مقروض کا حج کرنے کا حکم

مقروض کا حج کرنے کا حکم

سوال: مفتی صاحب ! میں نے بیرون ملک میں پڑھائی کے لیے قرض لیا تھا، لیکن بدقسمتی سے میرا ویزا منسوخ ہوگیا اور مجھے اپنے ملک واپس جانا پڑا، تاہم ویزا منسوخی کے عمل کے دوران میں اپنی تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور پاکستان سے اپنا حتمی تحقیقی کام پیش کر دیا، اب جب کہ میں اپنے قرض کی صرف دس فیصد رقم کی ادائیگی کرسکا ہوں اور میں قصور وار ہوں کہ ایسا قرض لیا جس پر سود دینا تھا اور پھر مزید یہ کہ قرض کی ادائیگی بھی نہیں کی، دریافت طلب امر یہ ہے کہ مستقبل میں صاحب نصاب ہونے پر مقروض ہوتے ہوئے میں حج کا فریضہ کیسے انجام دے سکوں گا؟ مزید یہ بھی بتائیں کہ میں اس قرض کے گناہ سے کیسے نجات پا سکتا ہوں؟


جواب: سودی قرضہ لینا حرام اور سخت گناہ ہے، حدیث پاک میں سودی لین دین کرنے والوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، لہذا صدق دل سے اس گناہ سے توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ اس کے ارتکاب سے بچنا چاہیے۔تاہم اگر کسی پر قرض ہے اور اس کی ادائیگی کے اسباب نہیں ہیں، تو اسے پہلے قرض ادا کرنا چاہیے، اس کے بعد حج کے لیے جانا چاہیے، لیکن قرض کے باوجود اگر کسی نے حج کر لیا، تو اس کا حج ادا ہو جائے گا۔

“واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Leave a Reply