موت کے بعد کفن اور غسل

موت کے بعد کفن اور غسل

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
اَنْتَ وَلِيّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَo
(سورۃ یوسف: 101)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

ہمیشہ کا ساتھی
ہر انسان کے تین بھائی ہیں: (۱) مال (۲) رشتے دار (۳) نیک اعمال۔
ایک بھائی کو مال سے تعبیر کیا گیا کہ جیسے ہی سانس نکل جاتی ہے، وہ مال والا بھائی انسان کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے، جدا ہوجاتا ہے، پھر کسی اور کا ہوجاتا ہے۔ دوسرا بھائی وہ ہے جو قبر میں دفن کرنے تک ساتھ دیتا ہے، پھرواپس لوٹ آتا ہے۔ یہ رشتہ دار ہیں۔ تیسرا بھائی وہ ہے جو ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ وہ نیک اعمال ہیں۔
حضرت آدم کا کفن اور تدفین
مسلمان کا غسل، کفن، دفن یہ سب چیزیں سنت ہیں۔ اور اس کی ابتدا حضرت آدم سے ہوئی۔ حضرت اُبیّ بن کعب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت آدم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو اپنے بیٹوں سے کہا کہ بیٹو! مجھے جنت کا پھل چاہیے۔ چناںچہ ان کے بچے وہ پھل تلاش کرنے باہر نکلے اور فرشتوں سے ان کی ملاقات ہوگئی۔ فرشتوں کے پاس کفن، خو شبو، کلہاڑی اور ایک تھیلی تھی۔ فرشتوں نے کہا کہ اے آدم کے بیٹو! تمہیں کیا چاہیے اور تم کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارے والد بیمار ہیں اور انہوں نے جنت کے پھل کی فرمائش کی ہے۔ فرشتوں نے کہا: واپس چلے جاؤ، تمہارے والد کا وقت آپہنچا ہے۔ چناںچہ حضرت آدم کے بیٹے واپس آگئے۔ حضرت حواء نے جب انہیں خالی ہاتھ لوٹتے دیکھا تو سمجھ گئیں کہ یہ حضرت آدم کا آخری وقت ہے۔ چناںچہ وہ حضرت آدم کی طرف بڑھیں۔ حضرت آدم نے ان سے فرمایا: مجھے چھوڑ دو، مجھے چھوڑ دو۔ میرے رب کے فرشتوں اور میرے درمیان اب کوئی نہ آئے۔ پھر فرشتوں نے ان کی روح قبض کرلی اور انہیں غسل دیا، کفن پہنایا، خوشبو لگائی، ان کے لیے قبر بنائی اور اس میں اُتارا، اور نماز پڑھی، قبر کو بند کیا اور اس پر اینٹیں رکھیں۔ پھر قبر سے باہر نکلے تو اپنے ہاتھوں کو جھاڑا اور بنی آدم سے کہا کہ اے آدم کے بیٹو! تمہارے مرنے والوں کا طریقہ آج سے یہی ہے۔
(مسند احمد: رقم 20734)
بیری کے پتوں سے غسل
طبرانی شریف کی روایت میں ہے کہ ملائکہ نے حضرت آدم کو بیری کے پانی سے غسل دیا، کفن پہنایا، اس کے بعد بغلی قبر کھودی، پھر اس میں دفن کیا۔ پھر کہا کہ تمہارے مُردوں کے دفن کا یہی طریقہ ہے۔ اس سے پہلے انسان کو معلوم نہیں تھا۔ بہرحال غسل دینے کی فضیلت بھی ہے اور اس کا ثواب بھی ہے۔ اور اس میں احتیاط بھی ہے کہ غسل دینے والا امانت دار ہے۔
میت کو غسل دینے کی فضیلت
میت کو غسل دینا ایک بلیغ نصیحت ہے۔ اگر کسی قریبی رشتے دار کا انتقال ہو جائے اور آپ غسل دینے چلے جائیں تو غسل دینے کا منظر ایسا ہوتا ہے کہ اس سے بڑی نصیحت بہت مشکل ہے۔ غسل دیتے وقت کبھی کچھ باتیں بھی سامنے آتی ہیں۔ وہ باتیں اچھی ہیں یا بری؟ ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
حضرت ابو رافع سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلم میت کو غسل دیا اور اس کے عیب کو چھپا دیا، اللہ تعالیٰ اس کی چالیس مرتبہ مغفرت فرماتے ہیں۔ (ترغیب و ترہیب: 368/3)
اگر کسی نے غسل دیتے وقت میت میں کوئی عیب دیکھا کہ رنگ کالا ہوگیا ہے، یا منہ سے جھاگ نکل رہا ہے، یا اس کی بغلوں کے یا زیرِ ناف بالوں کو دیکھا کہ بہت بڑے ہوئے ہیں۔ ایسی باتیں دوسروں سے کہنا مناسب نہیں ہے۔ غسل دینے والے کو چاہیے کہ یہ باتیں کسی کو نہ بتائے۔ اس پر اس غسل دینے والے کے لیے کتنا زبردست اجر ہے کہ ایک دو نہیں، چالیس مرتبہ اسے مغفرت کا پروانہ ملے گا۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: جو بندہ دوسرے مسلمان کی پردہ پوشی دنیا میں کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی فرمائیں گے۔ (صحیح مسلم: رقم 2699)
حدیث میں ہے کہ جسے اپنے مسلمان بھائی کی کسی برائی کا پتا چلا اور اس نے اسے چھپایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس (کے گناہوں) پر پردہ ڈالیں گے۔ (مجمع الزوائد: 138/1)
ذرا غور تو کیجیے کہ اللہ کو اپنے بندوں سے کتنا پیار ہے۔ اللہ چاہتے ہیں کہ زندوں کی بھی پردہ پوشی کی جائے اور مُردوں کی بھی پردہ پوشی کی جائے۔ ہاں! اگر غسل دینے والا کوئی اچھی بات دیکھے مثلاً خوشبو کا مہکنا، یا دانتوں اور آنکھوں کا چمکنا، یا چہرے پر بہت زیادہ نور کا ہالہ بنا ہونا، یا کسی بھی قسم کی ایسی کیفیت جو میت کے لیے باعثِ فضیلت ہو، ایسی بات بتانا مستحب ہے، اس کو نہ چھپائے۔ البتہ کوئی عیب ہو تو ضرور چھپائے۔
قبرستان جانا
ایک مرتبہ نبی نے اپنی اُمت کو نصیحت فرمائی۔ حضرت بُریدہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب مجھے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مل گئی ہے، تو تم قبروں کی زیارت کیا کرو، یہ قبریں آخرت یاد دلاتی ہیں۔
(سنن الترمذي: رقم 1054، باب ما جاء في الرخصۃ في زیارۃ القبور)
میت کو کفنانے اور قبر کھودنے کی فضیلت
میت کو غسل دینے کی فضیلت ابھی اوپر حدیثِ ابو رافع میں بیان ہوئی۔ اسی حدیث میں میت کو کفن پہنانے اور قبر کھودنے کی فضیلت بھی آئی ہے۔ ان تینوں کاموں کے بڑے بڑے ثواب نبیd نے بتائے ہیں۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا: جو کسی مردے کو کفن دے گا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دبیز ریشم کا جوڑے پہنائے گا۔ جو میت کے لیے قبر کھودے گا اور اسے اس میں دفن کرے گا، اسے وہ اجر ملے گا جیسا کسی نے کسی کو قیامت تک گھر بنا کر دیا ہو (اس کا ثواب قیامت تک جاری رہے گا)۔
(ترغیب و ترہیب: 368/3)
دنیا میں اگر کسی کو مکان دے دیں، اس میں 20یا 50سال رہے گا کہ آخر قبر میں جانا ہے۔ لیکن کسی کی قبر کا انتظام کر دیا تو قیامت تک مکان دینے کا ثواب ملے گا۔ ان سارے اعمال پر اللہ تعالیٰ بڑی بڑی نیکیاں عطا فرماتے ہیں اگر صحیح طور سے ان اعمال کو انجام دیا جائے۔ اور صحیح نیت سے یہ اعمال کیے جائیں۔ اسی طرح مختلف روایات میں ہے کہ جو کسی غم زدہ کو تسلی دے گا، اللہ تعالیٰ اسے تقویٰ کا لباس پہنائے گا۔ جو کسی کی موت پر اس کے گھر والوں سے تعزیت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دو جوڑے ایسے عطا کرے گا کہ جس کی قیمت ساری دنیا مل کر نہیں دے سکتی۔ اسی طرح جو کسی یتیم یا بیوہ کی کفالت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔
حضرت صدیقِ اکبر کا غسل
حضرت صدیقِ اکبر نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ مجھے میری بیوی اسماء بنت عمیس اور بیٹا عبدالرحمٰن غسل دے گا۔ (أبو بكر الصديق أول الخلفاء الراشدين: 91/1)
موطا امام مالک میں ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیس نے حضرت ابوبکر کو غسل دیا۔ جب فارغ ہو کر باہر آئیں تو مہاجرین صحابہ میں سے کسی سے پوچھا کہ میں روزے سے ہوں اور آج بہت ٹھنڈ ہے، کیا (میت کو غسل دینے کے بعد) مجھ پر غسل واجب ہے؟ حضراتِ صحابہ کرام نے فرمایا کہ نہیں۔
(موطأ الإمام مالك: باب غسل المیّت)
اس سے معلوم ہوا کہ خاندان کے وہ افراد جو سب سے زیادہ قریب ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اس میں آگے بڑھیں۔ اگر وہ نہیں جانتے تو کسی جاننے والے کی خدمات لے سکتے ہیں۔ رہا یہ مسئلہ کہ شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے یا نہیں، بیوی شوہر کو غسل دے سکتی ہے یا نہیں، اس کے بارے میں تفصیل علمائے کرام سے معلوم کی جائے۔
میت کا پہچاننا
جس کو غسل دیا جارہا ہوتا ہے، کفنایا جا رہا ہوتا ہے اور دفن کیا جا رہا ہوتا ہے، اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ کون اس کے ساتھ یہ بھلائی کے کام کر رہا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ میت اس کو پہچان لیتی ہے جو میت کو اُٹھاتا ہے، غسل دیتا ہے، اور جو میت کو قبر میں ڈالتا ہے۔ (مسند احمد: رقم 10997)
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہم سب کے گناہوں کو معاف فرمائے اور قیامت کے دن کی آسانیاں عطا فرمائے۔ جب ہم نیک اعمال کی فکر کریں گے تو اللہ ربّ العزّت ہمارے لیے آسانیاں فرما دیں گے۔
اپنے کفن کا بندوبست کرنا
انسان کو چاہیے کہ اگر ہمت ہو تو کوشش کرے کہ اپنا کفن اپنی زندگی میں ہی تیار کرلے۔ کفن ملتا تو مقدر سے ہے، لیکن اپنی زندگی میں کفن کو تیار کرلینا چاہیے۔
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی کی خدمت میں ایک چادر اپنے ہاتھوں سے بُن کر پیش کی۔ اس کے کناروں پر بارڈر بنا ہوا تھا۔ ایک طرح کی ڈیزائننگ تھی۔ اس عورت نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! میں نے اپنے ہاتھ سے اس کو تیار کیا ہے کہ آپ اسے پہنیں۔ نبی نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا۔ اور اسے پہن کر آپ گھر سے باہر تشریف لائے۔ ایک شخص کو وہ چادر بہت عمدہ معلوم ہوئی تو اس نے کہا کہ چادر بہت اچھی ہے۔ اے اللہ کے نبی! مجھے دے دیجیے۔ لوگوں نے اسے منع کیا کہ بھئی! نبی کی ضرورت کی چیز ہے۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ آقاﷺ کا کہ کسی کو ’’نہ‘‘ نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے تو مانگ لی ہے۔ خدا کی قسم! میں نے اس لیے مانگی ہے تاکہ جب میرا انتقال ہو جائے تو میں اسے اپنا کفن بناؤں۔ حضرت سہل فرماتے ہیں کہ وہ چادر ہی اس کا کفن بنی۔ (صحیح بخاری: رقم 1277)
نبی کریم ﷺکی استعمال شدہ چادر سے ہی اس کا کفن بنا۔ یہاں سے اس بات کا ثبوت مل جاتا ہے۔ ہم نے اپنے کئی ساتھیوں کو دیکھا کہ حضرت جی دامت برکاتہم سے کبھی عمامہ لیا، کبھی استعمال شدہ اِحرام لیا۔ اپنے کفن کی تیاری کے لیے ساتھیوں نے حضرت جی کی استعمال شدہ چیزیں لے کر رکھی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا معاملہ فرمائے۔ تو اپنے لیے کفن اور باقی چیزوں کا انتظام کرلینا جائز ہے۔ اس سے یاد بھی رہتا ہے کہ ایک دن میرا لباس یہ ہوگا۔ اگر انسان کفن کو اس الماری میں رکھے جس میں نئے نئے جوڑے رکھتا ہے، تو کوئی جوڑا نکالتے وقت یاد آجائے گا کہ ہاں! کفن بھی رکھا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کفن کو یاد رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمیں خاتمہ بالخیر عطا فرمائے اور ہمیں آخرت کی تیاری کی توفیق عطافرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply