اے عمر! چاہیے تو یہ تھا کہ تم اس سے اور انداز سے بات کرتے، اس کو سمجھاتے کہ تم نبی سے تقاضا کرو لیکن نرمی سے کرو، اور تم مجھے سمجھاتے کہ آپ ان کا حق ادا کریں۔ اللہ اکبر کبیرا!
نبی کے اخلاق کو دیکھیے کہ نبی اپنے شاگرد اور سسر سے فرمارہے ہیں کہ اے عمر! تمہیں چاہیے تھا کہ تم مجھے سمجھاتے کہ حق مانگنے والوں کا حق ادا کر دیا کریں۔
اس کے بعد نبی نے فرمایا: اے عمر! فلاں باغ سے ہم نے اتنی کھجوریں اس کی دینی ہیں وہ جا کر ادا کر دو، ہمارا وعدہ پورا ہوجائے گا۔ لیکن جب جائو گے تو اس کو اتنا زیادہ دے دینا۔ یعنی نبی نے ایک مقدار بتائی کہ اتنی خاص مقدار اس کو تم نے زیادہ دینی ہے، وہ اس وجہ سے کہ تم نے اس کے ساتھ سختی کی، ان کو اپنی زبان سے تکلیف پہنچائی۔ زید بن سعنّہ کہتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ گیا تو میرا جو حق تھا، جو میرا مال تھا مجھے وہ بھی مل گیا اور مزید کچھ زیادہ بھی ملا۔ جب میں نے اس عمل کو دیکھ لیا اور نبیd کے مبارک اخلاق کو دیکھ لیاتو میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔
(ابن حبان: 521/1)
ذرا غور کریں! نبی کریمﷺ کے اخلاق ایسے تھے کہ یہودی کافر جو دشمن ہوتے تھے وہ بھی نبی کے اخلاق کی وجہ سے، محبت کی وجہ سے، تحمل مزاجی کی وجہ سے آقاﷺ کے غلاموں میں شامل ہوجایا کرتے تھے۔ اور آج ہمارے اخلاق ایسے ہیں کہ ہمارے ہی گھر والے اور قریبی لوگ ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں۔ ہم تو اُن کو بھی اپنا نہ بناسکے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اچھے اخلاق کی توفیق عطافرمائے تاکہ قیامت کے دن جنت کے بڑے بڑے درجات کا حصول ہمارے لیے آسان ہوجائے۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply