مریض کی دیکھ بھال

مریض کی دیکھ بھال

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمo
﴿قَدْ جَآ ءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌمِّنْ رَّ بِّکُمْ وَ شِفَآءُ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ﴾
(یونس:57)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ o
وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

دو شفا دینے والی چیزیں:
اللہ رب العزت نے قرآن مجید کو اُتارا اور اس کو سینوں کے لیے شفا کا ذریعہ بنایا۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ دو شفا دینے والی چیزوں کو لازم پکڑلو: ایک قرآن مجید اور دوسرا شہد۔ (مشکٰوۃ:حدیث نمبر4368 صفحہ391)
ان دونوں کے بارے میں قرآن مجید کے اندر تفصیلات موجود ہیں۔ قرآن مجید سینوں کی گھٹن کے لیے شفا ہے۔ چونکہ دلوں کے اندر بغض ہے، کینہ ہے، عداوت ہے اور دوسرے گناہوں کی ظلمتیں ہیں ان کے لیے شفا ہے اور شہد کو جسمانی شفا کے لیے بنایا اور اس کو انسانوں کے لیے اُتارا۔ایک حدیث میں آتا ہے:
’’اگر ایک آدمی پورے مہینے میں صرف تین دن شہد چاٹ لے تو اس کو کوئی بڑی بیماری نہیں ہوگی‘‘۔ (مشکٰوۃ صفحہ391حدیث نمبر4367)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے انعام ہے۔ اسلام صرف نماز، روزہ،حج اور زکوٰۃ کا نام نہیں ہے۔ یہ تو اسلام کے ارکان ہیں۔ اسلام چوبیس گھنٹے کی زندگی کا نام ہے۔ اگر ہماری زندگی میں نیت اور رُخ ٹھیک ہو تو ہمارا ہر ہر کام دین بن سکتا ہے اور ہمیں جنت میں پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ صحت اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
عافیت کی دعا:
ایک دفعہ نبیﷺ سے کسی صحابی نے پوچھا کہ اللہ کے نبیﷺ ! نماز کے بعد کون سی دعا مانگا کریں؟ تو آپﷺ نے فرمایا:
سَلِ اللہَ الْعَافِیَۃ (مسند احمد)
’’اللہ سے عافیت (صحت )کی دعا مانگا کرو‘‘۔
تو صحت بہت بڑی نعمت ہے۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ جس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کو جسمانی عافیت یعنی صحت مل گئی اور اس کو اپنے بارے میں امن مل گیا اور اس دن کی خوراک اُس کے پاس موجود ہے تو اس نے مکمل کامیابی کے ساتھ صبح کی اور گویا پوری دنیا اُس کے لیے جمع کردی گئی۔ (ترمذی)
صحت کو بڑی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے اور یہ بھی حدیث ہے کہ اللہ رب العزت کو کمزور کی بہ نسبت صحت مند مومن زیادہ پسند ہے کیونکہ وہ اعمال زیادہ کرسکتا ہے۔ صرف نماز، روزہ نہیں کسی کی مدد کرنا اور اپنی ڈیوٹی کو نبھانا، گھر والوں کی کفالت اور اُن کا خیال رکھنا، یہ سارے کام وہ زیادہ بہتر انداز میں کرسکتا ہے۔ اسی لیے صحت کو بڑی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اللہ ہم سب کو صحت عطا فرمائے آمین۔
بیماروں کے لیے آسانیاں:
اب نبیﷺ نے صحت کا کتنا خیال رکھا، اس کو بھی ایک مثال کے ساتھ سمجھیں۔ ارشاد فرمایا کہ ’’دیکھو! اگر تم بیمار ہو پانی کا استعمال تمہارے لیے مشکل ہے ، تکلیف ہوتی ہے اور ڈاکٹر نے بتادیا کہ پانی کا استعمال تمہارے اس زخم کے لیے نقصان دہ ہے تو فرمایا تیمم کرلو‘‘ کیونکہ بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی ،لیجیے! اللہ رب العزت کی طرف سے رعایت مل گئی اور پانی کو بھی معافی کردیا اور فرمایا کہ تیمم کرلو۔ تو یہ بھی صحت کا خیال رکھنے کی ایک نشانی ہے اور ایک بنیادی اصول سمجھا دیا۔
قرآن وحدیث کی حقانیت کی ایک مثال:
ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں ایک عیسائی آیا جو پادری بھی تھا حکیم بھی تھا۔ ہارون رشید کے دربار میں آکر اُس نے کہا کہ تم لوگ یہ Claimکرتے ہو کہ قرآن کے اندر ہر چیز کا علم موجود ہے تو بتاؤ کہ کیا صحت کے بارے میں اُس میں رہنمائی موجودہے؟ تو وہ زمانہ ایسا تھا جب وقت کے بادشاہ اہل علم کے قدردان ہوتے تھے، سنت کے قدردان تھے، علماء اُن کے پاس ہوتے تھے۔ تو ایک عالم دربار میں کھڑے ہوکر کہنے لگے کہ جی میں جواب دوں؟ جی بتائیے؟ انہوں نے فرمایا کہ دیکھو قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا:
﴿کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا﴾ (سورۃ الاعراف:31)
’’کھاؤ پیو! مگر اسراف نہ کرو‘‘۔
کھاؤ اور پیو مگر Overeating نہ کرو‘‘اور آج ہم Overeatingسے بھی آگے چلے گئے ہیں۔ اب ڈاکٹر یہاں بیٹھے ہیں، آپ کے پاس جتنے بھی Hospital میں مریض آتے ہیں تو اکثر وبیشتر Overeating کے شکار ہوتے ہیں، کم کھانے والا آپ کے پاس کم ہی آیا ہوگا جو کم کھانے کی وجہ سے بیمار ہو۔ تو جب اس نے سوال کا جواب سنا تو خاموش ہوگیا۔ پھر کہنے لگا کہ اچھا تم کہتے ہو کہ تمہارے نبیﷺ نے بھی تمہیں سب کچھ بتایا ہے، تو صحت کے بارے میں تمہارے نبیﷺ نے کیا بتایا؟ اب ہارون رشید نے پھر علماء کی طرف دیکھا اور وہی عالم کھڑے ہوئے اور انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ہمارے نبیﷺ نے بتایا: ’’معدہ تمام بیماریوں کی جڑ ہے، لہذا تم معدے کو وہی دو جس کی اُس کو ضرورت ہے‘‘۔ نبیﷺ نے چودہ سو سال پہلے یہ اصول کی باتیں بیان فرمادیں، اور میڈیکل سائنس آج بھی ان کی تصدیق کرتی ہے۔ معدہ تمام بیماریوں کی جڑ ہے تم معدے کو وہی دو جس کی اُس کو ضرورت ہے۔ غذا کی ضرورت ہے تو غذا دو، علاج کی ضرورت ہے دوائی کی ضرورت ہے تو پرہیز کرو۔ اس نے یہ بات سنی خاموش ہوا، سر جھکایا اور تھوڑی دیر بعد کہنے لگا کہ تمہارے قرآن یعنی تمہارے خدا نے اور تمہارے نبیﷺ نے جالینوس کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، اورخاموش ہوکے چلا گیا۔
آپﷺ کے زمانہ کے ایک حکیم کا واقعہ:
نبیﷺ کے زمانے میں ایک مرتبہ ایک حکیم کو پتہ چلا کہ یہاں اس علاقے میں اتنے لوگ رہتے ہیں اور یہاں کوئی ڈاکٹر،حکیم، طبیب و غیرہ نہیں ہے تو یہاں ایک دکان (Clinic)کھول لیتے ہیں۔ میں اکیلا ہی ہوں یہاں توخوب کام چلے گا۔ اللہ کی شان وہ آکے بیٹھ گیا۔ مہینوں گزرگئے اُس کے پاس کوئی بیمار نہیں آیا۔ پریشان ہو گیا۔ ہمارے کاروبار میں کوئی خرابی آجائے تو ہم بھی پریشان تو ہوتے ہی ہیں۔ تو وہ نبیﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں تو ادھر آیا تھا کہ میرا کاروبار بہترہوگا لیکن ادھر تو میرے اگلے بھی گئے ،آخر وجہ کیا ہے؟ یہ مفہوم عرض کررہا ہوں۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ دیکھو! یہ وہ لوگ ہیں جب بھوک لگتی ہے تب کھاتے ہیں اور جب تھوڑی سی بھوک باقی ہوتی ہے تو کھانا چھوڑدیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ بیمار نہیں ہوتے توآپ کے پاس کیالینے آ ئیں گے؟یہ صحت کے بنیادی اصول ہیںجو نبیﷺ نے ہمیں بتائے ہیں۔ تو اسلام تمام چیزوں کے متعلق ہمیں ہدایات دیتا ہے۔ اسی لیے صحت کی دعا مانگنے کا بھی ہمیں کہا گیا کہ دیکھو اپنے لیے صحت مانگو۔
نرسوں سے خاص بات:
مجھے آج نرسوں سے خاص بات کرنی ہے اور صحابیات کے متعلق بھی کچھ بتانا ہے۔
صحابیاتl کا عمل:
ایک جہاد میں نبیﷺ شدید زخمی ہوگئے۔ تکلیف ہوئی تو بی بی فاطمہr نے کوئی چیز جلاکے اُس کی راکھ بنائی اور آپﷺ کے زخم پر لگائی تو اللہ نے مہربانی فرمادی۔ اور اس کے علاوہ اس زمانہ میں صحابہ کرام] جہاں بھی جہاد کے لیے جاتے تھے تو عورتیں ساتھ ہوتی تھیں اور وہ باقاعدہ طور پر زخمیوں کا علاج اور ان کا خیال( Care taking ) پوری پوری کرتی تھیں ۔صحابیات کے اندر اتنا حوصلہ تھا کہ وہ نہ صرف اپنے مریضوں کا خیال رکھتی تھیں بلکہ اگر کوئی کافر سامنے آجاتا تو اس کے خلاف جہاد کرنے کھڑی ہوجاتی تھیں۔ ایک دفعہ یاد آرہا ہے کہ مسلمان کسی وجہ سے پیچھے ہٹے حملہ شدید تھا تو وہ خیموں کی میخیں اُکھاڑ کر ان کے سامنے آگئیں، تو ان کو دیکھ کر مسلمان پھر واپس آگئے ۔تو یہ چیز اسلام میں پہلے سے موجود ہے اور اس کے بارے میں ہمیں ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
ڈیوٹی بھی اور درجات کی بلندی بھی:
دیکھیں! اب یہاں نرسوں نے مریض کی دیکھ بھال کرنی ہے۔ ان کے کپڑے اُتارنے، پہنانے،کھلانا، پلانا وغیرہ۔ اب اس کے اندر اگر یہ سنت کا اہتمام کرلیں، سنت کی نیت کرلیں اور خدمتِ خلق کی نیت کرلیں تو ہر کام عین عبادت ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ
’’بنی اسرائیل کی زانی اور فاحشہ عورت کہیں جارہی تھی راستے میں ایک پیاسا کتا ملا اس نے کسی طریقے سے اُس پیاسے کتے کو پانی پلایا ، نبی ﷺنے فرمایاکہ اللہ نے اُس کی مغفرت کردی‘‘۔
کتے کو پانی پلانے پر اللہ رب العزت کی رحمت متوجہ ہوسکتی ہے تو یہاں جو بیمار ہیں، یہ انسان ہیں اور اللہ رب العزت کو انسانوں سے محبت ہے تو ان کی خدمت پر ہمیں کتنی رحمتیں مل سکتی ہیں اِس کا ہم شمار بھی نہیں کرسکتے۔
نیت کیا ہو؟
لیکن نیت ہمیں خدمت خلق کی کرنی پڑے گی۔ ماہانہ جو پیسے ملتے ہیں وہ تو مل ہی جائیں گے اس کی طرف توجہ نہ ہو۔ توجہ یہ ہونی چاہیے کہ ہم انسان نیت کی خدمت کررہے ہیں اور سنتوں کا خیال رکھیں۔
مریض کےلیےعبادت کرنا آسان بنایئے!
کوئی مریض نماز پڑھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اہتمام کریں۔ اُس کو یہ مسئلہ نہ بتائیں کہ دین میں یہ آسانی ہے کہ نمازیں چھوڑ دو۔ نہیں، دین میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نمازیں چھوڑ دو۔ آسانی کا مطلب یہ ہے کہ کھڑے ہو کرنہیں پڑھ سکتے بیٹھ کر پڑھ لو، بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھ لو، وضو نہیں کرسکتے تیمم کرلو۔ اگر کوئی نماز پڑھنا چاہے تو کوشش کریں کہ اُس کی مدد کریں۔ کپڑے اُتارنے، پہنانے ہیں تو بھی سیدھی طرف سے پہنائیں سنت کا ثواب لیں اُلٹی طرف سے اُتار کے سنت کا ثواب لیں۔
پاکی ناپاکی کا خیال رکھیں:
اسی طرح پاکی ناپاکی کا خیال رکھیں۔ خون ناپاک ہے، پیشاب ناپاک ہے۔ اپنے لباس ، اپنے جسم کا، اپنے ہاتھوں کا بھی خیال رکھیں اور اُس مریض کے بارے میں بھی، انہی چیزوں کا خیال رکھیں۔ جتنا ان چیزوں کا ہم خیال رکھیں گے اتنا ہی ہمیں عبادت کا ثواب ملتا جائے گا۔
باوضو رہنے کا اہتمام:
باوضو رہنے کی کوشش کریں۔باوضو رہنے کے بارے میں چند باتیں سب کے لیے ہیں، میرے لیے بھی ہیں اور آپ کے لیے بھی ہیں کئی باتوںکی وجہ سے دل روتا ہے۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہہ رہا ہوں کہ دل میںتکلیف میںہوتی ہے ۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
کَمَا تَعِیْشُوْنَ تَمُوْتُوْنَ (مرقاۃ المفاتیح)
’’جیسی تم زندگی گزارو گے ویسی ہی تمہیں موت آئے گی‘‘۔
اُصول بتادیا تو اب ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم اب کس ڈھب سے زندگی گزاررہے ہیں۔ اگر ہم باوضو زندگی گزاریں گے تو ان شاء اللہ ہمیں باوضو موت آئے گی۔ لیکن آج کل ہم ٹی وی کے سامنے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر وقت گانے، بے حیا عورتیں سامنے ناچ رہی ہوتی ہیں اور ہم شوق سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔مجھے کئی دفعہ موقع ملا مختلف Hospitalsکے ICUمیں گیا ، اُن لوگوں کی عیادت کی جن کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی۔ ایک صاحب کے پاس گیا وہ ریڈیو سن رہے تھے، کمنٹری لگی ہوئی تھی۔ ایک اور صاحب کے پاس گیا تو میرے خیال سے ان کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی، ٹی وی چل رہا تھا، ناچ گانے چل رہے تھے اور و ہ صاحب ان کو دیکھ رہے تھے۔ تو مجھے حدیث یاد آئی کہ آقاﷺ نے فرمادیاتھا کہ جیسی زندگی گزارو گے ویسی ہی موت آئے گی۔ تم نے ناچ گانے کے ساتھ زندگی گزاری ہے موت کلمہ پر کیسے ملے گی۔ موت بھی پھر اسی طرح آئے گی کہ ICUمیں ہیں۔ مرنے کا وقت قریب ہے کوئی پتا نہیں کس وقت دنیا سے چلے جائیں، اس وقت بھی ناچ گانے کو دیکھ رہے ہیں نامحرموں کو دیکھ رہے ہیں۔
کَمَا تَعِیْشُوْنَ تَمُوْتُوْنَ
’’جیسی تم زندگی گزارو گے ویسی ہی موت آئے گی‘‘۔
یہ ہم سب کے لیے ایک اصول وضابطہ ہے۔ طریقہ بتادیا تو ہم باوضو زندگی گزارنے کی کوشش کریں اس نیت کے ساتھ کہ ہمیں باوضو موت آجائے۔
عیادت کے فضائل:
اب عیادت کے بارے میں چند احادیث سن لیجئے! اللہ رب العزت نے اور نبیﷺ نے اس بارے میں کتنی تلقین کی ہے۔ ان باتوں سے آپ کو ان شاء اللہ اندازہ ہوگا۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے وضو کیا اور سنت کے مطابق Properوضو کیا اور ثواب کے ارادے سے، اچھی نیت کے ساتھ عیادت کے لیے گیا، منہ دکھانے کے لیے نہیں۔ آج ہم جنازہ بھی منہ دکھانے کے لیے پڑھتے ہیں، عیادت بھی منہ دکھانے کے لیے کرتے ہیں اور تعزیت کے لیے بھی بس خالی منہ دکھانے کا عمل ہی رہ گیا۔ لیکن اگر ثواب کی نیت ہو اللہ کی رضا کی نیت ہو تو نبیﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو ایک عیادت کرنے پر دوزخ سے ستر سال دور کردیتے ہیں ۔
(مشکٰوۃ حدیث نمبر1466،ابوداؤد)
ڈیوٹی کی ڈیوٹی ثواب کا ثواب:
اب یہ جولوگ Hospitalمیں دن رات کام کرتے ہیں، ڈاکٹر ہیں یا نرسیں ہیں، ان سب لوگوں نے اپنے Roundپر بھی جانا ہے، اپنی Dutyبھی نبھانی ہے۔ نیت کو ٹھیک کرلیں تو ہر مریض کی عیادت پر اللہ یہ ثواب عطا فرماتے ہیں، اللہ کے پاس کوئی کمی نہیں ہے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ ان میں سے ایک تیمارداری اور اُس کا خیال رکھنا بھی ہے۔ پھر ایک حدیث میں آتا ہے جس نے دن کے پہلے حصے میں مریض کی عیادت کی تو شام ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کرتے رہتے ہیں، اور جس نے شام کوعیادت کی تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کرتے رہتے ہیں۔
(مشکٰوۃ حدیث نمبر1464،ترمذی ،ابوداؤد)
نیت کا ٹھیک رکھنا لازم ہے:
اب صبح آئےDuty joinکی اُس وقت ایک Roundلگایا اور ایک جاتے ہوئے لگایا تو چوبیس گھنٹے آپ دعاؤں میں ہیں لیکن نیت ٹھیک رکھنا پڑے گی کہ ہم خدمت خلق کی نیت کریں۔
عیادت سے جنت:
ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی بیمار کی عیادت کرتا ہے تو ایک پکارنے والا آسمان سے ندا دیتا ہے کہ تیرے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہو، اور تیر ا اس کی عیادت کے لیے چل کے آنا مبارک ہو، اور تونے جنت میں ایک بڑا مقام حاصل کرلیا۔
(مشکٰوۃ حدیث نمبر 1489،ابن ماجہ)
اور اگر کوئی گاڑی میں جائے گا تو ان شاء اللہ اُسے بھی ثواب مل جائے گا۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے: جب کوئی آدمی کسی کی عیادت کے لیے گیا جتنی دیر تک وہ عیادت کرنے کی جگہ پر رہتا ہے وہ اللہ رب العزت کی رحمت کے دریا میں ہوتا ہے۔
(مشکٰوۃ حدیث نمبر 1495،رواہ ابن مالک واحمد)
اور ایک حدیث میں آتا ہے نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو دشمنوں سے چھڑاؤ۔ اور خود نبیﷺ اس کا خوب اہتمام فرماتے تھے اور اس کی لوگوں کو ترغیب بھی دیتے تھے۔ اب اس کے اندر انتہا دیکھیے! کیسی عجیب بات ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایاکہ
’’ قیامت کے روز اللہ رب العزت اپنے بندے کو بلا کر ارشاد فرمائیں گے: اے ابن آدم! اے میرے بندے! میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت ہی نہ کی؟ کہے گا: اللہ! آپ کیسے بیمار ہوگئے میں آپ کی عیادت کیسے کرتا؟ اللہ فرمائیں گے: اے میرے بندے! تیرا وہ پڑوسی بیمار تھا تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے وہاں یقیناً پالیتا‘‘۔
(مشکٰوۃ حدیث نمبر 1441،مسلم)
تو مریض کی عیادت کرنے پر اس سے زیادہ Statement Strong اور کیا ہو سکتی ہے کہ دیکھو تم بیمار کی عیادت کرتے تو مجھے وہاں پالیتے۔ اللہ اکبر! تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح نیت کے ساتھ ان تمام امور کو سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
تکالیف کا اجر :
اس زندگی کے اندر حالات اور پریشانیوں کا آنا تو ہوتاہی ہے۔بعض اوقات یہ ہمارے گناہوں کی معافی کا سبب بنتی ہیں اور بعض اوقات درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو کوئی مشقت کوئی تھکن کوئی فکر، کوئی رنج،اذیت، ٹینشن، ڈپریشن، پریشانی نہیں پہنچتی کہ جس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف نہ ہوجائیں۔ (مشکٰوۃحدیث نمبر1451،بخاری و مسلم)
یہ جتنی تکلیفیں آتی ہیں یہ ہمارے لیے گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہیں۔ بخار کے بارے میں فرمایا کہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔ (مشکٰوۃحدیث نمبر1456، مسلم)
ایک حدیث میںآتا ہے کہ بندے کو جب بخار ہوتا ہے تو ایک دن کا بخار ایک سال کے گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتا ہے۔ اب بخار تو ایک Normalسی چیز ہے، اس سے بڑی جو بیماریاں ہوں گی تو ان میں یقیناً اور زیادہ ثواب ملے گا۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ بیمار آدمی جب بستر پر لیٹا ہوتا ہے اس کو بستر پر لیٹنے کے دوران مصلّے پر کھڑے ہونے کا ثواب ملتا ہے، اس کی زبان سے آہ نکلتی ہے تو سبحان اللہ! الحمدللہ پڑھنے کا ثواب ملتا ہے اگر لمبی آہ نکلتی ہے ،تیز آواز نکلتی ہے تو کلمہ پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ بیمار آدمی جب بستر پر کروٹیں بدلتا ہے تو اس کو دشمن کے اوپر پلٹ پلٹ کر حملہ کرنے والے مجاہد کے جیسا ثواب ملتا ہے۔ اور اسی طرح حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ دیکھو! جب تم کسی کی عیادت کے لیے جاؤ تو بیمار سے دعا کی درخواست کیا کرو۔ اگر ہم اس کی خدمت کریں گے تو اس کے دل سے دعائیں نکلیںگی ۔
دعائیں کروانے اور دعائیں لینے میں فرق :
ایک ہوتا ہے دعائیںکروانا، اور ایک ہوتا ہے دعائیں لینا۔ دعائیں کروانے والے پھر بھی ہیں، دعائیں لینے والے نہیں رہے ۔ کروانے کا کیا مطلب ہے؟ یہ کہ آپ کسی کو کہہ دیں کہ بھئی! آپ میرے لیے دعا کریں تو یہ ایک عمل ہوگیا۔ یہ بھی ٹھیک عمل ہے، اچھا عمل ہے، لیکن ایک ہوتا ہے دعائیں لینا کہ آپ کسی کا دل سے اتنا اکرام کریں، اتنا خیال کریں، اتنی خدمت کریں کہ وہ دل کی گہرائی سے دعائیں دے اس کی بات ہی کچھ اور ہوگی۔ اُس پیاسے کتے کی بھی دل سے کوئی دعا ہی نکلی ہوگی کہ اللہ رب العزت کی رحمت کی نگاہ اس عورت پر پڑ گئی۔
ڈیوٹی امانت ہے:
بہرحال اگر ہم اپنی نیت کو ٹھیک رکھیں اور اسی طرح تمام امور ہم دیانتداری کے ساتھ سر انجام دیں تو یہ بہت اہم بات ہے۔ اب وہ کوئی ڈاکٹر ہو کوئی نرس ہو یااس Hospitalکے کسی بھی شعبے کا کوئی بھی فرد ہو سب کو جو جو Dutyدی گئی ہے یہ اللہ کی طرف سے دی جارہی ہے، اس کو ہم اللہ کی طرف سے سمجھیں۔ اور جو Dutyدی گئی ہے اس کو اگر ہم امانت کے ساتھ انجام دیں گے تو اس امانت کی ادائیگی پہ ان شاء اللہ ہمیں اللہ رب العزت کاقرب ملے گا۔ اور ایک حدیث میں تو یہ بھی نبیu نے ارشاد فرمایا کہ کوئی بھی شخص اپنی ڈیوٹی دیانتداری کے ساتھ پورا کرتا ہے اسے صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔ اگر کوئی Cashierکیشیئر ہے یا Accountantہے جو بھی سامان آرہا ہے جارہا ہے دیانتداری سے ڈیوٹی دے رہا ہے تو ہرہر چیز لینے دینے پر ہر ہر دفع صدقہ کا ثواب ملے گا۔ یا اسٹور کیپر ہے اس قسم کا جو بھی Out Inہورہا ہے چیزوں کا، پیسوں کا، غرض کسی بھی قسم کے سامان کا اور یہ امانتداری کے ساتھ اپنی Dutyکو پورا کرتا ہے تو ہرInاور Outپر اس کو صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ Hospitalمیں کوئی چیز آئی جیسے سرنج وغیرہ ایک ہزار کی تعداد میں آئی تو اب اس نے رکھ لی اب اس کی Distributionصحیح ہورہی ہے، اس میں کہیں گڑ بڑ نہیں ہورہی تو اللہ اس کو دیانتداری کا ثواب عطا فرمائیںگے حالانکہ اسنے اپنا تو کچھ نہیں لگایا۔ ہسپتال میں اور بھی بہت ساری چیزیں آتی ہوں گی دوائیاں آتی ہوں گی ، کیش بھی آتا ہوگا تو تمام چیزوں کو صحیح رکھنا اور امانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحیح طور پر آگے دے دینا، ایسے لوگوںکو ڈھیروں ثواب اور نیکیوں کا مستحق بنا دیتا ہے۔
منافق کی ایک نشانی:
اسی طرح حدیث کے اندر منافق کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک خیانت والی بتائی، اور فرمایا کہ مومن سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا اور خیانت کرنے والا نہیں ہوسکتا۔
خیانت کے لفظ کی وسعت:
ہم اتنا سمجھتے ہیں کہ فلاں آدمی کو ہم نے 10,000روپے دئیے اورپھر اس سے دس ہزار واپس لے لیے توگویا اس نے امانت کو ادا کردیا۔ یہ امانت کا بہت تھوڑا مفہوم ہے۔ امانت کا مفہوم در حقیقت بہت وسیع ہے۔ پوری کائنات میں کوئی بندہ ایسا نہیں جس کے اوپر یہ امانت کا مفہوم لاگو نہ ہوتا ہو۔ میاں بیوی کے اندر بھی ہے، باپ بیٹے کے اندر بھی، مریض اور ڈاکٹر کے اندر بھی ہے، نرس اور مریض کے اندر بھی ہے، غرض ہر ایک کے اندر ہے۔ مریض کے اندر کیسے؟ اورڈاکٹر کے اندر کیسے؟ایک ڈاکٹر بیٹھا ہوا ہے، مریض ملنے آیا اور اپنے آپ کو دکھانے آیا تو اب اس ڈاکٹر نے اس کو صحیح Check کرنا ہے۔ اگر اس نے صحیح Checkنہیں کیا، Timeپورا نہیں دیا اور اس کی تشخیص کے اندر جان بوجھ کر کمی کوتاہی کردی تو خیانت کا مرتکب ہوگا ۔ Dutyکی خیانت یہ ہے کہ صبح سے لے کر شام 4بجے تک Dutyہے تو وہ 3:30پر چلا گیا تو علماء نے لکھا ہے یہ خیانت ہے۔ ابDutyکسی اور کام کے لیے ہے ہم اخبار پڑھ رہے ہیں۔ گھر کے کام کررہے ہیں اور دوسری چیزیں کر رہے ہیں جس کی ہمیں اجازت نہیں تو علماء نے لکھا ہے کہ یہ بھی خیانت ہے۔
خیانت کی تعریف:
اس کا اصول کیا ہے؟ امانت میں کمی کرنے کو خیانت کہتے ہیں۔ امانت کس کو کہتے ہیں؟ اس کو سمجھ لینے سے خیانت سمجھ آجائے گی کہ خیانت کیا ہے؟ امانت کہتے ہیں کہ کسی ایک آدمی کا کسی دوسرے آدمی کے اوپر کسی بھی معاملے میں بھروسہ کر لینا اور اس کا اس معاملے کو پورا کردکھانا یہ امانت کہلاتا ہے۔ اس کو ہم میاں بیوی پر لے لیں! میاں کا بیوی کے اوپر بھروسہ کرلینا یا بیوی کا خاوند کے اوپر کسی بھی معاملے میں بھروسہ کرلینا اور وہ اس بھروسے کو پورا کر دکھائے یہ امانت کہلاتا ہے۔ یہ دنیا کے ہر شعبے میں اور ہر انسان پر لاگو ہوتی ہے، صرف پیسے کا لین دین اس میں شامل نہیں ہے۔
اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل :
اب اگر ہم اپنی Dutyکی ذمہ داریوں کو سمجھیں کہ یہ امانت ہے اس کو ہم نے پورا کرنا ہے اور ساتھ نیت خدمتِ خلق کی کرلیں تو اللہ رب العزت کو ایسا بندہ بہت پسند ہے۔ بندہ تو بہت دور کی بات ہے، حضرت سلیمانu اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جارہے تھے، ایک چیونٹی نے دیکھا کہ یہ لوگ لائو لشکر سمیت آرہے ہیں تو اس نے پہلے سے یہ Feelکرلیا کہ ایسا نہ ہو کہیں ان کے گھوڑوں کے پاؤں تلے ہم روندے جائیں تو اس نے مزید جو چیونٹیاں تھیں ان کو اطلاع کردی اور کہنے لگی:
﴿یٰٓاَیُّھَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَکُمْ لَایَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗ وَہُمْ لَایَشْعُرُوْنَ﴾ (سورۃ النمل:18)
’’اے چیونٹیو! تم اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کا لشکر تمھیںروند ڈالے اور انہیں پتا بھی نہیں چلے‘‘ ۔
اللہ رب العزت نے چیونٹی کی اس خیر خواہی کو قرآن میں ذکر کیا۔ چیونٹی کا ذکر قرآن میں ہوا ،اس واقعے کی وجہ سے پوری سورت کا نام ہی النمل رکھ دیا۔ النمل چیونٹی کو کہتے ہیں اور قیامت تک یہ قرآن پڑھا جائے گا تو یہ واقعہ یاد رہے گا۔ اللہ رب العزت کو کسی دوسرے کی خیر خواہی کرنا بہت پسند ہے، اور یہ بہت بڑا عمل ہے۔
خواتین کے لیے بہت ہی اہم نصیحت:
ایک آخری بات کرنی ہے وہ سب سے ہی ہے، لیکن عورتوں سے میں بہت زیادہ ہر جگہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں ہوسکتا ہے کسی مرد کو غصہ آجائے۔ اور وہ بات حیا اور پاکدامنی سے متعلق ہے۔ دنیا کے اندر عورت کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری اپنی عزت اور ناموس کی حفاظت کرنا ہے ۔ جس نے اپنی عزت وناموس کی حفاظت کرلی قیامت کے دن اللہ اس سے خوشی کی حالت میں ملیں گے، اللہ اس سے راضی ہوں گے، اللہ اس سے خوش ہوں گے۔ اور ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر کسی نے کسی کو دیکھا اس کی محبت اور اس کا تعلق اس کے اندر آگیا اور اس نے اپنے آپ کو پاکدامن رکھا، بچا کر رکھا ،کوئی کام خلافِ شریعت نہیں کیا دل میں اگلے کی محبت آگئی تھی قیامت کے دن اللہ اس کو شہیدوں کی صف میں کھڑا کریں گے۔
مرد وں کی موقع پرستی:
عورتوں کو جو بات کہنی تھی وہ صرف اتنی سی بات ہے کہ اصول بنائیں۔ وہ یہ ہے کہ مرد ہمیشہ ہمیشہ Opportunist ہوتے ہیں، موقع پرست ہوتے ہیں، موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کسی سے Messaging شروع کردینا، بات چیت شروع کردینا، ذرا سی اپنی Limits سے ہٹے تومعاملہ بے حد بگڑ جاتا ہے۔ مردوں کے اندر ایک چیز ہے کہ یہ ہمیشہ ہمیشہ ہمیشہ موقع پرست ہوں گے۔ کسی کے اوپر اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔ اپنا خیال خود رکھنا ہے۔ قیامت کے دن اللہ کو منہ دکھانا ہے اور اس حال میں دکھانا ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائیں ۔اس چیز کا بہت خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات مردوں کے لیے بھی ہے کہ یہ بھی اپنے آپ کو بچائیں، محفوظ رکھیںاور قیامت کے دن اللہ سے اس طرح ملاقات کریں کہ ذلت، شرمندگی اور رسوائی نہ ہو۔ حدیث میں آتا ہے:
اِنَّ رَبَّکُمْ حَیِّیٌ کَرِیْمٌ (سنن ابن ماجہ)
’’تمہارے رب حیا والے ہیں‘‘۔
با حیا بننے کی نیت:
صحابہ کے بارے میں بھی بتاتا چلوںکہ ایک ایک صحابی کو نبیﷺ کی محبت نے حیا کا نمونہ بنادیا تھا۔ تو اللہ رب العزت بھی حیا والے ،نبیﷺ بھی حیاوالے، صحابہ] بھی حیا والے، اللہ والے بھی حیا والے ، تو ان کے ساتھ قیامت میںکسی بے حیا آدمی کو کیسے جوڑدیا جائے گا؟ اگر کسی سے کوئی غلطی کبھی ہوگئی ہو تو وہ تو بہ کرے۔ پوری زندگی میں کوئی لمحہ ایسا نہیں آتا ہے کہ گناہ معاف نہ ہوسکے۔ ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا، لیکن آج سے ہم ارادہ کریں۔ آپ بھی کریں، میں بھی ارادہ کرتا ہوں کہ اللہ! ہم آپ سے قیامت کے دن پاکدامنی کی حالت میںملنا چاہتے ہیں، ہمارے لیے آسانی کردیجئے ۔اور حدیث مبارکہ کے اندر آیا، نبیﷺ نے Clearlyبتا دیا کوئی بات اس میں مخفی نہیں رکھی، ہم قیامت کے دن کوئی وجہ نہیں پیش کرسکتے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو پاکدامن رہنا چاہے اللہ اس کے لیے ایسے حالات پیدا کردیں گے کہ پاکدامن رہے گا۔ مطلب یہ کہ اگر اندر کھوٹ نہیں ہے اوربندہ باحیا رہنا چاہتا ہے تو پھر اللہ کی مدد اسکے لیے آئے گی تو اللہ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ دین پر چلنا ہمارے لیے آسان فرمائے اور آپ لوگوں کی جو اوپر سے لے کر نیچے تک جتنی بھی Managementہے اللہ بے حد قبول فرمالے اور اس خدمت خلق کے بدلے اللہ رب العزت اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے اور اپنی رحمتوں میں شامل فرمائے۔ آمین

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

Leave a Reply