66

مرد اور عورت پر حج کی فرضیت، نیز عمرہ کرنا سنت ہے

سوال: مفتی صاحب ! سوال یہ ہے کہ مرد و عورت پر حج کب فرض ہوتا ہے؟ نیز اسی طرح یہ بھی بتا دیں کہ کیا عمرہ کرنا بھی واجب یا فرض ہے؟

جواب: (1) جس شخص کے پاس اسکی حاجات اصلیہ اور حج سے واپس آنے تک اس کے اہل وعیال کے نفقہ کے علاوہ اتنی رقم ہو، جو حج کے تمام اخراجات کیلئے کافی ہو، یا نقد رقم تو نہ ہو، لیکن اسکی ضروریات سے زائد اتنی جائیداد یا مالِ تجارت موجود ہو، جس کو فروخت کرکے حج کے اخراجات کے بقدر رقم حاصل ہوجائے، تو دونوں صورتوں میں وہ شخص صاحبِ استطاعت شمار ہوگا، اور اس پرحج فرض ہو جائے گا۔عورت پر حج فرض ہونے کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر اس عورت کے ساتھ حج پر جانے کیلئے محرم یا شوہر اپنے خرچ پر حج کے لیے جانے پر تیار ہو، تو عورت پر حج فرض ہوگا، لیکن اگر عورت کا شوہر یا کوئی محرم اپنے خرچ پر ساتھ جانے کے لیے تیار نہ ہو، تو عورت پر حج کی ادائیگی فرض ہونے کے لیے اپنے سفرِ حج کے اخراجات کے ساتھ شوہر یا محرم کے سفرِ حج کے اخراجات کا انتظام کرنا بھی شرط ہوگا، لہٰذا اگر کوئی محرم اپنے خرچ پر ساتھ جانے والا نہ ہو، اور عورت کے پاس اپنے اور محرم کے سفری اخراجات نہ ہوں، تو اس پر فی الحال حج کی ادائیگی فرض نہیں ہوگی۔(2) استطاعت اور قدرت ہونے کی صورت میں زندگی میں ایک مرتبہ عمرہ کرنا سنتِ مؤکدہ ہے
۔
“واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

دارالافتاء الاخلاص، کراچی”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں