69

میاں بیوی کے لئے زکوة کے حساب کتاب میں ایک مشورہ!

میاں بیوی کے لئے زکوة کے حساب کتاب میں ایک مشورہ!
(✍️ : مفتی سفیان بلند)

سوال : اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
مفتی صاحب! شادی شدہ جوڑوں کے پاس سونے چاندی کے زیورات ہوتے ہیں، کچھ نقدی بھی ہوتی ہے، بسا اوقات کئی جوڑوں میں دیکھا ہے کہ ان میں زکوة دیتے کے وقت یہ کنفیوژن رہتی ہے کہ اس کی زکوة شوہر کے ذمہ ہے یا بیوی کے؟ کیونکہ استعمال تو بیوی کرتی ہے، اسی طرح کبھی کچھ نقدی گھر میں ہوتی ہے، اس میں بھی مسئلہ رہتا ہے، تو ایسے صورت میں کس طریقے سے زکوة کا حساب کتاب کرے۔ (ام عبد الحئی، کینیڈا)

وعَلَيْكُم اَلسَلامُ وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
آپ کے سوال پر یہ ایک بات بطور مشورہ کے عرض کررہا ہوں کہ واضح رہے کہ ہمارے ہاں معروف اموال زکوۃ چار ہیں :
سونا ،چاندی، نقدی، اور مال تجارت! جو شادی شدہ جوڑے ہیں، ان کے لئے زکوۃ کا حساب رکھنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے (جو کہ ہمارے ایک دوست مفتی صاحب کی مشاورت سے عرض کررہا ہوں) کہ میاں بیوی آپس میں یہ طے کرلیں کہ جتنا بھی سونا ہے اور جتنی بھی چاندی ہے، یہ سارا کا سارا جو مال ہے، چاہے وہ عورت کو اسکی ماں کے گھر سے ملا ہو یا چاہے سسرال سے ملا ہو یا اس کو کہیں سے بھی ملا ہو یا شوہر کے پاس کہیں سے بھی آیا ہو یا شوہر نے کہیں سے بھی اس کو اپنے پاس بنا کر رکھا ہو مثلا سونے کے بسکٹ بنالئے، شوہر نے سونے کے کوئی سیٹ بنوا لئے، وہ ساری کے ساری چیزیں شوہر اپنی بیوی کو ملکیةً دیدے اور یہ بات وہ طے کرلے کہ اب کوئی بھی زیور بنے گا تو وہ شوہر کی ملکیت سے نکل کر بیوی کی ملکیت میں چلا جائے گا یعنی خالص سونا، خالص چاندی یا اس سے بنی ہوئی کوئی چیز !
اور جو چیز اس سے ہٹ کر ہے یعنی نقدی ہے، چاہے وہ نقدی شوہر کی اپنی ہو، چاہے بیوی کے پاس ہو، چاہے ہو گھر خرچے کی شکل میں ہو، چاہے وہ عورت کی پاکٹ منی کی شکل میں ہو، چاہے کسی بھی شکل میں ہو یا اکاؤنٹ میں پیسے ہوں جو کچھ بھی ہو (اور بیچنے کا مال تو عورت کے پاس عام طور پر نہیں ہوتا ہے، کیونکہ عورت کاروبار نہیں کرتی، اگر کاروبار کرتی ہے پھر معاملہ الگ ہوگا، یہ مشورہ ایک ہاؤس وائف سے متعلق مسئلہ ہے کہ اگر اسکا کوئی بھی دخل کسی بھی کاروبار میں نہیں ہوتا) اس کے پاس نقدی ہے چاہے اسکو عیدی میں ملی ہو، اسکے والد نے دی ہو، اس کو خاندان سے ملی ہو تو جب بھی اس کے پاس آئے گی تو اسکی ملکیت شوہر کو منتقل کردے کہ یہ شوہر کے پیسے ہیں، میرے نہیں ہیں، اس سے دو مسٸلے بڑے آسان ہو جائيں گے :
ایک مسئلہ تو زکوۃ کا آسان ہو جائے گا اور دوسرا میراث کا!

پہلے میراث کا سمجھ لیں : میراث کا مسئلہ یہ آسان ہوجائے گا کہ اگر ان میں سے کسی ایک کا پہلے انتقال ہو جاتا ہے تو جب وراثت تقسيم ہوگی تو سونا اور چاندی کسی ایک کی ملکیت شمار کی جائے گی یعنی جس کی طے ہوگئی ہے اور وہ بیوی تھی اور اگر شوہر کا انتقال ہوگیا تو اب سونا چاندی کی اس کی ملکیت شمار نہ ہوگا بلکہ صرف نقدی میں وراثت تقسیم ہوگی اور اس میں کوئی وارث مطالبہ نہیں کر سکے گا اور اگر بیوی کا انتقال ہوگیا تو نقدی ساری شوہر کے پاس رہے گی اور میراث میں صرف سونا، چاندی تقسيم ہوگا جو اس کے پاس قابل زکوۃ مال میں سے تھا، یہ تو ایک مسئلہ تھا۔

اب دوسرا مسئلہ ہے زکوۃ کا :
زکوۃ نکالنا بھی آسان ہے کیونکہ عورتوں پر جب زکوۃ واجب ہوتی ہے تو انکے پاس نقدی ہو تو وہ پریشان ہوتیں ہیں کہ نقدی کی کیسے نکالیں اور زیورات کی کیسے نکالیں، اس صورت کا بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ اگر صرف سونا ہے تو سونے کو دیکھ لے اور اگر سونا چاندی ہے تو دونوں کہ ملاکر دیکھ لے تو حساب کتاب رکھنا آسان ہے اور نقدی جتنی بھی ہے، وہ ساری شوہر کے حساب میں نوٹ کر لی جائے، پھر اسی حساب سے دیکھ لیں کہ دونوں کے اوپر قرضہ کتنا ہے؟ قرضہ کو اس میں سے منہا کر لیا جائے (یعنی جس پر جو قرضہ ہے، اس کے قابل زکوة مال سے اس کو منہا کرلیا جائے) تو اس طرح یہ بے غبار صورت بن جاتی ہے، یہ بات بطور مشورہ عرض کئے دیتے ہیں، یہ فتوی نہیں ہے بلکہ مشورہ ہے تاکہ حساب کتاب رکھنا آسان ہو، اگر کوئی یہ کام اس لئے کرتا ہے کہ وہ زکوۃ سے بچے مثال کے طور پر اگر عورت کے پاس سات تولہ سونا تھا اور اس کے پاس کچھ نقدی بھی تھی تو اس نے کہا کہ زکوۃ نہ آئے، اس نے نقدی شوہر کی ملکیت میں دے دی تو یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے، تاہم ملکیت بدل جانے سے زکوۃ نہیں آئے گی، لیکن یہ زکوة دینے سے بچنا اس کو گناہگار کر دے گا۔
اس لئے یہ بات ہم بطور فتوی نہیں کہتے بلکہ بطور مشورہ عرض کر رہے ہیں، اس لئے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جب ان کو یہ بات سمجھائی تو چونکہ ان کے پاس سونا، چاندی اتنا تھا جو نصاب سے بڑھ کر تھا تو ان کو حساب کرنا آسان ہوگیا کہ بیوی کی ملکیت میں جو مال ہے، اس پر اتنی زکوۃ ہے اور شوہر پر اتنی!
اور پھر قرضہ بھی جس پر تھا، اس کو منہا کرلیا، اس سے الحَمْدُ لله سارے مسائل حل ہوجائيں گے۔

📓ناشر : دارالریان کراتشی📙

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں