میت کو قبر میں اتارتے وقت “ کیوڑا چھڑکنے “ اور بیری کی شاخ وغیرہ رکھنے کا حکم ؟

میت کو قبر میں اتارتے وقت “ کیوڑا چھڑکنے “ اور بیری کی شاخ وغیرہ رکھنے کا حکم ؟

الجواب بعون الملڪ الوھاب

میت کو قبر میں اتارنے کے بعد میت پر کیوڑہ چھڑکنے کو علما نے بے اصل ، اور بدعت لکھا ہے ،
اسی طرح پٹرا ڈالنے کے بعد مٹی ڈالنے سے پہلے بیری کی شاخ ڈالنے کی بھی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے ،
یہ دونوں چیزیں واجب الترک ہیں ،
اور مزید میت کے ساتھ قبر میں کوئی چیز ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے ،

وذکرابن الحاج فی المدخل أنہ ینبغی أن یجتنب ما أحدثہ بعضہم من أنہم یأتون بماء الورد فیجعلونہ علی المیت فی قبرہ ؛ فإن ذلک لم یرو عن السلف رضی اللہ عنہم فہو بدعة ، قال:ویکفیہ من الطیب ما عمل لہ وہو فی البیت فنحن متبعون لامبتدعون فحیث وقف سلفنا وقفنا اھ.

(حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح ص: ۶۰۸) نیز دیکھیں: تالیفات رشیدیہ،مع فتاوی رشیدیہ،

(ص:240،ط: لاہور)

فقط وﷲ اعلم باالصواب
محمد مستقیم عفاالله عنه ،

Leave a Reply