18

محرّم الحرام حصہ دوم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰہِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط (التوبۃ: 36)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

رمضان کے بعد محرّم
محرّم الحرام کی حیثیت شروع ہی سے تقریباً سب ہی مذاہب کے یہاں چلی آرہی ہے۔ اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس مہینے میں ہم محنت کریں۔ دن اور رات عبادات کے اندر زیادہ وقت لگانے کی فکر کریں۔ محرم الحرام کا مہینہ رمضان المبارک کے بعد عبادت کے لیے بہت بابرکت مہینہ ہے۔ اس میں خوب عبادت کرنی چاہیے۔
عاشورہ کے واقعات:
دسویں محرم کو یہودی، عیسائی اور قریشِ مکہ عاشورہ کہتے ہیں۔ اس بارے میں مختلف واقعات تاریخ اور حدیث شریف میں ملتے ہیں۔ ان میں ایک بات تو یہ ہے کہ اس دن موسیٰ اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے فرعون سے نجات دی تھی۔ یعنی اس دن فرعون غرق ہو گیا تھا اور موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا تھا۔ اہلِ یہود اس دن روزہ رکھتے تھے، تو نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میں تم سے زیادہ حضرت موسیٰ کے قریب ہوں۔ چناںچہ آپﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔
(صحیح بخاری: رقم 1900)
رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے سے پہلے دسویں محرم کا روزہ ہماری شریعت یعنی نبی کریم کی شریعت میں بھی فرض تھا۔ نبی کریم دسویں محرم کا روزہ مکہ مکرمہ میں بھی رکھا کرتے تھے۔ جب نبی کریم مکہ مکرمہ میں تھے اس وقت تو بی بی فاطمہ کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی اور حضرت حسین پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ 10 محرم کا معاملہ پہلے سے چلا آرہا ہے۔ بعض مؤرخین نے چند واقعات اور بھی لکھے ہیں ان کی تفصیل آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہے۔ دار العلوم دیوبند کے ’’ماہنامہ‘‘ محرّم الحرام 1436ہجری، مطابق نومبر2014ء کے شمارے میں یہ تفصیل بحوالہ چھپ چکی ہے:
یومِ عاشورہ کی تاریخی اہمیت
(۱) یوم عاشورہ میں ہی آسمان وزمین، قلم اور حضرت آدم کو پیدا کیاگیا۔
(۲) اسی دن حضرت آدم کی توبہ قبول ہوئی۔
(۳) اسی دن حضرت ادریس کو آسمان پر اٹھایا گیا۔
(۴) اسی دن حضرت نوح کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر کوہِ جُودی پر لنگر انداز ہوئی۔
(۵) اسی دن حضرت ابراہیم کو ’’خلیل اللہ‘‘ بنایا گیا اور ان پر آگ گلِ گلزار ہوئی۔
(۶) اسی دن حضرت اسماعیل کی پیدائش ہوئی۔
(۷) اسی دن حضرت یوسف قید خانے سے رہا ہوئے اور مصر کی حکومت ملی۔
(۸) اسی دن حضرت یوسف کی حضرت یعقوب سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔
(۹) اسی دن حضرت موسیٰ اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات حاصل ہوئی۔
(۱۰) اسی دن حضرت موسیٰ پر تورات نازل ہوئی۔
(۱۱) اسی دن حضرت سلیمان کو بادشاہت واپس ملی۔
(۱۲) اسی دن حضرت ایوب کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔
(۱۳) اسی دن حضرت یونس چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے۔
(۱۴) اسی دن حضرت یونس کی قوم کی توبہ قبول ہوئی اور اُن پر سے عذاب ٹلا۔
(۱۵) اسی دن حضرت عیسیٰ کی پیدایش ہوئی۔
(۱۶) اسی دن حضرت عیسیٰ کو یہودیوں کے شر سے نجات دلاکر آسمان پر اُٹھایا گیا۔
(۱۷) اسی دن دنیا میں پہلی بارانِ رحمت نازل ہوئی۔
(۱۸) اسی دن قریش خانۂ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے۔
(۱۹) اسی دن حضور اکرمﷺ نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ سے نکاح فرمایا۔
(۲۰) اسی دن کوفی فریب کاروں نے نواسۂ رسولﷺ اور جگر گوشۂ فاطمہ کو میدانِ کربلا میں شہید کیا۔
(۲۱) اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔
(نزہۃ المجالس: ۱/۳۴۷، ۳۴۸۔ معارف القرآن: پ ۱۱ آیت ۹۸۔ معارف الحدیث: ۴/۱۶۸)
اس کے علاوہ بھی واقعات دسویں محرّم کے بارے میں آتے ہیں۔ یہ بات واضح رہے کہ یہ تاریخی واقعات ہیں جو سنداً کمزور بھی ہو سکتے ہیں۔ اللہ اعلم!
کم علمی کی باتیں:
خلاصہ یہ کہ دس محرّم کی حیثیت پچھلی شریعتوں سے چلی آرہی ہے، اس کو فقط ایک واقعے سے مخصوص کر دینا غلط ہے۔ دیکھیے! ہم واقعہ کربلا کی کسی بات سے انکار نہیں کر رہے ہیں۔ حضرت حسین کی شہادت بہت بڑا رتبہ، اور بہت بڑی قربانی ہے۔ لیکن باقی ساری شریعت کو چھوڑ کر ایک ہی چیز کو سامنے رکھ لینا اور سارا دین اس کے ساتھ جوڑ دینا یہ کمعلمی کی بات ہے۔ اب ہمارے ہاں دس محرّم کو کیا ہوتا ہے؟
کہیں کھیر بنتی ہے۔
کہیں حلیم بنتی ہے۔
کہیں پانی کی سبیل لگتی ہے۔
کہیں شربت کی سبیل لگتی ہے۔
کہیں کالے چنے، اور کہیں سفید چنے تقسیم ہوتے ہیں۔
آپ جو چاہیں بنائیں، لیکن اس دن کے ساتھ مخصوص کر دینا کہ یہ ڈش اسی دن بنانی ہے، یہ ایک عجیب سی بات ہے۔
بعضوں کے یہاں ایک اور بھی رسم ہے۔ وہ یہ کہ شادی کے بعد جو پہلا مہینہ محرّم کا آتا ہے تو بیوی کو اس کی ماں کے ہاں چھوڑ آتے ہیں۔ یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اسی طرح کہیں پر روٹیاں پکا کر پھینکی جاتی ہیں۔ روٹی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اسے پھینکنا ویسے ہی گناہ ہے، یہ تو عزت کرنے کی چیز ہے۔
سوال یہ ہے کہ پھر ہم دسویں محرّم کو ہم کیا طریقہ اختیار کریں؟ جواب آسان ہے۔ جو طریقہ صحابہ کرام نے اختیار کیا، اسی کو اختیار کرنے میں ہمارے لیے نجات ہے۔
دسویں محرّم کا روزہ:
حضرت عبداللہ بن عباس روایت فرماتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم کسی خاص دن کا روزہ اہتمام سے رکھتے ہوں، اور اس کو کسی دوسرے دن پر فضیلت دیتے ہوں سوائے دس محرّم کے دن یا رمضان۔ (صحیح بخاری: رقم 1902)
یعنی رمضان کے مہینے میں روزے بہت اہتمام کے ساتھ رکھتے تھے، اور دسویں محرّم کا روزہ نبی کریم پورے اہتمام کے ساتھ رکھتے تھے۔ کسی اور دن کے روزے کا اتنا اہتمام آپ نے نہیں کیا۔ معلوم ہوا کہ ہم 10 محرم کو روزہ رکھیں۔
دوسری حدیث حضرت ابوقتادہ سے مروی ہے جس میں نبی کریم نے یہ ارشاد فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشورہ یعنی 10 محرم کا روزہ گزشتہ یعنی ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ (صحیح مسلم: باب استحباب صيام ثلاثۃ أيّام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس)
صغائر کی معافی:
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ10 محرّم کے روزے کی فضیلت میں گناہوں کی معافی کا جو ذکر ہوا ہے، اس سے مراد صغائر ہیں۔ صغیرہ گناہ بھی معاف ہو جائیں تو بہت بڑی بات ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب اپنے والد صاحب حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلوی کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ میرے والد فرمایا کرتے تھے کہ اعمال اگر توبہ کی نیت سے کیے جائیں تو اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہ بھی معاف فرما دیں۔
کبیرہ گناہ کی معافی:
کبیرہ گناہ توبہ کے ذریعہ سے معاف ہوتا ہے اور اس کے لیے3 شرائط ہیں:
ندامت: جو گناہ کر چکا اس پر شرمندگی ہو۔
ترکِ گناہ: فوراً سے اس گناہ کو چھوڑ دے۔ یعنی اس سے ہٹ جائے۔
عزم علی الترک: آیندہ اس گناہ کو نہ کرنے کا پکا ارادہ کرے۔
بعد میں اگر گناہ پھر ہو جائے تو پھر دوبارہ سے توبہ کرلے۔ توبہ کرتے وقت گڑبڑ نہ ہو۔ شیطان یہاں گڑبڑ ڈال دیتا ہے۔ توبہ کرتے وقت یہ یقین ہو کہ اس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔
بعض کوتاہیوں کا اِزالہ:
بعض حضرات ایسے ہیں جو 10 محرم کے روزے کو اتنی فضیلت دیتے ہیں کہ نمازیں چھوڑ دیتے ہیں، گناہوں میں بھی لگے رہتے ہیں۔ اور بعض ایسے بھی ہیں کہ اس روزے کو ہی نہیں مانتے۔ کہتے ہیں کہ دسویں محرم کا روزہ کچھ نہیں۔ عجیب عجیب معاملات ہیں۔
ہم پیارے نبی کی زندگی کو دیکھیں کہ اس میں ہمارے لیے کیا راہنمائی ہے۔ امیرا لمؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان اپنی خلافت کے زمانے میں حج سے واپسی پر عاشوراء کے دن مدینہ منورہ تشریف لائے۔ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی کریم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ آپﷺ فرما رہے تھے: یہ عاشورہ 10 محرم کا دن ہے اور تمہارے اوپر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا گیا، لیکن میں روزے سے ہوں، تو جو شخص روزہ رکھنا چاہے وہ رکھ لے، اور جو نہ رکھنا چاہے وہ نہ رکھے۔ (صحیح بخاری: باب صیام یوم عاشوراء)
ایک حدیث شریف شروع بیان میں ذکر کی تھی کہ نبی کریم جب مکہ مکرّمہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے، تو آپ نے یہودیوں کو 10 محر م کے دن روزے رکھتے دیکھا۔ نبی کریم نے ان سے پوچھا کہ اس دن کی تمہارے ہاں کیا خصوصیت ہے؟ یعنی تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات دی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا تھا۔ چناںچہ ہم شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم نے فرمایا کہ تمہارے مقابلے میں ہم موسیٰ سے زیادہ قریب ہیں (کیوںکہ تم تو ان کے احکامات کو بھلا چکے ہو، ان کی شریعت کو بدل چکے ہو، اور ہم ملت ابراہیمی پر ہیں تو ہم تم سے زیادہ اس بات کے حق دار ہیں کہ اس دن کا روزہ کھیں) چناںچہ آپ نے خود بھی 10 محرم کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی تلقین فرمائی۔
(صحیح بخاری: رقم 1900)
جیسا کہ بات گزری کہ نبی کریم مکہ مکرّمہ میں یہ روزہ رکھتے تھے۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشوراء کے روزے کی فرضیت کی منسوخی کا اعلان فرما دیا۔ لیکن آپﷺ نے پھر بھی رکھا اور یہ بھی فرما دیا کہ کوئی رکھنا چاہے تو رکھے، نہ رکھنا چاہے تو نہ رکھے۔
یہود ونصاریٰ کی مشابہت سے بچنا:
حضراتِ صحابہ کرام نبی کریم کے صحبت یافتہ تھے۔ آپﷺ کی سنت کو اور شریعت کے مزاج کو پہچاننے والے تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! یہ ایک ایسا دن ہے کہ یہود ونصاریٰ اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ اسی دن اگر ہم بھی روزہ رکھیں گے تو مشابہت ہو جائے گی (حالاںکہ ہمارے اور ان کے درمیان بڑا فرق ہے) نبی کریم نے فرمایا کہ آیندہ اگلے سال اِن شاء اللہ ہم نویں محرّم کا روزہ ساتھ رکھیں گے۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ اگلا سال (محرّم) آنے سے پہلے ہی رسول اللہﷺ اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ (صحیح مسلم: باب أي یوم یصام في عاشوراء)
ایک دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: عاشوراء کا روزہ رکھو، اور اس میں تم یہود کی مخالفت کرو، (عاشوراء سے) ایک دن پہلے کا روزہ رکھو یا ایک دن بعد کا (یعنی عاشوراء کے ساتھ نویں یا گیارہویں کا روزہ ساتھ ملالو)۔

(مسند احمد: رقم 2155)
نبی کریم کے اس ارشاد پر ذرا غور کریں کہ روزہ رکھنا کیا ہے؟ عبادت ہے۔ اور پہلے سے چلا آرہا تھا۔ آپ مکہ مکرمہ میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن جب مدینہ طیبہ میں آئے اور یہ معلوم ہوا کہ یہودی بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں تو آپ نے عبادت کرنے کا تو حکم دیا لیکن ساتھ میں مخالفت کا بھی حکم دیا۔ اسلام کی غیرت برداشت ہی نہیں کرتی کہ کلمہ پڑھنے والا، اللہ کو ایک ماننے والا، رسول اللہ پر یقین رکھنے والا، آپ کو اپنا نبی ماننے والا کسی غیر کے طریقے پر چلے۔ یہ اسلام کی غیرت اور حمیت برداشت نہیں کرتی، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اور نبی کریم نے ایک موقع پر نہیں بلکہ کتنے ہی موقعوں پر یہ بیان فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکوں اور مجوسیوں کی مخالفت کرو۔
شیطان کے دوستوں کی مخالفت کیجیے:
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضراتِ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مشرکین پاجامہ تو پہنتے ہیں، لیکن لنگی نہیں باندھتے۔ اس پر آپ نے ارشاد فرمایا: تم پاجامہ بھی پہنو اور لنگی بھی باندھو۔ اور جس قدر ہوسکے شیطان کے دوستوں کی مخالفت کرو۔ (مجمع البحرین في زوائد المعجمین: رقم 4227)
اور واضح سی بات ہے کہ کفار شیطان کے دوست ہیں۔ حضرت ابو اُمامہ کی تفصیلی حدیث میں اہلِ کتاب کی مخالفت کا ذکر ہے۔ (مسند احمد: رقم 21695)
حضرت ابو کریمہ مقدام بن معدیکرب فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی کو کوفہ میں منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا۔ آپ فرما رہے تھے: اے لوگو! میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم راہبوں اور پادریوں کے لباس سے بچو، اس لیے کہ جس نے رہبانیت اختیار کی یا اس کی مشابہت کی، وہ مجھ سے نہیں۔
(مجمع البحرین في زوائد المعجمین: رقم4226)
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ. (سنن أبي داود: رقم 3512)
ترجمہ: ’’جس نے جس کی مشابہت کی وہ اسی میں سے ہو گا‘‘۔
ملا علی قاری  اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ مراد اس سے ظاہری لباس، اور ظاہری کاموں میں کفار کی مشابہت سے بچنا ہے۔
سیدنا عمر فاروق اعظم:
حضرت فاروق اعظم امیر المؤمنین ثانی حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والے تھے۔ حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔

(سنن ترمذی: رقم 3686)
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر جاری کر دیا ہے۔

(سنن ترمذی: رقم3682)
صحیح بخاری (رقم: 3294) اور صحیح مسلم (رقم: 2396) میں بروایت حضرت سعد بن ابی وقاص منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! (اے عمر) جس راستے سے شیطان تمہیں چلتا ہوا دیکھتا ہے وہ اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: میں انسانوں اور جنات کے شیاطین کو دیکھتا ہوں کہ عمر سے بھاگتے ہیں۔
(سنن ترمذی: رقم 3691)
حضرت بُریدہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا: اے عمر! حقیقت یہ ہے کہ شیطان تم سے ڈرتا ہے۔

(سنن ترمذی: رقم 3690)
اللہ اکبر کبیراً! کتنے فضائل ہیں حضرت عمر کے۔ ان کے دورِ خلافت میں جب فتوحات کا دروازہ کھلا اور بہت ساری مختلف قومیں مسلمان ہونے لگیں تو کچھ چیزوں کے خلط ملط ہونے کا خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں عجمیوں کے رسوم ورواج مسلمانوں میں نہ آجائیں۔ جیسے ہم پاکستان میں رہتے ہیں اور ہماری شادیوں میں ہندوؤں کی بہت ساری چیزیں موجود ہیں۔ آپ سعودیہ عرب چلے جائیں، افریقہ کے ممالک میں چلے جائیں، وہاں یہ چیزیں آپ کو نہیں ملیں گی۔ یہ اُبٹن، مایوں، مکلاوا، گود بھرائی اور اس طرح کی دیگر چیزیں ہندوانہ رسمیں ہیں۔ ایک مرتبہ مجھے کچھ ساتھیوں نے بتایا کہ آپ نے تو چند ہی نام لیے ہیں، اتنے سارے تو آپ بھول چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے پتا ہی نہیں تو بھولنا کیا ہے۔ ہندوستان ہمارے بہت قریب ہے، کئی مسلمان وہاں سے ہجرت کرکے یہاں آئے ہیں، پہلے ہندوؤں کے ساتھ ہی رہن سہن تھا، اس لیے بہت ساری چیزیں ان کی ہمارے اندر آگئیں۔
بہرحال حضرت عمر فاروق کو بھی یہ خطرہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نئی نئی عجمی قومیں جو مسلمان ہو رہی ہیں، ایمان قبول کر رہی ہیں تو ان کی گزشتہ چیزیں یا رواج مسلمانوں کے اندر آجائیں۔ اس پر انہوں نے حکم جاری کیا اور تمام ماتحت علاقوں میں خط بھیجا۔
علامہ بغوی نے ابو عثمان نہدی کی روایت نقل کی ہے کہ ہماری (مسلمانوں کی) جماعت آذربائیجان میں حضرت عتبہ بن فرقد کے ساتھ تھی۔ ہمارے پاس امیر المؤمنین حضرت عمر کا یہ خط آیا جس میں دیگر کئی احکامات کے منجملہ یہ بھی تھا:
وَعَليْكُمْ بِلِبَاسِ أَبِيْكُمْ إِسْمَاعِيْلَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ ، وَزِيَّ الْعَجَمِ.
ترجمہ: ’’تم پر لازم ہے کہ اپنے باپ سیدنا اسماعیل کا لباس پہنو، اور عیش و عشرت کی زندگی اور عجمیوں کی مشابہت سے بچو‘‘۔
(شرح السنہ: رقم 3019)
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم نبی کریم کی سنتِ مطہرہ کو زندگی کے ہر شعبے میں اختیار کریں۔
داڑھی رکھنا:
حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھی کو بڑھائو، اور مونچھوں کو کٹوائو۔ (صحیح بخاری: رقم 5553)
تاکہ اُن سے مشابہت نہ ہو۔ حافظ ابنِ حجر نے مذکورہ حدیث شریف کی شرح میں لکھا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں مجوس کی مخالفت کا ذکر ہے۔
سحری کرنا:
صحیحین میں حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے سحری کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: سحری کرو، اس لیے کہ سحری (کھانے) میں برکت ہے۔
(صحیح بخاری: رقم 1923، صحیح مسلم: رقم 1095)
اہلِ کتاب جب روزہ رکھتے تو سحری نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ نبی کریمa نے صحابہ کرام سے فرمایا: ہمارے روزے اور اہلِ کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے (کہ وہ سحری کیے بغیر روزہ رکھتے ہیں، اور مسلمان سحری کرکے روزہ رکھتے ہیں)۔ (صحیح مسلم: رقم 1096)
اس باریکی کو بھی آپ نے دیکھا اور پھر اُمت کو بتایا۔ اسی طرح طلوعِ آفتاب، زوالِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت سجدہ کرنے سے منع کیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بہت ساری قومیں اس موقع پر سورج کی طرف متوجہ ہو کر عبادت کررہی ہوتی ہیں۔ تو مسلمانوں کو منع کیا گیا تاکہ مسلمان اپنے تخصص کو برقرار رکھیں اور کسی طریقے سے بھی غیروں کے طریقے پر نہ جائیں۔ مشابہت بالکفار سے بچنا بے حد ضروری ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کا معاملہ ہے۔
ایک فکری سوال:
ایک فکری سوال ہے۔ کوئی پاکستانی فوجی انڈین آرمی کے لباس میں آجائے۔ پاکستان آرمی کا نوجوان ہو اور انڈین آرمی کے لباس میں اگر بالفرض آجائے۔ آپ اسے محبت کی نگاہ سے دیکھیں گے یا غصے کی نگاہ سے دیکھیں گے؟ لامحالہ غصے کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ ایسا کیوں؟ لباس سے کیا ہوتا ہے؟ وہ قسمیں کھائے، کلمے پڑھے کہ پاکستان کے آئین کی میں پوری لاج رکھوں گا، پاکستان کے لیے میں جان دےدوں گا، اندر سے میں پورا پاکستانی ہوں۔ بتائیے کہ آپ اس کو کیا درجہ دیں گے؟ آپ اس کی کوئی بات نہیں مانیں گے۔ اس سے یہی کہا جائے گا کہ تم دشمن کے روپ میں نظر آرہے ہو۔ غور کیجیے کہ کیا مسلمانوں کا کوئی تشخص نہیں ہے؟ ان باتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لباس کے اندر ہم اپنے آپ کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں پھر ان شاء اللہ آسانی ہوگی۔
نبی کریم نے اپنی اُمت کو ہمیشہ یہود ونصاریٰ کی مشابہت سے منع کیا ہے۔ آخر کب ہم نبی کریم کی باتوں کو مانیں گے۔ قیامت کے دن رسول اللہ کو شکل دکھانے کے لائق ہیں بھی یا نہیں؟ شفاعت کے لیے کس کے پاس جائیں گے؟ کون سے چہرے لے کر جائیں گے؟ کونسا لباس پہن کر جائیں گے؟ اپنے لباس کو ٹھیک کریں، اپنی اولادوں کے لباس کو ٹھیک کریں۔ نبی کریمﷺ کی روحانی اولاد کا لباس کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پندرہ بیس سال کے بعد جو آج یورپ کا لباس ہے، جس Track پر ہم چل پڑے ہیں وہ لباس نظر آئے گا؟ مسجدیں اور مدارس ختم ہو جائیں گے، کلب اور نائٹ پارٹیز کے اڈے کھل جائیں گے۔ جو راستہ ہم نے پکڑا ہوا ہے، معاذ اللہ اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے۔
غلط دیکھنے کے غلط اثرات:
آج کے میڈیا، اور بے ہودگی کے پروگرامز کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے تو نقصان تو ہوگا۔ میاں بیوی کے درمیان طلاق ہوچکی، پھر بھی ساتھ بیٹھے ہیں تو یہ حرام ہے۔ یہ کہاں سے سیکھ رہے ہیں؟ کون سکھا رہا ہے؟ کہتے ہیں کہ اولاد کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ سوچیے کہ جس کی وجہ سے کر رہے ہیں، کل کو ان کا کیا حال ہوگا؟ جو غلط دیکھ رہے ہیں، اس کے غلط اثرات زندگی پر پڑتے ہیں۔ دین اسلام میں الحمدللہ، ثم الحمدللہ! کسی چیز کی کمی نہیں ہے کہ ہنود ویہود ونصاریٰ کے پروگرامز دیکھ کر اس کو پورا کریں۔ کبیرہ گناہ کو کبیرہ گناہ سمجھیں اور اس سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی سمجھ عطا فرمائے آمین۔
اچھا سوچیں:
ہم اپنی آخرت کی فکر کریں اور مشابہت سے بچیں۔ 10 محرم کا جب دن آئے تو رسول اللہ کے اس فرمان کو یاد رکھ لیجیے گا کہ 10 کے ساتھ 9 یا 11 کو ملانا ہے۔ پھر 9 یا 11 کو جب روزہ رکھیں تو سوچیں کہ کیوں میں آج روزہ رکھ رہا ہوں؟ اس لیے رکھ ہوں کہ مجھے یہود کی مخالفت کرنی ہے، غیروں کی مخالفت کرنی ہے۔ پھر سوچیں کہ کیا ایک روزے کےمعاملہ میں ہی کرنی ہے؟ اور باقی معاملوں میں چھوٹ ہے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جانا ہوگا۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی اور دیگر حضراتِ صحابۂ کرام کا آمنا سامنا ہوگا تو پتا نہیں کہ یہ حضرات ہمیں مسلمان قبول بھی کریں گے یا نہیں۔ رسوم ورواج کے لیے جان دینا ہمارے لیے آسان ہو گیا ہے، اور سنت پر عمل مشکل۔ کسی کو کہو کہ سنت کے مطابق شادی کر لو، تمہاری شادی میں کوئی گناہ نہیں ہونا چاہیے۔ جواب کیا آتا ہے؟ ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین۔
عاشوراء کے دن وسعتِ رزق:
عاشوراء کے دن اپنے گھر والوں پر رزق میں وسعت کے بارے میں چند باتیں بیان کی جا رہی ہیں۔
پہلی بات: اس سلسلے میں جتنی روایات بھی منقول ہیں، وہ ضعف سے خالی نہیں۔
دوسری بات: یہ سب روایات مل کر قابلِ عمل ہوتی ہیں محدثین کے نزدیک۔
یہ دونوں باتیں کتاب ’’ما ثبت بالسنۃ‘‘ کے صفحہ17 پر شیخ عبدالحق محدث دہلوی (متوفّیٰ 1052ہجری) نے تحریر کی ہیں۔
اب وہ روایات بیان کی جا رہی ہیں کہ جس میں توسّعِ رزق یوم عاشوراء کا ذکر ہے۔
(1) حضرت عبداللہ بن مسعودروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ لَمْ يَزَلْ فِي سَعَةٍ سَائِرَ سَنَتِهِ.
(المعجم الکبیر: رقم 9868)
ترجمہ: ’’جس نے اپنے گھر والوں پر عاشوراء (دسویں محرم) کے دن وسعت کی، وہ پورے سال کشادگی میں ہوگا‘‘۔
(2) حضرت جابرh سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریمa کو یہ ارشاد فرماتےسنا:
من وسّع على نفسه وأهله يوم عاشوراء وسّع اللّٰه عليه سائر سنته.
قال جابر: جرّبناه فوجدناه كذلك. (الاستذکار لابن عبدالبرّ: 140\10)
ترجمہ: ’’جو اپنے آپ پر اور اپنے گھر والوں پر عاشوراء (دسویں محرّم) کے دن وسعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس پر پورے سال وسعت فرمائیں گے‘‘۔ حضرت جابرh فرماتے ہیں کہ ’’ہم نے اس کا تجربہ کیا، تو اس کو ایسا ہی پایا‘‘۔
(3) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا:
من وسّع على أهله ليلة عاشوراء وسّع اللّٰه عليه سائر سنته.
(الاستذکار لابن عبدالبرّ: 140\10)
ترجمہ: ’’جس نے اپنے گھر والوں پر عاشوراء کی رات کشادگی کی، اللہ تعالیٰ پورے سال اس پر کشادگی فرمائیں گے‘‘۔
حضرت سفیان بن عیینہ ایک بہت ہی عظیم محدث گزرے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے عاشورہ کے دن وسعت کرنے کا تقریباً پچاس سال یا ساٹھ سال تجربہ کیا (ایک روایت کے مطابق) اس کو بہترین پایا (دوسری روایت کے مطابق) صحیح پایا۔
(مسائل ابن ہانئی للامام أحمد: 1/136-137)
وسعت گھر والوں پر کیجیے، نہ کہ کسی اور پر:
اس پورے کلام کے بعد یہ بات تو سو فیصد معلوم ہوگئی کہ وسعت کی ترغیب گھر والوں کے لیے ہے، نہ کہ ساری دنیا والوں کے لیے۔ نبی کریم نے جتنا بتایا ہے ہم اتنا ہی سمجھیں یعنی اپنے پر اور اپنے گھر والوں پر۔ اب اگر کوئی لوگوں کو کھلانا چاہے، تو منع نہیں ہے لیکن اس کے لیے 10 محرّم کی تخصیص ٹھیک نہیں ہے۔ آپ مدرسے میں طلبا کو، غربا کو، رشتہ داروں کو جب مرضی ہو کھلائیں۔ اس کے لیے 10 محرم ہی کا دن مخصوص کرنا صحیح نہیں ہے۔
نیک اعمال بقدر ہمت:
اب بات یہ ہے کہ دوسروں کو عاشوراء کے علاوہ کیا کھلائیں؟ کیا بریانی کی دیگ، حلیم کی دیگ وغیرہ کا ہونا ضروری ہے؟ اَلمیہ یہ ہے کہ ساری زندگی بہت کچھ دنیا کے تجربے، اور لوگوں کے مزاج کو سمجھنے میں لگا دیتے ہیں، لیکن شریعت کا مزاج سمجھنے لیے، تفقّہ فی الدین کے لیے کوئی وقت نہیں دیتا الا ماشاء اللہ۔ شریعت کا حسین مزاج یہ ہے کہ تکلیف مالایطاق نہ ہو۔ یعنی بندے کو اس حکم کا مکلف نہ کیا جائے جس کے کرنے کی اس میں صلاحیت ہی نہیں رکھی گئی۔ بات کو صحیح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بناوٹ ایسی رکھی ہے کہ جتنے نیک کام کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے، اُن سب کے کرنے کی اس میں صلاحیت ہے۔ جیسے نماز پڑھنے کی، روزہ رکھنے کی، مال ہے تو زکوٰۃ ادا کرنے کی صلاحیت وغیرہ۔ اور جتنے گناہوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے تو اس بدن میں اس سے رکنے کی طاقت ہے کوئی پہلوان استعمال تو کرے۔ اسی طرح اوروں کو کھانا کھلانے میں کوئی لمبا چوڑا حکم نہیں ہے، بلکہ جیسی جس کی ہمت ہے اس کے حساب سے اپنی صلاحیت کو بروئے کار لائے۔ مثلاً گھر میں فروٹ زیادہ آگیا، کھانا تھوڑا زیادہ بنا لیا، یا کوئی مناسب کپڑا استعمال میں نہیں آرہا تو اِن سب صورتوں میں ہم دوسروں کو ہدیہ دے کر اُن کا دل جیت سکتے ہیں۔ کوئی واہ واہ نہیں، کوئی تعریفوں کے پُل باندھنے والی بات نہیں۔ بس اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جتنا کر سکتے ہیں اتنا کریں۔
خدمتِ خلق میں مبالغہ آرائی سے گریز:
اس کھانا کھلانے میں، دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے میں عام طور پر یہ دھوکہ لگ جاتا ہے کہ جی ہم بہت بڑا کام کر رہے ہیں، اب باقی تمام دین سے چھٹی۔ سارا سال فجر نہیں پڑھنی، اور باقی نمازیں بھی مرضی ہوئی تو پڑھ لی۔ سودی نظام چلا رہے ہیں۔ اور اس کے لیے لوگوں سے اُن کا مال لے رہے ہیں، اور من مرضی سے استعمال کر رہے ہیں۔ ان سب کے بعد کیاساری شریعت ختم ہو جائے گی؟ بھئی! ہر عبادت کا حکم اپنی جگہ ہے۔ عبادات کو آپس میں ٹکرانے کی کوشش نہ کریں۔ ہر عمل کو اس کے درجے میں کریں جس درجے میں وہ ہے۔
واقعہ کربلا میں اعتدال:
جب ہم صحابہ کرا کے حالات اور اُن کی بہترین دینی تربیت کا مطالعہ کریں گے، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ دینِ اسلام میں اعتدال کا بہت اہتمام ہے۔ اور اِفراط وتفریط سے بچنا ہے۔ 10 محرّم کی حرمت اور عزت صرف واقعہ کربلا کے ساتھ نہیں ہے، یہ تو گزشتہ انبیائے کرام کے زمانے سے چلتی آرہی ہے اور قیامت تک رہے گی۔ چناںچہ حضرت حسین کی شہادت جو 10 محرّم کو ہوئی، وہ اہلِ بیت میں سے ہیں۔ اُن کا بہت بڑا مقام ہے۔ ان کے مقام کے بارے میں رائی کے دانے کے برابر بھی کچھ کمی کر دی تو نقصان ہو جائے گا۔ اپنے ایمان کے لالے پڑ جائیں گے۔ اُن کا مقام بہت بلند، قربانی بہت عظیم ہے۔ ہم یوں کہیں گے کہ اس عظیم قربانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے عظیم شخصیت کو عظیم دن میں فضیلت دی۔ قربانی بھی عظیم، خاندان بھی عظیم، شخصیت بھی عظیم، واقعہ بھی عظیم، اور اس عظیم واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم دن کے ساتھ نسبت دے دی۔ اگر پانچ دن پہلے یا پانچ دن بعد یہ واقعہ ہوتا، تب بھی 10 محرّم کی عظمت اور عزّت اپنی جگہ رہتی۔ صحابہ کرام اور اہلِ بیت میں سے ہر ایک کا بڑا مقام ہے، ہم کسی کی بھی عظمت میں کمی نہیں کرسکتے۔
غلط فہمی کا اِزالہ:
بعض لوگ محرّم کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں اور اس مہینے میں شادی نہیں کرتے۔ یہ معاملہ بھی لاعلمی کی وجہ سے ہے۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ کوئی دن، کوئی وقت اور کوئی بھی زمانہ منحوس نہیں ہوتا۔ نبی کریم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بنی آدم مجھے ایذا دیتا ہے یعنی میری شان کے خلاف بات کہتا ہے۔ وہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے حالاںکہ زمانہ تو میں خود ہوں یعنی زمانہ میرے تابع ہے اور میرے ماتحت ہے، میرے ہی قبضہ قدرت میں ہے۔ اور میں ہی رات اور دن کو پلٹتا ہوں۔
(صحیح بخاری: رقم 4826، صحیح مسلم: رقم 2246)
اس لیے کسی بھی دن یا مہینے کو منحوس سمجھنا مناسب نہیں۔ نحوست کا دن کسی بھی شخص کے حق میں وہ ہے جس دن کی اس کی فجر چلی گئی، تلاوت نہیں کی، پورا دن گزر گیا اور کچھ گھڑی بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کیا۔ اس لیے جب محرم الحرام کی عظمت دل میں ہوگی تو کسی طور سے کوئی اسے نحوست کی طرف منسوب نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کا خیال اور رجحان یہ ہوگا کہ اس عظمت والے مہینے میں شادی کرنے سے تو برکت ہوگی۔ شروع میں ماہنامہ دار العلوم دیوبند سے یہ بات پیش کی گئی تھی کہ حضورﷺ اور اُمّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کا نکاح محرّم الحرام کے مہینے میں ہوا ہے۔ اس سے بڑی دلیل اور کیا سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ربّ العزّت ہمیں دونوں جہاں کی عزّتیں اور برکتیں عطا فرمائے۔ یہ بارہ کے بارہ مہینے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ اس میں ہم اللہ تعالیٰ کو منانے کی فکر کریں۔ یہ تو آدمی جانتا ہے کہ کب اس دنیا میں وہ آیا ہے، لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں کہ کب اس دنیا سے واپس جائے گا۔ اس لیے نافرمانی والی زندگی کو چھوڑ کر فرماں برداری والی زندگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں