محرّم الحرام حصہ اول

محرّم الحرام حصہ اول

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰہِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط (التوبۃ: 36)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

خلاصۂ بیان
آج 29 ذوالحجہ ہے 1437 ہجری سال ہے۔ آج جو بات کرنی ہے وہ محرّم الحرام کے حوالے سے ہے۔ ا س میں تین باتیں ہیں:
پہلی بات: تقویمِ ہجری یعنی ہجری کیلنڈر کیا ہے؟ ہم عیسوی سال بھی دیکھتے ہیں یعنی جنوری، فروری، مارچ وغیرہ۔ اسلامی سال بھی دیکھتے ہیں جو محرّم سے شروع ہوتا ہے، پھر صفر المظفّر، پھر ربیع الاوّل وغیرہ۔ اور بکرمی سال کا کیلنڈر دونوں سے مختلف ہوتا ہے۔
دوسری بات: محرّم الحرام کے مہینے کی اللہ کے یہاں کیا حرمت اور عزّت ہے؟
تیسری بات: دسویں محرّم کے دن کی کیا فضیلت ہے اور کب سے ہے؟
ان سب کی وضاحت پیش کی جائے گی اِن شاء اللہ۔
محاسبہ نفس
لیکن ان سب باتوں کے بیان سے پہلے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سال یعنی چودہ سو سینتیس کے ختم ہونے میں چند گھنٹے رہ گئے ہیں۔ ہم یہ سوچیں کہ کیا اس سال میں ہم اپنے اللہ کو راضی کرپائے ہیں؟ ایک سال ہماری زندگی کا اور ختم ہونے والا ہے تو کیا اس میں ہم نے اللہ کو راضی کرلیا ہے؟ اگر نہیں کیا تو توبہ کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر کریں کہ ہماری زندگی سے ایک سال اور ختم ہو گیا اور ہم اپنی موت کے اور قریب ہوگئے۔ اب نیا سال شروع ہونے والا ہے تو اس میں ہم نیت اور ارادہ کریں کہ اے اللہ! اس آنے والے سال کو ہم پہلے سے بہتر گزاریں گے۔ اعمال کے حساب سے بھی، اَخلاق کے حساب سے بھی ہم پہلے سے بہتر گزاریں گے۔
نیکیوں کے لیے ٹارگٹ بنائیں
ہم دنیا کے اندر اپنے کچھ اچھے اچھے ٹارگٹ بنائیں۔ جیسے Companies جب کاروبار کرتی ہیں تو ہر سال ختم ہونے پر بتاتی ہیں کہ اس سال ان کی کارکردگی کیا رہی۔ اور اگلے سال کا جو ٹارگٹ وہ دیتی ہیں، وہ پہلے سے زیادہ ہوتا ہے۔ ہم بھی اپنے اگلے سال کے لیے نیکیوں کے ٹارگٹ پہلے سے زیادہ بنائیں۔ اب دنیا کا وقت اور کم ہو گیا ہے۔ جو وقت ہم لے کر آئے تھے وہ اور کم ہوتا چلا جارہا ہے۔ روز ایک دن کم ہورہا ہے، لہٰذا اور زیادہ فکر کی ضرورت ہے۔ جیسے کرکٹ کے اندر Runsزیادہ باقی ہوں اور Over کم رہ جائیں تو انسان کو ذرا محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ ہماری زندگی کے Over میں بھی یہ ایک Over اور کم ہو گیا۔ سال کو Over گن لیں۔ آج کل کے نوجوانوں کو یہ ہی Language سمجھ آتی ہے، تو سمجھ لیں کہ ایک Over اور گزر گیا۔ اور یہاں تو ایک ہی Chance ملتا ہے، دوبارہ والا معاملہ نہیں ہے۔ ہم غور کریں کہ ابھی تک ہم نے اللہ کو راضی کر لیا ہے کہ نہیں، ہمارے دلوں میں سکون آیا ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں آیا تو پھر محنت کی ضرورت ہے، بہت محنت کی ضرورت ہے۔
بِھیڑ لگانا مقصد نہیں
دیکھیے! اس مجلس میں بھیڑ لگانا مقصد نہیں ہے الحمدللہ! ہمارے یہاں ایسے کئی لوگ ہیں جو بھیڑ لگا لیتے ہیں۔ بھیڑ تو مداری بھی لگا لیتے ہیں۔ بازاروں میں بھیڑ لگانی ہو تو ایسے حربے بندہ استعمال کرسکتا ہے کہ بھیڑ لگ جائے، لیکن یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے اندر دین کو لے آئیں، نبی کریم کی سنت کو لے آئیں۔ ایسے چند لوگ بھی تیار ہو گئے تو ان شاء اللہ موت کا سفر آسان ہو جائے گا۔ ہم اس طرح پورے سال کا اپنا احتساب خود کریں۔ اللہ تعالیٰ نے تو پوچھنا ہے کہ 1437کا سال کیسے گزارا؟ ایک ایک دن کا سوال ہو گا ہم ابھی سے اس کا اہتمام کریں۔ ایک بات تو یہ تھی۔
تقویم، کیلنڈر اور جنتری
اِسلامی نقطہ نظر سے محرّم الحرام کا مہینہ، یہ قمری سال کا پہلا مہینہ ہے۔ محرّم کے مہینے سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اور دینِ اسلام کے جتنے بھی احکامات ہیں وہ اکثر وبیشتر قمری تاریخ کے حساب سے ہی چل رہے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہم بات کرتے ہیں نظامِ تاریخ کی، جسے ہم کیلنڈر کہتے ہیں۔ یہ کیلنڈر کیا ہے؟ سال کے دنوں، ہفتوں اور مہینوں کو صحیح اندازے اور صحیح مقدار کے ساتھ تقسیم کرنے کو اُردو بول چال میں نظامُ الاوقات کہتے ہیں۔ اسے عربی میں تقویم، انگریزی میں کیلنڈر، اور ہندی میں جنتری کہا جاتا ہے۔ اس تقویم کے ذریعے سے دن اور وقت کو معلوم کرنے کا نام تاریخ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ وقت معلوم کرنا یہ تاریخ ہے۔ اور تاریخ کا ذریعہ یہ کیلنڈر یا تقویم یا نظامُ الاوقات ہے۔ ماضی کے معاملات یاد رکھنے ہوں یا مستقبل کی کوئی تاریخیں طے کرنی ہوں، شادی بیاہ کی تاریخ طے کرنی ہے، یا سفر کی تاریخ طے کرنی ہے تو انسان کو تاریخی نظام کی شدید ترین ضرورت ہے، اس کے بغیر یہ سارے معاملات ہو ہی نہیں سکتے۔ یہ ضرورت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی مستقل تاریخی نظام ہو۔
تین طرح کے نظام
چناںچہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دنیا کے اندر کئی تاریخی نظام ابھی بھی چل رہے ہیں اور ان کا بنیادی مدار تین چیزوں پر ہے:
(۱) سورج (۲) چاند (۳) ستارے۔
شمسی سورج سے چلنے والا نظام، قمری چاند سے چلنے والا نظام، اور نجومی ستاروں سے چلنے والا نظام۔ پھر شمسی تاریخ کے اعتبار سے ہمارے یہاں عیسوی کیلنڈر رائج ہے، اسے عربی میں میلادی کہتے ہیں۔ دوسرا نظام بکرمی کلینڈر کا ہے، اس کو ہندو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے متعلق کسی خاص تفصیل کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا جو ہمارے یہاں مروّج ہے اسی کی بات کر لیتے ہیں۔ تو عیسوی کلینڈر جنوری سے شروع ہو کر دسمبر میں ختم ہوتا ہے، اس میں بارہ مہینے ہیں۔
عیسوی مہینوں کی وجہ تسمیہ
انسائیکلوپیڈیا اور برٹانیکا Baritannica کے اندر ان بارہ مہینوں کی جو تفصیل لکھی ہے اور ان ناموں کا مطلب لکھا ہے وہ یہ ہے:
(1) جنوری: یہ جانوس سے لیا گیا ہے یہ ایک دیوتا کا نام ہے۔ رومی لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ایسے چہرے والا ہے کہ آگے بھی دیکھتا ہے اور پیچھے بھی دیکھتا ہے تو نسبت دیوتا کی طرف ہو رہی ہے، غیراللہ کی طرف ہورہی ہے۔
(2) فروری: یہ فیبروا Febrva ایک دیوی ہے جس کو وہ پاکیزہ اور مقدّس مانتے تھے، پاکدامن مانتے تھے، اور مقام دیتے تھے۔
(3) مارچ: یہ مارس Mars سے لیا گیا ہے جو رومیوں کے نزدیک جنگ کا دیوتا تھا۔
(4) اَپریل: یہ ابریری Abrery سے لیا گیا ہے، اس کے معنی پھولنے کے ہیں، کِھلنے کے ہیں کہ بہار کا موسم ہوتا ہے اور پھول کِھلتے ہیں۔
(5) مئی: یہ میا Maia یا میّا Mayya سے لیا گیا ہے جو افسانوی شیطان ایٹلس کی بیٹیوں میں سے ایک کا نام ہے۔
(6) جون: یہ ینون سے لیا گیا ہے جو دیویوں کے سردار جُپیٹر Jupiter کی بیوی تھی۔
(7) جولائی: کیلنڈر کے بانی جولیس قیصر Julius Ceaser کی یادگار کے طور پر اس مہینے کا نام جولائی رکھ دیا گیا۔
(8) اگست: یہ آٹھواں مہینہ کہلاتا ہے۔ رومیوں کے بادشاہ جولیس قیصر Julius Ceaser کے جانشین Augustus کی یادگار کی بنیاد کے اوپر اس کا نام اس کی نسبت سے رکھ دیا گیا۔
(9) ستمبر: لاطینی زبان کے مطابق اس کا ترجمہ بنتا ہے ساتواں مہینہ۔ قبلِ مسیح لوگ مارچ سے سال شروع کرتے تھے تو اُن کے حساب سے یہ ساتواں مہینہ بنتا تھا، بعد میں تبدیلی آگئی اور جنوری سے سال شروع کرنے لگ گئے۔ تو ستمبر کا مطلب ہے ساتواں مہینہ۔
(10) اکتوبر کا مطلب ہے آٹھواں مہینہ۔
(11) نومبر کا مطلب ہے نواں مہینہ۔
(12) دسمبر کا مطلب ہے دسواں مہینہ۔
یہ بارہ نام ہیں جو انگریزی مہینوں کے رکھے گئے۔ ان سب کی نسبت آپ دیکھیں کہ دین کی نسبت سے نہیں، اللہ کی نسبت سے نہیں، غیراللہ کی نسبت سے یہ نام ہیں۔
قمری مہینوں کے نام
تیسرا نظام قمری سال کے اعتبار سے ہے جس کا تعلق چاند کے گھٹنے بڑھنے سے ہے۔ اس کے نام کونسے ہیں؟ یہ نام ہر مسلمان کو یاد ہونے چاہیے۔ محرّم الحرام سے یہ سال شروع ہوتا ہے:
(1) محرّم (2) صفر (3) ربیع الاول (4) ربیع الثانی (5) جُمادَی الاولیٰ
(6) جُمادَی الاُخریٰ (7) رجب (8) شعبان (9) رمضان (10) شوّال
(11) ذی قعدہ (12) ذی الحجہ۔
یہ بارہ مہینے ہیں۔ اور ان بارہ مہینوں کے نام یاد رکھنا اچھی بات ہے۔ اسلامی اور قمری سال تو محرّم الحرام سے شروع ہوتا ہے، اس کی تفصیل ابھی ذکر ہوگی اِن شاء اللہ۔
بکرمی تقویم
رہی بات بکرمی سال کی ابتدا کی تو اس کی نسبت راجہ بکر م اجیت کی طرف کی جاتی ہے جب اس کی تاج پوشی ہوئی تھی، وہیں سے یہ سال شروع ہوا۔ اسے دیسی سال یا جنتری بھی کہتے ہیں۔
حضورﷺ کی ہجرت
اور مسلمان اسلامی سال کو ہجرت سے منسوب کرتے ہیں۔ حضور پاکﷺ کی ہجرت کی نسبت سے ہجری سال نام طے ہوا۔
قمری نظام اور دیگر میں فرق
ایک سوال یہ ہے کہ قمری نظام اور دوسرے نظام میں کیا فرق ہے؟ اس سلسلے میں علماء نے مختلف باتیں لکھی ہیں۔ یہ باتیں کبھی کبھی ہوتی ہیں، ذہن میں ہونی چاہیے۔
قمری سال خالصتاً اللہ رب العزت کا بنایا ہوا نظام ہے۔ یہ فطری نظام ہے۔ انسانوں کا گھڑا ہو، بنایا ہوا نہیں ہے۔ اس میں انسانی عقل کا کوئی دخل نہیں۔ جس دن اللہ ربّ العزّت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا، اس دن جو قانون بنایا تھا قمری اعتبار سے یہ وہ قانون ہے۔ اور اس وقت موجودہ قمری مہینے ذی الحجہ کی آج 29 ویں تاریخ ہے جو 100 فیصد سچی اور پکی بات ہے، اس میں کوئی شک، کوئی شبہ نہیں۔ آج کل لوگ پریشان ہوجاتے ہیں کہ رؤیتِ ہلال کمیٹی کو کبھی چاند نظر آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا، یا یہ لوگ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان کی مرضی کوئی نہیں ہے۔ یہ اللہ ربّ العزّت کا بنایا ہوا نظام ہے۔ مرضی تو لوگ اس وقت کرتے تھے جب نبی کریمﷺ  کے اظہارِ نبوت سے پہلے مشرکین مہینوں کو آگے پیچھے کر دیا کرتے تھے۔ محرم کا مہینہ آرہا ہے، یا حج کا مہینہ آرہا ہے تو وہ اپنی کسی ضرورت کے تحت کہتے تھے کہ اس سال محرّم بعد میں آئے گا، صفر پہلے آئے گا۔ اس وقت جو بھی معاملہ تھا، بہرحال اب کوئی ایسا معاملہ نہیں۔ اور وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔
اَشہرِ حُرُم اور قتال
ایک وجہ تو یہ ہے کہ سال کے چار مہینے بڑی عزّت اور حرمت والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں ان چار مہینوں کو اشہرِ حرم فرمایا ہے۔ ان چار مہینوں میں لڑنے کی ممانعت تھی، قتال کی ممانعت تھی، عرب لڑائی نہیں کرسکتے تھے جبکہ عربوں میں لڑنا ان کی گٹھی میں بسا ہوا تھا۔ لڑے بغیر ان کا معاملہ چلتا ہی نہیں تھا۔ ایسی ایسی باتوں پر آپس میں لڑائی ہوجاتی تھی کہ انسان حیران ہوتا ہے۔ دو آدمی بیٹھے ہوئے ہیں، دونوں کے الگ الگ باغ ہیں۔ دونوں ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک کے باغ سے چڑیا اُڑ کر دوسرے کے باغ میں جاکر بیٹھ گئی۔ بس اسی بات پر لڑائی ہو گئی کہ میرے باغ سے چڑیا تیرے باغ میں کیسے چلی گئی، یا تیرے باغ سے میرے باغ میں کیسے آگئی۔ اب لڑائی شروع ہو گئی۔ اسی طرح ایک لڑائی دس سال تک دو قبیلوں کے درمیان جاری رہی اور بہت ہی معمولی بات پر۔ وہ کیا بات تھی؟ ایک سردار قسم کے آدمی نے اپنی ٹانگ پھیلا دی اور کہا کہ کوئی مجھ سے بڑا سردار ہے تو اس پر وار کر کے دکھائے؟ دوسرے نے تلوار لی اور اس کی ٹانگ کاٹ دی۔ اسی بات پر سینکڑوں افراد قتل ہوگئے۔ اللہ اکبر!
تو ان چار مہینوں میں لڑائی کی ممانعت تھی اور اس کا احترام عرب کرتے تھے۔ اب تین مہینے تو اکٹھے تھے: ذ یقعدہ، ذی الحجہ اور محرّم، جبکہ رجب الگ تھا۔ اب جب لڑائی کے بغیر ان کے تین مہینے گزر جاتے تھے تو پریشانی ہوتی تھی کہ بھئی تیسرا مہینہ کیسے گزاریں۔ تو وہ آپس میں طے کرلیتے تھے کہ اس دفعہ محرّم کو لیٹ کر د یتے ہیں تاکہ آسانی سے لڑائی کر سکیں۔ ابھی صفر شروع ہو جائے ہم لڑ بھڑ لیں گے اور اس کے بعد دوبارہ محرّم آجائے گا پھر بیٹھ جائیں گے۔
اعلانِ حجۃ الوداع
اور آج جیسے کہ 29 ذی الحجہ ہے تو یہ یقینی بات ہے کہ 29 ذی الحجہ ہی ہے۔ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا:
إن الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق اللّٰه السماوات والأرض.
(صحیح البخاري: رقم 4662)
اس حدیث شریف کا خلاصہ یہ ہے کہ اب قریش کا وہ معاملہ ختم ہو گیا اور اسلامی تقویم اپنے اسی طرز پر آگئی جب اللہ نے اس زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ اور پھر اس وقت سے لے کر آج تک اُمتِ مسلمہ اس کی محافظ ہے۔ رمضان ہمیشہ رمضان میں ہوا، عید ہمیشہ عید میں ہوئی۔ ہر چیز اپنے موقع پر ہوئی۔ اسی لیے یہ یقینی طور پر کامل نظام ہے جس کے اندر اللہ کی ترتیب باقی ہے۔ اب جو عیسوی نظام ہے اس میں ان ہی کی تاریخ کے مطابق کئی ترمیمیں ہو چکی ہیں۔ آٹھ (8) عیسوی میں ہوئی، 799 عیسوی میں ہوئی، 1477 میں ہوئی، 1582 میں ہوئی۔ کبھی ان کا مہینہ 20 دن کا ہوتا تھا، کبھی ان کا سال 14 مہینہ کا بھی ہوا، اور کبھی کچھ، کبھی کچھ۔ تو مختلف ترتیبات یہ لوگ چلاتے رہے، ایسی صورت میں ان کی تاریخ کا کیا اِعتبار ہے۔
فطرتی نظام
ایک اور بات کہ اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس نے جو تاریخی نظام دیا یہ بھی فطرت کے مطابق ہی دیا۔ انسان کی جو روز مرّہ کی ضروریات ہیں، اللہ ربّ العزّت نے چاند کا نظام ایسی خاص ترتیب پر بنا دیا کہ ہر انسان ہر علاقے میں چاند کو دیکھ کر تاریخ کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ شروع میں یہ مغرب کی طرف آپ کو بہت پتلا نظر آئے گا، یہ ابتدائی تاریخیں ہوں گی۔ پھر چودھویں رات کو کوئی بھی دیکھے، اَن پڑھ دیکھے، پڑھا لکھا دیکھے، چھوٹا دیکھے، بڑا دیکھے، شہر والا دیکھے یا دور دراز کسی علاقوں میں یا پہاڑوں میں، جنگلوں میں رہنے والا دیکھے، اس کو چودہویں رات کا چاند چودہویں ہی کا نظر آئے گا تو تاریخ کا اندازہ ہو جائے گا۔ پھر وہ گھٹنا شروع ہوگا اپنی ترتیب کے مطابق تو معلوم ہو جائے گا۔ پھر وہ غائب ہو جائے گا تو بھی معلوم ہو جائے گا۔ اب پھر نیا مہینہ شروع ہونا ہے تو اسی طرح یہ نظام چلتا رہتا ہے۔ بغیر کیلنڈر کے، بغیر کسی چیز کے دنیا کا ہر شخص اس تاریخ کا اندازہ کر سکتا ہے یہ فطرت ہے۔ فطرت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہے۔
دوسری طرف عیسوی سال کو اگر ہم دیکھیں تو آپ اس کا اندازہ بغیر پوچھے، بغیر کیلنڈر دیکھے نہیں لگا سکتے۔ ایک آدمی جنگلوں میں ہے، سمندر میں جارہا ہے اور راستہ بھول گیا تو اس کے پاس تاریخ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ جیسے Navy والے تو آج تک چاند کی تاریخ کا حساب رکھتے ہیں اور قیامت تک رکھتے رہیں گے اس کے بغیر ان کا کام نہیں ہوگا۔ تو یہ قمری نظام ایسا ہے جو عین فطرت کے مطابق ہے۔ جنگل میں رہنے والا جس کو کوئی میڈیا نہیں پہنچا، اس کے پاس ذرائع ابلاغ کا کوئی ذریعہ نہیں، وہ بھی اندازہ کرسکتا ہے کہ مہینہ ختم ہورہا ہے، یا مہینہ درمیان میں ہے۔
قمری تاریخ پر حضراتِ انبیائے کرامf کا عمل
قمری نظام پہلے انبیائے کرام کی شریعتوں میں بھی رائج رہا۔ انبیاء کا نظام اس کے مطابق رہا۔ چناںچہ باقی کسی بھی نظام کے بارے میں کوئی شخص دعویٰ نہیں کرسکتا کہ کسی نبی نے اس کو اختیار کیا ہو۔
پہلے رات پھر دن
قمری مہینہ چاند کے نکلتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ رات پہلے آتی ہے اور دن بعد میں آتا ہے۔ جیسے رمضان کے لیے چاند کا جب اعلان ہوجاتا ہے، تو ہم فوری طور پر عشاء کی نماز کے بعد تراویح شروع کر دیتے ہیں، اور دن میں روزہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح عید کی رات چاند رات کہلاتی ہے۔ یہاں یہ ترتیب ہے کہ رات پہلے ہے، دن بعد میں ہے۔ اور جیسے شبِ جمعہ۔ جمعہ کی جو برکتیں ہیں وہ جمعرات کے دن غروبِ آفتاب کے بعد شروع ہو جاتی ہیں۔ سورۃُ الکہف آپ نے پڑھنی ہے اس وقت پڑھ سکتے ہیں۔
شرک و بدعت سے پاک
پھر قمری مہینوں کے جو نام ہیں یہ اللہ ربّ العزّت نے رکھے ہیں۔ مہینے تو سارے ہی اللہ کے ہیں، لیکن ان چار مہینوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بہت ہی قوی ہے۔ قمری مہینوں کے ناموں میں کسی کو شریک، یا رسم و رواج، یا بدعت کا تصور بھی نہیں۔ اسلامی سن کا آغاز کس واقعہ سے ہورہا ہے؟ حضور پاکﷺ کی ہجرت سے ہورہا ہے۔ اس کے برخلاف جو باقی مہینے ہیں عیسوی مہینے، بکرمی مہینے اور بھی جو ہیں اُن کی نسبت کسی بادشاہ کی طرف ہوگی، یا کسی دیوتا کی طرف ہوگی، کسی دیوی کی طرف ہوگی، یا شیطان سے تعلق ہوگا۔ لیکن قمری نسبتیں جو بھی ہیں اس میں شرک، بدعت، رسوم ورواج، غیراللہ کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ صاف ستھرے ہیں، پاکیزہ ہیں اور منوّر ہیں۔
عبودیت کا اِظہار
اسی طرح قمری نظام کے اندر اللہ ربّ العزّت نے جو رمضان، عید الفطر اور حج اور عید الاضحی کا معاملہ رکھا ہے، یہ بڑا پیارا معاملہ ہے، اور بہت ہی مزیدار ہے۔ اگر یہ سورج کے حساب سے ہوتا تو یکسانیت ہوتی کہ ہر دفعہ دسمبر میں ہی روزہ رکھنا ہے۔ اب ساری زندگی دسمبر میں ہی رمضان ہوتا، ایک ہی Attraction ہی ختم ہوجاتی۔ پھر کہیں دسمبر میں 12 گھنٹے کا دن ہے تو گرمی ہے، اور کہیں دن چھوٹا ہے تو سردی ہے۔ پوری دنیا کے اندر مختلف ہے۔ اب افریقہ کے اندر دسمبر میں گرمی ہوتی ہے اور جون، جولائی میں سردی ہوتی ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے قمری نظام رکھا کہ ہر سال 10 دن نیچے آرہا ہے، تو کبھی رمضان المبارک کا مہینہ دسمبر میں آئے گا اور کبھی جون میں آئے گا۔ Change ہوتا رہے گا۔ ہر ملک کے بندے کو گرمی میں بھی عبادت کرنی ہوگی، سردی میں بھی عبادت کرنی ہوگی۔ اس میں عبودیت کا اظہار بھی زیادہ ہوگا کہ اللہ! اگر گرمی میں رمضان آیا تو میں روزہ رکھنے کے لیے تیار ہوں، سردی میں آیا تو بھی میں روزہ رکھنے کے لیے تیار ہوں۔ چھوٹا روزہ ہے تو تیار، بڑا دن ہے تو بھی تیار۔
چاند کا انتظار
ہر موسم میں بندے کو عادی بنایا جارہا ہے، Training دی جارہی ہے کہ دیکھو! تم نے ہماری مان کے چلنا ہے۔ تمہیں ان نظاموں سے کیا لینا دینا! تمہیں تو ہماری بات کو ماننا ہے۔ تو یہ اس کے اندر کچھ مزے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جوقمری نظام سے اسلامی تہوار آتے ہیں تو مسلمانوں کے دلوں میں ایک انتظار کی کیفیت ہوتی ہے اس کی لذّت کچھ اور ہوتی ہے۔ اب عیسائی لوگ جو پچیس دسمبر کو ایسٹر Eester مناتے ہیں، تو اِنتظار کی وہ کیفیت اور شدّت ہو ہی نہیں سکتی۔ آپ جائیں کسی سے پوچھ لیجیے گا۔ اور اپنے دلوں سے اس کا سوال خود ہی لے لیں، بچوں سے پوچھ لیں۔ آج 27 دن گزر گئے، آج 28 دن گزر گئے، چاند کب دیکھنا ہے؟ بھئی! چاند تو 29 کو دیکھیں گے۔ اب رؤیتِ ہلال کمیٹی بیٹھی ہوئی ہے اور انتظار ہو رہا ہے کہ کیا اعلان ہوتا ہے؟ وہاں سے اعلان ہو جائے کہ عید ہے تو ایک دم دلوں کے اندر خوشی آجاتی ہے، اور اگر یہ اعلان ہو کہ چاند دکھائی نہیں دیا یا چاند نہیں نکلا اور اب کل کا روزہ رکھنا ہے تو ہم دل کی خوشی سے روزہ رکھنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔ لیکن ایک عجیب سی خوشی اور تعلق جڑا رہتا ہے وہ یکسانیت نہیں ہوتی۔ یکسانیت سے انسان بیزار ہوجاتا ہے۔ تو اللہ ربّ العزّت نے مسلمانوں کو قمری نظام کے اعتبار سے ایسی چیز دی ہوئی ہے کہ جو خوشی والی کیفیت اس میں ہے، یہ کسی اور نظام میں ہو ہی نہیں سکتی۔
زکوٰۃکی ادائیگی قمری اعتبار سے کیجیے
پھر قمری نظامِ تاریخ پر اِسلام کے اکثر احکامات کا مدار ہے۔ رمضان مبارک کی ابتدا اور انتہا، عید الفطر، عید الاضحی، ایامِ تشریق اور زکوٰۃ کا وجوب وغیرہ۔ ہم میں سے اکثر لوگ حساب کرتے ہیں 30 جون کو اور بعض کرتے ہیں دسمبر کو، عیسوی تاریخ سے زکوٰۃ کا حساب جوڑنا یہ ٹھیک نہیں ہے، کیوںکہ عیسوی سال میں 365 دن ہوتے ہیں، اور قمری اعتبار سے تقریباً 355 دن ہوتے ہیں۔ دونوں میں دس دن کا فرق آجاتا ہے۔ اور مستحقِ زکوٰۃ کا فائدہ اس میں ہے کہ اسے جلد اس کا حق مل جائے تاکہ وہ اپنی ضرورت پوری کر سکے۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح وہ عورت جس کا شوہر انتقال کر چکا ہو، اس کی عدّت کا معاملہ بھی قمری اعتبار سے ہے۔ بچے کا بالغ ہونا، قربانی کے جانور کی مدّت یہ سارا کچھ قمری نظام سے اللہ ربّ العزّت نے جوڑا ہے۔
کچھ تاریخی واقعات سے سال کی ابتدا
ہجری سن کی ابتدا کیسے ہوئی؟ حضورﷺ کی ہجرت الی المدینہ سے قمری سال کی ابتدا کی جاتی ہے۔ اس سے پہلے زمانے میں مشہور واقعات سے تاریخ یاد رکھی جاتی تھی۔ جیسے نبی کریمﷺ کی پیدایش سے قبل عام الفیل کا واقعہ پیش آیا۔ تو یوں کہا جانے لگا کہ نبی کریمﷺ اس سال میں پیدا ہوئے جس میں ابرہہ بادشاہ ہاتھیوں کی فوج لے کعبہ پر چڑھائی کے لیے آیا تھا اور اسے عبرتناک شکست ہوئی تھی۔ یعنی بڑے بڑے واقعات کو مخصوص کر لیا جاتا، کوئی مستقل نظام نہیں تھا۔ اسی طرح حضرت آدم جب دنیا میں تشریف لائے تو سب سے پہلے اُن کے اُترنے کے سال کو مقرر کیا گیا، پھر طوفانِ نوح کے واقعے کو بطورِ سن مقرر کیا گیا۔ پھر ابراہیم کے ماننے والوں نے ان کے آگ میں ڈالنے والے دن کو مقرر کیا کہ مثلاً ان کے آگ میں ڈالنے کے پانچ سال بعد میرا بیٹا پیدا ہوا، یا اتنے سال بعد میرا یہ کام ہوا۔ اسی طرح یوسف کے ماننے والوں نے جب وہ مصر میں وزیر بن گئے تھے، اس بات کو سال کی ابتدا کے واسطے مقرر کر لیا۔ حضرت موسیٰ کے ماننے والوں نے جس دن فرعون غرق ہوا اور موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات ملی، اس واقعہ کو بنا لیا کہ اس سے ہم اپنا تعین کیا کریں گے۔ اور حضرت عیسیٰ کے ماننے والوں نے ان کی پیدایش کو مقرر کر لیا کہ اس طرح ہمارا نظام چلے گا۔ الغرض لوگ اس طرح سے مشہور واقعات کو اپنے مشاغل کی تاریخ یاد کرنے کا ذریعہ بنا لیا کرتے اور ایسے واقعات کو سن قرار دے دیا کرتے تھے یہاں تک کہ نبی کریمﷺ مبعوث ہوئے۔
عہدِ فاروقی اور ہجری سن کی ابتدا
پھر نبوّت کے دور سے یہ سلسلہ اس طرح سے چلتا رہا کہ کوئی واقعہ بعثت سے پہلے کا ہوتا تو کہا جاتا کہ قبل از بعثت، اور بعثت کے بعد کا ہوتا تو کہا جاتا کہ نبوّت کے دو سال بعد، تین سال بعد وغیرہ یہ واقعہ پیش آیا یا یہ حکم اُترا۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں تو مختصر سا معاملہ تھا۔ مدینہ طیبہ ہی کی جگہ تھی۔ لیکن آگے جاکر معاملات پھیلتے چلے گئے۔ حضرت فاروق اعظم کے دور میں جب اسلامی مملکت پھیلنی شروع ہو گئی اور فتوحات کا دروازہ کھلتا چلا گیا تو حساب و کتاب کے معاملات بھی بہت وسیع ہو گئے۔ اس لیے مسلمانوں کو ضرورت پیش آئی کہ اپنا کوئی علیحدہ اور مستقل نظام ہو جو غیروں سے ہٹ کر ہو اور فطرت کے مطابق ہو۔ مسلمانوں کی دینی حمیت اور غیرت کے مطابق ہو۔ بھلا مسلمان کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ کوئی غیروں کی چیز اپنے اندر لے آئے۔ یہ لاوارث قوم تو نہیں ہے۔ اللہ نے کیا کچھ نہیں دیا اس کو۔ اب جب یہ فیصلہ ہو گیا کہ ہمارا اپنا کوئی تاریخی نظام ہونا چاہیے تو پھر حضراتِ صحابہ کرام نے اس پر سوچ و بچار کی، اس پر مشورے ہوئے اور بالآخر انہوں نے سنِ ہجری کو منتخب کیا جو آج تک جاری ہے الحمدللہ! اور قیامت تک جاری رہے گا۔
بعض شبہات کا اِزالہ
بعض روایات سے یہ بھی پتا لگتا ہے کہ سنِ ہجری کی ابتدا خود نبی کریمﷺ نے کی تھی، تاہم راجح یہ ہی ہے کہ حضرت عمر فاروق کے عہدِ خلافت میں اس کی بنیاد پڑی۔ بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوجاتا ہے کہ جو کام نبی کریمﷺ نے نہیں کیا اور بعد والوں نے کیا وہ پھر ٹھیک نہیں ہے۔ ان کا یہ شبہ بہت غلط ہے۔ حضور پاکﷺ نے اپنی سنت اور خلفائے راشدین کی سنت میں بال برابر بھی فرق نہیں کیا۔ فرمایا:
أُوْصِيْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْکُمْ يَرَی اخْتِلَافًا کَثِيرًا، وَإِيَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ، فَمَنْ أَدْرَکَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِّيْنَ عَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ. (سنن الترمذي: رقم 2676)
’’میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرنے اور سننے اور ماننے کی خواہ (تمہارا حاکم) حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ بلا شبہ تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، اور تم دین میں نئی نئی باتوں کے پیدا کرنے سے بچنا کیوںکہ دین میں جو بھی نئی چیز نکالی جائے گی وہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پس تم پر ایسے وقت میں میرے اور میرے خلفائے راشدین، ہدایت یافتہ کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے‘‘۔
نبی کریمﷺ نے اپنی سنت اور اپنے خلفائے راشدین کی سنت (طریقے) کے بارے میں جو ہدایات جاری فرمائی ہیں، اس میں کوئی فرق نہیں کیا۔دونوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ مضبوطی سے تھامو۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ خلفائے راشدین کا عمل عین سنت ہے۔ حضرت عمر فاروق کے زمانے سے جتنے بھی معاملات آپ نے شروع فرمائے وہ بالکل حضور پاکﷺ کی حدیث کے مطابق، آپﷺ کے فرمان کے مطابق ہیں۔
ہجرت کو بطورِ سن منتخب کرنے کی وجہ
اب یہاں ایک بات یہ ہے کہ ہجرت کے عمل کو بطورِ سن کیوں منتخب کیا گیا؟ دیکھا جائے تو نبی کریمﷺ کی پیدایش کو منتخب کیا جاسکتا تھا، دنیا سے پردہ فرما جانے کے دن کو منتخب کیا جاسکتا تھا، غزوۂ بدر کا موقع بہت بڑا تھا اس کو منتخب کیا جاسکتا تھا، فتحِ مکہ جو کہ اسلام کی بڑی عظیم الشان فتح تھی اس کو منتخب کیا جاسکتا تھا، حجۃ الوداع کو منتخب کیا جاسکتا تھا جو اسلام کی ظاہری شان و شوکت کا بہترین اظہار تھا، یا جس دن نبی کریمﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا غارِ حرا میں اس کو، یا جب قرآن مجید مکمل ہوا اس کو منتخب فرما سکتے تھے۔ تو اتنے مواقع میں سنِ ہجری کو ہی کیوں مقرر کیا گیا؟ ہجرت کا واقعہ کیا ہے کہ آپﷺ مکہ مکرّمہ میں رہ رہے ہیں، لوگوں نے رہنے نہیں دیا اور آپﷺ انتہائی پریشانی کے عالم میں اور تکلیف کے عالم میں بے سر و سامانی کے حال میں خاموشی سے رات کی تاریکی میں نکل رہے ہیں۔ اس میں کون سی حکمت ہے؟ اس بارے میں چند باتیں سمجھ لیجیے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ظہورِ اسلام سے لے کر نبی کریمﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے تک کی تاریخ میں دو زمانے اُصولی زمانے ہیں:
(۱) مکہ مکرّمہ کا زمانہ۔ نبوّت سے سرفراز ہونے کے بعد نبی کریمﷺ13 سال مکہ مکرّمہ میں رہے۔ اس زمانے کے واقعات و حالات اور اَحکامات۔
(۲) مدینہ منوّرہ کا زمانہ۔ وہاں کے اَحکامات اور اَعمال۔
پہلا زمانہ نبی کریمﷺ کی نبوّت سے شروع ہو کر ہجرت پر مکمل ہوتا ہے۔ اور اس کی ابتدا غارِ حرا سے اور تکمیل غارِ ثور پہ ہوتی ہے۔ دوسرا زمانہ ہجرت سے شروع ہوتا ہے اور حجۃ الوداع کے موقع پر مکمل ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا مدینہ منوّرہ میں داخلے کے وقت والہانہ استقبال سے ہوئی اور اس کی تکمیل مکہ مکرّمہ کے فتح سے ہوئی۔ اب چند خصوصیات ہیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے صحابۂ کرام نے ہجرت کو بطورِ سن طے فرمایا۔
جب نبی کریمﷺ مکہ مکرّمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آگئے تو ہجرت کی برکت سے مدینہ میں ایمان والوں کو ہر طرح کی عزّت، غلبہ، راحت، ثروت، سکون ہر چیز حاصل ہوئی۔ ایمان والوں کو ایک مضبوط قلعہ ملا۔ مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ عبادت کرنے، نبی کریمﷺ کی صحبت سے فائدہ اُٹھانے اور دین سمجھنے کا موقع ملا۔ اہلِ اسلام نسبتاً چین کی زندگی گزارنے لگے اور اسلامی طرز، اسلامی خد و خال، اسلامی معاشرت، اسلامی تمدّن و تہذیب، غرض ہر حکم پر عمل کا اِظہار کھل کے ہونے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام کی اقتصادی اور معاشی نظام کی اصلاح کی تدبیریں کی جانے لگیں۔ عملی طور پر تعلیم اور تعلّم کا سازگار ماحول مؤثر آیا۔ آزاد فضا میں رہ کر اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا آسان ہوا اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کی تعلیمات دوسروں تک پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک اسلامی حکومت قائم ہوئی جس کے سربراہ جنابِ نبی کریمﷺ تھے۔ وہ شروع تو مدینہ طیبہ سے ہوئی اور ساتھ ساتھ جب پھیلنی شروع ہوئی تو مضافات کے چند علاقے شامل ہوئے۔ پھر چلتے چلتے بحرالکاہل سے لے کر بحرِ اوقیانوس تک پہنچے۔ تو ہجرت کا واقعہ ترقی کا زمانہ شروع ہونے کا واقعہ ہے۔
دینی غیرت و حمیّت
اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمارے سامنے قمری تاریخ بھی ہے اور ہمارے سامنے شمسی تاریخ بھی ہے۔ دونوں نظام اللہ کے ہیں۔ سورج، چاند دونوں اللہ نے بنائے ہیں، دونوں نظام اللہ تعالیٰ ہی چلا رہے ہیں، لیکن بحیثیت مسلمان ہماری بھی کوئی ڈیوٹی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ اس بارے میں بھی چند باتیں سن لیجیے۔
قمری یعنی ہجری سال اور تاریخ کو یاد رکھنا، باقی رکھنا فرض کفایہ ہے۔ ایک علاقے کے اندر کسی کو کچھ نہیں پتا تو سارے ہی گنہگار ہوں گے، اور کچھ لوگوں کو معلوم ہے تو پھر عمومی گناہ سے تو بچ جائیں گے لیکن دینی حمیت اور غیرت کی بنیاد پر مسلمان کو چاہیے کہ اسلامی تاریخ کو یاد رکھے۔ چوں کہ جن شرعی احکامات کا تعلق چاند کی تاریخوں سے ہے مثلاً زکوٰۃ، روزہ، حج، قربانی وغیرہ تو ان کی تکمیل بھی انہی تاریخوں سے ہے۔ عبادت کو پورا کرنے کے لیے قمری تاریخ کا یاد رکھنا خود ایک عبادت ہے۔ پھر ہم یہ بھی دیکھیں کہ قمری تاریخوں کا استعمال کن لوگوں نے کیا؟ انبیاء نے کیا، صحابہ نے کیا، اولیاء نے کیا۔ جب ہم بھی کریں گے تو ہماری نسبت اُن سے ہوگی اور خیر و برکت رہے گی۔
صرف انگریزی تاریخ کو اپنانا مناسب نہیں
قمری حساب کے استعمال سے اسلام کا تشخص باقی رہتا ہے اس لیے بھی ضرورت ہے۔ قمری حساب کو بالکل چھوڑ دینا اور صرف انگریزی حساب کو ہی استعمال کرنا اس بارے میں علماء منع فرماتے ہیں۔ جب آپ کی ضرورت ہے آپ شمسی حساب کو استعمال کررہے ہیں ٹھیک ہے، لیکن قمری حساب کو بالکل چھوڑ بھی مت دو، بلکہ دونوں باتیں معلوم ہونی چاہیے اور اسے لکھنا بھی چاہیے۔ اہلِ مدارس تو اس کا اہتمام کر ہی رہے ہیں۔ البتہ جو نہیں کر رہے، اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ شمسی تاریخ لکھ رہے ہیں تو لکھ لیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ اسلامی تاریخ بھی لکھ لیں۔ ہمارے مدرسے کی جو پرچیاں بنیں گی ابھی تو بن گئی ہیں، آیندہ جو بھی ہوں تو اس میں دونوں تاریخوں کے کالم ڈالے جائیں گے قمری بھی اور عیسوی بھی۔ اسی طرح جہاں جہاں ہمارے لیے ممکن ہے کہ ہم شروع کر سکتے ہیں، تو کرنا چاہیے۔ یا کم سے کم یاد تو رکھ سکتے ہیں پتا تو ہو۔ یہ محبت کا معاملہ ہے۔ یہ بات قمری حساب کے اعتبار سے تھی۔ اب اگلی بات محرم الحرام کے مہینہ کے اعتبار سے ہے۔
محرّم الحرام کی اہمیت
محرّم کے مہینے میں عام طور سے ایک یہ تصوّر ہے کہ محرّم کا تعلق فقط حضرت حسین اور کربلا کے واقعہ سے ہی ہے، حالاںکہ ایسا نہیں ہے۔ ان کا واقعہ یقیناً محرّم میں ہوا۔ 10 محرّم میں ہوا۔ بہت بڑی قربانی تھی، وہ سب اپنی جگہ بہت بڑی باتیں ہیں۔ لیکن محرّم سے مراد صرف اسی ایک واقعہ کو لے لینا اور باقی ساری باتوں کو بھول جانا یہ لاعلمی کی بات ہے۔ اس بندے کو دین کا پتا ہی نہیں ہے۔
لغت کے حساب سے محرّم کا مطلب ہے مُعَظّم، محترم، معزّز۔ یہ مہینہ اِعزاز والا ہے، احترام والا مہینہ ہے اسی لیے اس کا نام محرّم ہے۔ ایک حدیث شریف بیان ہوئی جس میں نبی کریمﷺ نے حج کے موقع پر اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا: اس وقت زمانے کی رفتار وہی ہے جس دن اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ یعنی اب اس کے دنوں اور مہینوں میں کوئی کمی زیادتی نہیں ہے جو جاہلیت کے زمانے میں مشرکین کر دیا کرتے تھے۔ اب وہ ٹھیک ہو کر اس طرز پر آگئی ہے جس پر ابتدا میں اصل میں تھی۔ اور آگے فرمایا: ایک سال 12 مہینوں کا ہوتا ہے اور ان میں چار مہینے حرمت اور عزّت والے ہیں جن میں تین مہینے مسلسل ہیں: ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرّم اور ایک رجب کا مہینہ ہے جو جمادی اُخریٰ اور ماہِ شعبان کے درمیان آتا ہے۔
(صحیح بخاری: رقم 4662)
مبارک مہینوں کی خصوصیت
اس سے پہلے جو شریعتیں آئیں ان کے اندر بھی ان چار مہینوں کے اندر قتال حرام تھا۔ اور یہ احترام والے دن تھے۔ اور ان مہینوں میں عبادت کا ثواب زیادہ ملتا ہے۔ مفسرِ اعظم امام ابوبکر جصّاص اپنی تفسیر ’’اَحکامُ القرآن‘‘ میں فرماتے ہیں کہ ان مبارک مہینوں کی خصوصیت یہ ہے، Quality یہ ہے کہ اِن میں جو بندہ عبادت کرتا ہے اس کو باقی مہینوں کی نسبت زیادہ عبادت کا ثواب ملتا ہے۔ پھر جو بندہ اس میں ہمت کر کے گناہوں سے بچتا ہے اس کے لیے باقی مہینوں میں گناہوں سے بچنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ یہ چار مہینے جس میں محرّم کا مہینہ بھی شامل ہے خاص طور سے عبادت اور خاص طور سے گناہوں سے بچنے کا مہینہ ہے۔ ان مہینوں سے فائدہ نہ اُٹھانا اور اس میں اِدھر اُدھر لگے رہنا یہ بہت نقصان کی بات ہے۔
محرّم الحرام کا روزہ
ایک حدیث شریف میں نبی کریمﷺ نے فرمایا: رمضان کے روزوں کے بعد سب سے بہترین روزے اللہ کے مہینے محرّم کے روزے ہیں۔ (صحیح مسلم: رقم 1163)
اس حدیث میں نبی کریمﷺ نے محرّم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے کہ یہ مہینہ اللہ کا مہینہ ہے۔ باقی مہینے کس کے ہیں؟ باقی بھی اللہ ہی کے ہیں، لیکن اس کو خصوصیت کے ساتھ کہا کہ اللہ ربّ العزّت کا مہینہ ہے، اور اس مہینے میں روزے رکھنے کی فضیلت رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس حدیث میں 10 محرّم کا ذکر نہیں ہے، وہ دوسری حدیث میں ہے۔ تو محرّم کے مہینے میں کسی بھی دن روزہ رکھنا باعث ثواب ہے۔ آپ 9,10 محرّم کو رکھیں، 20 کو رکھیں، 25 کو رکھیں، 5 کو رکھیں۔ اس مہینے کی برکت سے زیادہ ثواب ہے۔ ہمیں اس کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جو 9,10 محرّم کو یا 10,11 محرّم کو روزہ رکھتا ہے اس کو 10 محرّم کے روزے کی فضیلت بھی ملے گی اور محرّم کی بھی ملے گی۔
حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ آپ رمضان کے بعد مجھے کس مہینے میں روزہ رکھنے کا حکم دیں گے؟ حضرت علی نے اس آدمی سے کہا کہ مجھ سے کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا جو تم نے پوچھا ہے۔ اور اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے میں نے سنا ہے۔ ایک آدمی نے یہی سوال پوچھا تھا جو تم پوچھ رہے ہو، اور اللہ کے نبیﷺ جو جوا ب اسے دے رہے تھے تو میں حاضرِ خدمت تھا۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ماہِ رمضان کے روزے کے بعد اگر تم روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہِ محرّم کے روزے رکھو، کیوںکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مہینہ ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم یعنی بنی اسرائیل کی توبہ قبول کی، اور اسی دن دوسرے لوگوں کی توبہ بھی قبول فرمائیں گے۔ (سنن ترمذی: رقم 741)
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply