مخنث(ہیجڑا، شی میل) سے مصافحہ کرنا


سوال
مرد کا مخنث (ہیجڑا، شی میل)کو ہاتھ سے سلام کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟

جواب
مخنث (ہیجڑا، شی میل)چوں کہ مرد کے حکم میں ہے، لہذا مرد کے لیے اس سے مصافحہ کرنے کی اجازت ہے، البتہ اگر فتنے کا باعث ہو یا وہ مخنث (ہیجڑا، شی میل)جس میں خواتین کی خصلت غالب ہو، اس سے مصافحہ کی اجازت نہیں؛ کیوں کہ وہ اجنبیہ خاتون کے حکم میں ہے۔

المبسوط للسرخسي  میں ہے:

“وَالْكَلَامُ فِي الْمُخَنَّثِ عِنْدَنَا أَنَّهُ إذَا كَانَ مُخَنَّثًا فِي الرَّدَى مِنْ الْأَفْعَالِ فَهُوَ كَغَيْرِهِ مِنْ الرِّجَالِ، بَلْ مِنْ الْفُسَّاقِ يُنَحَّى عَنْ النِّسَاءِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ فِي أَعْضَائِهِ لِينٌ وَفِي لِسَانِهِ تَكَسُّرٌ بِأَصْلِ الْخِلْقَةِ وَلَايَشْتَهِي النِّسَاءَ وَلَايَكُونُ مُخَنَّثًا فِي الرَّدَى مِنْ الْأَفْعَالِ فَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ مَشَايِخِنَا فِي تَرْكِ مِثْلِهِ مَعَ النِّسَاءِ؛ لِمَا رُوِيَ «أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ يَدْخُلُ بَعْضَ بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً فَاحِشَةً»، «قَالَ لِعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ: لَئِنْ فَتَحَ اللَّهُ الطَّائِفَ عَلَى رَسُولِهِ لَأَدُلَّنَّكَ عَلَى مَاوِيَةَ بِنْتِ غَيْلَانَ؛ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا كُنْت أَعْلَمُ أَنَّهُ يَعْرِفُ مِثْلَ هَذَا أَخْرِجُوهُ»”. (كِتَابُ الِاسْتِحْسَانِ، وَالْعَبْدُ فِيمَا يَنْظُرُ مِنْ سَيِّدَتِهِ، ١٠ / ١٥٨، ط: دار المعرفة) فقط والله أعلم

فتوی نمبر : 144108200510

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Reply