139

موت کا وقت مقرر ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا اَجَلُهَا ط وَاللّٰهُ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَo (المنافقون: 11)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

جب آخری وقت آجاتا ہے، اس کے بعد نہ ایک منٹ کم کیا جاتا ہے، نہ ایک منٹ زیادہ کیا جاتا ہے۔ انبیا کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے، اور باقی لوگوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔
موت کا فرشتہ اور حضرت ابراہیم
حضرت ابراہیم نے جب پہلی مرتبہ ملک الموت کو دیکھا تو بیہوش ہوگئے تھے۔ اس پر ملک الموت نے اللہ تعالیٰ سے فرمایا کہ اے اللہ! آپ مجھے ایسے شخص کی روح قبض کرنے کے لیے بھیجا جس کے بعد سطحِ زمین پر کوئی بہترین آدمی نہیں۔ ملک الموت نے جب یہ کہا تو اللہ ربّ العزت فرمایا کہ میں اپنے بندے کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ جاکر ان کی روح قبض کرو۔ حضرت ابراہیم ایک باغ میں داخل ہوئے جہاں دیکھا کہ ایک آدمی انگور کھا رہا ہے، حتی کہ انگور کا رَس اس کے گالوں پر بہہ رہا ہے۔ بہت زیادہ کھا رہا ہوگا۔ حضرت ابراہیم نے اس سے پوچھا کہ تمہاری کتنی عمر ہے؟ اس نے بتایا کہ حضرت ابراہیم کی عمر سے اتنی اتنی۔ کم یا زیادہ عمر بتائی۔ اس کی بات کو سن کر حضرت ابراہیم کو موت سے ملاقات کا شوق پیدا ہوگیا۔ چناںچہ ایک خوشبودار پھول سونگھنے کے لیے دیا گیا۔ اب وہ خوشبو سونگھتے رہے اور ملک الموت نے ان کی روح کو قبض کرلیا۔ (حلیۃ الأولیاء لأبي نعیم: ملك الموت وإبراھیم)
ملک الموت کا اظہارِ تعجب
بہرحال جو وقت لکھا ہے، جانا ہے، سب ہی نے جانا ہے۔ ایک مشہور واقعہ ہے یقیناً آپ سب نے سنا ہوگا۔ ایک شخص حضرت سلیمان کے دربار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ملک الموت آئے اور اس شخص کو غور سے دیکھنے لگے اور بار بار دیکھتے رہے۔ ان کا بار بار غور سے دیکھنا اس شخص کو وحشت میں مبتلا کر گیا اور وہ پریشان ہوگیا کہ یہ مجھے اتنا غور سے کیوں دیکھ رہے ہیں۔ ملک الموت کے جانے کے بعد اس نے حضرت سلیمان سے پوچھا کہ یہ کون تھا جو مجھے اس طرح گھور کر دیکھ رہا تھا؟ حضرت سلیمان نے فرمایا کہ یہ ملک الموت تھے، جو انسانی شکل میں آئے تھے۔ اس نے کہا کہ اے سلیمان! آپ ہوائوں کو حکم دیں کہ مجھے اُڑا کر ہندوستان کے فلاں علاقے میں مجھے پہنچا دیں۔ میں بہت دور چلا جائوں گا۔ حضرت سلیمان نے اس کی بات کو سنا اور کہا کہ ٹھیک ہے۔ ہوائوں کو حکم دیا گیا اور وہ ہندوستان کے آخری خطے میں پہنچ گیا۔ بات ختم ہوگئی۔
اس کے بعد ملک الموت کی ملاقات حضرت سلیمان  سے ہوئی تو حضرت سلیمان نے پوچھا کہ بھئی! تم اس آدمی کو بار بار دیکھ رہے تھے، کیا ہوا؟ ملک الموت نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اس شخص کی روح کو ہندوستان کے فلاں حصہ میں قبض کرلو۔ وقت بھی یہی تھا اور یہ یہاں بیٹھا ہوا تھا۔ میں حیران تھا کہ یہ جائے گا کب، پہنچے گا کب؟ تو اللہ ربّ العزّت نے خود انتظام کر دیا۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: 118/8)
بہرحال حالات ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ انسان وہاں پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی روح قبض ہونی ہوتی ہے۔ یہ سارے انتظامات اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ بندہ اپنی موت کی جگہ خود پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ موت کی تکلیف سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
موسیٰ کلیم اللہ کا جواب
حضرت موسیٰ سے وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ موسیٰ! موت کو کیسا پایا؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! میں اپنی جان کو ایسے دیکھ رہا تھا جس طرح سے زندہ چڑیا کو آگ پر بھونا جارہا ہو اور نہ اس کی جان نکل رہی ہو، اور نہ اُڑنے کی کوئی صورت ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ یوں فرمایا: جیسے زندہ بکری کی کھال اُدھیڑی جا رہی ہو۔ ایسے موت کی تکلیف ہوتی ہے۔
(التذکرۃ للقرطبي: ما جاء أن للموت سکرات)
حضرت کعب کی تمثیل
حضرت عمر فاروق نے ایک مرتبہ حضرت کعب اَحبار سے فرمایا کہ موت کی تکلیف کو مثال سے بیان کریں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں امیرا لمؤمنین! آپ اس طرح سمجھ لیں کہ ایک کانٹے دار ٹہنی ہو اور آدمی کے اندر اس کو داخل کر دیا جائے اور بدن کا ہر ہر جزو اس سے لپٹ جائے، پھر اسے واپس کھینچ لیا جائے، پھر داخل کیا جائے۔ اس طرح سے موت کی تکلیف ہوتی ہے۔ (الاستعداد للموت و سؤال القبر: 22/1)
یعنی رَگ رَگ کے اندر اس کی تکلیف کا اثر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحمت کا معاملہ فرمائے اور عافیت والا معاملہ فرمائے اور کلمے والی موت عطا فرمائے۔ باقی جو لوگ چلے جاتے ہیں ان کے بارے میں کیا حدیث میں حکم ہے؟
میت کی برائی کرنے کی ممانعت
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی نے فرمایا: مردوں کو بُرا مت کہو، جو انہوں نے کیا (بھلا یا برا) اس کا بدلہ پانے کے لیے وہ پہنچ گئے ہیں۔
(صحیح بخاری: باب ما ینھی من سبّ الأموات، رقم 1329)
تمہارے لیے وہ ہے جو تم کرو گے، ان کے لیے وہ تھا جو انہوں نے کیا۔ اس لیے ان کے برے تذکروں کو چھوڑدو۔ ان کی غیبت مت کرو۔ مُردوں کو بُرا کہنا بھی غیبت میں شمار ہوتا ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مردوں کو برا مت کہو کہ اس سے ان کے زندہ عزیزوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 1982)
مُردوں کو بُرا کہنے سے ایک تو غیبت کا گناہ ہوگا، اور دوسرے رشتے داروں کو اور میت سے محبت کرنے والوں کو تکلیف الگ ہوگی۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ جو دنیا سے جا چکے ہیں ان کی برائی بیان کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
جو اُن کا معاملہ تھا وہ ہوگیا۔ ہم اُن کو برا کہہ کر اپنا ہی کام خراب کر رہے ہیں، اُن کا کچھ نہیں بگڑنا۔ اُن کا عمل تو بند ہوگیا۔ اب کیا کرنا چاہیے؟ میت کی تعریف کرنی چاہیے۔
میت کی خوبی بیان کرنا
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک جنازہ صحابہ کے سامنے سے گزرا۔ جب جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کے بارے میں اچھائی کی بات کی (کہ بڑا اچھا آدمی تھا)۔ نبی نے ارشاد فرمایا کہ اس پر (جنت) واجب ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ایک اور جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی بیان کی۔ نبی نے ارشاد فرمایا کہ اس پر (جہنم) واجب ہوگئی۔ حضرت عمر فاروق نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! کیا چیز واجب ہوگئی؟ نبی نے فرمایا کہ تم لوگوں نے اس کی اچھائی اور بھلائی بیان کی، تو اس پر جنت واجب ہوگئی۔ اور جس کے لیے برائی بیان کی اس پر جہنم واجب ہوگئی۔ تم لوگ زمین پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ (صحیح بخاری: رقم 1301)
مؤمن کی عنداللہ قدر و قیمت
مؤمن کی زبان سے نکلی ہوئی بات بڑی قیمتی ہوتی ہے۔ ہم لوگ تو کہہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کہنے میں کیا رکھا ہے۔ یہ جو ہم نے کلمہ پڑھا ہے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ، زبان کا اقرار ہی ہے ناں؟ ایمان لانے کے لیے کوئی پہاڑی تو نہیں چڑھنی پڑی۔ ذرا غور کریں کہ اللہ کے ہاں ایمان والوں کی کتنی قیمت ہے۔ ایک سو سال کا کافر، مشرک اور گناہ گار ڈاکو کلمہ پڑھتا ہے اور مسلمان ہوجاتا ہے۔ ایک مثال اور سمجھ لیجیے! دو لوگ ہیں۔ ایک خاتون اور ایک مرد۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں۔ دیکھنا حرام، بات کرنا حرام، ہاتھ لگانا حرام، ملاقات کرنا حرام، رابطہ حرام۔ نامحرم سے رابطہ نہیں کرسکتے۔ لیکن گواہوں کی موجودگی میں دونوں صرف اتنا کہہ دیں کہ ہمیں نکاح قبول ہے، تو نکاح ہوجاتا ہے۔ اب کیا ہوا؟ جس کو دیکھنا حرام تھا وہ سب سے زیادہ قریب ہوگئی۔ اس کو دیکھنا ثواب ہوگیا، اس کو خوش رکھنا عبادت بن گیا۔ زبان ہی کے توبول ہیں۔ اور اگر ایسے لفظ خدانخواستہ بول دیے جو مناسب نہیں، تو جو سب سے قریب تھی وہ پھر دور ہو جائے گی۔ زبان کے بول کی بڑی قیمت ہے۔ اسی لیے دونوں فرشتوں کو بٹھایا ہوا ہے۔ جب ہم کسی کے بارے میں بات کریں تو کوشش کریں کہ اچھی ہی بات ہو۔
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا: جس مسلمان میت کے بارے میں اِردگرد کے چار پڑوسی کہہ دیں کہ یہ بڑا اچھا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے تمہاری بات کو تسلیم کیا اور اس کی مغفرت کردی جسے تم نہیں جانتے۔
(فتح الباری شرح صحیح البخاری: باب ثناء الناس علی المیت)
اس کے گناہ تو میں جانتا تھا تم نہیں جانتے تھے۔ اس کی اچھائی کو تم جانتے تھے تو تم نے اس کی تعریف کی اور میں نے تمہاری گواہی کو قبول کیا۔ اس حدیث میں تو چار اردگرد کے پڑوسیوں کا ذکر ہے۔ مسند احمد کی روایت میں حضرت ابوہریرہ سے تین اردگرد کے پڑوسیوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کا معاملہ ہے۔ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ مرنے والوں کی خوبیاں بیان کریں۔
قابلِ غور بات
تاہم اس بات میں شرح مشکوٰۃ میں ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ تمام لوگوں کی تعریف کا اعتبار نہیں، اہلِ علم اور صُلحاء کی بات کا اعتبار ہے۔ بعض دفعہ کسی کا مزاج نہیں ملتا تو وہ اس کو بُرا کہنے لگتا ہے، یا کوئی بندہ ویسے ہی غصے میں یادشمنی کی وجہ سے خلاف بات کر رہا ہے تو ایسے شخص کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی نے فرمایا کہ اللہ ربّ العزت نے بندے کو تعریف، پردہ پوشی اور لوگوں کی محبت سے نوازا ہے۔
جو لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں تو یہ کوئی ہماری تعریف ہے؟ ہمارے تو عیب کھل کر اگر لوگوں کے سامنے آجائیں تو ہم پر کوئی پیشاب کرنا بھی پسند نہ کرے۔ لوگوں کی طرف سے تعریف، یہ اللہ تعالیٰ کے اِنعامات میں سے ایک انعام ہے۔ دوسری بات یہ کہ گناہوں کی پردہ پوشی ہے۔ اور ہماری آپس کی جو محبتیں ہیں یہ بھی اللہ کے انعامات میں سے ایک انعام ہے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں: اے دوست! جس نے تیری تعریف کی، درحقیقت اس نے تیرے پروردگار کی تعریف کی۔ اگر وہ اللہ تیرے گناہوں کو نہ چھپاتا تو تجھے تعریف کرنے والا دنیا میں کوئی نہ ملتا۔
ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے چند فرشتے زمین میں ایسے ہیں جو میت کی وہی اچھائی یا برائی کی بات کہتے ہیں جو لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ (مقاصد حسنہ: رقم 246)
اس لیے لوگوں کی نظر اور لوگوں کی رائے کی اللہ کے ہاں بڑی قیمت ہوا کرتی ہے۔ اب کسی کا انتقال ہوجائے تو کیا اعمال اختیار کریں؟
نعم البدل کی دعا کرنا
حضرت اُمِّ سلمہ کے خاوند حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوگیا تو نبی نے انہیں فرمایا کہ یوں دعا کرو:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلَہُ، وَ أَعْقِبْنِيْ مِنْہُ عُقْبٰی حَسَنَۃً. (صحیح مسلم: رقم 919)
ترجمہ: ’’اے اللہ! میری اور ان کی مغفرت فرما، اور مجھے ان سے بہتر نصیب فرما‘‘۔
علماء نے فرمایا کہ خاوند کی وفات پر حضور پاکﷺ نے انہیں یہ دعا تعلیم فرمائی کہ اس موقع پر یہ دعا اللہ تعالیٰ سے کریں۔ اسی طرح کسی نگران کا، بڑے کا، امیر کا انتقال ہوجائے، تب بھی یہی دعا کی جائے کہ اللہ! ان کا نعم البدل عطافرما۔
اِسترجاع کا عمل
اور جب کسی عام مؤمن کا یا بھائی کا انتقال ہوجائے تو حکم دیا کہ إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھیں۔ کیا مطلب اس کا؟ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں، جو کچھ ہمارے پاس ہے اللہ ہی کا ہے اور ہم سب کو لوٹ کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے۔ ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جائیں گے۔ اے اللہ! اس مرنے والے کو اپنے ہاں صالحین لوگوں میں شامل فرما لیجیے، اور انہیں علیین میں جگہ عطا فرما دیجیے۔ ان کے بعد والوں کو ان کا نائب بنا دیجیے۔ اے اللہ! ان کی وفات سے ہمیں جو تکلیف پہنچی ہے، اس کے اجر سے محروم نہ کرنا۔ اور ان کے بعد ہمیں کسی آفت میں مبتلا نہ کرنا۔ اس طرح کی دعاؤں کا مختلف احادیثِ شریفہ میں ذکر ہے۔
ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب کسی میت کے پاس جائو تو اس وقت بھلائی کی بات ہی کہو، فرشتے اس وقت تمہاری دعائوں پر آمین کہتے ہیں۔ (صحیح مسلم: رقم 919)
حضرت عبداللہ بن عباس کا عمل
حضرت عبداللہ بن عباس ایک مرتبہ کہیں جا رہے تھے تو حالتِ سفر میں انہیں اپنے بھائی قثم کی شہادت کی خبر ملی۔ ان کی قبر مشہور قول کے مطابق ازبکستان کے شہر سمرقند میں ہے۔ الحمدللہ! وہاں اُن کی قبر پر جانا ہوا۔ جب حضرت ابنِ عباسi کو اپنے بھائی کی اطلاع ملی تو انہوں نے کیا کہا؟ إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ . اونٹ کو روکا۔ راستے سے ایک طرف ہٹ کر اُترے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ تھوڑی دیر تک بیٹھ کر دعا کرتے رہے۔ پھر واپس سواری کی طرف آئے اور یہ آیت پڑھی:
یٰا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ (البقرۃ: 153)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو‘‘۔
(فتح الباري: باب الصبر عند الصدمۃ الأولٰی، و سیر أعلام النبلاء: من صغار الصحابۃ قثم بن العباس)
یہ طریقہ حضراتِ صحابہ کرام کا ہے۔ اس لیے جب کسی کے انتقال کی خبر مل جائے تو إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ لیا جائے اور دورکعت نفل پڑھ کر دعائے خیر کی جائے۔ اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا جائے۔ اللہ ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آج پتا نہیں ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنے نبیﷺ کے طریقے کو جانتے ہی نہیں۔
چھوٹے بچوں کا انتقال کر جانا
اللہ تعالیٰ کی منشا ہے کہ بعض مرتبہ نابالغ بچے بھی دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ اس کی حکمت بھی بڑی عجیب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی مرفوع حدیث میں ہے کہ میری اُمت میں اگر کسی کے دو نابالغ بچے مر جائیں، وہ دونوں اپنے ماں باپ کو جنت میں داخل کرائیں گے۔ (فتح الباری: تحت باب فضل من مات لہ ولد فاحتسب …)
چھوٹے بچے جب دنیا سے چلے جاتے ہیں تو یہ والدین کے لیے خیر کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کسی کے دو ہوں، کسی کے تین ہوں اور غالبًا ایک حدیث میں ایک پر بھی فضیلت ہے۔
حضرت جابر بن سمرہ کی لمبی حدیث میں نبی نے فرمایا: جس نے تین بچوں کو دفن کیا اور صبر کیا ثواب کی امید کرتے ہوئے، اس کے لیے جنت واجب ہے۔
یہاں دوچیزیں ہیں کہ بچے کے انتقال کے بعد صبر بھی کیا اور ثواب بھی سمجھا۔ کوئی غلط بات نہیں کی، کوئی جزع فزع نہیں کیا تو جنت واجب ہے۔
اس موقع پر حضرت اُمّ اَیمن نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! اگر کسی کے دو ہوں تو؟ آپﷺ نے فرمایا: تب بھی یہ فضیلت ہے۔ حضرت اُمّ اَیمن نے پھر پوچھا کہ اور اگر کسی کا ایک ہی بچہ ہو تو؟ آپﷺ خاموش ہوگئے۔ پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا: اے اُمِّ اَیمن! جس نے ایک کو دفن کیا، اس پر صبر کیا اور ثواب سمجھا، تو اس کے لیے بھی جنت واجب ہوجائے گی۔ (فتح الباري: تحت باب فضل من مات لہ ولد فاحتسب)
شرح مشکوٰۃ میں ہے کہ جس نے ثواب نہ سمجھا اور اللہ کے فیصلے پر راضی نہ رہا، اسے کوئی ثواب حاصل نہیں ہوگا۔ ہاں! دل سے غمگین ہونا، آنکھوں سے رونا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے، اس سے ثواب میں کمی نہیں ہوتی۔
بالغ اولاد کا انتقال کر جانا
ایک تو وہ بچے ہوتے ہیں جو بالغ ہونے سے پہلے چلے جاتے ہیں۔ اب اس میں ایک بات یہ بھی آتی ہے کہ آج کل جہاں حالات جا رہے ہیں کہ جب اولاد بالغ ہوجاتی ہے اور فوت ہوجاتی ہے تو اس کا معلوم نہیں کہ جنت میں جائے گی یا جہنم میں؟ پھر تربیت صحیح کر پائیں گے یا نہیں؟ وہ ہمارے لیے صالحات میں سے بنے گی، یا شرمندگی کا باعث؟ دنیا اور آخرت میں ذریعہ نجات بنے گی یا نہیں؟ کوئی معلوم نہیں۔ کوئی گارنٹی نہیں۔ لیکن وہ چھوٹے بچے جو نابالغی میں دنیا سے چلے گئے، وہ ہمارے لیے خیر کا ذریعہ بنیں گے۔ حتی کہ صرف وہ بچے نہیں جو پیدا ہوئے، بلکہ حمل ساقط ہونے کی پوزیشن میں بھی یہی ثواب لکھا گیا ہے۔
نومولود یا ناتمام بچہ کا انتقال کرنا
حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ نبی پاک نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! ناتمام (مرنے والا) بچہ اپنی ماں کو جنت میں کھینچ کر لے جائے گا اگر ماں نے اس پر صبر کیا۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 1609)
اب جس بچے کو چار مہینے گزر چکے ہوں اور اس کے بعد کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے حمل ساقط ہوگیا اور عورت نے اس پر صبر کیا تو وہ بھی اس ثواب میں اِن شاء اللہ العزیز آجائے گی۔ اور بعض علمائے کرام نے اس کی تصریح کی ہے کہ ناتمام ساقط بچہ قیامت کے دن اپنے والدین کے حق میں شفاعت کرے گا۔
وفات پر رونے کا مطلب
کسی عزیز کی وفات پر انسان روتا بھی ہے۔ یہ رونا تو نبی سے ثابت ہے، مگر شور کرنا، چلانا منع ہے۔ حضرت اَنس فرماتے ہیں کہ آپ کے صاحبزادے آپ کے سامنے آخری حالت میں تھے۔ آپﷺ نے انہیں اٹھایا، بوسہ دیا اور سونگھا، تو نبی کی مبارک آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرات ٹپکنے لگے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے بڑے تعجب سے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ رحمت (شفقت) کی وجہ سے ہے۔ اس کے بعد آقائے دوجہاںﷺ نے فرمایا:
إنّ العين تدمع، والقلب يحزن، ولا نقول إلا ما يرضى ربّنا، وإنّا بفراقك
يا إبراهيم- لمحزونون. (صحیح البخاري: رقم 1241)
ترجمہ: ’’بے شک آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، اور دل غمگین ہے، اللہ پاک کی مرضی کے علاوہ ہم کچھ نہیں کہتے۔ اے ابراہیم! تمہاری جدائیگی سے ہم غمگین ہیں‘‘۔
حضرت ابراہیم حضرت محمد کے بیٹے کا نام تھا۔ آپﷺ سے رونا ثابت ہے، مگر زور سے چلانا، واویلا کرنا، پیٹنا یہ میرے نبیﷺ کی سنت ہرگز نہیں ہے۔
میت پر نوحہ کرنے والوں کو روکنا
جب کسی میت کے موقع پر عورتیں آجاتی ہیں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ حضور نبی کی صاحبزادی حضرت زینب کی وفات ہوگئی تو عورتیں رونے لگیں۔ حضرت عمر فاروق انہیں اپنا کوڑا دکھا کر روکنے لگے کہ شور مت مچاؤ۔ نبی نے حضرت عمرکا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے عمر! انہیں چھوڑو۔ پھر عورتوں سے فرمایا: رو، مگر شیطان کا رونا نہ رو (اونچی آواز سے نہ رو)۔ پھر دوبارہ ارشاد فرمایا:
إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ ، فَمِنَ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمِنَ الرَّحْمَةِ ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ ، فَمِنَ الشَّيْطَانِ. (مسند أحمد: رقم 2048)
ترجمہ: ’’بسا اوقات رونا آنکھ اور دل سے ہوتا ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، رحمت کا سبب ہے۔ اور جو رونا ہاتھ سے (یعنی سینے کو، جسم کو پیٹنے سے) اور زبان سے ہوتا ہے، یہ شیطان کی جانب سے ہے‘‘۔
اور آج کل تو الامان والحفیظ پروفیشنل میت پر رونے والی عورتیں مل جاتی ہیں۔ یاد رکھیں! اُن پر اللہ تعالیٰ کی لعنتیں برستی ہیں۔ اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ تو میت کے موقع پر رونا ثابت ہے۔ لیکن شور مچانا، چلانا، بین کرنا، نوحہ کرنا، اور ایسی عورتوں کو جمع کرنا، یہ سب چیزیں نبی نے نہیں بتائیں۔
حضور پاکﷺ کا رونا
امی عائشہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی وفات پر نبی نے اُن کا بوسہ لیا اور آپ رو رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آنسوؤں کے قطرات گر رہے تھے۔ اور حضرت امی عائشہ، حضرت ابنِ عباس اور حضرت جابر کی روایت میں نبیﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد جنابِ صدیقِ اکبر نے آپﷺ کے جسدِ اطہر کا بوسہ لیا۔
(سنن ترمذی: باب ما جاء في تقبیل المیت، رقم 989)
حضرت اَنس فرماتے ہیں کہ میں جب نبی کی صاحبزادی کے جنازے میں جب شریک ہوا، آپ قبر کے پاس تھے۔ اور میں نے دیکھا کہ آپw کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 1225)
کسی عزیز یا گھر والوں کی میت پر رونا، اگر شریعت کے مطابق ہو تو بہت قیمتی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا معاملہ فرمائے! کتابوں میں یوں تو بہت ساری باتیں لکھی ہوئی ہیں یہ ایک بڑی عجیب بات لکھی ہوئی ہے کہ میں حیران ہوگیا۔
فسق و فجور کی وجہ سے رکاوٹ
حافظ ابنِ حجر نے ایک حدیث ابن حبان کے حوالے سے لکھی ہے کہ جس گھر میں میت ہو وہاں آخری وقت میں فاجر اور فاسق لوگوں کو نہیں ہونا چاہیے۔ بے نمازی لوگوں کو، بے پردہ لوگوں کو وہاں نہیں ہونا چاہیے کہ اس وقت ایمان والے پر اللہ کی رحمت اُترے گی اور ان لوگوں کی وجہ سے فرشتوں کو رکاوٹ پیدا ہوگی۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ آخری وقت میں صالحین اور اہلِ تقویٰ ہونے چاہیے۔ تھوڑے ہوں یا زیادہ، نیک لوگ ہوں۔ بے پردہ عورتیں نہ ہوں، بے نمازی لوگ نہ ہوں، فاسق اور فاجر قسم کے لوگ نہ ہوں۔ یہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا معاملہ فرمائے! اور جب ہماری موت کاوقت آئے تو نیک لوگ ہی ہمارے قریب ہوں، شریعت اور سنت کے مطابق تلقین بھی کر رہے ہوں۔

وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں