120

موت کے وقت نیک لوگوں کا اکرام

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰٓىِٕکَۃُطَیِّبِیْنَ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۳۲ (النحل: 32)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے
انگریزی کا ایک مقولہ ہے:
Turn to Allah before you return to Allah.

ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آئو اس سے پہلے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف بلا لیے جائو‘‘۔
بالآخر ہم سب نے جانا تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ کتنی بڑی زندگی گزار لیں، اچھی زندگی گزار لیں، خراب زندگی گزار لیں بالآخر ہم نے اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔ جب بھی کسی کا انتقال ہوتا ہے تو لوگ میت کو قبر میں ڈال دیتے ہیں، اس پر مٹی ڈال دیتے ہیں اور بعد میں ہاتھوں سے مٹی جھاڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کے حوالے۔ میں اپنی بات کررہا ہوں۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے بارے میں سوچے کہ آخر میرے جسم نے ایک نہ ایک دن اللہ کے حوالے ہونا ہے۔ یہ تو پکی بات ہے۔ ہمارے دادا اور پردادا جو چلے گئے اب وہ کدھر ہیں؟ جب قبر میں اپنے پیاروں کو ڈال کر آتے ہیں تو کس کے حوالے کر کے آتے ہیں؟ اللہ کے حوالے۔ یعنی ایک نہ ایک دن اس جسم نے اللہ کے حوالے ہونا ہی ہے تو آج ہی کیوں نہ کر دیں۔ آج ہی اگر ہم اس کو اللہ کے حوالے کر دیں تاکہ قیمت لگ جائے۔ آج ہم جب اللہ سے دور بھاگ رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات پتا ہے اللہ تعالیٰ کیا کرتے ہیں؟ کوئی پریشانی، کوئی غم، کوئی ایسی تکلیف اس پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ آتا ہی اللہ والوں کے پاس ہے۔
پریشانی کا ڈنڈا
کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ ایک نوجوان کی والدہ بڑی کوشش کرتی رہیں کہ اُن کا بیٹا کسی طرح میرے پاس آجائے۔ بڑی فکر کرتی تھیں۔ وہ نوجوان ماں کے کہنے سے کبھی آجاتا، لیکن اس طرح جیسے کوئی مارے باندھے آتا ہے۔ ایک دن وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہو گیا پھر وہ دوڑا دوڑا آیا اور آتا رہا، مستقل آتا رہا۔ کوئی ڈیڑھ دو مہینے تو وہ مستقل آتا رہا۔ ایک دفعہ مجھ سے پوچھنے لگا کہ حضرت! میں اس تکلیف میں مبتلا کیوں ہوا؟ میں نے کہا کہ تو ماں کے کہنے سے تو آتا نہیں تھا، نہ شیخ کے کہنے کی لاج رکھتا تھا۔ اللہ نے پریشانی میں ڈال دیا۔ اب پریشانی میں آئے ہو تو پھر ہماری یاد آئی۔ یہ پریشانیاں، یہ غم، یہ حالات، یہ بیماریاں یہ ایسے ڈنڈے ہوتے ہیں جو اللہ مسلمان کے لیے لے کر آتے ہیں کہ چلو اِدھر۔ مزا تو یہ ہے کہ ہم اپنی خوشی سے اللہ کی طرف آجائیں۔ نہیں تو پھر جب اللہ ربّ العزّت کے فیصلے ہوتے ہیں تو تکلیف کے ساتھ آنا پڑتا ہے، کیوںکہ آنا تو ہے ہی، کب تک نہیں آئے گا؟ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی؟ کب تک اللہ کی طرف نہیں آئیں گے؟ آنا تو ہے۔ اپنے اختیار سے آجائیں، خوشی سے آجائیں، یا اللہ کے لیے اس کی قیمت کچھ ادا کر کے آجائیں۔
اللہ کے قرب کو مقصد بنائیں
لوگ آتے ہیں کہ حضرت! دعا کر دیں بیوی نہیں مانتی، بیوی نافرمان ہو گئی ہے، بیوی قابو میں آجائے۔ خواتین کہتی ہیں کہ حضرت! دعا کریں بچے افلاطون بنے ہوئے ہیں، یا گھر میں بیماری ہے، یا کسی نے کچھ کرا دیا ہے۔ یا پھر لوگ آتے ہیں کہ حضرت! قرضہ چڑھ گیا ہے، کاروبار نہیں چل رہا، ہمارے اوپر آسیب ہو گیا ہے۔ سب اسی قسم کے لوگ آتے ہیں۔ الاّما شاء اللہ لوگ ہیں جو آکر یہ کہیں کہ ہم اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمیں ایسی نماز سکھا دیں کہ ہم اللہ کے قریب ہو جائیں۔ نماز میں کسی غیر کا خیال نہ آئے۔ آپ ہمارا ایسا تعلق بنا دیجیے۔ آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجیے کہ ہم جس پر عمل کریں تو اللہ کی محبت دل میں ٹھاٹھیں مارے۔ اس سے پہلے کہ اللہ سے ملاقات ہو، ہم اللہ کی محبت کو دل میں آباد کر لیں۔ ایسے لوگ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ بہرحال جانا تو ہے، مگر بہتر ہے کہ ہم یہاں پہلے سے تیاری کر لیں۔ اب جو جانے والے ہیں ان کا کیا حال ہوتا ہے اس بارے میں چند اَحادیث سن لیجیے۔
نیک روحوں کا اِعزاز
حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالے سے تفسیر میں لکھا ہے کہ جس وقت انسان کی روح قبض کی جاتی ہے تو فرشتوں کی جماعت ملک الموت کے ساتھ مرنے والے کے پاس آتی ہے۔ اور اس کے علاوہ کافی لوگ ہوتے ہیں۔ جو نیک روحیں ہوتی ہیں، ملک الموت انہیں قبض کرتے ہیں، پھر باقی فرشتے اس نیک روح کو اوپر لے جاتے ہیں۔ کچھ فرشتے میت کے لیے استغفار کر رہے ہوتے ہیں یہاں تک کہ اللہ کی رحمت نازل ہونے لگتی ہے۔اِردگرد کے لوگ مرنے والے کے لیے دعائیں کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ ان دعاؤں پر آمین کہہ رہے ہوتے ہیں۔ پھر غسل اور کفن کے بعد میت کو قبر میں اتار دیا جاتا ہے۔ نیک لوگوں کی روح نکلنے سے پہلے اور قبر میں اتارنے تک یہ فرشتے مختلف قسم کے کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ اگرچہ ہمیں نظر نہیں آتے، لیکن جب حدیث میں بات آگئی تو بس حق ہے، ہمیں نظر آئیں یا نہ آئیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: میت کے پاس ملائکہ یعنی فرشتے آتے ہیں۔ اگر وہ آدمی نیک اور صالح ہوتا ہے تو فرشتے بڑے احترام سے کہتے ہیں کہ نکلو اے پاکیزہ روح! جو پاک جسم میں تھی۔ نکلو اے قابلِ تعریف! تمہیں خوشخبری ہو اللہ کی رحمت اور جنت کی، اور ربّ ِ(ذو الجلال) کے راضی ہوجانے کی۔ جب تک وہ نیک روح جسم سے نکل نہیں جاتی، فرشتے اس کو برابر یہی کہتے رہتے ہیں۔ (اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی جاتی، نہ مارا جاتا ہے، نہ ڈانٹ ڈپٹ کچھ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ گنہگاروں کے ساتھ کیا جاتا ہے) پھر فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان کی جانب جاتے ہیں۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ فلاں نیک آدمی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکیزہ جان کو خوش آمدید ہو جو پاکیزہ جسم میں تھی۔ (جنت میں) داخل ہو جائو اس حال میں کہ تم قابلِ تعریف ہو، اور تمہیں خوشخبری ہو اللہ کی رحمت اور جنت کی، اور اپنے رب کے راضی ہو جانے کی کہ وہ اب کبھی ناراض نہ ہوگا۔ اسی طرح ہر آسمان کے دروازے پر اسے یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح کو اس آسمان پر پہنچا دیا جاتا ہے جس میں خود سبحانہٗ و تقدّس جلوہ اَفروز ہوتے ہیں۔ (سننِ ابنِ ماجہ: رقم 4262)
ایک اور حدیث حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب نیک مؤمن کی روح قبض کرنے کا وقت ہوتا ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی لباس میں آتے ہیں، اور کہتے ہیں: اےروح! چلو اس حال میں کہ تم اللہ سے راضی ہو اور اللہ تم سے راضی ہے، اللہ کی رحمت اور جنت کی طرف (چلو)۔ پس وہ روح جسم سے نکلتی ہے اس حال میں کہ اس میں مشک کی خوشبو سے زیادہ خوشبو آ رہی ہوتی ہے، اور فرشتے بعض بعض سے احترام میں اسے ہاتھوں میں لیتے ہیں اور اسے اچھے اچھے ناموں سے پکارتے ہیں، یہاں تک کہ اسے آسمان کے دروازے پر لاتے ہیں۔ اور (آسمان کے فرشتوں سے) کہتے ہیں کہ تمہارے پاس زمین سے یہ آئی ہے۔ پھر اسے دیگر ایمان والوں کی روحوں سے ملایا جاتا ہے تو وہ سب روحیں اس کی آمد سے اتنی خوش ہوتی ہیں جیسے کوئی اپنا بڑے عرصے کے بعد آیا ہو۔ پھر وہ روحیں اس آنے والی مبارک روح سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا ہوا؟ فلاں کا کیا ہوا؟ فرشتے کہتے ہیں کہ اسے چھوڑو، اسے آرام کرنے دو، یہ دنیا کے غموں سے نکل کر آیا ہے۔ وہ جواب دیتا ہے کہ جس کا تم پوچھ رہے ہو اس کا تو انتقال ہو چکا ہے، کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ وہ روحیں جواب دیتی ہیں کہ نہیں، کہیں اسے ہاویہ (جہنم) نہ لے جایا گیا ہو۔
(الصّحیحۃ للألباني: 293/3)
اس پاکیزہ روح کی خوشبو مشک کی خوشبو سے زیادہ ہوتی ہے۔ اب بتائیے! کیا ایسی خوشبو کسی مارکیٹ میں ملتی ہے؟ ہم کسی اسٹور میں جائیں اور ایسی خوشبو لے آئیں کہ ہماری روح نکالنے والے فرشتے وہ بھی خوش ہوں اور محسوس کریں۔ بھئی! یہ خوشبو نکلتی ہے اعمال سے، یہ نکلتی ہے نیکی سے، تقویٰ سے، پاکدامنی سے۔ جس کی نیکی کی زندگی ہوگی اس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان فرما دیں گے۔ اور اتنا اِعزاز اسے دیا جاتا ہے اور دیگر نیک روحوں سے اس کی ملاقات کرائی جاتی ہے۔ کیسا خوشی کا منظر ہوگا۔ پھر آپس کی بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ بعض بدنصیب یہ اعزاز حاصل نہیں کر سکے، انہیں کہیں اور لے جایا گیا ہے جسے جہنم کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب مسلمان کا دنیا سے جانے کا آخری وقت آجاتا ہے اور آخرت کے لیے سفر شروع ہونے لگتا ہے تو آسمان سے خوبصورت چہرے والے فرشتے اُترتے ہیں جن کا چہرہ سورج کی مانند روشن ہوتا ہے۔ اُن کے پاس جنت سے لایا ہوا کفن ہوتا ہے، اور جنت سے لائی ہوئی خوشبو ہوتی ہے۔ فرشتے اس کی نگاہوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا: موت کا فرشتہ (نہایت ہی اِکرام سے، احترام سے اور محبت سے) اس کو کہتا ہے کہ اے پاکیزہ نفس! نکلو (چلو) اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کی طرف۔ پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا: اس مؤمن کی روح اتنی آسانی سے نکل جاتی ہے جس طرح مشکیزے سے پانی کا قطرہ ٹپکتا ہے (یعنی بالکل سہولت کے ساتھ)۔
پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں اور فرشتوں کی جس جماعت پر سے بھی اس روح کا گزر ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ واہ! کیسی پاکیزہ روح ہے۔ روح کو لانے والے فرشتے جواب میں کہتے ہیں: یہ فلاں بن فلاں ہے، اور بہترین ناموں سے اسے یاد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے آسمانِ دنیا تک لے جاتے ہیں۔ پھر اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور یہ سب فرشتے اس کے ساتھ جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ روح ساتویں آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر (اللہ پاک کی طرف سے) کہا جاتا ہے کہ میرے اس بندے کو علیین میں جگہ دے دو۔ پھر کہا جاتا ہے: میرے اس بندے کو زمین کی طرف لے جائو اس مٹی میں جہاں سے میں نے اسے پیدا کیا، اور اسی میں میں نے اسے لوٹایا، اور اسی مٹی سے میں اسے دوبارہ پیدا کروں گا۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 114)
حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: مؤمن کی جان جب قبض کی جاتی ہے تو ملائکۂ رحمت بشارت دیتے ہیں جیسے دنیا میں بشارت دینے والے بشارت دیا کرتے ہیں۔ (پھر اسے لے کر دیگر ارواحِ مؤمنین کے پاس جاتے ہیں تو وہ اس سے سوالات کرتے ہیں، مگر) فرشتے کہتے ہیں کہ دیکھو! اب تمہارے دوست کو آرام کرنے دو، اس نے دنیا میں بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں (عبادت میں تکلیف اٹھائی، گناہوں سے بچنے میں تکلیف اٹھائی، نیکی کرنے میں تکلیفیں اٹھائیں)۔ دیگر نیک لوگوں کی روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں مرد کا کیا حال ہے؟ فلاں خاتون کا کیا حال ہے؟ کیا اس نے شادی کرلی؟ جب وہ اس سے ایسے شخص کا پوچھتے ہیں جو پہلے انتقال کر گیا ہو، تو وہ کہتا ہے کہ ارے! وہ تو مجھ سے پہلے مرا ہے۔ نیک روحیں کہتی ہیں: انا للہ و انا الیہ راجعون، شاید کہ اسے جہنم کی طرف لے جایا گیا ہے۔ بہت بری ہے اس کی ماں، اور بہت بری ہے اس کی تربیت کرنے والی۔
(الصحیحۃ للألباني: رقم2758)
تفسیرِ قرطبی میں سورۂ فجر کی آخری آیات کی تفسیر میں حضرت حسن بصری سے منقول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی نیک بندے کو بلانا چاہتے ہیں تو اس کے دل میں اللہ سے ملاقات کا شوق ڈال دیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ خود بھی اس سے ملنے کا شوق رکھتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ جب کسی مؤمن کی روح قبض کرنی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ دو فرشتوں کو جنت کا تحفہ دے کر اس کی طرف بھیجتے ہیں۔ پس وہ آکر اس سے کہتے ہیں: اے نفسِ مطمئنّہ! چلو اس حال میں کہ تم اللہ سے راضی ہو اور اللہ تم سے راضی ہے، اللہ کی رحمت اور جنت کی طرف، اور اپنے اس رب کی طرف جو تم سے راضی ہے (چلو)۔ پس وہ مشک کی خوشبو کی طرح نکلتی ہے جو کسی نے اپنے ناک سے سونگھی ہے۔ اور آسمان کے کناروں پر فرشتے اس کے انتظار میں ہوتے ہیں (کہ نیک روح آنے والی ہے۔ اسے پروٹوکول دیا جاتا ہے) فرشتے کہتے ہیں: آج زمین سے پاکیزہ روح اور پاکیزہ جان آئی ہے۔ آسمان کے جس دروازے سے اس کا گزر ہوتا ہے وہ اس کے لیے کھول دیا جاتا ہے، اور جس فرشتے کے پاس سے گزر ہوتا ہے وہ اس کے لیے دعائے رحمت کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے پاس اسے حاضر کر دیا جاتا ہے، اور وہ(پاکیزہ روح) سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔ پھر حضرت میکائیل سے کہا جاتا ہے کہ اس روح کو مؤمنین کی روحوں کے ساتھ کردو۔ پھر حکم دیا جاتا ہے اور اس شخص کی قبر (دنیا میں) اس پر کشادہ کر دی جاتی ہے ستر گز چوڑائی اور ستر گز لمبائی۔ اور جنت کی خوشبو مہکا دی جاتی ہے، اور اگر اس کے ساتھ قرآن مجید بھی ہوتا ہے تو اس (قرآن) کا نور اس کے لیے کافی ہے۔
(معالم التنزیل المعروف بتفسیر البغوی: سورۂ فجر، آیت 29)
ہم نیکی کی زندگی گزاریں تو یہ پیغام آئیں گے۔ یہ تحائف آئیں گے۔ موبائل، اِنٹرنیٹ، واٹس اَپ اور یہ ٹویٹر، فیس بک ان چیزوں کا ناجائز استعمال کریں گے پھر یہ سب کچھ نہیں ملنے والا۔ یہ کب ہوگا؟ جب ہماری زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق ہوگی۔ اللہ پاک اس بندے کا دل خوش کر دیتے ہیں۔ کبھی پھول سامنے کر کے، کبھی جنت کا محل سامنے کر کے، کبھی جنت کی ہوائیں سامنے لا کر، کبھی فرشتوں کی بشارتیں کہ اب دنیا کی تکلیفیں ختم ہو گئیں۔ بس اب آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔ جب نیک آدمی یہ ساری چیزیں دیکھتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق ہونے لگتا ہے۔ پھر بڑے ادب واحترام کے ساتھ اس کی روح نکالی جاتی ہے۔ حضرت عزرائیل بڑی نرمی کے ساتھ روح نکالتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے: یقیناً مؤمن کے پاس موت کے فرشتے ایک ریشمی کپڑا یا رومال لاتے ہیں جس میں مشک اور ریحان کی خوشبو ہوتی ہے، پھر اس کی روح اس طرح سے نکالی جاتی ہے جس طرح آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔ (تنبیہ الغافلین: رقم 15)
اتنی نرمی کے ساتھ روح نکالی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک عمل کرنے والا بنا دے۔ ہم نیک عمل کریں گے ہمارے ساتھ بہت اچھا معاملہ ہوگا۔ ہماری تنہائیاں پاکیزہ ہوں، اور ہمارے موبائل فون میں کسی کی تصویر نہ ہو، کسی کی برائی نہ ہو، نمازیں ہماری پوری ہوں، اگر عورت ہے تو مکمل پردے کا اہتمام ہو، نہ یہ نامحرم کو دیکھے نہ کوئی نامحرم اس کو دیکھ سکے، ذکر کا اہتمام ہو تو پھر یہ سب چیزیں ملیں گی اِن شاء اللہ۔
پھر حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں ہے کہ اس سے کہا جاتا ہے کہ اے اطمینان والی جان! اپنے رب اللہ کی طرف چلو اس حال میں کہ تم اللہ سے راضی ہو اور اللہ تم سے راضی ہے، اللہ کی رحمت اور اس کی رضا کی طرف چلو۔ پھر جب اس کی روح نکال لی جاتی ہے تو پہلے اسی مشک اور ریحان کے کپڑے پر رکھتے ہیں، پھر اس پر ریشم کے کپڑے کو لپیٹ دیتے ہیں اور اسے علیین کی طرف لے جاتے ہیں۔
(تنبیہ الغافلین: رقم 15)
علیین وہ مقام ہے جہاں نیک لوگوں کی روحوں کو جمع کیا جاتا ہے۔
علامہ ابنِ کثیر نے حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ جب مؤمن کی روح قبض ہونے کا وقت آتا ہے تو فرشتے آتے ہیں، اسے سلام کرتے ہیں، اور اسے جنت کی خوشخبری سناتے ہیں۔ اور جب وہ انتقال کر جاتا ہے تو اس کے جنازہ کے ساتھ چلتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ اس کی نمازِ جنازہ ادا کرتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر: 421/4)
حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: جب لوگ جنازے کی چارپائی کو اپنی گردنوں پر اُٹھاتے ہیں تو اگر وہ میت نیک آدمی کی ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ مجھے جلدی پہنچاؤ (اللہ ارحم الرّاحمین کی طرف)، اور اگر کسی برے آدمی کی میت ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہائے بربادی! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ ان کی آوازوں کو انسان کے سوا سب سنتے ہیں، اگر انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے۔
(صحیح بخاری: رقم 1251)
دنیا کی چیزیں وہاں کام نہیں آئیں گی۔ آدمی اگر نیک ہے تو اس کی نیکی اسی کے کام آئے گی، اور اگر آج یہاں خواہشات کی تکمیل میں لگا ہوا ہے تو پھر آگے پچھتاوا ہوگا۔
ایک حدیث میں بہت ہی پیاری بات ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ جب اللہ مؤمن بندے کی روح قبض کرنا چاہتا ہے تو ملک الموت کو حکم دیتے ہیں کہ میرے اس بندے کو میرا سلام پہنچائو۔ ملک الموت آتے ہیں اور روح قبض کرنے سے پہلے اللہ پاک کا سلام پہنچا دیتے ہیں۔ (بشری الکئیب بلقاء الحبیب للسیوطي)
جس کی وجہ سے مؤمن آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں بےچین ہو جاتا ہے، اور اس کی تمنا ہوتی ہے کہ جلدی سے میری روح نکلے اور میں عرش پہ جا کر حاضری دے دوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی موت عطا فرمائے کہ موت کی تکلیف بھی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کا سلام بھی آئے، فرشتوں کا سلام بھی آئے، اور جب فرشتے لینے آئیں تو خوشبوئوں کو لے کر آئیں، اور جنتی کفن لے کر آئیں، جنتی خوشبوئیں لے کر آئیں اور بشارتیں لے کر آئیں، اور ہمارے لیے دعائے استغفار کر رہے ہوں۔ اللہ کرے ایسے پروٹوکول کے ساتھ ہمارا دنیا سے آخری سفر ہو۔ لیکن ایسا کب ہوگا؟ جب دنیا کے اندر ہم اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنی رحمت فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں