32

میزبانی اور مہمانی کے آداب

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ o
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ o
﴿مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ﴾ (سورۃ النساء: 80)
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْ

گلدسۃٔ سنت کے بیانات چل رہے ہیں۔ جن میں کھانے پینے کی بات الحمد للہ! کچھ تفصیل سے ہوئی۔ اب چند باتیں ہیں تو ان کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں کہ مہمان کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
وقت کا خیال رکھنا:
پہلی بات تو یہ ہے کہ جب انسان کسی سے ملاقات کے لیے جانے لگتا ہے تو اس وقت کیا طریقہ اور کیاآداب شریعت نے سکھائے ہیں؟ اگر کسی کے گھر جانا ہے تو بتایا کہ کسی ایسے وقت میں نہ جائے کہ اسے خوامخواہ کی مشقت اٹھانی پڑے۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ157)
مثال کے طور پر معلوم ہے کہ وہ اس وقت بہت مصروف ہوتا ہے یا یہ کہ کھانے کا وقت ہے اور رات کے 9بج رہے ہیں، میں جائوں گا تو اسکو کھانے کا اہتمام کرنا پڑے گا، تو کوشش کرے کہ ایسے وقت میں نہ جائے۔
جہاں بے تکلفی ہو وہاں یہ رعایت ضروری نہیں:
ہاں اگر بے تکلفی ہو تو اور بات ہے۔ اور اگر کسی اپنی ضرورت کی وجہ سے کسی ایسے وقت پر کہیں گیا اور انہوں نے لحاظ کی وجہ سے کہا: جی کھانا کھا لیجیے ،اسکو محسوس ہو رہا ہے کہ تکلفًاکہا جا رہا ہے، آپس میں اتنی بے تکلفی نہیں، لحاظ کی خاطر کہا جارہا ہے تو اس کو چاہیے کہ انکار کر دے، اچھے انداز سے انکار کر دے۔لیکن اگر بے تکلفی ہو اور بہت قربت کا تعلق ہو تو پھر وہاں ان Timingsکی پابندی نہیں۔ اور اگر بے تکلف دوستی ہو تو بے تکلف دوستوں سے اور بے تکلف محفلوں میں انسان کھانا طلب کر کے بھی کھا سکتا ہے یہ بھی سنت ہے۔ لیکن اس کو خودہم نے Analyseکرنا ہے کہ تکلف کی مقدارکیا ہے؟
آپ ﷺ کا عمل:
چنانچہ رسول اللہ ﷺاور حضرت صدیق اکبرtجب حضرت ابو ایوب انصاریtاور حضرت ابو الہیثم کے یہاں تشریف لے گئے تو وہاں جا کر ازخود کھانا طلب فرمایا اور پھر نوش فرمایا۔(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ157المیزان)
یہ محبت کی بات ہوا کرتی ہے۔
امام شافعی کا واقعہ:
اگر یہ اندازہ ہو کہ صاحبِ خانہ سے میں فرمائش کروں گا اور میری وہ فرمائش اس کے لیے خوشی اور مسرت کا باعث ہوگی تو فرمائش بھی کرسکتا ہے۔ چناچہ امام شافعیکا مشہور واقعہ ہے کہ بغداد میں زافرانی کے ہاں تشریف فرما تھے۔زافرانیمیزبان تھے اور ان کی عادت یہ تھی کہ روزانہ ایک پرچہ بنا کراپنی باندی کو دے دیتے تھے اور اسکو کہہ دیتے تھے کہ تم یہ یہ کھانے تیار کرو،وہ اس طرح کے کھانے تیار کر دیتی، ایک دن ایسا ہوا کہ زافرانیپرچی دے کر چلے گئے ،تو بعد میں امام شافعی نے باندی سے پوچھا کہ آج کیا پکانا ہے؟ تو اس نے پرچی دکھا دی پرچی دیکھنے کے بعد امام شافعی نے اپنی پسند کا ایک کھانا اس میںشامل کیا اور کہا: یہ بھی پکا لینا ۔ اب شام کوجب وہ تاجر زافرانی واپس آئے تو دیکھا کہ جو میں نے کہا ہوا تھا وہ سب کھانا موجود ہے، ایک ڈش اضافی ہے جو انہوں نے نہیں بنوائی۔ تو انہوں نے باندی کو بلایا کہ یہ تم نے کیا کیا؟ تو اس باندی نے وہ پرچی سنبھال کے رکھی ہوئی تھی ۔ اس نے امام شافعیکا لکھا دکھا دیا کہ جناب! آپ نے جو کچھ لکھا وہ میں نے کر دیا، لیکن یہ جو آپ کے مہمان ہیں انہوں نے اپنی چاہت سے ایک چیز لکھ دی تو میں نے وہ بھی پوری کر دی کہ مہمان ہیں ان کی چاہت پوری ہو جائے۔ امام شافعی کی چاہت کو دیکھ کر وہ اتنا خوش ہوئے ، اتنا خوش ہوئے کہ انہوں نے اپنی باندی کو آزاد کر دیا۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ157المیزان)
گویا جہاں تعلق اچھا ہو وہاں انسان اپنے دل کی بات کر سکتا ہے، کیونکہ شریعت کے اندر تکلف کو پسند نہیں کیا گیا۔
بے تکلفی سے متعلق ایک اور حکم:
اسی طرح یہاں تک بھی کہا کہ اگر اتنی بے تکلفی ہے کہ گھر میں آپ گئے اور بے پردگی کا مسئلہ نہیں ہے اور معاملہ شریعت سنت کے مطابق ہے تو پھر گھر میں سے از خود چیزیں نکال کر بھی کھا سکتے ہیں۔ مثلاً آپ کسی کے یہاں گئے، معلوم ہے کہ وہ گھر میں موجود نہیں تو آپ اس کے گھر میں کھانا نکال کے بھی کھا سکتے ہیں۔
بے تکلفی کے دو واقعات:
ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ حضرت بریرہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کی غیر موجودگی میں ان کے یہاں کھانا تناول فرما لیا۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158المیزان)
ایک مرتبہ اسی طرح کچھ لوگ حضرت سفیان ثوری کے مکان پر پہنچے ،حضرت گھر پر نہیں تھے تو انہوں نے دروازہ کھولا، خود ہی دسترخوان بچھایا اورکچن سے جو بھی کچن اس زمانے کا ہو گا، وہاں سے خود ہی کھانا نکال کرکھانا شروع کر دیا۔ اتنے میں حضرت سفیان ثوری تشریف لے آئے، اور ان سب کو اس طرح کھانا کھاتا ہوادیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158المیزان)
یہ بہت قریبی تعلقات کا معاملہ ہے۔ یہ تو تھے آداب اگر آپ نے کسی کے یہاں ملاقات کے لیے جانا ہو تو یہ اس کے لیے بتائے گئے۔
کھانا کھلانے(دعوت )کے آداب:
اسی طرح کسی کو ملاقات پہ بلانا ہو ،یعنی دعوت کرنے کے آداب کیا ہیں؟
کھانا کس کو کھلایا جائے؟
سب سے پہلی بات تو بہت اہم ہے۔فرمایا کہ سنت یہ ہے کہ نیک،صالح اور پرہیزگار لوگوں کو اپنے گھر میں کھانے کے لیے بلائے۔ کیونکہ جب نیک لوگ کھانا کھائیں گے تو اس سے وہ اللہ کی عبادت کریں گے،ذکر کریں گے۔ ان کی جسمانی قوت عبادات کے اندر صرف ہوگی، اللہ کی یاد میں صرف ہوگی، تو ثواب اس کھلانے والے کو بھی ملے گا کہ سبب یہ بن گیا۔ اور اسی وجہ سے حضور پاک ﷺنے ارشاد فرمایا کہ تمھارا کھانا متقی کے علاوہ کوئی نہ کھائے۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158)
فاسق،فاجر ،دنیا دار قسم کے لوگوں کی دعوتیں نہ کرے ،کیونکہ وہ کھانا کھا کر فسق و فجور میں مبتلا ہوں گے۔گناہوں میں مبتلا ہوں گے تو تمھارا کھانا ان کی مدد کرے گا۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158)
اس کی وضاحت فرمائی گئی، لیکن یہاں دیکھنا یہ ہے کہ اگرکہیں کوئی بھوکا آدمی ہے، مزدور ہے، کوئی ایسا فقیر ہے غریب ہے جس کو پیٹ بھر کے کھلانا مقصود ہو تو اس میں فاسق اور فاجر کو نہیں دیکھا جائے گا یا نیکی کو نہیں دیکھا جائے گا کیونکہ وہ اس وقت مجبور ہے۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158)
حاجت روائی ایک مستقل ضرورت ہے۔ ایک ہوتا ہے اہتمام کرکے گھر میں مہمان کو بلانا، اس کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ نبیu نے ارشاد فرمایا کہ تیرا کھانا متقی کے علاوہ کوئی نہ کھائے یعنی فاسق اور فاجر لوگوں کو نہ بلایا جائے۔
بد ترین دعوت:
بعض دعوتیں ایسی ہوتی ہیں جس میں صرف امیر لوگ ہی آتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایاکہ سب سے بد ترین دعوت وہ ہے جس میں مال داروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو محروم رکھا جائے۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158المیزان)
اب رشتہ داروں میں ولیمہ یا کوئی اور دعوت ہے،جس میں چُن چُن کے امیروں کو بلا لیا جائے یا جن سے اپنا کام اور مقصد نکلتا ہو ان کو بلا لیا جائے اور جو خاندان کے غریب ہیں ان کو نہ بلایا جائے تو یہ نبی کے نزدیک بدترین دعوتیں ہیں۔
عزیزو اقارب کا زیادہ خیال کرنا:
جب انسان دعوت کرے تو اس میں کئی طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ کہیں عزیز و اقارب کی دعوت ہوتی ہے اور بعض دفعہ دوستوں کی دعوت ہوتی ہے۔ تو فرمایا کہ جب عزیزواقارب کو بلائو تو ان کو زیادہ عزت واحترام دو کہ اللہ نے ان کے ساتھ تمھارا ایک رشتہ جوڑا ہے، اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کا بھی حکم ہے، تو ان کا زیادہ خیال رکھو۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158)
مہمان کی آسانی کو دیکھنا:
اسی طرح جب کسی کو دعوت دینی ہو ،اب جس کو دعوت دی جا رہی ہے اس کا بھی خیال رکھا جائے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو دعوت میں آنے کی دشواری محسوس ہورہی ہوتی ہے تو اسکو نہ بلایا جائے۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158)
کوئی آدمی بیمار ہے، کوئی تکلیف میں ہے یا کوئی خاص ایسے حالات وکیفیات میں ہے کہ آپ کو اندازہ ہے کہ اس کا یہاںمیرے پاس آنا اسکے لیے تکلیف کا ذریعہ بنے گا۔ یہ تو آپ کی خواہش ہے کہ وہ میرے گھر آئے اور میں اسکو کھانا کھلائوں، لیکن خدمت کسے کہتے ہیں؟ یہ بات آج تک ہمیں سمجھ نہیں آئی۔
خدمت کسے کہتے ہیں؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی خواہش کو پورا کرنا ہی خدمت ہے۔ ہم کیاسمجھتے ہیں کہ جو میں نے سوچا،جو میرے دل میں آیا، یہی خدمت ہے۔ یہ با لکل خدمت نہیں ہے۔ خدمت کیا ہے؟ خدمت کا مطلب ہے راحت رسانی ،خدمت کا مطلب ہے دوسرے کو راحت دینا۔ اگر دوسرے کو نہ آنے میں راحت ہو جیسے بعض لوگ مصروف ہوتے ہیں مثلاً علماء ہیں، یادین کا کام کرنے والے ہیں تو ان کی مصروفیت کو سامنے رکھا جائے۔ یا بعض اوقات لوگوں کے مزاج نہیں ملتے تو ایسے آدمی جن کامعلوم ہے کہ مزاج نہیں ملتے تو بھئی! ایسا کر لیا جائے کہ خود پکا کے ان کے گھر بھجوا دیں۔
دعوت کا مقصد:
اور دعوت کا مقصد کیا ہوا؟اصل چیز تو نیت ہوتی ہے۔ ہم نے دعوت گھر میں کرنی ہے، لوگوں کو بلانا ہے۔ اگر ہم نے سنت کی نیت کی، رشتہ داری جوڑنے کی نیت کی، نیک لوگوں کو کھانا کھلانے کی نیت کی، مسلمان کی زیارت کی نیت کی، ملاقات کی نیت کی، تو یہ تمام چیزیں ثواب کا ذریعہ ہیں۔ لیکن اگر اس کے علاوہ کوئی اور بات ہو کہ دعوت کا مقصد فخر ظاہر کرنا، نام و نمود ہو، ریاکاری ہو یا جو آج کل غیر مسلم تہوار ہم مناتے ہیں اس کی نسبت سے دعوت ہو تو یہ تمام دعوتیں خلاف سنت ہیں اور گناہ ہیں، کہ اپنا مال دکھانا یااپنی بڑائی کو ثابت کرنا کہ جی میں نے فلاں ہال میں اتنے لوگوں میں اتنی ڈشوں کو رکھا، تو یہ قیامت کے دن کھانا کھلانا سزا اور تکلیف کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
دعوت قبول کرنے کے آداب:
اب اگلی بات دعوت قبول کرنے کے آداب سے متعلق ہے۔ اگر کسی کو بلایا جائے کہ آپ ہمارے گھر آئیں تو جس کی دعوت کی جارہی ہے اس کو کیا کرنا چاہیے؟ آدابِ قبولیت میں سے ہے کہ امیر اور غریب سب کی دعوت کو قبول کر لے۔ امتیاز اور فرق اس بنیاد پر نہ کرے کہ اِس کے پاس مال ہے اور اُس کے پاس مال نہیں، کیونکہ نبی کریمﷺ معمولی لوگوں کی دعوت بھی قبول فرما لیتے تھے۔ چنانچہ ایک درزی کی دعوت آپﷺ نے قبول فرمائی۔ اسی طرح جس کو مدعو کیا جا رہا ہے یاجس نے کہیں جانا ہے وہ کسی کی دعوت کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھے کہ اس کے پاس ہو گا کیا، اس نے کھلاناکیا ہے، دال روٹی رکھ دے گا، سوکھی روٹی رکھ دے گا۔ بہرحال اس بنیاد پر ہر گز دعوت نہ ٹھکرائیں۔
کن دعوتوں سے اجتناب کرنا چاہیے؟
اگر کوئی دعوت رسماً کی جا رہی ہے، لحاظاً کی جارہی ہے یعنی میزبان کرنے میں اتنا خوش نہیں ہے، لیکن وہ رواج کی وجہ سے مجبور ہے کہ میں نے نہ کی تو میری ناک کٹ جائے گی، تو ایسی دعوتوں میں شرکت سے انسان کوپر ہیز ہی کرنا چاہیے کہ وہ خوشی سے نہیں کر رہا، طیبِ نفس سے نہیں کر رہا۔ وہ مجبور ہے کہ اگر میں نے یہ دعوت نہ کی تو لوگ مجھے برا بھلا کہیں گے، تو ایسی دعوتوں میں نہیں جانا چاہیے۔ اور اسی طرح اگر میزبان کی نیت احسان جتلانے کی ہو تو بھی مت جائیں۔ بعض دفعہ عادت سے، سیاق و سباق سے اندازہ ہوجاتاہے کہ کیوں بلا رہا ہے۔ اور پانچویں بات کہ اگر جس نے بلایا ہےیعنی میزبان کی کمائی حلال نہیں، اس کا مال مشتبہ ہے، سود کی کمائی ہے یا اور کوئی حرام واضح معلوم ہے، رشوت کا مال ہے یا کوئی کام ہی ایسا کرتا ہے جوشریعت کی رو سے حرام ہے تو ایسے آدمی کے گھر بھی کھانا کھانے سے انکار کردے، اچھے انداز سے اپنے آپ کو بچا لے۔ بعض دفعہ رشتہ دار ہوتے ہیں تو اس کے لیے پھر انسان علماء سے انفرادی طور پر مسئلہ معلوم کرلے کہ میں کیسے انکار کروں کہ رشتہ داری بھی رہ جائے اور میرے پیٹ میں حرام بھی نہ جائے۔ یہ بات دوبارہ سن لیجیے جسم کا جوحصہ،جسم کا جو ٹشو(Tissue)حرام غذا سے بنے گا وہ گناہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور دعوت دینے والا اگر فاسق اور فاجر ہو،معاملہ خراب ہو، اہل بدعت میں سے ہو تو وہاں بھی جانے سے انسان اپنے آپ کو بچائے۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158)
دوری کی وجہ سے دعوت سے انکار:
بعض دفعہ کوئی دعوت دیتا ہے تو کبھی اس کا گھر قریب ہوتا ہے، کبھی اس کا گھر دور ہوتا ہے۔ تو قریب اور دور یہ انکار کی وجہ نہیں ہے کہ جی یہ دور رہتے ہیں،میں نہیں آسکتا ۔ قریب اور دور ہونا، یہ وجہ شریعت نے نہیں شمار کی۔ ہاں بہت ہی دور جو تکلیف کا ذریعہ ہو تو اس میں بہرحال آپس میں بات چیت، محبت کے ساتھ انسان فیصلے کرے۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ158)
خلافِ شرع امور والی دعوت:
اگر آپ کو کہیں بلایا گیا اور میزبان جو دعوت دینے والاہے اس کے یہاں خلافِ شرع امور ہورہے ہوں۔ وہ چیزیں جو اللہ ربُّ العزّت نے حرام قرار دیں، رسول اللہﷺ نے منع کر دیں، اگر وہ وہاں ہو رہی ہوں تو ایسی مجلسِ طعام میں شریک ہونا درست نہیں۔ اب اس کی مثال یوں سمجھیں کہ آپ کسی ایسی جگہ گئے کہ وہاں گانا بجانا ہے، میوزک چل رہا ہے، اب شریعت محمدی ﷺکے مطابق وہاں جانا درست نہیں۔ نبی کبھی کسی ایسی دعوت میں نہیں گئے جہاں گانے باجے تھے۔ حضرات صحابہ کرام گانے بجانے والی محفلوں میں نہیں جایا کرتے تھے، یاایسی جگہ جہاں تصویریں خوب لگی ہوئی ہوں وہاں جانے سے بھی بچیں۔ اوراسی طرح کہیں پہ Mix Gathering ہو وہاںپہ بھی جانے سے انسان بچے۔Mix Gathering کے بارے میں تفصیلات ان شاء اللہ عنقریب آئیں گی لیکن ابھی ایک دو باتیںمختصر سی سن لیجئے!
قرآنی واقعہ:
حضرت موسیٰ جب مدین پہنچے تو ایک کنویںپہ لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے تھے اور ایک طرف دو لڑکیاں اپنی بکریوں کولے کر الگ تھلگ کھڑی تھیں۔ جب لوگ چلے گئے تو بعد میں انہوں نے پانی پلایا تو سیدنا موسی نے پوچھا کہ بھئی! تم نے پہلے پانی کیوں نہیں پلایا؟ اب تو بچا کچھا پانی ہے پہلے تو اچھا خاصاخوب پانی تھا۔ قرآن مجید کے اندر سورۃ القصص میں ان دونوں لڑکیوں نے جواب دیا۔
﴿قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَآءُ﴾ (القصص:23)
ان دونوں نے کہا کہ ہم چرواہوں کے چلے جانے تک پانی نہیں پلاتیں۔
اس سے کیا معلوم ہوا کہ شریف گھرانے کی عورتیں عام مردوں کے ساتھ آزادانہ اختلاط کو گوارہ نہیں کرتیں، اور یہ نبی کی شریعت سے پہلے کی بات ہے۔ اور ہماری شریعت میں تو وضاحت کے ساتھ اس کی تردید کر دی گئی کہ Mix Gathering اللہ کے دین میں جائز نہیں۔ ذراغور کریں! ایک ون وے روڈ ہو،راستہ بھی تنگ ہو اور ٹریفک آبھی رہی ہو، جا بھی رہی ہو تو یقین کریں کہ وہاں ایکسیڈنٹ کے Chances زیادہ ہیں، بجائے اس کے کہ دونوں الگ الگ راستے ہوں، ایک میں صرف جا رہی ہو اور ایک میںصرف آرہی ہوتو یہاں پہ راستے میں ایکسیڈنٹ کے چانسز کم ہو جائیں گے۔ بالکل اسی طرح جب بھی غیر محرم کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا تو ایک نہ ایک دن ملاپ ہو ہی جائے گا۔ دو ماہر ڈرائیور ذراسی غفلت کریں تو ایکسیڈنٹ کر بیٹھتے ہیں۔ اسی طرح نیک لوگ پردے میں بے احتیاطی کریں تو گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ (Murphy’s Law ) آپ نے سنا ہی ہوگا اس نے کیا بولا:
If anything can go wrong,it will.
اگر گناہ کا موقع ملتا رہے گا تو ایک نہ ایک دن گناہ کا ارتکاب ہو ہی جائے گا۔
لہٰذااحتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ گناہ کے موقع سے ہی بچا جائے تاکہ ملوث ہونے کی نوبت ہی نہ آئے۔
دور نبوت میں احتیاط کا ایک انداز:
اب ذرا غور کیجیے! نبی کے زمانے میں عورتوں کی تعلیم کا دن جدا، مسجد کے اندر عورتوں کی گزر گاہ جدا، داخلہ جدا، دروازہ با لکل الگ تھا۔ اس کا بعد میںنام ہی باب النساء پڑ گیا۔ ابن کثیر کی روایت ہے حدیث میں آتا ہے کہ نبی نے عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ
عَلَیْکُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِیْق (سنن ابی داؤد )
’’ عورتیں راستوں کے کنارے پر چلیں‘‘۔
اگر کسی عورت کو گھر سے نکل کر کہیں جانا ہو تو راستے کے درمیان میں اور مردوں میں گھس کر نہ چلے بلکہ کنارے پر احتیاط سے چلے تاکہ مردوں سے دور رہے۔ عورتوں کی صفیں مسجد میں جدا، عورتوں کا مسجد میں آنا جدا، ہر ہر چیز جدا۔ اور ایک بات سے سمجھنا بہت آسان ہوگا کہ انسان کے لیے نبی کے پیچھے نماز سے بڑی نعمت اور سعادت ہو ہی کوئی نہیں سکتی تھی ۔
ایک صحابیہ کی خواہش :
ایک صحابیہ ہیں اُمِّ حمید ساعدیہ ۔ انہوں نے نبی سے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرا دل چاہتا ہے کہ میں مسجد میں آپ کے ساتھ نمازپڑھا کروں۔نبی نے فرمایا:ہاں مجھے معلوم ہے، مگرآپ کا ایک کونے میں نماز پڑھنا حجرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور آپ کا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ آپ حجرے میں نماز پڑھ لیں، اور آپ کا محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ آپ گھر کے صحن میں پڑھ لیں اور محلہ کی مسجد میں نماز پڑھ لینا بہتر ہے کہ آپ جامع مسجد میں نماز پڑھنے آئیں یعنی میرے پیچھے نماز پڑھیں۔ (مسند احمد)
نبیu نے اپنے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا کہ دیکھو! تمھارے لیے بہتر یہ ہے کہ گھر کی تنہائی میں نماز پڑھو۔ اب نماز کے لیے اختلاط کی اجازت نہ رہی۔
عورتوں کے لیے حج و عمرہ میں بھی احتیاط :
نبی کے زمانے میں جب حج اور عمرے کا سلسلہ ہوتا تھا تو عورتیں طواف بھی الگ کیا کرتیں تھیں، مرد الگ کیا کرتے تھے۔ عورتیں کناروں کناروں پر کرتی تھیں۔ مردوں اور عورتوں کا اختلاط اس زمانے میں نہیں ہوتا تھا۔ یہ آج ہمارے زمانے میں ہو گیا، یہ ہماری غلطی ہے، اسلام کی غلطی اس میں کوئی نہیں۔ اسلام میں وضاحت سے احکامات موجود ہیں۔ فاروق اعظم کے دور میں جہاں کناروں کناروں پر عورتیں طواف کرتی تھیں، تو ایک دفعہ ایک مردوہاں داخل ہونے لگاتو انہوں نے اس کو پکڑ کر سزادی۔ تو پتا چلا کہ مرد بیت اللہ کے قریب طواف کرتے تھے اور عورتیں بیت اللہ سے دور پیچھے ہٹ کے طواف کیا کرتی تھیں، خیر! اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمادیں۔ بہرحال Mix Gathering کی اسلام میں، اللہ ربُّ العزّت کی شریعت میں کوئی اجازت نہیں۔ یہاں ہم مان لیں گے تو ہمارا فائدہ ہے۔نہیں توقیامت کے دن جب ہماری عورتوں کی ملاقات بی بی فاطمہ اور بی بی عائشہr سے ہو گی تووہاں اگر ان عورتوں نے شریعت کی پابندی نہیںکی ہو گی تو خودہی قیامت کے دن شرمندگی ہو گی ۔ تو بات یہاں یہ تھی کہ میزبان کے یہاں خلاف شرع امور کا ارتکاب ہورہاہو تو ایسی مجلس میں شریک نہ ہوں۔ مثلا مہندی کی محفل ہے یہ ہندوؤں کی محفل ہے، گانے بجانا ہے تو یہ بھی غیروں کا طریقہ ہے اور اگر وہاں بھیMix Gathering ہے تو یہ بھی مسلمانوں کا طریقہ نہیں، تو ایسی جگہ انسان شریک نہ ہو۔
دعوت قبول کرنے میں انسان کیا نیت کرے؟
دعوت قبول کرنے والا بھی اپنی مستقل نیت کرے اور دعوت دینے والا بھی مستقل نیت کرے۔ دعوت قبول کرنے میںصرف کھانے پینے کی نیت نہ ہو کہ جی وہاں خوب کھانے ملیں گے دعوت ہے ،بلکہ اتباع سنت کی نیت کرے۔ مومن کے دل کو خوش کرنا بھی ایک نیت ہے، اکرام مسلم، دوست احباب، رشتہ داروں سے ملاقات یہ ساری نیتیں ایسی ہیں جس میں ہمیں کھانا تو مل ہی جائے گا لیکن قیامت کے دن ثواب بھی ملے گا۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ159)
یہ تھے دعوت قبول کرنے کے آداب، اب چند باتیں مہمان سے متعلق بھی ہیں کہ اس کو کن آداب کا خیال رکھنا ہے۔ ان کے بارے میں بھی شریعت نے تفصیلات بتائی ہیں۔
پابندئ وقت:
تاخیر نہ کرے کہ انتظار میں زحمت ہوگی، نہ بہت پہلے چلا جائے۔ ہاں اگر بہت پہلے جانے کا معاملہ یہ ہے کہ کام میں ہاتھ بٹانا ہو توپھرٹھیک ہے زیادہ جلدی جانے میں کوئی حرج نہیں۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ159)
ایک آدمی نے آٹھ بجے بلایا، اب دل کیا تو پانچ بجے جاکر بیٹھ گئے تو اگر اس کی مدد کرنی ہے، اس کا خیال رکھنا ہے اوروہ آپ کے جلدی آنے سے خوش ہو پھر تو ٹھیک ہے ورنہ اگر محسوس ہوکہ میرے جلدی جانے سے اس کو زیادہ زحمت ہوگی تو ایسے وقت میں پھر جلدی جانا ٹھیک نہیں ،اورتاخیر کرنا بھی ٹھیک نہیں، کوشش کی جائے کہ جو عام معمول ہے اس کو برقرار رکھاجائے۔
اجازت طلب کرنا:
جب کسی کے گھر پہنچ جائے تو بلا اجازت گھر کے اندر نہ جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بے پردگی ہو جائے۔
سلام کرنا:
جب جائے تو سب سے پہلے السلام علیکم کہے ،پہلے سے خیریت اور مزاج نہ پوچھے۔ پہلے سلام کرے اس کے بعد خیر خیریت پوچھے آج یہ سنت بھی ہم سے چھوٹ گئی کہ کہیں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو پہلے باقی چیزیں پوچھ لیتے ہیں، سلام بعد میں کرتے ہیں یا پھر بھول ہی جاتے ہیں۔
بیٹھنے میں احتیاط:
انسان جب گھر کے اندر داخل ہوجہاں دعوت ہے بلایا گیاہے، یعنی میزبان کے یہاں تو مجلس میں جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے۔ صدر نشینی، بالا نشینی کے چکر میں نہ رہے کیونکہ سنت اور سادگی یہی ہے۔ اور یہ خیال کرنا کہ جی میں سب سے اچھی جگہ پر بیٹھوں،سب سے زیادہ بڑھ کر میں نظر آئوں ،یہ چیز خلافِ سنت ہے۔ اگر وہ لوگ از خود آپ کو صدر مقام پر، اچھی جگہ پر، اسٹیج وغیرہ پر بٹھانا چاہیں تو انسان اولاً تو انکار کردے پھر دوبارہ کہہ دیں تو انسان بیٹھ جائے اور ایسا اصرار بھی نہ کرے کہ ان کو تکلیف ہو۔
حیلے بہانے سے گریز:
اس کے علاوہ ایک اور بات بہت اہم ہے، اگر صاحبِ خانہ کہیں بٹھائے تو انسان اسی جگہ بیٹھ جائے اس کی مخالفت نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ اس کے ذہن میںکوئی پلان ہو،کوئی ترتیب ہوکہ میں نے ایسے Manage کرنا ہے، اور ہم اس کی مخالفت کر رہے ہوں۔ اور انسان جب جاکر بیٹھے، ایسے مقام پر نہ بیٹھے جہاں بے پردگی کا احتمال ہو۔ اور آج تو موقع ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہمارے مرد بھی اور ہماری عورتیں بھی ایسے مقام پہ جانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بے پردگی ہو اور کھل کے ہو۔ اب کچھ لوگ بیچارے انتظام بھی کر لیتے ہیں کہ مردوں کا الگ اور عورتوں کا الگ تو بھی بہت سارے مردکسی نہ کسی بہانے سے عورتوں کے اندرجانے کی کوشش کرتے ہیں یہ ان کے لیے جائز نہیں۔ رسول اللہﷺ کی شریعت میں اس کی اجازت نہیں۔ اس لیے انسان کو جہاں بھی بٹھایا جائے وہیں بیٹھ جائے اور وقار کے ساتھ بیٹھے ، اِدھر اُدھر تانک جھانک نہ کرے،سکون کے ساتھ بیٹھے۔
بات چیت میں احتیاط:
اگر کوئی بات کرنی ہو تو با لکل بات کرے ،موقع محل کے حساب سے اچھی بات کرے ورنہ خاموش رہے، فضول بات نہ کرے۔
بڑوں کا ادب:
مجلس میں اگر کوئی بڑا بزرگ موجود ہو، کوئی بڑا آدمی موجود ہوتو اس کی رعایت کرے، اس کا ادب کرے۔
انتشار سے بچنا:
اور اگر آپ کسی دعوت میں گئے جہاں ایسے لوگ موجود ہوں جو اہلِ بدعت میں سے ہیں، یا ایسے لوگ موجود ہوںجو آپ کی مخالفت کرتے ہیں، تو وہاںآپ خاموش رہیں، کسی کے یہاں جاکر اخلاقی طور پر خاموش رہنا مناسب ہے وہاں کوئی ایسی بات نہ ہو کہ کسی کا مذاق یاکوئی پریشانی کا معاملہ ہو ،خاموشی کے ساتھ وقت گزاریں۔
کھانے کی مجلس کے آداب:
اب انسان مجلس میں بیٹھاہوا ہے تو اس میں چند کھانے کے آداب بھی بتائے۔ مجلس اور جماعت میں کھانے کے آداب کچھ ایسے ہیں کہ اگر مجمع کے اندر مہمانوں میں اہلِ فضل اور بڑی عمر کے لوگ زیادہ ہوں یا دین دار لوگ ہوں تو کوشش کریں کہ پہلے بڑے لوگوں سے کھانے کی ابتدا ہو۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ160)
اور کھانے کی مجلس میں با لکل خاموش نہ ہوں کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، لیکن یہ ہے کہ امورِ خیریعنی اچھی اچھی باتوں کا تذکرہ کرتارہے ،لیکن فضول اور لایعنی باتوں سے اپنے آپ کو بچائے، غیر ضروری گپیںاور غیبتیں اور شگوفے سنانا وغیرہ سے انسان اپنے آپ کو بچائے۔ اچھی بات، سنت کی بات کو ضرور اختیار کرے۔ اور مجلس میںکوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کرے جس سے مجلس کے باقی لوگوں کو اذیت اور تکلیف ہو۔ بہتر یہ ہے کہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دے خود بڑھ چڑھ کرنہ کھائے۔اگر کوئی ساتھی کم کھائے تو اسے کھانے میںہلکا پھلکا کہہ دے کہ بھائی! تھوڑا سا اور کھالیجیے لیکن زیادہ اصرار نہ کریں۔ اور باقی لوگ جو کھا رہے ہیں نہ ان کی ہڈیاں گنے، نہ بوٹیاں گنے اور نہ چپاتیاں گنے، نہ ہی اِدھر اُدھر غور کرے ،اپنی طرف زیادہ توجہ رکھے۔
اپنے ساتھیوں کی رعایت کرے اور کوشش کرے کہ اختتام ساتھ ہی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ یہ جلدی کھا کے فارغ ہو جائے اور باقی کھاتے رہیں تو وہ شرمندگی محسوس کریں، کوشش کرے کہ جب تک ممکن ہے ساتھ ساتھ کھاتا رہے۔ لیکن اگر کوئی وجہ ہے کم کھانے کی یا کسی بھی طرح کی تو پہلے سے اچھے اندازمیں اطلاع کردے تاکہ کسی کو شرمندگی نہ ہو۔ اور منہ سے کوئی چیز نکالنی ہو جیسے ہڈی تو کھانے کی طرف سے منہ پھیر کر بائیں طرف رخ کرلے، لوگوں کی طرف سے بھی تھوڑا سا پیچھے ہو جائے، کھانے کی طرف سے بھی پیچھے ہو جائے، پھر نکالے۔ اور دانت سے کتری ہوئی کوئی چیز جیسے روٹی ہے، دانت سے کتر لی اب وہ ایسے شور بے میں جس میں اور لوگ بھی شریک ہوں، اس میں نہ ڈالے۔ اگر ایک پلیٹ میں کئی آدمی کھانا کھا رہے ہیں تو اس میں پھر باقی لوگوں کا بھی خیال رکھے اور اپنے ہاتھ کو پلیٹ میں نہ جھاڑے۔ اور اگر دسترخوان کے اوپر پھل یا میوہ ہو اور کھانا بھی ہو تو کھانے کی ترتیب یہی ہے کہ پہلے پھل اور میوہ کھا لے اور بعد میں کھانا کھائے۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ160)
میزبانی کے آداب:
اس کے علاوہ اب میزبانی کے بھی کچھ آداب ہیں، ان کا بھی تذکرہ کرلیتے ہیں۔ جو انسان میزبان ہے اس کے لیے بھی قرآن میں اور نبی کی احادیث مبارکہ میں چند باتیں آئیں۔ ان کو بھی توجہ سے سن لیں۔ میزبان کے لیے تو پہلے یہ بتایا کہ مہمان کے لیے اتنا تکلف نہ کرے کہ جو اس کے لیے پریشانی کا باعث بن جائے۔ اپنی طرف سے جو حاضر ہو پیش کر دے۔ ایسا بھی نہ ہو کہ بال بچے بھوکے رہیںاور یہ سارا کچھ دوست اور مہمانوں کو کھلا دے،ایسا تکلف منع کیا گیا۔
حضرت علی کی شرطیں :
ایک روایت ہے کہ کسی نے حضرت علی کی دعوت کی، آپ نے دعوت تو قبول کی لیکن فرمایا کہ دیکھو! میری تین شرطیں ہیں: اول یہ کہ تم بازار نہ جانا یعنی تم ایسا نہ کرنا کہ بازار سے کھانے پکانے کی چیزیں لینے چلے جاؤ۔ دوسری شرط یہ کہ جو گھر میں اس وقت موجود ہو بس وہ لے آنا ۔اور تیسری شرط میری یہ ہے کہ اپنے بال بچوں کا حصہ چھوڑ کر لانا۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ161)
ایسا نہ ہو کہ تم بال بچوںکو بھوکا چھوڑ دوکہ حضرت علیt آئے ہیں تو باقی گھر والے بھوکے رہیں گے، تو آسانی کے ساتھ جتنا ہو سکتا ہے اسکو کرے۔ ایک ادب یہ بتایا کہ مہمان سے مرغوب اور پسندیدہ شے معلوم کرلے کہ اسکو کیا چیز پسند ہے۔ اگر یہ آسانی سے مہیا کر سکتا ہو تو فراہم کر دے۔ اس میں ثواب بہت زیادہ ہے کہ اس نے مہمان کا خیال کیا۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ161)
مہمان کے ہاتھ دھلانا:
اور ایک ادب جو آج کل تو نہیں ہے۔ آج کل تو کہہ دیتے ہیں کہ وہاں جائیے اور ہاتھ دھو کر آئیے۔ علماء نے تو لکھا ہے کہ مہمان کے ہاتھ میزبان دھلائے اور اسکے لیے ادب یہ لکھا ہے کہ جب میزبان کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھلانے لگے تو پہلے اپنا ہاتھ دھوئے، پھر مہمان کے دھلائے اورجب فارغ ہو جائے اور فارغ ہو نے کے بعد پہلے مہمان کے ہاتھ دھلائے پھر اپنے ہاتھ دھوئے۔ کیا مطلب ؟مطلب یہ کہ جب اپنے ہاتھ دھلے ہوئے ہوں گے تو صاف ہاتھوںسے مہمان کے ہاتھوں کو دھلائے کھانا کھانے سے پہلے ،اور جب کھانا کھا لیا اب پہلے مہمان کے ہاتھ دھلائے بعد میں اپنے ہاتھ دھوئے۔ امام شافعی جب ایک مرتبہ امام مالک کے یہاں تشریف لے گئے تھے تو امام مالک نے اسی طرح کیا تھا۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ161المیزان)
انتظار کروانے سے گریز:
کھانا پیش کرنے میں جلدی کرے، کیونکہ یہ عمل مہمان کی تعظیم اور خاطرداری میں شامل ہے اور اسی میں مہمان کا اکرام بھی ہے اور مہمان کے اکرام کا حکم بھی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بھوکا ہو اور اسے کھانا کھانے کی ضرورت ہو۔ اس لیے کوشش کرکے جلدسے جلد کھانا پیش کردے اس کو انتظار لمبا نہ کروائے۔
پانچ چیزوں میں جلدی کرنا سنت ہے:
حاتم حثم فرماتے ہیں کہ جلد بازی شیطان کا کام ہے لیکن پانچ چیزوں میں جلدی کرنا یہ حضور پاک ﷺ کی مبارک سنت ہے:
(1)مہمان کوکھانا کھلانے میں
(2)میت کی تجہیزوتکفین اور تدفین میں
(3)بچی جب بالغہ ہوجائے اس کا نکاح کرنے میں جلدی کرے
(4)قرض ادا کرنے میں
(5)توبہ کرنے میں۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ161)
کھانا لانے میں احتیاط:
اب میزبان نے کھانا لے کر آناہے تو کتنا لے کر آئے۔ اس کے بارے میں بتایا کہ بقدر ضرورت لے کر آئے، ضرورت سے کم لانا بھی ٹھیک نہیں اور ضرورت سے بہت زیادہ لانا بھی ٹھیک نہیں۔ ایک احتیاط کے ساتھ مناسب انداز سے کھانا لے کر آئے بہت زیادہ کھانا بھی نہ لائے کہ بعض چیز ایسی ہوتی ہیں کہ زیادہ رکھ دیں جائیں توپھر وہ دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتیں، اور بہت کم بھی نہ ہوکہ وہ بھی مناسب نہیں۔ اندازہ کریں کہ کتنے لوگ ہیں، کتنا کھالیں گے ،تواس حساب سے ایک اچھا اندازہ کر کے لے آئے۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ161المیزان)
اہل خانہ کی رعایت کرے:
ایک ادب یہ لکھا کہ گھر کے افراد کا حصہ پہلے ہی نکال کرالگ رکھ لیا جائے۔ گھر میں بیوی بچے ہیں ایسا نہ ہو کہ سارے کا سارا مہمان کے سامنے اُٹھا کر رکھ دے اور گھر والے اب پریشان ہیں اور ان کا دل مہمان کے کھانے میں اٹکا ہوا ہے کہ اللہ کرے یہ کچھ بچا دے، زیادہ نہ کھائے ورنہ ہمارا کیا بنے گا۔ ہاں اگر کسی وقت قدرتاً ایسا ہو کہ مہمان اچانک آگئے ہوں اور انتظام نہیں ہو سکا تو ایسی صورت میںاگر مہمان کو ترجیح دے دیدے گا تو یہ باعثِ اجر اور باعثِ برکت ہے۔(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ161)
لیکن اگر آپ نے انتظام کرکے گھر میں کسی کو بلایا تو گھر والوں کا پوراپورا خیال ساتھ ساتھ رکھا جائے۔ اور کھانے کی جتنی چیزیں تیار ہوں ان سب کو مہمان کے سامنے رکھ دے تاکہ ہر قسم کا کھانا اس کے سامنے آجائے اور وہ حسبِ طلب اپنی مرضی سے خواہش کے ساتھ کھا لے، ایسا نہ ہو کہ پہلے انسان سادہ چیزیں رکھ دے اور لذیذ چیزیں بعد میں لائے تو اس کو دُکھ ہوگا، تو اچھی چیزوں کو پہلے رکھ دے یا ساتھ ساتھ رکھ دے۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ162)
حالت کا اندازہ لگانا:
ایک ادب یہ لکھا کہ مہمان سے نہ پوچھا جائے کہ جی آپ کھانا کھائیں گے؟ میں کھانا لے کر آئوں؟ بلکہ فرمایا کہ وقت کے لحاظ سے یا دوسرے اچھے ذرائع سے خود ہی اندازہ لگالیں کہ بھئی مہمان کو بھوک لگی ہوگی کہ نہیں،پھر جو میسر ہو سامنے پیش کر دے۔
(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ162المیزان)
دیکھیں! شریعت نے کتنی خوبصورتی بتائی کہ جو میسر ہو وہ پیش کر دے،اور دونوں طرف تکلف سے منع کیا۔ آپ پیش کر دیں، اس نے کھانا ہوگا تو کھا لے گا۔ ورنہ بہت سے آدمی پوچھنے کی وجہ سے منع ہی کر دیتے ہیں، لحاظ رکھ لیتے ہیں توبھوکے رہ جاتے ہیں۔
مختلف آداب:
اس کے علاوہ ایک اور ادب مہمان کے لیے بتایا کہ جو کھانا دستر خوان پر نہ ہو اس کا تذکرہ نہ کرے۔(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ162المیزان)
یہ بات تو چھوٹی سی ہے لیکن بڑی اہم ہے۔ آپ کسی کے گھر مہمان گئے تو وہاں اس نے تین ڈشیں لاکے رکھ دیں۔ آپ نے کسی چوتھی ڈِش کا تذکرہ شروع کردیا کہ جی میں فلاں جگہ گیا تھا تو وہاں وہ ڈش بڑی مزیدار بنی ہوئی تھی۔ اب اس سے میزبان کو تکلیف ہوگی کہ جو تین چیزیں سامنے نظر آرہی ہیں اس کی تعریف نہیں اور جو نظر نہیں آرہا اس کی تعریفیں شروع ہوگئیں تواس سے باقاعدہ منع کیا گیا کہ جو کھانا دستر خوان پر نہ ہو اس کی تعریف نہ کرے۔
اور اسی طرح لکھا کہ اگر آپ نے دس پندرہ آدمیوں کو کھانے پہ بلایا ہے۔ ان میں سے اکثر آگئے ایک دو رہ گئے، اب ایک دو کے انتظار میں بارہ آدمیوںکو تکلیف نہ دے، کھانا شروع کر دے۔ وہ بعد میں آئیں گے اور بعد میں کھا لیں گے۔
اور اسی طرح دسترخوان کے اٹھانے میں جلدی نہ کرے۔ مہمان آیا کھانا شروع کردیا، آپ نے تو کھا لیا، آپ کو اندازہ ہوگیا کہ میری بھوک تو ختم ہوگئی اورپیٹ بھر گیا۔ اب جلدی جلدی خادم یا بچوں کو بلانا کہ آئو دستر خوان اٹھائو تو اس جلدی میں مہمان پریشان نہ ہو جائے، مہمان کو تسلی سے کھانا کھانے دیں۔ جب وہ کھانا کھا چکے، سب فارغ ہو چکیں تو پھر اس کے بعد کھانا اٹھائے۔
اور میزبان کو چاہیے کہ کھانے میں شریک بھی رہے اور آخر میں ساتھ ہی اٹھے۔ اور کھانے پینے اور دیگر امور میں مہمان کے مزاج کی رعایت کرے کیونکہ اکرام کا اولین مقصد اس کو راحت پہنچانا ہے، اس کی خدمت کرنا ہے نہ کہ اپنی مرضی کو پورا کرنا ہے۔
مہمان کے مزاج کی رعایت کرے اور کوشش کرے کہ زمین پر نہ رکھے بلکہ عمدہ دسترخوان لگائے، آرام اور راحت کے ساتھ کھلائے اور میوزک کا اہتمام تو ہرگز، ہرگزاورہرگز نہ کرے کہ میوزک تو حرام ہے۔اور بعض جگہ ٹیبل کرسی ہوتی ہے توٹیبل کرسی پر کھانا جائز ضرورہے ،لیکن خلافِ سنت ہے۔ تو بھئی کبھی ٹیبل کرسی پر کھائے تو کبھی زمین پر بھی کھا لے تاکہ سنت بھی پوری ہو جائے۔(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ162)
اسی طرح مہمان کے ساتھ میزبان کو چاہیے کہ کھانے میں شریک ہو اور ان کو ہلکا پھلکا کہتا رہے کہ آپ کھا لیجیے۔ بہت اصرار بھی نہ کرے، زبردستی بھی نہ کرے۔ ایک جگہ خیر سے میں گیا، ماشاء اللہ خوب انہوں نے کھلایا میں نے کھا لیا۔ پھر اور کھلایا ،پھر کھا لیا۔ اب بالکل گنجائش نہیں تھی کہ کوئی نئی ڈِش آگئی کہ اب یہ والی بھی کھالیں تو مختلف ڈشیں کھا کے میرا ہی حال خراب ہو گیا(مسکراتے ہوئے فرمایا)۔
اور میزبان کو چاہیے کہ وہ مہمان کی خدمت خود بھی کرے، ایسا نہ ہو کہ سارا کام نوکر ہی کریں،دوسرے لوگ ہی کریں، خود بھی چاہیے کہ خدمت کرے کہ مہمان کے اکرام کا حکم ہے۔ فرمایا کہ جو قیامت کے دن اللہ سے اچھی حالت میں ملنا چاہتا ہو ، جو قیامت کے دن اور اللہ پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ مہمان کا اکرام کرے۔تو خود بھی اکرام کرنے کی اس میں بات کی گئی۔ اگر اور کام کرنے والے موجود ہیں ،خدمت کرنے والے موجود ہیں تو ٹھیک ہے ان سے بھی کام لے ،لیکن نگرانی رکھتا رہے ، اس سے مہمان کو اندازہ رہے گا کہ میری بھی اہمیت ہے، مجھے بھی دیکھا جا رہا ہے، مجھے بھی پوچھا جا رہا ہے،اس میں مہمان کی عزت بھی ہے ، اوریہ اللہ کا حکم بھی ہے اورنبیuکا طریقہ بھی ہے۔ اور میزبان کو چاہیے کہ ہلکی پھلکی گفتگو کے ذریعے مہمان کے ساتھ بات چیت کرتا رہے ،بالکل خاموش بیٹھا رہے گا تو وہ نہیں کھا سکیں گے۔تو ان کو وحشت نہ ہونے دیں، بے تکلفی کا ماحول رکھے تاکہ وہ خوش ہو کر رغبت کے ساتھ زیادہ کھائیں۔ اور یہ بتایا کہ مہمان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا جائے تاکہ وہ اپنی آمد پر افسوس نہ کرے،نالاں نہ ہو،ایسا نہ ہو کہ وہ محسوس کرےکہ جب سے میں آیا ہوں تو ان کے اوپر مصیبت بن گئی ہے۔ اپنی طرف سے ان کو خوشی کا احساس دلائے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس سے راضی ہوتے ہیں اس کے گھر میں مہمان بھیجتے ہیں یہ حدیث ہے۔ اور مہمان جب آتا ہے، کھانا اپنے نصیب کا کھاتا ہے اور میزبان کے گناہ سمیٹ کے لے جاتا ہے۔ تو انسان خوش ہو کہ یہ مہمان آیا ہے، میرے گناہ آج معاف ہو جائیں گے۔ اللہ مجھ سے خوش ہو جائیںگے، میرے گھر میں برکتیں آئیں گی ان چیزوں کو سوچے گا تو مہمان کے آنے سے دل خوش ہوگا۔
مہمان کو بھی بتایا کہ دسترخوان پر سے کوئی چیز دوسروں کو نہ دے۔ مثلا کوئی مانگنے والا آگیا تو اسے دے دیا، ایسا کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ یہ مالک نہیں ہے۔ اور مہمان کو چاہیے کہ کھانے کی کمی یا نا مناسب بات کا میزبان سے ذکر نہ کرے کہ کہیں اس کو شکایت سمجھ کر اس کا دل رنجیدہ نہ ہو۔
مہمان کا رات میں قیام کا ارادہ:
مہمان نے اگر رات کو قیام کرناہو، رات کوگھر میں رکنا ہو تو میزبان کو چاہیے کہ مہمان کے لیے راحت کے جو انتظام ہیں وہ تو ضرورکرے کہ لائٹ یہاں سے بند ہوگی،یہاں سے کھلے گی، اوربیت الخلاء کااسکو راستہ بتائے قبلے کا رخ اسکو بتائے کہ قبلہ ایسے ہے، اس کو ایک جائے نماز بھی دے دے، نماز پڑھنے کی جگہ بھی بتا دے کہ ایسے ایسے ہے ساری چیزیں اس کو بتادیں تاکہ اس کو رات میں پریشانی نہ ہو، وہ پریشان نہ پھر تا رہے۔ جو آپ نے اہتمام اس کے لیے کرنا ہے وہ سارا کرنے کے بعد اسکو لائٹ کا آن، آف ہونا، بیت الخلاء آنے جانے کا طریقہ بتانا ،اس کے لیے نماز کی جگہ کا بتانا،قبلے کے رخ کا بتانا،اور ضرورت کی چیزوں کو سامنے رکھنا بہت اچھی بات ہے تاکہ مہمان کو وحشت نہ ہو، پریشانی نہ ہو۔
(سفر نامہ امام شافعی ،اسوۃ الصالحین،احیاء العلوم)،(شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ162)
مہمان کو رخصت کیسے کریں؟
اسی طرح جب مہمان جانے لگے تو حضور پاک ﷺکا مبارک طریقہ یہ ہے کہ جب مہمان گھر سے جانے لگے تو کچھ دور تک یا گھر کے دروازے تک ان کے ساتھ جائے۔اب اس میں دو نیتیں ہو سکتی ہیں: ایک نیت تو یہ کہ ایسا نہ ہو کہ واپس ہی آجائے میں اس لیے چھوڑنے جا رہاہوں ،یہ تو مذاق کی بات ہوگئی۔ لیکن سنت یہ ہے کہ میزبان، مہمان کو دروازے تک چھوڑنے جائے یاجہاں تک بے پردگی نہ ہو۔ اگر عورتیں ہیں تو ان کے لیے سنت نہیں ہوگی کہ باہر مین گیٹ تک چھوڑنے جائیں، بس تھوڑا سا آگے چل لیں کہ بے پردگی بہر حال کسی صورت نہ ہو کہ وہ اللہ کا حکم ہے وہ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔
اسی طرح فرمایا کہ مہمانوں کو چاہیے کہ میزبان اور اہل خانہ ہی کی اجازت سے گھر سے باہر جائیں۔ میزبان کو چاہیے کہ مہمانوں کو خندہ پیشانی سے رخصت کرے۔ اسی طرح مہمان حضرات بھی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خوشی خوشی رخصت ہوں اور اگر میزبان سے کوئی کوتاہی وغیرہ ہو جائے تو مہمان اسے درگزر کر دے اس کا ذکر نہ اس وقت کرے نہ بعد میں جا کے کرے۔اورمہمان میزبان کے یہاں سے کھانا بغیر ان کی اجازت کے نہ لے کر جائے۔ اور میزبان بھی خوشی کے ساتھ رخصت کرے اورجو مہمان ہے جاتے ہوئے دعائیں دیتا ہوا جائے ۔ (شمائل کبریٰ،جلد1،صفحہ163المیزان)
فقہی مسائل:
اب اس بارے میں چند فقہی مسائل بھی سمجھ لیجیے!یہ احادیث سے لیے گئے ہیں۔ کھانے کے لیے جب ہاتھ دھوئیں توہاتھ دھونے کے بعدپونچھنے نہیں چاہئیں،گیلے ہاتھوں سے کھانا کھانا چاہیے۔ کھاناکھانے کے بعد جب ہاتھ دھوئیں تو کپڑے سے یا تولیے سے پونچھنا درست ہے۔ اور دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا سنت ہے۔ صرف خالی انگلیاں دھولینا یا ذراسا پانی ڈال لینا ٹھیک نہیں ۔ دونوںہاتھوںکو انسان گٹوں تک دھوئے۔ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے ساتھ کلی کرنا یا منہ دھونا سنت نہیں۔ اور بعد میں ہاتھ دھونا سنت ہے، ہاں اگر کوئی کلی کرے تو گنجائش ہے لیکن کلی کو سنت سمجھ کے نہ کرے۔اور کھانا کھانے کے لیے دونوں ہاتھوں کا دھونا سنت ہے،ایک ہاتھ کو دھونے سے سنت ادا نہیں ہوگی۔ (شامی جلد5صفحہ216،نفع المفتی صفحہ108)
اور روٹی کو بیچ سے کھانا اور کنارے چھوڑ دینا ٹھیک نہیں ہے۔
(نصاب الاحتساب صفحہ148)
روٹی کوصحیح طریقے سے پورا کھائے۔ بعض لوگ درمیان سے کھا لیتے ہیں ،سائیڈیں چھوڑ دیتے ہیںتو یہ مناسب نہیں، ہاں اگر کوئی عذرہوتو بات کچھ اور ہے۔اور فرمایا کہ دستر خوان پر جب روٹی آجائے تو شروع کر دیں سالن کا انتظار نہ کریں۔ (شامی جلد5صفحہ216)
کیونکہ حدیث میں ہے کہ روٹی کا اکرام کرے۔اسی طرح ایک حدیث میںآتا ہے کہ کھانے کی ابتدا اور انتہا نمکین اشیا سے ہو۔ (شامی جلد5صفحہ216)
اگر ایسااہتمام ہو جائے تو اچھی بات ہے۔
اور گرم گرم کھانا جس سے انسان کا منہ جلنے لگے مکروہ ہے۔ (بحر جلد8صفحہ184)
اسی لیے اتنا گرم کھانا مناسب نہیں سمجھا گیا۔اور دستر خواں پر جو کھانا بچ جائے یا نیچے گر جائے، اس کو کھانا ہمارے اکابرین کی عادت رہی ہے۔ (بحر جلد8صفحہ184)
انسان کھانا کھاتا ہے اور شوربے کا سالن ہے یا کوئی ایسی چیز ہے جس سے اس کی انگلی تر ہو جاتی ہے، توفرمایا کہ اپنی انگلی یا چھری کو روٹی کے ساتھ نہ پونچھے ،اور ہرگز ایسا نہ کرے کہ روٹی پکڑی تو انگلی کو صاف کرلیا،یہ بات با لکل غلط ہے۔ (بحر جلد8صفحہ184)
انسان مختلف قسم کے برتنوں میںکھانا کھاتا ہے،مثلاً اسٹیل، شیشہ،چینی ، المونیم، وغیرہ تو یہ سب جائز ہیں، لیکن انسان اتباعِ سنت کے لیے مٹی کے برتن کا بھی اہتمام کر لے کہ مٹی کے برتن میں کھانا نبی کریم ﷺکی سنت ہے۔ (شامی جلد5صفحہ218)
برتنوں میں کفار کی مشابہت سے بچنا:
اسی طرح ایسے برتنوں میں کھانا جن کی مشابہت یہودیوں ، عیسائیوں یا ہندوئوں کے ساتھ ہو، منع کیا گیا ہے، کیونکہ یہ تشبہ کے اندر آجاتے ہیں۔جیسے وائن گلاس آج ہمارے معاشرے میں اتنا عام ہو گیا، اتنا عام ہو گیاکہ مجھے یقین نہیں آتا کہ مسلمان اتنے بےحس ہو چکے ہیں۔ وائن شراب کو کہتے ہیں، وائن گلاس ان کی ہر شادی کے اندر، ہر دعوت کے اندر موجود ہے۔ پیسوں کا خرید کے لاتے ہیں اور ایک گنا ہ والی چیز اپنے گھروں میں سجا کر رکھتے ہیں۔ اب کوئی اگر بڑا آجائے تو وائن والے گلاس میں پانی پیش کرنے کو اپنی عزت سمجھتے ہیں۔ یہ آج کے مسلمانوںکے حالات ہیں جن پر محض افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ تو ایسے گلاس اور برتن جن کی مشابہت غیروں کے ساتھ ہو، ان میں کھانا پینا مناسب نہیں یہ مکروہ لکھاگیا ہے۔ اور کھانے پینے میں اتنی کمی کرنا کہ ضعف اور نقاہت محسوس ہونے لگے یہ بھی درست نہیں، مثلاً آج صبح کھایا اب رات کو یا اگلے دن کھائیں گے اور پھر نقاہت محسوس ہونے لگے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی نا قدری ہے۔ یہ انسان نا قدری کرنے والوں میں شمار ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح دین کی سمجھ عطا فرمائے اور کھانے پینے میں سنت کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت کے دن ہم سب کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائے اور اللہ اپنی پاک بارگاہ میں قبولیت عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں