مسجد كے اندر اذان دینے کا حکم

سوال

اذان عموماً مسجد کے باہر ہی دی جاتی ہے ، مگر بہت سی جگہ بالکل مسجد کے اندر آذان دی جاتی ہے، جواز میں تو اشکال نہیں ہے، مگر بعض علماء نے مکروہ تنزیہی ہی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ خدا کے گھر میں مکروہ تنزیہی کا بھی مرتکب نہیں ہونا چاہئے، اس بنا پر جہاں مسجد میں اذان دی جاتی ہے اس پر نکیر کی جائے یا نہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم

اذان کے کلمات میں اللہ کی بڑائی ، شہادتین کا ذکر اور نماز کی دعوت وغیرہ ہے ،ان میں کوئی ایسا کلمہ یا مضمون نہیں ہے، جو احترام مسجد کے خلاف ہو؛ اس لیے مسجد کے اندر اذان بلاکراہت جائز ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کی اذان ثانی میں وہی سب کلمات ہیں، جو عام اذانوں میں ہیں اور جمعہ کی اذان ثانی مسجد میں خطیب کے سامنے ہوتی ہے۔ اور اذان و اقامت دونوں کے کلمات تقریباً یکساں ہیں اوراقامت مسجد ہی میں ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ مسجد میں اذان بلا کراہت جائز ہے؛ البتہ چوں کہ اذان میں زیادہ سے زیادہ آواز کی بلندی اور اس کا دور تک پہنچانا مطلوب ہے؛ اس لیے اگر مسجد کے اندر مکبر الصوت (مائیک) کا نظم نہ ہو، جس کی وجہ سے موٴذن کی آواز مسجد کے باہر دور تک نہ جاسکے تو کسی ایسی جگہ کھڑے ہوکر اذان دینا چاہیے، جہاں سے دور تک آواز پہنچے اور اذان کا مقصد حاصل ہو اگرچہ وہ جگہ مسجد سے باہر ہو۔ اسی طرح اگر مائیک وغیرہ کا محفوظ نظم خارج مسجد کسی حجرے میں ہوتوخارج مسجد حجرے سے اذان دینے میں کچھ حرج نہیں۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، ۲: ۸۵، سوال: ۹۵، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند، آداب اذان واقامت، موٴلفہ: حضرت مفتی محمد امین صاحب پالن پوری مد ظلہ استاذ حدیث وفقہ دار العلوم دیوبند، ص ۷۳- ۷۵، خیر الفتاوی ۲: ۲۱۱، مطبوعہ: پاکستان)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

ماخذ: دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر: 168168

Leave a Reply