مسجد کی کھڑکیوں پر اس طرح کے شیشے لگے ہیں کہ مغرب کے وقت ان شیشوں میں اندر کا منظر دکھنے لگتاہو،اس طرح کے شیشے لگے رہنا ٹھیک ہے ؟

ایک مسجد کی کھڑکیوں پر اس طرح کے شیشے لگے ہیں کہ مغرب کے وقت ان شیشوں میں اندر کا منظر دکھنے لگتاہے، نمازی اس میں آپنے آپ کو دیکھنے لگتے ہیں ، اور امام صاحب جہاں نمازپڑھاتے ہیں وہاں بھی سامنے کی طرف ایک شیشہ ہے، جب نماز کے لیے صف بندی ہوتی ہے تو ساری صفیں سامنے والے شیشے میں دکھنے لگتی ہیں اور نماز ی کی شکل بھی دکھنے لگتی ہے، لوگوں کا دھیان اکثر وہاں چلا جاتا ہوگا، کیا اس طرح کے شیشے لگے رہنا ٹھیک ہے ؟ جائز ہے یا انہیں بدلوایا جائے ؟ اس طرح سب کی نماز ہوجائے گی یا نہیں؟؟

جواب نمبر: 58665
بسم الله الرحمن الرحيم

جانب قبلہ کی دیوار میں نقش ونگار کرنے کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ اس سے مصلی کا ذہن منتشر ہوگا، نماز میں خشوع خضوع نہ رہے گا، اس سے معلوم ہوا کہ سامنے کے شیشے کی وجہ سے اگر نمازی کے خشوع وخشوع میں خلل ہوتا ہو تو ایسے شیشے لگانا بھی مکروہ ہوگا، لہٰذا صورت مسئولہ میں بہتر یہ ہے کہ ان کھڑکیوں پر موٹے کپڑے کے پردے لگادیے جائیں یا پھر ان کو رنگ دیا جائے یا عمدہ دبیز کاغذ شیشوں پر چپکادیا جائے

ولا باس بنقشہ خلا محرابہ فإنہ یکرہ لأنہ یلہي المصلي․․․ وظاہرہ أن المراد بالمحرام جدار القبلة․ (الدر: ۲/۴۳۱، قبیل مطلب: في أفضل المساجد، ط: زکریا)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

Leave a Reply