69

نابالغ بچوں سے روزہ رکھوانا

سوال : نابالغ بچوں کے حق میں روزہ، نماز کی طرح ہے یا اس کے بارے میں کوئی اور حکم ہے ؟

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللّٰہ التوفيق : شریعت مطہرہ نے نابالغ بچوں کے سلسلے میں یہ ہدایت دی ہے کہ ان کو بچپن سے ہی عبادات کی طرف راغب کیا جائے؛ تاکہ بالغ ہونے کے بعد فرائض بحسن وخوبی انجام دے سکیں ـ چنانچہ نماز کے بارے میں معلم انسانیت حضرت محمد ﷺ نے فرمایا : مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ (سنن أبي داؤد، كتاب الصلاة، باب متى يؤمر الغلام بالصلاة، حديث : 495)
ترجمہ : اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جبکہ وہ سات سال کے ہو جائیں، اور دس سال کے ہو جائیں تو تنبیہ کرو ـ
رہا روزہ کا مسئلہ تو اس بارے میں امام بخاری رحمه اللّٰه نے “صحیح بخاری” میں حضرت رُبَیِّع بنت مُعوّذ رضی اللّٰہ عنہا کی ایک حدیث ذکر کی ہے : عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ قَالَتْ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ : مَنْ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَليَصُمْ، قَالَتْ : فَكُنَّا نَصُومُهُ بَعْدُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا وَنَجْعَلُ لَهُمْ اللُّعْبَةَ مِنْ الْعِهْنِ ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهُ ذَاكَ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الْإِفْطَارِ. (صحيح بخاری، كتاب الصوم، باب صوم الصبيان ، حدیث : 1859 ، صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث : 1136 ، واللفظ للبخاري)
ترجمہ : حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں : نبی ﷺ نے عاشورا (دس محرم) کی صبح کو انصار کے محلوں میں آدمی بھیج کر یہ اعلان کروایا : “جس نے صبح ہونے کے بعد کچھ کھا پی لیا ہے تو وہ اپنا دن پورا کرے (یعنی شام تک کچھ نہ کھائے پیے) اور جس نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا ہے وہ روزے کی نیت کر لے ، حضرت ربیع فرماتی ہیں : اس اعلان کے بعد ہم لوگ عاشورا کا روزہ رکھتے تھے اور بچوں سے رکھواتے تھے، ہم ان بچوں کے لیے اون کی گڑیا بنا لیتے تھے، جب کوئی بچہ کھانے کے لیے روتا تو ہم اس کو وہ دے دیتے، یہاں تک کہ افطار کا وقت ہو جاتا ـ
شارح بخاری حافظ ابن حجر رحمۃ اللّٰہ علیہ اس کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں : وفي الحديث حجةٌ على مشروعية تمرين الصبيان على الصيام كما تقدم . (فتح الباري : 4/ 201)
اسی لیے فقہائے کرام نے نماز کی طرح روزہ کا حکم بھی بیان کیا ہے، یعنی : دس سال سے کم عمر صحت مند بچہ کو روزہ رکھنے کی ترغیب دی جائے، اور جب وہ دس سال کا ہو جائے تو بلا عذر چھوڑنے پر تنبیہ کی جائے ـ
فتاوی ہندیہ/عالمگیریہ میں ہے : “قال الرازی : یؤمر الصبي اذا أطاقه، وذکر أبو جعفر اختلاف مشائخ بلخ فیه، والأصح أنه یؤمر، وهذا إذا لم یضر الصوم ببدنه، فإن أضر لا یؤمر به، وإذا أمر فلم يصم فلا قضاء عليه، وسئل أبو حفص أیضرب ابن عشر سنین علی الصوم؟ قال : اختلفوا فیه، والصحیح أنه بمنزلة الصلاۃ”. (الفتاوى الهندية : 1/ 236 ، ط : دارالکتب العلمية/بيروت)
علامہ حصکفی رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “والصوم كالصلاة على الصحيح، كما في صوم القهستاني معزيًا للزاهدي، وفي حظر “الاختيار” أنه يؤمر بالصوم والصلاة وينهى عن شرب الخمر ليألف الخير ويترك الشر”. (الدر المختار مع رد المحتار : 2/ 5 ، ط : زكريا ديوبند) فقط. و اللّٰہ أعلم بالصواب
وكتبه : عبد السبحان سندیلوی غفرلہ
25/ شعبان 1441ھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں