موت کی تکلیف

موت کی تکلیف

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوۃَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط وَہُوَالْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ۝۲
(الملک: 2)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

سب سے آخری تکلیف
دنیا میں یہ تو کسی کو معلوم نہیں کہ کون پہلے جائے گا، لیکن اتنا تو ہر ایک کو ضرور علم ہے کہ ہم سب نے دنیا چھوڑ کر جانا ہے۔دنیا کے غم اور پریشانیاں ایمان والوں کے لیے نعمت اور راحت ہوتی ہیں۔ ایمان والا ساری زندگی مختلف غم اور پریشانیاں اٹھاتا ہے، اگر صبر کرتا رہے تو ہر تکلیف پر اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ سب سے آخری تکلیف اس دنیا کی جو مؤمن کو ملتی ہے وہ موت کی تکلیف ہے، اس کے بعد اس کو کوئی تکلیف دنیا میں نہیں ملتی۔
(الثبات عند الموت: ص 59)
اور جو اللہ والے ہوتے ہیں، جن کا تعلق اللہ سے ہوتا ہے وہ خوشیوں سے زیادہ غموں کو پسند کرتے ہیں۔حضرت جیs ایک شعر پڑھتے ہیں اس کا ترجمہ اس طرح سے ہے:
میں خوشیوں کو دکھوں پر قربان کر دوں
کہ دکھ آتے ہیں تو اللہ سے ملا دیتے ہیں
خوشیاں سلاتی ہیں اور غم جگاتے ہیں

روح نکلنے کی تکلیف
یہ ایک اُصول ہے کہ جو سب سے آخری غم اور تکلیف انسان کو پہنچتی ہے وہ نزع کی تکلیف ہے۔ روح نکلنے کی تکلیف کا ایک ایک رَگ میں اِحساس ہوتاہے ۔ انسانی جسم میں جتنی رَگیں ہیں، روح نکلنے کی تکلیف کا ہر رَگ میں الگ اِحساس ہوتا ہے۔ عمر بن العزیز فرماتے تھے کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے اوپر موت کی سختی کا عالم نہ آئے، (یعنی میں تو موت کی سختی کو پسند کرتا ہوں) کیوںکہ یہ آخری عمل ہوتا ہے (دنیا میں) جس سے ایمان والوں کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ (الثبات عند الموت: ص 59)
سبحان اللہ! کیسے سوچتے ہوں گے۔ موت کی تکلیف تو ہر ایک کو پیش آنی ہے۔
نبیﷺ کا عمل
نبیﷺ کے بارے میں آتا ہے امی عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو دیکھا کہ موت کے قریب آپﷺ کے پاس پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا۔ آپﷺ اس میں بار بار ہاتھ مبارک داخل فرماتے اور چہرے مبارک پر مَلتے اور یوں فرماتے:
اَللّٰهُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ أَوْسَكَرَاتِ الْمَوْتِ. (سنن الترمذي: رقم 978)
ترجمہ: ’’اے اللہ! موت کی شدّت اور سختی میں میری مدد فرما‘‘۔
یہ دعا ہمیں بھی یاد کرنی چاہیے۔موت کا تو کوئی نہیں پتا کہ کس وقت آ جائے۔ اس دعا کو ہم یاد کرتے رہیں تا کہ جب اپنے اوپر موت کا معاملہ پیش آئے تو اس دعا کو ہم پڑھتے رہیں۔یہ سنّت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں یہ عطا فرمائے کہ موت کے قریب میں یہ مسنون دعا پڑھنے والے بن جائیں۔ ایک اور دعا بھی حدیث میں ہے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وْارْحَمْنِيْ وْأَلْحِقْنِيْ بِالرَّفِيْقِ.
(صحیح البخاري: باب تمنّي المریض الموت)
ترجمہ: ’’اے اللہ! میری مغفرت فرما، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھ کو اچھے رفیقوں (فرشتوں اور پیغمبروں ) کے ساتھ ملادے ‘‘۔
صحیح اور غلط کی پہچان
موت کے وقت بعض دفعہ ایمان والوں کو تکلیف محسوس ہوتی ہے اور اِردگرد والے دیکھتے ہیں کہ نیک آدمی ہے، اس کو تکلیف ہو رہی ہے۔ اور بعض دفعہ فاسق و فاجر دنیا دار قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور انہیں موت کی تکلیف نہیں ہوتی۔ اس بات سے کوئی وسوسے میں پڑ جاتا ہے کہ یا اللہ! یہ نیک تھا اس کو تکلیف ہوئی، اور گناہ گار کو تکلیف نہ ہوئی۔ بھائیو! یہ دنیا کی چیزیں ہیں۔ دنیا کے کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جس میں انسان دھوکے میں پڑ جاتا ہے اور صحیح اور غلط میں پہچان نہیں کر پاتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مؤمن اور اس کی بیماری کا معاملہ بڑا عجیب ہے، اگر اسے معلوم ہو جائے کہ اس بیماری میں اسے کیا کچھ (اَجر) مل رہا ہے تو وہ ہمیشہ بیماری کو ہی پسند کرے گا۔ (ترغیب وترہیب: رقم 5194)
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جوکوئی مؤمن مرد اور مؤمن عورت، اور مسلمان مرد اور مسلمان عورت بیمار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اُن کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔
(ترغیب و ترہیب: رقم 5197)
کتابوں میں لکھا ہے کہ مؤمن جو برائی یا گناہ کرتا ہے اس کی وجہ سے موت کے وقت اس پر سختی ہوتی ہے تا کہ گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔ نبیﷺ کو بھی موت کی تکلیف آئی اور دیگر انبیائے کرامf کو بھی یہ تکلیف پیش آئی۔ مسلمان اللہ تعالیٰ کے پاس صاف ستھرا ہو کر جاتا ہے۔ اور اگر کسی کافر یا فاسق کی کوئی نیکی باقی ہوتی ہے تو اسے اس کی نیکی کا دنیا میں بدلہ دے دیا جاتا ہے،قیامت کے دن اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔
غم کیا ہونا چاہیے؟
اللہ تعالیٰ کے پیمانے کتنے عجیب ہیں۔ یہ باتیں اگر ہمیں سمجھ آ جائیں تو پھر یہ غم غم نہ رہیں۔ جن کو آج ہم غم کہتے ہیں، اللہ کی قسم! یہ غم کہلانے کے قابل ہی نہیںہے۔ غم کونسے ہیں؟ کلمے والی موت آ جائے، موت کے وقت کلمہ مل جائے، قبر کے اندر معاملہ آسان ہو جائے، قیامت والے دن نامۂ اَعمال دائیں ہاتھ میں مل جائے، نبیﷺ سے ملاقات کا شَرَف مل جائے، شفاعت مل جائے، پل صراط کا معاملہ آسانی سے کراس ہو جائے، بغیر حساب کے جنت مل جائے۔ اتنے بڑے بڑے یہ غم ہیں۔ جن کے سامنے یہ غم ہوتے ہیں وہ دنیا کے غموں کو غم سمجھتے ہی نہیں۔ اور جن کے سامنے سے یہ چیزیں ہٹ جائیں، یہ منظر ہٹ جائے وہ دنیا کے غموں کی وجہ سے مرنے کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔
سیدنا علی کی ترغیب
سیدنا علی جب لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیتے تو یوں فرماتے کہ اگر تم قتل یعنی شہید نہ کیے گئے تو بستر پر مرو گے۔ اگر تم اللہ کے راستے میں نہ مارے گئے تو بستر پر مرو گے، اور قسم ہے اس جان کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! ہزار جگہ تلوار کی کاٹ سے مرنے کی تکلیف میرے لیے بستر پر مرنے سے بہتر ہے۔ (الذریعۃ إلی مکارم الشّریعۃ)
مرنے کی متعین جگہ
جس طرح مرنے کا وقت متعین ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی آدمی کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو اسے بلایا لیا جاتا ہے۔ ایسے ہی جس جگہ پر موت آنی ہوتی ہے اللہ ربّ العزّت آخری وقت میں اس بندے کو وہاں بھیج دیتے ہیں۔ ایسا کوئی انتظام کر دیتے ہیں کہ وہ خود وہاں پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی موت مقدّر ہوتی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ آپﷺ کا گزر ایک جماعت پر سے ہوا جو قبر کھود رہے تھے۔ اللہ کے نبیﷺ نے دریافت کیا کہ کس کے لیے قبر کھود رہے ہو؟ عرض کیا کہ ایک حبشی آدمی (حبشہ سے) آیا تھا، اس کا انتقال ہوگیا ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: لَاإِلٰہَ إِلَّا اللہُ! اللہ تعالیٰ اِسے دوسری زمین و آسمان سے اُس زمین کی طرف لے آئے جس کی مٹی سے اسے پیدا کیا تھا۔ (مجمع الزوائد: رقم 4226)
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہر پیدا ہونے والے بچے کی ناف میں مٹی کا وہ ذرّہ ہوتا ہے جس سے اس کی پیدایش ہوئی ہے، پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان ارذلِ عمر (بڑھاپے) کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے، (پھر موت اسے آلیتی ہے اور وہ اسی میں دفن ہوتا ہے جس سے اس کی پیدایش ہوئی تھی۔ اور میں (محمد رسول اللہﷺ) اور ابو بکر اور عمر کی پیدایش ایک ہی مٹی سے ہوئی ہے، اور اسی میں ہی ہم دفن کیے جائیں گے۔ (تاریخ بغداد: رقم 737)
ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ کس وقت موت آئے گی؟ کس زمین پر موت آئے گی؟ ہاں! اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کریں کہ اللہ! شہادت عطا فرما، اور جنت البقیع میں دفن ہونا عطا فرما۔ جب ہماری یہ دعائیں ہوں گی تو کسی بہانے آخری وقت میں حج و عمرے کے لیے پہنچ ہی جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ معاملہ آسان فرمائے آمین۔
شیطان کا بڑا حملہ
شیطان موت کے وقت سب سے بڑا حملہ کرتا ہے۔ باقی بہت سے کام چیلے چانٹوں سے لیتا ہے، لیکن جب بندے کی موت کا وقت آتا ہے، روح نکلنے کا وقت ہوتاہے تو بالکل سامنے آ کر شرک و کفر کا، اور دیگر مختلف گناہوں سے انسان کو ترغیب دیتا ہے اور کافر بنانے کے لیے پوری کوشش کرتا ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ جو دین دار لوگ ہیں، اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور جو فاسق و فاجر قسم کے ہوں، علماء کو برا کہنے والے اور دین سے دور ہوں، شیطان کا دائو ان پر چل جاتا ہے اور یہ اکثر اوقات کلمے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
امام احمد کا واقعہ
امام احمد بن حنبل کا واقعہ بڑا مشہور ہے ۔ جب اُن کا تقریباً آخری وقت تھا اور بار بار غشی طاری ہو رہی تھی۔ لوگ کلمے کی تلقین کر رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے: ابھی نہیں، ابھی نہیں۔ لوگ حیران ہوتے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اور کس سے کہہ رہے ہیں؟ کچھ وقت کے بعد جب طبیعت بحال ہوئی تو بیٹے نے پوچھا کہ ابا جان! یہ کیا معاملہ ہے جو آپ فرما رہے تھے: ابھی نہیں، ابھی نہیں؟ کہنے لگے کہ شیطان بدبخت میرے سامنے آیا تھا اور مجھ سے کہہ رہا تھا کہ احمد! تُو میرے چنگل سے نکل گیا، میرے قابو میں نہیں آیا۔ میں اس کو جواب دے رہا تھا کہ او بدبخت! نہیں، ابھی نہیں، جب تک روح نہیں نکل جاتی تجھ سے اَمن نہیں۔ یہ شیطان اتنا بڑا دشمن ہے۔
موت کے وقت فرشتوں کا آنا
ملک الموت جو تمام لوگوں کی جانوں کو قبض کرتے ہیں، اُن کے سامنے پوری دنیا ایسی ہے جیسے ہتھیلی میں کوئی چیز پڑی ہوتی ہے۔ ذرا سوچیں کہ وہ پوری دنیا کی چیزوں کو ایسے دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے انسان ہتھیلی میں پڑی کوئی چیز دیکھ رہا ہو۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: میت کے پاس ملائکہ یعنی فرشتے آتے ہیں۔ اگر وہ آدمی نیک اور صالح ہوتا ہے تو فرشتے بڑے احترام سے کہتے ہیں کہ نکلو اے پاکیزہ روح! جو پاک جسم میں تھی۔ نکلو اے قابلِ تعریف! تمہیں خوشخبری ہو اللہ کی رحمت اور جنت کی، اور ربّ ِ(ذو الجلال) کے راضی ہوجانے کی۔ جب تک وہ نیک روح جسم سے نکل نہیں جاتی، فرشتے اس کو برابر یہی کہتے رہتے ہیں۔ (اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی جاتی، نہ مارا جاتا ہے، نہ ڈانٹ ڈپٹ کچھ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ گنہگاروں کے ساتھ کیا جاتا ہے) پھر فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان کی جانب جاتے ہیں۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ فلاں نیک آدمی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکیزہ جان کو خوش آمدید ہو جو پاکیزہ جسم میں تھی۔ (جنت میں) داخل ہو جائو اس حال میں کہ تم قابلِ تعریف ہو، اور تمہیں خوشخبری ہو اللہ کی رحمت اور جنت کی، اور اپنے رب کے راضی ہو جانے کی کہ وہ اب کبھی ناراض نہ ہوگا۔ اسی طرح ہر آسمان کے دروازے پر اسے یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح کو اس آسمان پر پہنچا دیا جاتا ہے جس میں خود سبحانہٗ و تقدّس جلوہ اَفروز ہوتے ہیں۔ (سننِ ابنِ ماجہ: رقم 4262)
اللہ کو راضی کرنے والی روح کے ساتھ اعزاز و اکرام کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ اور جو فسق و فجور کی زندگی گزارنے والے ہیں، اُن پر عذاب کے فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ اور جہنم کے اندر بھی فرشتے اُنہیں عذاب دے رہے ہوتے ہیں۔
نکتہ کی بات
ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں، یہ موضوع تو نہیں ہے لیکن اِن شاء اللہ بات اچھی طرح سمجھ آ جائے گی۔ جہنم کے اندر فرشتے بھی ہوں گے اور جہنمی بھی ہوں گے، لیکن فرشتے تکلیف میں نہیں ہوں گے جبکہ اہلِ جہنم تکلیف میں ہوں گے۔ دیکھیے! دلیل، تھانے کی جیل میں قیدی بھی ہوتے ہیں اور پولیس والے بھی ہوتے ہیں۔ بتائیے کہ تکلیف میں کون ہوتا ہے؟ قیدی ہوتے ہیں جبکہ پولیس والے تکلیف میں نہیں ہوتے۔یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ کچھ فرشتوں کو جہنمیوں پر ذلت اور رُسوائی کے لیے کھڑا کر دیا ہے۔
صحبت کی اہمیت
دنیا میں انسان جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، موت کے وقت بھی وہی لوگ اس کے سامنے آجاتے ہیں۔ حضرت یزید بن شجرہ سے منقول ہے کہ ہر انسان کے انتقال کے وقت اس کے رُفقاء اور ہمنشینوں کی تصویر اس کے سامنے لائی جاتی ہے، اگر اس کے ہمنشین کھیل تماشے والے ہوتے ہیں، تو یہ اس میں پڑ جاتا ہے (ویسی حرکتیں کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ کلمہ پڑھنے سے غفلت ہو جاتی ہے) اور اگر اس کے ہمنشین اللہ کو یاد کرنے والے ہوتے ہیں، تو یہ بھی اللہ کو یاد کرنے والا بن جاتا ہے۔
(مصنف ابنِ ابی شیبہ: رقم 34290)
خدانخواستہ جس نے موبائل کا غلط استعمال کیا ہوگا، اپنی جوانی کا غلط استعمال کیا ہوگا، اپنی قوت اور اپنی زبان کا غلط استعمال کیا ہوگا، تو پھر موت کے وقت پریشانی ہوگی۔ آج اِن سب چیزوں پر کنٹرول اپنے بس میں ہے، دوسرا کچھ نہیں کر سکتا۔ جب اِن چیزوں کا صحیح استعمال نہیں ہوتا تو موت کے وقت کلمہ پڑھنا مشکل ہو جاتاہے۔ مرتے وقت ایک آدمی سے کلمہ کی تلقین کی گئی تو کہنے لگا کہ مجھے شراب لا کر دو (العیاذ باللہ)۔ ایک اور کلمہ پڑھنے کی تلقین کی گئی تو بازار میں جس طرح آوازیں لگاتے ہیں، اس طرح وہ آوازیں لگاتا رہا لیکن کلمہ نہیں پڑھا۔ جیسی زندگی گزرتی ہے موت کے وقت وہی معاملات پیش آ جاتے ہیں۔موت کی شدّت اور سختی اتنی ہے کہ ایک ایک رَگ سے محسوس ہوگی۔
رُوح رگ رگ سے نکالی جائے گی
تجھ پہ اِک دن خاک ڈالی جائے گی
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

موت کی سختی
دنیا سے ہر ایک نے جانا ہے۔ اس جانے کے عمل کا نام موت ہے۔ جب انسان کو موت آتی ہے، اس وقت بہت بڑی کیفیت اس پر طاری ہوتی ہے۔
حضرت انسسے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: موت کی سختی تلوار کی ہزار دفعہ مار سے زیادہ سخت ہے۔
(قال الألباني في ” السّلسلة الضّعيفة و الموضوعة ” 4 / 108 : ضعيفٌ جدًّا)
عطاء بن یسارسے مرسل روایت ہے کہ ملک الموت کی تکلیف تلوار کے ہزار واروں سے زیادہ سخت ہے، اور ہر مؤمن کی جس وقت وفات ہوتی ہے تو وہ ہر ہر رَگ میں اس کی تکلیف الگ الگ محسوس کرتا ہے۔ (ابو محمد حارث فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آگے انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا) اس وقت مؤمن کو جنت کی بشارت دو، اس لیے کہ تکلیف بڑی سخت ہے، اور اس وقت خدا کا دشمن شیطان بہکانے کے لیے سب سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔ (بغیۃ الحارث: کتا ب الجنائز، رقم 262)
ایک حدیث میں ہے کہ قبضِ روح کی کم سے کم تکلیف بھی تلوار کے سو واروں کے برابر ہے۔ (فیض القدیر: 233/1)
ایک اللہ والے سے سوال
ایک صاحب نے ایک اللہ والے سے پوچھا کہ آدمی کو ذرا سی تکلیف ہو، کوئی سوئی چبھ جائے تو وہ اچھل کود کرتا ہے، پریشان ہو جاتا ہے۔ موت کی تکلیف اتنی بتائی گئی تو اُچھل کود نہیں کر رہا ہوتا؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ ذرا سی سوئی چبھا دو، تلوار کا کونہ لگا دو تو تڑپ اٹھتا ہے، پریشان ہو جاتا ہے۔ موت کی تکلیف اتنی سخت ہے مگر دیکھنے میں پتا ہی نہیں چلتا۔ اللہ والے نے جواب دیا کہ فرشتے اسے مضبوطی سے کَس کر باندھ رکھتے ہیں، فرشتے اسے جکڑ لیتے ہیں کہ وہ ہِل نہیں سکتا۔ اگر فرشتے اسے نہ جکڑیں تو پھر پتا نہیں کیا معاملہ پیش آ جائے۔
روح نکلنے کی ترتیب
حسن بصری فرماتے ہیں کہ جس وقت روح نکل رہی ہوتی ہے سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب روح حلق کے پاس آتی ہے۔ روح پائوں سے نکلنا شروع ہوتی ہے، سلسلہ پھر چلتے چلتے گھٹنوں تک آتا ہے، پھر کمر تک آتا ہے، پھر پیٹ تک آتا ہے، پھر سینے تک آتا ہے، چلتے چلتے حلق تک آ جاتا ہے، پھر اوپر کی طرف جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ عافیت والا معاملہ فرمائے۔
شہادت پر موت کی تکلیف کی مثال
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: شہید کو قتل کی تکلیف ایسے محسوس ہوتی ہے کہ جیسے تم میں سے کسی کو جسم پر کانٹنے کی ہوتی ہے۔
(سنن ترمذی: رقم 1668)
جیسے کسی کو چیونٹی نے کاٹ لیا ہو۔اللہ تعالیٰ سب کو عافیت والی موت عطا فرمائے۔
سب سے آخری مخلوق کی موت
سب سے آخر میں کس کی موت آئے گی؟سب سے آخر میں کون مرے گا؟ حدیث شریف میں ہے کہ خلائق میں سب سے آخری موت ملک الموت کی ہوگی۔دنیا کے تمام انسان چلیں جائیں گے، نیک بھی چلیں جائیں گے، بد بھی چلیں جائیں گے، سب فرشتے بھی چلیں جائیں گے حتی کہ حضرت جبرائیل بھی چلیں جائیں گے، ان کا بھی انتقال ہو جائے گا، ان پر بھی موت آ جائے گی۔پھر اللہ تعالیٰ حضرت عزرائیل سے پوچھیں گے کہ کون باقی؟ تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ! آپ کی ذات جو موت سے پاک ہے، اور میں۔ کہا جائے گا کہ تم بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہو۔ پھر حکم ہوگا کہ تم بھی مر جائو۔ وہ دن آئے گا اور وہ دن آنا ہے کہ جب کوئی باقی نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز ہوگی:
لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ (المؤمن: 16)
کون ہے جس کی بادشاہی ہے؟کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا۔سب ختم ہو چکے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ خود ہی جواب دیں گے:
لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۝۱۶ (المؤمن: 16)
’’صرف اللہ کی جو واحد و قہّار ہے‘‘۔
(الأھوال لابن أبي الدنیا: 54، المطالب العالیۃ لابن راھویہ: 555/7)
حضرت عزرائیل کی جب اپنی موت آئے گی تو حدیث میں آتا ہے کہ سب سے زیادہ موت کی تکلیف خود ان کو محسوس ہوگی جب ان کی موت آئے گی۔ اگر دیگر مخلوقات اس وقت زندہ ہوتیں تو صرف ملک الموت کی شدتِ موت کی تکلیف سے جو چیخ نکل رہی ہوگی، اس سے مر جاتی۔ (بستان الواعظین وریاض السامعین لابن الجوزی)
قصہ حضرت موسیٰ
ابتدا میں جب ملک الموت آتے تھے روح قبض کرنے تو ذرا آمنے سامنے ملاقات بھی ہو جاتی تھی۔ایک دفعہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ کی روح نکالنے کا حکم ہوا۔ چناںچہ انہوں نے آکر حضرت موسیٰ سے بات کی کہ آپ کی روح قبض کرنے آیا ہوں۔ حضرت موسیٰ نے طمانچہ مارا جس سے ان کی آنکھ پھوٹ گئی۔اللہ تعالیٰ کے پاس آئے کہ یا اللہ! آپ نے مجھے اس شخص کے پاس بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دوبارہ جاؤ اور اس سے کہو کہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آئیں گے، ہر بال کے بدلے میں ایک سال کی زندگی دی جائے گی۔ چناںچہ انہوں نے آکر بعینہٖ بات عرض کر دی۔ حضرت موسیٰ نے دریافت کیا کہ پھر کیا ہوگا؟ کہا گیا کہ پھر موت آئے گی۔حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ اچھا! جو بعد میں آنی ہے، پھر وہ ابھی کیوں نہ آ جائے۔ (صحیح بخاری: رقم 3226)
پہچان ختم ہو جانا
سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ جب ملک الموت روح قبض کرتے وقت انسان کی رگ کو دباتے ہیں تو اس وقت انسان اپنے گھر والوں کو پہچان نہیں پاتا، پہچان بند ہو جاتی ہے، بات کی قوت ختم ہو جاتی ہے، دنیا بھی بھول جاتا ہے، اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی بھول جاتا ہے۔اللہ اکبر! ملک الموت جب کسی کے گھر میں روح قبض کرنے آتے ہیں، اور گھر والے روتے ہیں تو فرشتے آواز لگاتے ہیں کہ دیکھو! اس نے اپنا رزق پورا کر لیا، اپنی عمر پوری کر لی، میں نے وہی کیا جس کا اللہ نے مجھے حکم دیا تھا، اپنی مرضی کوئی نہیں کی۔ جو عمر لے کر آیا تھا وہ پوری،جو رزق لے کر آیا تھا وہ پورا،جتنے سانس لے کر آیا تھا وہ پورے، مجھے پروردگار نے بھیجا ہے اس کے حکم سے لے کر جا رہا ہوں۔اور یاد رکھو اے گھر والو! اس گھر میں جتنے رہتے ہو، اتنی ہی مرتبہ میں نے آنا ہے۔ہر ایک کو لے کر جانا ہے، تمہیں بھی نہیں چھوڑنا۔ بات یہ ہے کہ ابھی تمہارا وقت پورا نہیں ہوا۔ اللہ عافیت والا معاملہ فرمائے۔ایک واقعہ سن کر بس بات مکمل کر لیتے ہیں۔
ایک ظالم بادشاہ کا قصہ
یزید رقّاشی سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کے بڑے بادشاہوں میں سے ایک بہت ہی متکبر بادشاہ تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھر کے اندر گھر والوں کے ساتھ خاص حصے میں بیٹھا ہوا تھا۔اچانک دروازے سے ایک آدمی اندر آ گیا۔بادشاہ حیران و پریشان کہ باہر سیکورٹی، دربان بیٹھے ہیں یہ اندر کیسے آ گیا؟ بادشاہ یکدم خوفزدہ بھی ہو گیا اور سکتے میں بھی آ گیا۔ خوف اور سکتے کی پوزیشن میں اس نے اجنبی سے پوچھا کہ کون ہو تم؟ کس نے تمہیں اندر آنے دیا؟اجنبی نے جواب دیا کہ مجھے تو اس نے آنے کا حکم دیا جو اس گھر کا مالک ہے، جو اس دنیا کا مالک ہے، اور میں تو وہ ہوں جسے کوئی روکنے والا نہیں۔ مجھے کون روک سکتا ہے؟ نہ بادشاہوں کے دربان مجھے روک سکتے ہیں، نہ شیطان مجھے روک سکتا ہے، کوئی ظالم بھی مجھے روک نہیں سکتا، اور کسی ظالم کے کسی حملے کا مجھے خوف بھی کوئی نہیں۔
جب یہ بات اجنبی نے کی تو بادشاہ یکدم پریشان ہو گیا اور کہنے لگا کہ مجھے تو آپ ملک الموت معلوم ہوتے ہیں۔ کہا: ہاں، میں وہی ہوں۔ تمہاری جان لینے آیا ہوں۔ بادشاہ نے کہا کہ تھوڑی سی تو مہلت دے دیجیے، کوئی وصیت کرلوں، کچھ کر لوں۔کہا: افسوس کہ تمہاری عمر پوری ہو گئی،سانس پوری ہو گئی،وقت ختم ہو گیا، اب میں ذرا بھی تاخیر نہ کروں گا۔پھر اس ظالم بادشاہ نے پوچھا: اچھا! میری روح نکال کر کدھر جائو گے؟ موت کے فرشتے نے کہا کہ تمہارے اس عمل کی طرف جو تم نے پہلے کیا، اور اس گھر کی طرف جو تم نے اپنے نیک اعمال سے بنایا ہوگا، ادھر لے کر جائوں گا۔بادشاہ نے کہا کہ میں نے تو کوئی نیک عمل نہیں کیا، اور نہ میں نے کوئی ایسا عمل کیا کہ جنت میں میرا گھر بنتا۔یعنی نیکی بھی میرے پلے کوئی نہیں، اور جنت کے اندر مقام بھی میرا کوئی نہیں۔
موت کے فرشتے نے جواب دیا: اچھا! پھر تو اتنی سی بات رہ گئی کہ تمہیں جہنم کی طرف لے جائوں گا جس کی آگ تمہاری کھال کو جھلسا دینے والی ہے۔پھر ملک الموت نے اس کی روح کو قبض کر لیا اور وہ گر پڑا، اور دیگر لوگ اس کی موت پر چیختے رہے اور روتے رہے۔ یزید رقّاشی فرماتے ہیں کہ اگر لوگ جان لیتے اس چیز کو جو اس کے پیش آیا کہ بادشاہت بھی ملی اور آخر میں ایسی اچانک والی موت کہ کچھ موقع نہیں دیا گیا تو لوگ اور بھی روتے، چیختے چلّاتے۔ (إحیاء العلوم: بیان الحسرۃ عند لقاء ملك الموت)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ موت کے وقت ہمارے ساتھ رحمت کا معاملہ فرمائے اور ایمانِ کامل والی موت عطا فرمائے۔موت کی تیاری کے لیے ہمیں توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَآخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply