مسنون بال

مسنون بال

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
قَالَ النَّبِیُّﷺ:مَنْ کَانَ لَہُ شَعْرًا فَلْیُکْرِمْہٗ. (السنن لأبي داود: رقم 4163)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

بعثتِ انبیاء کی وجہ
اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے انبیاء کو اسی لیے بھیجا ہے کہ ان کی اتباع کی جائے۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ (النساء: 64)
’’اور ہم نے کوئی رسول اس کے سوا کسی اور مقصد کے لیے نہیں بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے‘‘۔
ہر عمل میں، ہر چیز کے اندر رسول اللہﷺ کی اتباع کی جائے کہ نبیکی آمد کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان کی پیروی کی جائے۔ کسی نے کہا:
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
جنت میں نبیﷺ کا پڑوسی بننے کا نسخہ
جو نبی اکرمﷺ کی سنتوں پر چلتا جائے سیدھا جنت میں چلا جائے گا۔ ایک صحابینبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! میں چاہتا ہوں اللہ اور اُس کے رسول کا محبوب بن جاؤں۔ یہ بات توجہ سے سنیے گا کہ ایک صحابی نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کا محبوب بن جاؤں، تو کیا کروں؟ تو رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو چیز اللہ اور اس کے رسول کو محبوب ہے، تم اُس کو اپنا محبوب بنالو۔ جو چیز اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے، اُس کو تم اپنی پسند بنالو۔ اور جو چیزیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کو ناپسند ہیں ان کو تم چھوڑ دو، تو اللہ اور اس کے رسول کے محبوب بن جاؤ گے۔
ہم میں سے ہر ایک کی تمنا اور خواہش ہے کہ رسول اللہﷺ کی محبت ملے، قیامت کے دن نبیکی شفاعت ملے، قیامت کے دن نبیکی برکت سے جنت کے اندر داخلہ آسان ہوجائے، پل صراط کا مسئلہ آسان ہوجائے اور سب سے بھلی بات کہ جنت کے اندر اُس کالونی میں اُس علاقے میں اُس یونٹ کے اندر جگہ ملے جہاں نبیکا مکان و محل ہو۔ یہ کیسے ہوگا؟ نبی کریمﷺ نے اس کا طریقہ ہمیں بتادیا۔ فرمایا کہ جو میری سنت پر عمل کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
یہ بھی بتادیا کہ
اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ (متفق علیہ)
’’ترجمہ: انسان جس کے ساتھ محبت کرے گا قیامت کے دن اُسی کے ساتھ ہوگا‘‘۔
پھر کسی اور موقع پر ایک بات یہ بھی جوڑی اور فرمایا:
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ (سنن ابی دائود: رقم الحدیث 3512)
’’ترجمہ: جو جس قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا اُنہی میں سے شمار کیا جائے گا‘‘۔
اس بات کو بار بار سنا کریں۔ اس حدیث مبارک کو دل پہ لکھ لیں، گھروں پہ لکھ لیں۔ علماء سے لکھوا کر، یا کسی جاننے والے سے لکھوا کر گھروں میں رکھیں۔
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ
’’ترجمہ: جو جس قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا اُنہی میں سے شمار کیا جائے گا‘‘۔
ہم کس کے ساتھ مشابہت کررہے ہیں ہمیں یہ دیکھنا ہے۔ اگر ہماری مشابہت جنابِ رسولﷺ کے ساتھ ہے تو آقا کا فرمان ہے ہم اس فرمان کے تحت آقا کے ساتھ ہوں گے ان شاء اللہ۔ اور اگر خدانخواستہ ہماری مشابہت کافروں کے ساتھ ہے، یہودیوں کے ساتھ ہے، عیسائیوں کے ساتھ ہے، ہندوؤں کے ساتھ ہے۔ تو مجھے بتائیے کہ یہ مشابہت ہمیں کہاں لے جائے گی؟ ان باتوں کو سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ گلدستہ سنت کے جو بیانات چل رہے ہیں ان کا مقصد بھی یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی سنتیں ہمارے سامنے آئیں اور ہم ان کو عمل میں لے کر آئیں۔ اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے کچھ کرنا پڑے گا۔ صرف اتنی سی بات کہ ہم نبیﷺ کی امت میں پیدا ہوگئے، اب نبی کریمﷺ ہمیں بخشوا کر جنت میں لے کر جائیں گے۔ اس بات کے اوپر اگر ہمارا اتنا یقین ہے تو صحابہ کا یہ یقین کیوں نہیں تھا۔ وہ تو عمل کے لیے جان دیا کرتے تھے۔ ایک ایک سنت پہ زندگی لگادیا کرتے تھے۔ سنتوں سے محبت کرنے والے تھے۔ تو یہ بات تو صحابہ کو بھی تو معلوم ہوگی ناں!
میرے بھائیو! جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ اس کی اتباع کیا کرتا ہے۔ اُس کے عمل پہ اپنے آپ کو لانے کی کوشش کیا کرتا ہے۔ ہمارا موضوع اتباع سنت کے متعلق چل رہا تھا۔ اور ہم یہاں پہنچے تھے کہ بالوں میں کنگھی کرنا جو ہم کرتے ہیں یہ کیا ہے؟
سونے سے پہلے چند سنتوں کا اہتمام
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ جب رات کو سونے لگتے تھے تو آپ کے لیے سوتے وقت مسواک، وضو کا پانی، کنگھی یہ چیزیں جو ضرورت کی ہوتیں جو تہجد میں اُٹھنے کے بعد فوراً چاہیے ہوتیں رات کو ہی رکھ دی جاتیں۔ اور ازواجِ مطہرات رات ہی سے وہ تمام چیزیں تیار کرکے ایک جانب رکھ دیتیں کہ نبیجب تہجد کے لیے اُٹھیں گے تو اُن چیزوں کو استعمال کریں گے تو جب اللہ آپ کو بیدار فرماتے، آقا بیدار ہوجاتے تو مسواک فرماتے، وضو فرماتے اور کنگھی فرماتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سو کر اُٹھنے کے بعد صبح کو کنگھی کرنا، سنت ہے۔ بڑے بال جن کو پٹے کہتے ہیں۔ اس طرح کے بال نبی کریمﷺ کے تھے تو ان کا خیال رکھنا، ان کو تیل لگانا، ان کو کنگھی کرتے رہنا، ان کو صاف رکھنا یہ نبی کریمﷺ کا مزاج تھا، سنت مبارکہ تھی۔ (شعب الایمان جلد5، صفحہ224)
بالوں میں کنگھی کرنا
حضرت امام مالک اپنی مؤطا میں بیان کرتے ہیں کہ یحیٰ بن سعید کہتے ہیں کہ ابو قتادہکے سر کے بال بڑے تھے۔ تو نبی سے انہوں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! میرے سے کے بال بڑے ہیں، کیا میں ان میں کنگھی کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’جی ہاں (کنگھی کرو) اور ان کا خیال رکھو‘‘۔ اس ارشاد کو سننے کے بعد حضرت ابو قتادہ دن میں دوبارہ تیل لگاتے تھے اور فرمایا کرتے کہ مجھے نبی نے ان کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔
ایک روایت میں کنگھی کرنے سے منع بھی کیا گیا۔ اس کے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ فیشن کی نیت سے کنگھی کرنا منع ہے۔ فیشن کی نیت سے کنگھی کرنے کو پسند نہیںکیا گیا۔ ہاں! میرے بال صاف رہیں، صحیح رہیں ان میں جویں نہ پڑیں اور سنت کے مطابق رہیں۔ اس کے حساب سے کنگھی کرنا یہ سنت بن جائے گا اور ثواب ملے گا۔
حدیث کے اندر آتا ہے کہ سادگی ایمان کی علامت ہے۔ ضرورت کے وقت کنگھی کرنا یہ جائز بھی ہے، اچھی بات بھی ہے اور اس کا حکم بھی دیا گیا لیکن فیشن کی نیت سے کنگھی کرنے کو منع قرار دیا گیا۔ اسی کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ چیز ٹھیک نہیں کہ انسان ہر وقت بالوں میں ہی پڑا رہے کہ میرے بال ایسے ہوں۔ میں فلاں جِیل لگاؤں، یہ کروں اور وہ کروں، اس چیز کو شریعت نے ناپسند کیا ہے۔ تو اگر ہم بالوں میں کنگھی کریں ضرورت کے تحت، اور تیل لگائیں خوبصورتی کے لیے نہیں ضرورت کے لیے کہ اس سے دماغ کو تقویت ملے گی۔اس نیت کے ساتھ تیل لگائیے تو روز لگائیں، دن میں دو مرتبہ لگائیں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن صرف بالوں کو بنانا اور سنوارنا کہ لوگوں کو اچھے نظر آئیں یہ چیز شریعت میں جائز نہیں۔ (بخاری صفحہ878)
اصل میں کنگھی کرنے کا مسنون طریقہ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی وضو کرتے، کنگھی فرماتے اور جوتا پہننے میں پہل دائیں طرف سے کیا کرتے تھے، جوتا پہنتے تو پہلے دایاں پاؤں، کنگھی کرتے تو پہلے دائیں طرف سے، اور وضو کرتے تو پہلے دایاں ہاتھ دھوتے۔ دائیں طرف کو ترجیح دیا کرتے تھے ہر زینت اور ہر اچھے کام کے اندر نبیdکی یہی سنت ہے۔ اور جو لوگ کنگھی بھی بیچ اور درمیان سے شروع کرتے ہیں یہ
خلاف سنت ہے۔ مسنون طریقہ یہ ہے کہ دائیں طرف سے کی جائے۔
سفر کی کچھ سنتیں
نبیd کا مبارک طریقہ یہ تھا کہ جب بھی آپ سفر میں ہوتے تو کچھ ایسی چیزیں تھیں جو آپ ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ ایک روایت کے اندر ہے کہ آئینہ، سرمہ دانی، کنگھی، تیل اور مسواک نبیاپنے ساتھ رکھتے تھے اگر سنت سمجھ کر ہم بھی اپنے ساتھ رکھیں تو اس کے بہت فائدے ہیں۔ حضرت امی عائشہ سے ایک اور روایت آرہی ہے اور یہ طبرانی شریف کی روایت ہے کہ نبی سفر میں مصلّیٰ(جائے نماز) اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ آج ہم سفر میں جاتے ہیں اور ہمارے پاس جائے نماز نہیں ہوتی۔ کئی دفعہدیکھا کہ جہاز میں یا ریل گاڑی میں سفر کرتے ہوئے ساتھیوں کے پاس جائے نماز نہیں ہوتی۔ بلکہ آج کل تو ہمارے حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ ہم اس بارے میں کیا کہیں۔ اس مجلس سے پانچ سات منٹ کی واک ہے، چلے جائیں اور دس لوگوں سے پوچھیں کہ مسجد کہاں ہے؟ تو ان میں سے آٹھ کو نہیں پتا ہوگی۔ ایک چوک پہ یہاں قریب ہی پچھلی دفعہ مولانا صاحب کے ساتھ ہی ہم گئے۔ ایک مسجد کا پوچھنا تھا تو وہ لوگ جو بیس بیس سال سے، دس دس سال سے وہاں بیٹھے ہیں۔ اندازہ ایسا ہوتا ہے پرانی دکانیں ہیں دس دس، بیس بیس سال سے بیٹھے ہیں ان سے رک رک کر پوچھا کہ فلاں مسجد کہاں ہے؟ کہتے ہیں پتا نہیں۔ مسجد کا پتا تو اُسے ہوگا جو مسجد میں آئے گا۔ تو مصلّیٰ جائے نماز سفر میں پاس رکھنا سنت ہے۔ اور امت کے بگاڑ کے وقت ایک سنت کو پورا کرنے پر سو شہیدوں کے برابر اجر و ثواب ملتا ہے۔ جب ہم سفر میں جاتے ہیں اتنی چیزوں کا اہتمام کرتے ہیں تو وہ چیزیں جو نبی کریمﷺ اپنے ساتھ رکھتے تھے، ہم بھی ان کو اپنے ساتھ سفر میں رکھ لیں۔ وہ کون سی چیزیں ہیں؟ آسان ہیں مصلّیٰ یعنی جائے نماز، مسواک، اور کنگھی۔
اب نبیکے پاس جو کنگھی تھی وہ کیسی تھی؟ فرمایا کہ وہ ہاتھی کے دانت سے بنی ہوئی تھی۔ (سیرۃ جلد 7 صفحہ546)
حضرت جریر فرماتے ہیں کہ آپ کی کنگھی ہاتھی دانت کی بنی ہوئی تھی۔ کنگھی رکھنا مستقلاً ایک سنت ہے۔ چاہے وہ پلاسٹک کی مل جائے یا ہاتھی کے دانت کی مل جائے۔ اور اگر کنگھی ہاتھی کے دانت کی ہوجائے تو مزید ثواب مل جائے گا۔
کٹے ہوئے ناخنوں اور بالوں کا سنت عمل
انسان ناخن کاٹتا ہے، بالوں میں کنگھی کرتا ہے تو بسا اوقات بال ٹوٹ جاتے ہیں۔ نبینے اس کے بارے میں بھی ہمیں بتایا ہے۔کئی صحابہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا: اپنے ناخنوں کو اور اپنے بالوں کو دفن کردو۔ (معجم کبیر)
جمعہ کے دن ناخن کاٹنا سنت ہے۔ اور کاٹنے کے بعد سنت یہ ہے کہ ان کو کہیں دفن کردیا جائے۔ اور بالوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اور ابھی کچھ دن پہلے ایک مفتی صاحب آئے تھے وہ بتانے لگے کہ لاہور میں بالوں کا ریٹ بارہ سو کلو چل رہا ہے۔ یہ جو نائی لوگ ہیں ناں! ہیئر ڈریسر۔ جب ان کے پاس لوگ بال کٹواتے ہیں تو مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں جو لوگوں کے کٹے ہوئے بال خرید کے لے جاتے ہیں، اور ان کو پروسیس کرکے کھانے پکانے کی چیزوں میں استعمال کرتے ہیں۔ اللہ جانے ہمارے یہاں کیا کیا ہورہا ہے؟ اس سے معلوم یہ ہوا کہ ناخن وغیرہ انسان خود کوشش کرے کہ ان کو دفن کردے، یا کم از کم اتنا تو ضرور کرے کہ ناپاک مقام میں نہ ڈالے کسی کیاری میں ہی ڈال دے اور اس طرح ان کا خیال کرے۔
چھوٹے بچے جو ہوتے ہیں ان کے بالوں کے بارے میں کیا سنت ہے؟ حضرت عبداللہ بن جعفر سے منقول ہے کہ نبی نے سر منڈوانے والے حلق کرنے والے کو بلایا اور اسے حکم فرمایا کہ عبداللہ کا سر مونڈ دو۔ (ابوداؤد صفحہ577)
چھوٹے بچے جو چھ، آٹھ، دس بارہ سال کے ابھی ہوتے ہیں اور ابھی بالغ نہیں ہوئے چھوٹے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ ان کو بالوں کی عادت نہ ڈالیں۔ بالوں کے فیشن میں نہ پڑیں، ان کو گنجا ہی کروادیں۔ علماء نے فرمایا ہے کہ بچوں کے سر کے بال اتنے بڑے ہوں کہ اس سے مانگ نکل سکے، یہ مناسب نہیں ہے کہ چھوٹی عمر میں ان کا دل اور دماغ بالوں میں لگے۔ یہ تو دین کی محنت پر لگے۔
بال کس طرح رکھے جائیں؟
اب ہمارے بال کیسے ہوں؟ اس کے بارے میں ایک بات سن لیجیے! جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتے ہوں حضور پاکﷺ کے دین میں جائز نہیں۔ عبداللہ بن عمرسے مروی ہے کہ نبی نے قزع کرنے سے منع فرمایا۔ حضرت نافع جو حدیث کے راوی ہیں انہوں نے پوچھا کہ قزع کیا ہے؟ فرمایا کہ بچے کے سر کے چند بالوں کو مونڈھ دیا جائے اور چند بالوں کو چھوڑ دیا جائے۔ یہ مسلم شریف کی روایت ہے۔ اور بخاری شریف میں بھی اسی طرح کی بات کی ہے کہ بچوں کے بال کسی جگہ سے مونڈھ دئیے جائیںپیشانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اِدھر اُدھر کے چھوڑدیے جائیں۔
اب قزع کی مختلف صورتیں نافذالعمل ہیں۔ کچھ ایسے کرتے ہیں کہ درمیان سے بال بڑے بڑے ہوتے ہیں اور سائیڈ سے اُسترا پھیر لیتے ہیں۔ اس کو نبی نے منع فرمایا ہے۔ مسلم شریف میں بھی روایت موجود ہے اور بخاری شریف میں بھی روایت موجود ہے اور بعض درمیان سے مونڈھ لیتے ہیں، سائیڈ سے رکھ لیتے ہیں، یہ بھی ہماری شریعت میں جائز نہیں۔ تو بال کیسے ہوں؟ یا تو پورے سنت کے مطابق پٹے رکھے اور کانوں کی لو تک جائیں یاکندھے تک آئیں۔ اس طرح سے رکھ لے۔ پھر اُن کی حفاظت بھی کرے، صاف بھی رکھے، پاک بھی رکھے، تیل بھی لگائے، مٹی سے بھی دور رکھے۔ اگر وہ نہیں رکھ سکتا تو دوسری صورت کیا ہے کہ قینچی سے سارے سر کے بالوں کو ایک سائز کا رکھے۔ ایک طرف سے بہت بڑے ہوگئے ایک طرف سے ختم ہوگئے، یا ایک طرف سے ہم نے رکھ لیے اور دوسری طرف سے ختم کردیے تو اس کو شریعت میں منع کیا ہے۔ اور آج کل تو اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے کہ نوجوانوں کے بال دیکھ کے تکلیف ہوتی ہے۔ حدیث میں دجال کے جس قسم کے بال آتے ہیں ناں! آج کل کے نوجوان اُس کے قسم کے بال رکھ رہے ہیں۔ بہرحال دجال کی بات تو اپنی جگہ الگ رہی ہم اُس کی بات نہیں کرتے ہم تو سادہ سی بات کرتے ہیں۔
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ
’’ترجمہ: جو جس قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا اُنہی میں سے شمار کیا جائے گا‘‘۔
ہم جو بال بنارہے ہیں کس لیے بنارہے ہیں؟ کس کو دیکھ کے بنارہے ہیں؟ کس قوم کی Copy کررہے ہیں۔ جس کی تقلید ہم کررہے ہیں تو نبیکے فرمان کے مطابق ان کے ساتھ اکٹھے کردیے جائیں گے۔ اسی طرح ایک حدیث کے اندر آتا ہے ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ نبی نے ایک صحابی کو منع فرمایا کہ اتنے لمبے بال نہ رکھا کرو۔ اُن کے بال کندھے سے نیچے جارہے تھے۔ (ابودائود صفحہ 565)
سہل بن حنظلہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبینے فرمایا کہ خریم کیا ہی اچھا آدمی ہے۔ کاش! اس کے بال لمبے نہ ہوتے۔ اور شلوار یا لنگی اس کے ٹخنے کو نہ ڈھانپتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ جیسے ہی انہوں نے یہ بات سنی تو انہوں نے اپنے بال چھوٹے کرلیے اور اپنے ٹخنے کو ننگا رکھنا شروع کردیا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ  اس قسم کے بال رکھنا جیسے فجار لوگوں کا طریقہ ہے، نبی کریمﷺ کا طریقہ نہیں ہے۔
اسی طرح مصنوعی بال لگانے کے بارے میں بھی نبی نے ہمیں Loud and Clear بتادیا اور اس کے اندر شبہ نہیں چھوڑا۔ (نسائی صفحہ292)
حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ نبی کی خدمت میں ایک عورت آئی اور اس نے آکر سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! آج ہمارے یہاں لڑکی کی شادی ہے۔ اس کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے جھڑ گئے ہیں خوبصورتی نہ رہی۔ دلہن کو جانا ہے، رخصتی ہے اور سر کے بال اس کے جھڑے ہوئے ہیں تو کیا دوسرے کوئی بال لے کر میں اس کے بالوں کے ساتھ جوڑ دوں؟ کیا کسی دوسری عورت کے بال لے کر جوڑ دوں؟ کہ اس کی بدصورتی ختم ہوجائے، خوبصورت بن جائے اور اس کی شادی میں آسانی ہوجائے۔ اب ذرا غور کیجیے۔ ماحول پہ غور کیجیے کہ خاتون آتی ہیں کہ ہمارے ہاں لڑکی کی شادی ہے بیماری کی وجہ سے اُس کے بال جھڑچکے ہیں کیا کوئی اور بال لے کر میں جوڑ دوں؟ کہ اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہوجائے اور معاملہ ٹھیک ہوجائے۔ اب رسول اللہﷺ نے کیا فرمایا؟ آقا نے فرمایا کہ خدا کی لعنت ہے بال جوڑنے والی پر اور بال جُڑوانے والی پر۔ یعنی جو بال جوڑے گا اُس پر بھی لعنت، اور جو جڑوائے گا اُس پر بھی لعنت ہے۔ اور یہ لعنت کس نے بتائی؟ رحمۃ اللعالمینﷺ نے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے بھی روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے بال جوڑنے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
بعض عورتوں کے بال ذرا چھوٹے ہوتے ہیں تو حُسن اور خوشنمائی کی غرض سے دوسری عورتوں کے بال جوڑ کر لگالیتی ہیں، یہ چیز شریعت کے اندر حرام ہے۔ اور بازار میں آج کل ایسے بال ملتے ہیں تو ان کا لگوانا جائز نہیں۔ ہاں! اگر سر کے بال بیماری کی وجہ سے جھڑگئے جس سے سر کا حسن جاتا رہا تب بھی منع کردیا کہ تب بھی جائز نہیں۔ زندگی ختم ہونے والی ہے، اس دنیا کے اندر زیب وزینت سے کیا تعلق؟ اگر ایک چیز تھی بیماری کی وجہ سے چلی گئی تو انسان صبر کرلے، اللہ رب العزت اس کے بدلے جنت کی نعمتیں عطا فرمائیں گے۔ اسی طرح علماء نے فرمایا کہ عورتوں کے خود اپنے بال بھی واپس جوڑنا مناسب نہیں اس سے بھی منع کیا گیا۔ اور دوسری عورت کے بھی لگانا جائز نہیں۔
عورتوں کے لیے بال کٹوانے کا حکم
عورتوں کے لیے بال کاٹنا، گنجا ہونا اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
(مشکوٰۃ، بزار مجمع جلد3 صفحہ266)
حضرت عثمان غنیh سے روایت ہے کہ آپﷺ نے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنے سر کے بال منڈوائے۔ عورتوں کے سر کے بال کم کرنا، کٹوانا، تُرشوانا بالکل جائز نہیں۔ زخم ہو یا کوئی درد ہو بہت تکلیف ہو، آپریشن وغیرہ ہو اور ڈاکٹر دیندار ہو ایسا دیندار آدمی یہ کہہ دے کہ ہاں ضرورت ہے تو انسان کی جان بچانے کا معاملہ ہے اُس صورت کے اندر گنجائش ہے یعنی ضرورت کے درجے میں۔ اس کے علاوہ کہ میں اچھی لگوں،میں یہ میں فلاں جیسی لگوں یعنی اس صورت کے اندر یہ جائز نہیں۔ ایک فقہی کتاب ’’بحرالرائق‘‘ میں یہ بات لکھی ہے کہ آسمانوں کے اوپر ملائکہ یعنی فرشتوں کی ایک تسبیح ہے جس سے وہ تسبیح کرتے ہیں۔ وہ کیا ہے؟
سُبحَانَ مَنْ زَیَّنَ الرِّجَالَ بِاللُّحٰی وَالنِّسَاءَ بِالزَّوَائِر.ِ
’’ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو داڑھی سے اور عورتوں کو چوٹیوں سے زینت بخشی‘‘۔
لیکن آج مردوں نے ڈاڑھی کی زینت کو کٹوادیا، نالیوں میں بہادیا۔ اور عورتوں نے چوٹی کی سنت کو ختم کردیا۔ اسی لیے علماء نے تفصیل لکھی ہے کہ عورتوں کو بال کاٹنا، چھوٹے کرنا جائز نہیں۔ ہاں! کسی کو شوق ہے تو عمرہ کرنے چلی جائے تھوڑے سے کٹ جائیں گے۔ اور ایک ہی سفر میں دس پندرہ عمرے کرلے، لیکن اگر بال چھوٹے کرنے کی نیت سے عمرے کیے تو ثواب عمرے کا نہیں ملے گا۔ عمرہ کرنے میں تو بال کاٹنے ہیں وہاں تھوڑے سے کاٹ لیتی ہیں یہاں آکر کٹواتی ہیں۔ فیشن کے لیے کٹواتی ہیں۔ تو عمرے میں تو عورت نے بال کاٹنے ہیں وہ تو حکم ہے اُس وقت کا لیکن اس کے علاوہ جائز نہیں۔
اب شوہر کی اطاعت بیوی کے لیے جائز ہی نہیں، بلکہ واجب ہے کہ اس کی اطاعت کرو۔ یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر میں سجدے کا حکم دیتا اللہ کے سوا کسی غیر کو تو بیوی کو کہتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ اتنی بڑی بات فرمائی لیکن شریعت نے کہا کہ اگر شوہر بھی بال کاٹنے کا حکم دے تب بھی عورت کے لیے اس پر عمل کرنا درست نہیں۔ کیونکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرنا جائز نہیں۔ شوہر کا حکم ضرور اچھا ہے، واجب ہے، لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺ سے بڑا تو یہ نہیں ہوگیا ناں! تو عورت کے لیے بال کاٹنا جائز نہیں اگرچہ خاوند حکم دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور بالوں کو نبی کے طریقے پر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب نبی کے بالوں سے تبرک حاصل کرنے سےمتعلق  صحابہ سے کچھ روایات ہیں۔ (مسلم جلد2 صفحہ256)
نبی کے چند تبرکات
حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی بال کٹوارہے ہیں، حجام موجود ہے جو نبی کے سر کے بال مونڈ رہا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام چاروں طرف سے نبی کو گھیرے ہوئے ہیں۔ وہ چاہ رہے تھے کہ نبیd کے سر مبارک کے بال اُتریں نیچے نہ جائیں بلکہ ہمیں مل جائیں اور تبرک کے طور پر ہم اپنے پاس رکھ لیں۔
علامہ نوویm نے روایت میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موئے مبارک (بال مبارک) سے برکت حاصل کرنا یہ صحابہj سے ثابت ہے۔ اور اسی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو اولیاء ہوتے ہیں ان کی استعمال شدہ چیزوں سے برکت حاصل کی جاتی ہے بشرط یہ کہ عقیدے میں خرابی پیدا نہ ہو۔ یہاں سے تبرک کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ مجھے گھر والوں نے پانی کا پیالہ لے کر ام المؤمنین حضرت ام سلمہ کے پاس بھیج دیا۔ وہ چاندی کی نلکی لے کر آئیں جس میں رسول اللہﷺ کے مبارک بال تھے۔ جب کوئی بیمار ہوجاتا یا اُسے نظر لگ جاتی تو لوگ پانی لے کر جاتے، وہ پانی میں بال مبارک ڈال کر ہلادیتی تو لوگوں کو شفا ہوجاتی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ ام سلمہ نے آپ کے بال مبارک کو چاندی کی ایک نلکی میں رکھا تھا، پائپ سا بنایا ہوا تھا۔ کوئی بیمار ہوجاتا یا نظر لگ جاتی تو شفا کے لیے اور نظر اُتارنے کے لیے نبی کے بال مبارک کو پانی میں ڈالا جاتا اور ہلایا جاتا، پھر اُس پانی کو پی لیا جاتا تو اُس مریض کو شفا مل جاتی تھی۔ یہ بال مبارک کی برکت تھی۔ چنانچہ اس سے سینکڑوں مریض صحت یاب ہوئے۔ سینکڑوں نظر والے بچوں کو شفا ملی۔
حضرات صحابہ کے اس عمل سے معلوم ہوا کہ بال مبارک سے برکت حاصل کرنا جائز ہے، درست ہے اور برکت اور سعادت کی بات ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر ’’فتح الباری‘‘ میں لکھا ہے کہ مریض ام سلمہ کے پاس جاتے تھے اور وہ پانی دیا کرتی تھیں۔ تو حضرات صحابہ کے نزدیک نبی کے بال مبارک کی بڑی برکت تھی۔
اسی طرح ایک صحابی خالد بن ولید کو بھی ایک بال مبارک ملا تھا۔ جس کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔
حضرت خالد بن ولدین نے اس موئے مبارک کو سلوا کر اپنی ٹوپی میں رکھ لیا۔ اس کے بعد حضرت خالد جس جنگ میں جاتے وہ ٹوپی ساتھ ہوتی اور فتح یاب واپس لوٹتے۔ آپ جانتے ہیں کہ لڑائی میں شور ہونا، چیخ وپکار ایک لازمی بات ہے۔ ادھر سے تلوار کی جھنکار ہے گھوڑوں کی چیخ وپکار ہے، ادھر لاش گررہی ہے، ادھر کوئی زخمی ہے۔ کچھ عجیب ماحول ہوتا ہے۔ اللہ کی شان ایک دن ایسا ہوا کہ وہ ٹوپی گرگئی۔ یہ بڑے پریشان ہوئے۔ وہ ٹوپی مشرکین کے علاقے میں گری تھی۔ حضرت خالد بن ولید نے دوبارہ فوج کو جمع کرکے حملہ کیا۔ لوگ سمجھے ٹوپی کے لیے حملہ کرتے ہیں، ٹوپی کی کیا قیمت ہے کہ ٹوپی کے لیے دوبارہ حملہ کررہے ہیں۔ لڑائی ختم ہوگئی چلو بس اللہ اللہ خیر سلّا! اللہ نے آسانی کردی۔ انہوں نے ایک ٹوپی کے لیے باقاعدہ ایک جنگ کی اور جنگ کرکے اپنی وہ ٹوپی حاصل کی۔ ٹوپی حاصل ہوگئی تو کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ایک ٹوپی کی وجہ سے یہ حملہ؟ فرمایا کہ بات ٹوپی کی نہیں تھی۔ اس ٹوپی کے اندر نبی کریمﷺ کا مبارک بال موجود ہے جو میں نے حصولِ برکت کے لیے ڈالا تھا۔ مجھے یہ غم ہوا کہ ایک تو برکت دور چلی گئی اور دوسری یہ کہ مشرکین کہیں اس کے ساتھ بے حرمتی نہ کردیں، تو میں نے اس کے لیے جنگ کی اپنی ٹوپی کے لیے جنگ نہیں کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کے بال مبارک کی اتنی اہمیت ہوتی تھی اور آپﷺکے بال مبارک آج بھی کئی جگہ موجود ہیں۔ الحمدللہ! آج بھی جامعہ اشرفیہ والوں کے پاس موجود ہے۔ کبھی کبھی زیارت کرواتے ہیں اور بھی علماء کے پاس موجود ہے۔
کون سے بال کاٹنا جائز ہیں
علماء نے فرمایا کہ اگر کوئی گنجا ہونا چاہے تو پورے بالوں میں استرا لگوائے۔ کہیں سے چھوڑ دیں، کہیں سے کریں یہ بھی جائز نہیں۔ قینچی یا مشین سے کروائے تو پورے سر کے برابر کروائے۔ اسی طرح ناک کے بال کے بارے میں بھی بتایا کہ کاٹنا اور اُکھاڑنا، کھینچنا دونوں طرح سے جائز ہے۔ بھنوؤں کے بال درست کرنا کبھی کبھی چند بال بہت بڑھ جاتے ہیں تو ان کو کاٹ لینا درست ہے۔ ویسے بھنویں بنوانا یہ درست نہیں اس سے منع کیا گیا ہے۔ سینہ، پیٹ، پیٹھ، ہاتھ اور پیروں کے بال مونڈنا خلاف ادب ہے، گناہ ہے۔ کان کے بال کاٹنا، تراشنا جو کان کے اندر آجاتے ہیں یہ جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ سینے اور پنڈلی کے بال صاف کرنے کی گنجائش ہے۔ عورتوں کا اپنے سر کے بال کاٹنا اور تراشنا یہ ناجائز ہے۔ چھوٹی بچی ہو دو چار سال کی اس کے بال کاٹنا درست ہے۔ مردوں کو اتنی مقدار بال رکھنا کہ چوٹی بن جائے یہ ناجائز ہے۔ اور آج کل کتنے ایسے مرد نظر آتے ہیں جن کی چوٹیاں نظر آتی ہیں۔ نبیﷺ نے لعنت فرمائی ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، اور لعنت فرمائی ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کریں۔ اب مردوں میں سے جس کی چوٹی تک نوبت آگئی تو وہ حضور پاکﷺ کی لعنت کا مستحق ہورہا ہوتا ہے۔
سرکی مانگ نکالنے میں دائیں جانب سے ابتدا
مرد اور عورت دونوں کو مانگ درمیان سے نکالنا سنت ہے۔ نبی ﷺ ناک کی سیدھ سے مانگ نکالا کرتے تھے۔ ٹیڑھی مانگ دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے خلاف سنت ہے۔ سنت کیا ہے؟ درمیان سےبال نکالنا۔ ایک صحابی تھے حبشہ کے رہنے والے ان کے گھنگریالے بال تھے۔ وہ شیشے کے آگے جاتے بڑی کوشش کرتے کہ مانگ نکالوں مگر مانگ نہ نکلتی۔ ان کے بال کرلی تھے، سخت قسم کے تھےمانگ نہیں نکلتی تھی۔ ایک دن محبت میں اتنا شوق ہوا آگے بڑھے اور ایک لوہے کی سلاخ سی لی اُس کو آگ کے اوپر تپایا، گرم کیا اور گرم کرنے کے بعد سینٹر سے یوں مانگ نکال دی۔ کسی نے پوچھا کہ یہ کیا کیا آپ نے؟ کہا: یہ تکلیف تو دور ہوجائے گی، لیکن میرے سر کو آقا کے ساتھ مشابہت ہوگئی۔ محبت یہ ہوتی ہے کہ جو محبوب کا عمل ہے وہ عمل میں کروں۔
اور سر کے سفید بال نور ہیں اور باعث وقار ہیں، ان کی حفاظت کرنی ضروری ہے۔ اور کوئی انسان بالوں کو تیل کبھی بھی نہ لگائے بالوں کو چھوڑ کے رکھے اور بڑے لگنے لگیں تو اس کو بھی بتایا کہ یہ بات مناسب نہیں۔
بہرحال اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور پاکﷺ کی ایک ایک سنت کو شوق اور محبت سے عمل میں لانے کی توفیق عطا فرمائے، اور قیامت کے دن نبی کریمﷺ کے جنت میں پڑوس عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply