50

مصیبت کے وقت نعم البدل پانے والا وظیفہ

مصیبت کے وقت نعم البدل پانے والا وظیفہ

☜ کسی بھی مصیبت کے وقت جو یہ دعا پڑھے گا اللہ تعالی اسے نقصان سے کہیں زیادہ بہتر چیز عطاء فرمادے گا)

✦ ١- سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے 《اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اُجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا》 بےشک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ، تو اللہ تعالی اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : تو جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے ، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرمادیا ۔ [صحیح مسلم، حدیث نمبر : ٢١٢٧]

✦ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اُجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا

’یقیناً ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ! مجھے میرے صدمے میں اجر دے اور مجھے بدلے میں اس سے زیادہ بہتر دے۔

صحیح مسلم، الجنائز، باب مایقال عند المصیبۃ؟ حدیث:918

☜ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی کو غم یا تکلیف پہنچے یا پریشانی لاحق ہو تو اسے مندرجہ دعا پڑھنی چاھئے۔ اس کی بدولت اللہ تعالیٰ اس کے فکر و غم اور رنج و ملال کو دور کرکے اس کے بدلے وسعت اور کشادگی عطاء کرے گا۔ پریشانی کو خوشحالی میں بدل دے گا۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، ہر سننے والے کو یاد کر لینے چاہئیں

✦ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ، اِبْنُ عَبْدِکَ، اِبْنُ اَمَتِکَ، نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ، اَسْاَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ، سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ اَوْ عَلَّمْتَهُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ اَوْ اَنْزَلْتَهُ فِیْ کِتَابِکَ اَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ

اے الله! بے شک میں تیرا بنده اور تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے قابو میں ہے، میرے حق میں تیرا حکم جاری ہے، تیرا فیصله میرے بارے میں انصاف پر مبنی ہے، میں سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام کے ساتھ جو تو نے اپنے لیے رکھا یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا تو نے اپنی کتاب میں اتارا یا تو نے اسے اپنے پاس علم غیب میں رکھنے کو ترجیح دی که تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میری فکر کو لے جانے والا بنا دے [مسند احمد : ٥٥٧٦] صحیح

✦ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا پریشانی کی صورت میں پڑھا کرو «اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» یعنی اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی ۔ [سنن ابوداؤد ١٥٢٥] صحیح

اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا (دن بھر میں کثرت سے پڑھیں)
یعنی اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی.

✦ اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَیْنٍ وَّ اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ۔

اے الله! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں پس ایک لمحه کے لیے بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نه کر اور میرے سب حالات سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

اَللّٰهُمَّ لَاسَھْلَ اِلاَّ مَاجَعَلْتَهُ سَھْلًا وَاَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ سَھْلًا اِذَا شِئْتَ

اے الله ! کوئی کام آسان نہیں مگر جسے تو آسان کر دے اور جب تو چاہتا ہے، مشکل کو آسان کر دیتا ہے۔[صحیح ابن حبان ٩٧٤] صحیح

✦ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔کہ : کلمہ «حسبنا الله ونعم الوكيل‏» ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا، اس وقت جب ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور یہی کلمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کہا تھا جب لوگوں نے مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے کہا تھا کہ لوگوں ( یعنی قریش ) نے تمہارے خلاف بڑا سامان جنگ اکٹھا کر رکھا ہے، ان سے ڈرو لیکن اس بات نے ان مسلمانوں کا ( جوش ) ایمان اور بڑھا دیا اور یہ مسلمان بولے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کام بنانے والا ہے۔ (ال عمران 173- صیح البخاری 4563)

حَسْبُنَا اللهُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ نِعْمَ المولی ونِعْمَ النصیر

(صبح ،شام ١٠٠ مرتبہ یہ کلمات پڑھیں)

الله ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کار ساز ہے۔ بہترین پرودگار ہے وہ بہترین مددگا ہے

✦ -سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ بتاؤں کہ جب تم میں سے کسی شخص کو کوئی تکلیف یا دنیا کی کوئی آزمائش پہنچے اور وہ یہ دعا کرے تو اس کی پریشانی دور ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے عرض کیا گیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کی دعا ہے: (لا الٰہ الاّ أنت سبحٰنک انی کنت من الظلمین) اے اللہ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ،تو پاک ہے ،میں ہی ظالموں میں سے ہوں (السلسلة الصحيحة : ٢٧٨٤)

✦ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ ( دن بھر میں کثرت سے پڑھیں)

تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، میں ہی ظالم ( خطاکار ) ہوں

✦ ٤- سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔ [صحیح بخاری : ١١٤٥]

☜ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مصیبت کی سختی، تباہی تک پہنچ جانے، قضاء و قدر کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے سے پناہ مانگتے تھے۔

✦ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ جَھْدِ الْبَلَاءِ وَ دَرَکِ الشَّقَاءِ وَ سُوءِ الْقَضَاءِ وَ شَمَاتَةِ الْاَعْدَاءِ۔

اے الله! بے شک میں تیری پناه مانگتا ہوں آزمائش کی سختی، بد بختی کے پا لینے، بری تقدیر اور دشمنوں کے خوش ہونے سے [صحیح بخاری ٦٣٤٧]

✦ سیدنا ابوسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے: «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم‏» اے اللہ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں (سنن ابی داود 1537)

  • ✦ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَ نَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ (صبح ،شام ١٠٠ مرتبہ پڑھیں)

اے الله! بے شک ہم تجھ کو ان کے مقابلے میں رکھتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناه طلب کرتے ہیں۔

✦ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔

[صحیح بخاری : ١١٤٥]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں